Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373

Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Last updated: 17 November 2025

422K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz

"شادی سے پہلے تمہارا کس کس کے ساتھ افئیر تھا۔۔۔" سپاٹ تاثرات سمیت وہ پوچھی جس پر پیام چونکا، "یہ کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔" پیام لیٹے سے اٹھ کر بیٹھا تھا، "جو پوچھا ہے وہ بتاؤ۔۔۔کیا تم۔۔۔تم کسی لڑکی کے ساتھ فز۔۔فزیکل ریلیشن میں۔۔۔رہے ہو۔۔۔" کتنا مشکل ثابت ہورہا تھا یہ پوچھنا اس سے،اب کی بار پیام چونکا تھا، "ایک منٹ۔۔۔آج میرا انٹرویو لینے کا ارادہ ہے کیا۔۔۔" اسکی بات کو مذاق میں لیتا وہ گویا ہوا، "پیام۔۔۔میں سیریس ہوں۔۔۔" اسکا لائٹ رویہ دیکھ شانزے کو غصہ آنے لگا، "وائفی میں بھی سیریس ہوں۔۔۔اتنے دن ہوگئے اب تو میں نے کوئی چھچھورہ پن بھی نہیں کیا پھر بھی تم مجھے اپنے قریب نہیں آنے دیتی۔۔۔" وہ مکمل شانزے کی باتوں کو نظرانداز کرتا اپنے ہی دکھ سنارہا تھا، "مجھے آج راستے میں ایک لڑکی ملی تھی۔۔۔" اب شانزے نے اس سے دوٹوک بات کرنا چاہی تبھی پیام کو اس لڑکی سے ملنے پر ہوئی ساری باتیں بتاگئی، شانزے کی بات مکمل ہونے پر وہ چند پل خاموشی سے اسے تکتا رہا پھر اچانک ہی پیام کی ہنسی چُھوٹی،وہ جو بےچین سی ہوکر اسے سب بتائی تھی اب اسکے رئیکشن پر لب بھینچ گئی، "اوہ وائفی۔۔۔تمہیں کوئی بھی یوں بیچ راستے پر جوک سنادے گا اور تم یقین کرلو گی۔۔۔مجھے تو لگا تم تھوڑی عقل مند ہو۔۔۔پر آج سمجھ آیا کہ تم تو پوری عقل "بند" ہو۔۔۔" اسکا مذاق اڑاتا وہ ہنسنے لگا تھا،شانزے کا غصہ پل پل بڑھنے لگا، "پیام مجھے اس لیے ڈر لگ رہا ہے کہ شادی سے پہلے تمہارا کتنی ہی لڑکیوں کے ساتھ۔۔۔" اپنی بات روک کر وہ بےبسی سے پیام کو دیکھی، "میرا کتنی ہی لڑکیوں کے ساتھ کیا۔۔۔" وہ آبرو اچکائے پوچھا، "میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں پیام۔۔۔بات کو سمجھو وہ لڑکی رورہی تھی۔۔۔" "شانزے کسی نے پرینک کیا ہوگا تمہارے ساتھ۔۔۔ابھی چھوڑو میرا موڈ فضول میں خراب ہو جائے گا۔۔۔" اب وہ لہجے کو سنجیدہ بنائے بولا پر آنکھیں پھر بھی مسکارہی تھیں، "ٹھیک ہے۔۔تمہیں مذاق سوجھا ہے ہے نا۔۔۔تو کرتے رہو اپنے آپ۔۔۔عجیب انسان ہو کچھ پوچھ رہی ہوں۔۔جواب دینے کے بجائے الٹا مستی کررہے ہو۔۔۔" اسکے سیریس نہ ہونے پر شانزے جھنجھلاکر رہ گئی، "اچھا کیا جاننا ہے تمہیں مجھ سے۔۔۔پوچھو۔۔" اس بار چہرے پر سیریس ایکسپریشن لاتا وہ بولا، "مجھے صرف اتنا جاننا ہے کہ کیا تم کسی حمنہ نامی لڑکی کو جانتے ہو۔۔۔اس نے یہ۔۔۔یہ رپورٹ دکھائی مجھے۔۔" اسے سنجیدہ ہوئے دیکھ وہ بھی جلدی سے تکیے کے نیچے رکھی وہ رپورٹ پیام کے سامنے لہراتی پوچھی تو پیام نے پہلے سوچنے کی ایکٹنگ کی پھر کہا، "ہوگی پیام مرتضیٰ کی کوئی دیوانی۔۔۔اور یہ فضول سے پیپرز تو کوئی بھی چند روپے میں بنوالے گا۔۔۔" اسکے ہاتھ سے رپورٹ لے کر بیڈ پر پھینک کر مزے سے کہتا وہ شانزے کے قریب ہوا تھا، "پیام میرا صبر مت آزماؤ۔۔۔" پتا نہیں کیوں پر شانزے کو شدید غصہ دلارہا تھا اسکا سنجیدہ نہ ہونا، "فلحال تم میرا صبر نہ آزماؤ وائفی۔۔۔" شانزے کی کمر کے گرد بازو حائل کیے وہ اسے خود سے لگاتا جھکنے لگا تھا پر تبھی پیام مرتضیٰ کو بہت برا جھٹکا لگا جب شانزے نے غصے میں اسکے گال پر تھپڑ مارا،اسکے گرد حائل گرفت بےاختیار ڈھیلی ہوئی تھی جس پر شانزے پیام کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے دھکا دے کر دور کی تھی،وہ ایک قدم پیچھے ہٹا تھا، پیام مرتضیٰ کی آنکھیں پل میں انگارہ ہوئیں،گردن پر رگیں ابھری تھی،لال بھبھوکا چہرہ شانزے کی طرف کرتا وہ اسے گھورا تھا، "ہاتھ کیسے اٹھایا۔۔۔" دانت پر دانت جمائے وہ بہت ہی ضبط سے پوچھا، "ت۔۔تم۔۔۔پہلے میری۔۔۔بات کا جواب۔۔دو۔۔۔وہ لڑکی کون۔۔۔" "ہاتھ کیسے اٹھایا۔۔" شانزے کی الفاظ ہی دم توڑ گئے جب وہ جھٹکے سے اسکے دونوں بازو دبوچ کر اپنی طرف کھینچتا دھاڑا،شہد رنگیں آنکھیں سہمی تھیں مقابل کا غصہ دیکھ، "بولو۔۔۔" ایک بار پھر وہ چیخا کہ شانزے کانپ کر رہ گئی،یہ غصہ اس نے آخری دفعہ تب ہی دیکھا تھا پیام کا جب رابیہ بیگم نے اسے تحریم کے اغواہ کا بتایا تھا،اور اب پھر اس پر وہی روپ شانزے کو ڈرا گیا،گردن اور پیشانی پر ابھرتی رگیں اندر کے اشتعال کا واضح پتا دے رہی تھیں،آنکھیں پھیلائے وہ بغور اسکا سرخ چہرہ دیکھنے لگی، "وہ۔۔۔م۔۔میں۔۔۔غلطی۔۔۔سے۔۔۔وہ لڑ۔۔لڑکی۔۔۔" اسے اپنا سوال ہی بھول گیا،ہکلاکر کہتی وہ رکی جب پیام کی لوہے کے مانند انگلیاں اسے اپنے بازو میں دھنستی محسوس ہوئیں، "تمہیں بیچ سڑک راستے میں کون لڑکی ملی یا اس نے تم سے کیا کہا۔۔۔پیام مرتضیٰ کو زرا فرق نہیں پڑتا۔۔۔تم نے اسکی بات پر یقین کرکے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔پیام مرتضیٰ کو اِس پر فرق پڑا۔۔۔ایک بات بتاؤ شانزے مرتضیٰ۔۔۔تم اس لڑکی کو جانتی تھی کیا۔۔۔" اسکے بازوؤں پر گرفت کافی سے بھی زیادہ سخت کیے وہ غرارہا تھا،دوسری جانب شانزے جو پیام کے اس رویے کی بلکل عادی نہیں تھی بےاختیار اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے،اسے وحشت ہونے لگی پیام کے اس رویے پر تبھی اسکی گرفت میں مچلتی وہ دور ہونے لگی، "بولو۔۔۔کیا جانتی تھی تم اس لڑکی کو۔۔۔؟" شانزے کی مزاحمت پر جھٹکے سے اسے اپنے حد درجہ قریب کرتا وہ دھیمے لہجے میں پوچھا، بازوؤں میں تکلیف بڑھنے پر وہ بھیگے گال سمیت جلدی سے نفی میں سرہلائی جس پر پیام جھٹکے سے اسے چھوڑا تھا،اسکی سخت گرفت سے شانزے کو اب اپنے بازو اکڑتے محسوس ہوئے، "مجھے جو بتانا تھا وہ میں اس ہی رات تمہیں بتا چکا تھا۔۔۔۔۔اب پیام مرتضیٰ کسی بات کی بھی وضاحت نہیں دے گا۔۔۔تم مجھ پر یقین کرو یا نہ کرو۔۔۔مجھے زرا پرواہ نہیں۔۔۔اور ایک بات۔۔۔۔آج جو تم نے کیا ہے۔۔۔یہ حق صرف ماں باپ تک اچھا لگتا ہے۔۔۔لحاظہ آئندہ اپنی حد میں رہنا۔۔۔" شانزے کو لہو رنگ نظروں سے گھور کر وہ اسکے تھپڑ مارنے پر وارننگ دیا تھا،اپنی بات پوری کرنے کے بعد پیام بیڈ سے رپورٹ اٹھاتا نکلا تھا روم سے،جاتے ہوئے گیٹ وہ جس زور سے بند کیا تھا دھاڑ کی آواز پر شانزے کا دل اچھل کر حلق پر آیا،اسکے جانے کے بعد شانزے بیڈ پر بیٹھتی ہچکیوں سے رونے لگی،یہ کیا کر بیٹھی تھی وہ،غصہ تک ٹھیک تھا پر ہاتھ کیسے اٹھاسکتی تھی وہ پیام پر،لیکن آچانک ہی حمنہ کی کہی باتیں اور وہ رپورٹ ذہن میں آئی تو چہرہ ہاتھوں میں چھپائے وہ بآواز رونے لگی،