Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 31)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 31)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
خولہ کے گھر سے آتے ہوئے شادل اپنا موبائل اسے پکڑایا تھا،ایک ارجنٹ کال آنی تھی آفس کے حوالے سے اسکے نمبر پر،اس نے پیام کو بات کرنے کا کہا تھا،شانزے سے بحث ہونے کے بعد وہ جب گھر سے نکلا تبھی کچھ دیر پر اس ڈیلر کی کال آئی،پیام بات کرکے شادل کا فون ابھی جیب میں ہی رکھ رہا تھا کہ پھر فون بجنے لگا،سکرین پر جگمگاتے نام کو دیکھ کر اسکے لبوں پر تمسخر پھیلا تھا،
یقیناً اب اس کے پاس پیسوں نہیں ہوں گے تبھی وہ شادل کو یاد کی ہوگی،اس رات شادل کو ایک لیٹر پڑھتے دیکھ پیام حیران ہوا تھا اسکے ایکسپریشن پر،شادل کے جانے کے بعد وہ اسکے روم میں آیا تھا اور سائیڈ ٹیبل پر سے جب اینولپ نکال کر کھولا تو اس میں خولہ نے اپنا پورا پلین شادل کو بتاکر اسے ڈیوارس پیپرز پر سائن کا کہا تھا،یہ دیکھ پیام کا شدت سے خون کھول گیا اس لڑکی پر اور وہ سوچ چکا تھا کہ اتنی آسانی سے نہیں جانے دے گا اسے،تبھی ان دو دنوں میں جب خولہ تیاری کررہی تھی لندن جانے کی تب تب اسکے جس سے کانٹیکٹ ہوئے پیام نے ان سب کا پتا لگایا تھا،زیادہ تر بات وہ ایک فضل نامی آدمی سے کی تھی،پیام نے وہ نمبر لے کر ٹریس کروایا،پھر فضل سے مل کر اسے خولہ سے دوگنی دام دے کر آفر کی تھی خولہ کا سامان لے کر بھاگنے کی،تھوڑے سے بھاؤ تول میں ہی فضل مان گیا،اور اب سب کچھ اپنے پلین کے مطابق ہونے پر اس نے مطمئن ہوکر کال ریسیو کی،
“جی بھابھی جی۔۔۔”
لب دبائے مزے سے بولتا وہ جیسے انجوائے کررہا تھا خولہ کی ایکٹنگ،
ادھر خولہ چند منٹ بعد پہچانی تھی مقابل کی آواز کو،
“پیام مرتضیٰ۔۔!”
گھبراکر کہتی وہ تصدیق چاہ رہی تھی،
“اوہ بھابھی جی۔۔۔میں جانتا تھا آپ ضرور پہچان لیں گی اپنے پیارے دیور کو۔۔۔۔”
ہنس کر بولتے ہوئے وہ ٹہلنے لگا،خولہ کا دماغ ماؤف ہونے لگا،کیا وہ شاک نہیں تھا اسکے زندہ رہنے کا سن کر،وہ اتنے نارملی کیسے بات کرسکتا تھا اس سے،کہیں شادل نے سب بتا تو نہیں دیا تھا،
“شادل کو دو فون۔۔۔”
اپنے ڈر پر قابو پاتی وہ غصے میں بولی،
“کیوں۔۔۔”
“مجھے کام ہے اس سے۔۔۔”
پیام کے سوال پر وہ جلدی سے بولی،
“ہیں۔۔۔روحوں کو بھی کام ہوتا ہے کیا بھلا۔۔۔”
وہ بھرپور ایکٹنگ کیا تھا حیران ہونے کی،ادھر اس کی بات سمجھتی خولہ لب بھینچی،
“جب جان ہی چکے ہو کہ میں زندہ ہوں۔۔۔تو فون کیوں نہیں دیتے شادل کو۔۔۔”
ضبط سے بولتی وہ فون پر اپنی گرفت سخت کی تھی،
“شادل بھائی سے بات بعد میں کیجیے گا۔۔۔پہلے مجھے زرا بتائیں۔۔۔کیسے گزررہے ہیں آپ کے لندن میں دن۔۔۔وہ بھی بنا پیسوں کے۔۔۔”
پیام مرتضیٰ کی اس بات پر خولہ چونک کر رہ گئی،اسے کیسے معلوم تھا کہ خولہ کے پاس پیسے نہیں۔۔۔،اور بےساختہ خولہ کو فضل کا اچانک غائب ہونا یاد آیا،
لمحوں میں وہ پورا معاملہ سمجھی تھی،
“ایک منٹ۔۔۔مطلب۔۔فضل کو تم نے۔۔۔”
“آہاں۔۔۔بلکل بھابھی جی۔۔۔آپ کا دیور ہر کام میں پنکچول ہے۔۔۔دیکھیں یہ کام بھی کتنا اچھا کیا نا میں۔۔۔”
اپنی بات کی تصدیق پر خولہ کو جی بھر کر نفرت ہوئی پیام سے،وہ کیا انسان تھا،یا انسان تھا بھی کہ نہیں،کیسے اسے بےبس کرچکا تھا وہ،
“پیام مرتضیٰ۔۔۔!۔۔۔تم مرو۔۔۔تم برباد ہو جاؤ۔۔۔نفرت ہے مجھے تم سے۔۔۔”
ہذیانی انداز میں حلق کے بل چلاتی وہ اپنی بھڑاس نکالی تھی اس پر،یہاں پیام نے فون کان سے ہٹا کر کان سہلائے،
“کتنا چیختی ہو۔۔۔اور ویسے بھی برباد ہونے کی بددعا مجھے تب دینا۔۔۔جب تم خود تو آباد ہوجاؤ۔۔۔بائے۔۔”
اپنی بات مکمل کرتا وہ کال کاٹ کر اس نمبر کو بلاک کیا تھا،دوسری جانب خولہ غصہ بڑھنے پر زور سے پٹخی تھی اپنا موبائل زمین پر لیکن اگلے ہی لمحے وہ شاک ہوئی،انجانے میں اپنا ہی نقصان کردیا تھا اس نے،زمین پر گر کر ٹوٹے اپنے موبائل کو اٹھاتی وہ سر پکڑ گئی،پیسے بھی نہیں تھے کہ دوسرا موبائل لیتی،یا اسے ہی ٹھیک کرواتی،آج پیام مرتضیٰ کے باعث وہ بری طرح سے بےبس ہوتی پھنسی تھی یہاں پر،اپنی بےبسی پر اسے جی بھر کر رونا آیا،کھلے بالوں پر ہاتھ پھیرکر اس نے مردہ قدموں سے ہوٹل کا رخ کیا،جہاں آج اسکا آخری دن تھا سٹے کا،اب نجانے کہاں جاتی وہ،اپنا ہم سفر کھونے کے چکر میں وہ منزل بھی کھوچکی تھی،شدت سے اسے اس وقت شادل مرتضیٰ یاد آیا جو اسکی باتیں سننے کے باوجود ہمیشہ اسکا خیال رکھتا،کاش کہ وہ اسے نہ چھوڑتی تو آج یوں بےسہارا نہ ہوتی،ایک پل میں ہی خولہ کو احساس ہوا تھا کہ وہ سب کچھ گنوا چکی ہے،پر اب پچھتانے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانی اسکے گھٹنوں تک آچکا تھا تبھی شادل مرتضٰی کے قدم رکے،آنکھوں میں یکدم ازکیٰ کا معصوم ننھا سا چہرہ لہرایا،اور وہ فوراً اپنے قدم پیچھے لیا تھا،آخر کیسے کرسکتا تھا وہ یہ،نہیں۔۔۔،کبھی نہیں،وہ اپنی بیٹی کو چھوڑ کر نہیں جاسکتا تھا،پہلے ہی اس معصوم کو اسکی ماں نے چھوڑ دیا تھا،اور اب وہ،نہیں شادل مرتضیٰ اگر یہ کرتا تو خولہ کا دیا گیا ٹیگ کہ وہ ایک خود غرض انسان ہے یہ سچ ہوجاتا،ہاں پھر شادل مرتضیٰ خود غرض کہلاتا،پر نہیں وہ یہ نہیں کرے گا۔۔۔شادل مرتضیٰ خود غرض نہیں تھا،اگر قسمت اسے کئی غم دے رہی تھی تو ساتھ ہی اتنی بڑی خوشی بھی تو ملی تھی اسے،اسکی بیٹی،وہ کسی رحمت سے کم تو نہ تھی،وہ بچی رحمت ہی تو تھی،اور وہ کیسے ٹھکرا سکتا تھا خدا کی دی گئی رحمت کو،تیزی سے قدم پیچھے لیتا شادل کار کی طرف گیا تھا،آنسو پوچھ کر وہ کار میں بیٹھا،وہ نہیں مرسکتا تھا۔۔۔،اسے جینا تھا ابھی۔۔،اپنی بیٹی کے لیے اسے بہت جینا تھا،اب تک وہ صرف خود کو دی گئی تکالیف دیکھ رہا تھا پر اب ازکیٰ کا سوچا تو بےساختہ وہ ساری تکالیف اسے چھوٹی سی لگیں اس رحمت کے آگے،شادل مرتضیٰ کو وہ رحمت چاہیے تھی،اور اسی رحمت کی وجہ سے آج وہ اتنے بڑے گناہ سے بچا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرتضیٰ ہاؤس پہنچ کر وہ کار سے نکلتا تیزی میں اندر داخل ہوا،روم میں آتے جب اسکی نظر بیڈ پر سوتی الشبہ کی گود میں ازکیٰ پر پڑی وہ بےساختہ گھبرایا،نیند کے باعث الشبہ کی گرفت ازکیٰ پر بلکل ڈھیلی تھی،جس کی وجہ سے ازکیٰ سرک کر سائیڈ پر ہوئی تھی،ابھی وہ نیچے گرتی کہ شادل بھاگتے ہوئے اسے تھاما،اگر کو وہ نہ تھامتا تو ازکیٰ گر ہی جاتی نیچے،شادل نے اسے بھینچا تھا خود میں جس پر کسمساکر وہ رونے لگی،اسے چپ کراتا شادل ٹہلنے لگا روم میں،تھوڑی دیر بعد ازکی کے سونے پر وہ روم میں سائیڈ پر رکھے کوٹ میں لیٹایا تھا اسے،پھر مڑ کر الشبہ کو گھورتا اسکے پاس آیا،سوتی ہوئی الشبہ کا بازو پکڑتے وہ جھٹکے سے بیٹھایا تھا اسے کہ الشبہ ہڑبڑا کر رہ گئی،خمار زدہ آنکھیں وا کیے اس نے چند پل سوچنے میں لگائے کہ یہ اچانک کیا ہوا ہے،
“اٹھو فوراً۔۔۔”
شادل کی بھاری آواز پر وہ چونکتی سر اٹھا کر اپنے بلکل سامنے اسے ناسمجھی سے دیکھی،
“میں نے کہا اٹھو فوراً۔۔۔”
اب کی بار شادل لفظوں پر زور دیتا بولا کہ الشبہ نیند کے خمار میں جلدی سے اثبات میں سر ہلاتی بیڈ سے اتری ساتھ ہی اپنا دوپٹہ سیٹ کی،
“جی۔۔”
اسکا لہجہ اب تک مخمور تھا،اونگھ کی وجہ سے آنکھیں بمشکل کھولے وہ کھڑی تھی،
“نکلو میرے روم سے۔۔۔”
چار الفاظ کہے تھے شادل نے اور الشبہ کی نیند بھک سے اڑی،اچانک جھٹکا کھاتی وہ حیرت سے شادل سے دیکھی،
“جی۔۔؟”
اسے لگا جیسے غلط سن کیا ہو کچھ تبھی شادل اسکا بازو پکڑتا روم سے باہر لے جانے لگا،
“شادل رکیں۔۔۔کیا کررہے ہیں آپ۔۔۔”
اسکی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑواکر الشبہ دو قدم پیچھے ہٹتی حیران ہوکر پوچھنے لگی،
“میری بیٹی کو گرانے لگی تھی۔۔۔کتنی بار منع کیا تھا میں نے تمہیں۔۔۔کہ ازکیٰ سے دور رہو۔۔۔لیکن نہیں۔۔۔ایک بات بتاؤ۔۔۔جب سنبھال نہیں سکتی تو لیتی کیوں ہو اسے۔۔۔اپنے جیسا بنانے کے لیے۔۔۔”
شادل کے الفاظ کسی خنجر کی طرح پیوست ہوئے تھے اسکے سینے میں،پانی سے بھری آنکھوں کو پلکوں کی جھالروں سے چھپائے وہ نگاہیں جھکا کر اسکی باتیں سن رہی تھی،آخری الفاظ پر اذیت سے الشبہ نے آنکھیں میچی جس پر آنسو پھسلے تھے سرخ عارض پر،
“الشبہ فوراً نکلو روم سے۔۔۔۔نہیں تو مجھ سے انجانے میں کچھ غلط ہو جائے گا بہت۔۔۔”
ضبط سے کہتا وہ الشبہ کو بول کر باہر کی طرف اشارہ کیا تھا،
“شا۔۔۔شادل۔۔۔س۔۔۔سوری۔۔۔”
لب کچل کر آنسوؤں پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتی الشبہ بھیگے لہجے میں بولی تھی،
“سوری کہنے سے کبھی کسی کے نقصان کی بھرپائی ہوئی ہے کیا۔۔۔۔اور یہ ڈرامہ پلیز گیسٹ روم میں جاکر کرو۔۔۔فلحال نکلو یہاں سے۔۔۔”
الشبہ کے آنسوؤں پر چوٹ کرتا وہ چڑ کر بولا،
“سوری۔۔۔شش۔۔”
اسکے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے جب شادل الشبہ کا بازو پکڑتے اسے نکالا تھا روم سے،وہ جو نفی میں سر ہلاتے آگے بڑھ رہی تھی شادل کے منہ پر دروازہ بند کرنے پر گھبراکر اپنے قدم پیچھے کی تھی،منہ پر ہاتھ رکھ کر روتے ہوئے وہ پلٹ کر ایک نظر مڑتے ہوئے ہر طرف دیکھی تھی،وہاں کوئی نہیں تھا،رونے سے اسکی ہچکیاں بندھی،ہتک کے احساس سے چہرہ جھکائے وہ چھوٹے قدم اٹھاتی گیسٹ روم کی طرف گئی تھی،وہاں جاکر وہ بیڈ پر بیٹھتے ہی گھٹنوں پر سر رکھے رونے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے دوسرے پہر گھر میں داخل ہوتا وہ سیدھا سیڑھیاں عبور کرتے ہوئے اپنے روم میں گیا،اندر آتے ہی اسکی نظر بیڈ پر گئی مگر وہ وہاں پر نہیں تھی،پیام نے نظریں دوڑائیں،صوفے پر وہ دنیا جہاں سے بےخبر کروٹ لیے سورہی تھی،گیٹ بند کرکے وہ آہستہ قدم اٹھاتا شانزے کے پاس آیا،شاید اس سے ناراضگی کے اظہار پر وہ صوفے پہ سوئی تھی،نفی میں سر ہلاتا وہ شانزے کے نازک وجود کو اپنی باہوں میں اٹھایا تھا،پھر آہستگی سے اسے بیڈ پر لیٹاتا پیام اس ہی کے برابر میں بیٹھا،کچھ سوچ کر وہ شانزے کی کلائی پکڑ کر دیکھا جو اب تک لال ہورہی تھی،بےساختہ پیام کو افسوس ہوا،اسکی کلائی کو اپنے قریب کرتا وہ نرمی سے لب رکھا تھا اس پر پھر شانزے پہ جھکتا پیام مکمل اسے اپنی گرفت میں لیا تھا،
“کیوں کرتی ہو اس طرح وائفی۔۔۔پیام مرتضیٰ ہرٹ ہوتا ہے تمہیں ہرٹ کر کے۔۔۔”
آزردگی سے کہتا وہ آنکھیں موند گیا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نکال تو چکا تھا الشبہ کو روم سے پر آدھی رات تک نیند کوسوں دور رہی اسکی آنکھوں سے،بےچینی سے کروٹیں بدلتا آخر تنگ آکر تقریباً چار بجے شادل اٹھ کر بیٹھ گیا،لب بھینچ کر بیڈ سے اٹھتا وہ ازکیٰ کے پاس گیا پھر ایک نظر اسے سوتا دیکھ شادل کے قدم گیٹ کی طرف ہوئے،اپنے روم سے نکلتا وہ گیسٹ روم کا رخ کیا تھا،گیٹ بند تھا،آنکھیں بند کیے وہ گہری سانس بھرتے آہستگی سے گیٹ کھولا،
بیڈ پر بیٹھنے کے انداز میں لیٹی وہ شاید سوچکی تھی،اسے دیکھ کر شادل واپس اپنے روم میں جانا چاہتا تھا پر ناچاہتے ہوئے بھی قدم اسکی طرف اٹھے،خوبصورت سرخ چہرہ،بھیگے گال،یقیناً وہ روتے روتے ابھی سوئی تھی،کچھ سوچتا شادل جھکا تھا تھوڑا سا پھر ہلکے ہاتھ سے الشبہ کا بازو ہلائے وہ پکارا تھا اسے،
“الشبہ۔۔!”
وہ جو کافی دیر تک رونے کے بعد اب جاکر سوئی تھی قریب سے آتی بھاری آواز پر ہدس کر اٹھی،اپنے بلکل نزدیک مقابل کا چہرہ دیکھ وہ سہم کر چیخنے لگی پر عین وقت پر شادل اسکے لبوں پر اپنا بھاری ہاتھ رکھا تھا،بری طرح گھبراکر وہ آنکھیں پھیلائے شادل مرتضیٰ کو دیکھی تھی اور جب سے خود پر برف کا خول چڑھائے رکھا شادل مرتضیٰ ان خوبصورت آنکھوں کے لال ڈوروں کو دیکھتا رہ گیا،کس قدر جچ رہے تھے ان آنکھوں پر وہ ڈورے،جبکہ مقابل نازک جان الشبہ کانپ کر رہ گئی اسکی بدلتی نظروں سے،
“مم۔۔۔”
اسکا بھاری ہاتھ منہ پر ہونے کے باعث وہ منمنائی،تبھی چونک کر ہاتھ ہٹاتا شادل پیچھے ہوا،الشبہ نے جلدی سے دوپٹہ شانوں پر سیٹ کیا تھا،
“آ۔۔۔روم میں۔۔چلو۔۔”
جھجھک کر کہتا وہ ایک نظر پھر اس پر ڈالا تھا،الشبہ کے دل میں ٹیس اٹھی،رات کے آخری پہر وہ یقیناً اسی لیے آیا تھا اسے لینے تاکہ صبح کوئی الشبہ کو گیسٹ روم میں دیکھ سوال نہ اٹھائے،
“نہیں جانا مجھے۔۔۔”
شادل چونکا الشبہ کے صاف انکار پر،
“کیوں۔۔۔”
سنجیدگی سے سوال کیا،
“میں۔۔۔یہی ٹھیک ہوں۔۔۔”
ہلکی آواز میں کہتی وہ رخ موڑ گئی،
“الشبہ اٹھو۔۔۔چلو فوراً۔۔۔”
تحمل سے کہتے اس نے الشبہ کا بازو پکڑا،
“مجھے نہیں جانا۔۔۔”
اسکا ہاتھ جھٹکتی وہ بولی،اب کی بات لہجہ ازلی ضدی لیے تھا،شادل لب بھینچ کر رہ گیا،
“تو تم نہیں اٹھو گی۔۔؟”
وہ جیسے آخری بار پوچھا تھا،الشبہ خاموش رہی،
“ٹھیک ہے پھر۔۔۔”
کہتے ساتھ ہی شادل جھک کر اسکے وجود کو بھرا تھا بازوؤں میں،الشبہ بوکھلائی اسکی حرکت پر،
“شادل چھوڑیں۔۔۔”
اسکے بازوؤں پر پریشان ہوتی وہ بولی جبکہ شادل اسے اگنور کرتا روم سے نکلا،الشبہ سرخ ہوئی تھی اسکی گرفت مضبوط ہونے پر،
“میں نے کہا نا کہ نہیں جانا مجھے۔۔”
شادل کے سینے پر ہاتھ رکھے وہ اب تیز آواز میں بولی تھی جس پر اپنے روم میں اسے لیے داخل ہوتا شادل ایک نظر دیکھا تھا اسے،لال بھبھوکا چہرہ وہ نظریں جھکائے روہانسی ہوئی تھی،شادل کے بھنچے لبوں پر مسکراہٹ اپنی چھب دکھلا کر غائب ہوئی،
الشبہ کو نرمی سے بیڈ پر بیٹھاتا وہ روم کا گیٹ بند کرنے گیا،غصے میں بیڈ سے اٹھ کر وہ سائیڈ پر جا کھڑی ہوئی،پلٹ کر بیڈ کی طرف آتا شادل آبرو بھنچا اسکے اٹھنے پر،
“الشبہ۔۔۔بیڈ پر آؤ۔۔۔”
بیڈ پہ لیٹ کر کمفرٹر اوڑھتا وہ اسے بولا تھا،
“مجھے جانا ہے یہاں سے۔۔۔میں گیسٹ روم میں سوؤگی۔۔۔”
دیوار سے ٹیک لگائے وہ منہ بناکر بولی تھی،شادل کی باتیں اسکا دل دکھائی تھیں،الشبہ کی یہ بات سن کر شادل غصے میں اٹھا تھا بیڈ سے اور الشبہ کے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی ایک بار پھر اسے باہوں میں اٹھاتا بیڈ پر لایا ساتھ ہی اسے لیٹاتا خود بھی الشبہ کے ساتھ لیٹ گیا،اچانک ہوئی کاروائی کر گھبراکر الشبہ اٹھنے لگی بیڈ سے پر اس سے پہلے ہی شادل اسکے گرد بازو حائل کرگیا،
“یہ۔۔یہ کیا کر۔۔رہے۔۔ہیں۔۔۔”
اسکا دل بری طرح دھڑکنے لگا تھا،تبھی شادل کی سخت آواز کانوں پر پڑی،
“چپ چاپ سوجاؤ۔۔۔نہیں تو کرنے کو بہت کچھ ہے ابھی۔۔۔”
شادل کی بات کا مکمل ہونا تھا کہ مزاحمت کرتی الشبہ اچانک رکی تھی،ڈرتے ہوئے آنکھیں میچ کر وہ سونے کی کوشش کرنے لگی،پر نیند کہاں آنی تھی مقابل کے بازوؤں میں اسے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
