Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 10)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 10)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
حازق کے کہے جملوں کی باز گشت نے اسے ساری رات انگاروں پے جلاٸے رکھا۔
دل تھا کہ بس کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا۔
وہ اس کے لیے بے وفا تھی۔
اور یہ جاب اس نے اس سے انتقام کے لیے دی تھی۔
اب عناٸشہ کو سب سمجھ آنے لگا تھا۔
عناٸشہ کو حازق کی آنکھوں میں جو آج نفرت نظر آٸی۔ وہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
اور اسکی نفررت کو وہ برداشت نہیں کرپا رہی تھی۔
یہ وہ دکھ تھا جو وہ اکیلے سہہ رہی تھی۔
صرف ایک وعدے کے پیچھے۔ جو اس نے حازق کی ماں سے کیا تھا۔
وہ اس وعدے کا پاس رکھے ہوٸے تھی۔
اگر حازق نے مجھ سے بدلہ لینے کے لیے یہ سب کیا ہے تو۔۔ میں کل ہی ریزاٸن کر دوں گی۔
مجھے یہ جاب کرنی ہی نہیں۔۔
وہ ایک فیصلہ کرتے مطمیٸن ہوتی بستر پے لیٹی۔
آج کافی دنوں بعد عابدہ بیگم کو پھر سے کھانسی کا بہت برا دورہ پڑا تھا۔ اور عناٸشہ نے بہت مشکل سے انہیں کھانا کھلا کے میڈیسن دے کے سلایا تھا۔
اور کل انہیں دوبارہ ہاسپٹل لے کے جانے کا ارادہ کیاہوا تھا۔













یہ سمجھتے کیا ہیں ۔۔ خود۔۔کو۔۔؟؟
میں کیوں کرنے لگی ان سے شادی۔۔۔؟؟
کشش ادھر سے ادھر چکرلگاتی غصے سے بھری ہوٸی تھی۔
یامین کے غصے میں کہے الفاظ کو وہ یاد کرتی خود کو باور کر وارہی تھی۔
کہ وہ اب بدلے کے لیے یہ سب کرنے والے ہیں۔
ایسا تو میں ہونے نہیں دوں گی۔۔۔
دیکھتی ہوں۔۔ کیسے۔۔ کرتےہیں۔۔ مجھ سے شادی۔۔۔؟؟
منہ ہی منہ میں بڑ بڑاتی وہ یامین کے روم کی جانب بڑھی۔۔
وہ ابھی ابھی شاور لے کے نکلا تھا۔ کہ دروازے پے ناک کرتی وہ اندر داخل ہوٸی۔
بالوں کو ٹاول سے خشک کرتا وہ شرٹ لیس تھا۔
آٸینے میں اسے اندر آتا دیکھ یامین نے لب بھینچے۔ اور آگے بڑھ کے ساٸیڈ سے اپنی شرٹ اٹھاٸی۔ اور پہننے لگا۔
ناک کرنے کے ساتھ اجازت بھی لیتےہیں ۔۔اندر آنے کی
گھرک کے کہتا وہ کشش کو شرمندہ کر گیا۔
بندہ۔۔۔ ایسے کام باتھ روم میں کرلے جس سے آپ کو کسی کے سامنے شرمندگی اٹھانی پڑے۔
وہ کہاں شرمندہ ہونے والی تھی۔ الٹا یامین کو ہی شرمندہ کر گٸ
کیوں آٸی ہو۔۔۔؟؟ اسکی بات نظر انداز کرتا وہ اس کے یوں صبح صبح آنے کی وجہ پوچھنے لگا۔
میں آپ سے صاف اور شفاف لفظوں میں یہی کہنے آٸی ہوں۔۔ کہ۔۔مجھ سے شادی کے خواب نہ ہی دیکھیں تو آپ کے لیے بہتر ہوگا۔۔
دھمکی دیتی وہ یامین کو آگ ہی لگا گٸ۔
اس نے کل۔غصے میں وہ سب کہا۔ جبکہ اسکا ایسا بالکل کوٸی ارادہ نہ تھا۔
تمہارا دماغ سیٹ ہے۔۔۔؟؟ جو۔۔ یہ بات کرنے آپہنچی ہو۔۔۔ صبح ہی صبٕح۔۔۔؟؟
ہاں تو۔۔۔؟؟ آپ بھی تو حد کرتے ہیں۔۔۔!!
کتنی چھوٹی ہوں۔۔ میں آپ سے۔۔۔۔!
منہ بناتے وہ یامین کو پاگل۔کردینے کے در پے تھی۔
ہاں۔۔۔ دودھ پیتی بچی ہو ناں۔۔۔! جسے شادی کا۔مطلب بھی نہیں پتہ۔۔۔۔ جبکہ۔۔۔ اوروں کی شادی کروانے میں بہت ماہر ہو۔۔
لاپرواہ انداز میں بالوں کو سنوارتے وہ کشش کو آج صحیح معنوں میں زچ کر رہاتھا۔
دیکھیں۔۔۔ آپ ۔۔۔ غلط کر رہے ہیں۔ نروٹھے پن سے کہتی وہ اس کے سامنے آٸی۔
میں نے تو۔۔ ابھی کچھ کیا بھی نہیں۔۔۔۔!!
یامین نے اپنا لیب ٹاپ چیک کرتے مزے سے کہا۔
اگر۔۔۔ آپ۔۔۔ نے۔۔۔کچھ بھی ایسا ویسا کیا۔ ناں۔۔۔ تو۔۔ میں نے داداجی کو آپ کی شکایت لگا دینی ہے۔۔۔۔
دھمکی دی۔
ہمممم۔۔۔ میں ڈر گیا۔۔۔۔! اب کی بار مذاق اڑایا۔
میں ۔۔آپ۔۔۔ سے شادی نہیں کرنے والی۔۔۔۔!
لڑاٸی والے انداز میں کہا۔
خود کودیکھا ہے آپ نے۔۔۔ کتنے موٹے ہیں آپ۔۔۔!! اور میں کتنی سمارٹ ہوں۔۔۔
ایک اور اعتراض اٹھایا۔
واٹ۔۔۔۔؟؟ یامین نے حیرت سے خود کو دیکھا۔
میں۔۔ کب سے تمہیں موٹا لگنے لگا۔۔۔؟؟
یہ۔۔ دیکھیں۔۔۔ زرا۔۔ اپنی بازو۔۔۔اور ۔۔۔میری۔۔دیکھیں ہیں۔۔۔؟؟
کشش نے بھنوٸیں اچکاٸیں۔
یامین نے اپنے مسلز دیکھے۔ جہنیں دیکھ لڑکیاں آہیں بھرتی تھیں۔ ایک یہ میڈم اسے موٹا کہہ رہی تھی۔
ناں۔۔۔ حد ہی ہوگٸی۔۔۔۔
جیلس مت ہو۔۔۔ اور۔۔۔ میرے لیے ایک کپ کافی کا بنا کے لاٶ۔۔۔
یامین نے اسکی بات کونظر انداز کرتے آرڈر لگایا۔
کیا۔۔۔۔؟؟ میں کافی۔۔لاٶں۔۔۔ آپ کے لیے۔۔۔؟؟
کشش کو جھٹکا ہی تو لگا۔
ہمممم۔۔۔۔ لیب ٹاپ پے نظریں جماٸے کہا۔
ہرگز نہیں۔۔۔!! بالکل بھی نہیں۔۔۔میں کالج جا رہی ہوں۔۔ اور آپ ناں۔۔ مجھ پے۔۔۔ شوہروں والے رعب نہ جماٸیں۔۔ سمجھے آپ۔۔۔!!
انگلی اٹھا کے غصے سے وارن کرتی وہ منہ بنا کے کہتی باہر نکل۔گٸ۔
بے اختیار ہی یامین کے لبوں نے مسکراہٹ کو چھوا۔
بہت مشکل ہے۔۔ چہرے سے دل کا راز پڑھ لینا۔۔
جو گہرے ہوتے ہیں وہ پہچانے نہیں جاتے۔۔۔















عمارہ۔۔۔ !! ا تم ہی بتاٶ۔۔۔ کیاکروں۔۔؟؟ میرا اپنا دل تھا کہ طوبیٰ ہی میری بہو بنے۔ لیکن۔۔ داور کے آگے مجبور ہوگٸ ہوں۔۔۔ لیکن۔۔ تم۔۔ فکر نہ کرو۔۔۔ میں طوبیٰ کو ہی اپنی بہو بناٶں گی۔۔۔
سویرا بی بی نے بہن کو دلاسا دیا۔
میں کیا سوچ رہی تھی۔۔ باجی۔۔۔ کیوں ناں۔۔ یامین سے طوبی ٰ کا رشتہ کر دیں۔۔؟؟
ہے تو وہ بھی آپ ہی کا بیٹا ناں۔۔!!
عمارہ کے یوں اچانک کہنےپے سویرا بیگم کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گٸیں۔
یہ کیاکہہ رہی ہو۔۔؟
دیکھیں باجی۔۔۔!! داور اگر کرنسے شادی کرنا چاہتا ہے تو کرنے دیں۔ زور زبردستیکی میں قاٸل نہیں۔ آپ۔۔ یامین کے لیے بات کریں۔ ویسے بھی اسکی زندگی میں کوٸی نہیں۔ میری طوبیٰ کسی پے سوتن بن کے جاٸے۔۔ میرا دل نہیں مانتا۔
منہ بنا کے بولا۔
ناں۔۔ تو علیزہ کو بھول گٸ ہو۔۔؟؟ دانت پیستےکہا۔
باجی۔۔ !! اس نے پورے خاندان میں ہم سب کی ناک کٹوا دی ہے۔۔۔ بھاٸی کو تو ۔۔کسی کو۔منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔۔۔ اور تین سال پہلے۔۔ کی بات ہے۔۔۔
ناجانے کہاں۔۔ دفع ہوگٸ ہے۔۔۔؟
ایسی اولاف سے تو بندہ بے اولادہی اچھا۔
نہیں۔۔ کل۔کو وہ اگرواپس آجاتی ہے۔۔تو۔۔۔؟؟ کیا تب۔۔۔ سوتن نہیں ہوگی تمہاری بیٹی۔۔ اسکی۔۔۔؟؟
سویرا بی بی اپنی مطلب کی بات کی۔
کیا یامین اسے اپناۓ گا۔۔؟؟
عمارہ نے بھی آگے سے سوال داغا۔ جس کا جواب خود سویرا بی بی کے پاس بھی نہ تھا۔
یہاں تو ایک رات باہر رہنے والی کو کوٸی نہیں اپناتا۔۔ تو وہ تو۔۔ تین سال سے۔۔ غاٸب ہے۔۔۔ اورجو ۔۔اب تک نہیں آٸی۔۔۔ وہ آگے کیا آٸے گی۔۔؟؟
اور ویسے بھی یامین کتنے ہوٹلٗز کا مالک ہے۔۔۔ اتنا پیسے والا ہے۔۔۔ اور کیا چاہیے۔۔۔؟؟ میری طوبیٰ تمہاری بہو بھی بن جاٸے گی۔ اور یامین بھی طوبیٰ جیسی لڑکی کو پا کے خوش رہے گا۔۔
عمارہ اپنی ہی کہے جا رہی تھی۔
جبکہ سویرا بی بی کے دماغ میں جکڑ چل رہے تھے۔
اتنے ہوٹلز کامالک۔۔۔۔۔ !! یہ سچ تھا۔۔ وہ واقعی اس وقت پیسوں میس کھیل رہاتھا۔
ایک وقت تھا جب علیزہ اسے صرف اسلیے چھوڑ گٸ کہ یامین کے پاس اپنا کچھ نہیں۔ اور آج وہ کروڑوں کا مالک ہے۔۔۔
جبکہ ان کااپنا بیٹا ایک وکیل۔۔۔ بس۔۔۔!!
ان کے دل میں لالچ پھر سے جاگا۔













یہ کیا ہے۔۔۔؟
عناٸشہ نے حازق کے سامنے اپپنا ریزاٸن لیٹر رکھا۔
میں ۔۔یہ جاب چھوڑ رہی ہوں۔۔۔
بنا حازق کی طرف دیکھے سنجیدگی سے کہا۔
آنکھیوں کے لال ڈورے رت جگے کا پتہ دے رہے تھے۔
حازق نے لیٹر اٹھا کےپڑھا۔ اور ایک قہرکی نظر عناٸشہ پے ڈالی۔
اور لیٹرپھاڑ دیا۔
عناٸشہ ہونقوں کی طرح حازق کو دیکھے گٸ۔
اس ہوٹل میں جاب شروع کرنے سے پہلے یہاں کے رولز لگتا ہے۔۔ تم نے پڑھے نہیں۔۔۔؟؟
پیپر ویٹ کو گھماتا وہ پر اسرار انداز میں بولا۔
ککک۔۔کیا مطلب۔۔؟؟ عناٸشہ کوکچھ ٹھیک نہ لگا۔
تم۔۔یہ جاب۔۔۔ چھے ماہ دے پہلے نہیں چھوڑ سکتی۔
کس صورت بھی۔۔ اور اگرچھوڑو۔۔ گی۔۔ تورولز کے مطابق تمہیں۔۔ دو لاکھ جمع کروانے ہوں گے۔۔!اٹھ کے اس کے پاس آتا وہ اس پے صور ہی پھونک رہا تھا۔
ایسا۔۔۔ نہیں۔۔ لکھا۔۔۔ تھا۔۔کانٹریکٹ میں۔۔۔!
عناٸشہ کو وہ کنٹریکٹ یاد آیا۔ حلق تر کرتی وہ بولی۔
انٹر کامپے مسٹر جمیل۔کو اندر بلایا۔
اور کانٹرینکٹ کے پیپرزمنگواٸے۔
جہنیں پڑھ کے عناٸشہ کے چودہ طبق روشن ہوگٸے۔
وہ۔۔سب دھوکہ تھا۔ وہ جان گٸ تھی۔ حازق اسے پھسا رہا تھا۔
آپ۔۔ صحیح نہیں کررہے۔ ۔ آپ نے۔۔یہ جھوٹے پیپرز۔۔!!
لہجہ نم۔ہوا۔
ہاں۔۔ جانتا ہوں۔۔ لیکن ۔۔۔تم پروف نہیں کرسکو گی۔
بہت پرسکون انداز میں کہا
بدلے۔۔ کےلیے۔۔آپ اتنا گر جاٸیں گے سوچا نہ تھا۔۔۔
گرے ہوۓ لوگوں کے لیے اگرتھوڑا سا گرنا پڑ جاٸے تو کوٸی مضاٸقہ نہیں۔۔۔
اسی کے انداز میں جواب دیا۔
عناٸشہ نے سخت نظروں سے حازق کودیکھا۔
ٹھیک ہے۔۔ چھے ماہ کی بات ہی ہے ناں۔۔۔ میں کروں گی۔۔۔! آپ کر لیں جو کرنا ہے۔۔۔ اپنی انا کی تسکین کے لیے۔۔۔ آپ کو جو مجھے تکلیف پہنچانی ہی پہنچا لیں۔ آپ کے اندر کے مرد کو سکون آجاٸے گا۔
سکون کی بات تو تم کروہی مت عناٸشہ فردوس۔۔۔۔!!
غصے سے اسکے پاس آتا اس کے بازوکو جکڑے دانت پیستے وہ بولا۔
میرا سکون بر باد کر کے۔۔ جس طرح تم۔۔ سکون سے رہ رہی تھی۔
i swear..
بردباد نہ کر دیاتمہیں توکہنا۔۔۔ !!
اس کے لفظوں میں کتنا زہر بھرا تھا۔ عناٸشہ تو بس دیکھتی ہی ر ہ گٸ۔
آج وہ ایک نٸے حازق سے مل رہی تھی۔۔
جو صرف نفرت کرنا جانتا تھا۔
انٹرکام بجا تو نظروں کے حصار میں اسے لیے انٹر کام کی طرف بڑھا۔
سر۔۔۔!مس فروا آٸیں ہیں آپ سے ملنے۔
او کے بھیج دو۔
کہتے ساتھ ہی عناٸشہ کیجانب مڑا۔
آٶٹ فرام ماٸی روم۔۔
سختی سے کہتا وہ عناٸشہ کی انسلٹ کر گیا۔
اتنےمیں فروا اندر داخل ہوٸیں۔
hay… haziq how r you..?
بہت مارڑرن ڈریس اور اندازمیں کہتی وہ حازق کی جانب بڑھی۔ اور حازق سے گلے ملی۔
حازق بھی اس سے مسکراکے ملا۔
how are you dear….?
wait a second…
فروا کو۔ایکسکیوز کرتا وہ عناٸشہ کی جانب مڑا۔
Mis anaisha.! go ad take two cup of coffee.
عناٸشہ کوکہتا وہ فروا کیجانب مڑا۔
عناٸشہ کا ہتک کے مارے چہرہ لال ہوگیا۔
اور جھٹکے سے مڑتی روم سے باہر نکل گٸ۔
اس کے جاتےہی جو سماٸیل حازق کے لبوں پے تھی وہ یکدم کہیں جا سوٸی۔
فروا۔۔! آٸیندہ اپنی لمٹ میں رہنا۔۔۔!
This is last warning for you.
انتہاٸی سپاٹ لہجےمیں کہتا وہ فروا کو ٹھٹھکا گیا۔
لیکن فروا نے کوٸی آرگیو نہ کیا ۔
حازق جیسا فاسٹ بندہ کب کس مقام پے کس کیاانسلٹ کر کے رکھ دے کوٸی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔
کچھ ہی دیر میں عناٸشہ کافی کے دو مگ لے آٸی۔ اور انہیں پیش کیا۔
اسکی آنکھوں کی نمی حازق کی آنکھوں سے چھپی نہ رہ سکی۔
کافی کا مگ رکھتے وہ پلٹنے لگی تھی۔کہ اسکا ہاتھ کافی کے مگ کولگا۔ اور کافی چھلکی اور فروا کے ڈریس کو خراب کر گیا۔
اوہ۔۔۔۔ یہ کیا کیا تم۔نے۔۔۔؟؟ ایڈیٹ گرل۔۔۔؟؟
فروا نے اٹھتے ہوٸے غصے سے ڈریس کو صاف کرتے کہا۔
ایم۔۔۔۔ایم سوری۔۔۔ غلطی سے۔۔۔ ہاتھ لگ گیا۔۔۔
عناٸشہ گھبراٸی۔
ایڈیٹ یو۔۔۔ !
Useless girl…
میری ساری ڈریس خراب کر دی۔
ایم سوری۔۔۔ میم۔۔۔! عناٸشہ نے روندھے لہجے سے پھر معافی مانگی۔
واٹ۔۔سوری۔۔۔؟؟ جانتی بھی ہو۔۔کتنے کی ڈریس ہے۔۔یہ۔۔؟؟ کبھی دیکھی ہو تو۔۔۔ پتہ ہو ناں۔۔۔!!
فروا نے عناٸشہ کی اچھی خاصی انسلٹ کر دی۔
عناٸشہ نے ایک شکوہ کناں نظر خاموش بیٹھے حازق پے ڈالی جو ایک ٹک اسے ہی دیکھے جا رہا تھا۔
سور۔۔ی۔۔۔ ایک بار پھر سے کہتے وہ پلٹی۔
اندھی کہیں کی۔۔۔! چیپ گرل۔۔۔!
فروا نے دانت پیسے۔
فروا۔۔۔ یہ جو چھوٹے لوگ ہوتے ہیں ناں۔۔ انکا کام ہی یہی ہوتا ہے۔۔۔ ان کے منہ نہیں لگنا چاہیے۔
حازق کے الفاظ عناٸشہ کو کسی تیر کی طرح لگے۔
اسکے جاتے قدم تھمے۔
اور گہرا سانس خارج کرتی وہ واپس پلٹی۔
یو راٸیٹ۔۔۔ گھٹیا لوگوں کی نشانی ہی یہی ہے۔۔۔
فاٸر دس۔۔ یوز لیس گرل
فروا نے بھی ٹیڑھے میڑھے منہ بناتے کہا۔
ایک منٹ۔۔۔۔!! عناٸشہ کی غصے سے بھری آواز سناٸی دی۔
اور آگے بڑھتی وہ فروا کے پاس آٸی۔
ایک قہر آلود نظر حازق پے ڈالی جو بنا کسی تاثر کے ابھی بھی چیٸر سے ٹیک لگاٸے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
پاس پڑی کافی کا مگ اٹھایا۔
اور جو کافی بچی تھی مگ میں ۔۔وہ بھی فروا کے منہ پے زور سے اچھالی۔
وہ تو افی کچھ حد تک ٹھنڈہ ہوگٸ تھی ورنہ اسکا منہ ہی سوجھ جانا تھا۔
حازق کو اس دن والا سین یاد آگیا ۔
جب عناٸشہ سے آٹھ ماہ بعد ویٹریس کے روپ میں ملا ملاقات ہوٸی تھی۔
واٹ دا ہیل اس دس۔۔۔۔؟؟ یو۔۔۔۔ ب۔۔۔۔
خبردار۔۔۔! جو گالی نکالی۔۔۔۔ منہ توڑ دوں گی تمہارا۔۔۔
ہاں۔۔ہم غریب ہیں۔۔ لیکن۔۔۔عزت والے ہیں۔
آپ امیر ہیں۔۔ لیکن۔۔عزت راس نہیں آٸی آپ کو۔۔۔! جو زبان کے جوہر دکھا رہی ہیں۔
عناٸشہ نے اچھا خاصا ذلیل ک کے رکھ دیا۔
جبکہ حازق کے اطمینان میں زرا برابر فرق نہ آیا۔
حازق۔۔۔! دیکھا۔ ۔۔ کیسے۔۔ اس لڑکی نے۔۔ میرے ساتھ بدتمیزی کی۔۔۔ اسے۔۔ابھی کے ابھی جاب سے نکالو۔۔۔
فروا نے حازق سے بہت مان سے کہا۔
یہ ۔۔۔ مجھے۔۔ نہیں نکال سکتے۔۔۔۔!
اب کی بار بہت اطمینان سے جواب دیا۔
حازق۔۔۔۔!!
Fire this girl.
فروا نے اونچی آواز میں کہا۔
جبکہ عناٸشہ کے چہرے پے کرختگی دیکھ حازق کے ماتھےپے تیوری چڑھی۔
آپ کچھ بولیں گے نہیں۔۔۔؟؟ سر۔۔۔۔۔!!
بہت دانت پیستے حازق کو دیکھتے آٸی برو چڑھاٸی۔
حازق کچھ کہتاکہ وہ جھٹکے سے مڑتی باہر نکل گٸ۔
اف۔۔کتنی بد تمیزی کر کے گٸ ہے۔۔۔یہ۔۔۔اور۔۔۔ تم نے۔۔ اسے کچھ بھی نہیں۔۔۔ کہا۔۔۔۔؟؟
Even a word…???
فروا نے دکھ سے کہا۔
تم۔۔۔ اپنی زبان کو قابو میں رکھو۔۔۔ کچھ زیادہ ہی چلنے لگی ہے۔۔۔۔ آٸندہ ایسی زبان استعمال کی ناں۔۔۔ اچھا نہیں ہو گا۔۔ تمہارے لیے۔۔
ناٶ۔۔جسٹ گو۔۔۔۔!
حازق نے اپنا غصہ ضبط کرتے فروا کو ہی لتاڑ کے رکھ دیا۔۔
وہ منہ بناتی باہر نکل گٸ۔
عناٸشہ فردوس۔۔۔۔!
welcome back to the war…
ایک مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا۔
کوٸی نہیں جانتا تھا۔ کہ اس کے دل و دماغ میں کیا چل رہا تھا۔۔۔؟؟













گھر لوٹا تو پتہ چلا کہ دادا جی گھرہی نہیں ۔اسلام آباد نکل گٸے ہیں۔ وہ بھی یوں اچانک۔۔۔؟؟
کال ملاٸی۔
دوسری کال پے فون رسیو کر لیا۔
ہاں۔۔ جی بیٹا جی۔۔۔؟؟ دادا جی کی کھنکتی ہوٸی آواز سناٸی دی۔ یامین کے لبوں نے مسکراہٹ کو چھوا۔
کدھر نکل گٸے آپ۔۔؟؟ یوں اچانک۔۔؟؟
ارے۔۔پتر۔۔۔!! میرے مرحوم دوست کے پوتے کی شادی تھی۔۔ تو یہیں۔۔ اسلام۔آباد آٸے ہیں۔
آٸے ہیں۔۔ مطلب۔۔؟؟ کوٸی اور بھی ساتھ ہے کیا آپ کے۔۔۔؟؟
بیگ ایک طرف رکھتے یوہی پوچھ بیٹھا۔
جی۔۔۔ ہماری رونق بھی ساتھ ہے ہمارے۔۔۔کشش بھی ساتھ آٸی ہے۔۔۔
بہت خوش ہوتے کہا۔
وہ۔۔۔وہ۔کیوں گٸ ساتھ۔۔۔؟؟ اس کا کیا کام۔۔۔؟؟
یامین کو برا لگا۔
ارے پتر۔۔۔ ضدکر رہی تھی۔ کہ یہاں کا اپنا ہوٹل دیکھنا ہے۔۔ ان کے بیٹے کی شادی یہیں۔۔ اپنے التاج ہوٹل میں ہی ہے۔۔۔ تو لے آیا ساتھ۔
اچھا تم فکرنہ کرو۔۔ ہم کل ہی نکل آٸیں گے۔۔ صحیح ہے۔۔۔ اپنا خیال رکھنا۔۔۔ الله حافظ
فون بند ہوچکا تھا۔
اور یامین موباٸیل۔کو گھور رہا تھا۔
کوٸی حال نہیں دادا پوتی کا۔۔۔ نفی میں سر ہلاتا۔وہ باتھ لینے چلاگیا۔
نہیں جانتا تھا کہ آنے والے وقت میں اس کے لیے اللہ کتنی بڑی آزماٸش کھڑی کرنے والا تھا۔
جاری ہے
