Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 28)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 28)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
تم۔۔ چاروں کو۔۔ شرم ہے یا نہیں۔۔؟
ایک ہی لاٸین میں کھڑا کرتے یامین نے غصے سے بولا۔
اب تو گٸے کام سے ۔۔۔۔! سمیر نے ہلکے سے کہا۔ یامین نے وہ بھی سن کے اسے سخت گھورا۔
کیوں کرتے ہو ہر وہ کام جو۔۔نہیں کرنا چاہیے۔۔۔۔؟؟یامین نے کمر پے ہاتھ باندھے ان سے سختی سے دریافت کیا۔
ہم۔۔نے تو کچھ۔۔ بھی۔۔۔؟؟
چپ۔۔۔۔! خبردار جو ایک لفظ بھی جھوٹ بولا تو۔۔۔ ! انگلی اٹھاتا وہ کشش کو سہما گیا۔ وہ وہیں چپ کر گٸ۔
حد ہوتی ہے ہر بات کی۔۔۔! تم لوگوں کو کیا لگتا ہے۔۔۔؟؟ بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔۔۔؟؟ جانتے بھی ہو۔۔۔ ک سے پنگا لے لیا ہے۔۔۔؟؟ یامین کو رہ رہ کے ان چاروں پے غصہ آرہا تھا۔ خاص کر کشش پے۔
بھاٸی۔۔۔! قسم لے لیں۔۔ میں ان کے پلان میں بالکل شامل نہیں تھا۔میں تو اتفاقاً وہاں چلا گیا۔ مجھے کیا پتہ تھا یہ کیا کارنامہ انجام ینے والے ہیں۔۔ داورنے بھی صاف اپنا دامن بچایا۔جس پے ان تینوں نے دانت کچکچاتے اسے سخت گھوری سے نوازا۔
میں تھک چکا ہوں ۔۔ تم لوگوں کو سمجھا سمجھا کے۔۔ اب میرا صبر بھی ٹوٹ رہا ہے۔۔ لیکن۔۔ےم لوگوں کو سکون نہیں۔۔۔! یامین کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔
دو۔۔پیار کرنے والوں کو ملوانے سے۔۔۔ اللہ خوش ہوتا ہے۔۔۔!کشش کی زبان میں پھر کھجلی ہوٸی۔
اور جھوٹ بولنے والوں سے۔۔؟؟ یامین نے سخت انداز سے پوچھا۔
جو جھوٹ۔۔۔کسی کے بھلے کے لیے ہو۔۔۔ اس کا گناہ۔۔۔؟؟
بھلا۔۔۔۔؟؟ یامین نے اسکی بات کاٹی۔ اور سر جھٹکا۔
روم میں جاٶ کشش۔۔! انداز انتہاٸ سنجیدہ تھا۔ اب مزید وہ اسکی اوٹ پٹانگ باتیں نہیں سن سکتا تھا۔
کشش کی نظر سمیر پے پڑی جس نے نفی میں سر ہلایا۔
پلیز۔۔۔ آپ۔۔ انہثس کچھ نہ کہیں۔۔سارا کیا دھرا میرا ۔۔۔۔!
تمہیں سناٸی نہیں دیا کیاکہا میں نے۔۔۔؟؟یامین نے اسکی بات کاٹی۔ اور غصہ ضبط کرتے وہ قدرے اونچی آواز میں بولا۔ کشش اسکے غصے سے خاٸف ہوٸی۔ اور خاموشی سے روم کی جانب بڑھی۔
کرن کو بھی جانے کا اشارہ کیا ۔ تو وہ بھی شکر کاکلمہ پڑھتی فوراً وہاں سے نکلی۔
سمیر۔۔! یہ تمہاری لاسٹ وارننگ ہے۔۔ لاسٹ مطلب لاسٹ۔۔۔! آج کے بعد کشش کو لے کے تم کہیں نہیں جاٶ گے۔۔ اور نہ ہی کسی بھی الٹے کام میں اسکی مدد کرو گے۔۔ اور اگر۔۔ میری بات کو ہوا میں اڑایا ۔۔ تو اسی دن تمہارا باہر کا ویزا لگوا کے تمہیں ایبراٹ بھیج دوں گا۔۔ اور یہ کرتے ہوٸے مجھے بہت خوشی ہوگی۔
انتہاٸی سنجیہ انداز میں کہتے وہ سمیر کا خون خشک کر گیا۔سبھی جانتے تھے۔ وہ جو کہتا تھا وہ کرتا تھا۔ سمیر کو اسکی ہاں میں ہاں ملاتے بنی اور فوراً وہاں سے نو دو گیارہ ہو گیا۔
داور۔۔۔! میں۔۔ دادا جی سے بات کرتا ہوں۔۔ کہ وہ ۔۔تمہاری اور کرن کی شادی کروادیں ۔۔ تا کہ یہ آپس میں مل کے مزید کوٸی شرارت نہ کریں۔ تم سمجھ رہے ہو ناں۔۔۔ ؟ یامین کو داور سب سے زیادہ سمجھ دار لگتا تھا۔ اس لیے اسے سمجھایا۔ اور اپنے روم میں آیا۔ جہاں کشش منہ بسورے بیٹھی تھی۔ یامین نے اسے دیکھ ایک بار پھر غصہ حاوی ہونے لگا۔ ہر طرف دشمن ہی دشمن تھے۔ اور دوسری طرف یہ لصکی اپنی دشمن خود بنی ہوٸی تھی۔
آج سے تمہارا گھر سے باہرنکلنا بند۔۔۔! کلاٸی سے گھڑی اتارے بنا اسکی طرف دیکھے آرڈر سنایا۔
ایسے کیسے۔۔۔؟ مطلب۔۔کالج بھی بند۔۔۔؟؟ کشش کی آنکھیں چمکیں۔ یامنین نے پلٹ کے اسے دیکھا۔ وہ ہر بات میں اپنے مطلب کی بات نکال لیتی تھی۔
ایک ماہ بعد پیپرز ہیں۔ گھر بیٹھ کے تیاری کرو۔ اور صرف پیپرز کے لیے اب باہر نکلو گی۔ اسکے علاوہ۔۔۔ تم اس گھر کی دہلیز پار کرتی نظر نہ آٶ۔۔ سمجھی۔۔۔! سختی سے ڈانٹا۔ تو کشش نے ٹیڑھے میڑھے منہ بناٸے۔
دہلیز کس نے پار کرنی ہے۔۔۔؟؟مجھے دیوار پے بھی چڑھنا آتا ہے۔۔۔! کشش دل ہی دل میں مخاطب ہوٸی۔
یامین کو اس سے ابھی بھی کچھ بھی اچھے کی امید نہ تھی۔ مزید بنا کچھ کہے وہ موباٸیل پے عادل کے بارے میں ساری انفارمیشن اکھٹی کرنے کی جلیل کو ہدایت دیتا لیٹا۔
آپ۔۔ناں۔۔ مجھے۔۔ بہت زیادہ ڈانٹنے لگے ہیں۔۔ ! جو کہ ایک غلط بات ہے۔۔۔! کشش نے اسکا موڈنارمل دیکھا تو دھیرے سے شکوہ کیا۔
تم۔۔اپنی حرکتوں پے۔۔ ڈانٹ کھاتی ہو۔۔۔! یامین نے بنا دیکھے اسے پھر سے جھڑک دیا۔













یہ دروازہ کیوں لاکڈ ہے۔۔۔؟؟ حازق نے دو تین بار ناب گھومایا لیکن دروازہ نہ کھلا۔ اس کے پاس کیز بھی نہ تھیں کہ وہ دروازہ کھول لیتا۔
عنا۔۔۔۔! عنا۔۔۔۔! دروازہ کھولو۔۔۔! دھیرے سے اسے پکارا۔ جو کان ا منہ دونوں سیے بیٹھی تھی۔
عنا۔۔۔! تم سن رہی ہو۔۔۔؟؟ دروازہ کھولو۔۔۔؟؟ حازق کو غصہ آیا۔
حازق نے پیچھے مڑ کے دیکھا صد شکر کوٸ نہ تھا۔ لیکن۔۔ دروازہ کھولنا۔۔ اس کے بس میں نہ تھا۔ سامنے عناٸشہ تھی۔ ایک بار اگر ضد آگٸ تو وہ پھر کی کی نہثس سنتی تھی۔
اب کیا کروں۔۔ ؟ رات یہیں کھڑے کھڑے گزاروں گا۔۔۔؟؟
ہملامی سے کہا۔
عنا۔۔۔! پلیز۔۔ دروازہ کھولو۔۔۔! اب کی بار تھوڑا منت بھرے انداز میں کہا ۔ وہ گھر میں کسی قسم کو کوٸ تماشا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن عناٸشہ اسکی بات نہ سن رہی تھی نہ مان رہی تھی۔













بس۔۔ ہر وقت ڈانٹ ڈانٹ ڈانٹ۔۔۔! پتہ ہے آپ کو اللہ مجھ سے کتنا خوش ہوں گے۔۔ جب آپ سے کہا۔۔ اپنے دوست کی مدد کریں۔۔ تو آپ نے کی نہیں۔۔ اور جب ہم نے کی تو۔۔۔آپ کو ہضم نہیں ہو رہا۔۔۔۔! یہ آپ کا فرض تھا کہ آپ کرتے ۔۔۔ لیکن مجھےاتنا یقین ہے۔۔۔ آج ۔۔حازق بھاٸی مجھے تو۔۔۔ دعاٸیں ہی دیتےہوں گے۔ پلکیں جھپکاتے پیار بھرے اور میٹھے انداز میں کہتی وہ یامین کو میمراٸز کررہی تھی۔
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
کشش تمہیں اللہ پوچھے۔۔۔ کیا کیا ہے تم نے میرے ساتھ۔۔۔؟؟ اپنے ہی روم سے بے دخل کر دیا گیا۔۔۔ ہوں میں۔۔۔! حازق نے دل ہی دل میں کشش کو مخاطب کیا۔
اور وہیں پے وہ کھڑا سوچتا رہا کہ کیا کرے۔۔۔؟؟ کہ اتنے میں جمیلہ بیگم وہاں آپہنچیں۔
بیٹا۔۔۔؟؟ یہاں کیوں کھڑے ہیں۔۔؟؟ لہجہ میں بہت پیار تھا۔ حازق نے گہرا سانس خارج کیا۔
جی۔۔ بس وہ۔۔۔ جاہی رہا تھا۔۔۔! حاق سر جھکا کے بولا۔
عناٸشہ۔۔۔۔! جمیلہ بیگم۔نے دروازہ کھولنا چاہا لیکن نہ کھلا۔ حازق کو دیکھتے انہوں نے عناٸشہ کو۔پکارا۔ لیک جواب ندارد۔۔۔
عناًشہ۔۔۔ بیٹا۔۔۔؟؟ دروازہ کھولو۔۔۔؟؟ انہوں قدرے اونچی آواز میں پکارا۔ وہ جو منہ سر لپیٹے سونے کی تیاری کر رہی تھی۔ جمیلہ بیگم۔کی آواز پے چونکی۔
اور جلدی سے اٹھتے دروازہ انلاکڈ کیا۔۔
باہر حازق کے ساتھ جمیلہ بیگم کو دیکھ عناٸشہ کو مزید غصہ آگیا۔ اسے یہی لگا کہ حازق نے انہیں بلایا ہے۔
جی۔۔۔۔! دھیرے سے پکارا۔
سب۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔ناں۔۔؟؟ انہوںنے حازق کے ساتھ اندرآتے الجھتے ہوٸے پوچھا۔
جی۔۔۔جی مما۔۔۔۔! عناٸشہ کوشرمندگی سی محسوس ہوٸی۔۔
بیٹا۔۔اگر کوٸی بات ہے یا کوٸی غلط فہمی ہےتو روم۔کے اندر اسے حل کرو۔۔گلے کرو یا شکوے۔۔ لیکن۔۔ روم کے اندر کی بات باہر۔نہیں آنی چاہیے اور یہی سب سے بڑی بات ہوتی ہے۔۔۔اس سے والدین خوش رہتے ہیں۔ اور آپسی جھگڑا بھی ختم ہو جاتا ہے۔۔۔
انہوں نے جو محسوس کیا اس پے سمجھانا بہتر سمجھا۔
جی۔۔۔ !عناٸشہ کا سر ہی نہیں اٹھ رہا تھا۔
جمیلہ بیگم حازق کی جانب بڑھیں۔
بیٹا۔۔۔! آپ میرے بہت سمجھدار بیٹے ہیں۔ مجھے آپ پے یقین ہے۔۔ آپ سب سنبھال لیں گے۔
انہوں نے بہت پیار سے حازق کے ہاتھ تھام کے کہا۔
آپ فکر۔نہ کریں۔ مما۔۔۔! بھروسہ رکھیں۔ حازق نے انہیں اپنا مان دیا۔
جیتے رہو۔۔۔! انہوں نے پیار سے اسکے سر پے ہاتھ پھیرا۔ اور باہر چلیں گٸیں۔ ان کے جانے کے بعد حازق نے آگے بڑھ کے دروازہ لاک کیا۔ اور گہرا سانس خارج کرتا اپنا غصہ کنٹرول کرتا واپس آیا۔
عناٸشہ تھکے ہوٸے انداز میں وہیں بیڈ پے وہیں بیٹھ گٸ۔ اپنا آپ اسے آج بہت ارزاں لگا۔
بہت خوش ہوں گے ناں آج آپ۔۔۔۔؟؟ لہجہ روندھا ہوا تھا۔ حازق چونکا۔
کر لی ناں۔۔ سازش۔۔۔؟؟ لے لی ناں۔۔ کسی اور کی جگہ۔۔۔؟؟ کر دیا ناں۔۔ مجھے رسوا۔۔۔؟؟ آگیا آپ کو سکون۔۔۔؟؟ بدلہ لے کے۔۔۔؟ وہ روتی آنسوٶں سے وہ سر اٹھا کے حازق کو دکھتی درد دباتے ہوٸے بولی۔
تم۔۔۔۔!سمجھتی کیاہو خود کو۔۔۔؟؟ ہاں۔۔ بہت۔۔ زیادہ دکھ ہو رہا ہے۔۔ میرے ساتھ نکاح پے۔۔۔۔؟؟
بازو سے پکڑ کے اسے کھڑا کیا۔حازق جتنا خود کو قابو کرنا چاہ رہا تھا۔ وہ اسے اتنا ہی اکسا رہی تھی۔
کیاغلط کہا میں نے۔۔۔؟؟ عناٸشہ نے بھی اسی انداز میں کہا۔
تم تو غلط کہہ ہی نہیں سکتی۔۔ بہت پارسا ہوناں تم۔۔۔۔! حازق کوبھی اسکی باتوں پے شدید غصہ آیا۔
چھوڑیں میرا ہاتھ۔۔۔! عناٸشہ نے زورزبردستی سے اپنا بازو چھڑوانا چاہا۔ لیکن گرفت مزید مضبوط ہوگٸ۔
یہہاتھ چھوڑنے کے لیے نہیں تھاما ۔۔ اور حازق شمریز کے اندر۔وفا ہے۔۔ بے وفاٸی نہیں۔۔ اس لیے۔۔ چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔
حازق نے ایک ایک لفظ پے زور دیتے کہا۔
عناٸشہ اس کے انداز ہی دیکھتی رہ گٸ۔
کتنے بڑے سازشی ہیں۔۔ آپ۔۔۔؟؟ کسطرح سارا کھیل آپ نے کھیلا۔ ۔۔ اور اپنے حق میں کر لیا۔۔۔ !
عناٸشہ نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے آنسو ضبط کرتے کہا۔
اچھا۔۔۔ تمہیں لگتا ہے۔۔ یہ سب میں نے کیا ہے۔۔۔؟؟ حازق کو اچھنبا ہوا اسکی بات پر۔
لگتا کیا۔۔۔؟؟ آپ ہیں بہت بڑے گیم پلانر۔۔۔! آپ کے علاوہ اور کون کر سکتا ہے۔۔؟؟ عین موقع پے ۔۔۔ عادل کا ۔۔ غاٸب ہونا۔۔اور اسکی جگہ آپ کا آجانا۔۔ یہ۔۔۔سب کیا ہے۔۔۔؟؟ عناٸشہ نے اپنی بات پے زور دیا۔
چلو۔۔۔ ایسے تو ایسے ہی سہی۔۔ تمہیں ایسا لگتا ہےناں۔۔ تو ایسے ہی سہی۔۔۔ میں نے کیا ہے سب۔۔۔ جو کرنا ہے کرلو۔۔۔۔! حازق نے غصے سے عناٸشہ کو بیڈ پے دھکا دیا۔ اور خود پیچھے ہٹا۔ اسے ڈر تھاکہ وہ غصے میں عناٸشہ کے ساتھ کچھ غلط نہ کر۔دے۔
دیکھا۔۔ ناں۔۔ سچ آگیا ناں ۔۔ زبان پے۔۔۔! عناٸشہ کو اسکا انداز سخت برا لگا۔
حازق وہاں سے ہٹ گیا۔ اس نے مزید کچھ بھی بولنا مناسب نہ سمجھا اور کبرڈ سے کپڑے نکالنے لگا۔
سچ کڑوا ہی ہوتا ہے۔۔۔ اور ۔۔آپ۔۔ بہت بڑے جھوٹے ہیں۔۔۔!عناٸشہ اسکے سامنے آتے اسے مزید غصہ دلانے لگی۔
حازق نے اسے دیکھنا بھی گوارا نہ کیا اور باتھ روم میں گھس کے زور سے دروازہ بند کیا۔ کہ ایک لمحے کو وہ بھی سہم گٸ۔
کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔ آپ کو۔۔۔! آنسو پونچھتی وہ سخت افسردہ ہوٸی۔















اب وقت آگیا ہے۔۔ کہ حکم کا اکا سامنے آجاٸے۔۔۔
اس نے سگریٹ کا کش لیتے اس کے مرغولے ہوا میں چھوڑتے کہا۔
اب کیاکرو گی تم۔۔۔؟؟ مدیحہ نے اسکے دماغ میں پلنے والی پلاننگ جاننا چاہی۔
یہ تو اب۔۔ تم دیکھنا ۔۔۔۔ اپنی ماں سے کہنا۔۔ میر حیات سے ایک کروڑ کی رقم کی ڈیمانڈ کی۔۔۔؟؟
بہت مشکل ہے کہ وہ دے۔۔ ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں۔۔ کہاں سے دے گا وہ۔۔۔؟؟خیر مما دیکھ لیں گیں۔۔ ۔۔ تم انکی فکر نہ کرو۔۔اپنی سوچو۔۔۔! مدیحہ کو اسکاحکم چلانا پسند نہ آیا۔
اس نے مدیحہ کوایک گھوری سے نوازا۔
اب ایک ساتھ حملہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔۔۔ اس لیے اب تیار رہو۔۔۔ ! کیونکہ اب وہ مکمل پھس چکے ہیں۔۔
اس نے اپنا پلان بتایا۔تو مدیحہ سوچتے ہوٸے اثبات میں سر ہلایا۔















میں بھی تمہیں دعاٸیں دینا چاہتا ہوں۔۔۔! یامین کالہجہ گھمبیر تھا۔ اسکے قریب ہوتا وہ اسکادل دھڑکا گیا۔
آپ۔۔۔ نے آج۔۔۔ لاٸیٹس نہیں آف کیں۔۔؟ نیند نہیں آرہی آج آپ کو کیا۔۔۔؟؟ کشش نے معصومیت سے پوچھا۔
نہیں۔۔۔ آج۔۔ نیند نہیں آرہی۔۔ یامین نے اسکا ہاتھ تھاما۔ تو اسکی ایک ہارٹ بیٹ مس ہوٸی۔ اور بس اسے دیکھے گٸ۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔؟؟ نظروں کے حصارمیں لیتا وہ اس پے اپنی چاہت کا جادو چلانے لگا۔
آپ۔۔۔۔ مسکرا رہے ہیں۔۔۔؟؟ اور یہ۔۔ آپ کے گال کا گھڑا۔۔
کشش نے اسکے گال کو بہت پیار سے چھوا۔ یامین کو اسکی یہی معصوم حرکتیں دل کو لبھاتی تھیں۔ اور ہاتھ بڑھا کے اسکے بالوں میں ڈالتا وہ بے خود سا ہوا۔ اسکا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتا وہ اسے سکتےمیں ڈال گیا۔ بنا پلک جھپکے وہ اسے دیکھے جارہی تھی۔
یامین نے آنکھیں موندے اسکا ماتھااپنے ماتھے کے ساتھ جوڑا۔ بے اختیار ہی ان لمحوں کے حصار میں وہ قید ہوتی آنکھیں موند گٸ۔
یامین نے آنکھیں موندے اسکے ناک کےساتھ اپنی ناک رب کی۔ تو اسکا دل اچھل کے حلق میں آگیا۔ ۔
وہ لرزنے لگی تھی۔ اسکے لرزنے پے یامین نے ایک دم آنکھیں کھولیں۔ اور خود پے ضبط کرتا وہ پیچھے ہٹا۔۔ اور کشش کابلش کرتا چہرہ دیکھتے محظوظ ہونے لگا۔
کشش شرماتی بھی ہے۔۔۔؟؟ یامین نے مسکراہٹ دباتے اسے کہا۔ تو اس نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں۔
اور فوراً دھڑکتے دل کو سنبھالا۔ زبان تر کی۔
آپ۔۔ ایسے ہی کچھ بھی بولتے ہیں۔۔!لیٹتے ہوٸے نظریں چراتےکہا۔
لاٸیٹ آف کر دیں پلیز۔۔۔۔!یامین کی اپنی طرف تیز نظروں کا حصار محسوس کرتے آج وہ عادت کے برخلاف جارہی تھی۔
یامین نے مسکراہٹ ضبط کرتے لاٸیٹ آف کی اور اچانک سے کشش کا سر تکیہ سے اٹھاتے اپنے سینے پے رکھا۔
صاف صاف کہتی کیوں نہیں۔۔؟؟ کہ سینےپے سر رکھ کے سونا ہے۔۔۔؟؟معنی خیزی سےکہتے وہ کشش کو مسکرانے پے مجبور کر گیا۔ جبکہ اندھیرا ہونے کیوجہ سے یامین اسکی مسکراہٹ تو نہ دیکھ سکا۔ لیکن۔۔ محسوس کرگیا۔ کہ وہ یہی چاہتی تھی۔
جادوگر۔۔۔۔۔!دھیرے سے کہتی اس نے آنکھیں موند لیں۔
جبکہ یامین نے مسکراتے کشش کے گرد اپنا حصار تنگ کیا۔ تو اس نے اور سختی سے آنکھیں میچ لیں۔















نماز فجر کے بعد وہ گیلری میں کھڑی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کو آنکھیں بند کیے اپنے اندر اترتا محسوس کر رہی تھی۔
رات کو حازق تو آرام سے اپنے بستر پے سو گیا۔ بنا اسکی کوٸی پرواہ کیے۔ جبکہ اسکی رات تقریباً جاگتےہی کٹی۔ اور سلگتے۔۔
رہ رہ کے اسے حازق پے غصہ آرہا تھا۔ لیکن۔۔دل پھر بھی اسی کی طرف ہمک رہا تھا۔ اور اس وجہ سے کچھ زیادہ ہی غصہ آیا ہوا تھا۔
اس نے معجزہ چاہا وہ تو ہو گیا۔۔ لیکن ۔۔ وہ پھر بھی خوش نہ تھی۔ اور یہی اسکی ناشکری تھی۔













میں آپ سے کہہ رہی ہوں۔۔ مجھے کالج جان ہے۔۔۔!یامین کے منع کرنے پے وہ صبح سے جاگی اسکا دماغ کھا رہی تھی۔ لیپ ٹاپ پے بیٹھے کچھ ضروری فاٸلز دیکھتےیامین نے نفی میں سر ہلایا۔
میر یامین سکندر۔۔۔!آپ مجھ پے حکم نہیں چلا سکتے۔۔۔!کشش نے گھورتے ہوٸے منہ بنایا۔
میں کیا کر سکتا ہوں کیا نہیں۔۔۔بہت جلد تمہیں پتہ چلا جاٸے گا۔ بنا اسکی طرف دیکھے کام کرتے اسکو دھیرے سے جواب دیا۔
آپ۔۔ نے مجھے نہ جانے دیا۔۔ناں۔۔ تومیں۔۔ دادا جی کو شکایت کر دوں گی۔۔۔۔!انگلیاٹھاتے آخری کوشش کی۔ یامین اسکےتیور دیکھتا لہپ ٹاپ بند کرتا اس کے پاس آیا۔ اور اسکی انگلی کو اپنی انگلی میں قید کیا ۔ اور کھینچ کے اپنے ساتھ لگایا۔وہ ایک دم گھبراٸی۔
دادا جیکو اپنا کل کا کارنامہ بھی سنا دینا۔۔۔ تا کہ انہیں بھی پتہ چلے ۔۔۔ بے جا چھوٹ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔۔۔!ایک آٸی برو اٹھاتے وہ کشش کی آنکھوں مثس اپنا عکس دیکھتا دھیرے سے بولا۔
آپ۔۔۔بہت۔۔برے ہیں۔۔۔! آخری حد اسکی انہی لفظوں پے آکے ختم ہو جاتی تھی۔
میں کتنا برا ہوں۔۔ ابھی تو۔۔ تم جانتی نہیں۔۔۔ جب جان جاٶ گی۔۔ تو کیا ہوگا۔۔۔؟؟یامین نے بظاہر سنجیدگی سے کہا۔ جبکہ آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔
اسے یو نہی چپ چھوڑ وہ آٸینے کے سامنے کھڑا خود پے پرفیوم کی بارش کرنے لگا۔ جبکہ وہ دانت کچکچاتی اسے گھورتی رہی۔ پھر کچھ سوچتی مسکراٸی۔
دیکھیں۔۔!کالج جانے دیں ناں۔۔ آپ۔۔۔ میری تعلیم کا نقصان کریں گے کیا۔۔۔؟؟ آنکھیں جھپکاتی وہ ڈرامہ کر رہی تھی۔
کیسے۔۔ بھیج دوں۔۔۔؟؟ وہاں تم کالج سے کسی اور دو پیار کرنے والوں کو ملوانے نکل جاٶ۔۔۔ تب۔۔۔؟؟؟
یو نو۔۔۔ واٸفی۔۔۔۔!تمہیں ناں۔۔۔ سسی پنوں۔۔ ہیر رانجھا۔۔ سوہنی ماہیوال کے زمانے میں پیدا ہونا چاہیے تھا۔۔۔وہ بھی ایک دوسرے سے مل جاتے تمہاری بدولت۔۔۔ٹھیکہ جو لیا ہوا۔۔ ملوانے کا۔۔۔؟؟یامین نے میٹھا طنز کیا۔
ہاۓ۔۔۔۔ سچی ناں۔۔۔۔؟؟ کشش کی آنکھیں اسبات پے چمکیں۔
کاش ایسا ہوتا تو۔۔۔ سب کوملوا دیتی۔۔۔ لیکن۔۔۔ پھر ایک ۔۔پرابلم ہوجاتی۔۔۔۔ وہ سوچ میں پڑ گٸ۔۔
یامین نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
اگر۔۔ان کو ملوا دیتی تو۔۔۔ وہ پھر مشہور کیسے ہوتے۔۔۔؟؟ ایک آٸی برو اٹھاتے وہ یامین کو لاجواب کر گٸ۔
یامین گہرا خارج کرتے سر نفی میں ہلایا۔ اور اپنی چیزیں اٹھاتا باہر نکلنے لگا۔
اچھا۔۔سنیں ناں۔۔۔؟؟ اگر کالج نہیں جانے دینا ۔۔ تو۔۔ اپنے ساتھ لےجاٸی۔۔ میں گھر۔۔ بور ہوجاٶں گی ناں۔۔۔! نیا آٸیڈیا نکالا۔ یامین کے قدم رکے۔
تمہیں۔۔ میں ۔۔ ہوٹل لے جاٶں۔۔۔؟؟ تو ہوٹل والوں کو کہاں بھیجوں۔۔۔؟؟بہت مزے سے پوچھتا وہ کشش کو سلگا ہی گیا۔
آپ ناں۔۔ بہت۔۔ غلط کر رہے ہیں۔۔ کہتے وہ باہر نکلی۔
اب کہاں۔۔ جا رہی ہو۔۔۔؟؟پیچھے جاتے اس سے پوچھا۔
دادا جی اسے آپ کی شکایت کرنے۔۔ پلٹ کے جواب دیتی اسکا سر یامین کے سینے سے ٹکرایا۔
اف اللہ ۔۔۔! مارنے کا ارادہ ہے۔۔۔؟؟ مجھ معصوم کو۔۔۔؟؟سر پے ہاتھ ملتے وہ منہ بنا کے بولی۔
ہاں۔۔ جان سے مارنے کا۔۔۔ !! یامین نے اسکے کان کے قریب ہوتے گھمبیر آواز میں کہا۔ اور آگے بڑھ گیا۔ جبکہ وہ اسکے پیچھے ہی بھاگی۔ تا کہ دادا جیکو کہہ کے اپنی یامین کے ساتھ جانےکی راہ ہموار کر سکے۔














حازق آٸینے کے ساانے کھڑا تیار ہوتا عناٸشہ کو یکسر نظر انداز کر چکا تھا۔ اور یہی بات عناٸشہ کو مزید غصہ دلا رہی تھی۔ کہاں تو وہ پیار نچھاور کرنے والا اور کہاں آج ۔۔ لاپرواہ بنا۔۔
مما کے ساانے کوٸی ڈرامہ کری ایٹ مت کرنا۔۔۔! موباٸیل اٹھاتے بنا اسکی طرف دیکھے کہا۔
آپ سے بڑا کوٸی ڈرامہ باز ہے۔۔۔؟عناٸشہ نے اسکی طرف مڑتے طنز سے کہا۔
ہاں۔۔ ہےناں۔۔آٸینہ دیکھو۔۔ پتہ چل جاٸے گا۔۔۔! برجستہ کہتا وہ عناٸشہ کو تپا گیا۔
آپ۔۔ خود بہت بڑے۔۔۔۔!انگلی اٹھاتی وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں مزید پھیلاتے اسکے پاس آٸی۔ حازق نے ایک جھٹکے سے اسے کمر سے پکڑ ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ لگایا۔
مسز۔۔۔!بہت لحاظ کر لیا۔۔مزید۔۔ مجھے مت اکساٸیں۔۔ ورنہ۔۔مجھے ابھی جانتی نہیں۔۔ !اسکے قریب ہوتا وہ اسکی کان کی لو کو چھوتا اسے سمٹنے پے مجبور کر گیا۔ دل اسکا ایک سو بیس کی رفتار سے دوڑنے لگا۔
آٸندہ مجھ سے اس ناداز میں بات کی تو۔۔۔؟؟
تو تو ۔۔کیا۔۔کیا کریں گے۔۔۔آپ۔۔؟؟ اسکی آنکھو ںمیں غصہ سے جھانکا۔ جہاں عناٸشہ کو صرف اپنا ہی عکس نظر آیا۔
حازق اسکے یوں مقابل آنےپے سیخ پا ہوگیا۔ اور ایک دم سے اسکے ہونٹوں پے جھکا اسکی بولتی بند کر گیا۔ وہ بے آپ ماہی کی طرح جھٹ پٹاٸی۔ لیکن حازق کی مزید پیش قدمی پے وہ تھم گٸ۔ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔ اسکا ہچکیوں سے رونا محسوس کرتا حازق پیچھے ہٹا۔۔
بس۔۔۔! اتنی سی ہی سکت تھی۔۔۔؟؟ ابھی سے یہ حال ہے۔۔۔اور دھمکیاں۔۔ تو دیکھو۔۔۔! پیچھے ہوتا وہ اسے دونوں ہاتھوں سے کمر سے تھامے اپنی بانہوں میں لیے کھڑا تھا۔ اسکی قربت حازق کو بہکا رہی تھی۔
ہاتھوں کی پشت سے اپنے آنسو صاف کرتی شکوہ کناں نظر حازق پے ڈالی۔
ایسے مت دیکھو۔۔۔ ایسے کر کے تم۔مجھے پھر سے اکسا رہی ہو۔۔۔!اسکے چہرے کے پاس چہرہ کرتا وہ اسے نظریں طجھکانے پے مجبور کر گیا۔
گڈ۔۔۔!چلو۔۔۔مما۔ویٹ کر رہی ہوں گیں۔۔اسے ساتھ لیے وہ بہت وقارانہ۔انداز میں چلتا باہر آیا۔ جہاں سبھی انکیراہ دیکھتے ناشتے پے انکاویٹ کر رہے تھے۔
سبھی بہت پیار سے ملے۔ عناٸشہ نے بھیجھوٹی مسکان چہرے پے سجاٸے وہیں ایک کرسی پے بیٹھ گٸ۔
جمیلہ بیگم دونوں کو ہی انکی ناشتہ سرو کرہی تھیں۔ اور انکو ایک ساتھ دیکھ بہت زیادہ خوش تھیں
حازق۔۔۔! یہ رہا آپ کا اور عناٸشہ کا شادی کا گفٹ۔۔۔!
ایک انولیپ حازق کی طرف بڑھایا۔ جسے حازق نے بہت پیار سے تھاما۔ اس میں دبٸ کے ٹکٹس دیکھتے وہ گنگ رہ گیا۔
یہ۔۔یہ سب کب کیا آپ نے۔۔۔؟؟ اتنی جلدی۔۔۔ بھیکیا تھی۔۔ بابا۔۔۔؟؟
باپ ہوں تم دونوں کا۔۔ میں نہیں۔۔کروں گا تو کون کرے گا۔۔؟ بہت پیار سے کہا تھا شہریار صاحب نے۔ حازق نے ایک ترچھی نظر سر جھکاٸے عناٸشہ پے ڈال اور مسکراتےہوٸے اینولپ وہیں ساٸیڈ پے رکھ دیا
تھینک یو بابا۔۔۔! حازق بہت ممنون ہوا۔
بیٹا۔۔! شادی جیسے بھی حالات میں ہوٸی ہو۔۔۔لیکن۔۔ آج شام آپ کا ریسیپشن ہوگا۔۔ تو انتظامات کرلیں۔۔! انہوں نے اٹھتے ہوٸے ایک اور الٹی میٹم دیا۔ تو حازق اندر ہی اندر بہت محظوظ ہوا۔
جیو۔۔بابا۔۔۔! دل ہی دل۔میں وہ ان سے مخاطب ہوا۔ جبکہ رناٸشہ کی غیرمعمولی خاموشی جمیلہ بیگمکو کھٹکی۔















اپنی بات دادا جی سے منوا کے وہ یامین کے ساتھ آتو گٸ تھی۔ لیکن یامین پریشان تھا۔ کیونکہ دادا جی نے آج زمینوں پے جانے کا بولا تھا۔ اور وہ انکو لے کے کوٸی رسک مزید نہیں لینا چاہتا تھا۔ اپنے دو قابلِ اعتبار گارڈز کو ساتھ روانہ کیا۔
اور خود بھی رابطے میں رہنے کا ارادہ کیا۔
دسوری طرف فون پے دادا جی کے گھر سے نکلنے کی اطلاع مل گٸ تھی۔
زبردست۔۔۔! اسی گھڑی کا تو انتظار تھا۔ اب آٸے گا۔۔۔مزہ۔۔۔۔! اب مجھے اس گھر میں انٹر ہونے سے کوٸی نہیں روک سکتا ۔۔۔ جسٹ اینڈ واچ ماٸی ہبی۔۔۔۔! آٸی ایم کمنگ۔۔۔۔! وہ شاطرانہ انداز سے مسکراٸی۔
