Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 32)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 32)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
“تحریم۔۔۔!”
وہ جو لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی باسط کی آواز پر چونکی،
“خیریت آج جلدی آگئے۔۔۔؟”
گھڑی میں ٹائم دیکھتے تحریم نے حیرت سے کہا،دوپہر ایک بج رہے تھے،تحریم ٹی وی بند کرتی اٹھی،
“کچھ بات کرنی ہے۔۔”
اسے کچن میں جاتا دیکھ باسط بولا تھا،
“ہمم بولو۔۔۔”
باسط کی طرف مڑتی وہ بولی پر باسط کے اشارے پر سر ہلاتی روم میں آئی،
بیڈ پر بیٹھ کر اب تحریم سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی،وہ مسلسل نظریں چرا رہا تھا اس سے،کچھ دیر بعد گہرا سانس بھرتا وہ تحریم کے دونوں ہاتھ تھامتا بیٹھا تھا،
“تحریم۔۔۔تم جانتی ہو اچھے سے کہ میری قل کائنات اب صرف تم اور امی ہو۔۔۔”
اسکے ہاتھ پر دباؤ بڑھاتا وہ تائید چاہا تھا تحریم سے جس پر اس نے ہلکے سے اثبات میں سر ہلایا،
“تحریم کچھ عرصے پہلے مجھ سے۔۔۔ایک گناہ ہوا تھا۔۔”
یہ بات کہتے باسط کا لہجہ دھیما ہوا تھا،تحریم بےساختہ پہلو بدلی،
“کیا ہوا تھا باسط۔۔۔بتاؤ نا۔۔۔”
دل گھبرانے پر وہ بےچینی سے پوچھی،
“شادل بھائی کی شادی۔۔۔شانزے سے ہونے والی تھی نا۔۔۔پر اچانک آخر وقت پر شادل بھائی کڈنیپ ہوچکے تھے۔۔۔تو تحریم ان کا کڈنیپ۔۔۔۔وہ۔۔میں نے کروایا تھا۔۔۔”
تحریم کی الجھی آنکھوں میں دیکھتا وہ اعترافِ جرم کیا تھا اور بےاختیار تحریم اس سے اپنا ہاتھ چھڑائی تھی،وہ جیسے بےیقین تھی،
“ان دنوں مجھے ضد چڑھی تھی شانزے سے شادی کی۔۔۔میں۔۔۔میں پاگل ہونے لگا تھا۔۔۔۔تحریم۔۔۔”
“تم کیسے کرسکتے تھے یہ سب۔۔۔”
باسط کی بات کاٹتی وہ بےیقین لہجے میں بولی،
“سوری تحریم میں۔۔۔۔پتا نہیں کیا ہوچکا تھا اس وقت مجھے۔۔۔پر۔۔۔پر میں شرمندہ ہوتا رہا اتنے دنوں تک۔۔۔جب بےچینی حد سے بڑھی تب میں نے یہ بات بتانے کا فیصلہ کیا تمہیں۔۔کیونکہ تم سے شادی کا بھی اصل مقصد وہی تھا میرا۔۔۔سوری۔۔۔”
اپنی بات مکمل کرتا وہ سر جھکایا،آنسو پھسلے تھے تحریم کے گال پر،مطلب وہ ایک کٹھ پُتلی تھی کیا شانزے تک پہنچنے کی،
“تو تم مجھ سے محبت نہیں کرتے۔۔۔”
اسکے الفاظ پر باسط تڑپ کر تحریم کے دونوں بازوؤں کو تھاما تھا،
“میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے تحریم۔۔۔جانتا ہوں شانزے میری ضد تھی پر میں شرمندہ ہوں بہت اپنے گناہ پر۔۔۔۔مجھے معاف کردو تحریم۔۔۔”
گالوں پر پھسلتے اسکے آنسوؤں کو لبوں سے چنتا وہ محبت سے چُور لہجے میں کہا تحریم کو وہ واقعی بہت پشیمان لگا تھا،باسط کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے وہ نم زدہ سی مسکراتی آنکھیں موندی،
“مجھ سے معافی نہیں مانگو۔۔۔اصل گناہگار تم شادل بھائی کے ہو۔۔۔پلیز ان سے معافی مانگ لو۔۔۔”
تھوڑی دیر بعد دھیرے سے کہتی وہ آنکھیں کھولی تھی،باسط بغور اسکا خوبصورت چہرہ دیکھ رہا تھا،
“تم نہ بھی کہتی تو میں ان سے معافی مانگتا۔۔۔پر صرف اتنا بتادو کہ تم نے معاف کردیا نا مجھے۔۔۔”
باسط کے آس سے پوچھنے پر تحریم نے اثبات میں سر ہلایا جس پر یکدم مسکراتا باسط اسے گلے لگاگیا،
“تھینک یو تحریم۔۔۔تھینک یو سو مچ۔۔۔”
مطمئن سا ہوتے وہ بول کر اسکے بالوں پر لب رکھا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سپہر تین بجے الشبہ ازکیٰ کے کپڑے چینج کررہی تھی،شادل کی غیر موجودگی میں وہ ازکیٰ کو اپنے ساتھ ہی رکھتی،اس ننھی سی بچی سے اسے بہت لگاؤ ہوچکا تھا،ابھی بھی وہ اسے کھلاتے ہوئے دوسرے کپڑے نکال رہی تھی تبھی شانزے اسکے روم میں آئی،
“آپی۔۔۔آپ کو پتہ ہے یہ اب ماما بولتی ہے۔۔۔”
اسے دیکھتے ہی الشبہ خوشی سے بتانے لگی،شانزے بےساختہ مسکراکر ازکیٰ کو گود میں اٹھائی تھی،
“الشبہ کیا میرے ساتھ تم کلینک چلو گی۔۔۔”
ناجانے اسکی کلائی کیسے مروڑی تھی پیام نے کہ اب تک درد ہورہا تھا اسے بری طرح،جب سے برداشت کرتی وہ الشبہ کو اب بولی تھی،
“لیکن آپی۔۔۔پیام بھائی نے تو کہا تھا کہ وہ لے جائیں گے۔۔۔”
الشبہ حیرت سے بولی کیونکہ ناشتے کے دوران پیام نے سب کے سامنے نارمل لہجے میں شانزے سے کہا تھا کہ وہ شام کو جلدی آکر اسے ہاسپٹل لے کر جائے گا جس کا آگے سے شانزے نے کوئی رسپانس نہ دیا تھا،
“میں خود چلی جاؤں گی۔۔۔اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔”
پیام کا سوچتے ہی وہ چہرہ بگاڑ کر بولی،پہلے تکلیف دیتا ہے پھر مرہم لگوانا چاہتا ہے،
“کچھ ہوا ہے کیا آپی۔۔”
اسکے یوں بولنے پر ازکیٰ کو اسکی گود سے لیتی الشبہ تشویش سے پوچھی،
“نہیں کچھ نہیں ہوا۔۔۔تم بتاؤ۔۔۔میرے ساتھ چلو گی یا نہیں۔۔۔ورنہ تو میں اکیلی چلی جاتی ہوں۔۔۔”
بات بدل کر وہ سنجیدہ لہجے میں بولی تو الشبہ نے ہامی بھرنے میں ہی عافیت جانی،آیا کہ وہ واقعی اکیلے چلی جائے،
ازکیٰ کو چینج کر کے الشبہ اسے لیے شانزے کے ساتھ گئی تھی قریبی کلینک،باہر الشبہ ویٹنگ ایریا میں بیٹھی ازکیٰ کے ساتھ جبکہ شانزے اندر روم میں داخل ہوئی،سامنے ہی ایک لیڈی ڈاکٹر بیٹھی تھیں انہیں کلائی دکھا کر شانزے ابھی کچھ بولتی کہ انکے نمبر پر کال آئی،شانزے سے ایکسکیوز کرتی وہ روم سے نکلی تھیں،ڈاکٹر کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی ایک نرس اندر آئی،
“آپ کو یہ انجیکشن لگانا ہے۔۔۔ڈاکٹر صاحبہ نے کہا ہے۔۔۔”
ہاتھ میں سرنج اور انجیکشن کی چھوٹی بوتل تھامی وہ نرس سلام کے بعد شانزے سے بولی تھی،
“کیا۔۔۔؟”
وہ ڈرتی نہیں تھی انجیکشن لگانے سے پر حیران ضرور ہوئی تھی،صرف کلائی میں درد پر انجیکشن لگانے سے،
“جی۔۔ڈاکٹر صاحبہ نے کہا ہے۔۔انہیں تھوڑی دیر ہوگی آنے میں۔۔۔؟”
نرس کے یوں کہنے پر الجھ کر وہ اثبات میں سر ہلائی تھی،تبھی سرنج فل کرتی وہ نرس شانزے کے بازو پر انجیکشن لگائی تھی،ابھی وہ اسے ساتھ ہی اور ڈسکرپشن بتارہی تھی کہ شانزے کا سر یکدم چکرایا،اسے چکراتا دیکھ سامنے کھڑی نرس نے جیب سے فون نکالا تھا،
“جی سر۔۔۔جیسا کہا تھا کردیا۔۔۔وہ بےہوش ہوچکی ہے۔۔۔”
کال پر کہتی وہ اگلی طرف سے ملنے والے آگے کے حکم پر رضامندی ظاہر کرتی فون رکھی پھر کال کر کے اپنی ساتھی نرس کو بلائی،
ویٹنگ ایریا میں بیٹھے اسے کافی ٹائم ہوچکا تھا،ازکیٰ بھی اب بھوک سے رونے لگی،کھڑی ہوکر ازکیٰ کو گود میں لیے ٹہلاتے وہ پریشان سی ہر طرف دیکھ رہی تھی،جب دیر زیادہ ہونے لگی تو الشبہ روم میں چلی گئی،پر اسے جھٹکا لگا بہت برا،وہاں بیٹھی ڈاکٹر کسی اور عورت کا معائنہ کررہی تھیں،
“آپ اپنے نمبر پر آئیے گا۔۔۔”
الشبہ کو دیکھ کر ڈاکٹر نے پیشہ وارانہ انداز میں کہا،الشبہ نے جلدی سے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا،
“آدھے گھنٹے پہلے یہاں ایک لڑکی آئی تھی۔۔۔وہ کہاں ہیں۔۔”
اسکے بےچین ہوکر سوال کرنے پر ڈاکٹر نے ناسمجھی میں اسے دیکھا،
“سوری بٹ آدھے گھنٹے سے یہی بیٹھی ہیں یہاں پر۔۔۔”
ڈاکٹر کی لاعلمی الشبہ کے لیے دھچکے سی ثابت ہوئی،گھبراتی وہ تیزی میں روم سے نکلی پھر ہر طرف شانزے کو ڈھونڈنے لگی لیکن شانزے ہوتی تو ملتی اسے،
تھک ہار کر پریشان ہوتی وہ رونے والی ہوئی تھی،ازکیٰ کا رونا بھی بڑھا جس کی وجہ سے الشبہ نے جلدی سے فون نکال کر پیام کا نمبر ڈائل کیا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کو آفس میں شادل فائلز پر سر دیے بیٹھا تھا تبھی اسکی سیکریٹری نے آکر بتایا کہ کوئی ملنا چاہتا ہے اس سے،شادل نے اجازت دی،کچھ ہی دیر بعد باسط اندر آیا تھا،
“ارے باسط بیٹھو۔۔۔”
خوش اسلوبی سے کہتا شادل کھڑا ہوا تھا،باسط کو ہمیشہ اس شخص کا اچھا اخلاق شرمندہ ہونے پر مجبور کردیتا،آخر کو شادل کی خوشیاں چھیننے میں آدھا ہاتھ اسکا بھی تو تھا،
“کہو کیا منگواؤ۔۔۔چائے پیو گے۔۔۔یا کافی۔۔۔”
اسکے بیٹھتے ہی شادل مسکراتے ہوئے پوچھا،
“نہیں بھائی۔۔۔ایکچولی۔۔۔کچھ بات کرنی تھی ضروری آپ سے۔۔۔یوں سمجھیں کہ۔۔۔جیسے کچھ مانگنا چاہتا ہوں۔۔۔”
باسط کے لہجے میں جھجھک محسوس کرتا شادل چونکا،
“بلکل کہو۔۔کیا چاہیے۔۔۔؟”
آگے ہوتا وہ ٹیبل پر دونوں ہاتھ پھنسا کر بیٹھا،
“شادل بھائی۔۔۔دراصل۔۔میں۔۔۔آپ سے۔۔معافی مانگنا چاہتا ہوں۔۔۔”
منہ پر ہاتھ پھیرتے وہ دھیمے لہجے میں بات کا آغاز کیا تھا،
“معافی۔۔۔پر کس لیے۔۔۔؟”
شادل حیران ہوا،ایسا بھی کیا تھا کہ وہ معافی مانگ رہا تھا اس سے،
“بھائی۔۔۔ایکچولی۔۔بات یہ ہے کہ۔۔۔”
اسے سمجھ نہ آیا کیسے کہے۔۔۔وہ جیسے الجھا تھا الفاظوں کا چناؤ کرتے،
“کھل کر بات کرو باسط۔۔۔کیا بات ہے۔۔۔”
اسے ریلیکس کرنے کے تحت شادل نرم لہجے میں بولا،
“بھائی میں۔۔۔گناہگار ہوں۔۔۔”
“کس کے۔۔۔”
وہ الجھنے لگا تھا باسط کے ڈھکے چھپے لفظوں پر،
“آپ کا۔۔۔!”
“باسط میں سمجھ نہیں پارہا۔۔۔تم میرے گناہگار کیسے۔۔۔مطلب۔۔۔کیا کہنا چاہ رہے ہو۔۔۔”
“بارات والی رات میں نے کڈنیپ کروایا تھا آپ کو۔۔۔”
سیدھے الفاظوں میں کہتا باسط یکلخت چپ ہوتا سر جھکایا،لہجہ پشیمان سا تھا،کچھ دیر کی خاموشی پر حیران ہوکر باسط نے سر اٹھایا پر مقابل شادل کے تاثرات دیکھ اسے حیرت کا جھٹکا لگا،وہ مسکرارہا تھا،
“شادل۔۔۔بھائی۔۔۔”
“جس دن تم نے پیام سے وہ مطالبہ کیا تھا میں اس ہی دن سمجھ چکا تھا۔۔۔شروع میں مجھے افسوس ہوا تھا تمہاری سوچ پر لیکن جلد ہی یہ بھی جان گیا کہ یہ سب تقدیر کے فیصلے ہیں۔۔۔ان سب پر ہمارا تو اختیار نہیں ہوتا۔۔۔شانزے پیام کے ہی نصیب میں لکھی تھی۔۔۔بہانہ صرف تم نکل آئے۔۔۔اور جس بات کی تم اب معافی مانگ رہے ہو۔۔۔اس بات کے لیے میں کافی پہلے ہی کرچکا تھا تمہیں معاف۔۔۔”
شادل کی بات ختم ہونے پر باسط ششدہ رہ گیا،مقابل بیٹھا وہ انسان آخر کیا تھا،اگر کو خود باسط اسکی جگہ ہوتا تو شاید اتنا بڑا دل نہ رکھتا پر وہ شخص کتنی آسانی سے اسے بری الزمہ کرچکا تھا اپنے چند لفظوں سے،
“بھائی۔۔۔”
چئیر سے اٹھتا وہ شادل کے پاس آیا تھا،باسط کو اپنی جانب آتا دیکھ شادل بھی کھڑا ہوا اور اسے گلے لگاتا تھپکایا تھا باسط کی پشت،
“گھر میں کیا کم ہوتا ہے۔۔۔جو یہاں بھی چلتا پھرتا ٹی وی سیریل لگ گیا۔۔۔”
بھاری دلکش آواز پر دونوں چونکے،پیام کو سامنے دیکھتے ہی باسط کے اندر تک کڑواہٹ گھلی،
“ارے جیجے۔۔۔آج کیسے رستہ بھول گئے یہاں کا۔۔۔”
باسط کو دیکھ کر وہ فرینکلی بولتا برابر میں رکھے صوفے پر بیٹھا تھا،
“میں چلتا ہوں بھائی۔۔۔”
اسکی بات پر آنکھیں گھوماتے باسط نے شادل سے کہا ساتھ ہی نکلنے لگا وہاں سے،
“گڈ بائے جیجے۔۔۔”
نکلتے ہوئے باسط تپ کر گھورا تھا اس انسان کو جو مزے سے کہتا اب عادتاً دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھے اسے دل جلاتی مسکراہٹ سمیت دیکھ رہا تھا،
“کیا ملتا ہے تمہیں ہر کسی سے الجھنے میں۔۔۔”
باسط کے جانے کے بعد شادل تاسف سے پیام کو کہہ کر چئیر پر بیٹھا تھا،
“مزہ ملتا ہے مجھے ہر کسی سے الجھنے میں۔۔۔”
ہمیشہ کی طرح لاپرواہ لہجہ،شادل دیکھ کر رہ گیا اسے،
“سدھر جاؤ تم۔۔”
فائل کھولتا وہ مسکراکر بولا،
“ارے بھائی۔۔۔پیام مرتضیٰ سدھرے گا تو دنیا سے جاکر ہی۔۔۔اس زندگی میں کوئی امکان نہیں ہے فلحال۔۔۔”
جیب سے شادل کا موبائل نکال کر اس نے اچھالا تھا وہ شادل کی طرف،
“فضول باتیں نہ کیا کرو پیام۔۔۔کوئی بھی وقت قبولیت کا ہوتا ہے۔۔۔”
موبائل کیچ کرتے ہوئے شادل نے سنجیدگی سے کہا،پیام بےساختہ تمسخر سے ہنسا،
“او دکھی آتما۔۔۔۔بول تو یوں رہے ہو۔۔۔جیسے سچ میں کل ہی مرجاؤں گا میں۔۔۔”
ہنکارا بھرتے وہ کہا تھا اور شادل لب بھینچ کر رہ گیا،
“ویسے اگر مرگیا۔۔۔تو کیا فرق پڑے گا کسی کو۔۔؟”
شادل کے چپ رہنے پر وہ ناجانے کس احساس کے تحت پوچھا تھا،
“بس کردو پیام۔۔۔حد ہوگئی۔۔۔جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہو۔۔۔”
وہ تپا تھا تبھی آواز میں سختی گھول کر کہنے لگا،
“ابے بھائی نہیں جان چھوڑے گا پیام مرتضیٰ اتنی جلدی آپ لوگوں کی۔۔۔۔اور ویسے بھی کسی نے کہا تھا کہ برے لوگ اتنی جلدی نہیں مرتے۔۔۔”
اسے بتاتے پیام آخر میں شانزے کی بات کو یاد کر کے کھوئے ہوئے لہجے میں بولا تھا،
“پاگل ہو تم۔۔۔”
نفی میں سرہلاکر شادل فائلز چیک کرنے لگا تبھی پیام کا فون رنگ ہوا،الشبہ کی کال دیکھ وہ تھوڑا حیران ہوا،
“ہیلو۔۔۔!”
کال ریسیو کرتا فون کان سے لگاکر وہ بولا پر دوسری طرف سے الشبہ نے جو بات بتائی وہ پیام مرتضیٰ کے لیے کسی دھچکے سے کم نہ تھی،جھٹکے سے کھڑا ہوتا وہ تیزی سے نکلا تھا آفس سے،شادل کو اچھنبا ہوا اسکے یوں بھاگنے پر،
“پیام۔۔۔”
اسے پکارتا شادل اٹھ کر پیچھے گیا تھا لیکن تب تک وہ جاچکا تھا،
“ڈھیٹ لڑکی۔۔۔کبھی تو سن لیا کرو میری بات۔۔۔”
غصے میں بڑبڑاکر کار سٹارٹ کرتا وہ زور سے موبائل ڈیش بورڈ پر پٹخا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
