Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 12)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 12)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
کشش افضال ولد میر افضال سکندر آپ کا نکاح میر یامین سکندر ولد میر حیات سکندر کے ساتھ بعوض پچاس لاکھ حق مہر طے کیا جاتاہے۔۔۔ کیا آپ کویہ نکاح قبول ہے۔۔؟؟
مولوی صاحب کے الفاظ ہاسپٹل کے آٸی سی یو میں گونجے۔ تو ایک لمحے کے لیے کشش کی آنکھیں بند ہوگٸیں۔
دل نے دھڑکنے سے انکار کر دیا۔
وہ یہ سب یوں قبول نہیں کر پا رہی تھی۔
یہ سب حقیقت ہے۔۔؟ یا خواب ۔۔۔؟؟ اسے کچھ سمجھ نہ آرہا تھا۔
اپنے ہی آنچل کے ہالے میں چہرہ ڈھانپے وہ آنسو ضبط کیے بیٹھی تھی۔
مولوی صاحب نے پھر سے پوچھا۔
یامین کی نظریں اسی پے ٹکی تھیں وہ جانتاتھا یہ مرحلہ کشش کے لیے سب سے مشکل ہے۔۔۔
لیکن وہ بھی دادا جی کی خواہش پے سر تسلیم ِ خم کر گیا تھا۔
جس نے شادی نہ کرنے کا خود سے عہد کیا تھا۔
قبول ہے۔۔۔
کشش کے الفاظ نے دادا جی کے چہرے پے خوشی کی لہر دوڑادی۔
انہوں نے فوراً آنکھیں موندتے رب کا شکر ادا کیا۔
انہیں سب سے زیادہ فکر کشش ہی کی تھی۔کہ ان کے بعد اس کا کیا ہوگا۔۔؟؟
یامین کے بھی قبول کر لینے کے بعد ڈاکٹر عرفان اور مولوی صاحب نے یامین کو گلے لگایا۔
اور تسلی بھری تھپکی دی۔
وقت اور حالات ایسے نہیں تھے۔ کہ کوٸی خوشی کا اظہار کرتا۔
دادا جی کی نبض کی رفتار تیز ہوٸی۔
انکی سانسیں اکھڑنے لگیں۔
سبھی ان کی طرف متوجہ ہوٸے۔
کشش فوراً ان کے سرہانے کے پاس جا کھڑی ہوٸی۔
دادا جی۔۔۔ ! آپ کی۔۔۔۔۔۔ مجھے ضرورت ہے۔۔۔ پلیز۔۔ ایسا۔۔مت کرنا۔۔۔ مجھے ۔۔ چھوڑ کے نہیں۔۔ جانا۔۔ میں مر جاٶں گی۔۔۔ آپ کی کشش مر جاٸے گی۔۔ دادا جی۔۔۔!!
روتے ہوٸے وہ دادا جی کے ساتھ لگی بولے جارہی تھی۔
نرس۔۔! فوراً آپریشن کی تیاری کریں۔۔ دادا جی کی نبض دیکھتے وہ فوراً بولے۔
آپ سب باہر چلے جاٸیں۔ پلیز۔۔۔۔! یامین کی طرف درخواست والے لہجے میں کہتے ڈاکٹر عرفان آپریشن کی تیاری کرنے لگے۔
کشش کو بمشکل یامین کندھوں سے تھام کے باہر لایا۔
میرے۔۔دادا جی۔۔۔!! وہ۔۔میرے۔۔۔ دادا جی۔۔۔۔ انہیں۔۔۔ ببچا لیں۔۔۔ پلیز۔۔۔ !! کشش نے یامین کے آگے ہاتھ جوڑے۔۔
یامین کا دل اسکی اس حرکت پے بہت دکھا۔
اس کے ہاتھ تھامے۔ لیکن شدتِ ضبط سے کچھ کہہ نہ سکا۔
وہ خود کو نہیں سنبھا ل پا رہا تھا۔ تو کشش کو کیسے سنبھالتا۔
میں۔۔ آپ کو۔۔کبھی۔۔ تنگ۔۔۔ نہیں کروں۔۔ گی۔۔۔
پلیز۔۔مجھے۔۔ دادا جی واپس لا دیں۔۔۔
پلیز۔۔۔۔!!
روتے ہوٸے وہ ہاتھ جوڑے یامین سے کہے جارہی تھی۔
یامین کے دل کے پار ہو رہی تھیں اسکی باتیں۔
اسکے ہاتھ تھامے اسے اپنے ساتھ لگایا۔
اور چپکے سے اپنی آنکھ میں آٸے آنسوٶں کو صاف کیا۔
کچھ۔۔کچھ۔۔۔نہیں ہوگا۔۔ دادا جی۔۔ کو۔۔۔ اللہ سے دعا کرو۔۔۔ وہ ہم سے ہمارا سایہ۔۔نہیں چھینے گے۔۔۔
دھیمے دھیمے کہتا وہ کشش کو پرسکون کر رہا تھا۔
میں۔۔ میں اللہ سے دعا۔۔ کروں۔۔؟؟ وہ ۔۔مجھے دادا جی واپس کر دیں گے۔۔۔ناں۔۔۔!!؟
چہرہ اوپر اٹھاتے پوچھتے وہ بہت چھوٹی بچی لگ رہی تھی۔
یامین نے اثبات میں سر ہلایا۔
اسی اثنا میں ڈاکٹر عرفان نے یامین کو بلوایا۔تو وہ کشش کو پنا خیال رکھنے کا کہتا اندر بڑھا۔
جبکہ کشش وہاں سے prayer room کی جانب بڑھی۔














عادہ بیگم کے اچانک داغِ مفارقت پے عناٸشہ چپ سی ہوگٸی تھی۔
ان کے ساتھ بیتے لمحے ایک فلم کی طرح آنکھوں میں گھوم رہے تھے۔
کوٸی لمحہ کوٸی پل ایسا نہ گزرا تھا جب انہوں نےاسے کسی چیز کی کمی دی ہوتی۔
بس پیار ہی پیار نچھاور کیا تھا۔
آج عابدہ بیگم کوگٸے دو دن ہوگٸے تھے۔
جمیلہ بیگم ان دو دنوں میں اس کے ساتھ ساتھ ہی رہیں تھیں۔
انہیں بس ایک ہی ڈر تھا اب ان سے انکی بیٹی جدا نہ ہوجاٸے۔
وہ اسی کے ساتھ لگیں اسی کا خیال رلھ رہی تھیں۔
ان دو دنوں میں وہ انہیں خود سےبھی زیافہ عزیز ہوگٸ تھی۔
زبیدہ خالہبھی ہر لمحہ ساتھ تھیں۔
اب بھی وہ بار بار آتیں اور اسکی پوچھ تاچھکرتی رہتیں۔
انہیں بھی جمیلہ بیگم کا عناٸہ سے کیا رشتہ ہے۔ پتہ چل چکا تھا۔
بیٹا۔۔۔! کھانا کھا لو۔
زبیدہ خالہ نے کوٸی چوتھی بار اسے کہا۔
دو دن سے وہ خاموش ماں کے کمرے میں بیٹھی تھی۔
کسی سے کوٸی بات نہ کرتی تھی۔
زور زبردستی ہی سہی زبیدہ خالہ اسے دن میں ایک دفعہ کھلا ہی یتیں تھیں۔
وہ زبیدہ خالہ سے پھر بات کرلیتی یا ان کی بات مان جاتی۔
جمیلہ
بیٹا۔۔۔! یوں چپ نہ رہو۔۔ کچھ تو بولو۔۔۔۔ اور کچھ نہ سہی ۔۔کچھ کھا ہی لو۔۔۔
زبیدہ خالہ نے روندھے لہجے میں کہا۔
جمیلہ بیگم نے اس کے کاندھے پے تسلی بھری تھپکی دی۔
بیٹا۔۔۔!! خود کو سنبھالو۔۔۔۔!!
عناٸشہ نے انہیں عجیب سی نظروں سے دیکھا۔
آپ کے لیے کہنا آسان ہے۔۔۔ میرے لیے۔۔۔ بہت۔۔مشکل۔۔۔ ماں تھیں۔۔ وہ میری۔۔۔
عناٸشہ کے لب کہتے ہوٸے لرزے۔
عناٸشہ۔۔۔ بیٹا۔۔۔!عابدہ کے جانے کا دکھ مجھے بھی ہے۔
بہن تھی وہ میری۔۔۔۔!
جمیلہ بیگم کو اسکی بات سے دکھ ہوا۔
اگر۔۔بہن مانتیں تو۔۔۔ آپ کبھی یہاں نہ آتیں۔۔۔ اٹھتے ہوٸے تیز لہجے میں کہا۔
اور۔۔۔ آج۔۔۔ میری۔۔ماں۔۔۔ زندہ ہوتی۔۔۔
کہتے وہ رو دی۔۔
جمیلہ بیگم حیرت سے اسے دیکھتے کھڑی ہوٸیں۔
عناٸشہ۔۔۔ ! ماں ہوں میں تمہاری بیٹا۔۔ لہجہ روندھ سا گیا۔
میری۔۔ ایک ہی ماں۔۔ تھی۔۔ اور وہ اب۔۔ اس دنیا میں نہیں۔۔ رہی۔۔۔ !!
سپاٹ لہجہ میں کہتی وہ جمیلہ بیگم کا دل۔چھلنی کر گٸ۔
یہ۔۔۔یہ۔۔۔ کیا۔۔۔؟؟ میں۔۔ اس کی ماں۔۔۔!!
رونے سے ان کے الفاظ ان کے اندر ہی دم توڑ گٸے۔
آپ۔۔ پریشان نہ ہوں۔ وہ دکھی ہے ابھی۔۔۔!! کچھ دنوں تک خود ٹھیک ہو جاٸے گی۔۔۔
آپ کے اور خود کے رشتے کو سمجھے گی بھی اور تسلیم بھی کرے گی۔۔۔
عناٸشہ کے اسطرح کہہ کے جانے پے زبیدہ خالہ بھی دکھی ہوٸیں۔
لیکن جمیلہ بیگم کو تسلی لازمی دی۔
انہیں یہ عورت ہی عناٸشہ ک محافظ لگ رہی تھی۔
اور ماں سے بڑھ کر بیٹی کے لیے بھلا کون محافظ ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟














دوار ! جو تمنے چاہا ہو گیا۔۔ ناں۔۔ !
اب کیا چاہتے ہو۔۔۔؟؟ سویرا بیگم نے منہ بناتے پوچھا۔
مما۔۔۔! آپ کی دل سے رضا مندی۔۔۔ اس رشتے میں۔۔ !
داور نے لاڈ سے کہا۔
کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔؟؟ اب۔۔۔؟؟ ہو تو گیا جو ہونا تھا۔۔۔ ہمارا کیا حق تم پے۔۔۔؟؟
نروٹھے لہجے میں کہا۔
آپ۔۔کا سارا حق ہے مما۔۔۔! آپ۔۔ میری جنت ہیں۔۔ آپ۔۔ مجھ سے ناراض ہوں۔۔ تو میری خوشہ ادھوری رہ جاٸے گی۔۔۔ آپ جانتی ہیں ناں۔۔۔!!
داور نے ماں کو گلے لگاتے کہا۔
سویرا بی بی بھی ماں تھیں۔ داور کی باتو ں پے انکا دل پگھلنے لگا۔
دوار۔۔۔۔ ! میرے بہت ارمان تھے۔۔۔ طوبیٰ کو لے کے۔۔اسے اپنی بہو بنانے کے۔۔۔ اپنی بہن کے ساتھ۔۔ رشتی جوڑنا چاہتی تھی۔۔۔۔ پر۔تم نے۔۔۔ سارے ارمانوں پے پانی پھیر دیا۔
منہ بناتے دکھی اندازمیں کہا۔
مما۔۔۔! معاف کردیں۔۔ آپ کا دل دکھا کے ۔۔۔ میں کبھی خوش نہیں رہ پاٶں گا۔۔۔ ! اور دادا جی۔۔ کا فیصلہ تھا یہ۔۔ آپ کو پتہ ہے۔ناں۔۔۔!
داور نے اپنا دامن بچانا چاہا۔
بس کرو۔۔۔ رہنے دو۔۔ جیسے مجھے پتہ نہ ہو۔۔۔!!
ایک دن پہلے تمنے اپنی پسند کا اظہار کیا۔ اگلے دن تمہارے دادا جی نے تمہاری پسند پے آمین کہا۔۔۔
تم کیوں انکار کرتے۔۔؟ تمہارے تو دل کی مراد بر آٸی تھی ناں۔۔۔
پیار اور غصے بھرے اور لہجے میں ڈانٹا۔
اچھا۔۔۔ناں۔۔ آپ۔۔تو ماں۔۔ہیں۔۔ ناں۔۔۔۔ ! مان جاٸیں ناں۔۔۔!
داور نے سویرا بیگمکے گلے۔میں بانہیں ڈالتے کہا۔
اچھا اچھا۔۔ بس۔۔مسکے نہ لگاٶ۔۔۔ لیکن ۔۔ایک بات یاد رکھنا۔۔۔ ایک وقت آٸے گا۔۔۔ جب۔میں تمہ سے کوٸی بات کہوں گی۔۔ اور تمہیں وہ ماننی پڑے گی۔۔ بنا کسی سوال و جواب کے۔۔ سمجھے۔۔۔؟
انگلی اٹھاتے وارن کیا۔
میری جان قربان آپ پے۔۔۔۔!! آپ کی ہ بات سر آنکھوں پے۔۔۔
بنا ان کے دل کا راز جانے۔ وہ ہامی بھر گیا۔
اور سویرا بیگم اسی میں خوش ہوگٸیں۔















کتنے گھنٹے گزر گٸےتھے وہ نہیں جانتا تھا۔
بس دیوار کے ساتھ ٹیک لگاٸے دادا جی کے لیے ہی دعا گو تھا۔
اسی اثنا میں ڈاکٹر عرفان آٸی سی یو سے باہر آٸے۔
وہ فوراً سے پہلے ان تک پہنچا۔
کیسے ہیں۔۔۔؟؟ دادا جی۔۔؟
یامین نے ڈاکٹر عرفان کے باہر آتے ہی پوچھا۔
اس نے گھر میں کسی کو کوٸی اطلاع نہیں دی تھی ابھی تک۔ وہ کسی کو بھی پرشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔
جبکہ ہاسپٹل کی سیکیورٹی اس نے بہت سخت کر دی تھی۔ اور اپنے بندے اس نے جو ٹاٸر کیے تھے۔ وہ اس حادثے کا سراغ لگانے میں مصروف تھے۔
اس کے نکاح کا بندوبست بھی ڈاکٹر عرفان نے ہی کیا تھا۔
اپنے جانے والے مولوی صاحب کو بلوایا تھا۔
ڈاکٹر عرفان سے ان کے پرانے مراسم تھے۔
ڈاکٹر عرفان نے گہرا سانس خارج کیا۔
سنا تھا دعاٸیں معجزے دکھا دیتیں ہیں۔۔ آج دیکھ بھی لیا۔۔.
آپریشن کامیاب رہا۔۔۔ 24 گھنٹٕے ان کے لیے بہت اہم ہیں۔۔ ! دعا کرو۔۔ کہ انہیں ہوش آجاٸے۔۔۔!
تسلی بھری تھپکی دی۔
یامین نے بے اختیار آنکھیں بند کرتے اللہ کا شکر ادا کیا۔
دادا جی کے بنا جینے کا تصور بھی محال تھا۔
یامین کے قدم آٸی سی یو کی جانب بڑھے جہاں دادا جی بے ہوش مشینوں میں جکڑے تھے۔انہیں اس حال۔میں دیکھ اسکا دل کٹ سا گیا تھا۔
ان لمحوں میں وہ ہزاروں پل مرا تھا۔
دادا جی کے بنا جینا ایک سوہانِ روح لگ رہا تھا۔۔
لیکن شکر تھا اللہ کا۔۔ اس نے دعاٸیں سن لیں تھیں۔
پلٹ کے ۔۔۔۔
نظروں نے اس دشمنِ جاں کو ڈھونڈا۔
لیکن وہ نظر نہ آٸی۔
پھر یاد آیا وہ prayer room میں گٸ تھی۔ اور وہاں ابھی تک وہیں تھیں۔
قدم۔بے اختیار اس جانب اٹھے۔
دروازے پے جا کے رک گیا۔
وہ جو جاٸے نماز بچھاٸے بیٹھی تھی۔ دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے آنکھیں بند کیے روٸے جا رہی تھی۔
یامین کو اس پے بہت دل کو کچھ ہوا۔
دادا جی کے سب سے زیادہ قریب بھی تو یہی تھی۔
دادا جی کو اگر کچھ بھی ہو جاتا تو سب سے زیادہ تو اسی نے تکلیف اٹھانی تھی۔
اس وقت اور کوٸی نہیں تھا۔
یامین خاموشی سے جوتے اتارتا اس کے پاس دوزانوں جا بیٹھا۔
وہ پری پیکر چہرہ آنسوٶں سے تر تھا۔
یامین نے ہاتھ بڑھا کے اس کے آنسو پونچھے تو اس لمحے اپنے گالوں پے کسی کے ہاتھ اک لمس محسوس کرتے اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔
امید اور حسرت کے ملے جلے تاثرات سے یامین کو دیکھا۔
پوچھنے کی ہمت نہیں جٹا پا رہی تھی۔
ٹھیک ہیں دادا جی۔۔۔! اللہ نے تمہاری دعا سن لی۔۔۔
یامین نے مسکراتے ہوٸے کہا ۔ جبکہ آنکھیں نم تھیں۔
کشش نے بے اختیار زور سے آنکھیں میچیں۔ اور سجدے میں سر جھک گیا۔
اللہ دلوں کے کتنا قریب ہوتا ہے آج۔۔ اسے احساس ہوا تھا۔۔
اور ٹوٹ کے اپنے اللہ پے پیار آیا تھا۔













کس نے مس عناٸشہ کی لیو اپروو کی۔۔۔؟؟
تین دن کے لیے حازق آٶٹ آف کنٹری گیا ہوا تھا۔
اور عناٸشہ تین دن سے کام پے نہیں جار ہی تھی۔
وہ آج ہی لوٹا تھا۔
اور اسے عناٸشہ کی غیر حاضری کا علم ہوا تھا۔اور سخت غصے میں بھرا بیٹھا تھا۔۔
سر۔۔۔! فاٸق سرنے فون کیا تھا۔ اور بتایا تھا کہ وہ کچھ دنوں کے لیے آفس نہیں آٸیں گیں۔
ماجد نے فوراً وضاحت دی۔
اب۔۔ کسی بھی ورکر کو چھٹی اسے دی جاٸے گی۔۔؟؟
تیکھے انداز میں پوچھا۔
سر۔۔۔۔! ان کی والدہ کی ڈیتھ ہوگٸ تھی۔
دھیمے لہجے میں کہا۔
واٹ۔۔۔؟؟ یہ کب ہوا۔۔؟ حازق ایک دم اٹھتے ہوٸے بولا۔
سر تین دن ہی ہوٸے ہیں۔
ٹھیک ہے۔۔۔ تم۔جاٶ۔۔۔!
ماجد کو بھیج کے وہ عناٸشہ کے لیے سوچنے لگا۔
اس کے لیے اسے برا لگ رہا تھا۔
دو بار ملا تھا ان سے ۔۔
ایک دفعہ تن۔۔ جب وہ ناٸشہ کو چھوڑنے گیا تھا۔
اور دوسری دفعہ۔۔ عناٸشہ کو بنا پتہ لگے۔۔ وہ اس کے یونی ٹاٸم میں اس کے گھر گیا تھا۔
جو اب تک راز ہی تھا۔
فون اٹھایا اسے فون کرنے کے لیے۔ لیکن کچھ سوچ کے اٹھا اور کیز اٹھاتا باہر نکلا۔
اسے جانا زیادہ بہتر لگا نا کہ فون کرنا مناسب نہ لگا۔














آپ۔۔یہاں سے چلی جاٸیں۔۔ میں آپ کے ساتھ کہیں نہیں جاٶں گی۔۔!
عناٸشہ نے مضبوط لہجے میں کہا۔
اگر آپ کو ایسا لگتا ہے۔۔ کہ ہاں رہ کے آپ ۔۔مجھے اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو جاٸیں گیں۔۔تو یہ آپ کہ بھول ہے۔۔ مسز شہریار آفریدی۔۔۔۔
میں اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ کے آپ کے ساتھ ہرگز نہیں جاٶں گی۔
اٹل لہجے میں کہتے وہ جمیلہ بیگم کوسکتےمیں ڈال گٸ۔
زبیدہ خالہ نے اے اتنا سمجھایا لہکن وہ ایک ہی ضد لگا کے بیٹھی تھی۔
کہ وہ جمیلہ بیگم سے کوٸی رشتہ نہیں رھنا چاہتی تھی۔
عناٸشہ۔۔۔۔! میں۔۔ تمہاری ماں۔۔ ہوں۔۔ تم۔۔ ایسےکیسے کر سکتی ہو میرے ساتھ۔۔؟؟
جمیلہ بیگم نے دکھی انداز میں کہا۔
مجھ سے امیدیں نہ لگاٸیں۔۔ پلیز۔۔۔ میں آل کی کسی امید پے۔۔پورا نہیں اتروں گی اس لیے مہربانی کریں اور جاٸیں یہاں سے۔۔۔
کرخت لہجے میں کہا۔اور اندر کی جانب بڑھ گٸ۔
سنبھالیں خود کو۔۔۔۔!
کہ پیچھے سے زبیدہ خالہ کی آواز آٸی۔
بے اختیار ہی پیچھے پلٹی۔ جمیلہ بیگم۔کو بے ہوش ہوتا گرتا دیکھ فوراً سے پہلے ان تک پہنچی۔۔
آنکھیں۔۔ کھولیں۔۔! کیا ہوا آپ کو۔۔۔؟؟
عناٸشہ بہت سخت گھبرا گٸ۔
عناٸشہ۔۔! سب تمہاری فضولضد کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ سگھی ماں ہے یہ تمہاری۔۔ کتنا تڑپی ہوگی۔۔۔ اور تم۔۔ آج بھی انہیں خود سے محروم رکھ رہی ہو۔۔؟
ایک ماں کو تو کھو چکی ہو۔۔۔ کیا اب۔۔ ان کو بھی کھونا چاہتی ہو۔۔۔؟؟
زبیدہ خالہ نے نم۔لہجہ میں اس کے ضمیر کو جھنجوڑا۔
نننہں۔۔۔ ! انہیں کچھ نہیں ہوگا۔۔
فوراً زبیدہ خالہ کے سہارے انہیں اٹھاتی بمشکل باہر گاڑی تک لے کے گٸ۔
یہ انکی ہی گاڑی تھی۔جب سے وہ یہاں تھیں۔ وہ ڈراٸیور گاڑی سمیت یہیں تھا۔
شاید اسے آرڈر تھا۔ اس لیے وہ بہت مسعدی سے ڈیوٹی دے رہا تھا۔
کیا ہوا۔۔۔ میڈم کو۔۔۔؟؟
جمیلہ بییگم کو یوں ان کے سہارے باہر آتا دیکھ وہ فوراً لپکا۔
یہ۔۔ے ہوش ہوگٸ ہیں۔۔ ہاسپٹل لے کے جانا ہے۔۔ جلدی کریں۔
عناٸشہ نے بعجلت کہا تو وہ انکی مدد کرتے جمیلہ بیگم کو گاڑی میں ڈالا۔
اور گاڑی کو ہاسپٹل کی جانب موڑا۔
عناٸشہ بھی ساتھ تھی۔ جبکہ زبیدہ خالہ ساتھ نہ گٸیں۔
گاڑی کے جانے کے بعد وہ عناٸشہ کےگھر کو تالا لگار رہی تھیں۔ کہ اسی وقت حازق وہاں پہنچا۔
یہ۔۔ یہاں۔۔ تالا کیوں لگا رہی ہیں۔۔؟؟ عناٸشہ کہاں ہے۔۔؟؟
گاڑی سےاترتے کسی ڈر کے تحت بنا سلامدعا کے فوراً پوچھا۔
بیٹا۔۔ ! عناٸشہ۔۔ ماں کو لے کے ہاسپٹل گٸ ہے۔۔!
زبیدہ خالہ دھیمے لہجے میں بولیں۔
ہاسپٹل۔۔۔؟؟ ماں کولے کے۔۔؟؟ اگر میں غلط نہیں ۔۔تو۔۔ مجھےت یہ بتایا گیا ہے۔۔کہ انکی مدر کی ڈیتھ ہو گٸ ہے۔؟؟
حازق نے حیرانی سے پوچھا۔
ہاں۔۔ بیٹا۔۔۔! عابدہ بہن کی ڈیتھ ہو گٸ ہے۔ بہت اچھی خاتن تھیں۔ لیکن۔۔ وہ عناٸشہ کی۔۔ سگھی ماں نہیں تھیں۔۔ خالہ تھیں۔۔۔
اتنا کہتے انہیں احساس ہوا۔ ساری انفارمیشن دیتی جارہی ہیں۔ پوچھ تو لیں آخر یہ ہے کون۔۔؟؟
وہکچھ پوچھتیں کہ حازق کا موباٸیل بجنے لگا۔ وہ کال اٹھاتا ساٸیڈ پے ہوا۔
کہاں ہو یار۔۔؟ کب سے کال کر رہا تھا۔ فون نہیں اٹھا رہےتھے۔۔۔؟؟
حازق نے فوراً سےیامین کو کہا۔
واٹ۔۔کیا۔۔ کہہ رہے ہو۔۔۔؟ دادا جی کا ایکسیڈینٹ۔۔؟؟ لیکن کیسے۔۔؟؟
یامین کی بات سن اس کا دماغ صحیح معنوں میں گھوما۔
کونسے ہاسپٹل میں۔۔؟
اوکے۔۔میں ۔۔ابھی آتا ہوں۔۔۔! کہتے ہی کال بند کرتا وہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔
وہ یہ تک بھول گیاتھا ۔ کہ وہ عناٸشہ سے ملنے آیا تھا۔
اسے یامین اپنے بھاٸیوں سے بھی بڑھ کے تھا۔
اپنی زات سے بھی زیادہ عزیز تھا۔
زبیدہ خالہ حازق کو جاتا دیکھتی رہ گٸیں۔
جاری ہے۔
