422.2K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aah-E-Muhabat (Episode 22)

Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz

رات کا دوسرا پہر تھا،پوری گلی مکمل اندھیرے اور سناٹے میں ڈوبی ہوئی تھی،ایسے اندھیرے میں خود کو چادر سے کور کر کے وہ گھر سے نکلی تھی،آج رات کو وہ پھر عبید کو کال کی تھی،الشبہ کی حد سے بڑھتی ضد پر عبید نے اس کے سامنے یاور کے سمجھائے گئے پلین کے مطابق شرط رکھی،پہلے تو الشبہ گھبراکر انکار کرگئی لیکن عبید کے یہ کہنے پر کہ وہ نکاح کے فوراً بعد واپس گھر چھوڑ دے گا تب الشبہ بہت سوچ کر آخر کار مان گئی،اور اب وہ رات کے اندھیرے میں ہر طرف دیکھتی تیز قدموں سے چل کر گلی سے نکلی،وہ پہلے جمیلہ بیگم کو سب بتانا چاہ رہی تھی پر اس وقت عبید راضی نہیں تھا اور اب وہ اچانک راضی ہوا بھی تو کیسے،دل بری طرح گھبرارہا تھا الشبہ کا پر ہمت کرتی وہ قریبی پارک کی طرف جانے لگی اس امید میں کہ آج نکاح ہوجائے تو کل وہ جمیلہ بیگم کو خود ہی بتادے گی،

پارک کے پاس پہنچنے پر اسے عبید کی کار دکھی تھی،وہ جلدی سے جاکر اس میں بیٹھ گئی،

“عبید جلدی چلو۔۔۔نکاح کے بعد مجھے واپس گھر جانا ہے۔۔۔امی ابو اٹھ جاتے ہیں فجر میں۔۔۔۔”

بولتے ہوئے اسکے چہرے پر صاف گھبراہٹ کے آثار تھے،عبید نے بنا کچھ کہے کار سٹارٹ کی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح کے چار بجنے والے تھے شادل کار میں بیٹھا گھر واپس جارہا تھا،اسکا دوست اب پہلے سے بہتر تھا،ہاسپٹل میں ہی مرتضیٰ صاحب کی کال پر اسے معلوم ہوا کہ پیام آچکا ہے،یہ سن کر اسے حیرت کے ساتھ ساتھ خوشی بھی ہوئی،آگے دیوار ہونے کے سبب ابھی وہ سیدھے ہاتھ پر گاڑی ٹرن کررہا تھا کہ اچانک سامنے سے ایک گاڑی تیزی میں آئی،موقع پر شادل نے فوراً بریک پر پاؤں رکھا،دوسری جانب سے بھی بریک لگایا گیا تھا،جسکی وجہ سے کوئی نقصان ہونے سے بچ گیا،شادل کار سے اترا پر مقابل کو دیکھ حیران ہوا،دوسری طرف عبید کے چہرے کا رنگ بھی اُڑا تھا شادل کو دیکھ کر،نکاح کے بعد وہ الشبہ کو لیے یاور کے فلیٹ کی طرف جارہا تھا پر اچانک شادل کا سامنا اسے بوکھلاگیا،

“عبید خیریت۔۔۔اتنی جلدی میں۔۔۔”

شادل اور بھی کچھ بولنے لگا تھا پر اچانک رکا جب نظریں بےخیالی میں کار کی جانب گئیں،وہ پہلی نظر میں ہی پہچان چکا تھا کہ کار میں بیٹھی لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ الشبہ ہے،پر وہ رات کے عنقریب صبح ہونے کے عبید کے ساتھ کیا کررہی تھی اور شادل مرتضیٰ کو لمحہ لگا تھا معاملہ سمجھنے میں،ادھر الشبہ کی بھی جان ہوا ہوئی شادل کو دیکھ کر،

ایک ملامت بھری نظر عبید پر ڈالتا وہ چند قدم کا فاصلہ طے کر کے کار تک پہنچا،

“اترو۔۔۔”

شیشہ بجاتے شادل کا اشارہ سمجھ کر الشبہ ڈرتے ڈرتے کار سے اتری،

“کیا ہے یہ سب۔۔۔؟”

دھیمے لہجے میں وہ عبید اور الشبہ کو دیکھتے استفسار کرنے لگا،

“آپ یہاں کیسے۔۔؟”

“میں نے پوچھا کیا ہے یہ سب۔۔۔؟”

الشبہ کا سوال اگنور کرتا وہ آئبرو بھنچے پھر پوچھا جس پر وہ سر جھکاگئی،

“اسی لیے آنٹی انکل نے تمہیں چھوٹ دی تھی۔۔۔اسی لیے وہ تمہیں پڑھنے بھیجتے تھے کہ ایک دن یہ کرو گی تم۔۔۔۔وہ بھروسہ کرتے ہیں تم پر۔۔۔۔کیا تم نے ایک بار بھی اس بارے میں ان لوگوں سے بات کی ہے۔۔۔”

اسے بھرپور شرمندہ کرنے کے لیے شادل بلند آواز میں بولا اور الشبہ کا پارہ چڑھا،وہ کون ہوتا تھا اسے یوں بیچ سڑک پر بےعزت کرنے والا اور وہ بھی عبید کے سامنے،

“الشبہ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ کیا کرنے جارہی۔۔۔۔”

“چپ کرجائیں شادل بھائی۔۔۔میں جو بھی کروں۔۔۔آپ کو کیا ہے۔۔۔ہے کون آپ میرے۔۔۔ہاں۔۔۔عجیب آدمی ہیں۔۔۔بیوی ہوتے ہوئے بھی دوسروں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔۔۔۔پچھلی بار بھی میں نے آپ سے کہا تھا کہ میرے معملات میں نہ کہیں کچھ بھی اور اب بھی کہہ رہی ہو۔۔۔۔اور ایک بات بتائیں۔۔۔۔۔ہاں کیا ہے میں نے نکاح۔۔۔آپ کو کیوں برا لگ رہا ہے۔۔۔۔اپنی بیوی سے دل بھرگیا ک۔۔۔۔”

“منہ بند رکھو الشبہ۔۔۔”

شادل جسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا الشبہ کے منہ سے لفظ نکاح کا سن کر ساتھ ہی اسکی بدلحاظی میں کہی گئی باتوں نے شادل کا دماغ گھوما دیا،شاید زندگی میں پہلے مرتبہ شادل مرتضیٰ دھاڑا تھا کہ الشبہ کو چپ ہی لگ گئی،

“جو بھی ہوا ہے۔۔۔اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔۔۔جب لڑکی ہی بگڑی ہو تو لڑکا کیا کرے۔۔۔۔”

کچھ دیر بعد کی خاموشی کے بعد ابھرنے والی یہ آواز شادل کے ساتھ ساتھ الشبہ کو بھی چونکا گئی،دونوں گردن گھومائے تھے،یہ الفاظ عبید کے تھے جسکا چہرہ بلکل سپاٹ تھا،الشبہ بےیقین ہوئی،وہ بگڑی ہوئی کسے کہہ رہا تھا،

“کیا مطلب۔۔؟”

شادل سنجیدگی سے پوچھا،

“مطلب صاف۔۔۔میری اس نکاح میں ایک پرسنٹ بھی رضامندی شامل نہیں تھی۔۔۔۔یہ سب صرف اسکی ضد پر کیا ہے میں نے۔۔۔۔”

اب تو سب سامنے ہی آنا تھا تبھی اسے یاور کے فلیٹ میں لے جانے کا ارادہ کینسل کیے عبید نے یہی پر جان چھڑانا صحیح سمجھا تبھی یہ بولنے لگا،الشبہ کے سر پر جیسے قیامت ٹوٹی تھی،جس انسان کے لیے وہ لڑ رہی تھی،جس سے اتنی محبت کرتی تھی وہ کیسے اپنا پتہ صاف کررہا تھا،

“عبید یہ کیا۔۔۔ایسا تو مت بولو۔۔۔میں محبت کرتی ہوں تم سے۔۔۔۔تمہارے لیے میں نے کیا کچھ نہیں کیا۔۔۔امی ابو کو بنا بتائے آئی۔۔۔پلیز عبید۔۔۔”

وہ جلدی سے آگے بڑھتی روتے ہوئے گویا ہوئی،شادل تاسف سے الشبہ کو دیکھا تھا جو اتنی بڑی بات سننے کے باوجود اس سے ضد کررہی تھی،

“جو لڑکی آج میرے لیے اپنے ماں باپ کو چھوڑ چکی ہے۔۔۔کل کو وہ یقیناً کسی اور کے لیے مجھے بھی چھوڑ سکتی ہے۔۔۔”

الشبہ کو بنا دیکھے وہ بےحسی سے بولا اور الشبہ ساکت رہ گئی اسکی بات پر،عبید کا یہ جملہ کسی طمانچے کی طرح اپنے گال پر لگتا محسوس ہوا تھا اسے،

“کیا تمہیں نہیں لگتا کہ یہ غلط کیا تم نے۔۔۔بہت غلط۔۔”

کہتے ہوئے شادل کی آواز کرخت ہوئی تھی،چاہ کر بھی وہ اپنا لہجہ نرم نہ کرپایا،آنسو بہاتی الشبہ چہرہ جھکائے کھڑی تھی جبکہ عبید خاموشی سے برابر دیوار کو گھوررہا تھا پر تبھی اسکی سپاٹ آواز گونجی،

“میں عبید وحید اپنے پورے ہوش و حواس میں الشبہ اکبر کو طلاق دیتا ہوں۔۔۔طلاق۔۔۔طلاق دیتا ہوں۔۔۔”

اسکے الفاظ تھے یا پگھلا ہوا سیسہ جو الشبہ کو اپنے کان میں اُنڈلتا محسوس ہوا،وہ بےیقینی کا مجسمہ بنے ساکت نظروں سے اس خود غرض شخص کو دیکھی تھی جس سے کچھ دیر پہلے ہی اسکا نکاح ہوا تھا،دل یکایک دھک سے رہ گیا تھا،اسکا ضمیر رویا تھا اس بےوقوف کے اندھے بھروسے پر کیونکہ پہلے بھی وہ اسے آگاہ کرچکا تھا مقابل ہرجائی کے بارے میں پر وہ تو جیسے اپنے کان آنکھ سب بند کرچکی تھی اُس پل،

شادل حیران نظروں سے عبید کے بےتاثر چہرے کو دیکھنے لگا،کوئی انسان یوں کسی لڑکی کی زندگی خراب کیسے کرسکتا تھا،وہ لڑکی جو اسے دیوانوں کی طرح چاہتی تھی پر یکدم اسکے ذہن میں عبید کی کچھ دیر پہلے کہی بات یاد آئی،

“جو لڑکی آج میرے لیے اپنے ماں باپ کو چھوڑ چکی ہے۔۔۔کل کو وہ یقیناً کسی اور کے لیے مجھے بھی چھوڑ سکتی ہے۔۔۔”

اسے کھڑے کھڑے بےمول کرتا عبید اپنی کار میں جاکر بیٹھا تھا،شادل نے اسے روکنے کی زحمت تک نہ کی،کرتا بھی کیوں،اگر وہ غلط تھا تو کونسا الشبہ ٹھیک تھی،جو اس نے کیا وہی بھگتا،اپنی کار کی طرف جاتے وہ صرف چند لفظی بات بولا تھا،

“کار میں بیٹھو۔۔۔گھر چھوڑ آؤں۔۔۔۔”

شادل کی سپاٹ آواز پر الشبہ ہوش میں آئی تھی،سینے میں اذیت بھرے وہ نہایت پشیمان سی ہوتی بمشکل اپنے قدم اٹھائی اور کار میں جاکر بیٹھی،سارا محبت کا بھوت یکلخت اترا تھا،آج اسکے جذبات بری طرح مجروح ہوئے پر ان سب کی ذمہ دار وہ خود ہی تھی،عبید نے اسکا ساتھ ابھی چھوڑا تھا تو یقیناً آگے جاکر بھی وہ یہی کرتا پھر تب کیا ہوتا اسکا،یہ سوچ آتے ہیںالشبہ کانپی،جس انسان کو وہ اس قدر ذلیل کی تھی آج وہ ہی اسے اتنے بڑے دلدل سے نکال لایا تھا،پورے راستے وہ خود کو ملامت کرتے آئی تھی،دل بہت رویا تھا اپنی بےوقوفی پر،بےساختہ پیام کی بات یاد آئی جب وہ شادل کی بارات سے ان لوگوں کو گھر چھوڑا تھا،صحیح کہا تھا اس نے کہ بعد کے پچھتاوے سے بہتر تھا اس وقت کا رونا،تب اسے وہ بات سمجھ نہ آئی تھی پر اب وہ بخوبی سمجھی تھی پیام کی بات،ساتھ ہی بےحد شرمندہ ہوئی،

گھر کے پاس کار رکتے ہی الشبہ ہوش میں آئی،پھر آنسو پوچھتے کار سے اترنے لگی تبھی شادل کی آواز ابھری،

“یقین نہیں آتا تم شانزے کی بہن ہو۔۔۔ہنہہ۔۔۔۔تم جس طرح کی لڑکی ہو نا الشبہ۔۔۔۔ایسی لڑکیاں محبت تو کیا کسی کی ہمدردی کے بھی لائق نہیں ہوتیں۔۔۔۔”

یہ بات کہتا وہ گردن گھوما کر الشبہ کو دیکھا جو سر جھکائے تھی،

“تم سے لاکھ گناہ بہتر میری بیوی ہے۔۔۔جانتی ہو کیوں۔۔۔کیونکہ وہ مخلص ہے۔۔۔دوسری لڑکیوں کی طرح ماں باپ کو دھوکہ تو نہیں دیا اس نے۔۔۔”

اس پر چوٹ کرتا وہ حتہ لامکان کوشش کیا تھا الشبہ کو ہرٹ کرنے کی اور ہوا بھی وہی،شادل کی بات مکمل ہوتے ہی وہ پھوٹ کر رونے لگی،پر اسکے رونے کو خاطر نہ لاتے شادل کار سے اترا تھا،

بیل بجانے پر کچھ ہی دیر میں گیٹ کھلا،سامنے اکبر صاحب نہایت پریشان حال میں کھڑے تھے،شادل کو دیکھ وہ حیران ہوئے،انکے تاثرات سے سمجھ آرہا تھا کہ وہ الشبہ کی غیر موجودگی سے لاعلم نہیں تھے،

“انکل۔۔وہ۔۔”

سلام کرکے شادل سنجیدگی سے بولتے جھجھکا،ایک عزت دار باپ کے سامنے کیا ہی بولتا کہ انکی بیٹی کیا کر کے آرہی ہے،کچھ نہ سمجھ آنے پر وہ سائیڈ میں ہوا اور اکبر صاحب کی نظر شادل کی کار پر پڑی،جس میں سے الشبہ روتے ہوئے نکل رہی تھی،اکبر صاحب کو دیکھتے ہی اسکا رنگ زرد پڑگیا،جہاں تھی وہی ایستادہ رہ گئی جبکہ سانس جیسے رکنے لگی تھی،

“اندر چل کر بات کرتے ہیں۔۔۔”

شادل انکے بےیقین تاثرات دیکھ افسوس میں مبتلا ہوا،ان پر کیا گزر رہی ہوگی یہ وہ نہیں جان سکتا تھا پر اتنا ضرور معلوم تھا کہ ایک باپ پر یہ منظر کسی قیامت سے بڑھ کر نہ ہوگا،

سر جھکائے وہ بمشکل برابر میں ہوئے تو شادل سمیت الشبہ اندر داخل ہوئے،وہ جو اس وقت ساکت تھی اب اسکا وجود لرزراہٹ کا شکار تھا،شرم سے وہ سر نہیں اٹھا پارہی تھی،اندر صحن میں جمیلہ بیگم پریشانی میں کھڑی تھیں،

“کون ہے۔۔۔کچھ پتا چلا الشبہ کے بارے میں۔۔۔؟”

جمیلہ بیگم اکبر صاحب سے پوچھتی کہ نظر الشبہ اور شادل پر پڑی،

شادل نے بنا کسی جھوٹ کا سہارا لیے سب کچھ سچ سچ بتادیا،آج الشبہ کے اس اقدام پر وہ کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتا تھا،جیسے جیسے وہ بات بتارہا تھا ویسے ویسے الشبہ خود کو زمین میں گڑتا محسوس کررہی تھی،اسکا دل چاہا یہاں سے کہیں دور بھاگ جائے کہیں غائب ہوجائے،اکبر صاحب نڈھال سے ہوتے صحن میں رکھی چارپائی پر بیٹھ گئے جبکہ جمیلہ بیگم سرخ رنگ آنکھوں سے الشبہ کو گھوری تھیں،کتنا بھروسہ تھا انہیں اپنی بیٹی پر لیکن اس نے کیا کِیا،انہیں لوگوں کی عزت کا جنازہ نکالنے چلی تھی،

“میں چلتا ہوں اب۔۔۔انکل۔۔۔”

دونوں کو سلام کرتے وہ الشبہ پر ایک نگاہِ غلط ڈالے بغیر ہی نکلنے لگا وہاں سے،کبھی سوچا نہیں تھا کہ وہ اٹھارہ سال کی لڑکی جسے وہ بچی سمجھتا،اتنی بڑی ہوجائے گی کہ اس حد تک گرے،

“شادل بیٹا۔۔۔”

اکبر صاحب کی مردہ آواز پر وہ گیٹ پر پہنچ کر پلٹا،انکی آنکھوں میں پنپتا خوف سمجھتے شادل بولا،

“کوئی حرف نہیں آئے گا آپکی عزت پر۔۔۔۔آپ بھروسہ رکھیں مجھ پر۔۔۔۔”

سنجیدگی سے کہتا وہ نکلا ان کے گھر سے،

جس خاموشی سے اسکے دل میں الشبہ کے لیے ایک نرم گوشہ بنا تھا آج اس ہی خاموشی کے ساتھ وہ لڑکی اسکے دل سے اتر گئی تھی،

مرتضیٰ ہاؤس پہنچتے اسے تقریباً ساڑھے پانچ بج گئے تھے،روم میں داخل ہوکر اسکی نظر سوتی ہوئی خولہ پر پڑی تو بےساختہ لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی،قدم بہ قدم وہ اسکی طرف بڑھا،بیڈ پر اس ہی کے برابر میں بیٹھ کر شادل کچھ دیر تک اسکا چہرہ دیکھا گیا پھر جھکتے ہوئے نرمی سے اسکی پیشانی پر مہر ثبت کی،

“آئی ایم سوری۔۔۔”

خولہ کے گال نرمی سے سہلائے وہ بڑبڑایا تھا اور یہ معافی شادل مرتضیٰ تب کی مانگا تھا اس سے جب وہ بھٹکنے لگا تھا،بےشک خولہ اس سے مخلص تھی پر وہ مخلص نہیں رہ پارہا تھا اسکے ساتھ،یہ سوچ آتے ہی شادل نے آج وعدہ کیا تھا خود سے کہ وہ ہر ممکن کوشش کرے گا خولہ کے ساتھ ساتھ خود بھی خوش رہنے کی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔