Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 12)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 12)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
مرتضیٰ صاحب اپنے روم میں بیٹھے کوئی بُک پڑھ رہے تھے تبھی دروازہ ناک ہونے پر انہوں نے مقابل کو اندر آنے کی اجازت دی،شانزے ہاتھ میں چائے کا کپ لیے اندر داخل ہوئی تھی،اسے دیکھ مرتضیٰ صاحب نے بُک بند کی ساتھ ہی دھیمی مسکراہٹ انکے چہرے پر آئی،
“میری بیٹی چائے لائی ہے۔۔۔”
انکا اپنائیت بھرا لہجہ شانزے کو ہمیشہ کی طرح بہت بھایا تھا،مسکراکر انکی طرف سوسر بڑھائی تھی وہ،تب انہوں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو شانزے کچھ فاصلے پر رکھے صوفے پر بیٹھ گئی،
“بیٹا صبح آپ کچھ کہنا چاہ رہی تھیں ہم سے۔۔۔؟”
چائے کا ایک آپ لے کر مرتضیٰ صاحب نے خود ہی بات کا آغاز کیا،انہیں لگا تھا کہ شانزے صبح کچھ کہنا چاہ رہی تھی پر رابیہ بیگم کے سامنے وہ ہچکچا کر چپ ہوگئی تھی،
“جی۔۔۔ابّو مجھے یہی پوچھنا تھا کہ۔۔۔۔کیا میں کل گھر جاسکتی ہوں۔۔؟”
آہستگی سے نرم لہجے میں شانزے نے پوچھا،
“ارے بیٹا اس میں پوچھنے والی۔۔۔”
مرتضیٰ صاحب ابھی کہہ ہی رہے تھے کہ روم کا گیٹ ناک ہوا پھر رابیہ بیگم اندر پریشان تاثرات سمیت اندر آئیں،شانزے کو دیکھتے ہی انکا موڈ خراب ہوا،
“اے لڑکی یہاں کیا کررہی ہو۔۔۔؟”
اسے استہفامیہ نظروں سے گھورتے انہوں نے پوچھا،
“ابو کو چائے دینے آئی تھی۔۔۔”
صوفے سے اٹھتی شانزے سنجیدگی سے گویا ہوئی،جس پر رابیہ بیگم نے ایک نظر چہرہ بگاڑے مرتضیٰ صاحب کے ہاتھ میں چائے کے کپ کو دیکھا،
“ابھی جاؤ یہاں سے۔۔۔”
انکا لہجہ نہایت ہی روکھا تھا کہ مرتضیٰ صاحب کی پیشانی شکن آلود ہوئی،
“یہ بات آپ نرمی سے بھی کہہ سکتی ہیں رابیہ بیگم۔۔۔وہ کوئی غیر نہیں بہو ہے ہماری۔۔۔”
شانزے کو لب بھینچے باہر کی طرف جاتا دیکھ وہ تھوڑے سخت لہجے میں بولے،
“مرتضٰی یہ چھوڑیں۔۔۔جو میں بتانے آئیں ہوں وہ تو سنیں۔۔۔”
اسکے جانے کے بعد ہی رابیہ بیگم کے تاثرات واپس پریشانی میں ڈھلے،مرتضٰی صاحب انکے یوں بولنے پر تھوڑا چونکے،
“مرتضیٰ۔۔۔رات ہونے کو آئی ہے پر تحریم صبح کی کالج گئی اب تک گھر نہیں پہنچی۔۔۔”
یہ بات کہتے انکے لہجے میں بےانتہا فکر گھلی تھی،مرتضیٰ صاحب جھٹکے سے سیدھے ہو بیٹھے،
“اور یہ بات آپ ہمیں اب بتارہی ہیں۔۔۔”
درشتگی سے بولتے وہ رابیہ بیگم کو سر جھکانے پر مجبور کر گئے،
“مجھے لگا تھا کہ وہ کسی دوست کے گھر گئی ہوگی۔۔۔کیونکہ اکثر وہ کالج سے اپنی دوست کے گھر چلی جاتی پھر واپسی اسکی شام کو ہی ہوتی۔۔۔پر اب تو۔۔۔۔اور آج تو موبائل بھی اپنا گھر بھول کر چلی گئی۔۔۔۔”
سر جھکائے ہچکچاہٹ سے بتاتے انکا لہجہ بھیگنے لگا تھا،اکلوتی بیٹی تھی وہ انکی،الگ ہی خوف آرہا تھا آج انہیں،
“انکی دوستوں کو کال کی آپ نے۔۔۔”
مرتضیٰ صاحب بھی پریشان ہوئے تھے تبھی اٹھتے ہوئے پوچھے،رابیہ بیگم نے انکے سوال پر اثبات میں سر ہلایا،
“شادل بھی پتا نہیں کال کیوں ریسیو نہیں کررہا اور پیام تو۔۔۔”
بولتے بولتے وہ خود ہی چپ ہوئیں تو مرتضیٰ صاحب جو روم سے نکل رہے تھے رک کر مڑے،
“ان نواب زادے کو تو رہنے دیں آپ۔۔۔۔دنیا جائے جہنم میں انکی عیش پرستی پر بس زرا سی بھی مداخلت نہ ہونی چاہیے۔۔۔”
پیام کے بارے میں کہتے ہوئے انکا لہجہ ہمیشہ کی طرح سخت غصے میں تبدیل ہوا،تبھی باہر کار کے ہارن پر وہ لوگ روم سے نکلے،
“امی کھانا نکلوائیں۔۔۔آج بہت بھوک لگی ہے۔۔۔”
مخصوص نرم لہجے میں مسکراکر کہتا شادل اپنا کوٹ اور بیگ اٹھائے روم کی طرف جانے لگا پر اچانک وہ ٹھٹھک کر رکا مرتضیٰ صاحب اور رابیہ بیگم کو ایک ہی جگہ پر ایستادہ دیکھ کر،
“کیا ہوا۔۔۔”
ان دونوں کو خاموش دیکھ وہ حیرت سے گویا ہوا،
“کال ریسیو کیوں نہیں کررہے تھے تم۔۔؟”
رابیہ بیگم کی بھرائی آواز پر وہ چونکا تھا،تبھی اسے احساس ہوا کہ انکی پلکیں نم ہورہی ہیں،
“امی۔۔۔آپ رورہی ہیں۔۔۔؟”
کوٹ اور بیگ لاؤنج کے صوفے پر رکھتا وہ تیز قدم اُٹھاتاانکے پاس آیا ساتھ ہی رابیہ بیگم کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا اچھنبے سے پوچھنے لگا،
“تحریم اب تک گھر نہیں لوٹی ہے۔۔۔موبائل بھی گھر پر ہے۔۔۔کہاں ہوگی وہ۔۔۔”
یکدم شادل کو بتاتی وہ بھبھک کر رودیں،
اس نے جلدی سے رابیہ بیگم کے گرد بازو حائل کیا تھا،
“امی۔۔۔اپنی کسی فرینڈ کے گھر ہوگی۔۔۔آپ روئیں تو نہ۔۔۔”
انہیں دلاسہ دیتے وہ خود بھی پریشان ہوا تھا،
“اچھا ٹھیک ہے۔۔۔آپ چپ ہوں پہلے۔۔۔میں دیکھتا ہوں۔۔تحریم کی کچھ دوستوں کے گھر کا پتا ہے مجھے۔۔۔اکثر چھوڑنے جاتا تھا۔۔۔میں وہاں معلوم کر کے آتا ہوں۔۔۔اوکے۔۔۔”
جلد یاد آنے پر وہ فوراً سے انہیں الگ کرتا نرمی سے سمجھایا تھا،جس پر رابیہ بیگم نے اثبات میں سر ہلایا،
شادل فوراً پلٹا تھا باہر کی طرف،یہ سوال اسے بھی فکرمند کرگیا آخر کہاں ہے اسکی بہن،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اب یہی کام رہ گیا ہے تمہارا۔۔۔”
فرزانہ بیگم نے تاسف بھرے لہجے میں صوفے پر بیٹھے باسط سے پوچھا،
وہ شام سے اپنا سر پکڑے بیٹھیں تھیں،جب باسط اپنے سنگ ایک لڑکی کو زبردستی گھر لے کر آیا تھا،انہیں اسکا چہرہ دیکھا دیکھا سا لگا تھا پر باسط کے یہ بتانے پر کہ وہ لڑکی مرتضیٰ صاحب کی بیٹی ہے وہ شدید حیرت کا شکار ہوئی تھیں،انہوں نے اس سے وجہ پوچھنی چاہی پر باسط اس وقت کچھ بتائے بنا تحریم کو اپنے کمرے میں بند کیا تھا پھر واپس آکر فرزانہ بیگم کو تفصیلاً اس سے کیے گئے نکاح کا بتایا جس پر اب تک وہ سن سی ہوگئی تھیں،
“نکاح کرنا کوئی غلط فعل تھوڑی ہے جو آپ یوں مجھ سے استفسار کر رہی ہیں۔۔۔”
صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے وہ آرام سے گویا ہوا،
“یوں زبردستی نکاح کرنا غلط فعل ہی ہے۔۔۔۔اگر ابھی تمہارے ابو زندہ ہوتے نا تو بخشتے نہیں اس کام پر تمہیں۔۔۔”
اس وقت تحریم کے مسلسل چیخنے پر وہ اتنا تو سمجھ ہی گئی تھی کہ اس لڑکی کی رضامندی بلکل نہیں ہوگی ان سب میں،تبھی افسوس سے بولیں کیونکہ اب تو وہ نکاح کر ہی چکا تھا تو کچھ کہنے کا انہیں جواز ہی نہیں محسوس ہوا،ویسے بھی وہ کب سنتا تھا انکی،
“میں جارہی ہوں اسکے پاس۔۔۔بےچاری جب سے اندر بند ہے۔۔۔”
انہیں یکدم اس لڑکی کی فکر لاحق ہوئی جو کالج کے یونیفارم میں بمشکل انہیں اٹھارہ سال کی لگی تھی،
“کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔بہت ہی ہڈدھرم لڑکی ہے۔۔۔آپ کی فکر اسے راس نہیں آنے والی۔۔۔”
باسط اچھے سے تحریم کی فطرت سمجھ چکا تھا تبھی انہیں اٹھتا دیکھ کر ٹوکا،
“چپ کرو تم۔۔۔ایک تو اس بےچاری سے زبردستی بلاجواز نکاح کرالائے اوپر سے یہ رویہ رکھ رہے رہو۔۔۔”
اسے جھڑکتیں وہ کچن کی طرف گئی پھر کچھ دیر بعد کھانے کی ٹرے لیے باسط کے روم میں گئی،انہیں جاتا دیکھ باسط نے یونہی ٹیک لگائے آنکھیں موند لی،زیادہ ضد اسی لیے اس نے نہیں کی کہ کیا پتا وہ سچ میں کافی بھوکی ہو،
آہستگی سے اسکا باہر سے لاک ہوا کمرہ کھولتیں فرزانہ بیگم اندر داخل ہوئیں،وہ بیڈ پر ایک ہاتھ منہ پر رکھے لیٹی تھی،بازو پر خشک ہوا خون دیکھ کر فرزانہ بیگم کو بےساختہ تحریم پر ترس سا آیا،کھانے کی ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھتی وہ اسکے پاس آئیں،
“بیٹا اٹھو کچھ کھالو۔۔۔”
ہلکا پھلکا محبت بھرا لہجہ تھا انکا پر اچانک تحریم جھٹکے سے اٹھی تھی،اسکا سرخ بھیگا چہرہ دیکھ فرزانہ بیگم کو شرمندگی نے آلیا،دوسری طرف وہ ناگواری سے گھوری تھی انہیں،پھر ایک نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھی ٹرے کو دیکھی،
“لے جاؤ اسے یہاں سے۔۔۔اور اس سڑک چھاپ سے بولو مجھے گھر چھوڑ کر آئے فوراً۔۔۔”
تیزی میں سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ مارتی وہ ٹرے پیچے گرائی تھی پھر تقریباً چیختے ہوئے بدلحاظی سے یہ الفاظ ادا کی،فرزانہ بیگم بے ساختہ چند قدم دور ہوئیں،باہر باسط بھی فوراً اٹھا تھا صوفے سے،اسے معلوم تھا کہ وہ بگڑی لڑکی اتنی جلدی نہیں سدھرنے والی،
“بچہ۔۔۔یوں کھانے کی بےادبی نہیں کرتے۔۔۔”
نیچے گِرے کھانے کو دیکھ فرزانہ بیگم دکھ سے بولی تھیں،
“یہ کھانا تم ہی لوگ کھاؤ۔۔۔۔تحریم مرتضیٰ تو ایسے کھانے پر تھوکتی بھی نہیں۔۔۔اور تم۔۔۔مجھے گھر چھوڑو نہیں تو میں تم دونوں کا حال برا کروادونگی۔۔۔”
کس قدر حقارت بھری تھی اسکے لہجے میں،اندر آتے باسط کو دیکھ وہ اور مغروریت سے مگر سخت لہجے میں بولی،فرزانہ بیگم کو اسکا یہ رویہ دکھی کر گیا،شرمندگی سے وہ سر جھکاگئیں،باسط نے ایک نظر اپنی ماں کے جھکے سر کو دیکھا پھر سرخ آنکھوں سمیت تحریم کی طرف بڑھا جسکے تاثرات اب تک تنے تھے،پر اچانک باسط کا ہاتھ اٹھا تھا اور تحریم کے نرم گال پر نشان چھوڑتا اسکا دماغ سن کرگیا،
“باسط پاگل ہوئے ہو کیا۔۔۔”
اس سے پہلے وہ دوسرا ہاتھ اٹھاتا فرزانہ بیگم فوراً آگے بڑھتی اسے روکی تھیں،
“یہی سیکھا ہے کیا تم نے۔۔۔اور یہ عورتوں پر ہاتھ اٹھانا کب سے شروع کردیا تم نے۔۔۔”
اسے دھکا دیتی وہ غصے سے بولیں،ادھر تحریم جو پہلے بہت ہی اکڑ سے بیٹھی تھی اب گال پر ہاتھ رکھے لرزنے لگی،اسے ایک دم بےحد خوف سا محسوس ہوا تھا باسط سے،
“ایسیوں پر ہاتھ اٹھانا کوئی غلط بات نہیں ہوتی امّی۔۔۔”
اسے خون آلود نظروں سے گھورتا وہ بلند آواز میں بولا تھا،بس نہیں چل رہا تھا سامنے بیٹھی اس چھوٹی سی لڑکی کی جان ہی لے لے،
“چپ ہو جاؤ باسط وہ ڈری ہوئی ہے۔۔۔جاؤ تم یہاں سے ابھی۔۔۔”
باسط کو باہر کی طرف دھکیلتی فرزانہ بیگم تحریم کی لرزتی حالت دیکھ کر ہمدردی سے بولیں،اسکو باہر کر کے وہ تحریم کی طرف بڑھیں،
“بیٹا معاف کرنا۔۔۔میرا بیٹا تھوڑا دماغ کا گرم ہے۔۔۔”
وہ معذرت خواہ ہوئی تھیں ساتھ ہی جھک کر پلیٹ میں گرے ہوئے چاول اٹھانے لگیں،
“مجھے گھر جانا ہے بس۔۔۔مام۔۔”
بےبسی سے روتے وہ بیڈ سے اٹھ کر پیر پٹختے ہوئے چلائی،تبھی باہر ضبط سے کھڑا باسط واپس اندر آیا،
“آؤ۔۔۔ایک ہی مرتبہ میں تمہیں قبر میں اتار دوں۔۔۔نہ تم رہو گی نہ میرا خون اُبلے گا۔۔”
اسکا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں لیتا وہ تحریم کو جھٹکا دیتے ہوئے باہر کی طرف لے جانے لگا،نیچے گرے چاول اٹھاتی فرزانہ بیگم گھبراکر اٹھی تھیں،
“آنٹی اسے بولیں چھوڑے مجھے۔۔۔آنٹی پلیز بچائیں۔۔۔”
اس سے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتی تحریم جلدی سے فرزانہ بیگم کے آگے گڑگڑائی تھی،سارا غرور و دبدبہ پل میں ختم ہوا تھا،
“باسط بس کرو۔۔۔پیچھے پڑگئے ہو تم اسکے۔۔۔”
تحریم کو اسکی گرفت سے آزاد کرائے وہ غصے سے بولیں،باسط نے نفرت سے اس بدتمیز لڑکی کو گھورا جو لرزتے وجود سمیت فرزانہ بیگم کے پیچھے چھپی تھی،
اسے گھورتا وہ روم سے باہر نکلا تھا جبکہ فرزانہ بیگم نے مڑ کر آہستگی سے تحریم کی پشت سہلائی پر تبھی انہیں جھٹکا لگا جب وہ انکا ہاتھ غصے میں جھٹک کر سیدھا بیڈ پر بیٹھی تھی،ہتک کے احساس کے ساتھ وہ نیچے جھکی واپس چاول اٹھاتی ٹرے لے کر روم سے باہر نکلیں،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ڈرنک زیادہ کرنے پر اسکا سر چکرانے لگا تھا،بمشکل ڈرائیو کرتے وہ گھر پر پہنچا تھا،اتفاقاً نیچے اس وقت کوئی نہیں تھا،پیام پیشانی کو ہاتھ سے مسلتا لڑکھڑاتے ہوئے سیڑھیاں عبور کرتا اوپر اپنے روم تک پہنچا،آہستگی سے گیٹ کھولتا وہ اندر داخل ہوا پھر گیٹ بند کر کے بیڈ پر آ بیٹھا،شانزے بیڈ کی دوسری طرف سورہی تھی،اسے یوں سوتا دیکھ پیام کے عنابی لب طنزیہ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے،ہمت کر کے وہ بیڈ سے اٹھا تھا ورنہ سر بری طرح چکرارہا تھا اسکا،بیڈ کی دوسری جانب آتا وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا،پھر چند لمحے تک خاموشی سے اسکا خوبصورت سرخ و سفید چہرہ دیکھنے لگا،کچھ سوچ کر وہ ہاتھ بڑھایا تھا اور نہایت آہستگی سے اسکی گھنیری پلکوں کو چھوتے وہ تھوڑا قریب ہوا تھا شانزے کے چہرے سے پھر ایک ایک کر کے اسکے نقش کو چھتا انہیں محسوس کرنے لگا،نظر بھٹکی تو سیدھا اسکی سفید گردن پر گئی جہاں اب بھی دانت کے نشان بلکل واضح تھے،وہ جھکا اور نرمی سے ان پر اپنے تشنہ لب رکھ گیا،ایک تو شراب کا نشہ اوپر سے شانزے کے وجود سے اٹھتی خوشبو اسکے حواس معطل کرنے لگی،طلب بڑھنے پر وہ اور اس پر جھکتا خود کو سیراب کرنے لگا،کچھ پل بعد چہرہ اٹھا کر وہ شانزے کے ہونٹوں کو نظروں میں لیا تھا،وہ اب تک پیام کی جسارتوں سے بےخبر نیند کی وادیوں میں تھی،دوسری جانب پیام بہکنے لگا تھا،دل بےتاب ہوا مقابل کے نرم گداز وجود کو محسوس کرنے کے لیے،ابھی وہ اس کے لبوں پر جھکتا کہ اچانک آنکھوں کے پردے پر صبح والی شانزے کی بھیگی حقارت بھری آنکھیں جھلکیں اور وہ فوراً سے پہلے دور ہوا،
“نو۔۔۔وائفی غصہ ہوجائے گی پیام۔۔۔”
نشے میں خود کی سرزنش کرتا وہ پھر شانزے کی طرف دیکھا جو اب تک اسکے بہکتے ارادوں سے غافل سورہی تھی،
“ایک تو غصہ بھی ایسے ہوتی ہے کہ بندہ معافی مانگے۔۔۔”
اسکے چہرے کو گھورتا وہ بولا ساتھ ہی بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹا،
“آہ۔۔۔وائفی۔۔۔تم پیام مرتضیٰ کو اچھی لگنے لگی ہو۔۔۔پر کیوں۔۔۔تم تو بہت بری ہو۔۔۔بہت زیادہ بری۔۔۔”
گہری سانس بھر کر اس نے گردن گھومائے سوتی ہوئی شانزے کو دیکھ کر کہا،
“پر اتنی بھی بری نہیں ہو۔۔۔تھوڑی سی۔۔۔بلکل تھوڑی سی اچھی لگتی ہو۔۔۔ورنہ ہو تو پوری جنگلی بلی۔۔۔”
اسکی طرف کروٹ لیے وہ ہاتھ کو سر کے نیچے رکھتا انگلی اور انگوٹھے پر فاصلہ قائم کرتا خود ہی سے بولنے لگا،
“ہاہ۔۔۔پیامرتضیٰ کی جنگلی بلی۔۔۔”
آہستگی سے بڑبڑاتا وہ جیسے خود ہی لطف اندوز ہوا تھا اپنی بات پر،
تبھی اسکے کمرے کا گیٹ زور سے بجا تھا،پیام چونک کر گیٹ کے جانب متوجہ ہوا،مسلسل بجنے پر شانزے بھی کسمساکر نیند سے اٹھتی آنکھیں کھولی تھی پھر پیام کو یونہی گیٹ کو حیرت سے تکتا دیکھ وہ نفی میں سر ہلاتی بیڈ سے اٹھی ساتھ ہی اپنا دوپٹہ سر پر سیٹ کر کیے گیٹ کھولنے کے لیے بڑھی،سامنے رابیہ بیگم تھیں جو شانزے کو سامنے دیکھ کر ہی سائیڈ سے ہوتی اندر آئیں،
پیام بیٹا۔۔۔وہ۔۔
“گڈ نائٹ مام۔۔۔”
ابھی وہ پریشانی سے کچھ بول ہی رہی تھیں کہ پیام تیزی میں بولتا سر بیڈ میں چھپاگیا،
“بیٹا اٹھو۔۔۔کبھی تو بات سن لیا کرو ماں کی۔۔۔”
انکے لہجے میں بےبسی کا انثر محسوس کیے شانزے چونکی،
“کیا ہوا امّی۔۔۔خیریت۔۔۔”
خود ہی آگے بڑھتی وہ تشویش بھرے لہجے میں پوچھی،
“تم چپ رہو لڑکی۔۔۔جب سے آئی ہو۔۔۔پریشانیوں نے ہی گھیرا ہے گھر کو۔۔۔”
اسے ناگواریت سے دیکھتی وہ جھڑکی تھیں،تبھی بیڈ پر منہ چھپا ہونے کی وجہ سے پیام کی دبی دبی آواز آئی،
“او مام۔۔۔وائفی کو کچھ مت بولو۔۔۔”
اسکے یوں ٹوکنے پر جہاں رابیہ بیگم چونکی وہی شانزے بھی حیرت سے بیڈ پر اوندھے منہ لیٹے پیام کو دیکھی تھی،
“وائف کی پرواہ ہے تمہیں۔۔۔اور بہن کی نہیں۔۔۔صبح سے میری بیٹی گھر نہیں آئی اور یہاں تم آرام سے لیٹے ہو بیوی کے ساتھ۔۔۔”
شانزے کو کلس کر گھورتے وہ بولیں جس پر بےساختہ شانزے لب بھینچتی شرم سے سر جھکا گئی،انکی بات پر پیام جھٹکے سے اٹھا تھا پر سر چکرانے پر واپس بیڈ پر بیٹھا،
“کیا مطلب۔۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔”
آنکھیں چھوٹی کرتا وہ ماتھے پر ہاتھ رکھے پوچھا تھا،
“پیام تم ہوش میں ہو۔۔۔؟۔۔۔یا آج پھر ڈرنک کر آئے ہو۔۔۔تمہاتے ڈیڈ کو پتا چلا نا لڑکے تو بخشیں گے نہیں تمہیں۔۔۔”
اسکی حالت دیکھ کر رابیہ بیگم کو الگ فکر لاحق ہوئی جبکہ شانزے پھٹی آنکھوں سے پیام کو دیکھنے لگی،تو کیا وہ شراب بھی پیتا تھا،بےساختہ اسے اپنی قسمت پر رونا آیا،آخر کیوں اسکے ہی نصیب میں وہ نشئی انسان لکھا تھا،
“میرا چھوڑیں۔۔۔آپ کیا بول رہی ہیں۔۔۔تحریم کہاں ہے۔۔۔”
انکی بات ان سنی کیے وہ حیرت سے پوچھا پر تبھی موبائل رنگ کرنے پر وہ جیب میں ہاتھ ڈالتا فون نکالا،
“ہیلو۔۔۔”
انجان نمبر سے کال تھی،وہ ریسیو کرتا بولا،
“کیسے ہیں سالے صاحب۔۔۔”
دوسری جانب سے آتی بھاری مگر مسکاتی آواز پر پیام چونکا،
“کون؟”
“ارے مجھے بھول گئے۔۔۔غلط بات ہے سالے صاحب۔۔۔میں وہی جو آپکے ولیمے میں آپ کو رشتہ بتانے لگا تھا آپ کا اور میرا۔۔۔۔”
مزے سے بولتا باسط پل میں پیام کا سارا نشہ غائب کرگیا،ذہین دماغ میں اچانک ولیمے والی رات کا منظر آیا اور اسے لمحہ لگا تھا مقابل کو پہچاننے میں،
“تُو۔۔۔”
“جی بلکل میں۔۔۔اب تو رشتہ بھی بن گیا ہے ہمارا تو تھوڑا تمیز سے بات کریں۔۔۔آخر کو آپ کی بہن کا شوہر جو ٹہرا۔۔۔”
تمسخر ہنسی ہنستا وہ اسے مکمل غصہ دلانے کے موڈ میں تھا،
“بکواس بند رکھ اپنی۔۔۔”
جبڑے بھینچتا وہ بآواز بولا،رابیہ بیگم اور شانزے اسکے لہجے پر حیران ہوئی تھیں،نیچے لاؤنج میں تحریم کو ڈھونڈ کر ناکام لوٹا شادل بھی بےساختہ اوپر سے آتی پیام کی آواز کی طرف متوجہ ہوا پھر تیز قدم اٹھاتا اوپر اسکے کمرے کے جانب آیا،
“کیا ہوا پیام۔۔۔”
دوسری طرف سے باسط کال کاٹ چکا تھا تبھی روم میں انٹر ہوتا شادل اسکے بھنچے لب نوٹ کرتا پوچھا،اسکے سوال پر پیام نے لہو رنگ نظروں سے شانزے کو گھورا،
“تم۔۔۔تمہارا وہ گھٹیا کزن کہاں رہتا ہے۔۔۔؟”
اسکی طرف بڑھ کر پیام سختی سے پوچھا،
“کون؟”
شانزے کو سمجھ نہیں آیا اسکا اچانک بدلا رویہ،تبھی پوچھی،
“انجان مت بنو۔۔۔تمہاری خالہ کا بیٹا۔۔۔کہاں رہتا ہے وہ۔۔”
اب کی بار اسکی آواز اس قدر اونچی تھی کہ شانزے گھبراکر ایک قدم پیچھے ہوئی،
“باسط۔۔۔”
اسکے لب پھڑپھڑائے،
“ہاں وہی۔۔۔اب بولو بھی۔۔”
اچانک شانزے کا بازو دبوچ کر وہ دھاڑا تھا،
“پیام کیا کررہے ہو۔۔۔؟”
شادل کو اسکا یہ رویہ شانزے کے ساتھ دیکھ غصے سے ٹوکا تھا،شانزے جو اسکا یہ روپ دیکھ تھوڑا ڈری تھی جلدی سے بولی،
“(۔۔۔۔۔۔) سوسائٹی میں دوسری سٹریٹ پر۔۔۔مکان نمبر(۔۔۔۔۔)۔۔”
اسکے بتاتے ہی پیام نے جھٹکے سے اسے چھوڑا اور باہر کی طرف جانے لگا پر تبھی وہ پلٹا،
“اگر تمہارے اس کزن نے کچھ بھی کیا میری بہن کے ساتھ تو میں زندہ دفن کردوں گا اسے زمین میں۔۔۔”
سرخ آنکھوں سے شانزے کو گھورتا وہ پلٹا تھا،
“کیا کِیا ہے اسکے کزن نے پیام۔۔۔بتاؤ تو کچھ۔۔۔”
اسے روم سے باہر جاتے دیکھ رابیہ بیگم پیام کے پیچھے چلتی اس سے استفسار کرنے لگیں،
“اس کمینے نے کڈنیپ کیا ہوا ہے تحریم کو۔۔۔کال پر بکواس کررہا تھا کہ سالا ہوں میں اسکا۔۔۔”
مضبوط قدموں سمیت سیڑھیاں طے کرتا وہ نیچے آتے ہوئے چیخ کر بتایا تھا جس پر رابیہ بیگم کے قدم تھمے تھے،انکی آنکھوں میں اچانک اپنی بیٹی کا چہرہ لہرایا،شادل کو بھی حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا پر پیام کے جذباتی نیچر کا سوچتے وہ جلدی سے اسکے پیچھے گیا تھا اور پیام کے کار میں بیٹھنے سے پہلے اسکی حالت کے پیشِ نظر خود ہی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی،
شانزے کمرے سے نکل کر رابیہ بیگم کی طرف بڑھی تھی،وہ بھلے ہی اسے پسند نہیں کرتی پر شانزے کو ابھی انکی خراب ہوتی حالت کا احساس ہوا تھا جسکی بدولت وہ انکے کندھے پر ہاتھ رکھی،اسے تو خود یقین نہیں آرہا تھا کہ باسط اس حد تک گرے گا،پر وہ یہ کیوں کیا تھا، مرتضیٰ صاحب جو شور سن کر اپنے روم سے باہر نکلے تھے پیام کے الفاظوں کے زیرِ اثر وہ ساکت ہوئے تھے،انکا سکتہ تھپڑ کی گونج کے ساتھ ٹوٹا،نظر اوپر کی طرف اٹھی جہاں شانزے بےیقینی سے گال پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی اسکے سامنے کھڑی رابیہ بیگم حقارت سے اسے دیکھ رہی تھیں،
“سب تمہاری وجہ سے ہورہا ہے۔۔۔نہ تم سے شادی ہوتی میرے بیٹے کی نہ تمہارا وہ اوچھا خالہ زاد میری بیٹی کو اغواہ کرتا۔۔۔۔جب سے آئی ہو منحوسیت ہی چھائی ہے ہمارے گھر میں۔۔۔”
اسکو ایسے القابات سے نوازتی وہ کہیں سے بھی ایک پڑھی لکھی خاتون نہیں لگ رہی تھیں،شانزے کی آنکھوں سے بےاختیار آنسو چھلکے،
“رابیہ بیگم۔۔۔بخش دیں شانزے کو۔۔۔پیچھے پڑی ہوئی ہیں آپ اسکے۔۔۔”
مرتضیٰ صاحب کی گرج دار آواز پر رابیہ بیگم نے انکی طرف دیکھا،
“اب آپ شروع ہوجائیں اسکی طرف داری کرنا۔۔۔۔کسی کو بھی اسکی غلطی نظر نہیں آئے گی۔۔۔ارے جیسی یہ ہے ویسا ہی اسکا کزن نکلا۔۔۔اس نے میرے بیٹے کو پھنسایا اور اسکے اس کزن نے میری بیٹی کو اغواہ کرلیا۔۔۔۔”
بھرائی ہوئی آواز میں شانزے کو اور کوسنے سناتی وہ نیچے آئیں تھیں،پھر اپنے روم میں جاتی دھاڑ سے دروازہ بند کی،مرتضٰی صاحب نے سر اٹھا کر ایک ترحم بھری نظر شانزے پر ڈالی جس کا سرخ و سپاٹ چہرہ اندر کے بےپناہ ضبط کی گواہی دے رہا تھا،
جھٹکے سے پلٹتی وہ بےتاثر چہرے سمیت اپنے اور پیام کے روم میں گئی تھی،اسے یہ سب برداشت کرنا اب ناممکن سا لگنے لگا تھا،دل چاہ رہا تھا بھاگ جائے یہاں سے اور اپنی ماں کے گلے لگ کر خوب روئے پر باپ کی عزت کا سوچ کر خاموش تھی وہ،ان چند دنوں میں جتنی ذلت اسے محسوس ہورہی تھی شرم سے اس سے یہاں رہا نہیں جارہا تھا،بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھ کر چہرہ منہ میں چھپائے وہ پھوٹ کر روئی تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
