Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 16)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 16)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
شانزے نیچے آئی تو جمیلہ بیگم اکبر صاحب اور الشبہ آچکی تھیں،ان سے مِل کر شانزے نے ایک نظر کچن پر ڈالی تھی پھر رابیہ بیگم کے کہنے پر وہ باقی کاموں میں لگ گئی،پیام بھی اپنا فرض نبھاتے آج مہمانوں میں مصروف تھا پر اپنے دل سے مجبور وہ ہر تھوڑی دیر میں لازماً ایک آدھ نظر اس پری وش پر ڈال لیتا،
“عبید۔۔”
الشبہ جو اپنی ماں کی نظر سے بچے دوسرے کنارے پر آئی تھی،عبید کو پکارنے لگی،وہ دوستوں میں مصروف الشبہ کی آواز پر چونکا،
“کیا ہوا۔۔”
سامنے الشبہ کو دیکھے وہ آہستہ آواز میں پوچھا،
“ادھر آؤ۔۔۔”
الشبہ اشارے سے اسے پِلر کے پیچھے آنے کا اشارہ کی تھی،
“بولو بھی اب۔۔۔”
وہاں آکر عبید تھوڑا چڑ کر بولا،وجہ صاف تھی کہ اب اسکا الشبہ سے بات کرنے کو دل نہیں کرتا تھا،
“عبید تم کیوں اس طرح سے کررہے ہو۔۔۔میں محبت کرتی ہوں تم سے۔۔۔اور۔۔۔اور تم بھی تو بہت محبت کرتے ہو نا مجھ سے۔۔۔تو پھر کیوں اتنے دنوں سے میری کالز کٹ کررہے ہو۔۔۔میسج کررہی ہوں تو ریپلائے بھی نہیں دے رہے۔۔۔کیا کوئی غلطی ہوئی ہے مجھ سے۔۔۔؟”
اسے عبید کا بدلا لہجہ دکھ میں مبتلا کررہا تھا تبھی اپنے بھیگتے لہجے پر قابو پاتی وہ پوچھی تھی،
“یار الشبہ۔۔۔ایک تو یہ بات بات پر تم روتی ہو تو موڈ خراب کردیتی ہو میرا۔۔۔پلیز یہاں تماشہ مت بناؤ۔۔۔میں تھوڑا بزی ہوں تبھی کال ریسیو نہیں کرپاتا تمہاری۔۔۔”
اسکے رونے پر جھنجھلاکر وہ جلدی سے بہانہ بناتے بولا جبکہ الشبہ اسکے رونے پر ٹوکنے کو عبید کی محبت سمجھنے لگی،وہ نادان یہ سوچ کر خوش ہوئی کہ مقابل کو شاید اسکا رونا تکلیف دیتا ہے تبھی وہ ٹوکا ہے،
“اچھا ٹھیک ہے اب نہیں رونگی۔۔۔پر عبید پہلے میری بات سنو۔۔۔میں سوچ رہی ہوں کہ اب امی کو تمہارے بارے میں بتادوں۔۔۔عبید اب تو میرے پیپرز بھی ختم ہوگئے۔۔۔۔”
آس پاس دیکھ کر الشبہ جلدی سے اسے بتانے لگی پر عبید شاک ہوا،
“کیا بتاؤ گی میرے بارے میں۔۔۔اور کیوں۔۔۔”
وہ حیران ہوا تھا،آخر وہ لڑکی کیا کہنا چاہ رہی تھی اس سے،
“یہی کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔۔۔اور۔۔۔ش۔۔۔شادی کرنا۔۔۔چاہتی ہوں میں۔۔۔تم سے۔۔۔۔”
نظر جھکائے جھجھکتے ہوئے الشبہ نے یہ بات کہی ساتھ ہی ایک خوبصورت مسکراہٹ رقصاں ہوئی اسکے لبوں پر،
مایوں کی رسم میں بیٹھے شادل کی نظر جب کونے پر پڑی تو اسے جھٹکا لگا تھا حیرت کا،پلر کے پیچھے کھڑی مسکراتی وہ لڑکی الشبہ ہی تھی پر اسکے ساتھ کھڑا وہ لڑکا،
“الشبہ۔۔۔پیام کے دوست کے ساتھ۔۔۔۔”
وہ زمانے کی باریکیوں کو جانتا بتیس سالہ مرد کسی حد تک معاملہ سمجھ تو گیا تھا الشبہ کے چہرے پر سجی خوبصورت مسکراہٹ سے پر اچانک کسی کی پکار پر وہ نگاہ پھیر گیا،خولہ اس سے اشارے میں پوچھ رہی تھی اپنی تیاری کے بارے میں جس کا جواب تو شادل نے نہ دیا،البتہ نفی میں سر ہلائے وہ نظریں سامنے کرگیا،
“ویٹ۔۔۔واٹ۔۔۔الشبہ۔۔۔الشبہ تم پاگل ہوگئی ہو کیا۔۔۔۔شادی۔۔۔میں۔۔۔اور وہ بھی تم سے۔۔۔”
حیرت سے مکمل آنکھیں کھولے وہ اپنے اور الشبہ کی طرف اشارہ کیے یوں بولا جیسے کوئی بہت ہی غلط بات کہہ دی گئی ہے اسکے سامنے،الشبہ کی مسکراہٹ تھمی تھی اسکے انداز پر،
“ہاں عبید۔۔۔ہماری شادی۔۔۔پر۔۔۔تم ایسے کیوں بول رہے ہو۔۔۔”
دل میں اچانک ڈر کنڈلی مارے بیٹھا،ناچاہتے ہوئے بھی وہ اس سے وجہ پوچھ بیٹھی تھی پر اندر سے دعا گو تھی کہ وجہ کچھ اور بتائے سامنے کھڑا اسکا محبوب،
“الشبہ یار تم نے ایسا سوچا بھی کیسے۔۔۔اور میں کیوں کروں گا تم سے شادی۔۔”
عبید بےساختہ منہ پر ہاتھ پھیرے بولا،جس چیز کا اسے ڈر تھا آخر کار وہی ہوا،اسے تو صرف ٹائم پاس کرنا تھا الشبہ کے ساتھ پر یہاں وہ کیا کہہ رہی تھی اس سے،
“کیا مطلب شادی کیوں کرو گے۔۔۔اگر شادی نہیں کرنی تھی تو گرلفرینڈ کیوں بنایا مجھے۔۔۔”
اسکی تو جان ہی سینے میں اٹکی تھی،ذہن میں اب اس ہرجائی کا روز روز بدلتا رویہ آرہا تھا تبھی عبید بولا،
“یار گلفرنڈ ہو۔۔۔اسکا یہ تو مطلب نہیں کہ شادی کرلوں تم سے۔۔۔۔گرل فرینڈ بنانا تو عام بات ہوتی ہے۔۔۔اور ویسے بھی الشبہ میں ان چکروں میں نہیں پڑنا چاہتا۔۔۔”
کتنی بےحسی تھی اسکی آواز میں الشبہ اچانک دو قدم اسکے قریب ہوئی،
“عبید یوں تو نہ کہو۔۔۔میری محبت کا مذاق مت بناؤ۔۔۔بہت چاہتی ہوں تمہیں۔۔۔پلیز مجھ سے شادی کرلو۔۔۔ایسے نہیں کرو۔۔۔می۔۔میں نے تو۔۔تمہارے علاؤہ کبھی کسی کا نہیں سوچا پھر تم کیوں۔۔۔۔”
بولتے ہوئے اسکی آواز رندھ گئی،سینے میں دھڑکتا دل بری طرح سے کچلایا تھا اسکے کوفت بھرے تاثرات دیکھ،
“ایک تو یار بس کرو۔۔۔پہلے ہی اپنی باتوں سے موڈ خراب کردیا تم نے میرا۔۔۔فنکشن انجوائے کرنے دو۔۔۔ابھی جاؤ یہاں سے۔۔۔۔”
اپنی بات جھنجھلاکر کہتا وہ تو فنکشن انجوائے کرنے چل دیا پر الشبہ کو اسکے الفاظ ساکت کرگئے،اگر وہ شادی نہیں کرنا چاہتا تھا اس سے تو پھر کیوں کھیلا تھا اسکے دل کے ساتھ،یہ سوال دل میں ایک ٹیس کے ساتھ اٹھا تھا،آنکھیں تیزی سے بھری تھیں پر مہمانوں کو دیکھتے وہ جلدی سے آنسو صاف کرتی وہاں سے ہٹی تھی پر دو زیرک آنکھوں نے صاف اسکی آنکھوں میں اترتی نمی کو دیکھ لیا تھا،
“پیام۔۔۔!”
وہ جو کاموں میں مصروف تھا خولہ کی پکار پر پلٹا،اسکی خاموشی پر پیام نے گھنی آئبرو سوالیہ انداز میں اٹھائی،
“یہ تمہارا بھائی کیا ہمیشہ ایسا ہی رہتا ہے۔۔۔زیادہ بات بھی نہیں کرتا۔۔۔”
شادل کی طرف نظروں سے اشارہ کیے وہ منہ بناتی بولی،انداز نروٹھا تھا،پیام استہزیہ ہنسا،
“تو کیا ہوا اگر وہ کم بولتے ہیں۔۔۔تم ہو نا۔۔۔انکی ساری کسر تو تم ہی نکال دیتی ہو اپنی بےتُکی باتوں سے۔۔۔”
مایوں کی رسم کے وقت اسکے مسلسل بولنے پر چوٹ کرتا وہ پرسکون سا بولا جس پر خولہ کا منہ کھلا،
“تم تو رہنے ہی دو۔۔۔خیر بس شادی ہونے دو۔۔۔اسکے بعد میں اسے باتوں کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت کچھ سکھادوں گی۔۔۔”
پیام کو بولتی آخر میں وہ بآواز شادل کو دیکھے بےباکی سے بولی تو پیام نے پہلے اسکا چہرہ دیکھا پھر کہا،
“مرتضیٰ ہاؤس میں چھچھوری باتیں اور حرکتیں صرف پیام مرتضیٰ کو ہی اجازت ہے کرنے کی۔۔۔آپ ان سے پرہیز ہی کریں تو بہتر ہے۔۔۔”
لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے وہ خولہ سے کہہ کر جانے لگا تبھی وہ آنکھیں چھوٹی کرتی پوچھی،
“اچھا۔۔۔تو پیام مرتضیٰ کو کس نے دی یہ اجازت۔۔”
پیام رکا تھا اسکے سوال پر پھر ہنس کر ایک چند لفظی جواب دیا،
“پیام مرتضیٰ نے۔۔!”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیر رات کو تقریب اختتام کو پہنچی باسط نے تحریم سے مختصر لہجے میں گھر چلنے کا کہا پر اس نے صاف انکار کردیا،پوچھنے کا دل تو باسط کا بھی نہیں کررہا تھا پر مجبوراً فرزانہ بیگم کے کہنے پر وہ پوچھا تھا اور اب تحریم کے انکار پر وہ کندھے اچکاتا واپس چل دیا تھا،تحریم کو اسکا اتنی جلدی مان جانا کھلا تھا،اس ایک `دھ مہینے میں اسے اتنی انسیت تو ہو ہی گئی تھی اس سے،وہ چاہ رہی تھی کہ باسط تھوڑی ضد کرے چلنے کی اور تھوڑے نخروں کے بعد وہ مان جائے پر یہاں باسط کو جاتا دیکھ اسے دکھ ہوا تھا پر جلد ہی خود کو لاپرواہ ظاہر کرتی وہ اپنی کزنز کے ساتھ باتوں میں لگ گئی،
کچن سے سارے کام نپٹائے وہ ابھی روم میں داخل ہوئی تھی،سبھی مہمان جاچکے تھے بس کچھ ہی رشتہ دار تھے جو شادی تک مرتضیٰ ہاؤس میں ہی رکنے والے تھے،جھمکے اتار کر اسکا ارادہ ڈریس چینج کرنے کا تھا پر تبھی اسے بالکونی سے شور کی آواز آئی،چند قدم اٹھائے وہ اس طرف گئی پھر پردہ ہٹا کر باہر دیکھنے لگی اور شانزے کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا باہر بارش ہوتے دیکھ،مرتضٰی ہاؤس جس طرح سے چاروں طرف سے پیک بند رہتا کسی کو احساس ہی نہیں ہوتا باہر کے موسم کا،ادھر وہ سدا کی بارش کی دیوانی صبر نہ ہونے پر فوراً ہی گلاس وال کھولے بالکونی میں آگئی،ٹھنڈی ہواؤں سمیت بارش کا پانی اسے بےتحاشہ مسرت بخش رہا تھا،چند ہی لمحوں میں وہ بھیگی تھی پر پرواہ تھوڑی نہ تھی اسے،بس اپنی دھن میں بارش کے مزے لوٹتی وہ بےخبر تھی کمرے میں داخل ہوتے پیام مرتضیٰ سے،
رابیہ بیگم کے بتانے پر کہ شانزے کمرے میں ہے وہ یہاں آیا تھا پر اسے کہیں بھی شانزے نہ دکھی لیکن اگلے ہی لمحے پیام حیرت کا شکار ہوا بالکونی کو جاتے گلاس وال کو کھلا دیکھ،باہر بارش ہورہی تھی اور ایسے وقت میں مرتضیٰ ہاؤس کے سبھی دروازے،کھڑکیاں اور گلاس والز بند کروادیا جاتے تھے،کوئی شوقین ہی نہ تھا بارش کا اوپر سے ہمیشہ سے نزاکتوں میں بھری تحریم جلد بیمار پڑجاتی تھی تبھی رابیہ بیگم نے یہ حکم صادر کیا ہوا تھا سبھی ملازمین پر،اور اب گلاس وال کھلا دیکھ وہ کندھے اچکاتا اسے بند کرنے پہنچا مگر وہاں ان محترمہ کو بارش میں بھیگتے دیکھ پیام کو اچھنبا ہوا،شانزے کے ایکسپریشن سے صاف محسوس ہورہا تھا کہ وہ خوش ہے بہت،کچھ دیر اسے دیکھتے رہنے پر ہی پیام کے ذہن میں ایک اور شریر سی ترکیب آئی،
“وائفی۔۔۔!”
اسے پکارا تھا وہ،جس پر شانزے چونک کر پلٹی،اتنی دیر میں اسے بہت ٹھنڈ محسوس ہونے لگی تھی اسکا ارادہ اب اندر جانے کا تھا پر پیام کو وہاں کھڑے دیکھ وہ بلند `واز میں اسے بولی،
“آؤ ادھر۔۔۔دیکھو کتنا مزہ آرہا ہے۔۔۔”
اپنی خوشی میں وہ پہلی بار اسے شریک ہونے کی دعوت دے رہی تھی لیکن پیام کے دماغ میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا،
“نہیں وائفی۔۔۔یہ مزہ تمہیں ہی مبارک۔۔۔رہو اس مزے میں اب ساری رات۔۔۔آج پیام مرتضیٰ اپنے بیڈ پر اکیلا سکون سے سوئے گا۔۔۔”
اسکی بآواز کہی جانے والی بات پہلے تو شانزے کو سمجھ نہ آئی پر جب وہ گلاس وال بند کرنے لگا تو شانزے گھبراتے ہوئے بھاگی مگر تب تک وہ بند کرچکا تھا،
“پیام۔۔۔یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔کھولو اسے۔۔۔”
وال سے اسے آنکھ دکھاتی شانزے تھوڑا چیخ کر بولی پر بارش کے شور اور دوسرا گلاس وال کی بدولت اندر تک کوئی آواز نہ پہنچی،پیام اسے دوسری طرف سے ہاتھ ہلاتا بیڈ پر گرنے کے انداز میں جا لیٹا،
“ہممم۔۔۔۔تو ابھی وائفی کو اندر بند رکھا ہے۔۔۔تب تک کیا کریں۔۔۔ہاں کوئی مووی دیکھ لیتے ہیں۔۔۔”
شور کے باوجود شانزے کی ہلکی ہلکی چیخنے کی آواز اسے آرہی تھی پر وہ اسے مکمل نظر انداز کیے اٹھا تھا پھر دیوار پر نسب ایل ای ڈی میں مووی لگائے واپس بیڈ پر لیٹا،
“تم وہاں انجوائے کرو۔۔۔میں یہاں انجوائے کرتا ہوں وائفی۔۔۔”
ایک نظر گلاس وال کی طرف ڈالے وہ دل جلانے والی مسکان سمیت بولا،دوسری طرف شانزے نے غصے میں اسے گھور کر زور سے گلاس وال پر ہاتھ مارا جس پر پیام قہقہہ لگائے ہنسا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب سے مرتضیٰ ہاؤس سے آئی تھی یوں ہی خاموش تھی،بہت مشکل سے جمیلہ بیگم اور اکبر صاحب کے سامنے خود کو سنبھالے بیٹھی تھی پر اب کمرے میں آکر اسکا ضبط ٹوٹا تھا،یہ وہ کیا کہہ گیا تھا اُسے،الشبہ کا دماغ بلکل تاریکی میں ڈھلنے لگا،عبید کے الفاظ ایک بار پھر کانوں میں گونجے تھے،
“یار گلفرنڈ ہو۔۔۔اسکا یہ تو مطلب نہیں کہ شادی کرلوں تم سے۔۔۔۔گرل فرینڈ بنانا تو عام بات ہوتی ہے۔۔۔اور ویسے بھی الشبہ میں ان چکروں میں نہیں پڑنا چاہتا۔۔۔”
کتنا اجنبیت بھرا لہجہ تھا اسکا،الشبہ کے حلق میں بےساختہ آنسوؤں کا گولا اٹکا،کس انسان کے آگے وہ بھیک مانگ رہی تھی کہ یوں نہ کرے اسکے ساتھ،پر وہ بےحس کیا کرگیا،سارے تعلق جھٹ سے توڑ گیا جیسے کبھی کچھ تھا ہی نہیں انکے بیچ،چہرہ منہ میں چھپائے وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی،عبید کی بےوفائی پر نہیں بلکہ اپنی بےوقوفی پر،
“نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔وہ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتا۔۔۔عبید محبت کرتا ہے مجھ سے۔۔۔میں جانتی ہوں۔۔۔ضرور اسکی کوئی مجبوری ہوگی۔۔۔میں۔۔۔میں اسے کال۔۔۔”
خود کو جھوٹے دلاسے دیے وہ بول کر رکی پھر جلدی سے فون اٹھا کر اسکا نمبر ڈائل کرنے لگی،رنگ جارہی تھی پر وہ کال ریسیو نہیں کررہا تھا،
“بزی ہوگا۔۔۔میں کل کال کروں گی اسے۔۔۔عبید ایسا کر ہی نہیں سکتا میرے ساتھ۔۔۔وہ تو خود بولتا تھا کہ اسے میں اچھی لگتی ہوں بہت۔۔۔”
اسکے کال ریسیو نہ کرنے پر بھی وہ انجان بےوقوف لڑکی خود کو جھوٹے بہلاوؤں میں گھرا کر رکھی تھی اسے کیا خبر کے عبید جیسے کئی لڑکے ان جیسی بدھو لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے اسی طرح محبت بھرے جملے کہتے ہیں،پر وہ تو اپنے سماعت بند کیے بیٹھی تھی جیسے یہ بہلاوے اسے پرسکون کررہے ہوں،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باسط بیڈ پر لیٹا اپنے اور تحریم کے رشتے کا سوچ رہا تھا،ایک ناپسند لڑکی کے ساتھ رہنا اسے بلکل اچھا نہیں لگتا تھا،دل چاہتا کہ ایک ہی دفعہ طلاق دے کر جان چھڑالے پر تب ہی مرتضیٰ صاحب کی باتیں اسکے ذہن میں آتیں،وہ انکا بھروسہ بھی توڑنا نہیں چاہتا تھا،تحریم میں بےانتہا گھمنڈ ہونے کی وجہ سے اسے سخت چڑ رہتی اس سے پر جو بات اور اسکا دل خراب کرتی وہ اسکی بدتمیزیاں تھیں جو کہ باسط کو کسی طور برداشت نہ تھیں،وہ اسکی ہر بات پر آگے سے یوں منہ پھٹ جواب دیتی کہ باسط بمشکل خود کو اسے تھپڑ مارنے سے روک پاتا،ساتھ ہی فرزانہ بیگم کے ساتھ اسکا روڈ رویہ بھی باسط کو غصہ دلاجاتا،وہ اپنے سامنے ان کو کچھ سمجھتی ہی نہیں تھی،اب بیٹھا وہ یہی سوچ رہا تھا کہ اس رشتے کو کیسے نبھائے گا وہ،تبھی اسکا موبائل بجا،مقابل کا نمبر دیکھ اسکا دل نہ کیا ریسیو کرنے کا پر مسلسل رنگ ہونے پر آخر کار کال ریسیو کر ہی لی،
“کب سے کال کررہی ہوں۔۔۔ریسیو کیوں نہیں کررہے تھے۔۔۔”
ایک بار پھر نزاکت بھرا لہجہ باسط کو صبر کے گھونٹ بھرنے پر مجبور کرگیا،
“کوئی کام۔۔۔؟”
مختصر سوال کیا تھا اس نے،
“نہیں۔۔۔کام تو کچھ نہیں۔۔۔بس میں یونہی۔۔۔۔آ۔۔۔کیسے ہو۔۔۔؟”
کئی طرح کے بہانے سوچے تھے اس نے بولنے کے لیے پر مقابل کی بھاری آواز کے آگے سب بھول گئی تبھی آہستگی سے پوچھی،اب کیا بولتی اسے کہ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر کی تھی اسے کال،جو اسکی نظراندازی پر روز بروز پگھلنے لگا تھا،
“ٹھیک ہوں۔۔۔اور کچھ۔۔۔؟”
لٹھ مار لہجے میں جواب دے کر پوچھا گیا،تحریم نے غصے میں فون کو گھورا،
“اکھڑو کہیں کا۔۔۔”
ہلکی سی آواز میں کلس کر بڑبڑاہٹ کی جو کہ دوسری طرف تیز کان نے سن لی،وہ آنکھیں گھوماگیا،
“نہیں۔۔۔اور کچھ نہیں۔۔۔”
سمجھ نہ آنے پر وہ بولی پر اگلے ہی پل دوسری طرف سے کال کٹ کردی گئی،تحریم کو کھلنے لگی تھی اسکی یہ بےرخی،اسے پچھتاوا ہوا اپنے دل پر،کتنی خوش تو تھی وہ اپنی ہی زندگی میں پھر کیوں اس انسان پر اپنا دھیان لگانے لگی،جس سانولی رنگت سے وہ چڑتی تھی کیوں وہ اس مرد پر اتنی جچنے لگی تھی اسے کہ اکثروبیشتر اس پر سے نظریں ہٹانا مشکل ہوجاتا تھا،کیوں اسکی بےرخی پر پریشان ہونے لگتی تھی وہ،کیوں اسکی ایک نظرِ کرم کے لیے بار بار فنکشن میں اسکے قریب سے گزری،جبکہ وہ تو یوں بنتا پھرا تھا جیسے تحریم ہے ہی نہیں اسکے آس پاس،غصے میں موبائل پھینکے وہ اپنا دکھتا سر تکیے میں چھپاگئی،دل میں عجیب سی بےکلی ہورہی تھی جس سے تحریم مرتضیٰ خود بھی حیران تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈھائی گھنٹے کی مووی ختم ہونے پر وہ آرام سے سونے کے لیے لیٹا پر تبھی ذہن میں جھماکا ہوا،براؤن آنکھیں سیدھا گلاس وال پر گئی پر وہاں اب کوئی نہیں تھا،
“لگتا ہے وہی سوگئی۔۔۔”
آہستگی سے بڑبڑاتے وہ بیڈ سے اٹھا پھر قدم بہ قدم چلتا گلاس وال کے پاس آتے آہستہ سے اسکا لاک کھولا،بالکونی میں انٹر ہوتے ہی وہ ٹھٹھکا تھا،بارش ختم ہوچکی تھی اور کونے میں نیچے سکڑی سمٹی سی شانزے آنکھیں موندے تھی،
“وائفی۔۔۔”
وہ دھیرے سے اسے پکارتا وہاں گیا تھا،نیچے جھک کر اسکا گال تھپتھپایا جو برف کے مانند لگ رہا تھا،ہونٹ نیلے پڑنے لگے تھے اسکے،اسے یوں بےسدھ دیکھے پیام بوکھلایا تھا،وہ تو مذاق کرنا چاہ رہا تھا اس سے،پر معلوم نہیں تھا کہ اسکا مذاق وہ خود کو مضبوط دکھانے والی لڑکی برداشت نہیں کر پائے گی،
“شِٹ۔۔۔شانزے۔۔شانزے۔۔”
بازو سے جھنجھوڑنے پر وہ جو غنودگی میں تھی اپنی شہد رنگیں آنکھیں نیم وا کیں،سامنے پیام کو دیکھتے ہی وہ اپنا غصہ ظاہر کرتے اسکا ہاتھ جھٹکنے لگی پر کمزوری کے باعث نہیں کرپائی،اسکی خراب ہوتی حالت دیکھتا پیام شانزے کو بازوؤں میں بھرتے بالکونی سے نکل کر روم میں آیا،پھر اسے سیدھا بیڈ پر لیٹایا،
اے سی بند کرکے وہ واپس شانزے کی طرف آیا تبھی شانزے بمشکل آنکھیں کھول کر بھنچی آبرو سمیت اسے دیکھتے بولی،
“تم۔۔بد۔۔تمیز۔۔۔ہات۔۔۔ہاتھ مت۔۔لگاؤ۔۔۔ابو۔۔۔سے ش۔۔۔شکایت۔۔کر۔۔کروں۔۔گی۔۔می۔۔میں تمہا۔۔تمہاری۔۔۔”
کمرے کے نارمل ٹیمپریچر میں وہ کپکپاتے ہوئے بولی تھی،پیام کو اسکی بات پر ناچاہتے ہوئے بھی ہنسی آنے لگی،شانزے کو نارمل ہوتے دیکھ وہ اس ہی کے برابر میں قریب ہی لیٹتا گویا ہوا،
“میری شکایت تب کرو گی جب خود ٹھیک ہوگی۔۔۔حشر دیکھو اپنا۔۔۔جنگلی بلی بلکل بھیگی بلی لگ رہی ہے۔۔۔”
بول کر وہ زور سے ہنسا تھا شانزے نے تپ کر اسکے سینے پر زور سے مکا مارنا چاہا پر پیام پھرتی سے اسکی برف کے مانند ٹھنڈی کلائی تھام گیا،شانزے اسے گھورتی کہ اچانک وہ بوکھلائی۔۔۔،پیام کی یکدم بدلتی نظروں سے،بغور اسکا ایک ایک نقش ازبر کیے وہ بلکل چپ تھا،پیام کی بولتی نظروں سے گھبرائے وہ بیڈ سے اٹھنے لگی پر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے وہ واپس اسے لیٹاگیا،
“یونہی رہو۔۔۔ابھی تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔اپنا چہرہ تو دیکھو۔۔۔بلکل ٹھنڈا ہورہا ہے۔۔۔تمہاری ناک۔۔بلکل سرخ۔۔۔اور تمہارے گال۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں دیکھے وہ نرمی سے بولتے رکا اور آہستگی سے شانزے کے سرخ ہوئے گال کر سہلانے لگا،لہجہ بہکا ہوا تھا،شانزے کانپ کر رہ گئی۔۔۔،اپنی پشت پر اسکی گرم انگلیوں کے لمس سے،چاہ کر بھی اسے دھکا نہیں دے پارہی تھی کمزوری کے باعث،دوسری طرف وہ آج خود کو روک نہیں پارہا تھا اس پری وش کے آگے،مقابل کا گداز بھیگا جسم اسے اکسارہا تھا جسارتوں پر،
“چھوڑو۔۔۔مجھ۔۔”
“ششش۔۔۔!”
وہ شانزے کی پشت پر دباؤ بڑھاتا اسے اپنے بےحد نزدیک کرنے لگا تھا تبھی شانزے کمزور سے احتجاج کے تحت بولنے لگی پر وہ اسکے سرد پڑتے لبوں پر انگلی رکھتا اسے چپ کراگیا،
“تمہارے ہونٹ۔۔۔کس قدر نیلے ہورہے ہیں۔۔۔”
نرمی سے ان پر انگلی پھیرتا وہ سرگوشی کیا تھا پھر شانزے پر جھکتے وہ ان لبوں پر اپنے عنابی ہونٹ رکھ گیا،شانزے کی سانس ساکن ہوئی تھی،بری طرح دھڑکتے دل کی دھڑکن اتنی واضح تھی کہ کمرے کی خواب ناک خاموشی میں پیام مرتضیٰ کو صاف سنائی دے رہی تھی،دم گھٹنے پر وہ اسکے سینے پر ہاتھ رکھے پیام کو دور کرنے کی کوشش کرتی آنکھیں میچ گئی،تبھی اسکی جان بخشی کیے وہ تھوڑا پیچھے ہوا،شانزے کو گہرے سانس لیتے دیکھ اسکے لب مسکرائے تھے،بےباک نظروں سے اسے یوں نڈھال دیکھ وہ اٹھ کر اپنی قمیض اتارتا واپس شانزے پر جھکا تھا،
“نہی۔۔۔نہیں۔۔پیا۔۔پیام۔۔مرتضٰی۔۔۔”
بمشکل پیچھے سرکتی وہ ہکلائی پر پیام نے اسکے اعتراضات پر آرام سے اسکے لبوں پر اپنا بھاری ہاتھ رکھا،
“میں تمہاری باتیں مانتا ہوں نا۔۔۔تو اب تھوڑا تو حق دو پیام مرتضیٰ کو خود پر وائفی۔۔۔”
چہرے سے چپکے اسکے بھیگے بال ہٹائے شانزے کے کان کے بلکل نزدیک اپنا چہرہ کیے وہ گھمبیر لہجے میں بولا ساتھ ہی اسکے کان کی لُو کو دانتوں تلے ہلکے سے دبایا جس پر شانزے سسکی تھی،
شانزے کی پُشت نرمی سے سہلائے وہ ہاتھ اوپر لاتا اسکے دونوں کندھوں پر سے فراک سرکائے ان پر بےخودی میں جھکا خود کو سیراب کرنے لگا تبھی اسکے بےباک انداز سے ڈرتی گھبراتی شانزے کے ماؤف ہوئے ذہن میں وہ رات آئی جب اس نے پیام کو ہوٹل میں اس لڑکی کے ساتھ دیکھا تھا،
“وائفی۔۔۔پیام مرتضیٰ کو تم روز بروز بہت زیادہ اچھی لگنے لگی ہو۔۔۔تمہاری باتیں۔۔۔۔تمہارا غصہ۔۔مجھ سے چڑنا۔۔یہ سب کس قدر اچھا لگتا ہے مجھے۔۔۔تمہیں پتا ہے۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ میں تم سے۔۔۔”
دونوں ہاتھوں سے بھرپور کوشش کرتے اس نے زور سے دھکا دیا تھا پیام کو،وہ جو مدہوشی میں جسارتوں پر آمادہ اس پر جھکے سرگوشانہ لہجے میں اعترافِ دل کرنے لگا تھا شانزے کے اچانک حملے پر ہوش میں آیا تھا،بمشکل سانس کھینچے وہ بہت کوشش کے بعد اٹھ بیٹھی،چند پل حیران نظروں سے اسے دیکھتے رہنے کے بعد وہ بولا تھا،
“کیا ہوا۔۔؟”
اسکے سوال پر شانزے نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا تھا،چاہ کر بھی اسکے ذہن سے وہ رات نہیں جاتی،اگر کو وہ پیام کو ہنستا یا مذاق کرتا دیکھ کر خوش ہونا چاہتی پر دل میں ایسی خلش بیٹھی تھی اس رات کی کہ بےساختہ اسے گھن سی آتی پیام مرتضیٰ سے،ایک لڑکی کے لیے یہ سوچ ہی کتنی وحشت ناک تھی کہ اسکا شوہر پہلے بھی کتنی لڑکیوں کے ساتھ رات گزار چکا ہے،
“ت۔۔تم۔۔۔ای۔۔۔ایک۔۔عیاش پسند۔۔مرد ہو پیام مرتضیٰ۔۔۔”
سائیڈ پر رکھا دوپٹہ اوڑھتے وہ اسے نفرت سے دیکھتے بولی،پیام بےیقین سا ہوکر اٹھ بیٹھا،وہ حیرت سے اسکی اچانک کہی جانے والی باتوں کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرنے لگا تھا،
“شانزے۔۔ہوا کیا ہے اچانک۔۔ادھر آؤ۔۔”
تشویش سے کہتا وہ آگے بڑھا اور اسکے دونوں بازو تھامنے لگا پر فوراً سے پہلے شانزے بدک کر دور ہوئی،
“دور رہو مجھ سے تم۔۔۔۔تم۔۔۔ہوس کے پُجاری۔۔۔”
بہت سوچ کر اس نے ایسے الفاظ کا انتخاب کیا تاکہ مقابل کا دل دکھے اور وہ کم از کم اس سے دور رہے،پر اگلے ہی لمحے اس کی جان پر بنی جب پیام نے اسکے دنوں کندھوں کو جکڑے جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچا،وہ سیدھا اسکے کشادہ سینے پر آلگی تھی،
“کیا سوچ کر یہ خطاب دیا ہے تم نے مجھے۔۔۔عقل ہے بھی کہ کیا بکواس کی ہے ابھی تم نے۔۔۔”
اسکی ساری مدہوشی اڑن چھو ہوئی تھی شانزے کے کہے گئے اس لفظ پر،آنکھوں میں خون اتر آیا تھا،اسکے کندھوں پر گرفت سخت کیے وہ غرایا تھا،
“ہے عقل۔۔۔اور بہت سوچ کر ہی یہ خطاب دیا ہے میں نے۔۔۔تمہاری اصلیت تو مجھے اسی رات پتا چل چکی تھی جس رات تم اس۔۔۔اس لڑکی کے ساتھ ہوٹل میں۔۔۔پتا نہیں اس سے پہلے اور کتنی لڑکیوں کے ساتھ۔۔۔”
“شانزے!”
اسکی کراہیت آمیز لہجے میں کہی جانے والی بات کاٹ کر وہ دھاڑتے ہوئے ہاتھ اٹھایا تھا،شانزے سہم کر پیچھے ہوئی،وحشت سے آنکھیں پھیلائے وہ پیام کے اٹھے ہاتھ کو دیکھی تھی،ہوا میں معلق اپنے ہاتھ کو وہ بمشکل روک پایا تھا،لب بھینچے وہ ہاتھ نیچے کیا پر لہو رنگ نظروں سے شانزے کو گھورتے وہ اسکے چہرے کے نزدیک اپنا چہرہ کیا تھا،
“جانتی ہو میں بھلے ہی بہت چھچھورہ یا دل پھینک قسم کا انسان ہوں پر آج تک کسی سے فزیکل نہیں ہوا۔۔۔۔اس رات میں پہلی بار اس گناہ کے جانب راغب ہوا تھا۔۔۔۔پر اتفاق کتنا اچھا ہوا کہ اس ہی رات تم اس روم میں پہنچی اور مجھے اس بڑے گناہ سے بچاگئی۔۔۔۔باقی باتوں کا تو مجھے نہیں پتا۔۔۔ہاں پر اتنا ضرور کہوں گا کہ میں خوش تھا۔۔بہت خوش کہ اس گناہ سے بچا۔۔۔یہ بات اگر تم کبھی بھی مجھ سے پوچھتی تو میں تفصیل سے تمہیں سب سمجھاتا پر اب۔۔۔تمہاری سوچ اپنے بارے میں سن کر کافی خوشی ہوئی مجھے۔۔۔۔”
شدتِ ضبط سے اسکا وجیہہ چہرہ لال بھبوکا ہورہا تھا،دھیمے لہجے میں اپنی بات مکمل کرتا وہ جھٹکے سے اٹھتا ہوا روم سے نکلا تھا،شانزے کو جہاں شرمندگی ہوئی تھی وہی اندر کہیں دلی خوشی بھی ہوئی تھی،مطلب وہ اتنے دنوں سے کتنا غلط سوچ رہی تھی اسے،بےساختہ اسے پیام سے ڈھیر ساری باتیں کرنے کا دل چاہا پر وہ تو وہاں تھا ہی نہیں،لیکن شانزے نے سوچ لیا تھا کہ وہ جلد ہی اس سے معافی مانگے گی دل آزاری کرنے پر،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج دو دنوں کے بعد شادل اور خولہ کی بارات تھی،جوکہ مرتضیٰ صاحب کے فیصلے پر مرتضیٰ ہاؤس میں ہی رکھی گئی تھی،شادل کی پچھلی شادی ٹوٹنے پر وہ اس بار کافی پریشان تھے جسکے باعث انہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا،پیام نے شانزے کو ان دو دنوں میں مکمل نظرانداز کیا ہوا تھا،جس طرح وہ اس سے بات کرتا یا چھیڑتا شانزے کو نہیں معلوم تھا وہ ناراض ہوگا تو ایسا کہ اسکی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کرے گا کجا کہ کوئی بات بھی کرتا،
بارات سے ایک دن پہلے ہی مرتضیٰ نے اسے ایک پروجیکٹ کا بتایا تھا جس کے سلسلے میں اسے چار مہینے کے لیے دبئی جانا تھا،ویسے تو ہر پروجیکٹ پر شادل ہی جایا کرتا تھا پر اسکی شادی ہونے کی وجہ سے مرتضیٰ صاحب نے اس سے بات کی،پہلے تو اسکا منع کرنے کا دل چاہا پر شانزے کی وہ کراہیت آمیز باتیں یاد آئیں تو پیام فوراً ہامی بھرگیا،اس بارے میں گھر میں سبھی کو معلوم تھا سوائے شانزے کے،رابیہ بیگم جہاں اسکی چار مہینے کی دوری پر پریشان ہوئیں وہی انکے دل میں یک گونہ سکون ہوا کہ ان عرصے میں وہ شانزے کو ٹھیک ٹھاک سبق سکھانے کا ارادہ رکھتی تھیں،خوش وہ زیادہ اس لیے بھی تھیں کہ اس مرحلے میں اب انکی سگی اور عزیز بھانجی خولہ بھی شامل ہوگی،شانزے جو سبھی کی سوچوں اور پلینز سے بےخبر تھی اسے شدید بےچینی ہونے لگی تھی،وہ بہت کوشش کررہی تھی پیام سے بات کرنے کی پر وہ تو بلکل اسے اگنور کیا ہوا تھا،تبھی رابیہ بیگم نے شانزے کو پیام سے پوچھ کر مٹھائیوں کے ٹوکرے لانے کا کہا،وہ تو خوش ہی ہوگئی تھی،کوئی بہانہ تو ملا تھا مقابل سے بات کرنے کا،اپنا لہنگا سنبھالے وہ جلدی سے اسکے پاس پہنچی تھی جو اسے دیکھتے ہی پہلی فرصت میں دوسری جانب نظر کرچکا تھا،
“آ۔۔۔آہمم۔۔”
اسکی کھنکار کا بھی کوئی خاص اثر نہ ہوا تو وہ چل کر اسکے سامنے آئی،
“امی مٹھائیوں کے ٹوکرے کا پوچھ رہی ہیں۔۔۔”
وہ بولی تو نارمل لہجے میں پر شہد رنگ آنکھیں مقابل کے تاثرات پر تھیں جو کہ بلکل سپاٹ تھے،
“سٹور میں ہیں۔۔۔”
بےتاثر لہجے میں کہتا وہ بنا اس پر ایک نگاہِ غلط ڈالے دوسری جانب چل دیا،شانزے منہ بناتی اسکی پشت کو گھوری پھر سٹور کی طرف جانے لگی،
“جب دیکھتا تھا تو چھچھورہ پن ہی ختم نہیں ہوتا تھا اور اب۔۔۔ایک مرتبہ بھی نہیں دیکھا۔۔۔بدتمیز انسان۔۔۔”
بےساختہ اسے اپنی پوری تیاری فضول سی لگی،بےدلی سے بڑبڑاتی وہ سٹور میں داخل ہوئی،ابھی لائٹ اون کرنے کے لیے سوئچ پر ہاتھ رکھا ہی تھا اس نے کہ کوئی اندھیرے میں پیچھے سے اسکے لبوں پر ہاتھ جماتا دھاڑ سے گیٹ بند کیے شانزے کا رخ گیٹ کی طرف کرگیا،شانزے کی سانس رکی تھی مقابل کی اس حرکت پر،اسکا بھاری ہاتھ لبوں سے ہٹانے کی کوشش کرتی وہ دبی دبی آواز میں چیخ رہی تھی،اسے یوں مچلتے دیکھ مقابل کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیلی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
