Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 29)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 29)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
“وائفی۔۔!”
شانزے کو آنکھیں بند کیے پڑے دیکھ وہ تشویش بھرے لہجے میں تھوڑا جھک کر پکارا تھا اسے،تبھی تکیہ اٹھاتی وہ پیام کے منہ پر ماری،
“پاگل۔۔”
جھٹکے سے پیچھا ہوتا وہ تپ کر بولا جس پر شانزے کھلکھلاکر ہنسنے لگی،
“جنگلی بلی ہر وقت کاٹ کھانے کو دوڑتی ہو۔۔۔”
جب شانزے دوسرا تکیہ بھی اٹھاکر پیام کو ماری تب اسے کیچ کرتا وہ آبرو بھنچے بولا،
“جیسی تمہاری حرکتیں ہیں۔۔۔بندہ کاٹ کھانے کو ہی دوڑ سکتا ہے۔۔۔”
آنکھیں گھوما کر کہتی وہ بیڈ سے اٹھنے لگی پر اچانک پیام اسے لیتا واپس بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹا،
“فلحال تو میرا ارادہ ہے آج۔۔۔تمہیں کھانے کا۔۔۔”
بغور اسکے خوبصورت چہرے کے ایک ایک نقش کو دیکھتا وہ معنیٰ خیزی سے بولا،
“تمہارا دل نہیں بھرتا کیا چھچھورپن سے۔۔۔”
شانزے چڑی تھی اسکے بدلے لہجے پر،
“اتنی خوبصورت وائف کے ساتھ شریف شوہر بھی چھچھورہ بن جاتا ہے۔۔۔میں تو پھر پیدائشی چھچھورہ ہوں۔۔۔۔”
چہرے پر آئے شانزے کے بال کو کان کے پیچھے کرتا وہ آہستگی سے گویا ہوا ساتھ ہی جھک کر اسکے لبوں کو قید کرگیا،
“انہہ۔۔۔چھوڑو۔۔”
بمشکل بولتی شانزے اپنا چہرہ موڑی تھی،
“پہلی فرصت میں تم اٹھو مجھ پر سے۔۔۔۔”
چہرہ موڑنے پر خود کو گھورتے پیام سے وہ روعب بھری آواز میں بولی،
“وائفی تمہارے ساتھ پروبلم کیا ہے۔۔۔”
پیام جھنجھلاکر گویا ہوتا اٹھا تھا اس پر سے،شانشے فوراً سیدھی ہو بیٹھی،
“ہے پروبلم۔۔۔بہت بڑی پروبلم ہے۔۔”
بالوں کو سیٹ کرتی وہ سنجیدگی سے بولی جس پر پیام نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا،
“پہلے پرومس کرو کہ تم اب کبھی شراب نہیں پیو گے۔۔۔”
پیام کی سوالیہ نظریں دیکھ وہ بولی اور پیام کے تاثرات پل میں بدلے،
“کرو پرومس۔۔۔”
اسے خاموش دیکھ وہ تھوڑا زور سے بولی،
“پرومس نہیں کرسکتا۔۔۔پر۔۔۔کوشش کروں گا۔۔۔”
آہستگی سے سر کھجاتا وہ بولا شانزے تاسف سے اسے دیکھی تھی،
“ٹھیک ہے۔۔پھر مجھ سے ایسی کوئی امید بھی نہ رکھو۔۔۔”
مزے سے بولتی وہ اٹھی بیڈ سے،پیام اسکی باتوں کا مطلب سمجھ کر جلدی سے شانزے کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے بیڈ پر بیٹھایا،
“اچھا نا۔۔۔نہیں پیوں گا۔۔۔۔”
اسکے یوں بولنے پر شانزے کے لب مسکرائے تھے پر جلد ہی مسکراہٹ دبائے وہ بولی،
“اب سوری کہو مجھے۔۔۔”
اسے اپنی بات مانتے دیکھ وہ اب گردن اکڑا کر بولی،پیام حیرت سے اسے دیکھا،
“سوری۔۔۔وہ کیوں۔۔”
آبرو بھینچتا وہ اس سے استفسار کیا تھا،
“تم مجھے سب کے سامنے یوں اگنور کیے۔۔۔۔اور۔۔۔اور اس چڑیل سے باتیں جو کررہے تھے۔۔۔ان سب کے لیے۔۔۔”
منہ پھلاکر اسے بتاتی وہ پیام مرتضیٰ کو بہت پیاری لگی،ادھر لیزا کا سوچتے ہی شانزے کا منہ تک کڑوا ہوا تھا،
“میں کیوں کہوں سوری۔۔۔غلطی تمہاری تھی۔۔۔”
اپنی بات کہتا وہ پرسکون سا بیڈ پر لیٹا،البتہ نظریں اب بھی اس پری وش پہ تھیں جو اسے گھوری تھی،
“ٹھیک ہے۔۔۔نہ کہو سوری۔۔۔”
اترا کر کہتی وہ پھر بیڈ سے اٹھی پر اس بار پیام نے اسکا ہاتھ پکڑ کر جھٹکے سے کھینچا تھا شانزے کو،
وہ سیدھا اسکے اوپر گری تھی،تپ کر ایک چپت پیام کے سینے پر لگاتی شانزے اٹھنے لگی پر پیام اس کے گرد بازو حائل کرتا گھمبیر لہجے میں گویا ہوا،
“بہت ہوگیا تمہارا ڈرامہ وائفی۔۔۔جب سے بخش رہا ہوں تمہیں۔۔۔”
شانزے جو مسلسل اسے گھوررہی تھی پیام کے تاثرات سنجیدہ ہوتے دیکھ بوکھلائی،
“پیام۔۔۔مجھے تھوڑا وقت دو۔۔۔”
اسکی پُرتپش نظروں سے گھبراتی وہ پیام کے سینے پر انگلیاں نرمی سے چلاتی بولی،
“وقت ہی تو بہت دیا ہے وائفی۔۔۔اب یہ وقت مجھے دو۔۔۔”
تھوڑا سا اٹھ کر شانزے کے کان میں سرگوشی کرتا وہ اسکے کان کی لُو کو لبوں میں لیا تھا،اپنے بچنے کے امکان جب شانزے کو نہ دکھے تو وہ پیام کے سینے میں چہرہ چھپاگئی،
جبکہ اسکی خاموشی پر آمادگی کا اظہار دیکھ پیام نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ کا سوئچ آف کیا پھر آہستگی سے شانزے کا چہرہ اوپر کرتا باری باری اسکے دونوں نرم گالوں پر بوسہ دینے لگا،رات گزرنے کے ساتھ پیام مرتضیٰ کی شدتیں بھی بڑھتی گئی،اسکی بےباک جسارتوں پر کبھی شانزے شرما جاتی تو کبھی گھبراکر خود میں سمٹ سی جاتی،آج پیام مرتضیٰ کامیاب ہوچکا تھا شانزے مرتضیٰ کو اپنا بنانے میں۔۔۔،ہاں وہ اسکی ہوچکی تھی صرف اور صرف پیام مرتضیٰ کی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ازکیٰ کے رونے پر اسکی آنکھیں کھلی تھیں،رات کو کب وہ روتے روتے سوئی اسے معلوم نہ ہوا،اٹھ کر اس نے ہر طرف نظریں دوڑائیں،شادل کمرے میں نہ تھا،واشروم سے پانی گرنے کی آواز پر مطمئن ہوتی الشبہ ازکیٰ کی طرف متوجہ ہوئی پھر جلدی سے اسے گود میں لیا،کچھ ہی دیر میں چپ ہوتی ازکیٰ واپس سوچکی تھی جس پر الشبہ نے آہستگی سے اسے بیڈ پر لیٹایا،
“تمہیں کتنی مرتبہ بتانا پڑے گا۔۔۔”
پیچھے سے آتی بھاری آواز پر الشبہ کا خون سوکھا، جھٹکے سے پلٹتے وہ گھبرائی تھی،ٹراؤزر اور بلیک ویسٹ میں ماتھے پر بکھرے گیلے بال سمیت الشبہ کو سنجیدہ تاثرات کے ساتھ دیکھتا وہ قدم اٹھاتا اسکے پاس آیا تھا،
شادل کے سامنے آنے پر سر جھکائی الشبہ کی اچانک جان پر بن آئی جب اپنی نازک کمر پر اسے شادل کا بھاری ہاتھ رینگتا محسوس ہوا،آہستگی سے اسے اپنے قریب کرتا وہ الشبہ کے جھکے سر کو بغور دیکھا تھا،
“کیا کہا تھا میں نے۔۔۔”
اسکی سنجیدہ آواز کانوں پر پڑنے سے الشبہ لب کاٹنے لگی،دل عجیب لے پر دھڑکنے لگا تھا مقابل کی قربت پر،تبھی اسکی تھوڑی کو ہاتھ میں تھامتا وہ الشبہ کا چہرہ اٹھایا،شادل کا قد لمبا ہونے کے باعث الشبہ کا چہرہ مکمل اوپر ہوا پر نظریں ہنوز جھکی تھیں،
“بتاؤ۔۔۔کیا کہا تھا میں نے۔۔۔”
اپنا چہرہ الشبہ کے چہرے سے نزدیک کیے وہ لہجہ کرخت بنائے بولا،الشبہ کی پلکیں لرز کر رہ گئیں تھوڑی پر اسکے بھاری ہاتھ کا دباؤ بڑھنے سے،
“و۔۔وہ۔۔۔ازکیٰ۔۔۔ر۔۔رورہی تھی۔۔۔شش۔۔۔شادل بھائی۔۔۔”
شادل جو بغور اسکے ہلتے لبوں کو دیکھ رہا تھا الشبہ کے بھائی بولنے پر جھٹکے سے اسے چھوڑتا پیچھے ہٹا،دوسری جانب الشبہ نے دانتوں تلے زبان دباکر آنکھیں میچی اپنی غلطی پر،
اس سنجیدہ ماحول میں بھی ناچاہتے ہوئے لبوں پر بےساختہ امڈتی مسکراہٹ کو کچلتا شادل نفی میں سرہلائے الشبہ کے برابر سے ہوتا ازکیٰ کے پاس گیا تھا،
ازکیٰ کے گالوں کو چومتا وہ وارڈروب سے کپڑے لیے ڈریسنگ روم میں گیا،چینج کر کے واپس آیا تو الشبہ کو اب تک ایک ہی جگہ پر ایستادہ پاکر بولا،
“پورا دن یہی کھڑے رہنے کا ارادہ ہے کیا۔۔۔”
اسکی بات پر گھبراکر معصومیت سے نفی میں سر ہلاتی الشبہ بھاگی تھی واشروم کی طرف پھر اندر جاکر جلدی سے دروازہ بند کر گئی،گہرا سانس بھرتا شادل مرتضیٰ بڑبڑایا،
“بےوقوف لڑکی۔۔۔!”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوہنی بیڈ پر جبکہ ہتھیلی پر سر رکھے وہ اپنے بلکل قریب سوئی شانزے کو بنا پلک جھپکائے دیکھ رہا تھا،اسکی پُرتپش نگاہوں سے نیند کی وادیوں میں گم شانزے کسمسائی تبھی پیام نے ہاتھ کی پشت نرمی سے اسکے گالوں پر رکھ کر سہلائی،مندی مندی آنکھیں وا کرتے ہوئے پیام کو دیکھی تھی،
“سوئیٹ مارننگ وائفی۔۔۔”
مسکاتی نظروں سے اسکے خوبصورت چہرے کے نقوش کو تکتا وہ بولا تو شانزے نے منہ بناتے اسکا ہاتھ جھٹکا،
“بدتمیز۔۔۔”
ہلکی آواز میں وہ بولی یقیناً ناراض تھی اس سے،صبح ہونے پر جو بخشا تھا اس نے شانزے جو،
“غصہ ہو۔۔؟”
لب دباکر وہ جیسے پوچھنے سے زیادہ مزے لے رہا تھا،نیم وا آنکھوں سے اسے گھورتی شانزے تپ کر گویا ہوئی،
“نہیں۔۔۔بہت پُرسکون ہوں۔۔”
شانزے کے یوں بولنے پر مسکراکر پیام نے جھکتے ہوئے اسکی سفید پیشانی پر اپنے لب رکھے جس پر شانزے اور قریب ہوتی پیام کے سینے پر سر رکھ گئی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیسا ہے۔۔۔؟”
عبید نے دھیمے لہجے میں اس سے پوچھا،
آج یاور کو ڈسچارج ہونا تھا،اتنے دنوں سے ہاسپٹل میں رہ کر وہ چڑچڑا ہوچکا تھا،سر بری طرح پھٹنے کے باعث وہ چند دن تک بےہوش رہا تھا،کافی ٹانکے بھی آئے اسے،
“کیسا دِکھ رہا ہوں۔۔۔؟”
ٹانکے لگنے کی وجہ سے اپنے گنجے ہونے پر اسے جیسے زیادہ غصہ آیا تھا تبھی تپ کر عبید سے پوچھا،اسے ایک نظر دیکھ عبید نظریں پھیرتا بولا،
“انسان ہی دِکھ رہا ہے۔۔۔”
اسکے جواب پر لب بھینچتا یاور کچھ سوچ کر تمسخر زدہ سا مسکرایا،
“انسان دِکھ رہا ہوں۔۔۔پر اب بنوں گا نہیں۔۔۔”
یاور کی بات پر عبید چونکا،
“کیا مطلب۔۔۔”
“مطلب صاف۔۔۔مجھے تیری مدد درکار ہے ایک کام میں۔۔۔”
عبید کے جانب دیکھتا وہ سیدھا مدعے پر آیا تھا اب،
“میری مدد۔۔۔پر کونسے کام میں۔۔۔”
وہ حیران ہوتا پوچھا،
“کام۔۔۔کام یہی ہے کہ پیام مرتضیٰ کا کام تمام کرنا ہے۔۔۔بہت جی لیا وہ اپنی مرضی سے۔۔۔اب مرے گا وہ میری مرضی سے۔۔۔”
اپنے زخمی سر کو چھوتا وہ نفرت سے گویا ہوا،عبید کو جھٹکا لگا تھا،
“کیا بکواس کررہا ہے۔۔۔پیام جو معلوم ہوا تو اس بار تو اس نے بخش دیا تھا پر اگلی بار پتا نہیں کیا کرے۔۔۔۔”
عبید گھبرایا تھا یاور کی باتوں سے تبھی اسے سمجھانا چاہا،
“تجھے میری مدد کرنی ہے تو کر۔۔۔ورنہ جا۔۔۔کر غلامی اس پیام مرتضیٰ کی۔۔۔پتا نہیں کیوں اتنا ڈرتا ہے اس سے۔۔۔”
عبید کو گھور کر غصے میں کہتا یاور سر جھٹکا پر اچانک ٹیس اٹھنے پر آنکھیں میچتا کراہا،
“دیکھ میرے بھائی۔۔۔اس نے میرے ساتھ تجھے بھی نقصان پہنچایا ہے۔۔۔اور ویسے بھی ہم دو ہیں۔۔۔وہ ایک۔۔۔کر بھی کیا لے گا۔۔۔ابھی تُو اسے چھوڑ اور صرف میرا پلین سُن۔۔۔یقین کر میرے دوست۔۔۔ہم دونوں کا بدلہ بھی پورا ہوگا۔۔۔۔ساتھ میں مزے ہی مزے۔۔۔”
کچھ دیر بعد اسے سمجھاتا یاور پوری بات کہنے کے بعد آخر میں خباثت سے ہنسا،عبید کو اسکا لہجہ الجھا گیا لیکن چند ہی منٹوں بعد یاور کا پورا پلین سننے کے بعد وہ گھبرا کر اٹھا،
“سر پر چوٹ لگنے سے لگتا ہے نفسیاتی ہوچکا ہے تُو۔۔۔میں یہ سب نہیں کرسکتا۔۔۔یاور انسان بن جا۔۔۔بھابھی ہیں وہ۔۔۔”
یاور کے گھٹیا پلین پر ہی عبید کو گھن سی آئی اسے،تبھی وہ جھڑکا تھا اس کو،
“بیٹا ابھی تُو یہ پارسا بن رہا ہے۔۔۔چڑیا ہاتھ آنے پر نہ تیرے منہ سے بھی رال ٹپکا تو میں یاور نہیں۔۔۔”
کمینگی سے مسکراتے وہ عبید سے بولا تھا کہ اس نے لب بھینچ لیے،
“بتا بھی۔۔۔ساتھ دے گا میرا۔۔۔یا نہیں۔۔”
اسے خاموش دیکھ یاور پوچھا
“میں۔۔۔میں سوچ کر بتادوں گا۔۔۔”
یاور کو جب سے چپ چاپ سا تکتا وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
