Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 13)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 13)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
شانزے کے بتائے گئے ایڈریس پر پہنچ کر شادل نے کار روکی ہی تھی کہ پیام جھٹکے سے کار کا گیٹ کھولتا باہر نکلا،اور گھر کے باہر جاکر زور سے گیٹ بجاتا چیخا تھا،
“کمینے باہر نکل۔۔۔”
اسکے یوں چیخنے پر شادل جلدی سے کار سے اتر کر باہر آیا،
“پیام آرام سے۔۔۔ریلیکس ہوجاؤ۔۔۔”
پیام کو بازو سے پکڑ کر وہ سمجھایا تھا پر اسکا ہاتھ جھٹک کر وہ واپس گیٹ کی طرف گیا،اب کی بار بجانے سے قبل ہی فرزانہ بیگم نے گیٹ کھولا تھا،
“اپنے بیٹے کو بلاؤ۔۔۔۔کہاں ہے میری بہن۔۔۔”
وہ بپھرا کر غرایا تھا انہیں گھور کر،
“پیام۔۔۔!”
اب کی بار شادل نے سختی سے اسے ٹوکا،فرزانہ بیگم کے ساتھ بھی اسکا بدلحاظ لہجہ شادل کو غصہ دلاگیا تھا،
“سلام آنٹی۔۔۔میں شادل اور یہ پیام۔۔۔شانزے کا شوہر۔۔۔”
پیام کو چپ کراکر وہ فرزانہ بیگم کی طرف متوجہ ہوتے ان سے تعارف کرانے لگا،جس پر انہوں نے اثبات میں سر ہلاتے ایک نظر پیام کو دیکھا جو اپنی گردن مسلتا دائیں بائیں چکر لگارہا تھا،اسکا لال بھبھوکا چہرہ انہیں خوف میں مبتلا کرگیا،
“آنٹی دراصل آپ کے بیٹے کی کال آئی تھی پیام کے پاس۔۔۔آ۔۔۔کیا تحریم یہاں ہے۔۔۔؟”
یہ سوال پوچھتے خود شادل کی آنکھیں بھی سرخ ہونے لگی تھیں،بہن تھی وہ اسکی اور یوں کسی غیر کے گھر،غصہ تو اسے بھی بہت آیا تھا پر اسکی شخصیت کا یہ خاصا نہیں تھا کہ دوسروں پر اپنا غصہ ظاہر کرتا،
“آپ لوگ اندر آجائیں بیٹا۔۔۔”
فرزانہ بیگم نے رات کے پہر ایک نظر باہر دیکھ کر کہا،محلے میں عزت تھی انکی،وہ نہیں چاہتی تھیں کہ کوئی تماشہ بنے یہاں پر،
“کون ہے امّی۔۔۔؟”
تبھی باسط شور کی آواز پر باہر آتے ہوئے پوچھا تھا پر نظر پیام پر پڑتے ہی اسکے چہرے پر ستائشی مگر طنز بھرے تاثرات ابھرے،
“اوہ تو سالے صاحب۔۔۔”
وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ پیام نے اچانک آگے بڑھ کر باسط کے منہ پر پنچ مارا،فرزانہ بیگم منہ پر ہاتھ رکھے پھٹی آنکھوں سے پیام کو دیکھنے لگیں،جسکی پھولی ہوئی رگیں واضح ہورہی تھیں،شادل نے آگے بڑھ کر جلدی سے اسے پکڑا،جبکہ باسط منہ سے نکلتا خون اپنی شرٹ کی آستین سے پوچھتا ہنسا تھا،
“پیام پیچھے ہٹو۔۔۔یہ کیا غنڈہ گردی دکھا رہے ہو تم۔۔۔ہم تماشہ بنائے بغیر بھی بات کرسکتے ہیں۔۔۔”
اسکو پیچھے کرتے شادل تنگ آکر بولا تھا،فرزانہ بیگم فوراً باسط کی طرف بڑھیں،
“میری بہن کہاں ہے سالے۔۔۔”
شادل کے پکڑ سے نکلنے کو بےچین وہ غرایا تھا،
“سالا تو تُو ہے میرا۔۔۔۔آخر کو تیری بہن سے نکاح جو کیا ہے۔۔۔وہ بھی اسکی رضامندی سے۔۔۔”
پیام کی جذباتی نیچر کو سمجھتا وہ اور اسے غصہ دلایا تھا اپنی باتوں سے ادھر شادل حیرت سے باسط کو دیکھنے لگا،جہاں تک اسے معلوم تھا اسکی بہن جتنی مغرور تھی وہ کبھی بھی باسط سے شادی کے لیے راضی نہ ہوتی،
“بات سنو تم میری باسط۔۔۔تمیز سے بات بھی کی جاسکتی ہے۔۔۔”
اب کے شادل نے انگلی اٹھاکر سنجیدگی کہا جس پر باسط ایک گھوری پیام کو نوازتا اندر گیا تھا،
“پیام اندر چلو۔۔”
شادل اور فرزانہ بیگم بھی اندر جانے لگے تھے پر اسے ایک ہی جگہ پر کھڑا دیکھ شادل نے اپنے لفظوں پر زور دیتے کہا،
اسے ایک نظر دیکھ پیام جبڑے بھینچتا اندر داخل ہوا تھا،
باسط اندر آتا سیدھا اپنے کمرے میں گیا تھا،اسے یقین تھا کہ کال کے بعد پیام کسی بھی طرح اسکے گھر تک پہنچ جائے گا تبھی وہ پہلے ہی تحریم کو وارن کرچکا تھا کہ پیام اور شادل کے سامنے یوں کرے جیسے اس کی رضامندی شامل ہو اس نکاح میں،پہلے تو وہ ہتے سے ہی اکھڑ گئی اسکی بات پر لیکن باسط کی دی گئی دھمکیوں پر جلد خوفزدہ ہوئی تھی،اسے ساتھ روم سے لاتے باسط نے لاؤنج میں کھڑا کیا،
پیام اور شادل فوراً ہی آگے بڑھے تھے اسے دیکھ،
“تم ٹھیک ہو۔۔۔؟”
اسکا چہرہ تھامے پیام کا لہجہ تب سے اب جاکر نرم ہوا تھا جس پر تحریم نے ناچاہتے ہوئے بھی اثبات میں سر ہلایا،تحریم کو دیکھ بےساختہ اسکے ذہن میں شانزے کی حالت نقش ہوئی تھی جب وہ بھی اسکی قید میں تھی اور تب یاور کے زبردستی کرنے پر وہ جس طرح لرزی تھی،یکایک ڈھیروں شرم پیام کو محسوس ہوئی جسے چھپانے کے غرض وہ نگاہ پھیر گیا،کیونکہ اپنی غلطی کا اعتراف تو کرنا اسکے لیے گناہ کے مترادف تھا،
“تحریم۔۔۔”
پیام کو پیچھے ہوتا دیکھ شادل آگے بڑھتا آرام سے تحریم کے بازوؤں کو تھامتا اسے پکارا،
“ایک بات پوچھوں گا۔۔۔گڑیا کیا۔۔۔۔کیا باسط سے نکاح تم نے اپنی رضامندی سے کیا ہے۔۔۔؟”
یہ پوچھنا شادل کو عجیب ہچکچاہٹ کا شکار کرگیا تھا پر بہن سے محبت ہونے کے باعث وہ نرم لہجے میں پوچھا،
اسکے سوال پر تحریم نے ایک نظر باسط کو دیکھا تھا،کالی آنکھوں میں صاف وارننگ دیکھ وہ تھوک نگلتی صرف سر اثبات میں ہلا سکی،شادل کو جو معدوم سی امید تھی وہ ٹوٹی تھی،اسے دکھ اس بات کا نہیں ہوا تھا کہ تحریم نے باسط کو پسند کیا حالانکہ وہ تو خود اس مائینڈ کا شخص تھا کہ پسند کی شادی کو ترجیح دیتا دکھ تو اسے اس بات کا ہوا کہ اگر وہ باسط کو پسند ہی کرتی تھی تو کم از کم ان لوگوں کو بتاتی تو،
“گڑیا اگر تمہیں وہ پسند تھا تو ہمیں بتاتی۔۔۔یوں چھپ کے نکاح کرنے کا کیا جواز بنتا ہے۔۔۔”
وہ دکھی لہجے میں بولا تھا جبکہ تحریم تڑپ کر شادل کو دیکھی،تو کیا وہ اسکی آنکھوں میں نفی ظاہر ہوتی نہیں دیکھ پایا تھا،
پیام جب سے خاموش صرف تحریم کے تاثرات نوٹ کررہا تھا تبھی باسط چند قدم کا فاصلہ طے کر کے اسکے پاس آیا،
“اگر تجھے اتنا ہی دکھ ہے اپنی بہن کا تو ایسا کر اسے لے جا۔۔۔”
باسط کا بولنا تھا کہ وہ تحریم سے نظر ہٹا کر اسکی طرف دیکھا آنکھوں میں واضح حیرت تھی،
“پر ایک شرط میں۔۔۔؟”
اسکی سوالیہ نظروں پر باسط پھر بولا پر اب پیام کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے،
“کیا شرط۔۔۔؟”
پوچھنے کا انداز صاف یوں تھا جیسے وہ خود ہی جانتا ہو مقابل کے ذہن میں چلتی بات،
“تُو شانزے کو طلاق دیدے۔۔۔۔”
باسط کی آواز پر فرزانہ بیگم سمیت شادل اور تحریم بھی جھٹکا کھا کر رہ گئے،شادل کو تو زیادہ حیرت اس لیے نہیں ہوئی کہ شانزے اسے پہلے ہی باسط کے بارے میں باخبر کرچکی تھی،پر فرزانہ بیگم کو اپنے بیٹے کی چھوٹی سوچ پر بےتحاشہ افسوس ہوا،وہ اپنے فائدے کے لیے ایک بےگناہ لڑکی کی زندگی برباد کرنا چاہ رہا تھا،پیام اب تک بےتاثر چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا،اسکا شک یقین میں بدلا تھا باسط کی آفر پر،
“دیکھ بھائی میری بات سُن شانزے کو تو تُو ویسے بھی پسند نہیں کرتا تو کیا حرج ہے اگر۔۔۔۔”
“اپنی بےلگام ہوتی زبان پر قابو رکھ ورنہ بہت پچھتائے گا۔۔۔اور ایک بات تُو کان کھول کر سُن لے۔۔۔شانزے کو تو اب میں کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔وہ صرف پیام مرتضیٰ کی ہے۔۔۔۔”
اسکے لہجے میں شانزے کے لیے الگ ہی جذبات واضح ہوئے تھے کہ بےساختہ شادل چونکا،دوسری جانب باسط کی مسکراہٹ بھی غائب ہوئی تھی،اس پر ایک نفرت بھری نظر ڈالتا پیام تحریم کی طرف گیا تھا،
“تحریم ابھی گھر چلو۔۔۔”
وہ تحریم کا ہاتھ تھامے بولا تھا،
“نہیں پیام۔۔۔ابھی رہنے دو۔۔۔رات ہورہی ہے۔۔۔ہم کل صبح آئیں گے آنٹی۔۔۔”
پیام کو ٹوکتا شادل فرزانہ بیگم سے مخاطب ہوا جو باسط کی وجہ سے ان دونوں کے سامنے شرمندہ کھڑی تھیں پر شادل کے نرم لہجے پر اثبات میں سر ہلائیں تھیں،
اس بار پیام شادل کی بات مانتا تحریم کو گلے لگا کر باہر نکلا تھا پر جانے سے قبل ایک ناگوار نظر باسط پر ڈالنا نہیں بھولا جو خود اس ہی کو گھور رہا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر آکر مرتضیٰ صاحب کو شادل نے سبھی بات بتائی،رابیہ بیگم تو یہ بات ماننے سے انکاری تھیں کہ تحریم کسی بھی مڈل کلاس سے یوں شادی کرنے کے لیے رضامند ہوگی کیونکہ اتنا تو وہ اپنی بیٹی کو جانتیں تھیں کہ وہ بھلے ہی مغرور اور نزاکت پسند تھی پر آج تک اسکا کسی بھی لڑکے سے افئیر تک نہ چلا تھا شادی تو کرنا دور کی بات تھی،پھر بھی شادل اور مرتضیٰ صاحب کے یہ سمجھانے پر کہ وہ لوگ کل لازمی جائیں گے باسط کے گھر وہ تھوڑی خاموش ہوئی تھیں،ادھر پیام کو جب مرتضیٰ صاحب نے اپنے روم میں بلا کر شانزے سے کیے گئے رویے پر ڈانٹا تھا جس پر لب بھینچتا وہ اس وقت خاموش رہا تھا پر اوپر آکر اب شانزے کی کلاس لینے کا وہ ارادہ رکھتا تھا،
کمرے میں داخل ہوتا وہ دھاڑ کی آواز کے ساتھ دروازہ بند کیا تھا،شانزے روم میں لگی قد آور کھڑکی کی طرف منہ کیے دونوں بازو فولڈ کر کے کھڑی تھی،شاید وہ کسی گہری سوچ میں گم تھی جبھی پیام کے آنے کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا اس نے،اسکے پاس آتا پیام شانزے کا بازو دبوچے جھٹکے سے اسکا رخ اپنی جانب کیا تھا پر تبھی وہ ٹھٹھکا،شانزے کا سرخ چہرہ دیکھ اصل حیرت میں تو وہ تب گِھرا جب نظر شانزے کے دائیں گال پر بنے ہاتھوں کے نشان پر گئی،
“یہ۔۔۔کیسے۔۔؟”
اچھنبے سے ان نشانوں کو دیکھ پیام کے لب ہلے تھے،شانزے اسکی گرفت سے آزاد ہوتی پیچھے ہٹی اور بیڈ کی طرف جانے لگی پر اچانک اسکی کلائی پیام نے اپنے ہاتھ میں لی تھی،
“کچھ بتاؤ گی۔۔۔کس نے کیا ہے یہ۔۔۔؟”
باسط پر ہوئے غصے کی وجہ سے وہ چاہ کر بھی اپنا لہجہ نرم نہیں کر پارہا تھا جس پر شانزے اسکا ہاتھ جھٹک کر دو قدم پیچھے ہٹی،
“کسی نے کچھ نہیں کیا ہے۔۔۔”
بےرخی سے کہتی وہ بیڈ پر بیٹھی تھی،پیام ماتھے پر ہاتھ رکھے اسکے پاس آکر بیٹھا تھا،پھر پہلی بار اپنی عادت کے برخلاف جاکر وہ تحمل سے گویا ہوا،
“شانزے بات کیا ہے بتاؤ۔۔۔امی نے مارا ہے۔۔؟”
اسکے جھکے سر کو دیکھے وہ سنجیدگی سے استفسار کیا،
“انہیں کچھ نہیں کہو گے تم۔۔۔وہ پہلے ہی پریشان ہے تحریم کی وجہ سے۔۔۔”
بھیگے لہجے میں کہتے آنسو مسلسل اسکے گال پر پھسل رہے تھے،پیام کو اسکا یہ انداز بہت بھایا تھا پر اسے غصہ بھی بہت آیا اپنی ماں کی اس حرکت پر،وہ بات میں ان سے اس بارے میں بات کرنے کا سوچا تھا،ابھی اسکا دھیان سیدھا شانزے کے نرم گال پر پڑے نشان پر تھا،بےاختیار وہ آگے ہوتا اسکے بھیگے گال پر بنے ان نشانات پر اپنے لب رکھ گیا،شانزے جو اپنی بات کہے سر رخ موڑے بیٹھی تھی پیام کی اس جسارت پر وہ بدک کر پیچھے ہوئی،غصے میں وہ گھوری تھی پیام کو پر ساتھ ہی اسکا دل دھڑک کر رہ گیا،جس سے گھبرائے وہ نگاہ پھیرتی جلدی سے لیٹ گئی پھر سر تک کمفرٹر اوڑھ لی،
“بغیر کوئی چھچھوری حرکت کیے نیند ہی نہیں آتی ہے اسے۔۔۔”
کمفرٹر کے اندر سے آتی اسکی بات پر پیام آئبرو اچکاتا اٹھا تھا پھر دوسری سائیڈ پر آیا،بے خودی میں کی گئی اپنی اس حرکت پر پیام مرتضیٰ کے لب ناچاہتے ہوئے بھی مسکرائے تھے پر اس بار وہ طنزیہ مسکراہٹ نہیں بلکہ زندگی سے بھرپور مسکراہٹ تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات بھر وہ باہر سڑکوں پر بائیک چلاتے رہا تھا،دل بری طرح جلنے لگا تھا اسکا،جس مقصد سے اس نے تحریم سے زبردستی نکاح کیا تھا وہ تو اب یقیناً پورا نہیں ہونے والا تھا،وہ تو چاہ رہا تھا کہ بہن کی محبت میں پیام ضرور شانزے کو طلاق دیدے گا پر رات اسکے لہجے میں چھلکتا یقین محسوس کیے باسط کو اپنے کیے پر پچھتاوا ہوا،کاش کہ وہ تحریم سے نکاح نہ کرتا کیونکہ وہ بگڑی ہوئی لڑکی اسے زرا پسند نہیں تھی،
صبح وہ گھر لوٹا تو تحریم کو سینے پر بازو باندھے بیڈ پر خاموش بیٹھا دیکھ اگنور کرتا اپنے کپڑے وارڈروب سے لیا اور واشروم میں داخل ہوا،کچھ دیر بعد وہ نہاکر نکلا تھا،تحریم نے ایک نظر اسکی طرف ڈالی،وہ بنا شرٹ کے ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑا تھا،اسکی کشادہ پشت اور کسرتی جسم دیکھ ایک پل کو تحریم کی پلکیں لرزی تھیں پھر خود کو بےنیاز بناتی وہ روم سے جلدی سے نکلی تھی،اسکی یہ حرکت باسط نے بخوبی نوٹ کی پر ناگواری سے اگنور کرے وہ تیار ہونے لگا تھا،
“ارے بیٹا آپ اٹھ چکی ہو۔۔۔آؤ ناشتہ کرلو۔۔۔”
فرزانہ بیگم جو باہر رکھے چھوٹی سی ڈائینگ ٹیبل پر ناشتہ رکھ رہی تھیں تحریم کو دیکھ اپنائیت سے بولیں،
انکے کہنے کی دیر تھی کہ تحریم نے ایک نظر ناشتے کو دیکھا پھر آنکھیں گھوماتے گویا ہوئی،
“ایسا ناشتہ آپ ماں بیٹے کو ہی مبارک ہو۔۔۔مجھے جوس چاہیے۔۔۔ساتھ بریڈ جیم۔۔۔”
تنفر سے کہتی وہ ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھی،اسکا حکمیہ لہجہ فرزانہ بیگم کو ایک بار پھر گلٹ کا شکار کرگیا،پر جلد ہی خود پر قابو پاتی وہ مسکراکر واپس کچن میں گئیں پھر کچھ دیر بعد آئیں تو ہاتھ میں بریڈ تھی ساتھ ہی جوس،
“بیٹا جیک تو نہیں ہے۔۔۔آپ ایسا کرو یہ انڈے کے ساتھ کھالو میں آج باسط سے جیم منگوادوں گی۔۔۔ٹھیک۔۔۔”
انکے شائستہ انداز پر تحریم نے چہرہ بگاڑے ایک نظر بریڈ کو دیکھا پھر منہ بناتی جوس کے گھونٹ بھری ساتھ ہی چئیر سے اٹھی،
“ایک تو ناشتہ ڈھنگ کا نہیں اوپر سے جیم ہی نہیں ہے۔۔۔رہنے دیں۔۔۔یونہی رہ سکتی ہوں بھوکی۔۔۔جب اپنے اس بیٹے سے جیم منگوالیں تب بتادیجیے گا۔۔۔”
کل سے وہ بھوکی تھی تبھی ساری بھڑاس ان پر نکالتی مڑی تھی پر اسے اپنی شامت آتی نظر آئی پیچھے کھڑے خود کو خشمگیں نگاہ سے گھورتے باسط کو دیکھ،
“ناشتہ کرنا ہے تو کرو نہیں کرنا تو بھلے بھوکے رہو۔۔۔پر اب میں تمہیں امی سے بدتمیزی کرتا نہ دیکھوں۔۔۔ورنہ کل صرف تھپڑ پڑا تھا۔۔۔۔۔اگلی بار انجام بہت برا ہوگا۔۔۔”
اسے آنکھ دکھائے بولتا وہ ناشتے کے لیے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا،تبھی تحریم اسکی پشت کو گھورکر پیر پٹختی اندر کی جانب گئی،
دوپہر کو باسط لاؤنج میں بیٹھا جاب کا سوچ رہا تھا،مجبوری میں صحیح پر وہ شادی تو کر ہی چکا تھا اور پیام کے جواب پر اب تحریم کو اسے طلاق نہ دینے میں ہی اپنی بھلائی لگی تھی،کیونکہ اگر وہ اسے طلاق دیتا تو شانزے ویسے بھی اسکے پاس نہیں آنی تھی دوسرا اپنے ساتھ اس لڑکی کی زندگی ہی خراب ہونی تھی،انہیں سوچوں کے گرد گھومے اچانک ڈور بیل بجی تو وہ اٹھ کر گیٹ کھولنے گیا پر گیٹ کھولتے ہی جس کا چہرہ سامنے آیا باسط کو بےاختیار اپنا سر دکھتا محسوس ہوا،
“ہائے جیجے۔۔۔”
پیام بھرپور مسکراہٹ سمیت بول کر اسکے سائیڈ سے گزرتا اندر داخل ہوا،لاؤنج میں آنے پر اسے کچن سے فرزانہ بیگم نکلتی دکھیں تو بےساختہ اسے اپنی کل کی۔۔۔۔کی گئی بدتمیزی یاد آئی،
“آ۔۔۔سلام۔۔۔آنٹی۔۔۔”
عادت کے خلاف یوں طریقے سے بولنا اسے کچھ عجیب لگا پر کل راستے بھر میں شادل کی سمجھائی باتیں تھیں کہ وہ تھوڑا تمیزدار بننے کی کوشش کیا تھا انکے سامنے،
جس پر فرزانہ بیگم مسکراتی نرمی سے اسے جواب دی تھیں،
“بیٹھو بیٹا۔۔۔”
انکے بولنے پر پیام سامنے رکھے صوفے پر بیٹھا تبھی باسط بھی اسے گھورتا سامنے صوفے پر آ بیٹھا،تحریم مانوس آواز سنتی روم سے باہر نکلی تھی،
“بھائی۔۔۔”
وہ خوش ہوئی تھی پیام کو دیکھ پر اچانک اسکی مسکراہٹ سمٹی،اسے لگا تھا کہ پیام کے ساتھ رابیہ بیگم اور مرتضیٰ صاحب بھی آئیں گے،پر وہ اکیلا تھا،
“امی ابو شام میں آئیں گے۔۔۔۔قپنے داماد سے ملنے۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں سوال دیکھ پیام بولتا ایک طنزیہ مسکراہٹ باسط پر اچھالا تھا،جس پر وہ لب بھینچ گیا،تحریم تو کھل ہی گئی تھی یہ بات سن کر جبکہ فرزانہ بیگم کچن کا رخ کرگئیں پیام کے لیے کچھ لانے کے لیے،
“اور بتاؤ۔۔۔جیجے۔۔۔کیسے ہو۔۔۔”
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ایک ہاتھ صوفے کی پشت پر رکھے وہ لاپرواہی سے گویا ہوا،
“یہ بات کل بھی تمہیں سمجائی تھی میں نے کہ تمیز سے بات کیا کرو اب میرے سامنے۔۔۔آخر کو اب سالے جو بن گئے ہو میرے۔۔۔”
ایک تمسخر اڑاتی نظر تحریم پر ڈالتا وہ اشارہ کیا تھا پیام کو،صاف واضح تھا کہ وہ اسکی دکھتی رگ پر پیر رکھے تپانا چاہ رہا تھا اسے،
“بیٹا یہ جو میں ابھی کہہ رہا ہوں وہ تمیز ہی ہے۔۔۔کل رات تو تُو نے پیام مرتضیٰ کی بدتمیزی کی صرف ایک جھلک ہی دیکھی ہے۔۔۔”
اپنی بات سے وہ باسط کو کل کے مارے گئے پنچ کا یاد دلایا تھا،انداز بلکل لاپرواہ تھا اور باسط کو اصل یہی بات کھلی،وہ کل کی طرح تپ کیوں نہیں رہا تھا اسکی باتوں سے،تحریم کو اب اپنا کھڑا رہنا وہاں پر بے جواز لگا تبھی وہ واپس روم میں چلی گئی،
“ویسے تیری بہن ہے بڑی بےوقوف۔۔۔۔زرا سا دھمکانے پر فوراً ہامی بھر لی تھی نکاح کے لیے۔۔۔۔”
اب کی بار وہ سیدھا ہوتا اس پر یہ بات واضح کرگیا تھا کہ واقعی یہ نکاح زبردستی کا تھا،مقصد صاف تھا مقابل کو غصہ دلانا،جو اسے کامیاب ہوتا نظر آیا کیونکہ پیام کے لب سے مسکراہٹ غائب ہوئی،ابھی باسط اپنی جیت پر سرشار سا ہوتا مسکرایا ہی تھا کہ پیام کا فون رنگ کرنے لگا،
“ہیلو۔۔۔”
فون کان سے لگائے وہ سنجیدگی سے بولا
“سنو۔۔۔میں آج گھر جارہی ہوں۔۔۔ابو سے اجازت لے چکی ہوں۔۔۔دو دن بعد واپس آجاؤں گی۔۔۔اسی لیے تمہیں بتارہی ہوں۔۔”
دوسری جانب شانزے تھی جسکا کوئی خاص موڈ تو نہیں تھا اسے بتانے کا پھر بھی اپنا فرض سمجھتی یونہی کال کر گئی،
“تم رکو۔۔۔میں دس منٹ میں آتا ہوں۔۔۔”
اچانک پیام کا لہجہ بدلا تھا وہ محبت بھرے لہجے میں بولا تھا،باسط تھوڑا حیران ہوا اسکے لہجے پر،
“کیوں۔۔۔تم کیوں آرہے ہو۔۔۔”
شانزے جو بیگ میں کپڑے رکھ رہی تھی،اچھنبے سے پوچھی،
“آہ۔۔۔میری جان۔۔۔ناراض تو نہ ہو۔۔۔۔کہا نا بس آرہا ہوں۔۔۔”
اب کی مرتبہ بھی وہی شیریں لہجہ شانزے نے ایک نظر اپنے فون کو چہرہ بگاڑے دیکھا،
“تم پاگل ہو کیا۔۔۔کچھ بھی بول رہے ہو۔۔۔”
واپس فون کان سے لگائے وہ حیرت زدہ سی بولی،ادھر باسط پہلو بدل کر رہ گیا اسے یوں بات کرتا دیکھ،یقیناً دوسری طرف اسے شانزے ہی لگی تھی،
“ہاں بابا۔۔۔ابھی آیا میں۔۔۔”
ایک بار پھر وہ مسکاتے لہجے میں بولا ساتھ ہی صوفے سے اٹھا،شانزے کو اس کے دماغ پر شک سا گزرا تھا،
“کرتے رہو اپنے ہی آپ بات۔۔۔”
شانزے جھڑک کر کال کاٹ دی تھی،
“عجیب پاگل ہے۔۔۔آتا ہوں میری جان۔۔۔چھی۔۔بےشرم نہ ہو تو۔۔۔”
فون کو گھور کر بڑبڑاتی وہ پیکنگ کرنے لگی،
ادھر پیام اسکے غصے سے کال کاٹنے پر ہلکا سا ہنسا تھا،باسط بغور اسکے تاثرات دیکھ رہا تھا،
“ایک تو یہ لڑکی بھی نا۔۔۔گزارا ہی نہیں ہے ایک پل بھی میرے بنا اسکا۔۔۔اوکے۔۔۔جیجے۔۔۔پھر کبھی ملیں گے۔۔۔میری وائفی مجھے یاد کر رہی ہے ابھی۔۔۔چلتا ہوں”
اس بار دل جلاتی مسکراہٹ سمیت پیام باسط کو بولا ساتھ ہی اسکے ضبط ہوئے چہرے کو دیکھ مزے سے مڑتا وہاں سے نکلا تھا،باہر جانے سے پہلے اسکا موڈ ہوا تھا باسط کو تپانے کا،اور اپنے کام میں اب کامیاب ہوتا وہ مسکراکر باہر آتے ہوئے کار میں بیٹھا،
“ارے پیام چلے گئے۔۔۔؟”
اسکے جانے کے کچھ ہی دیر بعد فرزانہ بیگم ریفریشمنٹ کی ٹرے سجائے کچن سے نکلیں تھی پر پیام کو وہاں نہ پاکر حیرت سے باسط کو مخاطب کیں تو وہ دانت پر دانت جمائے سرخ آنکھوں سمیت اثبات میں سر ہلائے باہر کی جانب مضبوط قدم بڑھایا تھا،اسے بےساختہ احساس ہوا کہ یہ نکاح کر کے وہ خود ہی غلطی کر بیٹھا ہے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
