422.2K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aah-E-Muhabat (Episode 18)

Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz

آج شادل اور خولہ کے ولیمے کو دو ہفتے ہوچکے تھے،تحریم تو ولیمے کی رات باسط کے ایک مرتبہ پوچھنے پر ہی جانے کے لیے راضی ہوگئی تھی،آیا کہ وہ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی اسے چھوڑ کر نہ چلا جائے،سبھی اپنی زندگی میں مصروف تھے البتہ ایک شانزے ہی تھی جس کا چہرہ پچھلے کئی دنوں سے مرجھایا ہوا تھا،اسکے چہرے کو دیکھتے ہی کوئی بھی اندر کی اداسی کا بتاسکتا تھا،جس انسان سے وہ اتنا چڑتی کیا خبر تھی کہ جب وہ جدا ہوگا تو ایسا حال ہوجائے گا،پیام کے جانے کے بعد رابیہ بیگم نے اسے کچن سمیت تقریباً باقی اور کاموں کا حکم صادر کردیا تھا جس پر شانزے کو ویسے بھی کوئی اعتراض نہیں تھا،وہ یاد نہ آئے اسی بہانے وہ پورا دن خود کو مصروف رکھتی پر پھر بھی جب کام سے فارغ ہوکر کمرے میں داخل ہوتی ایک عجیب سا خالی پن لگتا،جیسے کمرے کی ہر شے بھی اپنے مالک کے بنا مرجھائی سی معلوم ہوتی اب یہ اسکے اندر کی گھٹن تھی جو اسے یوں محسوس ہوتا،دوسری طرف پیام نے اپنا نمبر رومنگ پر لگانے کے بجائے سِم ہی نکال کر رکھ دی تھی،وہ دوسرے نمبر سے مرتضیٰ صاحب کو کال پر کہہ چکا تھا کہ شانزے کو اسکے دبئی کے نمبر کے بارے میں نہ بتایا جائے،جس پر مرتضیٰ صاحب نے پہلے تو اعتراض کرتے سمیت اسے کَھری کَھری سنائی پر اسکی پہلی بار کسی چیز کے لیے ریکویسٹ پر وہ کافی دیر بعد ناچاہتے ہوئے بھی آمادہ ہوئے،

شانزے جو ٹھان چکی تھی کہ پیام کی کال آنے پر وہ ناراضگی کا اظہار کرتی اس سے بات نہیں کرے گی پر دوسری جانب سے جب اسکی ایک کال بھی نہ آئی تو وہ پہلے تو بہت حیران ہوئی پھر آخر کار دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے تین دن بعد پیام کو کال کی پر نمبر مسلسل بند جارہا تھا،اس بارے میں جب اس نے مرتضیٰ صاحب سے دریافت کیا تو اسکے چہرے پر بےچینی رقم ہونے کے باوجود وہ پیام سے کیے گئے وعدے کے تحت لاعلمی کا اظہار کرگئے،شانزے کو بےحد پریشانی نے آلیا تھا ایک تو وہ یہاں پر تھا نہیں اوپر سے اس سے بات نہ ہونے کی وجہ سے وہ ہر پل بےچین رہنے لگی تھی،اسکی یہ حالت دیکھ رابیہ بیگم کو دلی سکون حاصل ہوتا،خولہ جو شروع دن سے شانزے کے درمیانے طبقے کی وجہ سے اس سے بیر لگائے بیٹھی تھی رابیہ بیگم کی باتوں سے اسے تو چھوٹ ہی مِل گئی تھی،انکے کہنے پر وہ ہر کام میں شانزے کو پریشان کرنے کے مواقع ڈھونڈتی جس پر کبھی تو شانزے اسکا لحاظ کرتی خاموشی رہتی پر کبھی اسکے بےجا پریشان کرنے پر ٹھیک ٹھاک سنادیتی جس سے خولہ جل بھن کر رہ جاتی،

آج اتوار ہونے کے باوجود مرد حضرات گھر پر موجود نہ تھے،مرتضٰی صاحب کو انکے کسی دوست نے اپنے گھر مدعو کیا تھا اور شادل آفس کا کچھ ضرور کام نپٹانے کی غرض سے خولہ کو دوپہر میں آنے کا کہہ کر گیا تھا،

شانزے کچن میں مصروف کھانا پکارہی تھی تبھی خولہ وہاں آئی،

“کیا پکارہی ہو؟”

اسکی کاروائی دیکھتی وہ سلیپ پر دونوں ہاتھ رکھے پوچھی،

“امی نے بریانی کا کہا تھا۔۔۔وہی پکارہی ہوں۔۔۔”

مصروفانہ لہجے میں وہ جلدی جلدی ہاتھ چلاتے بولی،کام میں اسکی یہ پھرتی خولہ نے ستائشی نظروں سے دیکھی پھر کچھ سوچ کر وہ طنزیہ انداز میں مسکرائی،

“آہاں۔۔۔مجھے بریانی نہیں کھانی۔۔۔ایسا کرو میرے لیے تم فرائیڈ رائس اور مینچورئین پکا دو۔۔۔۔اور جب میرا کھانا تیار کرلو تو روم میں لادینا۔۔۔”

اس پر مزے سے حکم صادر کیے خولہ مڑی تھی،شانزے کا ہاتھ رکا تھا اسکی فرمائش پر،جانتی تھی اسے پریشان کرنے کا یہ نیا بہانہ ہوگا،

“میں ابھی مصروف ہوں۔۔۔آپ پلیز کسی ملازم سے کہہ دیں کہ وہ آپ کے لیے یہ بنادے۔۔۔”

خولہ کے کچن سے باہر جاتے قدم تھمے شانزے کی آواز پر،واپس پلٹ کر وہ گھوری تھی اسے،بریانی دم پر رکھنے کے بعد اب وہ سلاد تیار کرنے لگی تھی،

“مصروف ہو تو کیا ہوا۔۔۔فری ہوکر پکادینا۔۔۔”

اسے پیاز کاٹتے دیکھ خولہ نے کہا،

“میں نہیں پکاؤں گی بھابھی۔۔۔”

اب کی بار شانزے نے نظر اٹھا کر اسے دیکھتے سنجیدگی سے کہا،پہلے ہی صبح سے اسکی طبیعت ڈل سی ہورہی تھی،اوپر سے خولہ کا یوں حکم کرنا اس کا ضبط آزمارہا تھا،

“یہ تم اتنی اکڑ دکھاتی کسے ہو۔۔۔۔بھولو مت کہ بڑی ہوں میں تم سے عُمر،رشتے اور طبقے میں بھی۔۔۔۔”

دانت پیستے خولہ نے اسے آنکھیں دکھاکر کہا،شانزے کا خون کھولا تھا،جب بھی خولہ اسکے مڈل کلاس ہونے پر طعنے دیتی تب اسکا صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا اور اب بھی وہی ہوا،

“آپ نہ بھی بولیں تو مجھے یاد رہتا ہے کہ میں کس طبقے سے ہوں۔۔۔۔اور میں جس طبقے سے بھی ہوں اسی پر خدا شکر کرتی ہوں۔۔۔”

ضبط سے بولتی وہ واپس کام کی طرف متوجہ ہوئی،خولہ نے ایک کٹیلی نظر اسے دیکھا پھر تیزی سے کچن سے نکلتی چلی گئی،شانزے کو سکون ہوا تھا اسکے جانے پر،ناجانے کیوں وہ شروع دن سے اس سے خدا واسطے کا بیر لگائے بیٹھی تھی یہ بات شانزے کو اب تک سمجھ نہیں آئی،

کچھ دیر بعد وہ سلاد تیار کرنے کے بعد ابھی رائتہ بنانے کے لیے فریج سے دہی نکالی ہی تھی کہ خولہ پھر کچن میں داخل ہوئی پر اس بار اسکے ساتھ رابیہ بیگم بھی تھیں،شانزے نے دونوں کو ایک نظر دیکھا پر تبھی وہ چونکی خولہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ،

“یہ میں کیا سُن رہی ہوں شانزے۔۔۔تم خولہ کے کردار پر کیسی باتیں کررہی ہو۔۔۔”

وہ اس سے سخت لہجے میں استفسار کرنے لگیں جبکہ شانزے چکرا کر رہ گئی،یہ وہ کیا کہہ رہی تھیں اس سے،اس نے حیران ہوکر خولہ کو دیکھا جو اب باقاعدہ رونے لگی تھی،

“یہ بچی صرف تم سے زرا سا کام کیا بول دی۔۔۔تم اسے انکار کیے اور کھری سنانے لگی۔۔۔کیوں لڑکی۔۔۔کیا سمجھ رکھا ہے تم نے خود کو۔۔۔مالکن ہو کیا۔۔۔بھول گئی کہ کہاں سے آئی ہو۔۔۔”

وہ اب اپنی بھڑاس اس پر نکالے بلند آواز میں بولنے لگیں،

“امی بس کریں۔۔۔بھابھی جھوٹ کہہ رہی ہیں۔۔۔میں نے انہیں کچھ بھی نہیں کہا۔۔۔اور پلیز۔۔۔بار بار میری کلاس پر بات کیوں کررہے ہیں آپ لوگ۔۔۔”

اسکا ضبط جواب دیا تھا،غصے میں کہی جانے والی شانزے کی بات مکمل ہوتے ہی رابیہ بیگم نے اسکے گال پر تھپڑ رسید کیا،شانزے کا دماغ سُن ہوکر رہ گیا،پہلے ہی طبیعت عجیب تھی اوپر سے انکا تھپڑ،وہ واقعی چکرانے لگی تھی،

“یہ جو کینچی کی طرح زبان چلتی ہے نا تمہاری۔۔۔بند کر کے رکھا کرو۔۔۔اگر اب بدتمیزی کرتے دیکھا میں نے تمہیں تو دھکے دے کر نکال دوں گی یہاں سے۔۔۔”

انگلی اٹھاکر اسے وارن کرتیں وہ کرخت لہجے میں بولیں،ساتھ ہی اس پر خولہ کے کہے گئے کھانے کا حکم جاری کرتی وہاں سے نکلی،انکے جانے کے بعد شانزے نے سرخ بھرائی آنکھوں سے خولہ کو دیکھا جو اپنے ناٹک میں نکالے گئے آنسو کو پوچھتی شانزے پر مذاق اڑاتی مسکان اچھال کر کچن سے نکلی،یہ دوسرا تھپڑ تھا جو رابیہ بیگم نے اسے مارا تھا،تذلیل کے احساس پر آنسو روانی سے بہنے لگے تھے،بمشکل خود پر ضبط کیے وہ اب خولہ کے لیے فرائڈ رائس پکانے کی تیاری کرنے لگی تھی،جو بھی تھا پر رابیہ بیگم کی گھر سے نکالنے کی دھمکی پر وہ ڈری ضرور تھی،اگر پیام ہوتا تو وہ کبھی انکی باتوں سے نہ گھبراتی لیکن اب،

اس بےخبر انسان کا سوچتے ہی شانزے نے اذیت سے آنکھیں میچ لیں،وہ کیوں اسکے ساتھ ایسا کررہا تھا،کیا اس رات کی ناراضگی کا اتنا برا بدلہ چکانا تھا اسے،اگر ایسا تھا تو شانزے کو اپنا آپ مرتا محسوس ہوا،ابھی تو صرف دو ہفتے گزرے تھے پتا نہیں کیسے یہ چار مہینے کٹنے تھے،اپنی پر اذیت سوچیں جھٹک کر وہ جلدی سے خولہ کے لیے کھانا تیار کرنے لگی،

فرائڈ رائس اور منچورئین پکاتے اسے تھوڑی دیر ہوگئی تھی،خولہ کی بات یاد آنے پر وہ پلیٹ میں اسکا کھانا نکال کر ٹرے میں پانی رکھتی کمرے میں پہنچی،ابھی اس نے ٹیبل پر ٹرے رکھی ہی تھی کہ شادل کمرے میں داخل ہوا،خولہ جو پہلے ہی بیڈ پر لیٹی میگزین پڑھ رہی تھی،شادل کو دیکھتے اٹھی،

“اوہ۔۔تھینک گاڈ تم آگئے۔۔۔میرا موڈ ہورہا تھا باہر جانے کا۔۔۔”

اسکے پاس آتی وہ مسکراکر گویا ہوئی جبکہ شادل کی حیران نظریں ٹرے رکھ کر کمرے سے نکلتی شانزے پر تھیں،

“رکو شانزے۔۔۔”

اسکی پکار پر شانزے کے قدم رکے،

“یہ سب کیا ہے خولہ۔۔۔۔”

خولہ کے حد سے زیادہ قریب ہونے پر وہ دور ہوتا سنجیدگی سے پوچھا تھا،اشارہ صاف اس کھانے پر تھا جو شانزے رکھی تھی،اسے شانزے کا یوں خولہ کے لیے روم میں کھانا لانا کچھ عجیب لگا تھا،

“آہ۔۔بےبی یہ تو میں نے آج شانزے سے ریکویسٹ کی کہ مجھے روم میں کھانا لادے۔۔۔طبیعت تھوڑی خراب لگ رہی تھی مجھے اپنی۔۔۔”

اسکے تاثرات بلکل سنجیدہ دیکھے وہ جلدی سے بہانہ بناتی بولی،شانزے تو عش عش کر اٹھی اسکے صفائی سے کہے گئے جھوٹ پر،

“تو پھر باہر جانا کینسل۔۔۔طبیعت ٹھیک نہیں ہے تمہاری۔۔۔”

شادل کوئی بچہ نہ تھا جو اسکے ناٹک کو نہ سمجھتا تبھی نارملی کہا،

“ارے نہیں۔۔۔اب تو بلکل ٹھیک ہوگئی۔۔۔تمہیں دیکھ کر ہنی۔۔۔”

پلین کینسل ہوتا دیکھ وہ بات بدل کر اسکے قریب ہوتے بولی،شانزے یہ دیکھتے ہی تاسف سے سر ہلائے روم سے نکلی تھی،ادھر شادل بھی سر جھٹکتا گویا ہوا،

“شانزے تمہاری طرح ہی اس گھر کی بہو ہے۔۔۔ہوسکے تو اپنے اور اسکے رشتے کا لحاظ کرکے آئندہ اس سے یوں کام نہ کرانا۔۔۔”

“گاڈ۔۔۔صرف کھانا ہی تو منگوایا تھا۔۔۔تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے کتنا کام لیتی ہوں میں اس سے۔۔۔”

اب کی بار شادل کی بات پر وہ برہم ہوتی بولی،

“اچھا ٹھیک ہے تم ریڈی ہو جاؤ۔۔۔میں فریش ہوکر لے چلتا ہوں باہر۔۔۔”

اسکا موڈ خراب ہوتے دیکھ شادل نرمی سے کہتا روم سے نکلا،خولہ نے ایک ناگوار نظر شانزے کے پکائے کھانے کو دیکھا تھا،

“شانزے۔۔۔”

اسے اوپر جاتے دیکھ وہ پکار بیٹھا،

“جی۔۔”

پلٹ کر شانزے بےتاثر تاثرات سمیت بولی،شادل گہرہ سانس بھرتے بولنے لگا،

“اگر انجانے میں خولہ کی طرف سے تمہیں کوئی تکلیف ہو تو۔۔۔سوری۔۔”

خولہ کے چھپانے کے باوجود اسے اندازہ تھا شانزے اور اسکے بیچ سرد تعلقات کا،شادل کے لہجے میں پشیمانی محسوس کرتی شانزے جلدی سے تاثرات نارمل کیے بولی،

“ایسا کچھ نہیں ہے شادل۔۔۔سب ٹھیک ہے۔۔۔”

زبردستی مسکراتے وہ بولی تھی،البتہ ایک مرتبہ سر پر رکھا دوپٹہ ضرور آگے کیا،ڈر تھا کہ کہیں شادل اسکے گال پر چھپے انگلیوں کے نشانات نہ دیکھ لے،شانزے کے جواب پر شادل مطمئن سا ہوتا پلٹا تھا،جس پر وہ شکر ادا کرتی اوپر گئی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج وہ بہت ضد کر کے عبید کو اپنے گھر کے قریبی پارک میں بلوائی تھی،وہاں سے عبید اُسے کار میں لیے کچھ دور شاپنگ مال میں آیا تھا،اور اب فُوڈ کورٹ میں بیٹھی الشبہ جب سے اُسے منارہی تھی،

“پلیز عبید۔۔۔مان جاؤ۔۔۔یوں نہیں کرو۔۔۔”

اسکی آواز بھرانے لگی تھی عبید کی بےرخی پر،

“الشبہ پروبلم کیا ہے۔۔۔ہم ایسے بھی تو ٹھیک ہیں۔۔۔پتا نہیں کیوں شادی کا بھوت سوار ہے تم پر۔۔۔”

وہ چڑکر کہا تھا الشبہ نے آنکھوں میں اترتی نمی کو اندر دھکیلتے جلدی سے کہا،

“کیونکہ میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی۔۔۔۔عبید یقین کرو۔۔۔بہت محبت کرتیں ہوں تم سے۔۔۔۔”

چئیر سے تھوڑا آگے ہوتے وہ بولی ساتھ ہی ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے تھے آنکھوں سے،

“یار بس کرو۔۔۔حد کرتی ہو۔۔۔جگہ کا ہی لحاظ کرلو۔۔۔فضول تماشہ بنارکھا ہے۔۔۔ہر جگہ رونے مت بیٹھ جایا کرو۔۔۔”

کچھ لوگ متوجہ ہوئےتھے الشبہ کے رونے پر تبھی عبید جھنجھلاکر دبی مگر سخت آواز میں بولا،اسکے ڈپٹنے پر الشبہ جلدی سے آنکھوں کو صاف کرنے لگی،

“میں امی ابو کو منالوں گی۔۔۔۔پر تم مان جاؤ۔۔۔عبید نہیں رہ پاؤں گی تمہارے بغیر۔۔۔۔”

آنسو نہ رکنے پر وہ ٹیبل پر ہاتھ رکھے سر نیچے جھکاتے ہلکی آواز میں روتے ہوئے بولی،عبید نے کوفت سے سر جھٹکا،

“دیکھو الشبہ۔۔۔اچھا بات تو سنو میری۔۔۔”

ٹیبل پر رکھے اسکے ہاتھ کو تھامتے وہ بمشکل لہجہ نرم کیے اسے پکارا تو الشبہ سر اٹھاکر دیکھنے لگی،الشبہ کا نازک ہاتھ اسکے ہاتھ میں دو خاموش آنکھوں نے دیکھا تھا،

“اب میری بات غور سے سنو۔۔۔یار تم خود ہی سوچو۔۔۔شادی کر کے لائف کتنی عجیب اور بورنگ سی ہوجاتی ہے۔۔۔۔اسی لیے بس میں کہہ رہا ہوں کہ ہم ایسے ہی رہتے ہیں۔۔۔یہ بات سچ ہے کہ تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔۔۔پر شادی نہیں۔۔۔”

“نہیں عبید۔۔۔شادی کرنی ہی ہے مجھے تم سے۔۔۔پتا نہیں کیوں۔۔۔پر مجھے ڈر لگا رہتا ہے کہ تم ہمیشہ میرے ساتھ نہیں رہو گے۔۔۔”

“فار گاڈ سیک یار۔۔۔۔جب سے برداشت کررہا ہوں۔۔۔۔دماغ خراب کرکے رکھا ہوا ہے تم نے اپنی باتوں سے میرا۔۔۔۔اگر تھوڑی دیر اور بیٹھا یہاں تو مجھے لگتا ہے کہ پاگل ہو جاؤں گا۔۔۔۔بِل پے میں کرچکا ہوں۔۔۔خود ہی چلی جانا گھر۔۔۔”

تنگ آکر کہتا وہ جھٹکے سے اٹھا تھا چئیر سے پھر اسکی پکار کو ان سنا کیے وہاں سے نکلا،عبید کی پشت کو بےبسی سے دیکھے الشبہ ہچکیوں سے روئی تھی مگر سب کو اپنی طرف متوجہ پاکر جلدی سے خود پر ضبط کرتی آنسو پوچھ کر اٹھی،

“الشبہ۔۔۔!”

ابھی وہ دو قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ کوئی مانوس پکار اسکے کان پر پڑی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پچھلے دو گھنٹے سے خولہ لگاتار شاپنگ کررہی تھی،شادل پہلے ہی آفس سے تھکا ہوا آیا تھا اوپر سے خولہ کی ناختم ہونے والی شاپنگ نے اسے پریشان کردیا،

“خولہ بس کرو۔۔۔باقی پھر کبھی لے لینا۔۔۔”

آخر کار وہ ٹوک گیا تھا اسے،جس پر خولہ پلٹ کر شادل کو گھوری،

“تم ایسا کرو۔۔۔وہاں فُوڈ کورٹ میں کھڑے رہو۔۔۔بس دو چیزیں رہ گئیں۔۔۔۔میں وہ لے کر آتی ہوں۔۔۔”

اسکے چہرے پر تھکن کے آثار دیکھ خولہ کو بھی تھوڑی سبکی ہوئی تبھی بولی،

“نہیں اگر تھوڑی ہی چیزیں رہ گئی ہیں تو چلو۔۔۔”

“میں کہہ رہی ہوں شادل۔۔۔تم بیٹھو وہاں۔۔۔۔میں جلد آجاؤں گی۔۔۔پلیییز۔۔۔”

شادل کی بات کاٹتے وہ مسکراکر اسرار کرنے لگی شادل تو خاموش ہوگیا،خولہ کے جانے کے بعد وہ شاپنگ بیگز اٹھائے فُوڈ کورٹ میں آگیا،خالی ٹیبل کے لیے نظر دوڑائی جو کہ ایک ٹیبل پر آکر رکی تھی،اس نے اچھنبے میں گِھرے الشبہ کو پیام کے دوست عبید کے سامنے روتے دیکھا تھا،وہ مسلسل رورہی تھی دوسری طرف عبید نے کچھ کہتے ہوئے اسکا ہاتھ تھاما تھا،تھوڑے دور رہنے کی وجہ سے شادل کو واضح سمجھ نہ آیا کہ بات کیا ہورہی تھی انکے درمیان،لیکن تبھی الشبہ کے نفی میں سر ہلاکر کچھ بولنے پر عبید جھنجھلاکر اٹھا تھا،پھر وہاں سے نکلتا چلا گیا،شادل چند قدم اٹھاکر قریب آیا تھا،الشبہ کے اٹھ کر جانے پر وہ ناچاہتے ہوئے بھی اسے پکار بیٹھا،

اس پکار پر الشبہ نے پلٹ کر دیکھا پر گلابی ہوتا چہرہ زردی مائل ہوا،وہ ہونق بنی شادل کو دیکھ رہی تھی،اندر ڈر کنڈلی مارے بیٹھا تھا کہ وہ پکڑی گئی ہے،

“کیا کررہی ہو یہاں پر۔۔۔؟”

نارمل لہجے میں پوچھتا وہ آگے بڑھا تھا اور الشبہ کی رکی سانس بحال ہوئی،شکر کیا تھا اس نے بچنے پر،

“شش۔۔شادل بھائی۔۔۔میں تو۔۔۔وہ میں۔۔ہاں۔۔۔میں نا اپنی دوستوں کے ساتھ آئی تھی۔۔۔وہ لوگ بس یہی ہوں گی۔۔۔مجھے بھوک لگی تو ادھر بیٹھ گئی تھی۔۔۔”

جگہ کی مناسبت بہانہ سوچے وہ بولنے لگی،لڑکھڑاتا لہجہ واضح گواہی دے رہا تھا جھوٹ کی،شادل کو بےساختہ وہ رات یاد آئی جب الشبہ نے دوست کے گھر کا بہانہ کیا تھا،تو کیا مطلب۔۔۔،وہ اس پل بھی جھوٹ کا سہارا لیا تھی خود کو بچانے کے تحت،آج کی طرح،

“تمہاری ابھی عمر نہیں ہے لڑکی۔۔۔”

سنجیدگی سے اسکا چہرہ دیکھتے شادل بولا،

“بھائی فرینڈز کے ساتھ شاپنگ کرنے میں کونسی عمر دیکھی۔۔۔”

“تمہاری ابھی عمر نہیں کہ کسی لڑکے کے ساتھ یوں ہر جگہ گھومو۔۔۔”

وہ جو زبردستی کی مسکراہٹ سمیت بول رہی تھی شادل کے بات کاٹنے پر اسکی مسکراہٹ غائب ہوئی،فق رنگت کے ساتھ شادل کو دیکھتے وہ تھوک نگلی،

“لڑکی۔۔۔ابھی چھوٹی ہو تم۔۔۔یہ سب ٹھیک نہیں ہے۔۔۔”

اس کو ڈرتا دیکھ شادل نرمی سے سمجھانے لگا،شرمندگی سے الشبہ کا سر جھک گیا تھا،

“لیکن اگر پھر بھی تمہیں کوئی پسند ہے تو سیدھا آنٹی سے کہو۔۔۔یقیناً انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوگا۔۔۔”

الشبہ کی خاموشی پر شادل پھر بولا جس پر وہ بھیگی پلکوں کی جھالر اُٹھائے اسے دیکھی تھی اور شادل مرتضیٰ بےساختہ نگاہ پھیر گیا،ان سرخ آنکھوں کو دوبارہ دیکھنے کی گستاخی کیسے کرسکتا تھا وہ،اپنے دل کی عجیب ہوتی حالت پر گھبرایا تھا وہ،

“شادل۔۔۔”

خولہ کی آواز پر دونوں چونکے تھے،الشبہ منہ پھیر کر سب سے پہلے آنکھوں سے آنسو صاف کی،

“آ۔۔۔خولہ یہ شانزے کی بہن ہے۔۔۔الشبہ۔۔۔”

خولہ جو حیرت سے الشبہ کو دیکھ رہی تھی شادل کے تعارف کروانے پر اسکا چہرہ بگڑا،

“اوہ۔۔۔تو یہ ہے شانزے کی بہن۔۔۔”

اسے سر تا پیر دیکھتی وہ طنزیہ انداز میں بولی،ہرے رنگ کی شلوار قمیض پر دوپٹہ سر پر اوڑھے ساتھ چادر سے خود کو کور کیے وہ لڑکی لگ بھگ اٹھارہ سال کی لگی اسے،اسکی چادر کو دیکھ خولہ نے کوفت سے آنکھیں گھومائیں،

“ویسے تم یہاں اکیلے آئی ہو الشبہ۔۔۔یا۔۔”

اسکے ساتھ کسی کو نہ پاکر خولہ کو حیرت ہوئی دوسرا الشبہ کے چہرے پر اڑا رنگ اسے شک کرنے پر مجبور کرگیا تبھی وہ ایک آبرو اچکاتی پوچھی،

“الشبہ تمہاری دوستیں تو لگتا ہے شاپنگ کے چکر میں بھول ہی گئیں تمہیں۔۔۔ایسا کرتے ہیں کہ تم ہمیں جوائن کرلو۔۔۔ویسے بھی اب ہم گھر ہی جارہے ہیں۔۔۔”

خولہ کے سوال پر الشبہ کو گھبراتے دیکھ شادل جلدی سے دوستانہ لہجے میں بولا،الشبہ تکتے رہ گئی اس انسان کو،وہ کیوں اسے بچارہا تھا،

“نہیں۔۔بھائی۔۔۔م۔۔میں چلی جاؤں گی۔۔۔میرہ دوستیں۔۔۔”

اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی وہ بول کر پلٹنے لگی،

“نہیں آئیں گی۔۔۔کہہ رہا ہوں چلو۔۔۔ضد نہیں کیا کرو۔۔۔”

اب کے شادل کے تاثرات بدلے تھے،اسکے سیریس ایکسپریشن کو دیکھ الشبہ نظر جھکاگئی،خولہ کی آبرو بھینچی،حلق تم کڑوا ہونے لگا یہ سوچ کر ہی کہ وہ لڑکی انکے ساتھ جائے گی،

“چلیں۔۔۔”

شادل کے کہنے پر وہ ہوش میں آتی منہ بناکر اثبات میں سر ہلائی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔