Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Last Episode) Part 1
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Last Episode) Part 1
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
کشش۔۔۔۔! یامین آنکھیں ملتا اٹھا۔ لیکن کشش کو وہاں نہ پایا۔ تو اٹھ بیٹھا۔ یہ۔۔۔ یہ۔۔کہاں چلی گٸ۔۔؟؟ پورا روم چیک کیا لیکن وہ کہیں نہ ملی۔ فریش ہوتا وہ باہر۔نکلا۔ تو سامنے ہی وہ سب ایک ساتھ سر جوڑے نظر آۓ۔
ہمیں فوراً کچھ کرنا ہوگا۔ ورنہ دیر ہوگٸ تو۔۔ ان کے ساتھ کچھ۔۔ برا۔۔۔؟؟ داور پریشانی سے بولا۔
کس کو۔۔۔کچھ ہونہ جاۓ۔۔۔؟ کس کی بات کر رہے ہو۔۔؟؟
یامین نے پاس آتے ان سب کو چونکا دیا۔
بھاٸی۔۔۔! سمیر یامین کے گلے لگا۔ اور آنکھوں نا چاہتے بھی آسوٶں سے بھر گٸیں۔
ہوا کیا ہے۔۔۔؟؟ کوٸ بتاٸے گا مجھے۔۔۔؟ یامین کا دل دھڑکا۔ داور نے رات والی ساری بات یامین کے گوش گذار دی۔
یہ۔۔۔ یہ بات۔۔۔ مجھے پہلے کیوں نہ بتاٸ۔۔؟؟ اور۔۔۔میں کیسے۔۔ ان سے لاپرواہ ہو سکتا ہوں۔۔۔؟؟ یامین کو خود پے غصہ آیا۔ اورموباٸل پے جلیل کو کال کی۔
سر۔۔! جلیل بھی جیسے انتظار میں تھا فوراً کال اٹھاٸ۔
جلیل مجھے چھوٹے بابا چاہیے۔ ہر حال میں۔۔صحیح سلامت۔۔۔
جلیل کو ساری بات بتا کے آرڈر بھی جاری کیا۔
سر۔۔! بس کچھ دیر میں ہی ان کا پتہ لگا کے بتاتا ہوں۔۔ ان کا فون نمبر سینڈ کر دیں۔
جلیل نے پھرتی دکھاٸ۔
اب تم سب منہ کیوں لٹکا کے کھڑے ہو۔؟ یامین کو وہ سب چپ چپ سے اچھے نہ لگے۔
بابا کو۔۔کچھ۔۔۔؟؟ سمیر دھیمے سے بولا۔
کچھ نہیں ہو گا یار۔۔۔! میں ہوں ناں۔۔ کیوں ٹنشن لیتے ہو؟ یامین نے اسے حوصلہ دیا۔ تو سبھی کچھ حد تک مطمین ہوٸے۔
اللہ بہترکرے گا۔ فکرنہ کرو۔۔ اور تم۔۔۔۔! ان سے کہتے وہ کشش سے مخاطب ہوا۔ تو اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
روم میں آٶ۔۔ کہتے وہ وہاں سے اپنے رومکی جانب بڑھا۔ تو وہ ان سب کو آتی ہوں کہہ کے یامین کے پیچھے گٸ۔
اس کے اندر آتے ہی یامین نے درواہ لاک کیا۔
کس سے پوچھ کے صبح صبح آپ اٹھ کے باہر گٸیں۔۔؟ یامین کو غصے میں دیکھ کشش تھوڑا گڑبڑاٸ۔
میں۔۔۔۔ سمجھی نہیں آپ کی بات۔۔؟؟
آٸندہ۔۔۔ میرے اٹھنے سے پہلے آپ روم کے اندر رہیں گیں۔ سمجھیں آپ۔۔! یامین غصہ میں تو تھا ہی۔ آج آپ کہہ کے مخاطب کر رہا تھا۔ کشش کو اچھنبا ہوا۔
اس میں کیالاجک ہے۔۔۔؟؟ کشش کے ماتھے پے بل پڑے۔
کشش۔۔۔! اگر میں کچھ کہت نہیں تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ تم کچھ بھی کرو۔۔ اب ہمارے بیچ رشتہ بدل چکا ہے۔ اسے سمجھو۔ اور ۔۔۔۔
کیا رشتہ بدلنے سے انسان بھی بدل جاتا ہے؟کشش نے بات کاٹی۔ جو یامین کو برا لگا۔
انسان بدلے یانہ بدلے۔۔۔ اس کے جذبات بدلتےہیں۔۔ احساسات بدلتےہیں۔ ہر رشتےکی طرح اس رشتے کو بھی اہمیت دینی پڑتی ہے۔ اور۔۔ مجھے نہیں لگتا۔۔ کہ تم اتنی بے وقوف ہو کہ۔۔ سب میں تمہیں سمجھاٶں۔۔ یامین نے اینڈ پے اسے ڈپٹا۔ تو وہ منہ بگاڑ کے اسے دیکھنے لگی۔
آپ مجھے۔۔ ڈانٹ رہے ہیں۔۔۔ !
تو اور کیاکروں۔۔؟ بیوی ہو تم میری۔۔میں چاہتا ہوں۔۔ صبح اٹھوں تو تم میرے پاس ہو۔۔۔۔مجھے پتہ ہو کہ تم کہاں ہو۔۔ نہ کہ مجھے تمہیں۔۔ ڈھونڈنا پڑے۔۔۔ پرواہ کرتا ہوں۔۔ تمہاری۔۔ اور چاہتا ہوں۔۔ کہ تم بھی کرو۔
اس کےپاس ہوتا۔۔ وہ اب ک بار دھیمےلیکن مضبوط لہجے میں بولا۔ وہ اسے بنا پلک جھپکے دیکھے گٸ۔
ہر شوہر کی طرح۔۔ میری بھی یہی خواہش ہے۔۔ کہ میری بیوی کے لیے میں فرسٹ Piority ہوں۔۔ سب سے اوپر۔۔۔! وہ اسے صاف لفظوں میں سمجھانے لگا۔
آپ سے کہا تھا۔۔۔ ابھی رخصتی نہ کریں۔۔شاید۔۔ میں آپ کی توقعات پے پورا نہیں اترتی۔۔۔! کشش کی آنکھیں نم ہوٸیں۔
یامین نے اسے سخت گھوری سے نوازا۔ اور سر جھٹکتا باہر نکلنےلگا۔ کہ کشش نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔
میں۔۔ کوشش کروں گی۔ آپ کو۔۔۔ شکایت۔۔۔؟؟؟ وہ دھیمے لہجے میں کہتی یامین کو مسکرانے پے مجبور کر گٸ۔
یامین نے شہادت کی انگلی سے اسکا چہرہ اوپرکیا۔
اس میں رونے کی کیا بات ہے؟ کیا میرا کوٸ حق نہیں تم پر۔۔؟ اس کے قریب ہوتے پیار سے پوچھا۔
میں نے ایسا کب کہا۔۔؟؟ نروٹھے پن سے بولی۔
کشش۔۔! مجھے تم۔میں کوٸ بدلاٶ نہیں چاہیے۔۔ تم۔جیسی ہو۔۔ ویسی رہو۔۔۔ لیکن۔۔ بس اتنا چاہتا ہوں۔۔ ۔۔!! یامین نے گہرا سانس لیا۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ کسطرح اس پاگل لڑکی کو اپنی فیلنگز سمجھاۓ۔
خیر چھوڑو۔۔۔ اداس مت ہو۔۔۔ شاید میں کچھ زیادہ ہی پوزیسو ہو رہا ہوں۔۔۔ یامین نے اپنی ہی غلطی مان لی۔
یہ تو اچھی بات ہے ناں۔۔۔! کشش نے مسکراتے کہا۔
رٸیلی۔۔۔۔؟؟؟ یامین کو اسکی بات پے خوشگوار حیرت ہوٸ۔
کشش۔۔! میری پوزیسنیس ابھی تم نے دیکھی کہاں ہے۔۔۔؟؟اسے اپنی بازوٶں کے گھیرے میں لیتے گھمبیر لہجے میں کہا۔تو وہ بری طرح سٹپٹاٸ۔
آپ۔۔۔وہ۔۔۔ آپ۔۔۔۔؟؟ آپ کو جانا نہیں۔۔۔؟؟ کشش نے آنکھیں چمکاتے پوچھا۔
اسی وقت موباٸل پے جلیل کی کال آتے دیکھتے وہ اسے رسیو کرتا اک لمحے کو چپ سا ہوگیا۔
ٹھیک ہے۔ میں آتا ہوں۔۔۔ ! یامین کے لہجے میں پریشانی تھی۔
مجھے ابھی جانا ہوگا۔ اپنا موباٸیل اور والٹ اٹھاتے عجلت میں وہ باہر نکلا۔
سب۔۔۔۔ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ میں بھی۔۔۔آپ کے۔۔؟؟
کشش ۔۔!میں جلدی آجاٶں گا۔اور ہاں۔۔ علیزہ پے کڑی نظر رکھنا۔ اس بار میں اسے ایسی سزا دوں گا۔ کہ وہ۔۔۔! یامین سخت غصے میں بنا بات مکمل کیے باہر نکلتا چلا گیا۔کشش نے اسکی سلامتی اور کامیابی کی دعا کی۔













میری زندگی کے مالک
میرے دل پے ہاتھ رکھ دے۔۔۔
تیرے آنے کی خوشی میں ۔۔۔
میرا دم نکل نہ جاۓ۔۔۔
************
حازق نے عناٸشہ کو دیکھتے پیار سےکہا۔
وہ جو دانی اور ہانی کے ساتھ محو گفتگو تھی۔ حازق کے گنگنا کے کہنے پے سٹپٹا کےاسے دیکھا۔ اور آنکھوں ہی آنکھوں میں چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
ہمیں لفظوں کی بات سمجھ آتی ہے اشاروں کی نہیں۔ بہت معصومیت سے اورپیار بھری نظریں عناٸشہ پے ٹکاتے وہ اسے اچھا خاصا زچ کر گیا۔
آج اس نے آفس سے چھٹی کی تھی۔ ان تینوں کے ساتھ مل کے آج گھومنےکا پلان بنایا تھا۔
دانی اور ہانی دونوں نے ہوٹنگ کی تو عناٸشہ نے وہاں سے اٹھ جانا ہی مناسب سمجھا۔
کیا۔بھاٸ! آپ نے آپی کو بھگا ہی دیا۔ ہانی نے منہ بنایا۔
یار میں نے کچھ نہیں کیا۔ وہ خود ہی بھاگ گٸ ہے۔ حازق نے ہاتھ کھڑے کیے۔
چلو۔۔! تم۔لوگ ریڈی ہوجاٶ۔ میں آپ کی آپی جان کومنا کے لاتا ہوں۔ حازق نے انہیں کہا۔ اور خود اٹھتا عناٸشہ کے پیچھے روم۔میں آیا۔
جو موباٸل۔کے ساتھ لگی تھی۔
حازق نے پاس آتے موباٸل۔لے لیا۔ عناٸشہ کو اسکا یوں موباٸل۔لینا برا لگا۔
کیاحازق۔۔۔؟؟ آپ۔۔۔ بھی ناں۔۔۔؟؟ منہ بنایا۔
کیاہوا۔۔۔۔؟ کوٸ خاص بات کررہی تھی کسی سے۔۔؟؟ حازق کوبھی اسکا انداز کچھ بھایا نہ۔
کیا۔۔۔ کہنا کسی سے۔۔۔؟ کشش کا۔میسج آیا تھا۔ حال۔وغیرہ پوچھ رہی تھی۔ اور۔۔۔۔؟؟ عناٸشہ نےجان بوجھ کے بات ادھوری چھوڑ دی۔
اور کیا۔۔۔؟؟ حازق متجسس ہوا۔
اور یہ کہ۔۔ آپ یامین سر کے ساتھ ہیں یا۔۔۔ نہیں۔۔ یہی پوچھ رہی تھی۔ عناٸشہنے اٹھتے ہوٸے کہا۔
یامین۔۔۔؟؟ مطلب۔۔ یامین گھر نہیں۔۔۔؟ حازق یامین کے لیے بے چین ہوا۔
اور اسے کال کرنے لگا کہ عناٸشہ نے موباٸل لے لیا۔حازق نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
ایسے نہ دیکھیں آج آپ چھٹی پے ہیں اور آ پ کا سارا دن میرے ساتھ گزارنے کا پلان ہے۔ عناٸشہ نے حق جتایا
آٸ نو۔۔ عنا۔! لیکن یامین سے بات تو کرنے دو۔وہ کسی پرابلم میں نہ ہو۔ حازق نے ہاتھ آگے بڑھایا۔
نو۔۔۔۔ نہ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔! بالکل نہیں ۔۔۔ ہم ابھی جا رہے ہیں۔۔ اور آپ کا آج بالکل کوٸی اور کام نہیں۔ سواٸے ہمیں ٹاٸم دینے کے۔ عناٸشہ کہتے اسکے قریب ہوٸ۔ اور بہت میٹھی نظروں سے دیکھتے شیریں انداز میں کہا
حازق کے چہرے پے بھی سماٸل۔آگٸ۔ اور ہاتھ بڑھا کے اسے اپنی بانہوں میں بھرا۔
اب آپ اتنا مجبور کر ہی رہی ہیں تو۔۔۔ بندہ حأضرِ خدمت ہے۔سر تسلیم خم۔کیا۔
چلیں پھر۔۔۔؟ عنا کی آنکھیں چمکیں۔ تو حازق نے اثبات میں سر ہلایا۔














موقع واردات پے پولیس بھی پہنچ چکی تھی۔ ٹریلے کے نیچے ایک آدمی آگیا تھا۔ اور شک تھا۔ کہ وہ میر فیملی میں سے کوٸ نہ ہو۔ یامین دل تھام۔کے وہاں پہنچا۔ لاش کا چہرہ مس ہوگیا تھا۔ پہچاننے کے قابل تک نہ تھی۔ یامین کا دل نہمانا کہ وہ عزیز صاحب ہ سکتےہیں۔
یہ۔۔۔یہ نہیں۔۔۔ عزیز انکل۔۔۔! انسپکٹر کو لڑکھڑاتے لہجےمیں کہا۔
ہو سکتا ہے۔۔۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جا رہے ہیں
دیکھتے ہیں۔۔۔۔ انسپکٹر نے پیشہ ورانہ انداز میں کہا۔
اس لاش کے پاس سے ایسا کچھ بھی برآمدنہ ہوا تھا۔ کہ یقین سے کہا جا سکتا کہ وہ عزیز صاحب ہیں۔
یامین نے جلیل کوکال ملاٸ۔ لیکن وہ اٹھا نہیں رہا تھا۔ یامین حیران تھا اسے یہاں کا کہہ کے وہ خود کیوں نہیں آیا۔۔۔؟؟











میرے ہاتھ کھولو۔۔۔؟ علیزہ نے دانت پیستے کہا۔
کشش نے گھوری سے نوازا۔
مجھے۔۔۔ واش روم جانا ہے۔۔۔! گہرا سانس خارج کرتے علیزہ نے اپنی مشکل۔بیان کی۔
روک نہیں سکتی۔۔۔؟ کشش نے برجستہ کہا۔
کرن نے اسے ٹہوکا مارا۔ کہاسے جانے دے۔
ناں۔۔ یہ وہاں سے رفو چکر ہوگٸ تو۔۔۔؟ کشش کو اس پے اعتبار نہ تھا۔
یار۔۔۔۔! مجھے جانے دو۔۔۔ آٸ کانٹ کنٹرول۔۔۔۔! علیزہ نے منہ بناتے کہا۔
پلیز کشش اسے بھیج دو۔۔ نہیں تو۔۔۔۔! کرننے ڈرایا۔
ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔۔۔۔! لیکن صرف پانچ منٹ۔۔۔! شہزادیوں کی طرح کہتے کشش نے اس کے ہاتھ کھولے اور وہ فوراً ان دونو ں کو گھورتی واش روم گھسی۔
جبکہ کشش نے گھڑی پے ٹاٸم دیکھا۔
اتنے میں سمیر کیکال آھٸ کہ وہ التاج ہوٹل۔جا رہا ہے۔ دادا جی نے کچھ فاٸلز منگواٸیں ہیں۔
اور کشش وہی سننے لگی۔
علیزہ باہر آٸ تو کرن کو اپنا منتظر پایا۔
پاس پڑا واس زور سے کرن کے سر پے مارا۔ تو اسکی چینخ بلند ہوٸ۔ کشش واپس پلٹی۔ اتنے میں علیزہ نے اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا۔ اور خود باہر کی طرف بھاگی۔ کشش نے خود کو سنبھالا۔ لیکن علیزہ کے پیچھے جانے کی بجاٸے اس نے کرن کی طرف بڑھی۔
اس کے سر سے خون کا فوارہ چھوٹا تھا۔
علیزہبہت آرام سے چھپتی چھپاتی گیٹ تک پہنچ چکی تھی۔ او بہت آرام سے وہ گیٹ کیپر کے بھی پیچھے سے سر پے وار کرتے اسے بے ہوش کر چکی تھی۔ اب وہ مزے سے کھڑی مڑتی ایک نفرت بھری نظر میر ولا پے ڈالی۔
یامین سکندر۔۔۔ میر ولا کی سیکیورٹی۔۔۔؟؟ ہوں۔۔۔ ماٸ فٹ۔۔۔! نفرت سے کہتی وہ گیٹ سے باہر نکلتی چلی گٸ۔







کرن۔۔۔ کرن۔۔۔؟؟ آنکھیں کھولو۔۔۔؟؟؟ چھوٹی مما۔۔۔۔ سیرا۔مما۔۔۔ پلیز کوٸ جلدی آٶ۔۔۔۔ کشش نے روتے ہوٸے پکارا۔ اور کن کو سنبھالنے لگی۔ وہ نیچے گرتی بے ہوش ہو چکی تھی۔
داور جو وہیں آرہا تھا۔
کشش کی آواز سنتا فورأً بھاگا۔ اندر آتے کرن کو زخمی حالت میں دیکھتا اسکا دل دہل گیا۔
کیا۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔؟؟ وہ بھی کرن کو دیکھتا کچھ بولنہیں پایا
داور۔۔ جلدی کرو۔۔۔ ہاسپٹل۔۔۔۔؟؟ کشش نے روتے ہوٸےکہا۔
داور دل سنبھالتا کرن کو اٹھاۓ باہر بھاگا۔ کشش بھی اسی کے پیچھے بھاگی۔
**********
جلیل۔کومسلسل کال۔کر رہا تھا لیکن وہنکال۔نہیں اٹھا رہا تھا اتنےمیں یامین کے موباٸل پے اسفند کی کال۔آٸ۔
سر۔۔! وہ میر ولا سے نکل گٸ ہے۔۔۔! اسفند نے گاڑی میں بیٹھے علیزہ کو میر ولا سے نکلتے دیکھا تو یامین کو کال کی۔
ڈیم۔۔۔! اسفند اسکا پیچھا کرو۔۔۔ آٸ ہوپ کہ اس نے کسی کو نقصان نہ پہنچایا ہو۔۔۔۔یامین نے فوراً سے کہا۔ اور خو گاڑی میں بیٹھتا گاڑی گھر کیجانب موڑ چکا تھا۔











وہ گھوم۔پھر کے اس وقت التاج ہوٹل پہنچ چکے تھے۔
سر۔۔۔! مینیو۔۔۔! ویٹر مسکراتا حازق کے پاس آیا۔
انہیں دو۔۔۔ جو یہ۔۔۔ پسند کریں۔۔۔! حازق نے عنا کی طرف محبت پاش نظروں سے دیکھتےکہا ۔
وہ تینوں مل کے آرڈر کرنے لگے۔ کہ تبھی حازق کو سمیر دکھاٸ دیا۔
ایکسکیوز می۔۔۔! حازق اٹھتا اس کے پاس پہنچا۔ وہ جو عجلت میں جا رہا تھا۔ حازق کو دیکھتا رکا۔
کیاہوا۔۔۔؟؟ سب ٹھیک ہے ناں۔۔سمیر۔۔۔؟؟ سلامدعا کے بعد حازق نے الجھتے ہوٸے اسے دیکھتے پوچھا۔
سمیر کا دل کیااسے سب بتا دے۔ لیکن یامین نے منع کیا تھا۔ آج شادی کے بعد پہلی دفعہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ ٹاٸم۔سپینڈ کر رہا تھا۔ ایسے میں یامین نے منع کیا تھا کہ اسے کچھ نہ بتا یا جاۓ۔
ہاں۔۔۔ ہاں۔۔ بھاٸ سب ٹھیک ہے۔۔۔! یہ۔۔ فاٸل۔لینے آیا۔۔ تھا۔ دادا جی نے منگواٸیں ہیں۔ سمیر نے تفصیل۔دی۔
ہمممم۔۔۔! یامین کہاں ہے۔۔؟؟ حازق نے سمیر کو جانے کے لیے پر تولتے دیکھا تو پوچھ بیٹھا۔ جی وہ۔۔۔ معلوم۔نہیں۔۔۔! سمیر جھوٹ بولتے نظریں چرا گیا تھا۔ حازق نے اسے ایسا کرتے بھانپ لیا۔ اسی اثنا میں سمیر کے نمبر پے داور کی کال آٸ ۔
کیا۔۔۔ کونسے ۔۔۔ ہاسپٹل۔۔؟؟ سمیر سخت پریشان ہوا۔ میں ابھی آیا۔۔۔۔کالبد کرتے وہ باہر نکلنے لگا۔
کیا ہوا۔۔۔؟ سمیر۔۔ کون ہے ہاسپٹل۔میں۔۔؟؟ حازق نے اسے ہاتھ پکڑ کے روک لیا۔
بھاٸ وہ۔۔ کرن۔۔۔؟ وہ زخمی۔۔۔! علیزہ۔۔۔ بھاگ گٸ ہے۔۔۔! سمیر نے ضبط کرتے کہا۔ اتنی دیر میں عنا کینظر بھی سمیر پے پڑی۔ جبکہ ہانی کن اکھیں سے اسے واچ کر رہی تھی۔
رکو۔۔۔! میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔ حازق نے اسے روکا۔
نہیں۔۔ بھاٸ۔۔! آج نہیں۔۔۔! آپ۔۔ فیملی۔۔۔؟؟ سمیر نے منع کرنا چاہا۔
سمیر۔۔! تم۔سب بھی میری فیملی ہو۔۔۔! سمجھے۔۔! جسٹ ویٹ۔۔! میں ابھی آیا۔ اسے پیار سے ڈپٹتے وہ رنا کی جانب بڑھا۔
آپ سب۔۔ لنچ کے بعد گھر چلے جانا۔۔۔! مجھے ضروری کام ہے۔۔ میں لیٹ ہو جاٶں گا۔ انہیں عجلت میں کہتا وہ واپس مڑا۔
اٹس ناٹ فیٸر۔۔۔! عنا نے دکھ سے اسے دیکھتے کہا۔
حازقنے مڑکے ایک شکوہ کناں نظر اس پے ڈالی اور آگے بڑھ گیا۔ سمیر کو لیے وہ ہاسپٹل کی جانب گاڑی میں بیٹھتا موڑ چکا تھا۔![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
کیسی ہے اب کرن؟ سمیر نے داور کودیکھتے ہی پوچھا۔
ڈاکٹر۔۔۔ دیکھ رہے ہیں۔ داور س بات کرنا ہی مشکل ہورہا تھا۔ کشش بھی پاس ہی تھی۔ آتے سمےصرف سویرا بیگم کو ہی پتہ چل سکا۔ داوراور کشش دونوں کرن کو ہاسپٹل۔لاٸے تھے۔
فکر نہیں کرو۔ سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔
حازق نے تسلی دی۔
کیسے ہوا یہ سب؟ سمیر نے کشش کو دیکھتے پوچھا۔
کشش نے مختصراً سمیر کو بتایا۔
حد ہوگٸ یار۔۔۔! اتنی لاپراہی۔۔۔؟؟ جانتے بوجھتے۔۔۔؟م سمیر کو کشش کی لاپراہی پےغصہ آیا۔۔وہ بھی حیرت سے اس دیکھنےلگی۔
ٹھیک ہوجاۓ گی وہ۔۔۔ داور نے سمیر کے کندھے پے تھپکی دی۔
لیکن۔۔ اسے چوٹ تو لگی ناں۔۔۔؟؟ کیا ضرورت تھی اسے کھولنے کی؟اتنی ہمدردی کی کیاضرورت تھی بھاٸ؟ سمیر کو ضبط کرنا مشکل لگ رہا تھا۔
داور نے ایک نظرکشش کو دیکھا۔ جس کے چہرے پے واضح دکھ رقم تھا۔وہ خاموشی سے باہر کی جانب بڑھ گٸ۔











ابھی یامین راستے میں ہی تھا کہ افند کا میسج آیا اس نے لوکشین سینڈ کی تھی۔ اور وہاں پہنچنے کوکہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ مطلوبہ جگہ پہنچ چکا تھا۔
کیاہوا؟؟ کدھر ہے وہ۔۔؟؟ یامین نے سامنٕے ہہی اسفند کی گاذی کودیکھتے موباٸل۔پے کال۔کرتے پوچھا۔
سر۔۔۔! وہ اس سامنے والی بلڈنگ میں داخل۔ہوٸ ہے۔
یامین نے بلڈنگ پے نظر دوڑاٸ ۔
یہ تو کافی بڑی ہے۔۔۔۔ ! کہاں ڈھونڈیں اسے۔۔۔؟ یامین کے ماتھےپے بل۔پڑے۔ لیکن وہ ہمت ہارنے والوں میں سے نہ تھا۔ دونوں ہی آگے پیچھے احتیاط سے بلڈنگ میں داخل ہوٸے۔







فلیٹ کے اندر آتے ہی علیزہ نے سب سے پہلے شاور لیا کپڑے چینج کیے۔ اور آگے کی پلاننگ کرنے لگی۔ اب
اسے اس جگہ جانا تھا۔جہاں۔ اس نے عزیز صاحب کقید کر رکھ تھا۔ یامین اور افند اسکا باہر ہی ویٹ کر رہے تھے۔ کچھ ی دیر میں وہ باہر آتی دیکھاٸ دی۔ بہت فریش حلیے میں۔ یامین تھوڑا ٹھٹھکا۔
یہ کہاں۔۔۔؟ جارہی ہے۔۔۔۔؟؟اسفند نے اسے گاڑی میں بیٹھے دیکھ کر کہا۔
گاڑی اسکے پیچھے لو۔ یامین نے فوراً کہا اور کچھ ہی دیرمیں وہ علیزہ کاپیچھا کرتے ایک پرانی بلڈنگ تک پہنچ چکے تھے۔
کہاں ہے وہ۔۔۔۔؟؟ علیزہ کی کرخت آواز سناٸ دی۔
عزیز صاحب کو بہت بری حالت میں وہاں باندھ رکھا تھا۔ یامین کا دل کیا ابھی انہیں آزاد کرالے۔ لیکن۔اسے صبر سے کام۔لینا تھا۔
گڈ۔۔۔! انہیں لگا علیزہ کو پکڑ لیا۔۔۔۔؟ہاہاہاہاہا۔۔۔ یامین سکندر!۔۔۔ علیزہ کو پکڑنا مشکل نہیں ناممکن ہے۔۔۔ ہاہاہ۔۔۔۔ ! وہ قہقہے لگاتی خوش ہوٸ۔
جبکہ یامین مٹھیاں بھینچتا رہ گیا۔ اسفند کو پولیس کو انفارم۔کرنےکا کہا ۔ اور خود چپکے چپکے اندر کیجنب موو آن کرنے لگا۔ وہاں تقریباً چار سے پانچ لوگ تھے ان سب ےپاس اسلحہ تھا یامین کوٸی بھی کو تاہی کر کےرسک نہیں لےسکتاتھا۔ جبکہ عزیز صاحب اس کے قبضےمیں تھے۔












کرن اب ٹھیک تھی ۔اسے سر پے چوٹ لگی تھی گھر سے عالیہ کا فون آیا تھا۔ انہیں بھی مطمین کر دیا تھا
سمیر۔۔۔ ! تم۔گھرجاٶ۔۔۔ دادا جیکو یہ پیپرز ضرورت ہوں گے وہ و یٹ کر رہے ہوں گے۔ یہاں میں ہوں۔ دیکھ لوں گا۔ داور نے سمیر کو کہا ۔
کرن۔۔۔؟؟ سمیر کو کرن کی فکر ستاٸ۔
یار مت گھبراٶ و ہ ٹھیک ہے۔۔! حازق نے بھی اسکی تسلی کراٸ۔
تو وہ اثبات میں سر ہلاتا باہر آیا۔ ایک طرف اسے کشش بیٹھی دکھاٸ دی۔ سمیر کا جی چاہا اس سے جا کےبات کرے۔ لیکن فی الحال دادا جی کے پاس جانا زیاہ ضروری تھا۔
وہ اسے اگنور کرتا آگے بڑھ گیا۔ کشش کی سمیر کی پیٹھ پے نظر پڑی تو اس کا یوں چلے جانا اسے زیادہ دکھ ددے گیا۔ خاموش آنسو پھر سے بہہ نکلے۔











دادا جی نے زمینوں کے پیپرزمنگواٸے تھے۔
عزیز صاحب کو کڈنیپ کیا گیا تھا۔ اور انکو چھڑانے کے لیے ان سے پچاس کروڑ مانگے تھے۔ وہ اپنی زینیں بیچ رہے تھے۔ انہوں نے وکیل کو بھی بلوا۔لیا تھا۔
وہ اپنی اولاد کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر رہے تھے۔
بنا کسی کو بتاۓ۔۔۔
زمینوں کو پیپرز یامین کے لاکرمیں تھے۔ جو اسکے پرسنل کیبن میں تھا۔ اسکی ڈبلیکیٹ چابی دادا جی کے پاس بھی تھی۔ وکیل سے ساری بات ہوگٸ تھی۔ اس سب میں ان کی بہو عالیہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔











خبردار خود کو قانون کے حوالے کر دو۔ پولیس نے تمہیں چاروں طرف اے گھیر لیاہے۔۔۔
علیزہ جو دادا جی کو کال کر رہی تھی پولیس کے آنے سے سخت گھبراگٸ۔ اس کے آدمی پکڑے جا چکے تھے۔ اور ہ بھی اب قانون کی گرفت میں تھی۔ یامین نے عزیز صاحب کو اسفند کی مدد سے ہاسپٹل۔پہنچایا۔
علیزہ کا چپٹر بعد میں کلوز کرنے کا سوچتا وہ عزیز صاحب کو لیے ہاسپٹل۔پہنچا جہاں کرن آٸ سییو میں تھی۔ وہیں کشش ودیکھ وہ اسکی جانب بڑھا۔
کشش۔۔۔! یامین کے پکارنےپے وہجو اندر ہی اندر خود سے لڑ رہی تھی۔ فوراً اسکی جانب پلٹی۔ اسے نم آنکھوں سے دیکھتے وہ اسکے سینے سے جا لگی۔
اور رو دی۔ یامین نے اسیکی یہ حات دیکھی ےتو پریشان ہوا ۔
سب۔۔۔ ٹھیک ہے ناں۔۔کشش۔۔؟؟ اسکا دلکسی بھی انہونی کے لیے اب مزید تیار نہ تھا۔
کشش نے نی میں سر ہلایا۔۔
وہ۔۔کرن۔۔۔ وہاں۔۔۔؟؟ علیزہ نے۔۔۔؟؟ میں نے۔۔ نہی ںکیا کچھ۔۔۔ بھی۔۔۔! روتےہوۓ وہاپنیصفاٸ دے رہی تھی۔ اور یہی بات یامین کوکھٹک رہی تھی۔ وہ رلانے ولوں میں سے ۔ تھی ۔ رونے والوں میں سے نہیں۔
شیییی۔۔۔۔۔! چپ ہوجاٶ۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا کرن کو۔۔۔! یامین نے اسے تسلی دی تو اسے لگا جیسے اسکا اپنا اسے مل گیا ہو۔۔ بنا کچھ بھی پوچھے وہ اس پے کتنا اعتبار کرتا تھا۔ واقعی وہ عشق بے حساب کرتا تھا۔
کشش نے اپنے آنسو صاف کیے۔ یامین کشش کو۔لیے اندر کی جانب بڑھا۔ جہاں حازق اور داور بھی موجود تھے۔
جاری ہے
