Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 20)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 20)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
کل رات کے بعد تحریم صبح بھی اسکے آفس جانے کے بعد اٹھی تھی اور جب وہ شام کو گھر آیا تب بھی سامنے جانے سے گریزاں تھی،فطری شرم تھی جو اسے باسط کا سامنا کرنے سے روک رہی تھی،اسکی حرکتوں کو خاموشی سے نوٹ کرتا وہ بےپرواہ بنا تھا،دوسری جانب باسط کی یہ بےرخی کھلتی بھی بہت تھی تحریم کو،پر انہیں سب کے باوجود اسے باسط پر شک ہونے لگا تھا،کل بھی وہ کسی لڑکی سے کال پر بات کررہا تھا اور ابھی جب نہانے کے لیے واشروم کا رخ کیا تب بھی کسی کا فون آیا تھا،تحریم کمرے کے اندر جھانک کر بغور اسے فون پر بات کرتے دیکھنے لگی،کیسا میٹھا لہجہ تھا اسکا،
“پتا نہیں کون چڑیل ہے۔۔۔”
کلس کر انگلیاں مروڑتی وہ بڑبڑائی،تبھی فون رکھ کر باسط واشروم کا رخ کیا تھا،اسکے واشروم میں جانے کے بعد تحریم کچھ سوچ کر آہستگی سے روم میں داخل ہوئی،پھر ایک نظر واشروم کے بند دروازے پر ڈالے باسط کا فون اٹھائی،پِن کوڈ لگا تھا،وہ جلدی سے طرح طرح کے تُکّے لگاتی لاک کھولنے کی کوشش کرنے لگی پر ہر کوڈ ناکام ہونے پر ابھی اس نے فون رکھنے کا سوچا ہی تھا جب پیچھے سے آکر کسی نے اسکے ہاتھ سے فون لیا تھا،مقابل کا انداز بتاگیا تھا کہ وہی تھا،تحریم گھبرائی تھی بری طرح،اپنی سلامتی کی دعا کرتی وہ آہستہ سے پلٹی،سامنے باسط سنجیدہ تاثرات سمیت اسے ہی دیکھ رہا تھا،
“وہ۔۔۔میرے موبائل میں۔۔۔پیکج نہیں تھا۔۔اااور۔۔۔امی سے۔۔بات کرنی تھی۔۔۔تمہارے فون کا کوڈ کیا ہے۔۔۔”
اسے بنا شرٹ کے دیکھ گھبراہٹ کا شکار وہ جو منہ آیا بولتے گئی پر باسط کو ہنوز خاموش دیکھ زبردستی مسکراتے بھاگنے کی کرنے لگی،
چند قدم گیٹ کی طرف بڑھائے ہی تھے کہ عین وقت پر باسط نے اسکی کلائی تھامی،وہ ڈریسنگ کے آئینے پر دیکھ ہی چکا تھا اسے کمرے میں جھانکتے،تبھی اندر جاکر کچھ ہی دیر میں یوں واپس آگیا،
جھٹکے سے اسکا رُخ آئینے کی طرف موڑ کر وہ اپنا برہنہ کشادہ سینہ اسکی پشت سے لگا گیا،ابھی وہ کچھ سمجھتی اس سے پہلے ہی باسط نے تحریم کی کلائی جو کہ اس ہی کی نازک کمر پر لگائی تھی مروڑ دی،وہ سسک کے رہ گئی،اپنا نازک ہاتھ اسے ٹوٹتا محسوس ہوا تھا،لائٹ براؤن آنکھوں میں تیزی سے نمکین پانی جمع ہوا،
“آج کل میرے معملات میں کچھ زیادہ ہی مداخلت نہیں کرنے لگی تم۔۔۔۔۔پہلے تو بلکل بےپرواہ رہتی تھی۔۔۔اور یہ ہوتا کیا جارہا ہے تمہیں۔۔۔”
گمبھیر لہجے میں بول کر اس نے تحریم کی تھوڑی پکڑ کر اسکا چہرہ اوپر کیا،آئینے میں مقابل کا وجیہہ چہرہ دیکھ وہ واپس پلکوں کی باڑ جھکا گئی،
“پہلے میری ہر بات پر آگے سے حاضر جواب اور طنز کے نشتر چلاتی تھی اور اب۔۔۔۔۔۔اب میرے ہر طنز کو خاموشی سے سنتے رہتی ہو۔۔۔ایک منٹ رکو۔۔۔کہیں تمہیں مجھ سے۔۔۔”
دلکشی سے مسکراتا وہ گہری نظروں سے اسکے تمتماتے چہرے کو دیکھنے لگا تھا،لہجے میں طنز و تمسخر کا عنصر واضح تھا،دوسری جانب وہ جو اسکی قید میں کسی بےبس پنچھی کی طرح سکڑی ہوئی تھی،کیا بولتی اسے کہ اسکی بےرخی کی ہی تو عنایت ہے یہ سب۔۔۔۔دوسری لڑکیوں کو شوہر کی محبت اور کئیر سے ان سے محبت ہوتی ہے پر یہاں اسکے ساتھ کیا ہوا تھا۔۔۔۔اسے تو شوہر کی بےرخی پر اس سے محبت ہوچکی تھی،اور بس۔۔۔۔تحریم مرتضیٰ اچانک سُن سی ہوکر رہ گئی اپنی سوچ پر۔۔۔۔،
کیا وہ واقعی باسط زبیر پر اپنا دل ہار بیٹھی تھی،ان سوچوں میں دو موتی پلکوں پر آ ٹِکے تھے،تبھی باسط اپنا ایک مضبوط ہاتھ اسکے گداز بازو پر پھیرتا کندھے تک لایا تھا،پھر آہستگی سے اسکے ریشمی کندھے سے تھوڑا نیچے تک آتے بال ہٹائے،
نرمی سے اسکی گردن پر وہ اپنا لمس چھوڑنے لگا،دوسری طرف وہ لڑکی جو خود کو بہت بولڈ سمجھتی تھی اب اسکی حالت کسی چھوئی موئی کی طرح ہوئی تھی،پلکوں پر اٹکے آنسوں ٹوٹ کر گال پر پھسلے مقابل کی بےباک جسارتوں پر،سختی سے آنکھیں میچ کر وہ اسکا دہکتا لمس اپنی سرخ ہوتی گردن پر محسوس کررہی تھی،
“نہ۔۔نہیں۔۔کر۔۔کرو۔۔۔پ۔۔”
ہکلاتے بولنے کی کوشش کے تعین کرتی اسکی آواز اچانک بند ہوئی،باسط کے مضبوط بازو کی سخت گرفت یکدم اپنی کمر کے گرد محسوس کر کے،صاف اشارہ تھا کہ وہ ابھی کوئی مداخلت نہیں چاہتا،
اپنے کمر کے گرد حائل اسکے بازو پر تحریم نے اپنا ہاتھ رکھا،اسے لگا اگر تھوڑی دیر اور بھی وہ یوں بےباک جسارتیں کرتا گیا تو وہ بےہوش ہوجائے گی تبھی اچانک اسکا رخ اپنی طرف موڑے باسط نے بغور اسکے چہرے کو دیکھا،گردن کی طرح اب چہرہ بھی سرخ پڑنے لگا تھا،
“اتنا گھبرا کیوں رہی ہو۔۔۔آخر یہی چاہتی تھی نا تم بھی۔۔۔”
اسکے بالوں کی آوارہ لٹوں کی انگلی کے گرد لپیٹتا وہ آہستگی سے گویا یوا،تحریم سر جھکائے لب کاٹنے لگی،
“مجھے دیکھو۔۔۔”
سرگوشی نما بھاری آواز تھی کہ تحریم نگاہ اٹھانے پر مجبور ہوگئی،وہ اس ہی کے خوبصورت چہرے میں الجھا ہوا تھا،لبوں پر سجی گلابی لپسٹک اسے اپنی طرف متوجہ کرنے لگی،ایک ہاتھ سے اسکا چہرہ تھامے انگوٹھے سے ان لبوں کو مسل کر وہ جھکا تھا ان پر اور تحریم آہستگی سے آنکھیں موند گئی،چہرہ جھلسنے لگا تھا مگر وہ بنا کسی مزاحمت کے آنکھیں بند کیے کھڑی رہی،کمرے کی معنیٰ خیز خاموشی گیٹ بجنے پر ٹوٹی،باسط آہستگی سے اس کی جان بخشی کرتا ہٹا تھا،تحریم کی گھنیری پلکیں اٹھنے سے انکاری ہوئی،شرم کی وجہ سے حیا کے بکھرے رنگ اسکے چہرے پر باسط زبیر کو پہلی مرتبہ بھائے تھے،
اس بار گیٹ زور سے بجایا گیا کہ دونوں اپنے سحر سے نکلے،تحریم جلدی سے آگے بڑھتی ڈریسنگ سے ٹشو اٹھائی اور لبوں پر خراب ہوئی لپسٹک مٹاتی گیٹ کھولنے لگی،
“بیٹا آپ کا فون جب سے بج رہا یے۔۔۔”
فرزانہ بیگم نے تحریم کا موبائل آگے کرتے کہا جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتی فون لی تھی،فرزانہ بیگم کے ساتھ اسکا بہتر رویہ دیکھ باسط واشروم کا رُخ کرگیا،ادھر فرزانہ بیگم مسکرائیں تھیں تحریم کا لال چہرہ دیکھ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات شادل گھر پر پریشان سا داخل ہوا،پریشانی کا سبب صاف تھا،وہ گومگو کی کیفیت میں مبتلا تھا،شانزے کو الشبہ کے بارے میں بتانا چاہ رہا تھا پر الشبہ کی درخواست یاد آئی تو چپ رہنے کا سوچا پر جہاں تک شادل کو اندازہ تھا وہ کم عقل لڑکی اپنی زندگی برباد کرنے کے درپے تھی،
کئی سوچوں کے زد میں وہ اپنے روم کی طرف جارہا تھا پر اچانک رکا،سامنے شانزے کھڑی تھی جسکے تاثرات بلکل سپاٹ تھے،
“کیا ہوا ش۔۔۔”
وہ کچھ پوچھ ہی رہا تھا جب نظر شانزے کے گال پر پڑی،انگلیوں کے واضح نشانات دیکھ شادل ششدہ رہ گیا،
“شانزے۔۔۔یہ کیسے ہوا۔۔۔؟”
حیرت کا شکار وہ اس سے دریافت کرنے لگا،
“میں آپ کی عزت کرتی ہوں شادل۔۔۔اس ہی عزت کا لحاظ کرتے میں خاموش ہوں۔۔۔پر ہوسکے تو اپنی بیوی کو سمجھالیں کہ میں انکی لائی کوئی غلام نہیں جس پر وہ جب چاہے ہاتھ اٹھادیں۔۔۔”
وہ یہ بات نہ بتاتی شادل کو پر شام میں جب اس نے خولہ کو دیکھا جو اپنے کیے پر بلکل شرمندہ نہ تھی،الٹا پیر پر لگے کٹ پر اسے ہی سنائے جارہی تھی،تب شانزے نے اس بات سے شادل کو آگاہ کرنا ضروری سمجھا،اپنی بات کہہ کر وہ سیدھا اوپر گئی تھی،شادل بےیقین سا روم میں داخل ہوا تھا،
“اوہ بےبی۔۔۔تم آگئے۔۔۔یہ دیکھو کیا ہوگیا۔۔اس شانزے کی وجہ سے میرا پیر کٹ گیا۔۔۔”
کٹ زیادہ نہیں لگا تھا اوپر سے دوا وقت پر لگنے کے باعث اب اسکا درد کافی کم تھا،پھر بھی اس نے شادل کا ذہن شانزے کی طرف سے خراب کرنا ضروری سمجھا،شادل کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا پھر کہا،
“تم نے شانزے پر ہاتھ کیوں اٹھایا۔۔۔”
خولہ کی ساری نوٹنکی اڑن چھو ہوئی شادل کے سوال پر،اسے اُمید نہ تھی کہ شانزے یہ بات شادل کو بتادیگی،
“بےبی میرے پیر میں اتنی چوٹ لگی ہے اور تم ہو کہ کسی اور کے بارے میں سوالات کررہے کو اپنی بیوی سے۔۔۔”
بات بدل کر وہ نروٹھے پن سے بولی،
“شانزے کسی نہیں اس گھر کی بہو ہے۔۔۔اور یہ بات میں تمہیں پھر یاد دلارہا ہوں۔۔۔تم صرف یہ بتاؤ کہ ایسا بھی کیا ہوگیا تھا کہ تم نے یہ گری ہوئی حرکت کی۔۔۔”
اسکی باتوں کو سائیڈ پر کرتے شادل کی سوئی اب بھی وہی اٹکی تھی،
“تم مجھے گرا ہوا کہہ رہے ہو۔۔۔میں گری ہوئی نہیں ہوں شادل۔۔۔گری ہوئی وہ لڑکی ہے۔۔۔اس نے مجھے آج نقصان پہنچانا چاہا۔۔۔اور تم اب اس ہی کی سائیڈ لے رہے ہو۔۔۔۔چلے جاؤ میری نظروں سے شادل ابھی۔۔۔”
وہ گھبرائی تھی شادل کی بات پر تبھی اسکی ایک بات پکڑے سیخ پا ہونے کا بہانہ کرتی غصے میں چیخی،
“خولہ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔۔۔تم غلط سمجھ رہی ہو۔۔۔میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ہاتھ کیوں اٹھایا تم نے شانزے پر۔۔۔”
اسے یوں غصہ ہوتے دیکھ شادل ناگوار لہجے میں بولا،وہ بہت کم ہی غصہ ہوتا اور وہ بھی جائز باتوں پر،آج شانزے پر خولہ کا ہاتھ اٹھانا،اس بات پر اسے بےحد شرمندگی محسوس ہوئی شانزے سے،
“میں نے کہا نکلو یہاں سے۔۔۔جاؤ کمرے سے۔۔۔شکل نہیں دیکھنی مجھے تمہاری۔۔۔میں گری ہوئی ہوں نا۔۔۔خود تو بہت پارسا ہو۔۔۔”
تکیہ اٹھا کر اسکی طرف پھینکتی خولہ پر جیسے آج ضد چڑھ گئی تھی،شادل پریشان سا ہوکر اسے دیکھا پھر نفی میں سر ہلاتا روم سے نکلا،
“تھینک گاڈ۔۔۔”
اسکے جانے کے بعد خولہ کی سانس بحال ہوئی،اگر وہ یہ نہ کرتی تو یقیناً شادل پوچھ کر رہتا ہاتھ اٹھانے کی وجہ جو کہ خولہ بتانا نہیں چاہتی تھی اور بتاتی بھی کیوں۔۔۔معلوم تھا کہ غلطی اُسی کی تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن یونہی بےروی سے گزرنے لگے تھے،شادل نے اس دن کے بعد سے الشبہ سے کوئی بات نہیں کی تھی وہ شانزے سے شرمندہ بھی تھا خولہ کی وجہ سے،تبھی اسے الشبہ کے بارے میں کچھ نہ بتایا،ادھر باسط کا رویہ زیادہ نہیں پر تھوڑا بہت بہتر ہوا تھا تحریم کے ساتھ تو دوسری طرف رابیہ بیگم اور خولہ نے ہر دن گزرنے کے ساتھ شانزے پر زندگی تنگ کر رکھی تھی،کس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کونفیڈنٹ لڑکی جو کبھی کچھ غلط ہونے پر منہ پر سنادیتی اب اس ہی کے ساتھ غلط ہونے پر خاموش رہتی،ایک طرف پیام کا فون بند رہنا تو دوسری رابیہ بیگم کا گھر سے نکالنے کی دھمکی وہ بری طرح ڈسٹرب ہوئی تھی ان سب سے،مرتضٰی صاحب سے شکایت وہ جھجھک کی وجہ سے نہیں کرتی،شادل کو بھی اس رات شانزے نے لاؤنج میں سوتا دیکھ شرم محسوس کی تبھی خاموش رہنے لگی،جب اپنا ہی بےخبر بنے دیارِ غیر میں تھا تو اور کسی سے کیا بولتی وہ،ان دنوں مرتضیٰ ہاؤس کی خاموشی میں ایک خوشی کی نوید خولہ کی پریگنینسی سے سنائی گئی،سب خوش تھے پر شانزے پر اور مصیبت بن آئی تھی،رابیہ بیگم کو اور بہانہ ملا تھا اسے پریشان کرنے کا،وہ ہر دم اس پر خولہ کا خیال رکھنے کے لیے کئی حکم صادر کرتیں،شانزے گھر جانا چاہتی جس پر انکا صاف جواب ہوتا کہ جب پیام آئے گا تب جانا،اس محل میں شانزے کو اپنا آپ قیدی سا لگنے لگا تھا،شروع میں دم گھٹتا تو راتوں کو روتی پر اب آنسو بھی سوکھنے لگے تھے،دل میں جیسے امید ختم ہوچکی تھی اس بےخبر کے آنے کی،مرتضٰی صاحب کو اس کی روز بروز بڑھتی خاموشی عجیب لگتی پر پیام کہ غیر موجودگی کو وجہ سمجھتے وہ کچھ نہ بولتے،
آج چار مہینے بعد پیام کی آمد کا دن آیا تھا،مرتضٰی ہاؤس میں الگ ہی گہما گہمی کا ماحول تھا،مرتضٰی صاحب نے بتور خصوصی گھر سجوایا تھا،بھلے پیام بدتمیز سہی پر مرتضیٰ ہاؤس میں ہر دل عزیز تھا،سب کے چہروں میں خوشی کی رمق دکھتی سوائے شانزے کے،اسے جیسے فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا،صبح سے کام میں لگی وہ شام کو رابیہ بیگم کے حکم پر بےدلی سے کپڑے چینج کرتی لائٹ سا میک اپ کرکے تیار ہوئی تھی،
وہ رات کو آنے والا تھا پر یہاں شام سے ہی لاؤنج میں سب اکھٹے تھے،تیار ہوکر ابھی وہ سیڑھیوں سے نیچے اتری کہ مرتضیٰ صاحب کے نمبر پر اچانک کال آئی،ریسیو کرنے پر دوسری طرف سے جو خبر ملی اس پر انکا چہرہ اترا،فون رکھے وہ ایک پریشان نظر سب پر ڈالتے گویا ہوئے،
“کام زیادہ ہونے کی وجہ سے پیام کی واپسی آج نہیں ہوسکتی۔۔۔۔ضمیر نے کہا ہے کہ اسے دو مہینے اور لگیں گے۔۔۔”
یہ خبر جہاں سب کو یکلخت اداس کرگئی وہی سیڑھیوں کے پاس کھڑی شانزے کے چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ ابھری،دل میں ٹیس اٹھی تھی،ناچاہتے ہوئے بھی گال بھیگے پر آنسوؤں کو بےدردی سے رگڑتی وہ واپس اُوپر چلی گئی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
