Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 3)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 3)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
“تم امیرزادوں کا یہی کام ہے نہ۔۔۔۔آج میں پکڑواؤں گی تم لوگوں کو۔۔۔۔جب جیل کی ہوا کھاؤ گے تبھی افاقہ ہوگا۔۔۔”
کراہیت آمیز لہجے میں بول کر شانزے مڑی تھی،اس شخص کو پہلے تو وہ صرف بدتمیز سمجھتی تھی پر اب اسکا کریکٹر بھی شانزے کی نظروں میں گِر چکا تھا،اسکے مڑنے پر پیام نے ایک لمحے میں فلور پر نظریں دوڑاکر جائزہ لیا،کونے میں ایک بند روم کو دیکھ کر ہی اسکے لبوں پر تمسخر پھیلا،کیونکہ آتے ہوئے بھی اس روم کے باہر کروس کا نشان اس نے واضح دیکھا تھا پر اس وقت کوئی نوٹس نہ لیا اور اب،پیام کی سرد نظریں واپس شانزے پر آئیں جو دوسری جانب قدم بڑھارہی تھی،
“انسپیک۔۔۔”
شانزے کے لبوں پر سختی سے ہاتھ جمائے پیام نے اسکے الفاظ منہ میں ہی بند کردیے،پھر اسی افراتفری میں جہاں کسی کو کسی کا ہوش نہیں تھا وہ شانزے کو زبردستی کونے والے روم میں لے گیا،شانزے جو اسکی حرکت پر سانس روکے چھوئی موئی سی ہوگئی تھی،اب کمرے میں لاکر پیام کے جھٹکے سے چھوڑنے پر وہ گھبرائی تھی،
“کیا کررہے ہو تم۔۔۔”
اسے دروازہ اندر سے لاک کرتا دیکھ شانزے درشتگی سے بولتی پیام کا رخ اپنی طرف کرگئی،
“تم پولیس کو کچھ نہیں بتاؤ گی۔۔۔”
پیام کی کرخت اور بھاری آواز پر شانزے نے کچھ دیر غصے بھری نظروں سے اسے گھورا پھر اچانک اسے سائیڈ میں کرتی دروازہ کھولنے لگی،پیام غش کھا کر رہ گیا اس ڈھیٹ لڑکی کی حرکت پر،
“بکواس نہیں کررہا ہوں میں۔۔۔”
غراتے ہوئے ایک بار پھر اسے بازو سے جکڑ کر پیام نے کمرے کے بیچ میں دھکا دیا،بمشکل شانزے گرنے سے بچی،
“کتنے بدتمیز انسان ہو تم۔۔۔”
وہ چیخی تھی اسکے دھکا دینے پر،
“میں بدتمیز ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بےغیرت بھی ہوں۔۔۔”
شانزے کے نازک وجود کو نظروں میں لیے پیام نے لبوں پر استہزیہ مسکان سجائے کہا،جس پر بے ساختہ شانزے کا دل اسکا سر پھاڑنے کا چاہا،اسے گھن سی آنے لگی تھی پیام سے،
“تم لوگ جب تک پولیس کے ڈنڈے نہیں کھاتے تب تک سدھرتے نہیں ہو۔۔۔۔آج نہ پول کھولی میں نے تم جیسوں کی۔۔۔”
اسکا مسلسل بلند آواز میں بولنا پیام کو اس سے اور نفرت کرنے پر مجبور کررہا تھا،
“اپنا منہ بند رکھو لڑکی۔۔۔”
پیام نے غصے میں اسکے نزدیک ہوتے ہوئے شانزے کی شہد رنگ آنکھوں میں اپنی آنکھیں گڑاکر کہا
“نہیں بند رکھوں گی اپنا منہ۔۔۔۔سب بتاؤں گی۔۔۔۔پیسہ تو تم امیروں کے ہاتھ کا میل ہوتا ہے اسی وجہ سے تم لوگ لڑکیوں کو کھلونا سمجھتے ہو۔۔۔۔”
پیام کے آنکھیں دکھانے کو خاطر میں نہ لاکر شانزے اسے نزدیک ہوتا دیکھ تھوڑا پیچھے ہٹتے ہوئے بےخوفی سے بولی،ساتھ ہی پیام کے برابر سے ہوکر بند گیٹ کی طرف بڑھی،
ادھر اُس مڈل کلاس لڑکی کے الفاظوں میں پیام نے خود کو جھلستا پایا،وہ کون ہوتی ہے اسے “پیام مرتضیٰ” کو جج کرنے والی،اس سے پہلے شانزے گیٹ کھولتی،پیام لمبے ڈگ بھرتا اسکے پاس آیا اور پیچھے سے ہی اپنی ایک کہنی میں شانزے کی صراحی دار گردن پھنسائی،وہ جو اس اچانک حملے کے لیے تیار نہ تھی،بری طرح گھبرائی،مقابل کا کشادہ سینہ اپنی پشت سے لگتے ہی،
“چھو۔۔۔ڑ۔و۔۔”
“ششش!”
اپنے نازک ہاتھ سے اسکی کہنی پکڑے وہ بھرپور مزاحمت کرتے بولنے لگی تبھی پیام نے ترخ کر اسکی بات کاٹی،پیام کی جھلساتی گرم سانسوں سے شانزے کو اپنی کان کی لُو جلتی ہوئی محسوس ہوئی،
“بات سنو یُو (x,y,z) جو بھی ہو۔۔۔۔تم نے یہاں پر کچھ نہیں دیکھا ہے سمجھی۔۔۔۔اگر تم نے۔۔۔پولیس کے سامنے۔۔۔اپنا منہ کھولنے کی کوشش بھی کی تو آئی سوئیر۔۔۔میں تمہیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔”
شانزے کے کان کے بلکل قریب اپنے عنابی ہونٹوں کو لاکر پیام نے ٹہرے ہوئے مگر کرخت لہجے میں اسے تنبیہہ کی،جبکہ شانزے جو اسکی قید میں بلکل بےبس سی ہوگئی تھی،پیام کے لوہے کے مانند ہاتھ کا دباؤ اپنی نازک گردن پر بڑھتے محسوس کر کے جلدی سے اثبات میں سر ہلانے لگی،
“ڈیٹس لائک آ گُڈ گرل۔۔۔۔”
جھٹکے سے اسے اپنے شکنجے سے آزاد کرتا وہ مکروہ ہنسی ہنس کر بولا،دوسری جانب شانزے اسکے گردن بخشنے پر کھانستے ہوئے اپنی سانس متواتر کرنے کی کوشش کرنے لگی،ضبط سے خوبصورت چہرہ بلکل سرخ ہوا تھا ساتھ آنکھوں میں لال ڈورے واضح ہونے لگے،ایک پل کو اسکا یہ نوخیز حُسن دیکھ پیام بھی مبہوت رہ گیا،پھر جلد ہی سر جھٹکتے ہوئے اسکو پکارا جو اب گیٹ کھول کر باہر نکل رہی تھی،
“ویسے تم مڈل کلاس لڑکیوں کی ایک بات تو ماننی پڑے گی۔۔۔۔ہوتی تو تم لوگ ہماری اپَر کلاس لڑکیوں سے بھی۔۔۔۔”
اپنی بات روک کر وہ دانتوں کو لبوں میں دباتا معنیٰ خیز نظروں سے اسکے گداز سراپے کو دیکھ کر مسکرایا،شانزے نے ایک نظر مڑ کر اس بےشرم لڑکے کو دیکھا پھر اپنا بےبسی بھرا غصہ ضبط کیے،آنکھوں میں آئی نمی بےدردی سے رگڑتی باہر نکلی،
اب پورا فلور خالی پڑا تھا،جہاں کچھ دیر پہلے شوروغل مچا تھا اب وہاں مکمل سناٹا تھا،شانزے نے بنا کچھ اور سوچے جلدی سے اپنے قدم سیڑھیوں کی طرف بڑھائے،گراؤنڈ فلور پر پہنچ کر اس نے دیکھا کہ پولیس کے افسران ہوٹل کے انتظامیہ سے کئی سوالات کررہے تھے،ابھی شانزے باہر ہی نکلتی کہ کسی سے اسکی ٹکر ہوئی،مقابل کوئی لڑکی تھی جو کہ کال پر محوئے گفتگو تھی،
“سوری۔۔”
شانزے کو جلدی میں بولتی وہ لڑکی باہر نکلی،تو شانزے بھی نفی میں سر ہلاتی ہوٹل سے نکلی،
“نہیں آئی تیری کوئی دوست۔۔۔تُو بتا کون سی ٹیکسی۔۔۔؟”
اس لڑکی کے بےزاریت میں کہے گئے جملے پر شانزے کے قدم رکے تھے،وہ پلٹ کر بغور اس لڑکی کو دیکھنے لگی جو کال پر بات کررہی تھی،
“ایکسکیوز می۔۔۔!”
اسکے پاس آتے ہوئے شانزے نے پکارا تو وہ متوجہ ہوئی،
“آپ سویرہ کی دوست۔۔۔”
“تو آپ سویرہ کی دوست ہیں۔۔۔”
شانزے ابھی آہستگی سے پوچھ ہی رہی تھی کہ اس لڑکی نے چونک کر تیزی میں کہا،شانزے نے اثبات میں سر ہلایا،
“اوہ گاڈ۔۔۔اور میں جب سے آپ کا ویٹ کررہی تھی۔۔۔۔خیر کوئی نہیں۔۔۔میں کرن ہوں۔۔۔سویرہ کی فرینڈ۔۔۔”
وہ لڑکی پل میں شانزے سے فرینک ہوتے ہوئے گویا ہوئی تو شانزے بھی دھیمہ سا مسکرادی،
“چلیں۔۔”
شانزے کے بولنے پر کرن مسکراتے ہوئے سر ہلاکر اسکے ساتھ چل دی،
اوپر اس روم کی کھڑکی سے پیام بغور شانزے کو دیکھ رہا تھا،
“جتنی سیدھی یہ لڑکی دوسروں کے سامنے بنتی ہے اتنی ہے تو نہیں۔۔۔۔ہنہہ مڈل کلاس”
اسے آواز تو نہیں آئی تھی پر کرن کے ساتھ شانزے کے تمیز سے بات کرنے پر وہ حقارت سے بڑبڑایا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ارے واہ بیٹا۔۔۔آج اتنی جلدی گھر آگئے۔۔۔”
اسے رات بارہ بجے گھر میں داخل ہوتا دیکھ رابیہ بیگم نے حیرت میں کہا،جس پر پیام نے پہلے تو انہیں چند پل دیکھا پھر کہا،
“تو۔۔۔واپس چلا جاتا ہوں۔۔۔ٹھیک۔۔”
اسکے کہنے کی دیر تھی کہ رابیہ بیگم بوکھلائیں،
“ارے نہیں میرا شہزادہ۔۔۔تم تو فوراً غصہ ہوجاتے ہو۔۔۔۔اب ماں کچھ پوچھے بھی۔۔۔”
“کیوں پوچھے۔۔۔جب پتا ہے کہ گھر میں انٹر ہورہا ہوں۔۔۔۔تو یہ پوچھنے کی کیا تک کہ اتنی جلدی گھر آگیا۔۔۔”
بدتمیزی سے بول کر وہ انہیں چپ کراگیا،پہلے ہی اس مڈل کلاس لڑکی کی وجہ سے آج پورا دن اسکا غارت ہوگیا تھا اوپر سے رابیہ بیگم کے سوالات اسے اور تپا گئے،
“کھانا دیں گی یا بھوکا سوجاؤ جاکر۔۔۔”
انہیں چپ دیکھ کر وہ کوفت بھرے لہجے میں گویا ہوا،
“ہیییں۔۔۔کھانا۔۔۔آ۔۔لاتی ہوں۔۔۔دراصل تم ہمیشہ باہر سے ہی کھالیتے ہو تو مجھے لگا۔۔۔اچھا تم فریش ہو آؤ جب تک میں کھانا نکال دوں۔۔۔”
اپنی باتوں پر پیام کو بور ہوتا دیکھ انہوں نے جلدی سے بول کر کچن کا رخ کیا،اس وقت ملازم کوارٹر پر ہوتے تبھی وہ خود ہی اسکا کھانا نکالنے لگیں،
“ایک بات بولوں بیٹا۔۔۔”
پیام کو کھانا کھاتا دیکھ وہ اسی کے پاس بیٹھتے ہوئے نرم لہجے میں پوچھیں،
“ہمم۔۔۔”
مختصر سا ہنکارہ بھرتے ہوئے وہ کھانے میں مگن رہا،
“بیٹا میں آجکل بہت پریشان ہوں شادل کو لے کر۔۔۔۔اسی سلسلے میں تم سے بات کرنی ہے۔۔۔۔ہوسکتا ہے میرا پیارا بیٹا اپنی ماں کی پریشانی دور کرنے میں کچھ مدد کردے،”
پیام سے بات کرتے ہوئے ہمیشہ کی طرح انکا لہجہ بلکل میٹھا رہا،پیام ستائشی نظروں سے انہیں دیکھنے لگا،
“اتنے میٹھے لہجے میں اگر ملازموں سے بھی بات کرتیں تو آج میں اتنا بدتمیز نہ ہوتا۔۔۔”
اسکے ذہن میں شانزے کا وہ لیکچر گھوما تو بےساختہ منہ سے یہ الفاظ ادا ہوگئے،جس پر رابیہ بیگم گڑبڑائیں،
“ارے واہ۔۔۔آپ اپنے قابل بیٹے سے پریشان ہیں۔۔۔حیرت ہے۔۔۔”
بات بدلتے ہوئے تمسخر اڑاتی نظروں سے انہیں دیکھ کر وہ بولا ساتھ ہی پانی کا گلاس اٹھا کر گھونٹ بھرنے لگا،
“اس قابل بیٹے نے ہی تو میرے ناک میں دم کیا ہوا ہے۔۔۔لڑکی پسند کی ہے ایک۔۔۔کہتا ہے شادی کرنی ہے۔۔۔۔شروع میں تو ٹھیک تھا پر اب اسکی روز روز کی ضد سے میں تنگ آگئی ہوں۔۔۔”
انکے عاجز لہجے پر وہ پیام کو واقعی پریشان لگیں،
“تو کردیں نا شادی۔۔۔”
انہیں دیکھ کر رسانیت سے بولا تھا،
“ایسے کیسے کردوں۔۔۔اگر کوئی ہمارے سٹیٹس کی لڑکی ہوتی تو کر بھی دیتی۔۔۔۔جانتے ہو کون ہے لڑکی۔۔۔ویٹریس ہے ویٹریس۔۔۔۔”
شانزے کے بارے میں سوچتے ہی وہ نخوست سے گویا ہوئیں،پیام نے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیلی،
“کچھ زیادہ ہی قابل ہے آپکا بڑا بیٹا۔۔۔”
“تم تو مت بناؤ مذاق۔۔۔”
اسے مسکراتا دیکھ وہ ناراض لہجے میں اسے ٹوک گئیں،
“تو اور کیا کروں۔۔۔”
“مدد؟”
رابیہ بیگم کے کہنے پر پیام حیرت میں مبتلا ہوا،
“میں کیسے مدد کروں۔۔۔؟”
اسکے بولنے کی دیر تھی کہ رابیہ بیگم نے تھوڑا جھک کر رازدارانہ لہجے میں کہا
“اس لڑکی کو ڈراؤ دھمکاؤ،پیسے دو یا کچھ بھی کرو۔۔۔پر اسے شادل سے شادی کرنے پر انکار کرواؤ۔۔۔۔”
رابیہ بیگم کی بات مکمل ہونے پر پیام نے عجیب نظروں سے انہیں دیکھا
“کیا ہوا۔۔؟”
اسکے مسلسل دیکھنے پر انہوں نے پوچھا
“میں کیا آپ کو اتنا فالتو لگتا ہوں۔۔۔کہ ایک ویٹریس کو دھمکیاں دیتا پھروں۔۔۔”
وہ تپ کر بولا ساتھ ہی چئیر سے اٹھا
“ماں کی بات مان لے بیٹا۔۔۔”
انکی فُل ڈراماٹک آواز میں بولنے پر پیام ارریٹیٹ ہوا تھا،
“کیا مصیبت ہے۔۔۔پھنسائے بھائی اور چھڑاؤں میں۔۔۔”
پلٹ کر وہ غصے میں بولا،اسکی آواز تھوڑی بلند ہونے پر رابیہ بیگم بوکھلاتی ہوئیں اٹھ کر اسکے پاس آئیں،
“بیٹا آرام سے۔۔۔۔پیام میں تمہیں اس لیے یہ کام بول رہی ہوں کہ شادل تو یہ کرنے سے رہا اور ویسے بھی کام زیادہ مشکل نہیں۔۔۔یہ چھوٹے طبقے کی لڑکیاں تو بس پیسوں کی بھوکی ہوتی ہیں۔۔۔تم اسے پیسے دو۔۔۔۔دیکھنا جھٹ سے مان جائے گی۔۔۔”
انکی یہ بات پیام کو بھی کہیں نہ کہیں ٹھیک لگی،اسکی خاموشی کو اقرار سمجھتے ہوئے رابیہ بیگم نے ڈائننگ ٹیبل پر رکھا اپنا موبائل اٹھایا،
“رکو بیٹا۔۔۔”
پیام کو اوپر جاتا دیکھ وہ پکاریں
“اب کیا ہے۔۔؟”
اسکی آنکھوں میں شدید نیند کے باعث لال ڈورے نمایاں ہونے لگے تھے،تبھی جھنجھلا کر بولا،
“بیٹا اس لڑکی کی تصویر میں نے تمہارے نمبر پر سینڈ کی ہے۔۔۔۔شادل نے مجھے آج ہی اسکی پِک دی تھی۔۔۔۔غور سے دیکھ لو کون لڑکی ہے۔۔۔۔باقی جس ریسٹورنٹ میں کام کرتی ہے میں اسکا نام بھی تمہیں سینڈ کردیتی ہوں۔۔۔”
موبائل پر مسلسل ایڈریس ٹائپ کرتیں رابیہ بیگم نے جب سر اٹھایا تو وہاں کوئی نہیں تھا،
“افف۔۔۔ایک تو یہ لڑکا بھی نا۔۔۔”
اوپر اسے روم کی طرف بڑھتا دیکھ انہوں نے کہا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادل نے کہا ہے جلد وہ اپنے والدین کو لے کر آئیں گے۔۔۔
صبح شانزے تیار ہورہی تھی تبھی جمیلہ بیگم اسکے کمرے میں آتے ہوئے بولیں تھیں،
انہوں نے کل مجھ سے کہا تھا کہ کچھ ضروری بات کرنی ہے پر میں نے اس وقت انکار کردیا تھا۔۔۔
جمیلہ بیگم کی بات سن کر شانزے کو کل رات شادل کی بات یاد آئی تبھی بولی،
بس تھوڑا ڈر لگ رہا ہے۔۔۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد انہوں نے کہا،
کیسا ڈر امی۔۔؟
بالوں کی چوٹی بناتی وہ مصروفانہ انداز میں پوچھی،
باسط سے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔
اپنے اندر امڈتی بات انہوں نے گوش گزار کردی جبکہ اب شانزے کے ہاتھ رکے تھے،وہ پلٹ کر جمیلہ بیگم کو دیکھنے لگی،
امی۔۔۔ہم لوگ کیوں ڈریں اس سے۔۔۔جب وہ پسند ہی نہیں ہے ابو اور آپ کو تو پھر۔۔۔
جمیلہ بیگم کا ہاتھ تھامتی وہ آرام سے انہیں سمجھانے لگی،
بات تو صحیح ہے بیٹا پر باجی کا تو پتا ہے نا تمہیں اگر انہیں معلوم ہوگیا کہ ہم نے تمہارا رشتہ پکا کردیا ہے تو وہ سب سے پہلے یہی غلط بات سوچیں گی کہ ہم پیسوں کے بھوکے ہیں۔۔۔پھر باسط کو غصہ بھی تو اتنا ہے۔۔۔۔تمہارے انکار کے بعد دیکھا نہیں تھا تم نے کیسے بپھرگیا تھا،کتنا چیخ و پکار کیا تھا اس نے،
وہ اب تک شاید ڈری ہوئی تھیں،تبھی پریشانی سے بولیں،
پہلے آپ یہ بتائیں امی کہ لوگ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں یا ہمارا خرچہ اٹھاتے ہیں۔۔۔
وہ سنجیدگی سے ان سے استفسار کرنے لگی تو جمیلہ بیگم نے نفی میں سر ہلایا،
پھر بس۔۔۔جو لوگ ہمارے دکھ میں ہمیں سپورٹ نہیں کرتے تو ہم کیوں اپنی خوشیوں میں انکے غلط سوچنے یا بولنے پر فکر کریں۔۔۔۔لوگوں کا کام تو کہنا ہوتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔۔۔۔رہی بات باسط کی تو اگر اس نے کچھ بھی کیا تو میں شادل کو بتادونگی۔۔۔
پوری بات سمجھاتے ہوئے اس نے آخر میں رسانیت سے کہا،جمیلہ بیگم آسودگی سے مسکرادیں
اگر شادل اپنے والدین کو لے آئیں تو جلد بات پکی کردیں گے۔۔۔۔اکبر کو بھی انکا اخلاق کافی بھایا ہے۔۔۔
بات بدل کر نرمی سے مسکراکر کہتے ہوئے انہوں نے شانزے کو دیکھا جس کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھرے تھے،
میری پیاری بچی۔۔۔خدا نظرِ بد سے بچائے۔۔۔
اسے بازو سے تھام کر جمیلہ بیگم محبت سے بولیں تو شانزے ہلکا سا ہنس دی،
بس شروع ماں بیٹی کا ٹی وی سیریل۔۔۔۔ارے کوئی مجھ مظلوم سے پوچھے کہ کیا بیتتی ہے میرے دل پر یہ دیکھ کر۔۔۔۔
ایک مرتبہ پھر الشبہ کا ڈرامہ شروع ہوچکا تھا،سینے پر ہاتھ رکھے وہ بھرپور رونے کی کوشش کرتی آنکھیں بار بار جھپکا رہی تھی،
چلتا پھرتا ٹی وی سیریل تو تم ہو لڑکی۔۔۔
جمیلہ بیگم اسے ڈپٹتی خود بھی ہنس دیں،
پہلے یہ بتائیں میڈم۔۔۔آپ کا آج ارادہ نہیں ہے کیا کالج جانے کا۔۔۔
شانزے نے اسے گھر کے کپڑوں میں دیکھ سامنے آتے ہوئے پوچھا جس پر الشبہ گڑبڑاتی ہوئی سیدھی ہو بیٹھی،
آ۔۔۔آپی دراصل آج۔۔۔سر تھوڑا درد کررہا ہے نا۔۔۔تبھی۔۔۔آہ۔۔۔
وہ پل میں تندرست دکھنے والی اچانک بیڈ پر لیٹتے ہوئے اپنا سر تھامے کراہنے کی ایکٹنگ کرنے لگی،شانزے نے اس ڈرامہ کوئین کو تاسف سے دیکھتے ہوئے نفی میں سرہلایا،
سدھر جاؤ الشبہ۔۔۔حد کرتی ہو۔۔۔۔کبھی ایکسٹرا کلاسس اٹینڈ کرنی ہوتی ہے تو کبھی دل ہی نہیں کرتا تمہارا کالج جانے کا۔۔۔
بآواز بول کر شانزے نے دوپٹہ سیٹ کیا پھر موبائل اٹھا کر پرس میں ڈالتی کمرے سے باہر چلی گئی،جانتی تھی اب اس ڈرامہ کوئین کے سامنے کچھ بولنا فضول تھا اور ویسے بھی ٹائم بھی نکل چکا تھا کالج کا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمائی روکتے ہوئے اس نے مندی آنکھیں کھولیں،اپنے جہازی سائز بیڈ پر آڑھا ترچھا لیٹا وہ ابھی بھی غنودگی میں تھا،تبھی اسکا فون رنگ کرنے لگا،پہلے تو وہ اگنور کیے سکون سے لیٹا رہا پر جب مسلسل کال آنے پر ارریٹیٹ ہونے لگا تو غصے میں سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر دیکھنے لگا،
کیا مصیبت ہے۔۔؟
بھاری آواز میں واضح غصہ محسوس کیا جاسکتا تھا،
ابے وہ لڑکی جو کل میں نے تیرے لیے بھیجی تھی وہ اب پیسے مانگ رہی ہے۔۔۔
دوسری طرف یاور تھا،اسکی بات پر پیام کی آئبرو بھنچی تھیں،
کس بات کے پیسے۔۔۔۔پولیس کے آنے پر تو گھگھیا کر بھاگی تھی۔۔۔
سخت لہجے میں بولتا وہ یاور کو بوکھلانے پر مجبور کرگیا،
ارے یار۔۔۔دیدے نا۔۔۔بےچاری غریب ہے۔۔۔کہتی ہے جان جوکھوں میں ڈال کر بچی تھی ورنہ پھنس جاتی۔۔۔اور ویسے بھی تیرے پیسوں میں تھوڑی نہ کمی آئے گی اسے کچھ دینے سے۔۔۔
وہ کھسیا کر ہنستے ہوئے گویا ہوا،پیام کے اندر ان مڈل کلاس لڑکیوں کے لیے اور حقارت بڑھی تھی،جو چند پیسوں میں کچھ بھی کرنے کو تیار رہتی،پر یہ بات سوچتے ہوئے وہ اس چیز کو نظر انداز کرگیا تھا کہ جیسے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسی طرح سے ہر لڑکی ایک سی نہیں ہوتی،خاص کر مڈل طبقے کی لڑکیوں کے لیے انکی عزت ہی سب کچھ ہوتی ہے یہ تو چند لڑکیاں ہوتی ہیں جو اپنی ان بری حرکتوں سے سبھی کو بدنام کرڈالتی ہیں جیسے ایک گندی مچھلی پورا تالاب گندا کردیتی ہے،
ایسی لڑکیوں پر پیام مرتضیٰ اپنے پیسے برباد نہیں کرتا۔۔۔
ناگواریت سے بولتا وہ کال کٹ کر گیا،ابھی فون برابر میں رکھتا کہ اسکی نظر رابیہ بیگم کے چیٹ پر پڑی،کل رات انہوں نے اس لڑکی کی تصویر پیام کے نمبر میں سینڈ کی تھی،سوچتے ہوئے اس نے انکا چیٹ اوپن کیا،پر اسکی نیند پل میں ہوا ہوئی،بوجھل ہوتی براؤن آنکھیں جھٹکے سے کھولتا وہ لیٹے سے سیدھا ہو بیٹھا،
پوری بھری دنیا میں ایک یہی مڈل کلاس ملی تھی کیا بھائی کو۔۔۔
شانزے کی مسکراتی تصویر کو دیکھتا وہ حیرتوں میں گِھرا بولا،پیشانی پر پل میں لاتعداد شکنیں بنی تھیں،جبڑے بھنچے وہ اسکی پک کو دیکھ ہی رہا تھا کہ کان میں رابیہ بیگم کے الفاظ گونجے،
“اس لڑکی کو ڈراؤ دھمکاؤ،پیسے دو یا کچھ بھی کرو پر اسے شادل سے شادی کرنے سے انکار کرواؤ۔۔۔۔”
یہ بات ذہن میں آتے ہی ایک دلکش مگر زہریلی مسکراہٹ نے اسکے عنابی لبوں کا احاطہ کیا،
“سو۔۔۔۔مِس مِڈل کلاس۔۔۔کیوں نہ ایک اچھی ملاقات کی جائے آپ سے۔۔۔”
تمسخر اڑاتی نظروں سے اسکی تصویر کو دیکھتا وہ بولا تھا،ساتھ ہی رابیہ بیگم کے بھیجے گئے ایڈریس کو پڑھنے لگا،کچھ سوچ کر اس نے عبید کا نمبر ڈائل کیا،
“سن عبید۔۔۔۔آج شام (۔۔۔۔۔۔) ریسٹورنٹ میں پہنچ۔۔۔”
عبید کو بول کر وہ بیڈ سے اٹھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج باقی دنوں کے بنسبت ریسٹورنٹ میں زیادہ رش تھا شانزے مینیو کارڈ ہاتھ میں لیے تیزی میں ایک ٹیبل پر جارہی تھی تبھی ایک برے تصادم پر مینیو کارڈ ہاتھ سے گرا،صاف واضح تھا مقابل کی غلطی ہے کیونکہ وہ سیدھ میں جارہی تھی پر مقابل اچانک برابر سے آتے ہوئے اس سے ٹکرایا تھا،ابھی شانزے کچھ بولتی کہ مقابل کو دیکھ کر اسکے چہرے پر ناگواری چھائی تھی،
“ضروری نہیں ہر جگہ اپنی حرکتوں سے شو کرو کہ تم کتنے بدتمیز ہو۔۔۔۔”
ناگوار لہجے میں کہتے ہوئے شانزے نے جھک کر مینیو کارڈ اٹھایا،
پیام جو اس سے ٹکرانے کے بعد اب پرسکون سا کھڑا شانزے کے ایکسپریشن انجوائے کررہا تھا،اسکی بات پر مسکرایا،
“میں نے تو ابھی کچھ کیا بھی نہیں۔۔۔”
اسکے خوبصورت چہرے پر نظریں جمائے پیام معنیٰ خیزی سے بولا،ساتھ ہی شانزے کے ہاتھ سے مینیو کارڈ چھینا،پھر بغور اسے سرتا پیر دیکھا جو اس دن کی طرح آج بھی دوپٹے کو وی شیپ میں سیٹ کیے دوسری ویٹریسِس سے مختلف بقول پیام کے پوری طرح مڈل کلاس ہی لگ رہی تھی،
“چلو تمہاری تھوڑی اکڑ کم کرتا ہوں۔۔۔”
گہرا سانس بھرتے ہوئے پیام ہلکے لہجے میں بولا جبکہ شانزے بوکھلائی اسکے مینیو کارڈ چھیننے پر،بےساختہ اسکے ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ اسکی ورک پلیس تھی اور مقابل کھڑے اس انسان سے بحث کرنے کا مطلب اپنی ہی بےعزتی سب کے سامنے کروانا،
“مینیو کارڈ دیں آپ۔۔۔”
اسکا پل میں بدلا لہجہ پیام کو چونکا گیا،
“اتنی جلدی تو گرگٹ بھی رنگ نہیں بدلتا جتنی جلدی تم نے لہجہ بدلا ہے۔۔۔ڈوس دینے سے پہلے ہی عقل آنے لگی۔۔۔ناؤ جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔۔”
اسکے بدلے لہجے پر چوٹ کرتا وہ تمسخر ہنسی ہنسا ساتھ ہی وہاں سے گزرتی ایک ویٹرس کو روک کر مینیجر کو بلانے بھیجا،جب سے اسکا عمل دیکھتی شانزے کو اب اپنی نوکری جاتے ہوئی لگی،
“آپ ایسا تو نہ کریں۔۔۔پلیز مینیو کارڈ دیں پہلے۔۔۔”
شانزے کہتے ساتھ ہاتھ بڑھا کر اس سے مینو کارڈ لینے لگی پر پیام نے اپنا مضبوط ہاتھ پیچھے کر کے اسکی یہ کوشش ناکام بنادی،وہ محضوظ ہوتا ہوا شانزے کی دمکتی آنکھوں میں آئی نمی دیکھ کر اب مینیجر کا انتظار کرنے لگا،
“جی سر۔۔۔آپ نے بلایا۔۔”
تبھی ان دونوں کے پاس آتے ہوئے ریسٹورنٹ کے مینیجر نے مودبانہ لہجے میں پیام سے پوچھا
“تمہارے ریسٹورنٹ کا یہی رُول ہے کہ یہاں آئے کسٹمرز سے بدتمیزی کی جائے۔۔۔۔”
کچھ دیر پہلے والے لہجے سے بلکل برعکس وہ اب سختی سے مینیجر کو بولا جس پر مقابل کھڑا مینیجر تو بوکھلایا پر ساتھ ہی شانزے بھی اچھنبے سے پیام کو دیکھنے لگی،
“نو سر ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔آپ بتائیں کیا بات بری لگی ہے آپ کو یہاں پر۔۔۔ہم کوشش کریں گے کہ آئندہ ایسی کوئی گستاخی نہ ہو ہمارے مینیجمینٹ سے۔۔۔”
مینیجر انتہائی تمیزدار اور دھیمے لہجے میں پیام کو بولا جس پر اس نے ایک آئبرو اچکاکر شانزے کی طرف اشارہ کیا،
آپکے ریسٹورنٹ کی ایک ویٹریس نے مجھ سے ٹکرانے کے بعد بجائے معافی مانگنے کے الٹا میری انسلٹ کی ہے۔۔۔
اسکی بات پر جہاں مینیجر نے ایک سخت گھوری شانزے کو نوازی وہی شانزے ہونق سے اس بےخوف و نڈر شخص کو دیکھی تھی جو بڑی صفائی سے اس ہی کے سامنے جھوٹ بولتا اب مینیجر سے معذرت وصول کررہا تھا،
“سوری کرو سر سے۔۔۔”
مینیجر نے پیام سے خود اپولجائس کرنے کے بعد اب ہونقوں بنی شانزے سے سخت لہجے میں کہا تو وہ ہوش میں آئی،
“سر لیکن یہ خود۔۔۔”
“کہو۔۔”
اب کے مینیجر نے اسکی بات کاٹ کر تھوڑا بلند آواز میں کہا تو کچھ لوگ انکی طرف متوجہ ہوئے،شانزے کی خوبصورت آنکھیں بےساختہ ڈبڈبائیں،
“س۔۔۔سوری۔۔”
سب کے سامنے تذلیل ہونے کی وجہ سے اسکی آواز بھرائی تھی،جبکہ مینیجر کے جانے کے بعد اب پیام دل جلانے والی مسکراہٹ اس کے جھکے سر پر اچھالتا اپنی سیٹ پر چلاگیا،جہاں سے اسکے دوست خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے،
“ویسے یار۔۔۔دیکھا جائے تو غلطی تیری ہی تھی۔۔۔”
پیام کے چئیر پر بیٹھتے ہی اسکے دوست عبید نے کہا جس پر وہ ستائشی نظروں سے اسے دیکھنے لگا،
“اوہ اچھا۔۔۔تجھے کیا لگتا ہے تُو ان مڈل کلاس لڑکیوں کو مجھ سے بہتر جانتا ہے۔۔۔۔جو امیر زادے دیکھتے ہی ان سے جان بوجھ کر خود ٹکراتی ہیں تاکہ کسی فلم کی طرح وہ امیر زادہ انکی خوبصورتی کا دیوانہ ہوجائے۔۔۔۔”
حقارت سے بولتا وہ ایک مرتبہ پلٹ کر دور کھڑی شانزے کو دیکھا تھا جو اب اپنے آنسو پونچھ کر اندر کی طرف جارہی تھی،اسکو ناگواری سے دیکھ کر پیام واپس سامنے مڑا تھا،
“پتا نہیں کیا دِکھا ہے بھائی کو اس اوچھی سی ویٹریس میں۔۔۔”
زہر خندہ لہجے میں آہستگی سے بڑبڑاتا وہ اب ٹیبل سے مینیو کارڈ اٹھایا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
