Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 14)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 14)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
وہ ابھی ابھی گھر میں داخل ہوا تھا،تیزی سے سیڑھیاں عبور کیے کمرے کی طرف گیا،ارادہ اندر بیٹھی ہستی کو پریشان کرنے کا بَنا تھا پر اندر داخل ہوتے وہ خود حیران ہوا،خالی کمرہ اسے منہ چڑھا رہا تھا،
“اتنی جلدی تھی جانے کی۔۔۔”
چہرہ بگاڑے پیام بولا،یکایک اسکا موڈ خراب ہوا تھا،پھر کچھ سوچتا بیڈ پر گرنے کے انداز میں سیدھا لیٹا،
“چلو اچھا ہے چلی گئی۔۔۔۔کم سے کم کچھ دن کے لیے میری جان تو چھوٹی اس جنگلی بلی سے۔۔۔اب پیام مرتضیٰ سکون سے رہے گا۔۔۔۔”
بیڈ پر آڑھا ترچھا لیٹا وہ چھت کو گھورے خوش ہونے کی بھرپور کوشش کیے خود سے بولا،پھر یونہی کچھ دیر لیٹا رہا،
“ابے یار کیا مسئلہ ہے اسکے ساتھ۔۔۔”
جھٹکے سے اٹھتا وہ جھنجھلایا،
“عجیب مصیبت ہے۔۔۔میرا انتظار تک نہیں کرسکتی تھی۔۔۔بس جلدی تھی گھر جانے کی میڈم کو۔۔۔”
وہ نہیں جانتا تھا کہ کیوں غصہ کررہا ہے آخر وہ،کمرے میں اسے دیکھنے کی عادت سی ہوئی تھی جو اب شانزے کے نہ ہونے پر اسکی تنہائی کھل رہی تھی اب پیام کو پر اس بات کا وہ اعتراف کرنے سے رہا،
“رہے وہیں پر۔۔۔میں کونسا مرا جارہا ہوں اسکے لیے۔۔۔”
خود کو جھوٹے دلاسے دیا وہ لاپرواہی بننے کی ایکٹنگ کیا پر اچانک ہی کچھ یاد آنے پر بیڈ سے اٹھتا باہر کی طرف گیا مرتضیٰ صاحب کے روم میں جاکر اس نے دیکھا رابیہ بیگم کسی سے کال پر بات کرنے میں محو تھیں،پیام پر نظر پڑی تو وہ ایکسکیوز کرتی کال کٹ کیں،
“کہاں کا چاند نکلا ہے بھئی۔۔۔جو آج خود چل کر ماں کے روم تک آئے ہو۔۔۔”
اسکی سنجیدہ شکل نوٹ کرتیں وہ مسکراکر گویا ہوئیں،
“آپ نے کل شانزے پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔”
اسکا لہجہ بھرپور سنجیدگی لیے تھا جس پر رابیہ بیگم کی مسکراہٹ غائب ہوئی،
“لو۔۔۔تو لگادی اس محترمہ نے آگ۔۔۔”
“ہاں لگادی۔۔۔اب۔۔۔؟”
اب لہجہ تھوڑا سخت ہوا تھا اسکا،
“پیام کیا ہوگیا ہے تمہیں۔۔۔اس مڈل کلاس کے لیے تم اپنی ماں کے خلاف ہورہے ہو۔۔۔ایسی لڑکیوں کو یوں ہی سیدھا کیا جاتا ہے۔۔۔اسی طرح دو تھپڑ تم بھی لگاتے تو وہ جو ہم لوگوں کے سامنے زبان چلاتی ہے۔۔۔پھر نہیں چلا پائے گی۔۔۔”
بنا شرمندگی کے وہ الٹا اسے ہی پٹیاں پڑانے لگیں تھیں،
“کیوں ڈیڈ بھی آپ کو اسی طرح تھپڑ مارتے تھے۔۔۔”
چند پل کی خاموشی کے بعد پیام نے نارملی پوچھا تو رابیہ بیگم آنکھیں پھیلائے اسے دیکھنے لگیں،
“تم بہت بدلحاظ ہوتے جارہے ہو پیام۔۔۔”
اسکے غصے کو مدنظر رکھے وہ ضبط سے بولیں،بیٹے کی یہ بات انکا دل دکھا گئی تھی،
“یہ سب آپ ہی کی عنایت ہے۔۔۔۔اور مام آئیندہ آپ نے شانزے پر ہاتھ اٹھایا تو یاد رکھیے گا کہ میں بھی آپ ہی کا بیٹا ہوں۔۔۔آگے جو کروں گا اسکی ذمہ دار آپ خود ہونگی۔۔۔۔”
لب بھینچے کہتا وہ انہیں گھورتا کمرے سے نکل گیا،رابیہ بیگم کے دل میں شانزے کے لیے پلتی نفرت مزید بڑھی تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سر وہ لڑکی بضد ہے۔۔۔کہہ رہی ہے ابھی ہی ملنا ہے آپ سے۔۔۔”
شادل آفس میں میٹنگ میں مصروف تھا پر تب سے کوئی تیسری مرتبہ اسکی سیکریٹری ڈور ناک کر کے بول چکی تھی،
“انہیں کہو۔۔۔پندرہ منٹ ویٹ کریں۔۔۔”
شادل بڑے تحمل سے بولا تھا،سیکریٹری کی باتوں سے اسے اندازہ ہو ہی چکا تھا کہ باہر بیٹھی وہ لڑکی یقیناً خولہ ہی ہوگی،
میٹنگ ختم کرتا وہ بیس منٹ بعد باہر نکلا تھا توقع کے عین مطابق خولہ ہی وہاں بیٹھی تھی،
“اوہ گاڈ۔۔۔تم کیا ہو شادل۔۔۔جب سے میں تمہارا ویٹ کررہی ہوں۔۔۔اور تم ہو کہ میری پرواہ ہی نہیں جیسے۔۔۔”
اسکے پیچھے آفس میں داخل ہوتی وہ مسلسل بول رہی تھی،اپنی راکنگ چئیر پر بیٹھا شادل ایک سنجیدہ نظر اس پر ڈالا تھا،
“کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تمہارے ہر ایک دن بعد یہاں آنے کی وجہ۔۔۔”
لہجہ ہمیشہ کی طرح دھیما تھا اسکا،
“اب شادی سے پہلے ہمارا ایک دوسرے کو جاننا بہتر ہوگا بس اسی لیے۔۔۔”
کندھے اچکاکر کہتی وہ اسکے سامنے بیٹھی پر شادل جھٹکے سے سیدھا ہوا،
“ایک منٹ۔۔۔شادی۔۔۔پر کس کی۔۔۔؟”
وہ اچھنبے سے گویا ہوا تھا،
“اوہ شادل۔۔۔ تم مذاق کررہے ہو کیا۔۔۔ظاہر سی بات ہے ہماری شادی۔۔۔بھئی میں نے تو تمہیں اس دن دیکھ کر ہی مما کو کہہ دیا تھا کہ آئی جسٹ لوو یور پرسنیلٹی۔۔آئی مِین تمہاری۔۔۔”
“شٹ اپ خولہ۔۔۔کچھ بھی بول رہی ہو۔۔۔ہماری شادی۔۔۔کس نے کہا تم سے۔۔۔”
وہ جو ساری شرم بالائے طاق رکھے بےباکی سے اسے سب بتارہی تھی شادل نے اچانک اسے ٹوکا،
“کس نے کہا کیا مطلب۔۔۔آنٹی نے تمہیں نہیں بتایا۔۔۔”
اب کی بار خولہ نے منہ بنائے پوچھا،اسے شادل کی بےخبری بری لگی تھی،
“امی نے مجھے کچھ بھی نہیں بتایا۔۔۔”
وہ حیرتوں میں گھرا بڑبڑایا تھا،ابھی تو وہ خود کے دل سے شانزے کے تمام خیال نکالے نارمل لائف جینے لگا تھا پر اب خولہ کا یہ سب کہنا اسے سخت پریشان کرگیا،
“اوکے نہیں آتی میں کل سے تمہارے پاس۔۔۔اب سیدھا ہماری مایوں کے دن ہی ملاقات ہوگی۔۔۔”
اسے خاموشی سے کچھ سوچتے دیکھ خولہ تپ کر اٹھی تھی اور اب شادل واقعی اپنا سر پکڑ گیا،
“مایوں۔۔۔!
سیریسلی خولہ۔۔۔”
اسکی طرف دیکھتا شادل بےیقین لہجے میں پوچھا،
‘اوہ گاڈ شادل۔۔۔اب تمہیں کیا یہ بھی نہیں معلوم کے اگلے مہینے ہی رابیہ خالہ اور مرتضیٰ خالو نے ڈیٹ رکھی ہے۔۔۔”
یہ بات کہتے خولہ کا خود بھی دماغ گھوما تھا تبھی وہ بلند آواز میں بولی،اسکی نظر میں کوئی انسان کیسے اپنی ہی شادی سے بلکل بےخبر رہ سکتا تھا،
شادل کا دماغ ماؤف ہونے لگا تیزی میں اٹھتا وہ خولہ کو نظرانداز کہے مرتضیٰ صاحب کے پاس گیا تھا پر وہاں جاکر اس بات کی تصدیق پر اسے شدید جھٹکا لگا،اس نے مرتضیٰ صاحب کو انکار کیا پر ناجانے رابیہ بیگم نے ان سے کیا کہا تھا کہ وہ الٹا شادل کو سمجھانے لگے،آخر کار انکی کافی دیر تک کی بحث کے بعد شادل دل سے تو نہیں پر ان لوگوں کی خوشی دیکھ اوپری رضامندی ظاہر کر کے فوراً نکلا تھا آوفس سے،ایک بار پھر گھٹن سی ہوئی تھی دل میں،اندر ہی کہیں یہ شکایت پھر سر اٹھائی تھی کہ کیوں ہمیشہ اس ہی کے ساتھ ناانصافی ہوجاتی پر وہ پوٹیٹوو نیچر کا مرد خود کو پھر غلط سوچوں سے رہائی دلانے کے لیے ساحلِ سمندر کی طرف نکلا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسلسل ہوتی دستک پر الشبہ نے جلدی سے جاکر گیٹ کھولا پر سامنے کھڑی شخصیت کو دیکھ اسکی آئبرو حیرت سے اٹھیں،
“اندر بلانے کی بھی کوئی رسم ہے کیا سسٹر اِن لاء۔۔۔”
مقابل کے بھاری لہجے میں واضح طنز کا انثر محسوس کیے وہ فوراً برابر میں ہوئی تو پیام اندر داخل ہوتا ایک نظر چاروں طرف ڈالا،وہ ایک چھوٹا سا صحن تھا پر گھر اندرونی حصّے سے اسے باتوں کی آواز آئی تو اپنے قدم آگے بڑھایا،اندر آنے پر دیکھا تو شانزے اور جمیلہ بیگم سائیڈ میں بنے چھوٹے سے اوپن کچن میں کچھ بناتے ہوئے باتوں میں مصروف تھیں،
“ہائے۔۔۔”
بھاری مردانہ آواز پر دونوں کا چلتا ہاتھ زبان سمیت رکا تھا،جمیلہ بیگم کی نظر اس پر پڑی تو انہیں خوشگوار حیرت ہوئی پر شانزے آنکھیں پھیلائے اسے دیکھی،چہرہ خودبخود بگڑا تھا،وہ جو سوچ رہا تھا کہ محترمہ اسکے آنے پر خوش ہوں گی پر اب اسکی بگڑی شکل دیکھ پیام کا دل برا ہوا،
“ارے بیٹا بیٹھیں۔۔۔”
اسے چپ چاپ شانزے کو تکتا پاکر جمیلہ بیگم آگے بڑھتی خوش دلی سے بولیں،انکے اچھے اخلاق پر پیام لحاظ کرتا لاؤنج میں بنے صوفے پر بیٹھا تھا،
“کیوں آئے ہو تم یہاں۔۔؟”
شانزے کا موڈ خراب ہوا تھا اسے دیکھ کر،اچھا خاصا وہ اسکے آنے سے پہلے ہی اپنے گھر آچکی تھی تاکہ کچھ دن کے لیے ہی صحیح پر اس سے جان چھوٹے لیکن،
“بیٹا کیسے بات کررہی ہو۔۔۔شوہر ہے وہ تمہارا۔۔۔”
جمیلہ بیگم کو شانزے کا لہجہ کافی عجیب لگا تبھی وہ ٹوکی،
“چھوڑیں آنٹی۔۔۔اسکی تو عادت ہے مجھ سے یونہی بات کرنے کی۔۔۔”
جمیلہ بیگم کے ٹوکنے پر شانزے کو چپ ہوتا دیکھ وہ لاپرواہی سے بولا،لہجہ شکایتی تھا،
“شانزے۔۔۔یہ میں کیا سُن رہی ہوں۔۔۔”
اسکی بات حیرت سے سنتی جمیلہ بیگم اب وہی کھڑی شانزے سے استفسار کرنے لگیں جو زبردست گھوری پیام کو نوازتی سر جھکا گئی تھی،جانتی تھی اگر انہیں بتائے گی کہ خود انکا داماد بھی کچھ کم نہیں تو الٹا وہ اسے ہی ڈانٹیں گی،اسے اپنی ماں کے سامنے یوں خاموش دیکھ پیام لب دبائے مسکرایا تھا،
“بیٹے آپ بیٹھو۔۔۔کھانا بس تیار ہے میں لگاتی ہوں۔۔۔”
پیام کو مسکراکر دیکھتی وہ بول کر کچن کی طرف جانے لگیں،
“آ۔۔۔نہیں آنٹی۔۔۔ایکچولی میں شانزے کو لینے آیا ہوں۔۔رکوں گا نہیں۔۔۔بس تم فوراً آجاؤ سامان لے کر اپنا۔۔۔”
جمیلہ بیگم کو کہتا وہ اب شانزے سے مخاطب ہوا جس پر حیرت سے وہ اسے دیکھی تھی،
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔ڈیڈ نے کہا ہے تمہیں لانے۔۔۔”
اسے ہوں خود کو گھورتا پاکر وہ جلدی سے اپنی صفائی پیش کرتا بولا،انا گوارا نہیں تھی کہ اس پر کچھ ظاہر کرتا،
“پر میں تو ابو سے اجازت لے کر ہی آئی تھی امی۔۔۔”
اسے ایک نظر دیکھ کر شانزے جمیلہ بیگم کو بتانے لگی تو وہ بھی اب پیام کو حیرت سے دیکھیں،
“بھئی مجھے نہیں پتا کچھ۔۔۔انہوں نے تمہیں لانے کا کہا ہے۔۔۔چلنا ہے تو چلو۔۔۔”
اپنی بات پر پردہ ڈالنے کے لیے وہ چہرے پر کوفت بھرے تاثرات لاتا بولا پھر کیا،جمیلہ بیگم نے شانزے کو بیگ لانے کا کہا،شانزے نے بھی زیادہ ضد نہ کی،ظاہر سی بات تھی وہ مرتضیٰ صاحب کی عزت کرتی تھی تبھی ناچار پیام کے ساتھ اسے جانا پڑا،
لیکن گھر پر مرتضیٰ صاحب کو نہ پاکر وہ حیرت کا شکار ہوئے پیام کو گھوری تھی جو اسے مذاق اڑاتی مسکراہٹ سمیت دیکھتا باہر جانے کے لیے مرتضیٰ ہاؤس سے نکلا تھا اسے اپنا شک صحیح لگا تھا مطلب وہ خود ہی اسے لینے پہنچا تھا پر کیوں،بےساختہ شانزے کو رونا آیا آخر کیوں وہ اسے پریشان کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو آخر کار بھوک برداشت نہ ہونے پر تحریم اپنے روم سے نکلی،فرزانہ بیگم کو کچن میں ناپاکر وہ جلدی سے ریک سے پلیٹ اٹھاتی اپنا کھانا نکالنے لگی،بھوک کی شدت پر وہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے جلدی جلدی کھانا کھارہی تھی،باہر سے آتا باسط جب اسے یوں کھانا کھاتے دیکھا تو تھوڑا حیران ہوا،وہ نزاکتوں سے بھری لڑکی،اسکا یہ انداز،ہر طرف سے غافل اس طرح کھانے میں مگن وہ بہت معصوم سی لگی تھی اسے ناچاہتے ہوئے بھی لب ہلکی مسکراہٹ میں ڈھلے پر اچانک ہی ذہن میں اسکی بدتمیزیاں آئیں تو ناگواری سے نفی میں سرہلاتا وہ روم میں چلاگیا،نوکری کے لیے اس نے آج ہی سی وی جمع کرائی تھی اب بس کال کا انتظار تھا،آخر کب تک وہ باپ کی ملی گئی پینشن پر گزارا کرتا،کچھ تو کرنا ہی تھا اسے بھی،
پیٹ بھرنے پر کھانا کچن میں رکھے وہ پرسکون سی کمرے میں داخل ہوئی لیکن وہاں باسط کو بیڈ پر لیٹے موبائل میں مصروف دیکھ وہ چونکی،
“یہ کب آیا۔۔؟”
تحریم حیرت سے سوچی پھر سر جھٹکتی آکر سیدھا صوفے میں بیٹھی،وہ اب تک کالج یونیفارم میں ہی تھی جس سے اسے الجھن ہونے لگی،گھر پر تو وہ کالج سے آتے ہی یونیفارم چینج کرتی پر یہاں تو اسکے کپڑے تک نہیں تھے نہ موبائل کہ وہ تھوڑا ٹائم پاس ہی کرلے،تبھی ڈور بیل پر وہ اور باسط دونوں ایک ساتھ چونکے،باسط اٹھ کر دیکھنے گیا،
کچھ دیر بعد باہر آکر شادل رابیہ بیگم اور مرتضیٰ صاحب کو دیکھ تحریم کا چہرہ کھلا تھا،آنکھوں میں بےساختہ نمی جھلکی،وہ بھاگ کر جاتی روتے ہوئے مرتضیٰ صاحب سے لپٹ گئی،فرزانہ بیگم بھی اپنے کمرے سے باہر نکلی تھیں،
“بس میرا بچہ چپ ہو جاؤ۔۔۔۔”
رابیہ بیگم باسط اور فرزانہ بیگم کو تحقیر سے دیکھتیں اسکی پشت تھپتھپائے شیریں لہجے میں بولی،
“بیٹا آپ رو کیوں رہی ہیں۔۔۔آخر آپ بھی یہی چاہتی تھیں۔۔۔”
ناچاہتے ہوئے بھی مرتضیٰ صاحب کا لہجہ شکایتی ہوا تھا،بیٹی کا یوں اچانک اتنا بڑا قدم کسی بھی باپ کے لیے دکھ کا باعث ہی ہوتا ہے،
“نو ڈیڈ۔۔۔یہ سب میری رضامندی سے نہیں ہوا۔۔۔اس نے زبردستی نکاح کیا تھا۔۔۔”
اپنے ماں باپ کا سہارا ملتے ہی وہ جلدی سے سچ بول دی،کل سے اب تک یہاں رہتے اسکا دم گھٹ رہا تھا،وہ بس جلد سے جلد اپنے گھر جانا چاہ رہی تھی،جہاں باسط اسکے سچ بولنے پر نظر جھکایا تھا وہی شادل اور مرتضیٰ صاحب بےیقین نظروں سے اسے دیکھنے لگے،فرزانہ بیگم بھی خود کو مجرم تصور کی تھیں،
“دیکھا میں نے کہا تھا کہ اس نکاح میں تحریم کی رضامندی زرا بھی شامل نہیں ہوگی۔۔۔۔ارے میں اچھے سے جانتی ہوں اپنی بیٹی کو۔۔۔اسکی چوائس اتنی بےکار کبھی نہیں ہوسکتی۔۔۔”
انکے چھوٹے گھر پر چوٹ کرتیں وہ نخوست سے گویا ہوئیں تبھی مرتضیٰ صاحب کی ایک گھوری انہیں خاموش کراگئی،
“گڑیا یہ بات تم نے مجھے کل کیوں نہیں بتائی۔۔۔”
شادل حیرت بھرے لہجے میں پوچھا جس پر تحریم نے ایک چور نظر باسط کو دیکھا پر وہ اسے نہیں دیکھ رہا تھا،ضبط سے جبڑے بھینچے زمین پر اسکی نظریں گڑیں تھیں،
شادل بخوبی تحریم کا مطلب سمجھ چکا تھا،اس نے تاسف سے باسط کو دیکھا پر اس سمیت فرزانہ بیگم کا جھکا سر دیکھ وہ مرتضیٰ صاحب کو دیکھنے لگا،جیسے آگے کے فیصلے کا منتظر ہو،
“بہن۔۔۔کیا میں اپنی بیٹی کے حوالے سے آپ پر بھروسہ کر سکتا ہوں۔۔۔”
انکا دھیمے لہجے میں فرزانہ بیگم سے پوچھا گیا سوال سن کر ایک طرف شادل کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی،جانتا تھا اسکا باپ ہمیشہ سے طلاق کے خلاف رہا ہے تو یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو طلاق دلوا دیتے،
“یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔مرتضٰی ان غریبوں کے حوالے کریں گے کیا آپ ہماری بیٹی۔۔۔”
رابیہ بیگم ہتے سے ہی اکھڑ گئی انکا سوال سمجھتے ہی،تحریم جو ناسمجھی سے سب کو دیکھ رہی تھی ماں کی بات پر وہ ساکت نظروں سے اپنے باپ کو دیکھی تھی،وہ تو اس امید سے ان کو سب بتائی تھی کہ باسط کی بےعزتی کرے اگلے ہی لمحے وہ اسے یہاں سے لے چلیں گے،
“رابیہ بیگم۔۔۔باسط نے جو کیا وہ واقعی سراسر غلط ہے۔۔۔پر ساتھ ہی مجھے ان پر بھروسہ ہے کہ یہاں ہماری بیٹی بلکل ٹھیک رہے گی۔۔۔آخر کو یہ شانزے کی خالہ جو ہیں۔۔۔اور اس کے گھر سے منسلک کوئی فرد مجھے نہیں لگتا کہ غلط ہوگا۔۔۔ساتھ ہی ہمارے خاندان میں کبھی کسی کی طلاق نہیں ہوئی تو میں کیسے اپنی بیٹی کو آنا کی سلامتی کے لیے برباد کروں۔۔۔”
انکی سمجھداری سے کی گئی بات پر جہاں فرزانہ بیگم کو ڈھارس ملی وہی تحریم بےبسی سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی پھر یکدم پھٹ ہی پڑی،
“برباد تو آپ مجھے یہ رشتہ قائم رکھنے پر کررہے ہیں ڈیڈ۔۔۔۔میں ان لوگوں میں کیسے رہوں گی۔۔۔یہ لوگ غریب طبقے کے۔۔۔انکا تو خود گزارا نہیں ہوتا۔۔۔میرا کیا خاک خرچ اٹھائیں گے۔۔۔ڈیڈ۔۔۔میں یہاں نہیں رہ سکتی۔۔۔دم گھٹ جائے گا یہاں پر میرا۔۔۔آپ مجھے لے چلیں یہاں سے۔۔۔”
پیر پٹخ کر مسلسل چیختی وہ باسط کا صبر آزمائی تھی،اسکی حقارت بھری باتوں کے زیرِ اثر وہ سرخ آنکھوں سے زمین کو گھورتا کمال ضبط کا مظاہرہ کیے اپنی مٹھیاں بھینچ گیا،
“گڑیا ابو کی جو بات ابھی آپ کو غلط لگ رہی ہے۔۔۔کل کو آپ اسی بات کو سراہیں گی یقیناً۔۔۔اپنے بھائی پر بھروسہ ہے نا آپ کو۔۔”
اسے یوں چیختا دیکھ شادل آگے بڑھا تھا پھر اسے بازوؤں سے تھامے محبت سے بولا،
“نہیں ہے بھروسہ مجھے کسی پر۔۔۔میری لائف برباد کررہے ہیں آپ لوگ۔۔۔پہلے پیام بھائی کی زندگی خراب کی۔۔۔انکی مرضی کے خلاف اس مڈل کلاس سے اسکا نکاح کرادیا اور اب۔۔۔اب میرے پیچھے پڑیں ہیں آپ لوگ۔۔۔”
کل سے اندر پلتی بھڑاس تھی جو اب وہ ان سب پر اتار رہی تھی،
“مرتضیٰ ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے میری بیٹی۔۔۔بھئی زندگی اسے گزارنی ہے تو مرضی بھی تو اسکی ہونی چاہیے۔۔۔اگر یہ کہہ رہی ہے کہ اس رشتے سے منسلک نہیں رہ پائے گی تو مان جائیں۔۔۔”
رابیہ بیگم انہیں خاموش دیکھ کر عاجزی سے بولیں،بیٹی کا تڑپنا برداشت نہیں ہوا تھا ان سے،
“شادل۔۔۔داد بخش سے کہو ڈگی سے سبھی سامان نکال لائے تحریم کا۔۔۔”
کچھ دیر بعد مرتضیٰ صاحب کی بھاری مگر مضبوط آواز پر تحریم بھرائی ساکت آنکھوں سے انہیں دیکھی تھی،
شادل سر ہلاتا باہر گیا پھر چند منٹ بعد داد بخش کے ساتھ تین بیگ سمیت اندر آیا تھا،
“میں نہیں رہوں گی ڈیڈ یہاں پر۔۔۔”
غصے میں وہ ہڈ دھرمی سے بولی،
“آپ یہی رہیں گی تحریم۔۔۔”
انکا لہجہ اٹل تھا،تحریم بےبسی سے گھٹنوں کے بل بیٹھی وہی پر رونے لگی تھی،اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ سب کچھ تہس نہس کردے،ذہن میں یہ بات آئی کہ وہ کیا منہ دکھائے گی سب کو کہ کس لائیر کلاس میں اسکی شادی ہوئی تھی،
“تحریم۔۔۔!”
رابیہ بیگم اسے یوں روتے دیکھ نیچے جھکی تھی پر غصے میں انکا ہاتھ جھٹکتی وہ اندر کی جانب بھاگی تھی،
کچھ دیر کے بعد فرزانہ بیگم نے سب کو بیٹھنے کی دعوت دی رابیہ بیگم تو شکل بگاڑتی انکے گھر کو دیکھ رہی تھیں البتہ مرتضیٰ صاحب اور شادل انکے کہنے پر صوفے پر بیٹھے تھے،مرتضٰی صاحب کی خوش اخلاقی دیکھ باسط کو عجیب سی گِلٹ فیل ہوئی تھی پر شادل کا دوستانہ لہجہ اسے کچھ نارمل کرگیا تھا،
کافی دیر تک باتیں کرنے کے بعد مرتضیٰ صاحب ٹائم دیکھتے اٹھے تھے،فرزانہ بیگم سے رخصت لے کر وہ لوگ وہاں سے نکلے تھے پر باہر آکر کار میں بیٹھنے سے پہلے مرتضیٰ صاحب رکے اور باسط کی طرف پلٹے جو انہیں گیٹ تک چھوڑنے آیا تھا،
“آپ نے جو حرکت کی وہ معافی کے قابل تو نہیں پھر بھی بیٹی کا منہ دیکھ کر میں خاموش ہوں۔۔۔اُمید ہے کہ مجھے نااُمید نہیں کریں گے آپ۔۔۔کوشش کیجیے گا کہ میرے فیصلے پر آگے جاکر مجھے پچھتاوا نہ ہو۔۔۔”
دھیمے سنجیدہ لہجے میں کہی انکی بات پر باسط دھیرے سے اثبات میں سر ہلاگیا،وہ تو خود چاہ رہا تھا کہ مرتضیٰ صاحب آج ہی لے جائیں تحریم کو پر انکے فیصلے پر لحاظ کرتا وہ خاموش رہا اور اب انکی اس بات پر باسط زبیر کو یقین ہوگیا تھا کہ ساری زندگی اس بگڑی نواب زادی کے ساتھ ہی گزارنی ہے تو تقدیر کے فیصلے پر آخر کار ہار مانتا وہ ان لوگوں کے جانے کے بعد خاموشی سے اندر آگیا تھا،لاونج سے تحریم کے بیگز اٹھائے وہ کمرے کی جانب گیا،اندر داخل ہوتا وہ جو کچھ دیر لیٹ کر ریلکس ہونا چاہ رہا تھا پر اب کمرے کا حشر دیکھ بےساختہ اسکی پیشانی پر رگیں ابھری،ساری چیزیں ادھر ادھر پھینکے ڈریسنگ پر رکھے پرفیومز توڑے بیڈ کی چادر تکیے سب پھیلائے وہ اب پرسکون سی دونوں بازو فولڈ کیے صوفے پر بیٹھی تھی،اسکی یہ حرکت دیکھ باسط سمجھ چکا تھا کہ وہ اب نیا حربہ اپنائی تھی اسے پریشان کرنے کا تاکہ تنگ آکر وہ خود ہی چھوڑ دے اسے،دل تو چاہا کہ دو تھپڑ رکھ کے اس بدتمیز لڑکی کو مارے پر مرتضیٰ صاحب کی بات یاد آنے پر خود پر ضبط کیے وہ واشروم کی جانب گیا اس بات سے بےخبر کے ایک اور جھٹکا اسکا منتظر تھا،ٹائلز پر ہر طرف شیمپو فیس واش گرے جبکہ کونے میں بنی چھوٹی سی کیبنٹ خالی تھی اور اس میں سلیقے سے رکھی ساری چیزیں اب نیچے گری اپنی بےقدری پر ماتم کناں تھی یہاں تک کہ اس نے دیوار پر نسب شیشہ بھی نہیں بخشا عجیب ہی نقش و نگار بنائے تھے کسی پرمینینٹ مارکر سے،واشروم کا حال کمرے سے بھی بدتر دیکھ اسکے سر میں شدت سے درد اٹھا،سمجھ نہ آیا کیا کرے اس لڑکی کا پر تبھی ذہن میں جو ترکیب آئی وہ باسط کے لبوں پر مسکراہٹ سجاگئی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
