Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 25)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 25)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
رابطے حد سے بڑھ جاٸیں تو غم ملتےہیں۔
اسلیے ہم بھی اب ہرشخص سے کم ملتے ہیں۔
یامین کے جانے کے بعد کشش چپکے سے حازق کے پاس آٸی۔
آپ۔۔۔؟؟ وہ جو اپنی سوچوں میں غرق تھا۔ کشش کو دیکھ کے ٹھٹھکا۔
جی۔۔۔میں۔۔ آپ کی بھابھی۔۔۔ مسز کشش یامین سکندر۔۔ کشش نے اپنا تعارف کروایا۔
جی جانتا ہوں۔۔ حازق کے چہرے پے چھوٹی سی سماٸیل آگٸ۔
ویسے آپ کے دوست۔۔۔ ہیں۔۔ بڑے۔۔کھڑوس ناں۔۔ خو شادی کر لی۔۔ اور دوست۔۔ کو پوچھا بھی نہیں۔۔کہ بھٸ۔۔ تم بھی کر لو۔۔۔ ! بوڑھے ہو جاٶ گے۔۔۔
کشش اپنا شروع کر چکی تھی۔ حازق اسکی نیچر سےکافی حد تک واقف تھا۔ اسلیے بس مسکرا کے رہ گیا۔
ویسے۔۔ آپ۔۔ کا ایکسیڈینٹ کیسے ہوا۔۔؟
کشش نے اسے چپ دیکھ کے سوال کیا۔
گاڑی ۔۔۔ بے قابو ہوگٸ۔۔ ! مختصر جواب دیا۔
جب دلبے قابو ہو جاٸے تو ایسے چھوٹے موٹے حادثات ہو ہی جاتےہیں۔
کشش نے اسے تسلی دی۔
کشش کی بات پے وہ بھونچکا رہ گیا۔
اچھا۔۔۔۔ ایک بات بتاٸیں۔ ۔۔ وہ ہے۔۔کون۔۔؟؟ بہت مے سے وہ چیٸر پے بیٹھتے اب انٹرویو لینے لگی۔
کون۔۔؟؟ مطلب۔۔۔؟؟ حازق ناسمجھی سے بولا۔
وہی۔۔۔ جس نے ۔۔۔! اچھا چھوڑیں یہ سب۔۔۔۔ یہ بتاٸیں۔ پانا چاہتے ہیں اسے۔۔۔؟
راز داری سے پوچھا۔
آپ۔۔۔ کیا کریں گیں۔۔؟؟ حازق کو اسکی بات کچھ حد تک دل پے لگی۔
وہ آپ مجھ پے چھوڑ دیں۔ لیکن۔۔ یقین رکھیں۔ ملوا دوں گی آپ کو اس سے۔۔ لیکن ۔۔۔ بس ایکبات۔۔یادرھیے گا۔۔ محبت امتحان لیتی ہے۔۔ اور اگر آپ امتحان میں فیل ہو گٸے۔۔ تو۔۔ محبت کو کھو دیں گے۔۔ اللہ پے بھروسہ رکھیں۔ جیسا کہ آپ کے دوست نے کہا۔۔۔
اٹھتے ہی وہ بہت سنجیگی سے بولی۔
لیکن۔۔۔۔؟؟؟ حازق نے کچھ کہنا چاہا۔۔
کب ہے اسکی شادی۔۔۔؟؟ کشش نے ٹوک کے سوال کیا۔
ایک ہفتے بعد۔۔۔! حازق نے دھیمے لہجے میں کہا۔
ٹھیک ہے۔۔ دلہا بننے کی تیاری کریں۔
مسکراہٹ سجاٸے وہ کہتی جا چکی تھی۔ جبکہ حازق تو حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہوتا رہا۔













اتنا سب کچھ ہوگیا ۔۔۔ اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔؟؟
جلیل کے سب کچھ بتانے پے یامین سرپکصکے بیٹھ گیا۔
بابا ۔۔۔ کب تک واپس آٸیں گے۔۔؟؟ کوٸی انفو۔۔؟؟یامین نے جلیل سے پریشانی سے پوچھا۔
سر ۔۔۔ ان کا آگے کا کیا ارادہ ہے۔۔۔ کوٸی اندازہ نہیں۔۔
لیکن۔۔ وہ اس عورت کو ڈھونڈ رہے ہیں۔
کیا رشتہ ہو سکتا ہے۔۔ بابا کا اس عورت کے ساتھ۔۔۔؟؟ ایک کام کرو۔۔ جلیل۔۔ پولیس اسٹیشن جاٶ۔۔ اور اس عورت کی تصویر دکھا کے ان سے انفارمیشن حاصل کرو۔
یقیناً اگر وہ کیمینل ہوٸی تو کوٸی نہ کوٸی ریکارڈ ضرور مل جاٸے گا۔
یامین نے سوچتے ہوٸے کہا۔
جلیل سر ہلاتا باہر۔نکلا۔
یامین نے فون اٹھایا۔ اور حازق کو کال کی۔ وہ کافی حد تک اسے ہشاش بشاش محسوس ہوا۔
ٹھیک ہے۔۔ تم آرام کرو۔۔ بعدمیں بات کرتا ہوں۔
موباٸیل پے کشش کی کال آتی یکھ اس نے حازق کو الله حافظ کہا۔ اور کشش کی کال اٹینڈکی۔
میرے معزز اور پیارے ہسبینڈ۔۔۔! ہم نے آج۔۔ شاپنگ پے جانا ہے۔۔ تو۔۔ کیا ہم جا سکتے ہیں۔۔؟
بہت میٹھی آواز کان سے ٹکراٸی۔
یامین نے چٸیر کے ساتھ سکون سے ٹیک لگاٸی۔
اچھا۔۔۔۔ یہ۔۔ہم میں ۔۔۔ کون کون شامل ہیں۔۔؟؟
بہت گہری مسکراہٹ سے پوچھا۔
میں۔۔ کرن۔۔۔۔ اور سمیر۔۔۔ ! اور۔۔ بعد میں ایڈوکیٹ داور بھی ہمیں جواٸن کر سکتے ہیں۔۔
بہت مودبانہ انداز میں کہا۔
اگر۔۔یہ عام سا بندہ بھی آپ کو جواٸن کرنا چاہے تو۔۔۔؟؟
بہت دل سے اس نے کشش سے پوچھا۔نجانے کیوں۔۔ وہ اسے بہت عزیز ہوتی جارہی تھی۔
یا اس رشتے کا اثر تھا۔ کہ وہ اسکی ہے۔۔
وہ نہیں جانتا تھا لیکن۔۔ بس اتنا جانتا تھا کہ۔۔ وہ اس کے لیے بہت اہم ہے۔۔
وہ تو شاملِ ماضی حال مستقبل سب ہی ہیں۔۔۔ بل ان کی جیب سے ہی جو نکلنا ہے۔۔۔! کہتے ہوٸے زبان پھسلی تو دانتوں کے نیچے دباٸی۔
ہمممممم۔۔۔۔ تو یہ ارادہ ہے میڈم۔۔کا۔۔۔! کونیاں ٹیبل میں ٹکاتے وہ آگے ہوتا بیٹھا۔
کہ دروازہ کھلا۔ اور وہ ایک شانِ بے نیازی اسے اندر داخل ہوٸی۔
یامین کے ماتھے پے بل پڑے۔
میں بعد میں بات کرتا ہوں۔۔۔
کشش سے کہتا وہ کال کاٹ گیا۔ اور آنے والی کے چہرے پے کرخت بھری ایک نظر ڈالی۔ جو بہت مطمیٸن انداز میں کھڑی تھی۔۔














کیا ہوا۔۔۔؟؟ کیا کہا۔۔یامین بھاٸی نے۔۔۔؟؟ سمیر نے اس امید پے پوچھا کہ شاید نہ کر دیں۔۔ کیونکہ وہ ان لڑکیوں کی شاپنگ سے سخت اکتا جاتا تھا۔ جو پور مارکیٹ میں گھوماتی تھیں۔ اور لیتی۔۔ کچھ بھی نہ تھیں۔
ظاہری بات ہے۔۔۔ نہ تو وہ مجھے کر ہی نہیں سکتے۔۔۔!فرضی کالر جھاڑے۔
کرن کے ساتھ ہاٸی فاٸی کیا۔
نہیں۔۔۔۔۔۔! سمیر نے سر گرایا۔
دادا جی نے ہی اسے اجازت دی تھی شاپنگ پے جانے کی۔ دو گارڈز ان کے ساتھ تو تھے۔ لیکن سمیر کو بھی ساتھ جانا تھا اور خاص یامین کی پرمیشن کے بعد۔ اب وہ تینوں گاڑی میں بیٹھے شاپنگ مال کا رخ کر چکے تھے۔













آپ ویسے ہی کم بولتی ہیں۔۔۔ یا۔۔۔؟؟ ؟یرے ساتھ آپ بولنے سے جھجھک رہی ہیں۔۔؟؟
عادل اور وہ شاپنگ کر کے ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے۔ کافی کا آرڈر دت وہ عناٸشہ کی غیرمعمولی خاموشی سے اکتا کے بولا۔
نہیں۔۔۔ تو۔۔۔ ایسی تو کوٸی بات نہیں۔۔۔! عناٸشہ دھیمے انداز میں بولی۔ وہ سامنے بیٹھے شخص کو اپنی زندگی میں کہیں بھی exit نہیں کر پارہی تھی۔
کوٸی پریشانی ہے آپ کوکیا۔۔۔؟؟
عادل کو وہ الجھی ہوٸی محسوس ہوٸی۔
عناٸشہ نے ایک گہرا سانس خارج کیا۔
ایسا کچھ نہیں۔۔بس۔۔۔ طبعیت ۔۔کچھ۔۔۔ ٹھیک نہیں۔۔۔! عناٸشہ نے بہانہ بنایا۔
اوہ۔۔۔گاڈ۔۔! تم دونوں کی شاپنگ۔۔۔؟؟ اللہ ہی بچاٸے۔۔
مہربانی کر کے اگلی بار۔۔ اپنے اپنے شوہروں کے ساتھ جانا۔۔ مجھے بخش دینا۔۔۔
سمیر نے ڈھیر ساریے شاپنگ بیگز ساٸیڈ پے رکھتے دہاٸی دی۔
لو۔۔ ہر بار تمہارا یہ گلہ ہوتا ہے۔۔کہ۔۔ کچھ لیتی نہیں۔۔ بس خوار کرتی ہیں۔۔ آج لے لیا تب بھی تمہاری دہاٸی وہ ہے۔۔ کسی نے سچ ہی کہاہے۔۔۔۔ مرد کی حالمیں خوش نہیں ہو سکتا۔
کشش نے اسکو برا منہ بناتےکہا۔ کہ نظر اچانک عناٸشہ پے جا ٹہری۔
ارے۔۔۔ یہ تو اپنی زاٸچہ ہے۔۔۔! یہ یہاں۔۔ کیا۔۔کر رہی ہے؟ ہمکلامی میں وہ دھیرے سے بولی۔
کون۔۔۔؟؟ کس کو دیکھ لیا۔۔۔؟؟ کرن نے اسکی آنکھوں کی سیدھ میں دیکھا۔
یار۔۔ آرڈرکرو۔۔۔! سمیر اکتایا ہوا تھا۔ اور بھوک بھی بے تحاشا لگی تھی۔ موباٸل یوز کرتے وہ جھنجھلاتے ہوٸے بولا۔
تم لوگ آرڈر کرو۔۔ میں سب پانچ منٹ میں آٸی۔
فوراً وہاں سے اٹھتی وہ عناٸشہ کی ٹیبل کی جانب بڑھی۔
ہاٸے۔۔۔۔ عناٸشہ۔۔۔۔!
what a pleasant surprize….
بہت گرم جوشی سے وہ جا کے بولی۔ عناٸشہ اسے دیکھتی اٹھتی اس سے ملی۔
اسے بھی کشش بہت اچھے سے یاد تھی۔
الحَمْدُ ِلله۔۔ تمکیسی ہو۔۔؟؟ عناٸشہ خوش دلی سے بولی جسے عادلنے بہت محسوس کیا۔ ایک دم سے اسکے چہرے پے مسکراہٹ کو وہ اگنور نہ کر سکا۔
کڈنیپنگ کے بعد آج ہی ملے ہم۔۔۔۔ ہیں۔۔ ناں۔۔!
بے اختیار کہتے وہ عناٸشہ کے ہاتھ پاٶں ٹھنڈے کر گٸ۔
ایکسکیوز می۔۔۔۔ کونسی۔۔ کڈنیپنگ۔۔۔؟؟
عادل نے مڑتے ہوٸے کشش کو دیکھتے حیرت سے پوچھا۔
Kashsh meet he is adil my fiancy ….!
عناٸشہ نے فوراً تعارف کروایا۔ کہ کشش اپنی زبان کو بریک لگاٸے۔
اوہ۔۔ہیلو۔۔۔ مسٹر۔۔بادل۔۔۔۔؟؟ کیسےہیں۔۔آپ ۔۔؟؟
کشش نے بہت مودبانہ انداز میں پوچھا۔
بادل۔۔۔۔؟؟ عادل کے ماتھے پے بل پڑے۔
عناٸشہ نے منہ پھیر لیا۔ اسکے چہرے کی مسکراہٹ اس وقت صرف کشش کی بدولت ہی آٸی تھی۔
عناٸشہ۔۔۔۔! اگر ایک دن پہلے ہی ملاقات ہوجاتی تو۔۔۔ کیا ہی ہوتا۔۔۔ میں تمہیں اپنی رخصتی پے ضرور بلاتی۔۔۔
یار۔۔ کنٹیکٹ نمبر تو دو اپنا۔۔۔ اتنی اچھ دوستی ہوگٸ ہے۔۔ہماری۔۔ اور نمبر تک نہیں۔۔ ایک دوسرے کے پاس۔۔۔؟؟
کشش نے اپنا فون سامنے کرتے اسکا نمبر مانگا۔ تو ناٸشہ اسے نمبر نوٹ کر وانے لگی۔
یہ میں نے مسڈکال دی ہے۔ میرا نمبر سیو کر لینا۔
کشش۔۔۔ اسی ہفتے شادی ہے۔۔ تو میں۔۔ کال کروں گی۔۔لازمی آنا۔
عناٸشہ کا اداس لہجہ کشش کو ٹھٹھکا گیا۔
کہیں۔۔ یہ۔۔وہی لڑکی تو ۔۔ نہیں۔۔۔؟؟
ہاں کیوں نہیں۔۔ ضرور۔۔۔! لیکن ۔۔ پرابلم ہے ایک۔۔ وہ دیکھ رہی ہیں۔۔ دور۔۔ ٹیبل پے۔۔۔! کشش نے سمیر اوت کرن کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے ہاٸے کے لیے ہاتھ لہرایا۔
میں ان کے بنا کہیں نہیں۔۔ جاتی۔۔۔! تو کیا ان کو بھی لے آٶں۔۔؟؟ شادی پے۔۔۔؟؟
بہت معصومیت سے پوچھا۔
اچھا۔۔۔ مجھے لگا۔۔ آپ اپنے ہسبینڈ کے بنا کہیں نہیں جاتیں۔۔۔ !
عادل نے بھی موقع یکھ چوکا لگایا۔
نہیں۔۔ میں تو جہاں دل چاہتا ہے۔۔ چلی جاتی ہوں۔۔ ہاں۔۔البتہ وہ۔۔میرے بنا کہیں نہیں جاتے۔۔۔
بہت ادا سے کہتے وہ عادل کو چپ کرا گٸ۔
شیو۔ر۔۔۔! کشش۔۔ شادی پے۔۔ آپ سب آنا۔۔۔!عناٸشہ نےبات کو ختم کرنا چاہا۔
اوکے۔۔۔انجواٸے یور سیلف ۔۔۔! کشش منہ بنا کے وہاں سے کرن اور سمیر کے پاس آگٸ۔
ویٹر کھانا سروکر گیا تھا۔
اب یہ کون تھی۔۔۔؟؟ سمیر نے چاول پلیٹ میں ڈالتے پوچھا۔
یہ۔۔زاٸچہ۔۔ مطلب۔۔۔ عناٸشہ۔۔۔! جب کڈنیپ ہوٸی تھی۔ تو ساتھ میں یہ بیچاری بھی کڈنیپ ہو گٸ تھی۔۔۔
پھر کھانے کے دوران کشش نے انکو ساری کہانی سنا ڈالی۔
اوہ۔۔۔ مطلب۔۔۔ بہت بہادر ہے۔۔۔ یہ۔۔ لڑکی۔۔۔؟؟
سمیر امپریس ہوا۔
ججی۔۔۔۔۔ کوٸی شک نہیں۔۔ لیکن۔۔۔ انگیجڈ ہے۔۔ ! عنٸشہ نے کھیرے کا ایک ٹکڑا منہ میں ڈالتے منہ بناتےکہا۔
ہمممممم۔۔۔۔۔ ! خود زیادہ پیاری ہے۔۔۔ ! کرن نے ان پے ایک نظر ڈالتے کہا۔
جبکہ کشش کے دماغ میں حازق ہی تھا۔
اور اسکا پیار۔۔۔
گاٸز۔۔۔۔! آٸی تھنک وہ اس شای سے راضی نہیں۔۔! وہ۔۔ کسی اور سے پیار کرتی ہے۔۔
کشش نے آٸیڈیا لگایا۔
چلو ۔۔۔جی۔۔۔۔! گل ہی ختم۔۔۔۔! ویٹر۔۔۔ بل۔۔۔؟؟
سمیر نے کہتے ویٹر کو اشارہ کیا۔
مان لومیری بات۔۔۔ اور وہ جس سے پیار کرتی ہے۔۔ وہ کوٸی اور نہیں۔۔ حازق ہے۔۔۔! میری یامین کا بیٹٹ فرینڈ۔
کشش نے رازرداری سے کہا۔
کشش۔۔۔! کچھ بھی۔۔۔۔! بری بات ہے۔۔۔ ایسے نہیں۔۔کسی پے الزام لگاتے۔۔ کرن نے اسے ٹوکا۔
الزام۔نہیں۔۔ حقیقت ے۔۔میری جان۔۔۔! دونوں ہی پیار کے مارے ہیں۔۔ اور دونوں ہی ایک دوسرے سے محبت کے باوجود بھی دور ہیں۔۔۔
کشش دکھ سے بولی۔
تمہیں۔۔ کیسے پتہ یہی ہے۔۔۔وہ لڑکی۔۔؟؟
کرن کو اس کے اتنے یقین سے کہنے پے شاک ہی لگا۔
مان لو۔۔۔ یہی ہے۔۔۔! کشش نے ایک آنکھ ونک کرتے کہا۔
مجھے نہیں لگتا۔۔۔۔کرن نے سوچتے ہوٸے نفی کی۔
اگر۔۔میں ثابت کردوں تو۔۔۔؟ کشش کی آنکھیں کسی خیال کے تحت چمکیں۔
کیا۔۔تم۔۔۔ایسا کر سکتی ہو۔۔۔۔؟؟ کرن اب اسکی طرف مکمل متوجہ ہوگٸ۔
بالکل۔۔۔! لیکن۔۔۔ میری ایک شرط ہے۔
یقین سے کہتی وہ ان دونوں کو چونکا گٸ۔
کیسی شرط۔۔۔؟؟ سمیر کو کچھ گڑبڑ لگی۔
وہ میں ثابت کرنے کے بعد بتاٶں گی۔
فالو می۔۔۔۔! کہتے ہوٸے وہ اٹھی۔ اور ان کے قریب جانے لگی۔ وہ دونوں بھی ہونقوں کی طرح اس کے پیچھے چل دیٸے۔
اچھھا۔۔۔۔ سمیر۔۔۔! اب حازق بھاٸی کیسے ہیں۔۔؟؟ بہت برا ایکسیڈینٹ ہوا ہے ناں۔۔ ان کا۔۔۔ بے چارے۔۔۔۔!
ان کے قریب جاتے اونچی آواز میں سمیر سے دریافت کیا۔ وہ منہ کھولے اسے دیکھتا رہ گیا۔
جبکہ حازق کے نام پے عناٸشہ کا دل بری طرح دھڑکا تھا۔
چمچ ہاتھ سے چھوٹ کے پلیٹ میں گرا تھا۔ اور فوراً کشش کی طرف بڑھی۔ بنا کسی کی پرواہ کیے
ایکسکیوز می۔۔۔ بات سنیں۔۔۔! آپ نے۔۔۔۔ کسس۔۔سس کی ایکسیڈینٹ۔۔۔۔کا بولا۔۔۔؟؟
عناٸشہ کو اپنی آواز بھی سناٸی نہیں دی رہی تھی۔
اوہ۔۔۔ارے۔۔ہاں۔۔ آپ تو انہیں جانتی ہیں۔۔ حازق۔۔۔ میرے ہسبینڈ کے سب سے کلوز فرینڈ۔
بہت اترا کے کہتی وہ سب کوبھونچکا گٸ۔
وہ۔۔۔ٹھیک۔۔۔۔ ہیں۔۔؟؟ عناٸشہ نے ڈرتے ہوٸے پوچھا۔
مے بی۔۔۔۔۔۔ ہی ول بی بیٹر۔۔۔
لیکن۔۔۔ ایکسیڈینٹ۔۔ بہت برا ہوا۔۔۔! بہت مچکل سے جان بچی۔۔ بیچارے کی۔۔۔! بڑھا چڑھا کے بتاتی وہ عناٸشہ کے آنسو نکلتے دیکھ چکی تھی۔
ایکسکیوز می۔۔۔!
کہتی وہ وہاں سے بنا کسی کی پرواہ کیے باہر کی طرف نکلتی چلی گٸ۔
جبکہ عادل منہ دیکھتا رہ گیا۔
یہ۔۔سب کیا تھا۔۔۔؟؟
بن بادل کے برسات۔۔۔! باٸے۔۔۔۔! کشش مسکراتے ہاتھ سے اسے باٸے کرتی کرن اور سمیر کے ساتھ باہر نکلی۔
دیکھ لیا۔۔۔! اب آگیا یقین۔۔۔؟؟
کشش نے مسکرا کے گاڑی کا دروازہ کھولتے فخر سے کہا۔
ماننا پڑے گا۔۔ کشش میڈم کی نظر۔۔ باز کی نظر ہے۔۔۔! سمیر نے سراہا۔
اب آگے کی بات سنو۔۔۔! گاڑی میں بیٹھتے اس نے کرن اور سمیر دونوں کو متوجہ کیا۔
دیکھو۔۔۔! اللہ ان لوگوں کو پسندکرتا ہے۔۔۔ جو کسی دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔۔!
کشش۔۔۔۔! ناٹ اگین۔۔۔ پلیز۔۔۔۔! سمیراسکی بات ایک دم سے مجھ گیا تو گاڑی کاموڑ کاٹتے اسکی بات پے ٹوک گیا۔
کتنے ۔۔۔بڑے مطلب پرست ہو۔۔۔؟؟ اللہ ان سے بے انتہا خوش ہوتا ہے۔۔ جو دوسروں کو خوشی دیتے ہیں۔
کشش نے منہ بناتے کہا۔
کرنا کیا چاہتی ہو تممم؟؟ کرن نے جھنجھلا کے پوچھا۔
ظاہری بات ہے۔۔۔ جیسے تمہیں اور داور کوملوایا۔۔ اسی طرح ان دونوں کو بھی ملوانا ہے۔۔ اور اس میں تم دونوں میری مدد کرو گے۔۔ سمجھے۔۔۔
کہتے ساتھ دھمکی بھی دی۔ تو ایک دوسرے کامنہ یکھتے رہ گٸے۔ کشش کا آرڈر تھا۔ تو انکار کرنے کا تو سوال ہی پیدانہیں ہوتا تھا۔













ساحلِ۔سمندر پےبیٹھے اسکا جی چاہا خود کو بھی ان موجوں کے حوالے کردے۔
حازق کو پا کے کھونا۔۔۔ وہ برداشت نہیں کر پارہی تھی بظہر وہ بالکل طپ تھی لیکن اسکے اندر ایک طوفان تھا۔
آج ابھی اسے فیصلہ لینا تھا۔۔ ہاں۔۔ یا تو ماں باپ۔۔ یا۔۔۔؟؟ محبت۔۔۔؟
او پھر اس پے قاٸم رہنا تھا۔
اور پھر فیصلہ ہو گیا۔ اسے ماں باپ چاہیے تھے۔تھکے ہارے قدموں سے اٹھتی اس نے گھر کی راہ لی۔ لیکن کبھی واپس نہ پلٹنے کے لیے۔













ایک دھماکہ۔۔اور بوم۔۔۔۔
یامین کتنی دیر سے گھر آچکا تھا۔ لیکن نہ ہی کشش فون اٹھا رہی تھی۔ نہ ہی سمیر۔۔۔ وہ حد درجے پریشان تھے۔
آواز کی بازگشت ہوتی تو وہ اور زیادہ بے چین ہو جاتا ۔۔ گارڈز بھی ان کے ساتھ نہیں تھے۔ وہ گارڈرکو چکما دے کے کہاں گۓ تھے۔ کسی کو نہیں پتہ تھا۔
ابھی دوبارہ کال کرتا کہ کشش روممثس داخل ہوٸی۔
یامین اسے صحیح سلامت دیکھ رب کا شکر ادا کرتا آگے بڑھ کے اسے گلے سے لگا گیا۔
کشش کےتو دل کی دنیا ہی ہل گٸ۔
تھینک گاڈ! تم۔ٹھیک ہو۔۔۔۔! بے اختیار وہ سرگوشی کے سے انداز میں بولا۔
آپ۔۔کوکیا ہوا۔۔۔ اتنےپریشان کیوں ہیں۔۔۔؟کشش کو گڑعبڑ محسوس ہوٸی۔
نہیں۔۔ کچھ نہیں۔۔ کب سے کال۔کر رہا تھا۔ کوٸی اٹھا نہیں رہا تھا۔ اوپر سے گارڈرز کوبھی ساتھ لے کے نہیں گٸے۔۔۔! پریشان ہو گیا تھا میں۔۔۔
یامین نے دھیرے سے صفاٸی پیش کی تو وہ بس دیکھے گٸ۔
پھر ہاتھ بڑھا کیایامین کا ماتھا چیک کیا۔
بخار تو نہیں۔۔۔ ہے۔۔۔ ہاتھ کی بیک ساٸیڈ اب یامین کے گالوں پےٹچ کی تو بوکھلایا۔
یہ آج ۔۔آپ بہت بہکی بہکی باتیں کیوں کر رہے ہیں۔۔۔؟؟ ماتھےپے تیوری ڈالے وہ پریشانی سے بولی۔
شادی کرکے بہک گیا ہوں۔۔
یامین نے اسے اپنے سینےسے لگایا۔ اوت معنی خیزی سے کہا۔
وہ۔۔۔مجھے۔۔۔شاور۔۔۔ لینا ہے۔۔۔!
کشش کی بولتی بندہوگٸ۔
ہمممم۔۔۔ جاٶ۔۔۔! موباٸل پے آتی کال نے یامین کا ھیان اپنی طرف کھینچا تو جھٹ سے باتھ روم گھسی۔
ایک دھماکہ۔۔۔اور بوم۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہہہاہ۔۔۔۔۔
دوسری طرف وہی تھی۔ اور یامین نے دانت پیسے۔
آج تو صرف ایک جھلک تھی۔
اگر۔۔ تم نے میری بات نہ مانی ۔۔ تو کل کو یہ دھماکہ اصلی بھی ہوسکتا ہے۔۔
گاٹ اٹ۔۔۔! کال۔کٹ گٸ۔
اب پانی سر سے اونچا ہوگیا تھا۔ اور یامین کو پہلی فرصت میں اسے اس کے مقام تک لانا تھا۔
