Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 11)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 11)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
صبح مندی مندی آنکھیں کھلنے پر اس کو خود کے گرد ایک مضبوط حصار محسوس ہوا،نظر اٹھائی تو وہ بلکل اسکے برابر میں شانزے کے گرد اپنا بازو حائل کیے بےخبر سورہا تھا،یہ دیکھ شانزے کو شدید حیرت ہوئی کہ خود اسکا سر اور بایاں ہاتھ پیام کے سینے پر تھا،یکدم گھبراکر وہ اٹھنے لگی،پر پیام کا ہاتھ اسے کسی لوہے کے مانند لگا جو مضبوطی سے اسکے گرد حائل تھا غصے میں وہ خود کو چھڑانے کے چکر میں اسکے بازو پر دانت گڑادی اور بس۔۔۔۔،وہ جو دنیا جہاں سے غافل تھا،پٹ سے آنکھیں کھولتا چیخا تھا،اسکا بازو ہٹتے ہی شانزے بیڈ سے اتری تھی،پیام نے خمار بھری براؤن آنکھوں سے پہلے بازو کو دیکھا جہاں واضح دانت کے نشانات تھے پھر شانزے کو گھورا،
“پاگل لڑکی۔۔۔سٹھیا گئی ہو کیا۔۔۔۔”
اسکے درشتگی سے بولنے پر شانزے نے منہ بناکر وارڈروب کی طرف جاتے کہا،
“سوتے وقت بھی چھچھورے پن سے باز نہیں آؤ گے تو یہی کروں گی۔۔۔”
اپنی بات مکمل کرتی وہ کپڑے لیے واشروم میں گئی اور دھاڑ سے دروازہ بند کی تھی،جبکہ پیام بیڈ پر بیٹھا حیرت سے سوچنے لگا کہ اس نے کیا چھچھورپن کیا ابھی،
کچھ دیر بعد وہ نہاکر نکلی تو پیام اسے گھورتا بیڈ سے اٹھا تھا،شانزے کو ڈریسنگ مِرر کے سامنے تیار ہوتا دیکھ وہ قدم اُٹھاتا اسکے پیچھے آکر کھڑا ہوا،اسے اپنے پیچھے دیکھ شانزے کی آبرو بھنچی پھر اگنور کرتی وہ ابھی لپسٹک ہی اٹھائی تھی کہ پیام نے اچانک پیچھے سے اپنا مضبوط ہاتھ اسکے منہ پر جمائے شانزے کے قریب چہرہ کرتا اسکی صراحی دار گردن پر اپنے دانت گڑاگیا،پیام کی اس حرکت پر شانزے کی شہد رنگ آنکھیں ابلنے کو ہوئیں،گردن پر شدت سے تکلیف اٹھی تھی،پر منہ پر اس کا بھاری ہاتھ ہونے کی بدولت وہ کراہ بھی نا سکی،غصے میں وہ منہ پر رکھا اسکا ہاتھ نوچنے لگی پر درد بڑھا تو سختی سے آنکھیں میچ گئی، تبھی آہستگی سے اسکی گردن پر سے دانت ہٹا کر وہ آئینے میں اسکا سرخ ہوتا چہرہ دیکھا تھا،عنابی لب مذاق اڑاتی مسکراہٹ میں ڈھلے تھے جیسے ہنسا ہو وہ اس پر کہ جس قدر پیام کے سامنے وہ مضبوط بنتی،اب اسی کی گرفت میں قید بلکل بےبس تھی،اسے مسلسل مزاحمت کرتا دیکھ پیام نے اپنے دونوں ہاتھ اچانک ہٹائے تھے اس پر سے پھر ایک قدم پیچھے ہوتا وہ لب دبائے شانزے کو دیکھنے لگا،گردن پر ہاتھ رکھے وہ شدتِ ضبط سے سرخ ہوئی آنکھوں سمیت اسے دیکھی تھی،
“یہ کیا جہالت ہے۔۔۔”
تڑخ کر بولتی وہ بےساختہ سسکی تھی،شہد رنگ آنکھیں لبالب نمکین پانی سے بھری،سرخ عارضوں پر تیزی سے پھسلتے آنسو دیکھ پیام کی مسکراہٹ غائب ہوئی،
“کیا ہوا۔۔۔میں تو صرف مذاق کررہا تھا۔۔۔تم نے بھی تو کاٹا تھا مجھے۔۔۔”
کندھے اچکاکر وہ یوں بولا جیسے کوئی بری بات ہی نہ ہو،
“یہ مذاق ہوتا ہے۔۔۔اوہ میں تو بھول ہی گئی تھی کہ تمہارے مذاق تمہاری طرح ہی ہوتے ہیں۔۔۔ایک دم گھٹیا۔۔۔”
بھیگے لہجے میں غصے سے کہہ کر وہ مڑی تھی گیٹ کی طرف تبھی پیام اسکا بازو جکڑتا جھٹکے سے شانزے کو اپنی طرف کھینچا،
“یہ جو آرام سے تم مجھے اس طرح کے القابات سے نوازتی ہو نا۔۔۔۔ان سب کا حساب ایک ہی دن میں لوں گا تو شرم سے اپنا یہ چہرہ آئینے میں دیکھ نہیں پاؤ گی تم۔۔۔۔اور ایسا بھی کیا کردیا میں نے جو اتنے آنسو نکل رہے ہیں تمہارے۔۔۔۔”
دھیمے لہجے میں جبڑے بھینچ کر وہ اپنی براؤن آنکھیں شانزے کی شہد رنگ آنکھوں میں گاڑے بولا تھا،ساتھ ہی اسکے نرم گال پر بہتے آنسو کو اپنے انگوٹھے سے بےدردی سے رگڑنے لگا،
“ہاتھ مت لگاؤ مجھے تم بےشرم انسان۔۔۔۔”
پیام کا ہاتھ اپنے گال پر سے جھٹک کر وہ بےخوفی سے بولی ساتھ ہی اسے دھکا دے کر خود سے دور کرنے لگی،پیام کچھ دیر خاموشی سے اسے یوں خود کے سینے پر غصے سے ہاتھ مارتے دیکھتا رہا،ناجانے اب کیوں اسے شانزے کی آنکھوں میں اپنے لیے کراہیت دیکھ چڑ ہونے لگی تھی،آہستگی سے اسے اپنی گرفت سے آزاد کیے وہ بنا کچھ اور کہے واشروم کا رخ کر گیا،
اسکے جانے کے بعد شانزے نے ایک نفرت بھری گھوری واشروم کے دروازے پر ڈالی پھر گالوں پر سے آنسو صاف کرتی اپنا حلیہ ٹھیک کیے روم سے نکلی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیز و سخت عجیب سی سمیل سے اسکا ذہن ماؤف ہوتا ذہن آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگا،سر میں بری طرح درد کی ٹیسیں اٹھیں تو تحریم نے ہاتھ اپنے ماتھے پر رکھا تھا،بمشکل اس نے آنکھیں کھولیں پر اچانک اسے کسی نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور وہ جو آرام سے اٹھ رہی تھی یکدم جھٹکے سے اٹھ بیٹھی،ابھی وہ کسی اور طرف اپنا دھیان دیتی کہ اسکے نازک ہاتھوں میں چبھن سی ہوئی،نظر نیچے کی تو ایک اور حیرت کا جھٹکا اسکا منتظر تھا،وہ سوکھی گھاس پر بیٹھی تھی جو تحریم کے ہاتھوں پر چپکنے کی وجہ سے اسے چبھن کا احساس دلا رہی تھیں،
“چھی۔۔۔۔یہ کہاں ہوں میں۔۔۔اور۔۔”
کراہیت سے بولتے ہوئے اچانک وہ رکی،اسے یاد آیا کہ وہ کالج سے نکلی تھی اور پھر اپنی کار پر بیٹھے داد بخش کو ڈانٹ رہی تھی،پر یکایک اسکے دماغ میں یہ بات بھی آئی کہ کار ڈرائیو کرتا وہ شخص داد بخش نہیں تھا،
“کیسی ہو جانِ من۔۔۔”
تحریم کو ہر طرف غائب دماغی سے دیکھتا وہ طنزیہ مسکراہٹ سمیت بولا ساتھ ہی تحریم چونکی تھی پر اسکے تاثرات بدلے مقابل کو دیکھ کر،
“تم۔۔۔”
لائٹ براؤن آنکھوں میں شدید حیرت ابھری تھی بقول تحریم کے اس سڑک چھاپ لڑکے کو دیکھ،
“ہاں میں۔۔۔کیسا لگا سرپرائز۔۔۔”
تمسخر اڑاتی نظروں سے اسے دیکھتا وہ ہاتھ پھیلائے یوں پوچھا جیسے داد لینا چاہتا ہو اپنے کارنامے پر،
“میں یہاں کیا کررہی ہوں۔۔۔”
وہ جیسے اب بھی بےیقین تھی اپنے اغواہ ہونے پر،دل میں امڈتے ڈر کی منافی کرتی وہ اب بھی اس سے پوچھ رہی تھی،
“اوہ جاناں اتنا بھی نہیں پتا کہ ایسی جگہوں پر کس لیے لایا جاتا ہے۔۔۔۔خیر تم سے بکواس کر کے اپنا ٹائم ویسٹ نہیں کرنا چاہتا۔۔۔اب میری بات سنو۔۔۔کچھ دیر میں مولوی صاحب آئیں گے تو انکے سامنے عزت کے ساتھ قبول ہے کہہ دینا اوکے۔۔۔”
جلدی سے سر جھٹکتے وہ اسے اپنی بات سنجیدگی سے سمجھانے لگا جبکہ تحریم کی آنکھیں پھٹی تھیں،یہ وہ کیا کہہ رہا تھا اسے،
“واٹ رابش۔۔۔تم ہوتے کون ہو یہ سب بولنے والے مجھے۔۔۔اور کیوں بولوں میں قبول ہے۔۔۔سب سے پہلے یہ بتاؤ مجھے کہ میں یہاں کیا کررہی ہوں۔۔۔مجھے ابھی کے ابھی گھر جانا ہے اپنے۔۔۔سنا تم نے۔۔۔”
اسکے وجیہہ چہرے کو سخت گھوری سے نوازتی وہ چیختے ہوئے بولی،باسط نے پہلے تو اسکی باتیں ضبط سے سنی پھر کہا،
“بات سنو میری تم۔۔۔اگر چاہتی ہو کہ عزت سے گھر جا سکو۔۔۔۔تو جو کہہ رہا ہوں وہ کرو۔۔۔نہیں تو وہاں غائب کرونگا تمہیں جہاں سے تمہاری فیملی ڈھونڈتی رہی جائے گی۔۔۔۔”
دانت کچکچاکر کہتا وہ اٹھ کر جانے کا ارادہ رکھتا تھا،
“تم ہو کون۔۔۔اوقات ہی کیا ہے تمہاری اور یہ دھمکی ان لڑکیوں کو دینا جو تم جیسے سڑک چھاپ سے ڈرتی ہوں۔۔۔۔میرے بھائی کو پتا چلا نا کہ تم نے کڈنیپ کیا ہے مجھے تو حشر بگاڑ کر رکھ دیں گے تمہارا۔۔۔۔”
ہمیشہ کی طرح اسکا لہجہ انتہائی تذہیک آمیز تھا،باسط نے لب بھینچ لیے،
“شرافت سے نکاح کے لیے قبول ہے کہہ دینا۔۔۔میں اور بکواس نہ سنوں اب تمہارے منہ سے۔۔۔”
پہلے ہی وہ بگڑی ہوئی لڑکی اسے بری لگتی اوپر سے اسکا مغرورانہ لہجہ وہ بمشکل برداشت کیا تھا،
“نکاح اور وہ بھی تم جیسے سڑک چھاپ سے۔۔۔نا صورت اچھی نہ حرکتیں۔۔۔۔اور خواب تو دیکھو انکے۔۔۔تحریم مرتضیٰ سے نکاح کرنے کے۔۔۔۔مجھے عزت کے ساتھ میرے گھر چھوڑ کر آؤ فوراً۔۔۔”
پھر نزاکت بھرا لہجہ پر حکمیہ انداز ایسا جسکی وجہ سے باسط اس بار خود پر کنٹرول نہ کرپایا،اور پینٹ کی پچھلی جیب سے چھوٹا سا چاقو نکالتا وہ پلٹا تھا،
تحریم جو اب تک تنے تاثرات سمیت اسکی پشت کو گھور رہی تھی باسط کے ہاتھ میں چاقو دیکھ اسکے چہرے پر بارہ بجے تھے،اسکے ایکسپریشن اگنور کرتا وہ قدم اٹھاتا قریب آکر ایک گھٹنے پر بیٹھا اور تحریم کا بازو پکڑتا اس پر اچانک کٹ لگایا،بےساختہ تحریم کے منہ سے چیخ برآمد ہوئی،ابھی وہ کچھ اور سمجھتی باسط نے اسکے دوسرے بازو پر بھی یونہی کٹ لگایا،اب کی بار تحریم تڑپ کر اس سے دور ہونے لگی،بازو پر سے خون تیزی میں نکلتا اسکے یونیفارم پر ٹپکنے لگا،
“نہیں۔۔۔نہیں پلیز۔۔چھ۔۔چھوڑو۔۔”
اسے ایک اور جگہ چاقو رکھتا دیکھ وہ جلدی سے کپکپاکر بولی،ساری نزاکت پل میں اڑن چُھو ہوئی تھی،اسکی جان نکلنے لگی درد سے،کبھی جو کسی سے ڈانٹ تک نہ کھائی اب یوں باسط کا ہاتھ پر بےدردی سے کٹ لگانا اسے تڑپا ہی تو گیا تھا،
یکدم اسے روتے ہوئے فریاد کرتا دیکھ باسط کا تیسری طرف کٹ لگاتا ہاتھ رکا تھا،سرخ رنگ آنکھیں اٹھائے وہ بغور اسکا چہرہ دیکھا تھا،پچھلے لمحے کی طرح اب اسکے سفید چہرے پر مغروریت نہیں بلکہ تکلیف کے آثار نمایاں ہوئے تھے،
“جاناں۔۔۔آئندہ یہ بکواس اور نزاکت میرے سامنے نہیں دکھانا۔۔۔ورنہ باسط زبیر اچھے سے جانتا ہے تم جیسوں کی اکڑ نکالنا۔۔۔”
تحریم کی تھوڑی دبوچتے ہوئے وہ غرایا تھا پھر اسکا چہرہ جھٹک کر کھڑا ہوا،
“اب تمیز سے قاضی صاحب کے سامنے قبول ہے کہنا ورنہ۔۔۔”
وہ جو اسکے کھڑے ہونے پر اب آنکھیں پھیلائے خوفزدہ نظروں سے باسط کو دیکھنے لگی تھی،اسکے یوں بات روک کر آنکھوں ہی آنکھوں میں دی گئی وارننگ پر سر جھکا گئی،
کچھ ہی لمحوں کے بعد نکاح کے پیپرز پر سائن کرتے اسکے دل و دماغ پر صرف ایک بات ہی نقش ہوئی تھی کہ اسکا نکاح ایک سڑک چھاپ سے ہوا ہے،اسے شدت سے پیام کی یاد آئی،پر ساتھ ہی دل میں اسکی ڈھارس تھی کہ یہاں سے چھٹتے ہی وہ گھر جاکر پیام کو سب بتائے گی اور پھر وہ باسط کے برے ہونے والے حشر کی منتظر ہوتی،
“چلو۔۔۔”
نکاح ہونے کے بعد وہ اسے روکھے لہجے میں بولا تھا،تحریم جو سوچوں میں گم تھی اسکی آواز پر چونکی تھی پھر ناگواری سے اسکے سانولے مگر پُرکشش چہرے کو دیکھا ساتھ ہی کھڑی ہوئی،
“آج ہی جاکر سب سے پہلے تم سے یہ بےبنیاد رشتہ توڑوں گی اسکے بعد پیام بھائی سے کہہ کر تمہارا حشر بگڑواؤں گی۔۔۔۔بس ایک بار مجھے گھر پہنچنے دو۔۔۔۔پھر تمہارے ساتھ وہ کرواؤنگی کہ اپنے پیروں پر چلنے کو ترسو گے۔۔۔۔”
اسکے سامنے آتی تحریم بےبسی بھرے غصے میں بولی تھی،آخر برداشت ہی کہاں ہورہی تھی یہ بات کہ وہ اس انسان سے منسوب ہوچکی تھی،جسکی شکل دیکھنا بھی اسے گوارا نہ تھی مگر اپنی بھڑاس نکالتی وہ یہ بات بھول گئی کہ انجانے میں خود ہی اپنے پیروں پر کلہاڑی مارگئی تھی وہ،اسکی بات پر باسط استہزیہ انداز میں ہنسا،
“مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے تمہاری دھمکیاں سن کر۔۔۔۔تو ٹھیک ہے پھر ایسا کرتے ہیں کہ آج ہی سسرال لے چلو اپنے۔۔۔۔”
اسکی بےبسی پر ہنستا وہ اپنی بات مکمل کرتے ہی تحریم کا بازو پکڑا تھا جس پر تحریم کے چہرے کی ہوائیاں اڑیں،
“ی۔۔۔یہ کیا۔۔کہہ رہے۔۔۔ہو تم۔۔۔مجھے۔۔۔کہیں نہیں جانا۔۔۔گھر جانا ہے۔۔۔”
اچانک بوکھلاتی وہ تیزی سے بولی پر اسکی باتیں ان سنی کرتا باسط زبردستی اسے کھینچتا باہر لایا پھر اپنے دوست سے لی ہوئی کار پر اسے پٹخنے کے انداز میں بٹھایا تھا،اسے زرا پرواہ نہیں تھی کہ وہ گھر جاکر پیام کو کیا بولتی کیا نہیں اصل وجہ تو تحریم کو اپنے گھر لے جانے کی یہی تھی کہ وہ کچھ دن اسے اپنے گھر میں رکھ کر اسکی اکڑ ختم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کو الشبہ گھر سے بہانہ کر کے نکلی تھی کہ دوست کے گھر پڑھائی کے لیے جانا ہے،جمیلہ بیگم اور اکبر صاحب اپنی بیٹی پر مکمل بھروسہ ہونے کے باعث بخوشی اسے پڑھنے جانے کے لیے کی اجازت دے دیے تھے،ابھی وہ قریبی پارک پر کھڑی عبید کا انتظار کر رہی تھی جو اسے ضد کر کے ملنے بلایا تھا پر اب پتا نہیں خود کہاں رہ گیا تھا،زیادہ وقت گزرنے پر الشبہ سیدھ میں پیدل چلنے لگی،تھوڑے اور دور آکر وہ بیگ سے موبائل نکال کر اسکا نمبر ڈائل کی تھی،
“ہیلو۔۔۔”
عبید کی مخمور آواز پر وہ چونکی،
“کیا ہوا عبید۔۔۔اب تک پہنچے نہیں تم۔۔۔میں کب سے ویٹ کررہی ہوں تمہارا۔۔۔”
آسمان پر چھاتے اندھیرے کو دیکھ وہ پریشانی سے گویا ہوئی،
“الشبہ۔۔۔یار میں بھول گیا تھا۔۔۔ایکچولی یار میں نا۔۔۔”
بولتے ہوئے وہ رکا تھا،الشبہ کو آنے کی اس نے ضد تو کی تھی پر اچانک پیام کے ساتھ بار کا پلین بننے پر وہ وہاں جاچکا تھا اور اب دو گلاس ڈرنک پینے کے بعد اسکی زبان تھوڑی لڑکھڑاہٹ کا شکار تھی،
“عبید کیا مسئلہ ہے۔۔۔آنا ہے تو بتاؤ۔۔۔میں کتنی دیر سے گھر سے نکلی ہوئی ہوں۔۔۔تمہیں زرا بھی پرواہ نہیں۔۔۔”
وہ جھنجھلانے لگی اتنی دیر سے چلتے اب اسکے پیر دکھنے لگے تھے،
“ابے یار۔۔۔تم چلی جاؤ گھر۔۔۔ہم کل ملیں گے اوکے۔۔۔”
پوری بات کہہ کر وہ کال کاٹ چکا تھا،الشبہ حیرت سے اپنے فون کو گھوری تھی،جس کے لیے وہ اپنے ماں باپ سے جھوٹ بولی تھی،اب وہ کس طرح لاپرواہ بنتا اسے منع کرگیا تھا،اپنی آنکھیں اسے گیلی ہوتی محسوس ہوئی،پوروں سے آنسو پوچھتی وہ مڑی ہی تھی کہ اچانک اسکے برابر میں ایک کار آکر رکی،شیشہ نیچے ہونے پر جسکا چہرہ اسے دکھا وہ بےساختہ گھبرائی تھی،
“الشبہ تم یہاں کیا کررہی ہو۔۔۔”
شادل حیرت بھری آواز میں پوچھا تھا،وہ آج جلدی آفس سے نکلا تھا،یہاں سے گزرتے اسے شک گزرا تھا کہ روڈ کے سائیڈ پر کھڑی وہ لڑکی الشبہ ہے اور اسکا شک اب اسے دیکھ یقین میں بدلا،
“وہ۔۔وہ شادل بھائی میں۔۔۔”
الشبہ گڑبڑائی تھی پھر کچھ بہانہ سمجھ نہ آیا تو ہکلاتے ہوئے سوچنے لگی،
“گھر جارہی ہو۔۔۔”
اسکے ہکلانے پر شادل خود ہی بولا،وہ جلدی سے اثبات میں سر ہلائی،
“ہا۔۔۔ہاں بھائی گھر ہی جارہی۔۔۔تھی۔۔۔”
لبوں پر زبان پھیرتی وہ گھبراہٹ پر قابو پاتی بولی،
“آؤ میں چھوڑ دوں۔۔۔”
مخصوص نرم لہجے میں کہتا وہ الشبہ کو اور بوکھلانے پر مجبور کر گیا،
“نہیں بھائی نہیں۔۔۔میں خود چلی جاؤں گی۔۔۔اور ویسے بھی گھر تو۔۔۔”
“الشبہ میں کہہ رہا ہوں کہ میں چھوڑ دوں گا۔۔۔آؤ بیٹھو۔۔۔”
اسکی بات آرام سے کاٹتا وہ ٹہرے ہوئے لہجے میں بولا تو ناچار الشبہ ہامی بھرلی دوسری طرف سے کار میں بیٹھی،اسکے بیٹھتے ہی شادل نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کار آگے بڑھائی،
“ویسے کہاں جارہی تھی۔۔۔”
الشبہ کو بلکل چپ دیکھ وہ خود ہی خاموشی توڑتا پوچھنے لگا،لہجہ ہنوز نرم اور دوستانہ تھا جیسے مقابل کی گھبراہٹ کم کرنے کی کوشش کررہا ہو،
“بھائی۔۔وہ۔۔میں پڑھائی۔۔ہاں میں دوست کے گھر جارہی تھی پڑھائی کرنے پر وہ انکے گھر آج مہمان آگئے تو میری دوست نے آنے سے منع کردیا۔۔۔”
شادل کے پھر پوچھنے پر وہ تھوڑی پریشان ہوئی پھر جلدی سے سوچ کر ایک ہی سانس میں بولی،
“لڑکی آرام سے۔۔۔”
وہ بےساختہ ہنسا تھا اسے یوں بولتا دیکھ کر،
“سوری۔۔۔”
سبکی محسوس ہوتے ہی الشبہ سر جھکائی تھی،تبھی گھر کے سامنے پہنچتے ہی شادل نے کار روکی،
“شکریہ بھائی۔۔۔”
اتر کر وہ ہلکی آواز میں بول کر پلٹی،
“آنٹی انکل کو سلام کہنا۔۔۔”
بھاری مگر نرم آواز میں وہ مسکراتا کہا،الشبہ نے مڑ کر اثبات میں سر ہلایا تو شادل کار ریورس کرتا وہاں سے چلاگیا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
