Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 23)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 23)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
گیٹ مسلسل بجنے پر اسکی نیند ٹوٹی تھی،آنکھیں مسلتا وہ اٹھ کر گیٹ کو گھورا تبھی واشروم کا دروازہ کھلا،پیام کے تاثرات پل میں بدلے شانزے کے نکھرے روپ کو دیکھ کر،دوپٹہ اٹھاکر ٹاؤل میں مقید بال کے ساتھ وہ بنا پیام پر ایک نظر ڈالے گیٹ کی طرف بڑھی تھی،عنابی لب مسکراہٹ میں ڈھلے اسکے انداز پر،
“آج کیا باہر آنے کا ارادہ نہیں تمہارا۔۔۔”
شانزے کے گیٹ کھولنے پر رابیہ بیگم کی سخت آواز پیام کو سنائی دی تو وہ چونکا،ساتھ ہی لبوں پر ٹہری نرم مسکراہٹ غائب ہوئی،پھرتی سے بیڈ سے اٹھتا وہ گیٹ پر آیا،
“فوراً باہر آ۔۔۔”
رابیہ بیگم کو اپنی آواز حلق میں اٹکتی محسوس ہوئی جب پیام شانزے کو سائیڈ کرتا سامنے آیا،انہیں شدید حیرت ہوئی،پیام کی نیند ہمیشہ سے پکّی ہوتی،وہ آج تک خود سے اتنی جلدی نہ اٹھا تھا پھر ابھی کیسے،
“جی۔۔۔۔فرمائیں۔۔۔”
سیریس ایکسپریشن سمیت وہ آئبرو اچکاکر پوچھا،رابیہ بیگم جلدی سے زبردستی مسکرائیں،
“بیٹا۔۔۔وہ میں شانزے بیٹی کو بولنے آئی تھی کہ اتنی دیر ہوگئی تو ناشتہ تیار کرنا ہے۔۔۔”
اس سے بات کرتے انکا لہجہ بلکل شیریں ہوا،شانزے نے ایک نظر بھی پیام کی طرف نہ دیکھا،
“میں پانچ منٹ۔۔۔”
“مرتضیٰ ہاؤس میں نوکروں کی فوج مفتہ توڑنے کے لیے رکھی گئی ہے۔۔۔”
ابھی شانزے کہنے ہی لگی تھی کہ اسکی بات کاٹتے ہنوز سنجیدگی سے وہ بولا جس پر رابیہ بیگم کی مسکراہٹ غائب ہوئی،
“پر بیٹا۔۔۔ڈیڈ کو شانزے کے ہاتھ کے ناشتے کی عادت ہے۔۔۔”
اب کے انہوں نے لہجے میں بےچارگی گھولی تبھی شانزے فوراً کہنے لگی،
“میں آتی ہوں امی۔۔۔”
اسکی بات پر جہاں رابیہ بیگم پرسکون ہوئیں وہیں پیام شانزے کو گھورا،رابیہ بیگم کے جانے کے بعد وہ گیٹ بند کرتی مڑی،پیام جو خاموشی سے اسکی حرکت نوٹ کررہا تھا جھٹکے سے اسکا ٹاؤل پکڑ کر کھینچا،شانزے کے بھیگے بال لہرائے،پیام کے چہرے پر پانی کی بوندیں پڑیں جو اسے مسرور کرگئیں،بند آنکھوں سے انہیں محسوس کرتا وہ ایک آنکھ وا کیے سامنے دیکھا جہاں شانزے کی پریشان نظر اس ہی پر تھیں پر پیام کے دیکھتے ہی وہ نگاہ پھیرتی جلدی سے ڈریسنگ سے برش اٹھائی،دو قدم کا فاصلہ طے کر کے پیام اسے برابر میں کھڑا ہوا تھا،اسے اگنور کرتی وہ بال سنوارنے لگی،پر اگلے ہی لمحے ہاتھ روک کر سسکی جب پیام آہستگی سے جھک کر اسکی کان کی لُو کو اپنے دانتوں میں لیا تھا،سینے میں وہ چار مہینوں سے اپنی نارمل رفتار پر دھڑکتا دل آج زور سے دھڑک کر رہ گیا اس لمس سے،کان کی لُو پر سے دانت ہٹاکر وہ ایک نظر اسکا چہرہ دیکھا تھا جو اپنے تاثرات سپاٹ رکھنے کی ناممکن کوشش کررہی تھی پر بری طرح سرخ ہوتے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار اسکی کوشش ناکام بنانے میں بھرپور کردار ادا کررہے تھے،
ایک مرتبہ پھر وہ جھکا تھا اس پر پھر آہستگی سے شانزے کے روئی جیسے گال کو اپنے دانت کی گرفت میں نرمی سے لیا تھا،آنکھیں موندے شانزے ڈریسنگ پر ہاتھ رکھی،وہ لڑکھڑانے لگی تھی،اب برداشت ہی کہاں ہورہی تھیں مقابل کی یہ گستاخیاں،
“پل۔۔پلیز۔۔۔”
دانت کا دباؤ ہلکا سا بڑھا تو وہ اچانک کپکپاتے بولی تبھی اپنا چہرہ اس سے دور کرتے وہ شانزے کا چہرہ ہاتھ کے پیالے میں لیا تھا،
“تم۔۔۔بدل گئی ہو۔۔۔وائفی۔۔۔”
وہ بہت دھیمے لہجے میں بولا تھا جیسے اپنی ہی بات پر یقین نہیں کرپارہا ہو،کیونکہ پیام کی ایسی حرکتوں پر شانزے چڑتی یا پھر غصے میں اس سے بھی حساب بےباک کرتی،ناچاہتے ہوئے بھی شانزے کی آنکھیں بھیگیں اسکے لہجے پر تبھی فوراً پیام کا ہاتھ ہٹاتی وہ جلدی سے دوپٹہ سر پر قرینے سے سیٹ کیے روم سے باہر نکلی،سیڑھیوں پر پہنچ کر اس نے گال اور کان پر اب تک محسوس ہوتے اسکے دہکتے لمس کو غصے میں رگڑا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات شادل کے جانے کے بعد اکبر صاحب تو نڈھال سے بیٹھے رہے،وہ یاد کرنے کی کوشش میں تھے کہ کہاں غلطی ہوئی تھی انکی تربیت میں،شانزے تو ایسی نہیں تھی،اول کے اس کا دھیان کبھی ان سب پر نہ جاتا اور جب شادل نے اسے پروپوزل بھیجا تب اس نے فوراً یہ بات گھر پر بتائی تھی جمیلہ بیگم کو پھر کیسے الشبہ یہ قدم اٹھا سکتی تھی،وہ لوگ تو اسے بچی سمجھتے تھے پر اب،جو اس نے کیا اسکے لیے اکبر صاحب اسے کبھی معاف نہیں کرنے والے تھے،اپنی بیٹیوں پر اندھا اعتماد کرنے والی جمیلہ بیگم کا زندگی میں پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھا تھا الشبہ پر اور کل وہ بہت بری طرح ماریں تھی الشبہ کو،مارتے مارتے خود بھی رونے لگی تھیں وہ اور کیوں نہ روتیں،آخر کو بھروسہ ٹوٹا تھا انکا،الشبہ پر جیسے چپ ہی لگ گئی تھی،اتنی مار کے باوجود وہ بلکل خاموش تھی،جیسے خود کو بھی حق دار سمجھتی ہو ان سب کی،شادل کے الفاظ کس قدر گڑھے میں گراگئے تھے اسے کہ اس جیسی لڑکی کسی کی محبت تو کیا ہمدردی کے بھی لائق نہیں،رات بھر وہ عبید اور شادل کے کہے گئے الفاظوں کے زد میں رہی،دماغ جیسے مفلوج ہونے لگا تھا،اکبر صاحب نے خوف میں اسے جمیلہ بیگم سے کہہ کر کمرے تک محدود کرادیا تھا،صبح بھی وہ کمرے میں اسکا ناشتہ رکھ کر چلی گئی تھیں اور دوپہر کا کھانا بھی پر ایک نوالہ بھی اس نے منہ میں نہیں ڈالا تھا،جب سے گھٹنوں میں سر رکھے وہ اپنی قسمت پر ماتم کناں تھی پر قسمت کو کوسنے کا کیا فائدہ،سب کچھ تو اسکے خود کا کِیا دھرا تھا،آج الشبہ اکبر کو اپنا آپ ایک نہایت گری ہوئی لڑکی کا لگا تھا،وہ شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبی تھی کل رات سے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرتضیٰ صاحب نے اسکی تھکن کا خیال کرتے آج منع کردیا تھا آفس آنے سے،تبھی ناشتے کے بعد سے وہ لاؤنج کے صوفے پر دونوں ہاتھ پشت پر کیے بےنیازی سے سامنے نسب ایل ای ڈی پر کوئی مووی دیکھنے میں مگن تھا،بےنیاز وہ ظاہری تھا،اصل دھیان تو اسکا ڈائینگ ٹیبل صاف کرتی شانزے پر تھا،تیڑھی نظروں سے وہ ہر تھوڑی دیر میں اسے دیکھ رہا تھا،تبھی خولہ اپنے کمرے سے نکل کر نازک اندام چال چلتی کچن کی طرف جانے لگی،
“بھابھی جی۔۔۔”
پیام کی بھاری آواز پر اسکے قدم رکے،کچھ پل تو وہ حیران رہی کہ مقابل اس سے ہی مخاطب ہے نا،گردن گھوما کر دیکھنے کے بعد شک یقین میں بدلا،وہ اسی سے مخاطب تھا،
“اپنے پیارے سے دیور کے لیے کافی بنادیں جلدی سے۔۔۔”
اس پر سے نظر ہٹا کر ٹی وی دیکھتا وہ مزے سے گویا ہوا،شانزے جو صفائی کررہی تھی چونک کر ان لوگوں کی طرف دیکھی،ادھر خولہ کا تو منہ ہی کھلا تھا کام کا سُن کر،دل چاہا منہ پر انکار کر دے پر پیام کا کل رات والا غصہ ذہن میں آیا تو چپ رہنے میں ہی عافیت جانی،
“اپنی بیوی سے کہو۔۔۔”
رابیہ بیگم کی اچانک آواز پر خولہ کی جان میں جان آئی،پیام نے نظروں کا رخ انکی طرف کیے آئبرو اٹھائی،
“میری وائفی بزی ہے۔۔۔”
شانزے کو نظروں میں لیے وہ ہنوز شانِ بے نیازی سے بولا،
“پر بیٹا کیا ہوجائے گا اگر وہ تھوڑا کام روک کر تمہارے لیے۔۔۔۔”
شانزے جو گھور کر رابیہ بیگم کچھ اور کہتیں کہ پیام کی پیشانی پر شکنیں پڑتی دیکھ خاموش ہوگئی،اس سے بحث کرنا مطلب اپنی ہی بےعزتی کروانا ہوتا،ایک لاچار نظر انہوں نے خولہ پر ڈالی جو بےبسی سے انہیں دیکھ کر کڑھتے ہوئے کچن کا رخ کی تھی،
کچھ دیر بعد وہ ہاتھ میں مگ تھامے باہر آئی،پر کچھ دیر پہلے کے مقابلے میں اب خولہ کے تاثرات نارمل تھے شانزے اسکے لبوں پر دھیرے سے چھب دکھلاتی طنزیہ مسکان دیکھ نظر بچا کر کچن کی جانب گئی،سلیپ بلکل صاف تھا،کچھ سوچتے وہ کارنر میں رکھی ڈسبن میں جھانکی اور اس میں پیٹ درد کی دوائی دیکھ جھٹکا کھا کر رہ گئی،ہڑبڑاکر شانزے نے لاؤنج کا رخ کیا پر چھناکے سے کچھ ٹوٹنے پر اسکے قدم کچن کے داخلی حصے پر رکے،
پیام اب بھی صوفے پر سکون سے بیٹھا تھا البتہ دونوں پیر ٹیبل پر تھے جہاں خولہ ابھی مگ رکھ کر اپنے کمرے کی طرف جانے لگی تھی پر کچھ ٹوٹنے کی آواز پر وہ بھی پلٹی،
“چچچہ۔۔۔۔کیسے رکھا تھا مگ بھابھی جی۔۔۔۔دیکھیں ٹوٹ گیا۔۔۔۔میرا فیورٹ تھا۔۔۔”
کھڑے ہوکر جیب میں ہاتھ ڈالتا وہ خولہ کو مسکاتی نظروں سے دیکھتا بولا جسکے تاثرات بتارہے تھے کہ اس نے ایسا کچھ بھی ایکسپیکٹ نہیں کیا تھا،
“اب دیکھ کیا رہی ہیں۔۔۔جائیں ایک مگ اور بنائیں اور ہاں۔۔۔پیام مرتضیٰ کی آنکھوں کو بٹن سمجھنے کی غلطی بلکل نہیں کریں۔۔۔”
سیڑھیوں کی طرف جاتے وہ اسے ڈھکے چھپے لفظوں میں جو کہتا گیا خولہ خوب سمجھی تھی،تبھی اس بار منہ بناتی وہ ٹھیک سے کافی بنانے گئی،وہ پچھتائی تھی اس وقت پر جب کال آئی تھی کہ پیام مرتضیٰ واپس آرہا ہے،
“شانزے۔۔۔!”
وہ جو خولہ کو کچن میں انساتے ہوئے کافی بناتے دیکھ رہی تھی پیام کی آواز پر سر جھٹک کر اوپر گئی پر جاتے ہوئے رابیہ بیگم کا یہ فقرہ اسکے کان میں سنائی دیا،
“پتا نہیں آتے ہی کیا پٹی پڑائی ہے میرے بیٹے کو۔۔۔”
انکی بات پر شانزے رکی پھر پلٹ کر ایک نظر رابیہ بیگم کو دیکھی جو کٹیلی نظروں سے اسے گھوررہی تھیں،ساتھ ہی نگاہ جھکائے وہ اوپر آئی،
“لڑکی میرا سامان سیٹ کیا تھا تم نے۔۔۔۔۔بلو شرٹ کہاں رکھ دی۔۔۔”
کمرے میں داخل ہونے پر پیام موبائل میں مصروف اسے بولا جس پر شانزے وارڈروب کی طرف گئی،سامنے ہی بلو شرٹ ہینگ تھی جسے نکال کر اس نے بیڈ پر رکھنے کے بعد اسی خاموشی سے باہر کا رخ کیا،گیٹ بند دیکھ ابھی وہ ناب گھماتی کہ پیچھے سے پیام نے گیٹ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھا،گردن تیڑھی کیے وہ شانزے کا زرد چہرہ دیکھا جو بلکل بےتاثر تھا پر اگلے ہی لمحے اسکے گالوں میں تیزی سے سرخائی گھلی جب شانزے کو اپنی پشت پر لگی زپ کھلتی محسوس ہوئی،پیام کی نظریں اب بھی اسکے چہرے کا طواف کررہی تھیں،ناب گھماکر گیٹ وا کرنے کی کوشش میں وہ ہلکان ہونے لگی،ادھر پیام نے گردن سیدھی کرکے اسکی پشت کو دیکھا جہاں سے وہ زپ کھولا تھا،بغور شانزے کی دمکتی پشت دیکھتا وہ جھکا تھا ادھر شانزے تڑپ کر رہ گئی پشت پر مقابل کی کا جھلساتا لمس محسوس کرکے،نچلے لب کو دانتوں سے کچلے وہ روہانسی ہوئی پیام کی بڑھتی جسارتوں پر،
“مت۔۔کرو۔۔”
دھیمی ہوتی سانسوں کے دوران وہ سرگوشی نما لہجے میں فریاد کی تھی اور اسکی پشت پر اپنا لمس چھوڑتا پیام مرتضیٰ تھما تھا،آئبرو بھینچ کر وہ جھٹکے سے شانزے کا رخ اپنی طرف کیا،گال پر پھسلتے اسکے آنسو دیکھ پیام نے شانزے کی تھوڑی پر انگلی رکھتے اسکا چہرہ اٹھایا،
“کیا ہوگیا ہے تمہیں۔۔۔؟”
شہد رنگ سرخ آنکھوں کو دیکھ کر وہ پوچھا،لہجہ بلا کا سنجیدہ تھا،شانزے نے آنکھیں میچی،چار ماہ میں ہر تکلیف دہ دن کا ایک ایک منظر آنکھوں میں کسی فلم کی طرح چلنے لگا تھا،مقابل کو کیا بتاتی کہ کیسی اذیتیں برداشت کی ہیں اس نے،
“وائفی۔۔۔!”
کس قدر میٹھے لہجے میں مدھم سی سرگوشی کیا تھا وہ،ایک لفظ میں کیسی فریاد تھی،جیسے سننا چاہ رہا ہو اسے،اسکی شکایتیں،غصہ،ناراضگی پر مقابل شانزے کے تاثرات پل میں پھر سپاٹ ہوئے،
“مجھے جانے دو۔۔۔”
بلکل بےتاثر لہجے میں وہ بولی،جیسے ٹھان لی ہو اسے کچھ نہ بتانے کی،پیام لب بھینچتا پشت پر اسکی کھولی گئی زپ بند کر کے دور ہوا تبھی تیزی سے مڑتے شانزے گیٹ کھول کر باہر نکلی،کہیں نہ کہیں پیام سمجھ ہی چکا تھا اسکی بےرخی کا مطلب،ساتھ ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا،کاش کہ وہ شانزے کو اپنے ساتھ ہی لے جاتا،
تقریباً پندرہ منٹ کے بعد خولہ اب بنا ملاوٹ کی کافی بنائے سیڑھیاں عبور کرتی پیام کے روم میں جارہی تھی،یہ پیام کے غصے کا ڈر تھا کہ وہ شرافت سے اسکا کہا گیا کام کررہی تھی ورنہ اتنے مہینوں میں اس نے خود سے کوئی کام تک نہ کیا تھا،شانزے کو دل ہی دل میں کوستے وہ ابھی روم تک ہی پہنچی تھی کہ جھٹکے سے گیٹ کھول کر پیام کال پر مصروف باہر نکلا،بےدھیانی میں خولہ سے ٹکر ہونے پر مگ نیچے گرا تھا،
“ہا۔۔۔”
خولہ کا منہ کھلا تھا نیچے گری کافی دیکھ،مگ ٹرے میں الٹنے کی وجہ سے گرنے سے بچا تھا،
“شٹ۔۔۔آنکھیں ہوتے ہوئے بھی سب اندھے ہیں یہاں تو۔۔۔”
اپنی غلطی اس پر آرام سے تبادل کرتا پیام برابر سے ہوکر نکلا اور خولہ کا جی چاہا کہ اسی ٹرے کو پھینک کر اسکے سر پر مارے،پیام کی پشت کو وہ بےبسی بھرے غصے میں گھورتے رہ گئی،دیور کے نام پر وہ کسی بلا سے کم نہ لگا تھا اسے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن ہوچکے تھے پر شانزے کی ناراضگی اس سے ہنوز تھی،پیام نے بہت کوشش کی،کبھی اسے چھیڑ کر تو کبھی خود پوچھتا پر آگے سے شانزے کے مختصر جوابات اسے الجھا کر رکھ دیتے،پر ان ہی دو دنوں میں پیام نے خولہ کو بھی ساتھ کسی نا کسی کام کا کہہ کر پریشان کیا تھا،صدا کی آرام پسند خولہ کو اسکے یہ کام مجبوری میں کرنے پڑتے،شادل کو اس نے شکایت کی تھی پیام کی پر آگے سے وہ مسکراکر یہی کہتا کہ ایک ہی تو دیور ہے تمہارا۔۔۔،کیا ہوجائے گا اگر اسکا چھوٹا موٹا کام کردو تو،اب وہ کیا بتاتی کہ ایک ہی دیور نے اسکا دو دن میں کس طرح جینا حرام کر رکھا تھا،رابیہ بیگم کو بھی خولہ نے اسکے معاملے میں بےبس پایا،ہاں اتنا ضرور تھا کہ وہ پیام کی موجودگی میں اب شانزے کو مخاطب تک کرنا چھوڑ چکی تھی،رابیہ بیگم کا لہجہ بھی پیام کی وجہ سے شانزے کے ساتھ مجبوراً نرم ہوتا اور شانزے ان دونوں کی حرکات سمجھتی خاموش تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج صبح پیام آفس گیا تھا پر کام کے دوران اسکے چہرے پر مستقل پریشانی کا انثرحسوس کیے مرتضیٰ صاحب نے دوپہر میں ہی اسے گھر جانے کا بول دیا،پہلے تو وہ انکار کیا پر انکے سمجھانے پر خاموش ہوتا آفس سے نکلا،شانزے کی خاموشی اسے اتنا ڈسٹرب کردے گی یہ کبھی وہ سوچا بھی نہ تھا،گھر پہنچ کر اسکا ارادہ شانزے کو لے کر آج باہر جانے کا بنا تھا،لاونج میں تیزی سے آتا وہ پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تھا کہ کچھ آنکھوں سے گزرتا دیکج ٹھٹھک گیا،لاونج سے اوپر جانے کے درمیان شادل کا کمرہ بیچ میں پڑتا جس کا گیٹ ابھی کھلا ہوا تھا،وہی سے آتے ہوئے پیام کی نظروں سے جو چیز گزری وہ اسے رکنے پر مجبور کر گئی تھی،قدم واپس موڑتا وہ بنا چاپ کے شادل کے روم کے گیٹ پر پہنچا،اندر کا منظر پیام کا خون کھولانے کے لیے کافی تھا،براؤن آنکھیں پل میں لہو رنگ ہوئیں،
“شانزے۔۔۔!”
اسکی دھاڑ پر خولہ کا دل حلق میں آیا تھا جبکہ خولہ کے پیر کے ناخنوں پر نیل پینٹ لگاتی شانزے جھٹکے سے گیٹ کی طرف دیکھی،رابیہ بیگم جو کچن میں کھانا بنوارہی تھیں اپنا سر پکڑتیں جلدی سے خولہ کے روم کی طرف آئیں،یقیناً انکی بھانجی پھر پکڑی گئی تھی،
دھیمے مگر بھاری قدم اٹھاتا وہ کمرے میں داخل ہوا تھا،خولہ زرد رنگت لیے بیڈ سے اٹھی پر بےساختہ اسکی چیخ برآمد ہوئی جب پیام نے ایک ہاتھ مارتے ڈریسنگ سے ساری چیزیں گرائیں،شانزے بھی گھبرائی تھی اسکے غصے پر،
بھائی کا لحاظ نہ ہوتا تو تمہیں دھکے مارکر نکالتا اس گھر سے۔۔۔
“پیام۔۔۔!”
رابیہ بیگم کرخت لہجے میں خولہ کو گھور کر بولتے پیام کو ٹوکیں،
“کیا پیام۔۔۔”
اب وہ رابیہ بیگم کی طرف دیکھے چیخا،
“بہت بدلحاظ ہوگئے ہو تم۔۔۔۔”
کچھ نہ بن پڑا تو وہ تاسف سے بولیں،
“لحاظ کرنے کے لیے مقابل بھی تو ویسا ہونا چاہیے۔۔۔اتنا ہی بیر ہے اگر آپ لوگوں کو اس سے۔۔۔۔تو ٹھیک ہے۔۔۔”
ایک نظر خولہ کو گھورے وہ بولتے رکا ساتھ ہی شانزے کو بازو سے جکڑے تیزی میں وہاں سے نکلا،رابیہ بیگم اسکی ادھوری بات پر پیام کے پیچھے گئیں تھیں،
وہ کمرے میں شانزے کو چھوڑتا اندر سے بیگ نکالا تھا جس میں تیزی سے اپنے اور شانزے کے کپڑے ڈالنے لگا،پیام کی کاروائی دیکھتی شانزے کی آنکھیں نم ہوئیں،
“پیام کیا کررہے ہو۔۔؟”
رابیہ بیگم کمرے میں پہنچ کر پیام کے پاس آتے پریشانی سے بولیں،
“آپ لوگوں کی زندگی آسان کررہا ہوں۔۔۔کافی تکلیف ہے نا شانزے سے۔۔۔”
کپڑے ڈال کر بیگ بند کیے وہ سرد لہجے میں بولا تھا،اسکا ارادہ سمجھ کر رابیہ بیگم بوکھلائیں،
“نہیں بیٹا ایسے مت کرو۔۔۔پیام۔۔”
پیام کے ہاتھوں سے بیگ لینے کی کوشش کرتے وہ گھبراکر بولیں،
“شانزے منع کرو نا اسے۔۔۔بیٹا مت جاؤ۔۔۔”
انکی پکار کو ان سنا کرتے وہ شانزے کا ہاتھ پکڑ کر نکلنے لگا تھا کمرے سے تبھی رابیہ بیگم کی روتی آواز پر رکا،یہ سچ تھا کہ انہیں اپنی اولادوں میں پیام سب سے عزیز تھا،
“پیام۔۔۔بیٹا۔۔۔می۔۔میں خولہ کو ڈانٹوں گی۔۔۔شانزے کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی پر تم۔۔۔تم ایسا مت کرو۔۔۔”
وہ فریاد کی تھیں اس سے تبھی پیام بیگ چھوڑتا پلٹا اور انہیں گلے لگاگیا،بھلے لاکھ بدتمیز پر اپنی ماں کو یوں فریاد کرتا دیکھ اسے دکھ ہوا تھا،
“مجھے مت مجبور کریں مام یہاں سے جانے کے لیے۔۔۔۔بخش دیں شانزے کو۔۔۔کیوں کررہی ہیں آپ لوگ ایسے۔۔۔”
وہ دھیمے لہجے میں بےبسی سے بولا تھا،لہجہ واضح کرگیا تھا اندر کی تکلیف،شانزے ایک آسودہ نظر ان دونوں پر ڈالی تھی،
“میں سچ میں اب۔۔۔بلکل پریشان نہیں ہونے دوں گی شانزے کو۔۔۔بس تم مت جاؤ۔۔۔”
اسکی پشت تھپتھپاتی وہ روتے ہوئے بولیں،
“اچھا بابا نہیں جارہا۔۔۔”
کچھ دیر بعد انکے مستقل رونے پر وہ ہلکے پھلکے لہجے میں بولا،
“آئندہ اس طرح مت کرنا۔۔۔”
آنسو پوچھ کر وہ خدشات میں گھری بولیں جس پر پیام تکلیف سے مسکرایا اسکا گال تھپتھپاکر وہ نکلی تھیں کمرے سے،رابیہ بیگم کے جانے کے بعد شانزے بھی ایک نظر پیام پر ڈالی لیکن اچانک ہی وہ شدید حیران ہوئی،پیام کے چہرے پر سے تکلیف دہ آثار یوں غائب ہوئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں،لبوں پر مخصوص دل جلاتی مسکان سمیت وہ گرنے کے انداز میں بیٹھا تھا بیڈ پر،شانزے کو اپنی طرف حیرت سے تکتا پاکر اس نے آئبرو اچکائی،شہد رنگ آنکھوں میں کچھ دیر پہلے والے واقعے کا سوال واضح تھا جسے دیکھ وہ بولا،
“ابے یار۔۔۔کرنا پڑتا ہے تھوڑا بہت ڈرامہ کبھی کبھی۔۔۔”
عادتاً لاپرواہی سے بولتا وہ جیب سے موبائل نکالا،ادھر شانزے تاسف سے اسے دیکھی،کس انسان سے وہ سنجیدگی کی امید لگائے بیٹھی تھی،کیسے بھول گئی کہ مقابل کبھی سدھرنے والا نہیں تھا،مطلب کتنی بڑی فلم تھا وہ جو ماں کے سامنے جب سے ڈرامہ کررہا تھا،
“اگر۔۔۔آنٹی تمہیں۔۔۔نہ روکتی تو تم۔۔چلے جاتے۔۔۔”
کچھ سوچ کر شانزے جھجھک کر پوچھی جس پر پیام ہنستے ہوئے بولا،
“پاگل ہو کیا۔۔۔یوں ہی باپ کی دولت چھوڑ کر چلا جاؤں۔۔۔۔ہنہہ۔۔۔کبھی نہیں۔۔”
اسکا یہ جواب شانزے کو چکرانے پر مجبور کرگیا،آخر کس مٹی کا بنا تھا وہ انسان جو بآسانی ایسے ڈرامے پر لیتا،جس کی سوچ ہی الگ لے پر چلتی،
“یہاں پر آجاؤ۔۔۔دونوں ساتھ مل کر گھوریں گے پھر ایک دوسرے کو۔۔۔”
موبائل یوز کرتا وہ اسکے مسلسل تکنے پر چوٹ کیا تھا اور شانزے لب بھینچتی مڑی،
“ادھر۔۔۔یہ کپڑے تو رکھتی جاؤ اندر۔۔۔”
پیام کی بات پر شانزے نے ایک نظر نیچے رکھے بیگ کو دیکھا،اچھے بھلے سیٹ ہوئے کپڑے وہ اپنے ناٹک کے چکر میں نکال کر خراب کر چکا تھا،
“بھئی میں نہیں کررہی۔۔۔۔خود ہی کرلو۔۔۔”
منہ پھلا کر کہتی وہ روم سے نکلی جبکہ پیام بےیقینی میں اسکا یہ رئیکشن دیکھا تھا،اگلے ہی پل وہ خوشی سے سرشار ہوا،
“آہ وائفی۔۔۔بہت جچتی ہو جب مجھ سے تپتی ہو۔۔۔”
خوش ہوکر کہتا وہ بیڈ پر لیٹا تھا،اسے یقین تھا کہ جلد ہی وہ منالے گا شانزے کو،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو وہ ابھی کچی نیند میں ہی تھی جب اچانک خود پر ڈھیر سارا پانی انڈلنے پر ہڑبڑا کر اٹھی،پل میں شانزے بھیگی تھی،اچانک ہوئے حملے پر وہ ابھی معاملہ سمجھنے کی کوشش ہی کررہی تھی جب پیام کے قہقہہ پر چونک گئی،ہاتھ میں خالی بالٹی لیے اسکا وجیہہ چہرہ ہنستے ہوئے سرخ ہونے لگا تھا،
“سوری یار۔۔۔کیا ہے نا۔۔۔میری جنگلی بلی کہیں کھو گئی تھی۔۔۔سوچا بھیگی بلی سے ہی گزارا کرلیا جائے۔۔”
اسکے مکمل بھیگنے پر چوٹ کرتا اپنی ہنسی کے درمیان وہ بولا تھا،شانزے نے ایک بےبس نظر اپنے بھیگے وجود پر ڈالی پھر پیام کو دیکھا اور وہ اچانک پھٹ پڑی،
“مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔کیوں پریشان کر رکھا ہے مجھے۔۔۔۔سکون سے اٹھنے نہیں دیتے،بیٹھنے نہیں دیتے اب سونا بھی حرام کردیا ہے۔۔۔کیوں کررہے ہو یہ سب۔۔بس کرو۔۔۔پیچھے پڑگئے ہو بلکل۔۔۔”
غصے میں اسے گھورتی وہ چیخنے لگی تھی پر پیام کو دیکھ حیران ہوئی،جو خوشگوار حیرت سے شانزے کو تک رہا تھا،تبھی شانزے کو بھی دھچکا لگا،چار مہینوں بعد وہ کھل کر چیخی تھی،اپنا غصہ ظاہر کی تھی،یہ وہ کیا کر بیٹھی،اس نے تو تہیہ کیا تھا کہ اب کبھی پیام مرتضیٰ کے سامنے اپنے جذبات عیاں نہیں کرے گی،پھر کیسے وہ ہار گئی،بےساختہ منہ پر ہاتھ رکھے شانزے ہچکیوں سے رونے لگی،
پیام جو اسکی خاموشی ٹوٹنے پر خوش ہورہا تھا،شانزے کے اچانک رونے پر بوکھلاتے ہوئے اسکے پاس آیا،
“شانزے۔۔۔سوری یار۔۔۔میں تو مذاق کررہا تھا۔۔۔”
چہرے پر رکھے شانزے کے نازک ہاتھوں کو اپنے بھاری ہاتھ میں تھامتا وہ لہجے کو بھرپور نادم بناتے بولا،البتہ عنابی لب مسکراہٹ چھپانے کی سعی کررہے تھے،
“تمہارے مذاق کے چکر میں میری زندگی مذاق بنی ہوئی ہے۔۔۔۔تھک چکی ہوں۔۔۔نہیں ہوتا یہ سب اور برداشت۔۔۔ہر بار تم مجھے تکلیف دے کر یہی کہتے ہو کہ مذاق تھا۔۔۔چار مہینے تک یہ مذاق یاد نہ رہا۔۔۔تب یاد نہ رہا کہ جنگلی بلی کہاں ہے۔۔۔تب میری کمی محسوس نہیں ہوئی۔۔۔۔اور یہاں آئے تین دن ہوئے ہیں تو جنگلی بلی واپس چاہیے۔۔۔میرا بولنا سننا ہے۔۔۔”
یہ چار مہینے کی بھڑاس ہی تھی جو وہ بری طرح روتے ہوئے اس پر نکال رہی تھی ادھر پیام کی مسکراہٹ غائب ہوئی اسکے اذیت بھرے لہجے پر،شانزے اور بھی بہت کچھ بول رہی تھی پر تبھی اسکے قریب ہوتا وہ جھٹکے سے شانزے کو خود میں بھینچ گیا،پیام کے گلے لگنے پر اسکے سینے پر غصے سے ہاتھ مارتے وہ رونے لگی تھی،
وہ جتنا اسے ماررہی تھی پیام اور سختی سے اسے خود میں بھینچنے لگا تھا،وہ بےیقین ہوا تھا،کیا اتنا یاد کرتی تھی شانزے اسے،اس کو تو لگتا کہ صرف پیام مرتضیٰ کی اسکی جدائی پر تکلیف محسوس کررہا تھا پر یہاں شانزے کو اس طرح دیکھ پیام کو جھٹکا ہی لگا تھا،
“سوری وائفی۔۔۔اب کبھی پیام مرتضیٰ تمہیں اکیلا نہیں چھوڑے گا۔۔۔معاف کردو اپنے چھچھورے کو۔۔”
شانزے کی پشت سہلائے وہ سنجیدگی سے بولا تھا دوسری جانب شانزے جو اس کے سینے میں منہ چھپائے اپنے دل کا غبار نکال رہی تھی پیام کے لفظ “چھچھورے” پر ناچاہتے ہوئے بھی مسکرائی ساتھ ہی اسکے سینے پر ہلکے سے مکا ماری،
“پیام۔۔۔”
کچھ دیر بعد سوں سوں کرتے وہ آہستگی سے بولی پر پیام اسے سینے سے لگائے جیسے کسی اور ہی دنیا میں گم تھا،
“پیام۔۔۔ہم سوئیں گے کہاں۔۔”
سر اٹھاکر شانزے نے اب اسے دیکھ کر پوچھا جو آنکھیں موندے تھا،
اس بات پر پیام نے آنکھیں وا کیں پھر ایک نظر آدھے بھیگے بیڈ کو دیکھا تبھی اسکے عنابی لب مسکرائے،نظروں کا رخ واپس اس متاعِ جاں پر کیا،
“تم چینج کر کے آؤ پھر بتاتا ہوں کہاں سونا ہے۔۔”
پیام کے کہنے پر وہ ناسمجھی سے اٹھی تھی،کچھ دیر بعد اپنے بھیگے کپڑے چینج کر کے آئی تو دیکھا،
پیام پرسکون سا آدھے خشک ہوئے بیڈ پر لیٹا تھا،اسکے پاس جاکر شانزے نے اسے گھورا،
“تم تو سوجاؤ گے۔۔۔اب میں کہا۔۔”
شانزے کی بات ادھوری رہ گئی جب پیام اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا تھا،وہ سیدھا اس پر گری،تبھی شانزے کو برابر میں بلکل اپنے قریب لیٹاتا وہ اسکو مکمل اپنی گرفت کچھ یوں لیا تھا کہ شانزے کی پشت اسکے سینے سے لگی تھی،
“پیام۔۔۔کیا بدتمیزی ہے۔۔۔چھوڑو۔۔”
اسکی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتی وہ پریشان ہوکر بولی،
“لو۔۔۔تم ہی نے پوچھا تھا کیسے سونا ہے۔۔۔تو ایسے بلکل ٹھیک ہے۔۔۔دیکھو ہالف بیڈ خشک ہے۔۔۔تو ہمیں یوں ہی سونا پڑے گا۔۔۔”
شانزے پر اپنی گرفت اور مضبوط کیے وہ مزے سے بولا،
“ایسے کیسے سو سکتے ہیں۔۔۔مجھے الجھن ہورہی۔۔۔”
وہ جو گردن موڑے الجھ کر بولنے لگی تھی پیام اس پر جھکتے شانزے کا منہ بند کرگیا،مقابل کی گرم سانسیں اپنے منہ پر محسوس کیے وہ کانپ کر رہ گئی،نازک ہاتھ اسکی گرفت میں مقید ہونے کے باعث مزاحمت کی کوشش تک نہ کرپائی،کچھ دیر بعد اسکے لبوں کو بخشتا شانزے کا لال بھبھوکا چہرہ دیکھا،غصے میں اسے وہ بےبسی سے گھوری تھی،جس پر مسکراتا پیام اسکے کان میں سرگوشی کیا تھا،
“اور الجھن ہے تو بتاؤ۔۔۔دور کردوں۔۔”
اسکی سرگوشی پر بوکھلاتی شانزے جلدی سے نفی میں سر ہلائی،اس نے اب خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی آیا کہ مقابل پھر کوئی جسارت کربیٹھے،سرخ چہرہ آگے کرتی وہ سختی سے آنکھیں میچے سونے کی کوشش کرنے لگی اور جلد ہی اسے اتنے مہینوں بعد ایک پرسکون نیند آئی تھی مقابل کے محفوظ و نرم حصار میں،دوسری جانب پیام کی آنکھوں میں نیند کا کوئی تاثر نہ تھا،جب سے سوتی ہوئی شانزے کو تکتا وہ مطمئن تھا،دل خوش تھا کہ آخر کار وہ کامیاب ہوا تھا اس دشمنِ جاں کو منانے میں،رات کا ایک ایک پہر وقت کے حساب سے گزر رہا تھا پر پیام مرتضیٰ کی آنکھیں نہیں تھکی تھیں اس پری وش کو دیکھتے،جو پیام مرتضیٰ چند مہینے پہلے اپنی تقدیر کو کوسا تھا شانزے اکبر سے شادی ہونے پر آج وہی بےحد شکر گزار تھا اپنے رب کا ایسی تقدیر پانے پر،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
