422K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aah-E-Muhabat (Episode 6)

Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz

دوپہر کو چھٹی ہونے پر الشبہ کالج سے نکلی تھی،آج اسکا موڈ بہت اداس سا تھا،پورا دن عبید کا وہ روکھا رویہ سوچ کر اسکی آنکھیں بار بار بھیگتی رہیں تھی،بمشکل سب سے چھپ کر وہ اکیلے میں رونے لگتی،اس سے پہلے تو عبید نے اسکے ساتھ کبھی ایسا نہیں کیا تھا پھر اچانک کیوں،انکیںسوچوں میں وہ روڈ پر سیدھا چل رہی تھی تبھی پیچھے سے آتی ایک مناوس آواز پر الشبہ کے قدم رکے،دل محبوب کی نرم آواز شور مچا اٹھا تھا،پھر بھی چہرے کے تاثرات سپاٹ بنائے وہ پلٹی،

“الشبہ کب سے تمہیں آواز دے رہا ہوں پر تمہیں تو جیسے ہوش ہی نہیں۔۔۔۔”

مصنوعی ناراض لہجے میں بولتا آخر میں عبید مسکرایا،صبح کی بدمزگی کا نام و نشان نہیں تھا اسکے صبیہہ چہرے پر،

“مجھے آوازیں دے کر تم اپنا وقت کیوں برباد کررہے ہو۔۔۔جاؤ اپنے دوست کے پاس۔۔۔اسے تمہاری ضرورت ہوگی۔۔۔۔”

بےرخی سے کہتے ہوئے الشبہ کی آنکھیں خود ہی نم ہونے لگیں،

“یار الشبہ سوری۔۔۔صبح بس موڈ میرا تھوڑا خراب تھا کام کو لے کر۔۔۔تمہیں بتایا بھی تھا میں نے کہ بابا کے ساتھ آفس جانے لگا ہوں۔۔۔تبھی تھوڑا پریشر ہونے کے باعث ٹینشن رہتی ہے۔۔۔آج چھٹی کی تھی تمہارے لیے ہی پر پیام کو بھی ضروری کام تھا مجھ سے۔۔۔”

نرم لہجے وہ اسے منانے کے غرض مکمل وضاحت دے رہا تھا،الشبہ پہلے تو یونہی اسے دیکھتی رہی پھر نم آنکھوں سمیت مسکرائی،اسکو مسکراتا دیکھ عبید بھی مسکرایا،جانتا تھا کہ وہ خود بھی زیادہ دیر عبید سے ناراض نہ رہ پاتی تھی،اور اسے الشبہ کی یہی عادت ہی تو بہت بھاتی کہ اس میں اور لڑکیوں کی طرح ایگو پروبلم نہیں تھا،دو میٹھے بول پر وہ فوراً خوش ہوجایا کرتی،

“اب چلیں۔۔۔؟”

اپنی کار کی طرف اشارہ کرکے عبید مسکاتے لہجے میں پوچھا

“نہیں عبید۔۔۔آج نہیں۔۔ایکچولی پیپرز قریب ہیں مجھے تیاری کرنی ہے ورنہ کم نمبر آنے پر آپی غصہ ہونگی۔۔۔”

اپنی بات مکمل کرتے ہی الشبہ نے کندھے اچکائے کیونکہ اب عبید کے چہرے پر اداسی چھائی تھی،

“یار تھوڑی دیر کے لیے ہی چل لو۔۔۔آدھے گھنٹے بعد چھوڑ دونگا۔۔۔”

اسکے امید بھرے لہجے میں بولنے پر الشبہ کھلکھلاتی اثبات میں سر ہلانے لگی،

پھر عبید کے ساتھ وہ سی سائیڈ پر گئی تھی،وہاں کچھ دیر گھوم کر عبید اسے آئسکریم کھلانے لے گیا،اسے پتا تھا کہ الشبہ آئسکریم کی دیوانی ہے،آئسکریم کھلانے کے بعد وہ اسے گھر کے قریبی پارک میں اتارا تھا،وہاں سے الشبہ جب پیدل گھر چلی گئی تب عبید بھی مطمئن سا ہوکر آفس کے لیے نکل پڑا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے کال کر کے یاور کو بلایا تھا فام ہاؤس میں شانزے پر نظر رکھنے کے لیے پر ساتھ ہی یاور کی فطرت کو دیکھتے اسے وارن کرنا نہ بھولا تھا کہ اس لڑکی کے ساتھ کچھ بھی غلط نہ کرے،جس پر یاور کھسیا کر ہنسنے لگا تھا،اب وہ راستے میں یاور کی ہی کار لیے گھر کی طرف جارہا تھا تب اسکے ذہن میں یہ بات آئی کہ وہ لڑکی بھوکی بھی تو ہوگی،پہلے تو وہ اگنور کر کے گھر ہی جانے کا ارادہ کررہا تھا پر ناجانے دل میں کیا سمائی کہ اس نے کار کا رخ ایک ریسٹورنٹ کے جانب کرلیا،

صبح سے دوپہر ہوچکی تھی پر اب تک وہ اسی کمرے میں بند تھی،پیاس کی شدت سے شانزے کے حلق میں کانٹے چبھنے لگے،یہ کمرہ کافی کشادہ اور سوبر مگر خوبصورت تھا،فرنیچر کے علاؤہ اسے یہاں کوئی روز مرہ استعمال ہونے والی چیز نہیں دکھی تھی بیچ میں ایک بڑی سی کھڑکی تھی پر افسوس کے وہ شیشہ لاک ہونے کی وجہ سے وہاں سے بھی فرار نہیں ہوسکتی تھی،شیشہ ٹرانسپیرنٹ ہونے کے باعث وہ باہر کا منظر دیکھ سکتی تھی جو کہ ایک وسیع باغ کی شکل پیش کررہا تھا،اس نے کافی کوشش کی تھی شیشے کا لاک کھولنے کی پر پتا نہیں کیسا لاک تھا،یا شاید اسکا لاک باہر کی طرف بھی تھا،تھک ہار کر اب وہ بیڈ کے سائیڈ میں زمین پر بیٹھی کئی سوچوں کے بھنور میں تھی،تبھی کھٹکے کی آواز پر چونکی،

“آہاں۔۔۔تو یہاں ہیں محترمہ۔۔۔”

خباثت بھرے لہجے میں شانزے کو دیکھ کر بولتا یاور کمرے میں داخل ہوا تھا،پیام کے منع کرنے پر وہ کافی دیر تک خود پر کنٹرول کرتا رہا پر آخر کار فطرت سے مجبور ہوا اٹھ کر اندر آگیا،

کوئی اور وقت ہوتا تو شانزے اسکو ذلیل کر کے رکھ دیتی پر یہاں پر اسکا خون سوکھا تھا کہ کمرے میں اکیلی اوپر سے یاور کی آنکھوں میں خود کے لیے ٹپکتی حوس،وہ کانپ کے رہ گئی تھی اسکی غلیظ نظروں سے،

“کیا بدتمیزی ہے۔۔۔وہ کہاں ہے اسے بلاؤ۔۔۔”

بےساختہ شانزے کے ذہن میں پیام آیا تبھی اندر کی گھبراہٹ پر قابو پاتے وہ چٹخ کر بولی،ناجانے اسے کیوں پر شدت سے پیام کی کمی محسوس ہوئی شاید اس سے یوں لڑنے اور بحث کرنے سے ہی شانزے کو ایک اجنبی سی انسیت ہوئی تھی اس امیرزادے سے،اندر کہیں یقین تھا کہ ضرور اسکا یہ دوست بغیر اس سے پوچھے شانزے کے پاس آیا ہے۔۔۔۔دل اس بات پر متفق تھا کہ اگر وہ ہوتا تو شاید یاور کو یہاں آنے نہیں دیتا،

“ارے جانِ عزیزی۔۔۔ابھی اُسکو چھوڑو اِس کی فکر کرو جو ابھی تمہارے سامنے ہے۔۔۔قسم سے کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایک نوخیز ان چھوئی کلی بھی ملے گی مجھے۔۔۔”

قدم با قدم اسکی طرف بڑھتے ہوئے یاور کمینگی سے بولتا ہنس رہا تھا،شانزے تھوک نگلتے راہِ فرار ڈھونڈنے لگی پھر اچانک کچھ سوچتے ہوئے وہ خود کے قریب آتے یاور کو دھکا دیے دروازے کی طرف بھاگنے لگی،پر اگلے ہی لمحے شانزے کی آنکھیں پھیلیں جب یاور نے پیچھے سے اسکا ڈوپٹہ کھینچا تھا،پِن سے سیٹ ہوا دوپٹہ ہلکے سے پھٹنے کی آواز کے ساتھ یاور کے ہاتھ میں آیا تھا،اور شانزے کو سکتہ لگا،

“اب کہاں جاؤ گی جانِ من۔۔۔”

اسکا دوپٹہ بیڈ پر اچھالے یاور اسکی طرف بڑھا تھا،شانزے جو دوپٹہ چھوٹنے پر یکدم ہوش میں آتی کمرے کے دروازے کے پاس بھاگی تھی اب اونچے ہونے کی کوشش کرتی اوپر لگی چٹخنی گرانے لگی جو یاور نے اندر داخل ہوتے ہی چڑھائی تھی،

“تم سے نہیں ہو پائے گا یہ جان۔۔۔”

اسے مسلسل اوپر ہاتھ کیے چٹخنی کھولنے کی کوشش میں مگن دیکھ یاور نے آہستگی سے شانزے کی نازک کمر پر ہاتھ سہلاتے کہا تو شانزے بدک کر پلٹی تھی،سرخ آنکھوں میں خوف کی واضح لکیر کھنچی تھی یاور کو خود کے حد سے زیادہ نزدیک دیکھ،

“ددد۔۔۔دیکھ۔۔دیکھو۔۔ددوور۔۔رہو۔۔ممجھ۔۔سے۔۔۔”

کپکپاتی انگلی اٹھاکر اسے وارن کرتے شانزے کا لہجہ خود بھی لڑکھڑاہٹ کا شکار تھا،اسکو بری طرح خوفزدہ دیکھ یاور ہنستے ہوئے اسکی کلائی اپنی گرفت میں کی تھی،

“چھوڑ دو مجھے۔۔۔۔”

اسکے جھٹکے سے اپنی طرف کھنچنے پر شانزے کی چیخ کمرے کی خاموشی میں ارتعاش پیدا کرگئی،سیدھا یاور کے سینے پر لگنے سے شانزے کو اپنی روح پرواز ہوتی محسوس ہوئی تھی،پورا بدن پیسنے سے شرابور ہوچکا تھا اسکا جبکہ یاور کو اپنے چہرے پر جھکتا دیکھ وہ اسکے سینے پر غصے میں مارنے لگی جس سے یاور تلملا گیا،

“سالی مجھے مارتی ہے۔۔۔”

وہ چلاتے ہوئے شانزے کے بالوں کو دبوچا ساتھ ہی اسکے چہرے کو اپنے چہرے سے قریب کیا،اس سے پہلے وہ کچھ غلط کرتا پیچھے سے کسی نے یاور کی شرٹ جکڑتے ہوئے اسکا رخ جھٹکے سے پلٹا تھا یکایک یاور کا دماغ سُن ہوکر رہ گیا،جب پیام کا بھاری ہاتھ کا مکا اسکے گال پر پڑا،وہ جو حوس کے نشے میں کچھ لمحے قبل چُور تھا تو دوسری طرف شانزے عزت لٹ جانے کے خوف میں اپنا ہوش کھونے لگی تھی،ان دونوں کو ہی گیٹ بجنے اور پیام کے دروازہ توڑنے کی آواز نہ سنائی دی تھی،

پیام واپس جانے کا ارادہ بدل کر شانزے کا کھانا لے کر آیا تھا،وہ شانزے کو کھانا دینے کے بعد فام ہاؤس سے جانے کا ارادہ رکھے تھا پر جب یہاں آیا تو اسے یاور کہی نہ دِکھا اسے تشویش ہوئی تھی پر جب شانزے کی چیخ کمرے سے سنائی دی تو بنا کچھ سوچے پیام کمرے کی طرف بھاگا تھا اور دروازہ اندر سے لاک دیکھ وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ سب یاور ہی کا کیا دھرا ہوگا،

اسے یاور کو مارتا دیکھ شانزے تیزی میں بیڈ کے پاس جاکر اپنا دوپٹہ اٹھائی تھی،خوف بری طرح اسکے جسم میں سرایت کرگیا تھا،

“تیری ہمت کیسے ہوئی سالے۔۔۔۔منع کیا تھا نا میں نے۔۔۔۔”

یاور پر مسلسل مُکّوں کی برسات کیے وہ غرارہا تھا،آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا ہو،

“بات تو سُن میری۔۔۔”

یاور کے عاجزانہ لہجے میں بولنے کو وہ نظرانداز کیے اسے پیٹا جارہا تھا،

“کمینے تُو نے ہاتھ بھی کیسے لگایا اُسے۔۔۔”

شدید اشتعال سے اسکی رگیں پھولنے لگیں تھیں،

“ابے یار یقین کر میری بات کا۔۔۔یہ لڑکی خود راضی ہوئی تھی کہہ رہی تھی آزاد ہونے کے لیے کچھ بھی کرے گی۔۔۔”

یاور کے گھگھیانے پر ایک پل کو پیام کا ہاتھ رکا تھا،اس نے لہو رنگ نظروں سے شانزے کو تحیر سے دیکھا جو اپنے دوپٹے سے خود کو کوَر کیے دوپٹہ مٹھیوں میں بھنچے نمزدہ مگر نفرت بھری نظروں سے یاور کو دیکھ رہی تھی،بھیگے سرخ گال اور نازک وجود کی تھرتھراہٹ اندر کے خوف کی عکاسی کررہے تھے،جسے چھپانے کی ناکام کوشش کے تحت وہ گلابی ہونٹوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیے کھڑی تھی،

“بکواس کرتا ہے۔۔۔۔پیام مرتضیٰ کو بےعقل سمجھ لیا ہے کیا۔۔۔”

واپس اسی کی درگت بناتا وہ دھاڑا،اتنی تو اس میں سمجھ تھی کہ جو لڑکی اسکے ہاتھ لگانے پر چیخ پڑتی تھی وہ بھلا کیسے اپنی ہی عزت خراب کرنے پر راضی ہو سکتی تھی،دوسرا باہر سے وہ شانزے کی چیخ سن ہی چکا تھا،بھاری ہاتھ کے دو اور پنچ پڑتے ہی یاور کی آنکھوں میں اندھیرا چھانے لگا،اسے ادھ موا ہوتا دیکھ پیام نے اسکے کالر کو دبوچتے ہوئے یاور کو گھسیٹتے ہوئے باہر لے آیا،پھر پورچ پر دھکا دیتے ہوئے چیخا،

“دفعہ ہو اپنی کار لے کر یہاں سے۔۔۔”

اس قدر ذلیل ہونے پر یاور نے تیڑھی آنکھوں سے پیام کو خونخوار نظروں سے گھورا پھر آستین سے منہ پر لگا خون صاف کرتے ہوئے کار میں بیٹھا،درد سے اسکا جسم ٹوٹنے لگا تھا،جاتے ہوئے وہ ایک خاموش مگر نفرت بھری نظر سائیڈ مِرر سے پیام پر ڈالنا نہیں بُھولا،

جب تک اسکی کار فام ہاؤس سے چلی نہیں گئی پیام وہیں پر کھڑا رہا،اسکے جاتے ہی وہ بھاری قدم اٹھاتا اندر کی طرف گیا،کمرے میں جاکر اسکی نظر سیدھا شانزے پر ہی پڑی جو اب تک سپاٹ نظروں سے دروازے کو تَک رہی تھی،پیام اتنا تو جان ہی چکا تھا کہ وہ لڑکی چاہے جتنی بھی نڈر بنے پر آج ہوئے واقعے سے ضرور وہ بری طرح ڈری ہوگی،

“آ۔۔۔”

ماحول ہلکا کرنے کے لیے وہ کھنکارتے ہوئے اسکے پاس آیا تھا،بات بدلنے کے غرض وہ ابھی کچھ بولتا کہ شانزے چیخی،

“قریب مت آؤ میرے۔۔۔”

اسکے چیخنے پر پیام حیرت میں مبتلا ہوا،

“تم مجھے بھی اسکی طرح سمجھ رہی ہو۔۔۔”

وہ شدید حیران ہوا تھا،ایک تو بچایا تھا اوپر سے اسکا چیخنا،

“جب تمہارا دوست اس قدر گرا ہوا ہے تو تم تو۔۔۔۔یقین کرو تم جو بھی ہو۔۔۔اگر تمہارا وہ دوست میرے ساتھ کچھ بھی کر دیتا نا۔۔۔تو شانزے اکبر خود کو مار ڈالتی اور اسکے ذمہ دار صرف تم۔۔۔۔”

گلا رندھنے کی وجہ سے وہ بات مکمل نہ کرپائی اور پھر پیام گڑبڑایا تھا،شانزے کو پھوٹ پھوٹ کر روتا دیکھ،تھکنے کے انداز میں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر وہ بآواز رونے لگی تھی،جیسے تنگ آگئی ہو ان سب سے،اسکے رونے پر پیام سر آہستگی سے کھجاتا شانزے کے پاس آکر ایک گھٹنے پر بیٹھا،

“سنو لڑکی۔۔۔آ۔۔شانزے۔۔”

اسکا نام لینا کچھ عجیب لگ رہا تھا پیام کو پر شانزے کا یونہی چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رونا اسے انجانی شرمندگی میں دھکیل گیا تھا،

“شانزے۔۔۔بات تو سنو۔۔۔اچھا سوری نا۔۔۔”

آخر کار پہلی مرتبہ پیام مرتضیٰ نے ایک لڑکی کے سامنے اپنی غلطی تسلیم کی تھی،اور وہ لڑکی وہی تھی جس سے وہ بہت ہی چِڑتا تھا،اپنی ہر غلط بات کو صحیح بولتا آج اسے احساس ہورہا تھا کہ وہ واقعی غلطی کر بیٹھا تھا،اگر کہ وہ کھانے کا سوچ کر واپس نہ آتا تو۔۔۔۔،آگے اس سے سوچا نہ گیا،

اب کہیں نہ کہیں پیام مرتضیٰ کی یہ سوچ تھوڑی بہت صاف ہونے لگی تھی کہ ہر مڈل کلاس لڑکی ایک جیسی نہیں ہوتی،سامنے بیٹھی وہ لڑکی اس کے لیے واضح ثبوت تھی کہ ہر باعزت گھرانے کی لڑکیوں کو اپنی عزت سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے،

“سوری یار۔۔۔”

ایک بار پھر اسکے شرمندگی سے بھرپور لہجے میں بآواز بولنے پر شانزے نے اسکی آواز بےیقینی سے سنی،کیا وہ اس سے معافی مانگ رہا تھا،کیا وہ غرور کے نشے میں چور رہنے والا شخص اپنی غلطی مان گیا تھا،

“کبھی خوبصوت مرد دیکھے نہیں ہیں کیا۔۔۔”

شانزے کو یوں خود کو تکتا پاکر پیام آئیبرو بھینچے بولا،اور اب۔۔۔،شانزے یکدم پھٹ پڑی،

“صرف خوبصورت ہونے سے کچھ نہیں ہوجاتا بندہ سیرت کا بھی اچھا ہو۔۔۔پر نہیں۔۔۔تم اور تمہارے دوست تو ایک نمبر کے چھچھورے ہیں لڑکی دیکھی نہیں کہ منہ سے رال ٹپکنے لگتی ہے۔۔۔۔سکون کی سانس لینے نہیں دیتے ہو۔۔۔جینا مشکل کر کے رکھ دیا ہے میرا۔۔۔”

اسکے یوں دل کھول کر بھڑاس نکالنے پر پیام مسکراہٹ دباتا کھڑا ہوا،اس کام میں تو وہ کامیاب ہوا کہ چلو بھلے وہ سنالے،پر کم از کم اسکا رونا تو بند ہوا،یہ سوچ کر اپنی مسکراہٹ چھپاتا وہ روم سے نکلا تاکہ کچن میں اسکے لیے کھانا نکال سکے،

“ایک تو کڈنیپ کرو اوپر سے خدمتیں کرو انکی۔۔۔”

کچن میں کھانا نکالتے وہ چہرہ بگاڑتے بڑبڑایا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات ہونے والی تھی اور وہ شانزے کو روم میں بند کیے باہر صوفے پر بیٹھا تھا،دوپہر سے تو وہ موبائل میں کبھی گیم کھیلتا رہا کبھی بوریت مٹانے کے لیے کوئی مووی دیکھنے لگتا پر اب اسے شدید نیند آنے لگی تھی،کچھ دیر اونگھتے رہنے کے بعد آخر کار وہ گہری نیند میں چلا گیا،

کچھ دیر بعد چھناکے کی آواز کے ساتھ پیام کی نیند ٹوٹی،وہ جھٹکے سے صوفے پر سیدھا ہو بیٹھا،دماغ میں پہلی سوچ اندر روم میں بند شانزے پر گئی،پھرتی سے اٹھتا ہوا وہ کمرے کی طرف بھاگا پر گیٹ کھولنے پر پیام کی آنکھیں بھی کھلی تھیں حیرت سے،کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور کمرہ خالی،

“اوہ۔۔۔شِٹ۔۔”

غصے میں اپنی سرزنش کرتا وہ بھاگتے ہوئے باہر کی طرف آیا اور یہاں آکر پیام کا دل چاہا کہ اپنا سر کسی چیز سے دے مارے کیونکہ یاور کے جانے کے بعد وہ مین گیٹ بند کرنا بھول گیا تھا،اور اب شاید ہی نہیں یقیناً وہ میڈم بھاگ چکی تھیں،

“عجیب افلاطونی لڑکی ہے۔۔۔۔میں نہیں پکڑ رہا اب۔۔۔جائے بھاڑ میں۔۔۔”

جھنجھلائے لہجے میں بول کر پیام عبید کا نمبر ڈائل کرنے لگا تا کہ فام ہاؤس سے واپس جاسکے کیونکہ اپنی کار تو وہ لے کر ہی نہیں آیا تھا یہاں پر،

وہاں سے بھاگے ہوئے شانزے کو آدھا گھنٹہ ہوچکا تھا،مسلسل بھاگنے سے اسکے نازک پیر درد کرنے لگے تھے،ہانپتے ہوئے وہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھے لمبے لمبے سانس لینے لگی،پھر اچانک دل میں ڈر بیٹھا کہ کہیں وہ اسکا پیچھا نہ کررہا ہو،یہ سوچ آتے ہی ایک بار پھر شانزے بھاگنے لگی کچھ دور اور جاکر شانزے کو ایک گاڑی روڈ پر گزرتی دکھی،ہاتھ ہلا کر وہ گاڑی کو رکنے کا اشارہ کرنے لگی پھر سامنے ہی کار رکتے اس نے لفٹ کے لیے ریکویسٹ کی،پچھلی سیٹ پر کوئی صبیح صورت عورت بیٹھی تھی جنہوں نے بخوشی اسے لفٹ دے دی،وہاں سے راستہ بتاکر شانزے اپنے گھر تک پہنچی تھی،پھر اس عورت کا شکریہ ادا کر کے وہ اندر داخل ہوئی،صحن میں ابھی کوئی نہیں تھا تبھی شانزے نے اپنا دوپٹہ صحیح سے سیٹ کیا پھر بکھرے بالوں پر ہاتھ مارتی وہ ابھی کمرے میں جا ہی رہی تھی کہ جمیلہ بیگم کی اس پر نظر پڑ گئی،

“ارے شانزے بیٹا اتنی جلدی آگئی آج۔۔۔”

اسکے پاس آتے وہ حیرت سے پوچھیں تو شانزے لبوں پر زبان پھیرتی انہیں چپ چاپ دیکھنے لگی،کیا بتاتی کہ آج کیا ہونے والا تھا اسکے ساتھ،

“طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟”

انہوں نے شانزے کے زرد ہوتے چہرے پر ہاتھ پھیرتے فکرمندی سے پوچھا،

“ج۔۔جی امی۔۔ٹھیک ہوں میں۔۔۔مجھے کیا ہونا ہے۔۔۔بس آج جلدی چھٹی لے لی۔۔۔یونہی۔۔۔”

ہلکا پھلکا لہجہ بناکر اس نے بمشکل مسکرانے کی کوشش کی،

“چلو جاؤ پھر فریش ہو آؤ۔۔۔میں تمہارے لیے چائے بنادوں جب تک۔۔۔تمہارے ابو بھی آنے والے ہی ہونگے۔۔۔”

اسکا گال تھپتھپاتی وہ پیار بھرے لہجے میں بول کر کچن کا رخ کرگئیں،شانزے بھی اپنے کمرے میں چلی گئی آج جو کچھ بھی ہوا اس بات سے وہ حد درجہ خوفزدہ ہوئی تھی اور اسی خوف کے زیرِ اثر اس نے شادل کو پیام کے بارے میں کال پر سب بتادیا سوائے آج کی کڈنیپنگ کے،شادل نے اس سے پوچھا کہ اس شخص کا نام کیا ہے جو اسے تنگ کرتا ہے پر شانزے کو معلوم ہوتا تو بتاتی،

اسکے خوف کو دیکھتے اب شادل نے شانزے سے متعلق بات مرتضیٰ صاحب سے کی تھی،اس نے انہیں شانزے کے بارے میں بتایا ساتھ ہی اس سے شادی کی خواہش ظاہر کی جس پر مرتضیٰ صاحب نے بھی خوشی کا اظہار کیا،

شادل کے کہنے پر وہ رابیہ بیگم کے اعتراضات کو نظر انداز کرتے انہیں سختی سے تنبیہہ کیے دوسرے دن شانزے کے گھر پر اسکے رشتے کی بات کرنے گئے تھے،رابیہ بیگم تو بہت ہی روکھے پھیکے انداز سے جمیلہ بیگم اور شانزے الشبہ سے ملیں پر مرتضیٰ صاحب اور اکبر صاحب کی کافی خوش گوار باتیں ہوئیں،بات پکی ہونے کے ایک ہفتے بعد ہی شانزے اور شادل کی منگنی رکھ دی گئی،رابیہ بیگم نے پیام کو کچھ کرنے کا کہا جس پر وہ صاف انکار کرگیا،اسکے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا،وہ منگنی میں اچانک شانزے کا سامنا کر کے اسے سرپرائز کرنا چاہتا تھا،

آج رات ایک خوبصورت بینکوئٹ میں شانزے اور شادل کی منگنی کی رسم ادا ہونی تھی،سبھی مہمان آچکے تھے صرف پیام کا ہی ویٹ کیا جارہا تھا جو پتا نہیں کونسی دنیا میں غائب تھا کہ کچھ اتا پتا نہیں،شادل کے کئی کالز کے بعد اس نے فون ریسیو کیا،

“کیوں میری لوو سٹوری کا وِلن بنا ہوا ہے۔۔۔۔آ جا بھائی جلدی کہاں ہے۔۔۔”

اسکے کال ریسیو کرتے ہی شادل عاجزی سے بولا جس پر پیام مسکرایا تھا،

“آتا ہوں بھائی۔۔۔بس پہنچنے ہی والا ہوں۔۔۔۔آفٹر آل بھابھی صاحبہ سے بھی تو ملنا ہے۔۔۔”

شانزے کے رئیکشن کا مزے سے سوچتے ہی ایک طنزیہ مسکراہٹ نے اسکے عنابی لبوں کا احاطہ کیا،

“فوراً پہنچ۔۔۔پھر تجھے شانزے سے ملواتا ہوں۔۔۔”

اسکے لہجے کی معنیٰ خیزی نہ سمجھتے ہوئے شادل نے جلدی سے کہا،

کال رکھ کر وہ جو بینکوئیٹ کے پچھلی سائیڈ پر کار کی سیٹ پر سر ٹکائے بیٹھا تھا اب گہرہ سانس بھرتا کار سٹارٹ کیا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔