Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Ishq Mera (Episode 29)

Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan

گاذی ہوٹل کی طرف موڑتے وہ کافی چپ چپ سا تھا۔ کشش نے بھی اسکی خاموشی کو بہت نوٹ کیا۔

لیکن خاموش رہی۔اتنے میں یامین کے موباٸل پے حازق کی کال آٸی۔

اوہ۔۔۔ واٹ آ پلیزنٹ سرپراٸز۔۔۔۔! کب ہے ریسپشن۔۔۔؟

یامین کے چہرے پے تھوڑی سی مسکراہٹ سجی۔ جو کشش کو بہت بھلی لگی۔

اوکے۔۔۔۔! ڈن۔۔۔! یامین نے مسکرا کے کال بند کی۔

کیا کہہ رہے تھے۔۔۔؟؟ شادی ہوگٸ۔۔ ناں۔۔ ان کی۔۔۔؟؟ کشش نے خوش ہوتے پوچھا۔

ہممممم۔۔۔ آج ریسپشن ہے۔۔۔ شام۔کو۔۔۔!

سچی۔۔۔۔!ہم۔۔بھی۔جاٸیں گے۔۔۔!کشش خوشی سے بولی۔ یامین نےایک نظر اس پے ڈالی۔ تمہیں تو خاص انویٹیشن دیا ہے اس نے۔۔۔۔!میٹھا سا طنز کیا۔

وہ تو۔۔ کرنا ہی تھا۔۔۔ کشش نے فخر سے کہا۔

پلیز ایک کام کر دیں۔۔ مجھے۔۔عناٸشہ کی طرف چھوڑ دیں۔ مجھے اس سے ملنا ہے۔۔۔ پلیز پلیز۔۔۔۔ انکار مت کیجیے گا۔۔۔!کشش نے۔منت بھرے لہجے میں کہا۔

کشش ۔۔۔ تم سے کچھ بھی امید کی جاسکتی ہے۔۔۔لیکن۔۔ اچھے کی امید کبھی نہیں۔۔! یامین نے انکار کیا۔

یامین سکندر۔۔ آپ مجھے انڈر اسٹیمیٹ مت کریں۔۔ ! وہ تھوڑا گھور کے بولی یامین نے چپ رہنا ہی بہتر سمجھا۔

اچھا چھوڑ یں ناں۔۔۔ پرامس۔۔۔ کچھ بھی الٹا سیدھا نہیں کروں گی۔ گاڈ پرامس۔۔۔۔!وہ یقین دلاتے بولی۔۔

گاڑی حازق کے گھرکے پاس رکی۔ کشش بہت خوش ہوٸ۔

کشش۔۔! موباٸل۔کی لوکیشن بند نہیں ہونی چاہیے۔ جب بھی کال کروں کال پک ہو۔ اور یہاں ہی چھوڑ رہا ہوں۔۔ مطلب۔۔یہیں۔۔ پے ہی ہونا ہے۔۔۔ورنہ۔۔۔؟؟ یامین نے اسے ہدایات دیں۔ وہ زور زور سے اثبات میں سر ہلانے لگی۔

تھینک یو۔۔ سو۔مچ۔۔۔! دروازہ کھولتے وہ اتری۔ کہ پھرمڑی۔۔ پک کب کریں گے۔۔۔؟؟ مجھے بھی تو گھر جاکےتیار شیار ہونا ہے۔۔۔ میری دوست کی شادی ہے۔۔ آخر۔۔ وہ چمکتےہوٸے بولی۔

مل۔جاٸے گا سب۔۔۔! تم۔۔مطمیٸن ہو کے جاٶ۔۔۔یامین نے اسے پیار سے کہتے وہ اسکوگہری نظروں سے دیکھتے بولا۔

یو آر سو سویٹ۔۔ میرو۔۔۔۔! مسکراتے ہوٸے اس نے میٹھے انداز میں کہا۔ یامین کی تو آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گٸیں۔ وہ جا چکی تھی۔ مسکراتے ہوٸے ڈراٸیور کو چلنے کا کہا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

کہاں پہنچے ہیں۔۔۔؟؟؟ کال پے بات کرتے وہ پوچھنے لگی۔

ٹھیک ہے۔۔ کڈنیپ کرو۔۔ جب تک یہ بڈھا ہمارےپاس رہے گا۔ کوٸی بھی ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا ۔ اب وہ فون بند کر کے تیاری کرنےلگی۔ آج اسکا میر ولا میں تقریباً چار سال بعد جانےکا ارادہ تھا۔ ایک بار تو س کو شاک ہی لگ جانا تھا۔ اور وہ پوری تیار کے ساتھ جانے والی تھی۔پلاننگ فل پاور فل تھی۔

او بہت حد تک خطرناک بھی۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

عناٸشہ جو اداس سی صحن میں بیٹھی کافی پی رہی تھی۔کشش کے اچانک آنے پے وہ سخت حیرت زدہ ہوٸ۔

کیسا لگا سرپراٸز۔۔۔؟ زاٸچہ۔۔؟؟ کشش نے مسکرا کے پوچھا۔

بہت۔۔ اچھا۔۔ لیکن۔۔یوں اچانک یہاں۔۔؟؟ کیسے۔۔۔؟؟ آٸ مین۔۔ ایڈریس۔۔ کیسے۔۔ ؟؟ اچھا چھوڑو۔۔ آٶ اندر چلیں۔۔ ! عناٸشہ کو اسکا آنا بہت زیادہ اچھا لگا۔

آنا تو تھا۔۔۔ مبارک باد دینے۔۔۔! کشش کی سماٸل عناٸشہ کو بہت بھلی لگی۔

بہت اچھا کیا۔۔۔!ویسے بھی تمہیں بہت مس کیا ان دنوں۔۔ ! عناٸشہ کا لہجہ دھیما تھا۔

اچھا۔۔۔ دلہا صاحب کہاں ہیں۔۔؟؟ کشش نے ادھر ادھر دیکھتے پوچھا۔

عناٸشہ کو دل دھڑکا۔

کشش۔۔! شادی ۔۔ عادل سے نہیں ہوٸ۔۔ !

جانتی ہوں۔۔ حازق سے ہوٸ ہے۔۔ اور اگر عادل سے ہوتی ۔۔ تو یہاں نہ ہوتی۔۔۔کشش نےبہت پیار بھرےلہجےمیں کہا ۔ عناٸشہ نےگہرا سانس خارج کیا۔

I forget…

کل تم بھی تو آٸی تھی۔۔ شادی پے۔۔ اور جو تماشا لگا۔۔ دیکھا ہو گا ۔۔تم نے بھی۔۔۔!عناٸشہ دکھ اور غصے سے بولی۔

ہاہاہاہہا۔۔۔۔ آغاز عشق ہے روتا ہے کیا۔۔۔۔

آگے آگے دیکھیے۔۔۔ ہوتا ہے۔۔ کیا۔۔۔؟

ویسے۔۔عشق کے امتحان ابھی اور بھی ہیں۔۔ دل تھام کےرکھیے۔۔۔محترمہ! کشش نے بہت اسٹاٸل سے شعر پڑھا

لیکن۔۔ میں جانتی ہوں۔۔یہ سب کس کا کیا دھرا ہے۔۔۔! عناٸشہ نے دانت پیسے۔

اچھا۔۔۔ کس کا۔۔۔؟؟ کشش اپنی تعریف سننے کے لیے بے چین ہوٸ۔

حازق اور کون۔۔۔؟؟ وہ اس حد تک گر جاٸیں گے۔۔۔ انداز ہ نہ تھا۔۔۔ ! عناٸشہ کے لہجے میں دکھ تھا۔

اییییےےے۔۔ ایک منٹ۔۔۔! تم سے کس نے کہا۔۔ یہ سب۔۔ حازق نے کیا ہے۔۔۔؟ کشش کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔

تو اور۔۔۔؟؟ ٕہ سب کون کرے گا۔۔۔؟ عناٸشہ نے الٹا اسی سے پوچھا۔

کشش نے ہاتھ سے اپنی طرف اشارہ کیا۔ اور گردن ہلا کے اسے سمجھایا۔

کیا۔۔۔ کیا۔۔مطلب۔۔۔؟؟ عناٸشہ کو دل بری طرح دھڑکا۔

یہ۔۔ سب میں نے کیا ہے۔۔۔!یار۔۔۔! کشش نے بلاخر کہہ ہی دیا۔ عناٸشہ تو منہ دیکھتی رہ گٸ۔

کشش نے اسے الف سے لے کے ے تک ساری کہانی سنا دی۔ وہ بنا پلک جھپکے اسے دیکھے گٸ۔

مطلب۔۔۔؟؟ یہ سب تم۔۔۔ نے کیا۔۔۔؟؟ عناٸشہ تو کچھ بول ہی نہ پاٸ۔

جی یس ۔۔۔ سب میرا کیا دھرا ہے۔۔ اور تمہیں لگا۔۔۔ حازق نے۔۔۔۔؟؟ کشش نے مڑتے دھیرے سے پوچھا۔ عناٸشہ نے سر جھکا لیا

dont tell me ..

کہ تم نے ان سے ۔۔۔؟ اوہ ماٸ گاڈ۔۔۔؟؟

How ould u do that?

کشش نے سر پکڑ لیا۔

یار۔ محبت کرتے ہو۔۔ بھروسہ کیوں نہیں کرتے۔۔۔؟؟ وہ اٹھتے ہوٸے ناراضگی سے بولی۔

شاید۔۔۔ یہی غلطی ہو جاتی ہے ۔۔محبت کرنے والوں سے۔۔۔؟؟ عناٸشہ کا لہجہ روندھ گیا۔ اسے اب احساس ہو رہا تھا۔ کہ اس نے حازق کے ساتھ بہت غلط کر دیا ہے۔

نہیں۔۔ یہ کمزور بندے کی نشانی ہے۔۔۔ محبت کی نہیں۔۔ ! میں اسے محبت نہیں مانتی۔۔ محبت میں بھروسہ سب سے پہلے۔۔ بھروسہ نہیں تو۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔اور محبت تو بالکل بھی نہیں۔۔۔

کشش نے اچھی خاصی اسکی کلاس لے لی۔ عناٸشہ چپ ہوگٸ۔

یقیناً تم نے انہیں ۔۔اس بات پے بہت کچھ غلط شلط بول دیا ہوگا۔۔۔ ہیں ناں۔۔۔؟؟ کشش نے اس کے پاس بیٹھتے آٸ بر اچکاتے پوچھا۔

عناٸشہ نے منہ بناتے سر اثبات میں ہلایا۔

ایک بات بتاٶ کشش ۔۔! اگر کبھی تم پےایسا وقت آجاٸے۔۔ تمہارا اعتبار ڈگمگا جاٸے۔۔؟؟ تب۔۔؟؟؟ عناٸشہ نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے دیکھا۔

عناٸشہ ۔۔۔ تمہاری ابتدا ۔۔۔ محبت سے ہوٸ ہے۔۔۔۔! جو ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔۔۔ میری ابتدا ہی عشق ہے۔۔۔! اسکی طرف دیکھتے وہ ایک لگن سے بولی۔

جب۔۔ ابتدا ہی عشق ہے۔۔ تو انتہا کیا ہوگی۔۔۔؟؟ سوچ لو۔۔۔! وہ بہت فخر سے بولتی اٹھی۔ عناٸشہ اسے دیکھتے رہ گٸ۔

جبکہ عشق کی ہر گھڑی۔۔۔ ایک امتحان ہے۔۔۔ اور ایک بہت بڑا امتحان کشش کےلیے بھی کھڑا تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

تو تم۔۔ نہیں دو گے۔۔۔؟؟ فریدہ نے غصہ ضبط کرتے کہا۔

ہرگز نہیں۔ ۔۔۔ ! میرے پاس ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے ۔۔ تمہیں جو کرنا ہے۔۔کرلو۔۔۔!

حیات صاحب نے بھیصاف صاف لفظوں میں کہہ دیا۔

اس وقت وہ اپنے آفس سے باہرنکل رہے تھے۔ آج ہی وہ واپس لوٹے تھے۔ اور انکے دوست نے انہیں آفس آنے کو کہا تھا۔ انکا سارا قرض جو مارکیٹ سے لیا ہوا تھا۔ وہ اتر گیا تھا۔ کس نے اتارا وہ نہیں جانتے تھے۔ لیکن۔۔ اب وہ آزاد تھے۔ اور شکر گزار تھے اللہ پاک کے۔۔

لیکن فریدہ نامی مخلوق سے ابھی بھی جان نہیں چھڑا پاٸے تھے۔

ہمممم۔۔۔۔۔ تو ٹھیک ہے۔۔۔ اب تنہارے ہی گھر تمہاری بیوی اور بچوں کے سامنے ملاقات ہوگی۔۔۔! فریدہ نے دھمکی دی۔

حیات صاحب نے سر جھٹکا او ناک سے مکھی اڑاٸ۔

ماضی میں ہوٸی ایک بھول پے سب ناراض تو ہوں گے۔۔ لیکن وہ میرے اپنے ہیں۔۔۔ مجھ سے ناراض تو ہوں گے۔۔ لیکن چھوڑ کبھی نہیں سکتے۔۔۔

ایک یقین کے ساتھ انہوں نے گاڑی میں بیٹھتے ہوٸے کہا۔

فریدہ بیگم نے لب بھینچے۔ انہیة حیات صاحب آج بالکل بھیبڈرے نہ لگے۔

لگتا ہے۔۔۔ اسے بھی اس کے باپ کی طرح غاٸبکرنا پڑے گا۔

سوچتے اور پلان کرتے اپنے آدمی کو فون لگایا۔ اور جو سوچا اسپے عمل درآمد بھی کر دیا۔

اب۔۔۔ یامین تمہارا بیٹا۔۔۔ وہ کیا کرتا ہے۔۔۔؟؟ تمہارے لیے۔۔۔ اور کیا کیا کر سکتا ہے۔۔۔۔ ؟ یہی یکھنا ہے۔۔۔!مسکراتے ہوٸے وہ اپنے راستے کی طرف بڑھیں۔

🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟🌟۔

ریسپشن کافنکش بھی التاج ہوٹل۔میں ہی بک کروایا گیا تھا۔ چوکاچوند روشنیاں ہر طرف بکھری ہوٸیں تھیں۔ عناٸشہ پے پیچ کلر کی گھرے دار فراکبہت جچ رہی تھی۔ حاق کی نظریں بار بار بھٹک کے اس پے جا ٹہرتیں۔ اور وہ ابھی اسکی نظروں کی تپش محسوس کرتی بار بار دل کی بے ترتیب ہوتی دھڑکن کو سنبھالتی۔

کشش ہر طرف ایے گھوم پھر رہی تھی۔ جیسے تتلی ہو۔ سبھی کو اس نے اپنا دیوانہ بنایا ہوا تھا۔ کوٸی نہیں کہہ سکتا تھا۔ کہ وہ اس ہوٹل کے مالک یامین سکندر کی بیوی ہے۔۔۔ جو اتنی ملنسار اور ہنس مکھ ہے۔ زرا مغروری نہیں تھی اس میں۔ ایک عجیب سی مسکراہٹ الوحی سی چمک تھی اس کے چہرے پے۔۔۔ جواسے سب سے الگ بناتی تھی۔۔

میرا نیگ تو نکالیں۔۔؟؟؟کشش نے حازق کے سامنے ہتھیلی پھیلاٸی۔ حازق مسکرا دیا۔

کیا چاہیے میری بہن کو۔۔۔؟؟ بہت مان دے کے پوچھا۔

کشش کی آنکھوں میں ایک چمک سی ابھری۔

ایک مان دیں۔۔ کہ آپ کبھیبھیاپنی محبت کو اکیلانہیں چھوڑیں گے۔۔۔! دھیرے سے کہتی جہاں وہ حازق کوچونکا گٸ۔ وہیں پاس کھڑے یامین کے دل میں گھر کر گٸ۔

دے دیا۔۔۔ ! حازق نے مسکرا کے اسے کہا تو وہ بہت خوش ہوگٸ۔

You r so lucky yameen…

حازق نے بہت دل سے کہا۔۔

اچھا۔۔۔ میں لکی ہوں۔۔ اور وہ۔۔۔۔؟؟ آٸ بر اچکاٸی۔

وہ تو۔۔ ہے۔۔ اس میں تو کوٸ شک نہیں۔۔۔! حازق کہتے دل سے ہنسا۔ اسکی ہنسی کو کچھ دور کھڑی عناٸشہ ابہت فرصت سے دیکھی تھی۔ وہ خوش تھا۔

ہاں وہ واقعی خوش تھا

کتنے عرصے بعد عناٸشہ نے اسے یوں ہنستے دیکھا تھا۔

وہ تو اسکی ہنسی میں ہی کھو گٸ۔

حازق کی نظر بے اختیار اسکی جانب اٹھی۔ تو لب بھینچ لیے۔ لیکن نظر نہ ہٹا سکا۔ سامنے ہی عناٸہ بی بہت دل دے کے اپنے زندگی کے ہمسفر کو دیکھ رہی تھی۔ کسی کےپکارنے پے حازق اسطرف پلٹا۔ تو عناٸشہ کو لگا۔ جیسے سری دنیا ہی روٹھ گٸ ہو۔

حازق ! میری غلطی ہے۔۔۔ جو میں نے آپ پے بھروسہ نہ کیا۔ اور۔۔اتنا کچھ سنا دیا۔۔۔ ایم سوری۔۔۔ ! لیکن۔۔ میں آپ کومنا لوں گی۔۔۔۔ اور میں جانتی ہوں۔۔ سچاٸی جاننے کے بعد آپ۔۔مجھے معاف کردیں گے۔

دل ہی ل میں وہ حازق سے مخاطب ہوتی سوچے جا رہی تھی۔

لاٸٹس آف ہوتے ہی ایک سپوٹ لاٸیٹ عناٸشہ پے جا ٹکی۔

ہال میں خاموشی چھا گٸ۔

ڈی جے نے سونگ پلے کیا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

ایک فون کال تھی۔ جس نے یامین کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی۔ وہ وہاں ہوتے ہوٸے بھی ہوش و حواس کھونے لگا۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ کیا کرے۔۔۔۔؟؟

ایک میسج ٹون پے وہ چونکا۔

ویلکم می ان اوور ہوم ماٸی لولی ہبی۔۔۔!

ساتھ میں ہارٹ بنے تھے۔ سختی سے آنکھیں میچیں۔ خود کو ریلیکس کیا ۔اسے اس مصیبت کا سامنا بھی کرنا تھا۔۔۔ ہاں۔۔ وہ مصیبت ہی تھی۔۔۔ علیزہ۔۔۔ اس کی پہلی بیوی۔۔۔جو نکاح کے اگلے دن رخصتی کے روز بھاگ گٸ تھی۔ اور آج وہ واپس آنا چاہتی تھی۔ بلکہ آچکی تھی میر ولا۔ ۔۔میں۔۔ اور یامی کو جانا تھا۔۔ اپنے گھر کو ٹوٹنے سے بچانا تھا۔

کشش۔۔۔! چلو۔۔۔ ! کشش کا ہاتھتھامے وہ وہاں سے نکلا۔

ارے ایسے۔۔ کیا ہوا۔۔۔؟؟ اتنی جلدی۔۔۔۔؟؟ ابھی تو فنکشن شروع ہوا ہے۔ وہ بہت بدمزہ ہوٸی۔

لیکن یامین نے ان سنی کرتے اسے گاڑی میں بٹھایا۔ اس وقتت اسکا میر ولا پہنچنا سب سے زیادہ ضروری تھا۔ اور وہ دماغ میں پلان بھی ترتیب دے رہا تھا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

ہاں۔۔ کیا پتہ چلا۔۔۔؟؟ عادل نے پر اسرارر انداز میں اپنے بندے سے پوچھا۔

سر جہنوں نے آپ کو کڈنیپ کیا تھا۔ اس میں سے ایک لڑکا پکڑا ہے۔ مار کھاتے ہی زبان بھی کھول دی ہے۔۔

اس کا ایک دوست ہے سمیر اور۔۔ اسکی کزن۔۔۔ انہوں نے آپ کو کڈنیپ کیا تھا۔

ہمممممم۔۔۔۔ مجھے وہ دونں یہاں چاہیٸیں۔۔۔ ہر حال میں۔۔۔ عادل۔نے سگریٹ سلگایا اور آرڈر جاری کیا۔ تو وہ شخص اثبات میں سرہلاتا باہرنکلا۔

تم۔لوگوں کو کیا لگتا ہے۔۔۔؟؟ مج سے بچ جاٶ گے۔۔۔؟؟ میری جگ ہساٸی کرو گے۔۔۔ تو میں تم لوگوں کو یونہی چھوڑ دوں گا۔۔۔۔؟؟ تم۔لوگ جانتے نہیں کس سےپنگا لےلیا۔۔ ہے۔۔ اب۔۔ دیکھو۔۔ میں کرتاکیا ہوں۔۔؟؟؟

عادل بے انتہا غصے میں تھا۔ گھر والوں نے اس سے سخت ناراضگی کااظہار کیا تھا۔ وہ اپنی سچاٸی بھی کسی سے بیان نہ کرسکا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ساسو۔۔ ماں۔۔ آپ کیوں پرایا پن کر رہی ہیں۔۔؟ میں تو آپ کی اپنی بھتیجی ہوں۔۔ علیزہ۔۔۔! بھول گٸیں۔۔۔؟؟

سبھی ہال میں اکھٹے ہوٸے تھے۔ علیزہ کی آمد نے سبھی کو سکتے میں ڈال دیا تھا۔

کیسی بھتیجی۔۔۔۔؟؟ جو ۔۔ اپنے ماں باپ کا سر جھکا کے گھر سے بھاگ گٸ۔۔۔؟؟ سویرا بی بی نے بنا کسی لحاظ کے اسکو سنا دی۔ لیکن وہ ضبط کر گٸ۔

اب واپس آگٸ ہوں۔۔ ناں۔۔۔! تو ویلکم تو کریں۔۔ ناں۔۔۔! ڈھیٹوں کی طرح بولتی وہ سب کو ہی تپا رہی تھی۔

بہتر ہوگا۔۔یہاں سے چلی جاٶ۔۔ ورنہ۔۔۔؟؟ سویرا بی بی نے آگے بڑھتے غصے سے کہا۔

ورنہ۔۔۔؟ ورنہ کیا۔۔۔؟؟وہبھی آٸ برو اچکاتی مطمین سی ان سب کو بے سکون کر گٸ۔

رہنے یں بھابھی۔۔ یامین کو آلینے دیں۔۔ خود دھکے مار کے نکالے گا اسے گھر سے۔۔! عالیہ بیگمنے کہا تو وہ قہقہہ مار کے ہنسی۔

اسکو بھی انفارم کر دیا ہے۔۔ آرہا ہے۔۔ بیچارا۔۔ مجھ دے ملنے۔۔ کے لیے اچھأ خاصا بے چین ہے۔۔ وہ۔۔ بھی۔۔! لہجہ اطمینان بخش اور مزاق اڑاتا تھا۔ سبھی ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔

اتنے میں یامین کشش کے ساتھ انٹرس سے اندر داخل ہوتا نظر آیا

علیزہ نے اپنا رخ پلٹ کےاندر آتے یامین کو دیکھا۔ ایک دلفریب مسکراہٹ لبوں پے سج گٸ۔

ویلکم ویلکم۔۔۔۔۔۔! ماٸی ہبی۔۔۔! کب سے ویٹ کر رہی ہوں۔۔۔! یو نو۔۔۔ کسی نے بھیاچھے سے ویلکم نہیں کیا۔

وہمنہ بناتی یامین کیطرف بڑھی۔ کشش نے جہاں ایک تیکھی نظر علیزہ پے ڈالی۔ وہیں یامین نے مٹھیاں بھینچیں۔

آٶ ناں۔۔۔ سب کو بتاٶ۔۔۔ ناں۔۔۔؟ کہ میں ۔۔ میرا۔۔ کیا رتبہ ہے۔۔ا س گھر میں ۔۔؟؟ بہت قریب ہوکے راز داری سےکہتے وہ یامین کے ضبط کو آزما رہی تھی۔

ابھی یامین کچھ کہتا کہ شش نے اسے رے دھکا دیا وہ گرتے گرتے بچی۔

اور کشش خود یامین کے آگے دیوار بن کھڑی ہوٸی۔

اب آٸے گا مزہ۔۔! سمیر زیرِ لب مسکرایا۔

علیزہنےحیرت او غصے سے کشش کی جانب دیکھا۔

خبردار۔۔۔! دور رہو۔۔۔! انگلی اٹھا کے وارن کرتی وہوہاں موجود سبھی کو ایک الگ ہی کشش لگی۔

یا۔۔۔۔یامین۔۔۔! یہ۔۔مجھے۔۔ یوں۔۔ دھکا دے رہی ہے۔۔۔اور تم۔۔۔ چپ کھڑے ہو۔۔۔؟؟ علیزہ دانت چباتے بولی۔

علیزہ۔۔۔! اندر جاٶ۔۔۔! اپنے اوپر ضبط کرتے آخر یامین بول ہی دیا۔

یامین کے الفاظ سبھی کو برچھی کی طرح لگے۔

کشش نے پلٹ کے بڑی بڑی آنکھوں سے یامین کو دیکھا۔ لیکن وہ نظر انداز کرگیا۔

یہ۔۔یہ کیا کہہ رہے ہو۔۔یامین۔۔۔؟؟ یہ اس قابل۔نہیں کہ۔۔ اسے بہو کے ورپ میں قبول کیا جاٸے۔۔! سویرا بی بی آگے بڑھتیں علیزہ کے خلاف بولیں۔

یہ میرا زاتی مسٸلہ ہے۔۔ اور میں ہرگز نہیں چاہوں گا۔۔ کہنکوٸی بھی اس میں بولے۔۔ اس لیے۔۔ ہو گا وہی جو میں چاہوں گا۔۔ علیزہ۔۔۔! علیزہ کیجانب دیکھا۔

علیزہ۔۔۔ بیوی ہے میری۔۔۔! اور وہ اب یہیں رہے گی۔

علیزہ۔۔۔ روم میں جاٶ۔ یامین علیزہ کو وہاں سے فوراً ہٹانا چاہتا تھا۔

اوہ یامین۔۔۔ یو آرسو سویٹ۔۔۔! تم۔نے مجھے دوبارہ اپنا لیا۔۔۔ رٸیلی آٸ لو یو۔ وہ بے اختیار آگے بڑھی۔ کہ کشش کے سامنے کھڑے گھورنے وہ وہیں رک گٸ۔

آٸ تھنک۔۔ ! مجھے تھوڑا آرام۔کر لینا چاہیے۔۔! سویٹ ہارٹ۔۔۔ آٸ ایم ویٹنگ فار یو۔۔ ان دا روم۔۔۔ پلیز جلدی آنا۔۔۔! ایک آنکھ ونک کر تے مسکراتے کہتی وہ وہاں سے یامین کےروم۔کیجانب بڑھی۔

یہ۔۔یامین بھاٸی کوکیا ہوگیا ہے۔۔۔؟؟ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔۔؟؟ داور کو بھی سخت حیرانی ہوٸی۔

کچھ تو گڑ بڑ ہے۔۔۔! سمیر بھی دھیرے سے بولا۔

کرن سمیر اورداور نے۔ایک دوسرے کو معنی خیز انداز میں دیکھا۔

یامین۔۔۔! آپ غلط کر رہے ہیں۔۔۔! سویرا بی بی بمشکل بول پاٸیں۔

صحیح تو آپ نے بھی نہیں کیا تھا۔۔۔ چار سال پہلے۔۔۔ ! اسی کا خمیازہ بھگتیں اب آپ۔۔!

سختی سے کہتا وہ انکی بولتی بند کر گیا۔

کشش کو تو اسکے روممیں جانے کی بات ہی ہضم نہ ہوٸی تھی۔ سب کو نظر انداز کرتی وہ علیزہ کے پیچھے گٸ۔

زور سے دروازہ کھولا۔

#اسنیک29

#ضدی_عشق_میرا

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

نکلو۔۔۔ یہاں سے۔۔۔ ایک منٹ میں۔۔۔! کشش کا غصے سے برا حال تھا۔

ہرگز نہیں۔۔ ! بیوی ہوں میں یامین کی۔۔ وہ بھی پہلی۔۔ اور اس کمرے پے۔۔ تم سے زیادہ میرا حق ہے۔۔ اس لیے۔۔ تم۔یہاں سے باہر نکلو۔۔

علیزہ نے کشش کا بازو پکڑکے جھٹکا دیا۔

کشش دانت پیستی اسکی طرف واپس پلٹی۔

میرے اورمیر یامین سکندر کے بیچ میں آنے کی غلطی کبھی مت کرنا۔۔ ورنہ۔۔ پچھتانے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔۔۔! انگلی اٹھا کے وارن کرتی وہ چھوٹی سی لڑکی علیزہ کو سخت حیران کر گٸ۔

تم۔۔ہم دونوں کے بیچ میں آٸ ہو ۔۔ شوہر ہے وہ میرا۔۔۔!اور بیوی ہوں میں اسکی۔ علیزہ نے بھی حق جتایا۔

بیوی نہیں۔۔ بگوڑی بیوی۔۔۔! سینے پے بازو باندھ کے تیکھےانداز میں کہتے اس نے علیزہ کو آگ لگا دی۔

اور اس کا ہاتھ اٹھ گیا۔ جسے کشش نے ایک جھٹکے سے پکڑا۔ اسکا سخت انداز علیزہ کو بہت کچھ باور کراگیا تھا۔

کسی بھول میں مت رہنا۔۔۔ تم۔۔!

ایک تو۔۔ وہ عشق ہے۔۔

اور۔۔۔ میرا۔۔ہے۔۔

اوپر سے ضدی بھی۔۔

اور جنونی الگ۔۔۔

جان دینا بھی آتا ہے۔۔اور جان لینا بھی۔۔ اس لیے سنبھل کے رہنا۔۔۔! کشش کاایک ایک لفظ علیزہ پے سکتہ طاری کر گیا۔

زور سے علیزہ کا ہاتھ جھٹکتےہوٸے وہ پیچھے ہٹی اور اسے سر سے پاٶں تک گھورا۔

اب یہاں سے دفع ہوگی خود ۔۔۔کہ۔۔۔۔ دھکے دوں۔۔؟؟ کشش نےایک آٸی برو اٹھاتے پوچھا۔

یہ کہیں نہیں جاٸے گی۔۔ کشش۔۔! یامین کے اچانک آکے کہنے پے دونوں ہی چونکیں۔ جہاں علیزہ کے چہرے پے فاتحانہ مسکراہٹ ابھری وہیں کشش نے آنکھیں چھوٹی کرتے یامین کو دیکھا۔

یہ۔۔یہیں۔۔ رہے گی۔۔۔ اب سے۔۔۔! علیزہ کو دیکھتا وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔

آپ۔۔یہ فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں۔۔۔؟؟ کشش نے کمر پےہاتھ باندھتے پوچھا۔

فیصلہ ہو چکا ہے کشش۔۔تم جاٶ اپنے روم۔میں ۔۔ ! سختی سے کشش کو کہتے وہ اسے اندر تک توڑ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *