Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 15)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 15)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
کیسی ڈیل۔۔؟؟
یامین نے اسکے چہرے کے اتار چڑھاٶ دیکھتے بھنوٸیں اچکاٸیں۔
ہممم۔۔۔۔ راستے میں بات کریں۔۔۔؟؟ آپ کو دیر ہ ہوجاٸے ناں۔۔؟؟
شیریں زبان۔۔۔۔ یامین کو اس کے انداز سے گڑ بڑ لگی۔
اوکے۔۔۔۔ آجاٶ۔۔۔! خود گاڑی میں بیٹھتے اسے بھی دعوت دی۔
تو جھٹ سے مسکراتی ساتھ بیٹھ گٸ۔
واہ۔۔ ایک اور چانس۔۔۔!
مزے سے بیٹھتی گاڑی کو سراہتے وہ زیرِلب بولی۔ گاڑی۔۔۔ تو بڑی ہی فٹ رکھی ہے آپ نے۔۔۔!
تعریف کر ہی دی۔
یامین کو محسوس ہوا وہ۔۔ آج کچھ مسکا لگا کے کوٸی بات منوانے کے چکر میں ہے۔
ڈراٸیور نے گاڑی روڈ پے ڈال دی۔
تھوڑی دیر خاموشی کے بعد یامین نے خاموشی توڑی
کیا ڈیل لے کے آٸی تھی۔۔۔میرے پاس۔۔۔؟؟
کشش کی جانب مڑتے بہت سہولت سے دریافت کیا۔
دیکھیں۔۔۔! یہ شادی۔۔ نہ آپ چاہتے ہیں۔ نہ میں۔۔۔ تو کیوں نہ ہم۔۔۔ ہاتھ ملا لیں۔۔۔؟؟
ایک آٸی بر اچکاتے وہ بہت سمجھداری کا ثبوت دے رہی تھی۔
تم سے کس نے کہا۔۔ کہ ۔۔میں یہ شادی نہیں چاہتا۔۔۔؟؟
یامین نے بھرپور سنجیدہ انداز میں پوچھا۔
میں نے آپ کی اور دادا جی کی باتیں سن لیں تھیں۔۔۔
کشش نے ایسے بتایا جیسے بہت بڑا معرکہ سر انجام دیا ہو۔
ہمممم۔۔۔۔ مجھے پہلے ہی آٸیڈیا تھا۔۔۔
یامین بڑبڑایا۔
اب بتاٸیں ناں۔۔۔ ! مل کے کوٸی چکر چلاتے ہیں۔۔ کہ Snake بھی مر جاٸے اور axe بھی نہ ٹوٹے۔
بہت خوشی اور امید سے کہا۔
مسز۔۔۔ کشش یامین سکندر۔۔! ایک بات آج آپ غورسے سن لیں۔ رخصتی تو آپ کی کل ہی ہو گی۔۔۔
اور وہ بھی دادا جی کی خواہش کے مطابق بہت دھوم دھام سے۔۔ اس لیے۔۔ اپنے دماغ سے یہ فتور نکال دیں۔۔اور۔۔ تیاری کریں۔۔
یامین نے اکا۔دماغ بہت اچھے سے ٹھکانے لگایا۔
آ۔۔۔۔آپ۔۔۔ مذاق کررہے ہیں۔۔۔ ناں۔۔۔؟؟
منمناتے ہوٸے پوچھا۔
ہر گز نہیں۔۔۔۔! رخصتی دادا جی کی خواہش ہے۔۔ اور انکی خواہش میرے لیے محترم۔۔۔!
بہت سنجیدہ انداز میں کہا۔
یہ۔۔ تو۔۔۔ زیادتی ہے۔ناں۔۔۔!! میں تو ابھیپیدا بھی نہیں ہوٸی۔۔۔۔۔ اور شادی۔۔۔!
ماتھے کے چھوٹے چھوٹے بل یامین کو بہت بھاٸے۔
کیا مطلب۔۔۔اس بات کا۔۔۔؟؟
یامین کو اسکی بات بالکل۔سمجھ نہیں آٸی۔
دیکھیں ناں۔۔ سیانے کہتے ہیں ناں۔۔
کہ جنےلاہور نہی دیکھیا ۔۔۔ ااوہ۔۔ جمیا نہیں۔۔۔
تو میں نے بھی تو نہیں دیکھا۔۔۔۔ اور۔۔۔ ابھی مجھے۔۔۔ ورلڈ ٹورپے جانا ہے۔۔۔ میرے اتنے زہادہ خواب ہیں۔۔ ان کا کیا ہو گا۔۔۔؟؟
بہت دکھ سمویا تھا لہجےمیں۔۔۔
گاڑی کشش کے گیٹ کے سامنے رکی۔
تمہارے چھوٹے بڑے سب۔۔۔۔۔ چاہ۔۔۔اب میں پورے کروں گا۔۔۔۔ ! تم۔۔ بس۔۔ کالج سے چھٹیاں لے لو۔۔
آرڈر یتے وہ ساممے دہکھنےلگا۔
ایویں چھٹیاں لے لو۔۔۔۔! کاپی کیا۔
تو یامین نے اسے گھورا۔
پلیز۔۔۔۔ ! بات کو سمجھیں ناں۔۔۔! میں نے ۔۔ابھیشادی نہیں کرنی۔۔۔۔ اب کی بار منت کی۔
کشش۔۔۔! شادی ہو چکی ہے۔
اب بس رخصتی ہے۔۔۔ اور کوٸی بکھیڑا کھڑا مت کرنا۔۔۔ یامین اسکی طرف جھککے قریب ہوتا سرگوشی میں بولا۔۔
کہ اسکی دھڑکنوں نے شور مچایا۔
آپ۔۔۔ناں۔۔ بہت۔برے ہیں۔۔۔ میں ناں۔۔۔ دیکھنا۔۔۔ اب کیا کرتی ہوں۔۔!!
گاڑی کا دروازہ کھولتے وہ منہ بنا کے بولتی نیچے اتر گٸ۔
یامین مسکراتے اسے جاتا دیکھتا رہ گیا۔














کھانے کی ٹیبل پے سبھی موجود تھے۔ اور ہلکی پھلکی اتیں کر رہے تھے۔
عناٸشہ سیڑھیاں اترتی نیچے آٸی۔
اسے دیکھتے ہی سبھی خاموش ہوگٸے۔
اس بات کوناٸشہ نے دل سے محسوس کیا۔
ارے عناٸشہ۔۔۔! بیٹا۔۔۔! کھانا کھاٶ۔۔۔ یہ راٸس لو۔۔۔!
جمیلہبیگم۔نے بہت پیار سے پیش کیا۔
عناٸشہ نے دھیمی مسکان سے ٹرے لی۔
شہریار صاحب کھانا ختم۔کرتے اٹھ کھڑے ہوٸے۔
اور سب کو گڈ ناٸیٹ کہتے اندر کی جانب بڑھ گٸے۔
دانی اور ہانیہ نے بھی آکھوں ہیآنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارہ کیا۔ اور وہ بھی دونوں اٹھ کے چلے گٸے۔
اور اس بات کوکھانا کھاتے حازق نے بھی نوٹ کیا۔لیکن خاموش رہا۔
لگتا ہے۔۔۔ میرا یہاں آنا۔۔۔کسی کو ا۔۔۔۔اچھا۔۔نہیں لگا۔۔۔!
عناٸشہ کا لہجہ روندھ گیا۔
ارے۔۔نہیں۔۔ بیٹا۔۔۔! ایسی بات نہیں۔۔۔ خوامخواہ وہم۔نہ پالو۔۔۔۔۔ ان کا کھانا فنش ہو گیاتھا۔۔ اس لیے۔۔۔۔
جمیلہ بیگم نے کھوکلی دلیل دی۔
تم۔کھانا کھاٶ۔۔۔!
اس کے آگے پلیٹ رکھی۔
ناٸشہ ے ایک نظر نیپکن سے منہ صاف کرتے حازق کودیکھا۔
جس نے اسکی موجودگی کو یکس نظر انداز کر دیا تھا۔ اتنی دیر میں وہ بھی اٹھ کے چلا گیا۔
عناٸشہ کو لگا جیسے اسکا دل کہیں اس سے دغا کر گیا ہو۔۔۔
آپ کومجے ۔۔یہاں نہیں لانا چاہیے تھا۔۔۔!
پلیٹ میں چمچ ہلاتے وہ دھیمے اور دکھی لہجے میں بولی۔
عناٸشہ۔۔۔! سب کو تمہیں۔۔ ایکسپکٹ کرتے۔۔ تھوڑا وقت لگے گا۔۔۔! لیکن یقینمانو۔۔ بیٹا۔۔۔! یہہاں سب۔۔ہی بہت اچھے ہیں۔۔ اور آپ کے اپنے۔۔۔!
اسے بہت پیار سے سمجھایا۔
ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔۔؟
ان کی طرف دیکھتےکہا۔ تو انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
جتنیتڑپ آپ میں تھی۔۔ مجھے پانے کی۔۔۔ اتنی۔۔۔ ان۔۔۔ میں نظرنہیں آٸی۔۔۔؟؟
وہ چاہ کے بھی شہریار کے لیے باپ کا لفظ استعمال نہ کر سکی۔
اس بات پے جمیلہ بیگمکی نظریں جھک گیٸں۔
کیونکہ یہی تو سچ تھا۔۔۔
وہ کبھی بھی نہیں تڑپےتھے۔۔۔
بیٹا۔۔۔! وقت پے چھو ڑدو سب۔۔۔ سب وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جاٸے گا۔۔۔
انہوں نے بات کو ٹالا۔۔۔
آپ کھانا کھاٸیں۔۔۔!
انہوں نے بات کو پس پشت ڈال دیا۔
عناٸشہنے بھی زیادہ زور نہ دیا۔
اسکا ارادو بھی یہا ں مسلسل رہنے کا نہیں تھا۔۔
اس نے سوچ لیا تھا۔۔ کہ بہت جلد یہاں سے چلی جاٸے گی۔
بھلے۔۔ یہ اسکے حقیقی ماں باپ ہیں۔۔ لیکن۔۔ وہ محبت جو ایک بچے کو چاہیے ہوتی ہے۔وہ اسے اپنے امی ابو سے ہی ملی تھی۔
اور اسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکتی تھی۔














آپ سب کو یہاں اس لیے اکھٹا کیا۔ کہ ایک ضروری بات آپ سب کے گوش گزارنی تھی۔
دادا جی نے سبھی کو رات کے کھانے کے بعد ہالمیں اکھٹا ہونے کوکہا۔
عزیز صاحب ابھیتک واپس نہیں لوٹے تھے۔ انکاکام پنجاب میں زیافہ بڑھ گیا تھا۔
حیات صاحب بھی ان دنوں اپنے کام میں بزی تھے۔ گھر بھر سے انکا دھیان بھی ہٹا ہوا تھا۔
لیکن آج دادا جی کے یوں بلاوے پے ان کے کان بھی کھڑے ہوٸے۔
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں۔۔ کل۔۔ہماری شہزادی۔۔ کی سالگرہ ہے۔۔۔ کشش جو پاس ہی بیٹھی تھی اسے پیار کیا۔ اس کا سر جھک گیا۔ اور چہرہ پے مصنوعی مسکراہٹ سجا لی۔
تو ہم۔۔ اسے یاد گار بنانا چاہتے ہیں۔۔
اس لیے۔۔کل ہی۔۔ داور اور کرن کانکاح ہو گا۔۔۔
اور۔۔۔ ہمارے یامین کی شادی بھی ہوگی۔۔۔۔!!
کیا۔۔۔؟؟ یہ۔کیا کہہ۔۔۔ رہے آپ۔۔؟؟
سویرا بیگم کو جیسے پتنگے لگ گٸے۔
کیا ہوا بہو۔۔۔؟؟ کس بات پے اعتراض ہے۔۔۔؟؟
تھوڑا تیکھے انداز میں پوچھا۔۔
نہیں۔۔۔ مرا مطلب۔۔۔ اتنی جلدی۔۔۔سب۔۔۔؟؟ کیسے ہوگا۔۔؟؟
کن اکھیوں سے حیات صاحب کو دیکھا۔ کہ وہ بھی کچھ بولیں۔
انتظامات کی فکرکوٸی نہ کرے۔۔
سارا فنکشن التاج ہوٹل میں ہوگا۔۔ اور یامین پتر دیکھ لے گا۔
آپ سب اپنے اپنے گیسٹ کی لسٹ بنالیں۔ اور انوٸیٹکر دیں۔
دادا جی مسٸلہ سالوکیا۔
لیکن۔۔۔ یامین کی شادی کاآپ نے بتا دیا۔۔۔ لگے ہاتھ۔۔ لڑکی بھی بتا دیں۔۔؟؟ حیات صاحب نے تھوڑا کھردرے انداز میں۔ کبولے
بے فکر رہو۔۔ برخوردار۔۔۔! لڑکی بہت نیک اور شریف ہے۔۔۔اور یہ۔۔۔سب کے لیے سرپراٸز ہے۔۔۔!
نیک تو ہے۔۔۔ لیکن شریف۔۔۔؟؟ دادا جی سوچ کے بولیں۔۔۔
یامین دل ہی دل میں بولا۔
جبکہ کشش منہ بسو ر کے بیٹھی تھی۔
چلو۔۔۔ جی۔۔ اب تیاریاں شروع کرو۔۔ اور ہاں۔۔ عالیہ بہو۔۔ عزیز کو کہہ دو۔۔ بیٹی۔۔کے نکاح میں شامل ہو نا ہے تو کل شادی ہال پہنچ جاٸے۔
ورنہ بعد میں وٸی گلہ شکوہ نہ کرے۔
داداجی نے لگے ہاتھ ان کی بھی کلاس لے لی۔
بابا جی۔۔۔! ایک بات نہیں سمجھ آٸیی۔۔! یہ۔۔۔ سب اتنی جلدی جلدی۔۔۔ کیوں کر رہے ہیں آپ۔۔۔؟؟ ابھیآپ کی طبعیت بھی نہیں سنبھلی اور آپ۔۔۔۔؟؟
حیات صاحب نے پینترا بدلا۔
برخوردار۔۔۔! میں۔۔ اب اور رسک نہیں لے سکتا۔۔اپنی جان کا۔۔۔!! کیا بھروسہ۔۔۔ آج بچ گیا ہوں۔۔۔ کل کو نہ بچوں۔۔؟؟
داداجی۔۔۔! کیسی باتیں کر رہے ہیں۔۔۔؟؟
کشش تڑپ ہی تو گٸ۔۔۔! یامی بھی ان کے پاس آکے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
داٸیں طرف داوراور باٸیں طرف سمیر کھڑے ہوٸے۔
دادا جی۔۔۔!میرے ہوتے آپ کو کبھ کچھ نہیں ہو گا۔۔۔! یقین بھرے لہجے میں کہا۔
یامین کے لہجے میں عزم اور دکھ دونوں تھے۔
دادا جی۔۔! اللہ نے آپ کو ہمیں واپس لوٹایا۔۔ ہے۔۔ آپ۔۔ اسی باتیں نہ کریں ناں۔۔ پلیز۔۔۔!
داو ن بھی ان کے ہاتھ تھامے۔۔
دادا جی کی آنکھثس نم۔ہوگٸیں۔
جس دادا کے تم جیسے پوتے پتیاں ہوں۔۔ وہ ساری زندگی جوان ہی رہتے ہیں۔۔۔
انہوںنے مسکراتے بات کو ہنس کے ٹالا۔
کشش نے اپنی بانہیں ان کے گرد حاٸل۔کیں۔
اپنے داد جی کے لیے وہ تو جان بھی دے سکتی تھی ۔ تو رخصتی کیا چیز تھی۔












اسٹاف کے اہم ممبرز کو اکھٹا کرتے حازق یامین کے گھر کے فنکشن کے بارےمیں بریگنگ دے رہا تھا۔
اور عناٸشہ کا پن سپیڈ سے چلتا جا رہا تھا۔ وہ سارے اہم پواٸنٹ نوٹ کر رہی تھی۔
فنکشن بہت بڑے پیمانے پے تھا۔
عناٸشہ کی غیر حاضری میں ہی کافی کام ہو چکا تھا۔
بس اس کے حصے کا کچھ کام پینڈنگ تھا۔
جو اسے دیکھنا تھا۔
لکھتےلکھتے عناٸشہ رکی۔ اس کے پن کی اینک ختم ہو گٸ۔ لیکن حازق کا بولنا جاری رہا۔
عناٸشہ نے ادھر ادھر پن کی تلاش میں نظریں دوڑاٸیں۔
کہیں نظر نہ آیا۔ سواٸے ایک جگہ کے۔۔۔
اور فوراً آگے بڑھ کے حازق کی فرنٹ پاکٹ سے پن نکال لکھنا شروع کیا۔
حازق کیا سبھیکینظریں اسکی اس حرکت پے اسکی طرف اٹھیں۔ لیکن اس نے بنا کسی کی طرف دیکھے لکھنا جاری رکھا۔
حازق بریگنگ مکمل۔کر کے سب کو جانے کا بولا۔
مس عناٸشہ یو سٹے ہیٸر۔۔
عناٸشہ کے جاتے قدم رکے۔
جی سر۔۔۔!بہت معصوم انداز تھا۔
حازق ایک آٸی برو اوپر اٹھاتا ادکا انداز ملاحظہ کر رہا تھا۔
آپ کوپتہ ہے۔۔ آپ نے ابھی کیا حرکت کی ہے۔۔۔؟
تیکھے انداز سے طنز کیا۔۔
جی۔۔۔ پن میں۔۔ انک ختم ہوگٸی تھی۔۔ تو۔۔۔؟؟
دھیمے لہجے میں جواب دیا۔
وہ میرا مسٸلہ نہیں۔۔
لیکن۔۔ آپ کو کس نے حق دیا۔۔؟ یہاں تک پہنچنے کا۔۔؟؟
وہ غصے سے کھڑا ہوا۔
عناٸشہ نے لب بھینچے اور خاموش رہی۔
کچھ پوچھا ہے آپ سے۔۔؟؟
وہ اس کے قریب آیا۔ تو عناٸشہ اتنے قدم پیچھے ہٹی۔ بنا اسکی طرف دیکھے۔
آپپپ۔۔۔ ہی لکھوا رہے۔۔ تھے۔۔ آ پ کا۔۔ہی مٸسلہ ۔۔۔ ہے۔۔یہ۔۔ بھی۔۔۔۔!ادھر ادھر نظرثس گھماتے اسے جو منہ میں آیا بول دیا۔
لگتا ہے دماغ ٹھکانے نہیں۔۔! ٹھکانے لگانا پڑے گا۔
جارحانہنانداز مثس اسکے مزید قریب ہوا۔
کہ اسکے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوٸیں۔
دماغ تو ٹھکانے۔۔ہے۔۔۔ دل۔۔ ٹھکانے پے نہیں۔۔۔
اسکی آنکھوں میں دیکھتے دھیمےلہجے میں کہا۔
وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کیا بول گٸ ہے۔ حازق اسکی اس بات پے بری طرح چونکا اور بے اختیار اسے دیکھے گیا۔













بہت غلط ہو رہا ہے یہ سب۔۔!
می پپ سے کہہ رہی ہوں۔۔ ابھی بھی وقت ہے کچھ بول لیں۔۔
سویرا بیگم نے اکسایا۔
جبکہ وہ ابھی بھی چپ ہی بیٹھے تھے۔
ان کا بزنس ڈوب رہا تھا۔ وہ خالی ہاتھ ہورہے تھے۔ اور یہ بات وہ کسی سے نہیں کہہ پارہے تھے۔
انہیں پیسوں کی اشد ضرورت تھی۔
اور کوٸی نہیں تھا۔ جو ان کی مدد کرتا۔ انہیں۔۔ دادا جی کےکسی فیصلے سے کوٸی غرض نہیں تھی۔ وہ بس بزنس کو دوبارہ اسٹیبلش کرنا چاہتے تھے۔ اور اسی کی پلاننگ کررہے تھے۔
حیات صاحب کی خاموشی پے سویرا بیگم۔پاٶں پٹختی باہر نکل گٸیں۔











کیا ہوا امی۔۔۔؟آپ کیوں پریشان ہیں۔۔؟؟
صبح سے وہ کوٸی بس کالز کرچکی تھیں۔ لین عزیز صاحب ہر بار بزی ہوں۔۔ بعد میں بات کرتا ہوں کہہ کے ٹال ریتے۔
کچھ نہیں ۔۔ تمہارے بابا کوکال کر رہی ہوں۔۔
کل۔نکاح ہے۔۔ تمہارا۔۔ اور وہی نہیں۔ ہوں گے۔۔
عالیہ بیگم دکھی ہوٸیں۔
مما پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہوجاٸے گا۔۔وہ بزی ہوں۔۔ گے۔۔!
کرن نے دلاسہ دیا۔ عالی بیگم خاموش ہوگٸیں۔لیکن دل کسی انہونی سے ڈر رہا تھا۔
