422K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aah-E-Muhabat (Episode 4)

Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz

کھانے کے بعد بھی وہ لوگ کافی دیر تک وہی پر رہے،پیام عبید سے باتیں کرتے ہوئے ہر تھوڑی دیر بعد شانزے پر ایک آدھ نظر ڈالتا رہا،وہ اسے کبھی کسی ٹیبل پر کچھ سروو کرتی دکھتی تو کبھی اندر جاتی،مستقل مصروف سی کام میں لگی وہ اب پیام کی موجودگی سے بےنیاز ہوگئی تھی،اور یہی بات کہیں نہ کہی پیام مرتضیٰ کو اندر کھلی تھی،یہ بات تو وہ خود بھی جانتا تھا کہ وجاہت میں وہ شادل سے کئی زیادہ اوپر تھا اسی بات کا غرور بھی اس میں بہت تھا پر اس مڈل کلاس لڑکی کی یہ حرکت اسے کافی عجیب لگی کہ وہ اسے چھوڑ شادل کو کیوں پسند کرتی تھی،حالانکہ لڑکیاں اس بگڑے امیرزادے پر مرتی تھیں،پر یہ بات اس غرور کے آسمان پر چڑھے شہزادے کو کہاں معلوم کہ سبھی لڑکیاں صرف خوبصورتی پر نہیں مرتیں،کچھ کو سیرت بھی بھاتی ہے مردوں کی اور وہ جو خوبصورتی میں شادل سے پانچ قدم آگے تھا تو وہی سیرت میں اس سے دس قدم پیچھے بھی تھا،

“اوکے یار۔۔۔اب میں چلتا ہوں۔۔۔”

کافی رات ہونے پر جہاں ریسٹورنٹ خالی ہونے لگا تھا وہی عبید بھی اب اپنی چئیر سے اٹھتا بولا،اسے حیرت بھی ہورہی تھی کہ پہلی بار پیام کسی جگہ پر اتنی دیر تک رکا تھا،

“ٹھیک ہے۔۔۔تُو جا۔۔۔کل ملیں گے۔۔۔”

سنجیدگی سے اسکے بولنے پر عبید وہاں سے نکلا تھا تبھی پیام نے گردن موڑ کر ایک نظر پھر اندر کی طرف ڈالی،شانزے اپنی کسی ساتھی ویڑریس کے ساتھ باتیں کرتی باہر کے جانب ہی جارہی تھی،اس سے پہلے وہ باہر نکلتی پیام اٹھ کر تیز قدم اٹھاتا اسکے سامنے آرُکا،اسکے یوں اچانک آنے پر شانزے جو باتوں میں مگن تھی بےساختہ اسکے قدم رکے،پیام کو دیکھتے ہی اسکے چہرے پر پھر ناگواری چھائی،

“مجھے بات کرنی ہے تم سے۔۔۔”

وہ اسکے برابر سے ہوکر نکلنے لگی تبھی پیام مخصوص بھاری آواز میں بولا،

“کیوں۔۔۔اور لڑکیاں نہیں بچی بات کرنے کے لیے۔۔۔”

ہوٹل والے واقعے کو مدنظر رکھتے ہوئے شانزے نے اس پر چوٹ کیا،

“شانزے تُو جانتی ہے یہ کون ہے۔۔۔”

سویرہ جو پیام کو دیکھ کر اسکی پرسنیلٹی کے سحر میں اب تک گرفتار تھی،شانزے کے چوٹ کرنے پر سرگوشانہ لہجے میں شانزے سے بولی،

“ہاں۔۔۔جانتی ہوں۔۔۔بہت اچھے سے جانتی ہوں اسے۔۔۔ایسے بگڑے ہوئے امیرزادوں کو کون لڑکی نہیں جانتی ہوگی۔۔۔۔”

اسکی سرگوشی کے جواب میں شانزے نے بلند آواز میں پیام کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے طنز کیا،مینیجر اور باقی لوگوں کے سامنے ہوئی تذلیل اور کچھ پچھلی سرد ملاقاتوں کے تحت وہ اب بہت حد تک چڑ چکی تھی اس شخص سے،

“میری تعریفوں کے پُل بعد میں باندھ لینا۔۔۔پہلے وہاں چلو کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔اور آپ۔۔۔جاسکتی ہیں۔۔۔”

وہ جو اب تک خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا،اب سرد لہجے میں بولتا آخر میں سویرہ کو اور بھی کچھ بولنے کے لیے منہ کھولتا دیکھ اسے ٹوک گیا،جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتی باہر نکلی،

“سویرہ رکو۔۔”

شانزے سویرہ کو جاتا دیکھ بول کر اسکے پیچھے قدم بڑھانے لگی پر پہلی فرصت میں پیام اسکی کلائی کو سختی سے پکڑے کونے والی ٹیبل پر لے جانے لگا،

“کیا بدتمیزی ہے۔۔۔ہاتھ چھو۔۔۔”

“اگر چاہتی ہو کہ تماشہ نہ بنے تو خاموشی سے بیٹھو یہاں پر۔۔۔اور جو کہوں وہ سنو۔۔۔ورنہ تم جانتی ہو میں بقول تمہارے کتنا بگڑا ہوا بےشرم انسان ہوں۔۔۔”

دھیمے مگر گہرے لہجے میں شانزے کی بات کاٹ کر بولتا وہ اسے خوف میں مبتلا کر گیا،وہ جو اب تک مزاحمت کر رہی تھی بلکل چپ سی ہوگئی،جانتی تھی کہ شہرت اور امیری کے نشے میں چُور وہ انسان کچھ بھی کرے گا اگر اسکی بات نہ مانی تبھی وہ خاموشی سے چئیر پر بیٹھ گئی البتہ خوبصورت چہرے پر اب بھی واضح ناگواریت سجی تھی،

“دیٹس لائک آ گُڈ گرل۔۔۔”

اسکے چپ چاپ بیٹھنے پر پیام تمسخر سے کہتا ہوا بیٹھا پھر چند پل شانزے کے خوبصورت چہرے پر چھائی ناگواری دیکھے گیا،

“اب بولو بھی۔۔۔”

پیام کے خاموش رہنے پر وہ تڑخ کر گویا ہوئی،دل میں ڈر بھی کنڈلی مارے بیٹھا تھا کہ کہیں شادل کو وہ باہر آتی نہ دکھی تو وہ اندر نہ آجائے اور اگر اس نے شانزے کو یوں کسی غیر کے ساتھ بیٹھا دیکھ لیا تو،

“چلو سیدھا مدعے پر آتا ہوں۔۔۔”

کچھ دیر بعد یہ بات بول کر پیام اسکے تاثرات کو بغور دیکھنے لگا

“کیا مدعہ بولو بھ۔۔۔”

“شادل کو چھوڑ دو۔۔۔”

وہ جو جھنجھلا کر بولنے لگی تھی الفاظ کہیں گم ہی ہوگئے پیام کی بات پر،،دماغ بھک سے اڑا تھا،سرخ و سفید چہرے کے تاثرات پل میں ناگواریت سے بےیقینی میں بدلے،پیام کے لبوں کو طنزیہ مسکراہٹ نے چھوا مقابل کی حیرت زدہ حالت دیکھ،وہ خوش ہوا تھا اسے پریشانی میں دیکھ،

“ککک۔۔کیا ممطلب۔۔۔ہے تتتمہارا۔۔۔”

کافی دیر بعد وہ بولنے کے قابل ہوئی پر الفاظ پھر بھی لڑکھڑائے تھے،ذہن میں ہر طرف یہ سوچ پھیلی تھی کہ مقابل بیٹھا وہ امیرزادہ کیسے جانتا تھا شادل کو اور سب سے حیرت انگیز بات کہ وہ کیا بول رہا تھا اس سے،

“بیس لاکھ۔۔۔”

پرسکون انداز میں بول کر پیام نے چئیر سے ٹیک لگائی،

“میں۔۔سمجھی نہی۔۔۔”

“چالیس لاکھ۔۔۔”

ایک بار پھر اسکی بات کاٹتے مقابل بولا جبکہ وہ سچ میں سمجھنے سے قاصر تھی کہ وہ کہنا کیا چاہ رہا ہے،

“دیکھو۔۔۔مجھے سچ میں کچھ سمجھ نہیں آرہا پہلے تم۔۔۔یہ بتاؤ کہ تم شادل کو۔۔۔”

“ساٹھ لاکھ۔۔۔آفر اب تک جاری ہے ڈن کرنا ہے تو بولو۔۔۔اور شادل کو چھوڑو۔۔۔”

وہ رسانیت سے کہتا ایک ہاتھ چئیر کے پیچھے کیے بغور اسے دیکھے گیا،

“کیا بکواس ہے۔۔۔”

یکدم وہ بلند آواز میں بولتی چئیر سے اٹھی،گال دہک اٹھے تھے ہتک سے،تو کیا وہ اسے پیسوں کی پجاری سمجھتا تھا،

“تم مجھے آفر کررہے ہو۔۔۔تم سمجھتے کیا ہو خود کو۔۔۔پیسوں سے لوگوں کو خریدتے ہو۔۔۔رشتوں کے بھاؤ تاؤ اپنے نوٹوں سے کرتے ہو۔۔۔۔اب تک تو تمہیں میں بے شرم اور بدتمیز سمجھتی تھی پر اب پتا چلا کہ تم ان دونوں باتوں کے ساتھ ساتھ ایک نہایت نیچ انسان۔۔۔”

“اپنی بکواس بند کرو۔۔۔”

وہ جو احساسِ ذلت سے اپنی بھڑاس اس پر نکالتی بلند آواز میں اس پر ایک اور ٹیگ لگاگئی تھی،پیام کی بھاری درشت لہجے میں ٹوکنے پر چپ ہوئی،شادل کا نرم مسکراہٹ لیے چہرہ آنکھوں کے سامنے چھایا تو آنسو بےساختہ شانزے کے گال پر پھسلے،

“سنو لڑکی۔۔۔میں جو کوئی بھی ہوں یا شادل کو کیسے جانتا ہوں تمہیں اس سے فرق نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔۔میری بات غور سے سنو۔۔۔اگر تھوڑی بھی شرم ہے تو شادل کو چھوڑو اس سے شادی سے انکار کرو۔۔۔۔بدلے میں جتنے پیسے مانگو گی دونگا۔۔۔اور اگر تم ایسا نہیں کروگی تو یقین کرو کہ یہ میری آخری وارننگ ثابت ہوگی تمہارے لیے اسکے بعد۔۔۔۔”

“کرلو جو کرنا ہے۔۔۔نہیں ڈرتی میں تم جیسے غرور کے نشے میں چُور لوگوں سے۔۔۔۔ہو کیا تم۔۔۔خود کو سمجھتے کیا ہو۔۔۔یہ اپنے ان پیسوں سے مجھے شانزے اکبر کو خریدوگے۔۔۔تم بےحیا انسان۔۔۔بہت کہہ لیا تم نے۔۔۔اب میری سنو۔۔۔میں۔۔۔شادل۔۔۔سے۔۔۔۔ہی۔۔۔شادی۔۔۔کرونگی۔۔۔چاہے کچھ بھی ہو۔۔۔روک سکو تو روک لو۔۔۔اور ہاں اپنے پیسوں کا بھرم جاکر ان لڑکیوں پر دکھاؤ جو اس سے امپریس ہوتی ہیں۔۔”

انتہائی غصے میں بنا کچھ سوچے سمجھے وہ پیام کو کھرا سناکر پلٹتے ہوئے وہاں سے چلی گئی،پیام نے جبڑے بھینچے اسکی پشت کو سرخ آنکھوں سے گھورا،

“تھوڑا ٹریلر دکھانا تو بنتا ہے تمہیں۔۔۔”شانزے اکبر”

دانت پیس کر وہ غراتے ہوئے گویا ہوا تھا،

آنسو پوچھتی وہ باہر نکلی سامنے ہی اپنی گاڑی کے ساتھ کھڑا شادل اسی کا ویٹ کررہا تھا،

“تم رورہی ہو۔۔۔”

اسکے پاس آتے ہوئے شادل نے شانزے کی سرخ آنکھوں کو دیکھ پوچھا

“نہیں۔۔نہیں تو۔۔۔وہ سر میں تھوڑا درد ہے نا۔۔تبھی۔۔”

جلدی سے بہانہ سوچتی وہ ہلکے جھپکا کر بولی،تو شادل نرمی سے مسکرایا،

“لڑکی اتنا کام کرتی ہی کیوں ہو کہ سر درد کرنے لگے۔۔۔”

اسکا مسکاتے لہجے پر شانزے کا یک گونہ سکون سے بھرا تھا کہ اس نے بلکل صحیح فیصلہ کیا ہے،

“چلو آج تو مجھے ڈراپ کرنے دو تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔”

اسکی خاموشی پر شادل بولتے ساتھ کار کا گیٹ کھولنے لگا،

“نہیں شادل زیادہ درد نہیں ہے بس ہلکا سا ہے۔۔۔اور میں خود چلی جاؤں گی۔۔۔”

“شانزے کبھی تو میری بات مان لیا کرو یار۔۔۔آخر کل کو مجھ سے ہی شادی ہونی ہے پھر کیا شوہر کی ہر بات سے یوں ہی انکار کرو گی۔۔۔”

شادل کے مسکراہٹ دباکر کہنے پر شانزے نظریں جھکاگئی،کچھ دیر پہلے والی بدمزگی اسکے دماغ سے نکل چکی تھی،اب حیا کے خوبصورت رنگ کے گلال بکھرے تھے سفید عارض پر،جسے شادل نے پرشوق نظروں میں لیا،ریسٹورنٹ سے باہر نکلتا پیام ان دونوں کو دیکھ کر رکا تھا،پھر شانزے کے خوبصورت سرخ چہرے کو ناگواریت سے گھورتے ہوئے اپنی کار پر بیٹھا،

“اپنی خوبصورتی سے بھائی کو دیوانہ بنارکھا ہے اس نے۔۔۔اب سمجھا پیسے پر راضی کیوں نہیں ہوئی۔۔۔کیونکہ اگر آفر مان لیتی تو مرتضیٰ ہاؤس میں انٹری کیسے ملتی اس لالچی لڑکی کو۔۔۔پر دیکھتے ہیں کب تک چلتا ہے اسکا ڈرامہ۔۔۔”

کار میں بیٹھا ان دونوں کو تیز نظروں میں لیے وہ بڑبڑایا پھر کار سٹارٹ کر کے تیزی میں انکے برابر سے لےگیا،شادل تو شانزے کے خوبصورت نقش کو دیکھنے میں محو تھا پر شانزے کی نظر جیسے ہی برابر سے ہوتی کار پر گئی اسکی مسکراہٹ غائب ہوئی،ایک بار پھر شیشے سے ہاتھ نکالے وہ وکٹری کا نشان بنائے اسے دکھایا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کو تحریم دوستوں کے ساتھ پارٹی کر کے اب گھر کے جانب جارہی تھی پر راستے میں ہی اسکی کار رک گئی،چونکہ کار سنسان راستے پر رکی تھی تبھی وہ تھوڑی پریشان ہوئی،نکل کر دیکھا تو ٹائر پنکچر ہوچکا تھا،

“شِٹ یہ داد بخش کو کہا بھی تھا میں نے کہ ٹیونگ کرواکر رکھا کرے۔۔۔پر نہیں۔۔۔گھر جاکر بخشوں گی نہیں اسے۔۔۔”

غصے میں بڑبڑاتی وہ دونوں طرف نظر دوڑانے لگی،اکا دکا گاڑیاں گزر رہی تھیں،پہلے تو تحریم کو کچھ اوکورڈ فیل ہوا کہ کبھی یوں کسی سے لفٹ نہیں مانگی تھی پھر ٹائم زیادہ ہوتا دیکھ وہ ہاتھ کے اشارے سے گزرتی گاڑیوں کو روکنے لگی،

کچھ دیر کی کوششوں کے بعد کوئی گاڑی تو نہیں پر ایک بائک ضرور رکی تھی،

“تھینک گاڈ۔۔۔”

آنکھیں گھماتے ہوئے تحریم بولی ساتھ ہی اس بائک کے قریب گئی،مقابل کوئی وجیہہ چہرے کا لڑکا تھا،

“سنو مجھے لفٹ چاہیے۔۔۔”

پہلے بار لفٹ مانگ رہی تھی کسی سے تبھی فطرتاً وہ نزاکت بھرے لہجے میں بولی،جس پر مقابل کی خاموش نظریں اس پر ٹکی رہی،

“ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔؟”

معاً بھنوں کو بھینچ کر تحریم نے اس سے پوچھا،سکائے بلو ٹی شرٹ پر بلو جینز پہنے بالوں کو ماتھے پر بکھرا چھوڑے وہ سانولے رنگت کا نوجوان اپنے پرکشش چہرے سے کسی بھی لڑکی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا،

“دیکھ رہا ہوں کہ کہیں چڑیل تو نہیں ہو۔۔۔کیونکہ اتنی رات کو تو چڑیلیں ہی یوں سنسان سڑک پر کھڑی رہتی ہیں۔۔۔”

باسط تحریم کو سر تا پیر دیکھتے ہوئے بولا،

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چڑیل بولنے کی۔۔۔یُو۔۔یُو سڑک چھاپ۔۔۔”

وہ سلگ ہی تو گئی تھی اپنے بارے میں ایسے الفاظ سن کر،تبھی جو سمجھ میں آیا وہ بول گئی،باسط کے تاثرات بلکل نارمل رہے اسکے رئیکشن پر،بلیک جینز پر پنک شرٹ پہنے میک اپ سے لبریز چہرہ اور بالوں کو کھلا چھوڑے وہ اسے پہلی نظر میں ہی کوئی امیر مگر مغرور لڑکی لگی تھی جس میں شاید بدتمیزی کی کوالٹی بھی بخوبی بھری تھی،

“میں سڑک چھاپ۔۔۔ہنہہ تو پھر تم اس سڑک چھاپ سے مدد کیوں مانگ رہی ہو۔۔۔یہی پر کھڑی رہو اور انتظار کرو کسی اپنے جیسے رئیس زادے کا۔۔۔”

بات مکمل کر کے باسط نے بائیک سٹارٹ کی تو تحریم جو اب تک گردن اکڑائے کھڑی تھی یکدم بوکھلائی،

“ارے۔۔۔ایسے کیسے۔۔۔میں یہاں کھڑی رہ جاؤں۔۔۔اور تم۔۔تمہیں کسی نے تمیز نہیں سکھائی کیا کہ یوں راستے میں کسی لڑکی کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔۔۔”

چاہے وہ کتنی بھی اکھڑو کیوں نہ ہو پر تھی تو لڑکی،رات کے اندھیرے سے گھبرائے جلدی جلدی اسے روکنے کے غرض بولنے لگی دماغ میں یہی سوچ چلی کے مقابل سے فلحال آرام سے بات کی جائے کیونکہ وقت کرنے پر تو گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے،باسط نے اسکی بات پر ستائشی نظروں سے اسے دیکھا،

“اوہ واؤ۔۔۔تو تم مجھے تمیز سکھاؤ گی کہ کس کے ساتھ کیسے رہنا چاہیے۔۔۔خیر پہلے تم یہ بتاؤ کہ تمہیں کسی نے تمیز نہیں سکھائی کہ وقت پڑنے پر جس گدھے کو باپ بنانا پڑتا ہے اسے بھی تھوڑی بہت عزت دی جاتی ہے۔۔۔”

تحریم کی سوچ کو مدنظر رکھے وہ جیسے ہی بولا تحریم غش کھا کر رہ گئی،کیا تھا وہ شخص،کیسے اسکی سوچ پڑھ لی اس نے،

“دیکھو۔۔۔مجھے لفٹ کی بہت ضرورت ہے۔۔۔مام گھر پر ویٹ کررہی ہونگی۔۔۔”

اچانک چہرے پر زمانے بھر کی معصومیت سجائے وہ گویا ہوئی،دل تو یہی کررہا تھا کہ مقابل کو بعد میں بخشے گی نہیں پر فلحال مجبوری تھی،

“یہ رونی صورت نہ بناؤ۔۔۔تم جیسی لڑکیوں پر سوٹ نہیں کرتا یہ سب۔۔۔”

ناگواری سے بولتا وہ بائک سٹارٹ کیا تھا،گویا اشارہ ہو بیٹھنے کا،

“ایک منٹ۔۔۔میرے جیسی لڑکی مطلب۔۔۔؟”

بیٹھنے کے بجائے وہ سیدھا میدان میں اترتی ایکسپریشن چینج کیے بولی،باسط کا دل چاہا اس مغرور لڑکی کو یہی چھوڑ کر چلے جائے،جو اسکا دماغ خراب کر رہی تھی اپنے ایٹیٹیوڈ سے،

“بیٹھنا ہے تو بیٹھو۔۔۔ورنہ میں جارہا ہوں۔۔۔”

تحریم کی بات اگنور کرتا وہ سختی سے بولا ساتھ ہی ڈرانے کے تحت بائیک تھوڑی آگے بڑھائی،وہ جو دونوں ہاتھوں کو فولڈ کیے اس کے سامنے سوال کیے کھڑی تھی فوراً بوکھلا کر بائیک پر آئی اور پیچھے بیٹھ گئی،

“بات سنو۔۔”

باسط کو اسکا لڑکوں کی طرح بیٹھنا برا لگا تبھی اسے پکارا،

“کیا۔۔۔”

“یہ کیسے بیٹھی ہو۔۔۔”

“صحیح تو بیٹھی ہوں۔۔۔اور کیسے۔۔۔اوہ۔۔۔ایکسکیوزمی مسٹر۔۔۔مجھے ان ڈیپیکل لڑکیوں کی طرح بیٹھنا نہیں آتا۔۔۔تمہیں لفٹ دینے سے مطلب ہے۔۔۔میرے بیٹھنے سے نہیں۔۔۔”

وہ جو ناسمجھی سے اس سے پوچھنے لگی تھی اچانک باسط کی بات سمجھ آنے پر اترا کر واپس اپنی ٹیون میں آتی بولنے لگی،

“بائیک میری ہے تو مرضی بھی میری چلے گی۔۔۔فوراً اترو۔۔۔اور ڈھنگ سے بیٹھو ورنہ یہی چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔۔۔”

اسکی باتوں کو خاطر میں نہ لاکر وہ سیریس تاثرات سمیت بولا تھا،تحریم چڑی تو بہت پر مجبوراً پھر اتر کر سیدھے ہوکر بیٹھی،کبھی بائیک پر بیٹھی نہیں تھی تبھی اس سے صحیح سے بیٹھا نہیں جارہا تھا،

اسکے سیدھے بیٹھتے ہی باسط نے بائیک چلائی،توازن نہ سنبھلنے پر تحریم نے گرنے کے ڈر سے فوراً باسط کو پیچھے سے سختی سے تھام لیا،اسکے مخملی ہاتھوں کا لمس اپنے پیٹ پر محسوس کر کے باسط کے تاثرات میں ناگواری چھائی تھی تبھی لب بھینچتا وہ راستے پر نظر مرکوز کیے رہا،

“کہاں جانا ہے۔۔۔”

سنسان سڑک سے نکلنے کے کچھ دیر بعد وہ پوچھا،

“گھر جانا ہے۔۔۔”

وہ جو ڈر سے اس پر سخت گرفت کیے آنکھیں بند کی ہوئی تھی،جلدی سے بولی،

“میں تمہارا ڈرائیور ہوں جو مجھے تمہارے گھر کا معلوم ہوگا۔۔۔۔”

بھاری آواز میں وہ اسے جھڑکا تھا،تحریم نے آنکھیں کھول کر اسکی پشت کو کھاجانے والی نظروں سے گھورا،

“میرے گھر کے ڈرائیور ایسے نہیں ہوتے۔۔۔”

اسکے لہجے پر چوٹ کرتی وہ واپس اپنی ٹون میں بولی،

“تو رکھ لو کوئی ہینڈسم ڈرائیور۔۔۔۔کسی نے منع تھوڑی کیا ہے۔۔۔۔”

وہ بخوبی شیشے سے اسکے ایکسپریشن دیکھ چکا تھا تبھی لبوں پر امڈتی مسکراہٹ دبائے طنزیہ لہجے میں کہا،

“تم اور ہینڈسم ہنہہ۔۔۔”

اسکی سانولی رنگت کو مدنظر رکھے تحریم نے آنکھیں گھوماکر کہا،

“کچھ کہا کیا۔۔۔”

شور کے باوجود وہ اسکی آواز سُن چکا تھا پھر بھی انجان بنتا پوچھا،

“کچھ نہیں۔۔۔”

منہ بناکر وہ بولی پھر باسط کو گھر کا ایڈریس بتانے لگی،تحریم کو ڈراپ کرتے وقت باسط نے ایک نظر اسکے محل نما گھر کو دیکھا،یعنی اسکا شک صحیح تھا وہ حقیقتاً ایک بدلحاظ رئیس زادی تھی،تمسخر اڑاتی نظروں سمیت نفی میں سرہلاتا وہ بائیک دوسرے رستے پر موڑ گیا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔