422K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aah-E-Muhabat (Episode 7)

Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz

لائٹ پنک کلر کے پیپلم پر سر دوپٹہ سیٹ کیے جبکہ لمبے بالوں کو کرل کر کے آگے کی طرف ڈالے،ہلکے سے میک اپ پر شانزے کوئی مومی گڑیا سی لگ رہی تھی،شادل کہ وقفے وقفے سے خود پر نظریں محسوس کر کے اس سے گھنیری پلکوں کے باڑ اٹھانا مشکل لگ رہا تھا،بھرے بھرے لبوں پر شرمیلی مسکان اور حیا سے گھلی سرخائی الگ ہی دلفریب بنارہی تھی اسکے خوبصورت چہرے کو،ایک مرتبہ پھر اسے اپنے چہرے پر تیز نظریں محسوس ہوئی تھیں،پر ان نظروں کی تپش سے شانزے کے گال بلکل دہکنے لگے تھے،آئبرو حیرت سے بھینچے وہ نظر اٹھاکر سامنے شادل کو دیکھنے لگی پر اگلے ہی پل اسکی یہی شہد رنگ آنکھیں پتھرائی تھیں،حیرت بھرے تاثرات بےیقینی میں بدلے تھے،ایک سکتہ سا طاری ہوا تھا اس پر انٹری پر کھڑی کھڑی ہستی کو دیکھ،بلیک شلوار قمیض پر گرے ویس کوٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کرنے کے باوجود ہمیشہ کی طرح دو تین لئیرز پیشانی پر بکھری تھیں،عنابی لبوں پر مخصوص تمسخر اڑاتی مسکان سجائے وہ جیسے اسکے ایکسپریشن بخوشی انجوائے کررہا تھا،یقیناً وہ شانزے اکبر کی دلی حالت سمجھ رہا تھا جو انٹرنس پر اُسے پیام مرتضیٰ کو دیکھ کر ہوئی تھی،مضبوط مگر دھیمے قدم اٹھاتا وہ اسکے پاس آیا تھا،دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے،ایک کے تاثرات اب تک بےیقین تھے جیسے مقابل کو موجودگی کو وہ اب تک قبول ہی نہیں کرپارہی تھی،تو دوسرے کے ایکسپریشن بہت ہی دلکش لگ رہے تھے اسکے وجیہہ چہرے پر،کئی لڑکیوں کی نظریں رکی تھیں اس وجاہت سے بھرپور اٹھائیس سالہ مرد پر،جبکہ اس مرد کی مسکاتی طنزیہ نظر صرف شانزے اکبر پر ہی تھی،

“تھینک گاڈ تُو آگیا۔۔۔”

شادل کی آواز پر شانزے کا سکتہ ٹوٹا تھا،ٹرانس کی کیفیت میں اسکی گردن گھومی تھی شادل کی طرف جو کہ اس وقت اسکے مقابل کھڑے شانزے کے واحد دشمن ہی سے مخاطب تھا،

“شانزے۔۔۔اس سے مِلو۔۔۔یہ ہے پیام۔۔۔میرا چھوٹا بھائی۔۔۔”

نرمی سے بول کر شادل نے مسکراتے ہوئے پیام کا کندھا تھپکا کر اسے گلے لگایا،اب شادل کی اس بات پر شانزے کی کیفیت بلکل نڈھال ہی ہوگئی،بمشکل خود کو گرنے سے بچائے وہ روہانسا چہرہ لیے پیام مرتضیٰ کو دیکھ رہی تھی،شادل کے بولنے کے انداز سے صاف اپنے بھائی کے لیے محبت شانزے کو محسوس ہوئی تھی،اسکا دماغ بلکل ماؤف سا ہوا تھا،ایک انسان کو وہ بےانتہا پسند کرتی تھی تو دوسرے سے نفرت،اور وہ دونوں ہی بھائی،کیسے سنبھال پائے گی وہ سب،اسکی ماؤف کرتی سوچیں پیام کی بھاری آواز پر سٹاپ ہوئیں،

“ہیلو بھابھی۔۔۔آئی مین ہونے والی بھابھی۔۔۔ویسے آپ کا چہرہ کچھ دیکھا دیکھا سا لگ رہا ہے۔۔۔۔”

حیران ہونے کی بھرپور ایکٹنگ کرتا وہ لب دبائے بولا،شادل اچھنبے سے اسے دیکھنے لگا،

“کیا مطلب۔۔تم جانتے ہو اسے۔۔۔؟”

خوشگوار حیرت بھرے لہجے میں پوچھتا وہ خوشی سے شانزے کو ایک نظر دیکھ کر پوچھا،شانزے بےساختہ اپنی نظریں ادھر ادھر دوڑانے لگی،چہرے پر انجانا خوف تھا کہ کہیں پیام اپنی طرف سے کچھ ایسا نہ بول دے کہ شادل کا دل اسکی طرف سے خراب ہوجائے،

“ویٹریس۔۔۔۔ہاں ویٹریس ہیں نا یہ۔۔۔میں نے انہیں ریسٹورنٹ میں دیکھا تھا۔۔۔”

آواز کو تھوڑا بلند کیے وہ آس پاس کے لوگوں کو ان تینوں کی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہا تھا،اور شانزے کی آنکھیں یہاں بےساختہ نم ہوئی تھیں لوگوں کی نظریں خود پر محسوس کیے،وہ کبھی اپنے پیشے پر گِلٹ فیل نہیں کرتی تھی پر پیام نے جس تذہیک بھرے لہجے میں یہ الفاظ کہے تھے اسکا شرمندہ ہونا بنتا تھا،

“فلحال یہ منگیتر اور تمہاری بھابھی ہے پیام۔۔۔”

شادل کو بھی پیام کا یوں بولنا پسند نہیں آیا تبھی وہ سنجیدگی سے بولا،ساتھ ہی شانزے کے گرد بازو حائل کر کے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا،اسکے سپورٹ کرنے پر شانزے بھیگی مگر مسکراتی نظروں سے شادل کو دیکھنے لگی،پیام ستائشی نظروں سے دونوں کو دیکھا تھا،

“بھابھی نہیں۔۔۔۔ہونے والی بھابھی۔۔۔”

دوسری طرف قدم بڑھاتا وہ جاتے جاتے بھی اس پر طنز کرنا نہ بھولا تھا،اسکے جانے کے بعد شادل تاسف سے پیام کی پشت دیکھ کر شانزے کی طرف متوجہ ہوا،

“اسکی بات کا برا مت ماننا۔۔۔وہ ایسا ہی ہے۔۔۔تھوڑا بدتمیز پر دل کا بہت اچھا ہے۔۔۔”

اپنی تہیہ سے شادل نے شانزے کا دل پیام کی طرف سے صاف کرنے کی کوشش کی تھی جس پر وہ نرمی سے مسکراتی اثبات میں سر ہلاگئی،اب وہ کافی حد تک سنبھل چکی تھی،اور ساتھ ہی یہ بات بھی سمجھ گئی کہ اب اس انسان کو شادی کے بعد بھی جھیلنا ہوگا،تبھی وہ خود کو ابھی سے تیار کرنے لگی تھی،

“عبید۔۔۔”

الشبہ کی نظر عبید پر پڑی تو وہ حیرت سے اسے پکار بیٹھی،وہ جو پیام اور دیگر دوستوں کے ساتھ باتوں میں مگن تھا الشبہ کی مانوس آواز پر چونکتے ہوئے پلٹا پر اب اسکے تاثرات بھی کچھ الگ نہیں تھے،دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر حیران ہوئے تھے،

“تم یہاں کیا کررہی ہو۔۔۔؟”

وہاں سے ایکسکیوز کرتا وہ الشبہ کے پاس آکر حیران کن لہجے میں پوچھا،

“یہی سوال میں بھی تم سے کروں کہ تم یہاں کیا کررہے ہو۔۔۔؟”

اس نے الٹا ہی سوال کیا جس پر عبید نے مڑ کر پیام کی طرف اشارہ کیا،

“وہ پیام۔۔۔۔اسکے بھائی کی منگنی پر آیا ہوں۔۔۔”

عبید کے اشارے پر الشبہ نے پیام کی طرف دیکھا تو بےساختہ اسکی آنکھوں میں ستائش کی لکیر ابھری،اس شخص کی پرسنیلٹی تھی ہی ایسی کہ ہر لڑکی معیوب ہوجاتی،وجاہت سے بھرپور وہ کسی مغرور شہزادے کی طرح لگا الشبہ کو جو ہر لڑکی کہ چھپی نظروں کا مرکز تو بنا تھا پر خود وہ سبھی لڑکیوں سے بےپرواہ اپنی نظریں کرم کسی پر ڈالنا تک گوارا نہیں کررہا تھا،سب سے بےنیاز وہ مغرور شخص تو صرف ایک ہی لڑکی کی تاک میں تھا کہ کب موقع ملے اور اسے ایک بار پھر اپنے طنز کے تیر کا نشانہ بنائے،

“اب تم تو بتاؤ۔۔۔کہ تم کیسے آئی یہاں پر۔۔۔”

عبید کی آواز پر الشبہ نظریں پیام پر سے ہٹائے اسے دیکھنے لگی،

“میں کیوں نہ ہوں۔۔۔ارے میری ہی تو بہن کی منگنی ہے۔۔۔وہ دیکھو۔۔۔شانزے آپی۔۔۔”

الشبہ خوشی سے اور بھی باتیں بول رہی تھی پر عبید کو حیرت کے جھٹکوں کے زد میں آیا تھا،وہ لڑکی الشبہ کی بہن تھی جسے اتنے دنوں سے پیام پریشان کررہا تھا اور تو اور کچھ دن پہلے اسے کڈنیپ بھی کیا تھا،

“عبید۔۔۔”

الشبہ اسکے آگے چٹکی بجائی تب وہ ہوش میں آیا تھا،الشبہ کی سوالیہ نظریں خود پر دیکھ وہ جلدی سے بولا،

“وہ۔۔۔تمہاری بہن ہے۔۔؟”

وہ جیسے اب بھی بےیقین ہی تھا،

“ہاں تو۔۔۔کیوں کیا ہوا۔۔؟”

اب کے الشبہ تھوڑا اچھنبے سے پوچھنے لگی تو عبید نفی میں سر ہلانے لگا،

“نہیں نہیں۔۔۔کچھ نہیں ہوا۔۔۔”

ہلکے سے بڑبڑاتے وہ الشبہ کو ایکسکیوز کر کے واپس پیام کے پاس گیا تھا،

منگنی کی رسم بڑوں کی دعاؤں سمیت بہت ہی اچھے ماحول میں ختم پزیر ہوئی تھی،رابیہ بیگم جتنا کڑھ رہی تھیں شادل کے ساتھ بقول انکے اس غریب لڑکی کو دیکھ کر،اتنا ہی سب خوش تھے انکی منگنی پر لیکن ساتھ ہی دو لہو رنگ آنکھیں تھیں جو خاموشی سے اس منظر کو دیکھ تو رہی تھیں پر اندر اسکے جھکڑ سے چل رہے تھے،اسکا دل چاہ رہا تھا کہ سب کچھ ختم کرڈالے پر نہیں۔۔۔،وہ ابھی کچھ نہیں کرنا تھا،وقت آنے پر وہ اپنا پلین سر انجام دینے کا سوچ رہا تھا،

“خوش ہو لو جتنا ہونا ہے۔۔۔۔شانزے اکبر۔۔۔آخر میں تمہیں باسط زبیر کا ہی ہونا ہے۔۔۔”

شادل کے سنگ شانزے کو مسکراتا دیکھ وہ دانت پیستے ہوئے بولا،ذہین دماغ میں اپنے پلین کو سر انجام دینے کی سوچیں چل رہی تھیں تبھی نسوانی آواز پر اس نے ان پر سے نظر اٹھائے سامنے دیکھا،مقابل کھڑی وہ اسی سے مخاطب تھی،

“تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔کہیں میرا پیچھا تو نہیں کرنے لگے۔۔۔”

اپنے مخصوص نراکت بھرے لہجے میں تحریم مرتضیٰ اس سے استفسار کررہی تھی،اسکے سوال پر باسط کی پیشانی شکنوں سے بھری تھی،

“تم جیسی لڑکیوں پر باسط زبیر اپنا ٹائم برباد نہیں کرتا۔۔۔”

سرد لہجے میں بول کر وہ نگاہ پھیر گیا،تحریم تپی تھی اسکے اکڑ دکھانے پر،

“یہ تم جیسی تم جیسی کیا ہوتا ہے۔۔۔زرا تمیز سے بات کیا کرو۔۔۔میں کوئی عام لڑکی نہیں تحریم مرتضیٰ ہوں۔۔۔۔تحریم مرتضیٰ۔۔۔”

عادت کے مطابق آگے ہوئے بالوں کو پیچھے جھٹکتے ہوئے وہ مغروریت سے بولتی بند قدم بڑھا کر باسط کے قریب آئی،

“میں تمہیں بتاؤں کہ میں کیسی لڑکی ہوں۔۔۔میں وہ لڑکی ہوں جو “تم جیسے” سڑک چھاپ مردوں سے بات تو کیا انکے منہ لگنا بھی گوارا نہیں کرتی۔۔۔”

اسکے نزدیک چہرہ کیے تحریم نے اپنی لائٹ براؤن آنکھیں باسط کی کالی آنکھوں میں گڑاکر انتہائی حقارت سے کہا،یکایک باسط کے باریک لبوں پر مسکراہٹ پھیلی تھی،ایک دلفریب مسکراہٹ،

“مجھ سے منہ تک نہیں لگانا چاہتی پر یوں قریب آجاتی ہو۔۔۔زرا فاصلے پر رہ کر بات کیا کرو۔۔۔تم جیسی لڑکیوں کو بس بہانہ چاہیے ہوتا ہے لڑکوں کے نزدیک ہونے کا۔۔۔۔تاکہ دنیا کو یہ جتا سکو کہ کتنے لڑکے مرتے ہیں تم پر۔۔۔۔”

تحریم کے نزدیک ہونے پر وہ چوٹ کیا تھا،اسکے سخت لہجے پر بےساختہ تحریم دو قدم پیچھے ہوئی،باسط کی نظروں میں اپنے لیے کراہیت دیکھ وہ جل کر ہی تو رہ گئی تھی،جبکہ وہ اس پر طنز کرتا اب وہاں سے جاچکا تھا،اور وہاں رہنا باسط زبیر کے لیے محال ہونے لگا تھا،

شادل اور شانزے کھڑے ہلکی آواز میں ایک دوسرے سے باتیں کررہے تھے تبھی رابیہ بیگم ان دونوں کی طرف آئیں،

“شادل بیٹے ادھر آؤ۔۔۔تمہیں کسی سے ملوانا ہے۔۔۔”

شانزے کو بلکل نظرانداز کیے وہ شادل سے کہنے لگیں،انکے رویے پر شانزے زبان لبوں پر پھیرتی سر جھکاگئی،

“امی کس سے ملنا ہے۔۔۔اسے ادھر ہی لے آئیں۔۔۔شانزے بھی مل۔۔۔”

“بیٹا شانزے کہیں بھاگی نہیں جارہی۔۔۔بات سن لیا کرو۔۔۔آؤ ادھر۔۔۔”

اب کے تھوڑا روڈ لہجے میں بول کر وہ شادل کا بازو تھامتے ہوئے اسے لے جانے لگیں،

“آ۔۔۔شانزے میں ابھی آیا۔۔۔”

اسے عجیب نہ لگے تبھی شادل بول کر رابیہ بیگم کے ساتھ گیا،شانزے وہی پر کھڑی ان دونوں کو دیکھنے لگی،رابیہ بیگم شادل کو کسی لڑکی سے ملوا رہی تھیں،اس لڑکی کی نظر میں شادل کے لیے پسندیدگی دیکھ شانزے نگاہ جھکائے سوچنے لگی،کیسے ایڈجسٹ کر پائے گی وہ ایسی فیملی میں،جہاں جتنے لوگ اسے پسند کرتے ان سے زیادہ اسے ناپسند بھی کرتے،

“ویٹر جوس۔۔۔”

ابھی وہ اور سوچتی کہ اسکے کان کے بلکل قریب کوئی اچانک بولا،شانزے چونک کر گردن گھومائی تھی،مخصوص طنزیہ مسکراہٹ سمیت اسکے بلکل قریب کھڑا وہ اسے دیکھ رہا تھا،شانزے کی آنکھوں میں ناگواری چھائی تھی،

“مانا لڑکی کہ تم ریسٹورنٹ میں ویٹرس ہو۔۔۔پر اسکا یہ مطلب تھوڑی کہ میں جہاں بھی ویٹر کو آواز دوں گا تو آپ مجھے خود سے مخاطب سمجھیں گی بھابھی جی۔۔۔”

اپنی بات کہتے ہی وہ طنزیہ مسکراہٹ اسکی طرف اچھالا تھا،دلی خوشی محسوس ہوئی تھی شانزے کو چہرہ بگاڑے دیکھ کر،اسے خاموشی سے خود کو دیکھتا پاکر وہ جو سیٹی کی دھن بجاتا جانے لگا تھا شانزے کی آواز پر رکا،

“لہجہ تھوڑا درست کر کے بات کیا کرو مجھ سے۔۔۔بھابھی بنی نہیں ہوں پر جلد ہی بنوں گی ساتھ ہی بہت جلد تمہیں تمیز بھی سکھاؤں گی۔۔۔بہت کمی ہے آپ میں تمیز کی۔۔۔شاید کسی نے سکھائی نہیں دیور جی۔۔۔”

اسی کے لہجے میں پیام کو جواب دے کر وہ اب خود بھی اس پر طنزیہ مسکراہٹ اچھالے وہاں سے جمیلہ بیگم کے پاس گئی تھیآخر کب تک برداشت کرتی وہ اسکی فضول باتوں کو،پیام کی مسکراہٹ غائب ہوئی اسکی بات پر،ناگواریت بھری نظروں سے وہ شانزے کو دیکھا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادل کی خواہش پر مرتضیٰ صاحب نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دو مہینے بعد ہی ان دونوں کی شادی کی ڈیٹ فکس کردی تھی،ڈیٹ فکس ہونے کے بعد جمیلہ بیگم تو مارکیٹوں کے چکر لگاتے نہیں تھک رہی تھیں،مرتضٰی صاحب کے لاکھ منع کرنے کے باوجود اپنے تہیے سے اکبر صاحب اور جمیلہ بیگم نے ہر ممکن کوشش کی شانزے کا جہیز تیار کرنے میں،دن پر لگا کر آڑے تھے شادی کی تیاریوں میں دوسری طرف پیام نے بھی اب شانزے کو پریشان کرنا چھوڑ دیا تھا،بقول اسکے وہ اب کوئی فالتو ٹائم نہیں رکھتا تھا ایسی مڈل کلاس لڑکیوں کے لیے،وہ خوش نہیں تھا تو اداس بھی نہیں تھا ان سب سے،اسے جیسے فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا کسی چیز سے،ادھر شانزے نے بھی ریسٹورنٹ کی جاب چھوڑ دی تھی،

آج دو مہینے بعد شانزے اور شادل کی برات تھی،اکبر صاحب نے اپنی خودداری کے بدولت ایک خوبصورت ہال میں برات کا انتظام کروایا تھا حالانکہ مرتضی صاحب نے انہیں آفر کی تھی ایک ہوٹل کی کہ پیسے مرتضیٰ صاحب دیتے پر انہوں نے سہولت سے انکار کردیا،

“کیا سوچ رہی ہیں۔۔۔؟”

پیام جو نک سک سا تیار ہوکر نیچے آیا تھا رابیہ بیگم کو سوچ میں گم دیکھ کر پوچھنے لگا،تھوڑی دیر میں ان لوگوں کو نکلنا تھا ہال کے لیے،

“کچھ نہیں۔۔۔تم تو اب کچھ کرنے سے رہے۔۔۔پر مجھے اپنے بیٹے کی بہت پرواہ ہے۔۔۔جانتی ہوں ابھی جو کرونگی سب کو تھوڑا غلط لگے گا پر آگے جاکر سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔”

چہرے پر مکروہ مسکان سجائے وہ کچھ سوچتے ہوئے بولیں،پیام نے آنکھیں گھمائیں،

“جو بھی کریں میری بلا سے۔۔۔”

بڑبڑاتا وہ باہر نکلا تو رابیہ بیگم نے ایک نمبر ڈائل کیا،

“سنو دھیان سے کرنا کام۔۔۔جو کار ڈیکوریٹ ہے شادل اسی میں ہوگا۔۔۔اوکے۔۔۔”

ہلکی آواز میں مقابل کو سمجھاتی وہ فون رکھی تھیں، تبھی رابیہ بیگم کو شادل کی آواز سنائی دی،

“امی میری شیروانی کہاں ہے۔۔۔۔جب سے ڈھونڈ رہا ہو۔۔۔وارڈروب میں رکھی تھی۔۔۔”

اسکے لہجے میں پریشانی کا عنصر محسوس کیے رابیہ بیگم جلدی سے چہرے پر فکرمندی لائے بولیں،

“اوہ بیٹا۔۔۔ائی ایم سو سوری۔۔۔میں نے وہ اپنے وارڈروب میں رکھ دی۔۔۔تم ایسا کرو روم میں جاؤ میں بھجوادیتی ہوں۔۔۔اوکے۔۔۔”

انکے بولنے پر شادل اثبات میں سر ہلائے واپس روم میں گیا،اسے اور بھی تیاری کرنی تھی،پہلے ہی دیر ہوگئی تھی،

شادل کے کمرے میں کپڑے بھجواکر رابیہ بیگم نے مرتضیٰ صاحب کو دیر ہونے کا کہہ کر جلدی چلنے کہا،انکی بات پر وہ بھی متفق ہوئے اور پیام کے ساتھ جانے کا ارادہ کیے شادل کو سجی ہوئی کار میں آنے کا بول کر چلے گئے،انکے جانے کے کچھ دیر بعد ہی شادل بھی میں گیٹ کے باہر کار میں بیٹھا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“مت جا بیٹا۔۔۔۔اپنا ہی دل جلائے گا وہاں جاکر۔۔۔”

باسط کو تیار ہوتا دیکھ فرزانہ بیگم افسوس سے بولیں،وہ جانتی تھیں باسط کی شانزے کے لیے پسندیدگی اسی وجہ سے وہ خود بھی اپنی بہن سے ناراض تھیں اسی وجہ سے کہ انہوں نے شانزے کا رشتہ کہیں اور کیوں کیا،پر اس سچ کو وہ سمجھتے ہوئے بھی جھٹلا رہی تھیں کہ اکبر صاحب نے باسط کے رشتے پر اسی وجہ سے انکار کیا تھا کہ وہ پورا دن گھر پر فارغ بیٹھتا یا ادھر اُدھر گھومتا رہتا،اکبر صاحب کا کہنا تھا کہ جس انسان کو اپنے کرئیر کی فکر نہیں وہ کیا نئی آنے والی لڑکی کو سنبھال پائے گا،

“امی دعا کریں جس کام سے جارہا ہوں وہ ختم کر کے ہی لوٹوں۔۔۔۔”

آئینے میں ایک نظر خود کے وجیہہ روپ کو دیکھ کر وہ گویا ہوا،چہرے پر سرد مسکراہٹ لیے وہ فرزانہ بیگم کو گلے لگا کر پھر گھر سے نکلا،

“باراتی نکل گئے۔۔۔صحیح۔۔۔۔اور بندے تیار ہیں۔۔۔ٹھیک ہے پھر پہنچو۔۔۔یقیناً دولہے صاحب ڈیکوریٹ ہوئی کار میں ہی ہونگے۔۔۔۔”

طنزیہ مسکراہٹ سمیت بولتا وہ فون رکھ کر بائیک پر بیٹھا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔