Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Ishq Mera (Episode 34)

Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan

سمیر نے آگے بڑھ کے علیزہ کے منہ سے ٹیپ اتار دی۔

بہت پچھتاٶ گے تم۔سب۔۔۔۔! میں کسی کو نہیں چھوڑوں گی۔۔۔ کسی کو بھی نہیں۔ ٹیپ ہٹتے ہی وہ ہزیانی انداز میں چلاٸ۔

اس سے تو منہ پے ٹیپ لگی ہی ٹھیک تھی۔ اس چڑیل۔کے۔۔! سمیر نے منہ بگاڑ کے کہا۔

منہ بند کرو اپنا۔۔۔۔! یامین نے اونچی آواز میں اسے ڈانٹا تو وہ یکدم چپ ہوگٸ۔کچھ پل کے لیے وہاں ایک دم ہی خاموشی چھاگٸ۔

منع کیا تھا میری فیملی کی طرف آنکھ اٹھا کے بھی نہ دیکھنا۔۔۔ لیکن ۔۔تم باز نہیں۔۔ آٸ۔۔۔

سمیر اسے لے کے باہر آٶ۔

یامین نے اٹھتے ہوٸے غصے سے کہا۔

تو سمیر فوراً حکم بجا لایا اور کھینچنے والے انداز میں اسے باہر لے جانے لگا۔

کچھ ہی دیر میں سبھی ہال میں جمع ہوگٸے۔۔

یہ۔۔یہاں۔۔۔؟؟ حیات صاحب کو علیزہ کویہاں دیکھ سخت حیرانی ہوٸ۔

میر ولا کی مالکن بننے کے خواب دیکھتی یہاں۔۔ آٸ تھی یہ کل۔۔۔۔! یامین نے اطلاع پہنچاٸ۔

اور اپنے بچھاٸے جال میں خود ہی پھس گٸ۔

اسے۔۔۔ بھی پولیس کے حوالے کردو۔۔۔

حیات صاحب سخت غصہ ہوٸے۔

ہاں۔۔ کردوو۔۔۔۔ تم۔لوگوں کو کیا لگتا ہے۔۔۔۔؟ مجھے پولیس کے حوالے کر کے مجھ سے بچ جاٶ گے۔۔۔؟؟ کبھی نہیں۔۔۔ ایک ایک کو مار ڈالوں گی۔۔۔ سب کو۔۔۔۔! علیزہ کے ہاتھ بندھے تھے لیکن زبان کے جوہر وہ دکھاٸے جا رہی تھی۔

سویرا بی بی نے آگے بڑھ کے ایک زور دار طمنچہ اسکے منہ پے مارا۔

تم۔جیسی اولاد سے تو اچھا ہوتا۔۔ میرا بھاٸ بے اولاد ہی رہتا۔۔۔۔ وہ بہت دکھی ہو رہی تھیں۔

کم آپ بھی نہیں ۔۔ جسطرح آپ کرتی ہیں ناں۔۔ سازشیں۔۔ ۔۔ وہی کروں گی میں بھی۔۔ بھتیجی تو آپ ہی کی ہوں۔ اثر تو ہوگا ناں۔۔

علیزہ نے بھی بنا لحاظ کے جواب دیا۔

حازق۔۔! وہ لوگ ابھی تک پہنچے کیوں نہیں۔۔؟؟ اس لڑکی ک مزید یہاں برداشت کرنا میرے بس سے باہر ہو گیا ہے۔

یامین نے دانت پیستے علیزہ کو دیکھتے کہا۔

بس آنے والے ہیں اسکے رشتہ دار اسے لینے۔ حازق نے بھی دوبارہ کال ملاتے کہا۔

جہاں چاہے مرضی بھیج دو۔ لوٹ کے آٶں گی۔ اور تب۔۔کوٸ نہیں بچے گا۔ علیزہ نے بھی دانت پیستے کہا۔

میں انتظار کروں گا۔ یامین نے بھی اسے چیلنجنگ انداز میں کہا۔

اتنے میں باہر گاڑی کے رکنے کی آواز آٸ۔

لوجی آگٸے۔ حازق نے کہا۔ اسی اثنا میں دو خواتین اوردو مرد اندر داخل۔ہوٸے۔ اور ان میں سے ایک حازق کیجانب بڑھا۔

کہاں ہے۔۔ وہ پاگل لڑکی۔۔۔؟

وہ رہی۔ حازق نے اشارہ کیا۔ علیزہ گھبراٸ۔

کیا۔۔کیا مطلب۔۔۔؟؟ وہ سخت گڑبڑاٸ۔

چلو۔۔۔ ! ایک موٹی اور سخت جسامت کی عورت نے علیزہ کو پکڑ کے آگے کیا۔

کون۔۔۔ کون۔۔۔ ہو تم۔۔۔؟؟ علیزہ ان کو دیکھتے گھبرا کے بولی۔

تمہارے سسرال والے۔۔۔! وہ عورت بھی منہ بگاڑ کے بولی۔

علیزونے یامین کی طرف دیکھا۔

بہت۔۔ پرسکون جگہ بھیج رہا ہوں تمہیں۔۔۔ ! وہاں رہو گی۔ تو دعاٸیں دو گی۔ تم جیسے بہت ملیں گے وہاں تمہیں۔ یامین نے پراسرار انداز میں کہا۔ علیزہ کا دل بری طرح دھڑکا۔

پاگل خانے بھیج رہا ہوں تمہیں۔۔ امید ہے۔۔ وہاں سے نکلو گی تو سیدھی ادھر ہی آٶ گی۔ انتظار رہے گا۔

کہتے یامین پیچھے ہٹا۔ اور ان کو علیزہکو لے جانے کا اشارہ کیا۔

نننن۔نہیں۔۔۔ میں۔۔ نہیں ۔۔جاٶں گی۔۔۔ میں۔۔ پاگل نہیں۔۔

میری بات سنو۔۔۔ یہ۔۔ سب ایک سازش ہے۔۔۔ پلیز۔۔۔ میری بات سنو۔۔۔۔میں پاگل نہیں۔۔۔ وہ روتے ہوٸے چلاٸی۔

ہرپاگل۔یہی کہتا ہے۔ کہ وہ پاگل نہیں۔ اب ڈرامے بند کرو۔ اور چلو۔ اس عورت نے علیہکی کمر پے ایک دھموکا دیا۔ علیزہ کا تو مانو سانس ہی ر ک گیا ہو۔

سچ۔۔۔ سچ۔۔میں میں۔۔ پاگل۔نہیں۔۔۔۔۔! علیزہ کی آنکھوں میں آنسو آگۓ۔ ایک حسرت بھری نظر دادا جی پے ڈالی۔ وہ ابھی ببر کے سہارے وہاں آٸے تھے۔ اور سب جان گٸے۔

پلیز۔۔۔۔! دادا جی۔۔۔! میں۔۔ میں پاگل نہیں۔۔ !! وہ روتے ہوٸے انکے پیروں میں بیٹھ گٸ۔

مجھے۔۔۔۔ نہ۔۔نہ۔۔۔ بھیجیں وہاں۔۔۔ پلیز۔۔۔! وہ بے تحاشا رو رہی تھی۔

دادا جی کا دل پسیج گیا۔ انہیں علیزہ کے آنسو دل پے لگ رہے تھے۔ اور جو بات انہیں علیزہ کو بچانے پے مجبور کرر ہی تھی۔ وہ اس کے بارے میں ابھی کسی سے کہہ نہیں سکتے تھے۔

یامین۔۔۔! اسے معاف کر دو۔ دادا جی کے الفاظ۔۔ سبھی دم بخود رہ گٸے۔ اور حیرت سے دادا جی کو دیکھا۔

نہیں۔۔ دادا جی۔۔۔! اسے معاف کرنا مطلب اسے دوبارہ موقع دینا۔۔کہ یہ میری فیملی کو تکلیف پہنچاۓ ۔۔ یہ غلطی۔۔۔ میں ایک بار کر چکا ہوں۔۔ دوبارہ۔۔نہیں دہراٶں گا۔ یامین کا لہجہ مضبوط تھا۔

سبھی نے اب کی بار سوالیہ نظروں سے یامین کو دیکھا۔

تین سال پہلے۔۔۔ یہ۔۔۔ طلاق لے کے جا چکی تھی۔ کسی اور سے۔۔ نکاح بھی کر لیا اس نے۔۔لیکن۔۔۔ بہت کم عرصہ ہی خوشیاں نصیب ہوٸیں اسے۔ وہ شخص اس سے سب کچھ لے کے۔۔ اسے پاگل خانے چھوڑ گیا۔ ۔۔۔ یامین نے علیزہ کو نفرت سے دیکھتے بتایا علیزہ کا سر جھک گیا۔

ایک سال تک یہ۔۔۔ پاگل خانے رہی۔ اور۔۔۔ایک دن مجھے۔۔ پتہ چلا۔ ۔۔ اور میں انسانیت کے ناطے۔۔ اسے وہاں سے نکالنے کی غلطی کر بیٹھا۔ جو۔۔ میرے لیے وبال جان بن گٸ۔ میں نے اسکی جان بچاٸ اور اس نے الٹا میری فیملی ک تکیف پہنچاٸ۔ یامین اب طیش میں آگیا۔

اس نے آپ پر جان لیوا حملہ کیا۔ بابا کا بنزس میں لاس کروایا۔ اس۔۔ فریدہ نامی عورت کے ساتھ مل کے بابا کو بلیک میل کیا۔ کشش کو ۔۔۔ کڈنیپ کیا۔ بابا کو تکلیف پہنچاٸ۔ آپ کو۔۔۔ سب کو۔۔۔۔! صرف۔۔ اس ایک وجہ سے۔۔ کہ میں اسے۔۔۔۔دوبارہ اپناٶں۔۔۔ ! یہ۔۔محبت کرتی ہے مجھ سے۔۔۔۔! یامین کا لہجہ دھیما ہوگیا۔

کشش نے آنکھیں چھوٹی کر کے علیزہ کو دیکھا۔ جیسے کچا چبا جاۓ گی۔

اور اس کے پاس صرف یہی ایک پلس پواٸنٹ تھا کہ میں نے ہمارے طلاق کا کسی کو نہیں بتایا تھا۔ اس ا فاٸدہ اٹھانا چاہا اس نے۔۔۔ لیکن اب بس۔۔۔ ! میں اسے اب معاف نہیں کر سکتا۔۔۔

آپ لے جاٸیں اسے یہاں سے۔ یامین نے اس آدمی کو دیکھتےکہا۔

نہہیں۔۔۔ پلیز۔۔۔ نہیں۔۔ آپ مجھے۔۔ قانون کے حوالے کردیں۔ لیکن۔۔۔ پاگل خانے مت بھجیں۔۔ وہ۔۔۔ بہت ٹارچرکرتے ہیں۔ علیزہ بہت زیادہ رونے لگی۔

ڈرامے کر رہی ہے۔۔۔ سمیر نے دھیرے سے کشش کے کان میں کہا۔

یامین۔۔۔! چھوڑ دو اسے۔۔۔ یہ۔۔میرا حکم ہے۔۔! دادا جی نےیامین کو سختی سے کہا۔

یہ۔۔۔ دادا جی کو باہرکون لایا۔۔۔؟؟ کشش نے دانت پیسے۔

ببر۔۔۔! داور کو بھی غصہ آیا۔ سب کیے کراۓ پے پانی پھیر دیا۔

اس۔۔۔ سلو۔موشن ببر کی تو آج خیر نہیں۔۔ کشش نے دانت کچکچاتے ببر کو سخت گھوری سے نوازا۔ ببر نے پہلو بدلہ۔

یہ ہمیں یوں گھور رہے ہیں۔۔؟ہمنے کیا کیا۔۔۔؟؟ دل ہی دلمیں ان سے گھبرایا۔

داداجی۔۔۔ نہیں۔۔۔! یامین نے نفی میں سرہلایا۔

اب ۔۔تماپنے دادا جی کو انکارکرو گے۔۔؟؟ داداجی کے ماتھے پے بل پڑے۔

ایک منٹ۔۔۔! میری بات سنیں۔۔۔ کشش بیچ میں بول پڑی

اور یامین کا ہاتھ تھاما۔

آپ دادا جی کی بات کیوں نہیں سمجھ رہے ۔۔؟؟ جو وہ کہہہ رہے ہیں۔ وہی صحیحٕ ہے۔۔ ہمیں۔۔ علیزہ۔۔۔ چباکے کہا۔

ایک موقع اور دینا چاہٸے۔۔۔کیوں دادا جی۔۔۔؟ یامین کے ہاتھ پے دباٶ ڈالتے معصومیت سے دادا جی کو دیکھتے اس نے کہا۔

یامین کو لگا اب پھر سے اس کے دماغ میں کوٸی کہانی پل رہی ہے۔

ٹھیک ہے۔۔۔! لیکن۔۔ یہ یہاں نہیں رہے گی۔۔ اسے پاکستان سے باہر جانا ہوگا۔۔۔ یامین نے بھی فیصلہ لیا۔

مجھے منظورہے۔ علیزہ کی جان میں جان آٸ۔

پاگل خانے سے آۓ لوگ واپس جانے لگے۔ کہ نکشش نظر بچا کے انکے پیچھے گٸ۔ اور انہیں سب سمجھا کے واپس آگٸ۔

یامین وہاں سے جا چکا تھا۔ داداجی کو ببر اندر لے جا رہا تھا۔ سبھی وہاں سے اپنے اپنے روم میں چلے گٸے تھے۔ رلیہ کو واپس وہیں بند کر دیا تھا۔ جہاں وہ پہلے تھی۔ اسے کھول کے آزاد کر کے رسک نہیں لے سکتے تھے۔باقی کا گنگ وہیں براجمان تھا۔ اور اب گول۔میز انفرنس شروع ہو چکی تھی۔ سربراہی قیادت کشش نے سنبھال رکھی تھی۔

اور پھر وہ ایک پلاننگ کرنے میں کامیاب ہوگٸے۔ اور علیزہکو نیند کی دوا دے کے خود بھیاپنے اپنے روم کی جانب بڑھے۔

کشش روم کی جانب آٸ۔تو یامین کو روم میں نہ پایا۔ خاموش قدموں سے وہ بستر کی جانب بڑ۔ھی۔

کیا پلاننگ کر کے آٸ ہو۔۔۔؟ یامین کی آواز پے وہ آنکھیں بند کیے وہیں اپنی جگہ تھمی۔ اور گہرا سانس خارج کرتی یامین کی طرف مڑی جو بہت اطمینان سے سینے پے ہاتھ باندھے کھڑا اس کی بات سننے کا منتظر تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

اوہ۔گاڈ۔۔۔! یہ سب کیا ہوگیا۔۔۔؟؟ حازق نے عناٸشہ کو آج کی ہوٸ ساری بات بتاٸ تو وہ حیرت میں پڑ گٸ۔

یقین نہیں آتا ۔۔ لوگ اپنے فاٸدے کے لیے کس حد تک خود کو گرا لیتے ہیں۔۔۔عناٸشہ کو حقیقتاً علیزہ سے نفرت سی محسوس ہوٸ۔

دادا جی کونہیں چاہیے تھا کہ اسے معاف کرتے۔

عنا۔۔۔! داداجی کے خلاف کوٸ نہیں جاسکتا۔۔۔ وہ جو کہہ دیتے ہیں وہ پتھر پے لکیر ہوتا ہے۔ اوریقیناً اس کے پیچھے بھی کوٸ نہ کوٸ وجہ رہی ہو گی۔ حازق کو ابھی بھی کچھ گڑبڑ لگ رہی تھی۔

عناٸشہ نے بھی سوچتے اثبات میں سر ہلایا۔

اب وہ اسی گھر میں ہےنجانے اب وہ آگے کیا کرے گی۔۔۔؟ عناٸشہ کو فکر ہوٸ۔

کشش ہے ناں۔۔۔ ! وہ سب سنبھال لے گی۔۔۔حازق مسکرایا۔

ہاں۔۔ ضرور وہ کچھ نہ کچھ کر ہی لے گی۔۔۔ عناٸشہ کے چہرے پے بھی کشش کے ذکر پے سماٸل آگٸ۔

اس کا احسان جو اس نے مجھ پے کیا۔۔ بنا کسی غرض کے۔۔ وہ میں ساری زندگی نہیں بھلا پاٶں گا۔

حازق دھیمےلہجے میں بولا۔ تو عناٸشہ کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوٸ۔ اور نظریں جھک سی گٸیں۔

ہممممم۔۔۔۔ ! وہ دلکی بہت اچھی ہے۔ عناٸشہ نے بھی ہاں میں ہاں ملاٸ۔

اور اٹھتے ہوٸے کہا۔ کہ حازق نے ہاتھ آگے بڑھا کے اسے واپس بٹھا لیا۔

کہاں جا رہی ہو۔۔۔؟؟ حازق کی آنکھوں میں دیکھنے کی سعی وہ نہ کر سکی۔ کتنے جذبے ہلکورے لے رہے تھے۔ وہ کہاں تاب لا سکتی تھی۔

وہ۔۔۔۔ کا۔۔۔کافی۔۔ پیٸں گے۔۔۔؟؟ آپ کے لیے۔۔۔؟؟ لینے۔۔۔؟؟ عناٸشہ سے بات نہ بن پا رہی تھی۔

مجھے۔۔ کافیکی طلب نہیں۔۔ عنا۔۔۔! گھمبیر لہجے میں کہتے اس نے عناٸشہ کے ہاتھ پے دباٶ بڑھایا۔

عناٸشہ کی پلکیں جھک گٸیں۔

کیا ہوا۔۔۔؟ تم رو رہی ہو۔۔؟؟ اپنے ہاتھ کی پشت پے عناٸشہ کی آنکھ سے گرنے والا آنسو حازق کو بے چین کر گیا۔

حازق۔۔! آپ۔۔ واقعی میں بہت۔۔اچھے ہیں۔۔ میں نے۔۔اتنا کچھ کہا آپ کو۔۔ بنا کسی وجہ کے۔۔ آپ سے دور بھی ہوگٸ۔۔ ! آپ کو محبت میں اتنا تڑپایا۔۔ اور آپ نے۔۔مجھے۔۔معاف کردیا۔۔۔! عناٸشہ نے سچے دل سے کہا۔

کس نے کہا معاف کر دیا۔۔؟؟ حازق نے اسکی آنکھوں کے آنسو دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔

مطلب۔۔۔؟؟ عناٸشہ کو دل کو کچھ ہوا۔

حازق شمریز نام ہے میرا۔۔۔ بدلہ تو میں نہیں چھوڑتا ہوتا۔۔۔! عناٸشہ کو تو چپ ہی لگ گٸ۔

حرت سے حازق ک دیکھے گٸ۔

اب اگر رونا بند ہوگیا ہو تو۔۔ کافی پلا دو۔۔۔! حازق نے مکراہٹ ضبط کرتے کہا۔ تو عناٸشہ فوراً اٹھی۔

حازق نے بیڈ کے ساتھ پشت لگا کے آنکھیں موند لیں۔

اسکےچہرے پے ایک بہت دلفریب مسکراہٹ تھی۔

****************************@

آپ۔۔۔ ابھی تک۔۔۔۔ سوٸے نہیں۔۔۔؟؟ کشش نے اپنا اعتماد بحال کرتے پوچھا۔

کشش جو پوچھا ہے اسکاجواب دو۔ یامین نے اسکے پاس آتے تنبیہہ لہجے میں پوچھا۔

کشش نے لمبی سانس خارج کی۔

کوٸ پلاننگ نہیں کی۔ بس اب شکر ہے اللہ کا سب ٹھیک ہوگیا ہے۔۔ تو کوں پلاننگز کرنے لگی میں۔۔ خواہ مخاہ شک نہ کیاکریں۔ کشش نے ٹالا۔۔

لیکن سامنے بھی یامین سکندر تھا۔

کھینچ کےاپنے مقابل کیا۔

کشش مجھے سختی کرنے پے مجبور نہ کرو۔ میں علیزہ کو کسی صورت معاف کرنے والانہیں۔ اور تم۔۔ نے بیچ میں آکے۔۔۔؟؟

میں بیچ میں آٸ۔۔۔۔؟کیا مطلب آپ کا۔۔۔؟ کشش نے یامین کی بات ٹوکی۔

میں آخری بار پوچھ رہا ہوں

Answer me.

یامیننے لمبا سانس خارج کرتے سخت سنجیدگی سے پوچھا۔ اسے کشش کی فکر ہو رہی تھی۔ وہ کیا کرنے والی تھی۔ اس سب کے برعکس۔ وہ جانتا تھا۔ علیزہ کتنی خطرناک ہے۔ اور وہ کشش کی کوٸ بھی حماقت افوڈ نہیں کر سکتا تھا۔

میر یامین سکندر۔۔۔ آپ کے نادر شک کا مادہ۔۔ کچھ زیادہ ہی ہے۔۔۔اسکے سینے پے شہادت کی انگلی رکھے کہتی وہ اسے تپا گٸ۔

تو ٹھیک ہے۔۔۔ اب تمیہیں رہو گی۔ اسی روم میں بند۔۔ باہرنہیں نکلو۔گی۔ جب تک علیزہ کا باہر ملک جانے کا بندوبست ہو نہیں جاتا۔ تم۔۔ اس روم سے باہر۔نہیں آٶ گی۔ یامین کے لہجے میں بہت سختی تھی۔

اوکے۔۔۔! نیور ماٸنڈ۔ مسکراتے ہوٸے کشش نے کہا او باتر کی جانب بڑھ گٸ۔ ابھی وہ یامین کو کچھ نہیں بتا سکتی تھی۔ وہ جانتی تھی۔ جو اس نے کرنے کا سوچا ہے یامین اس میں کبھی ان کا ساتھ نہیں دے گا۔وہ سارا پلان ہی الٹ دے گا۔ خاموشی سے بستر پے جا کے کمفرٹر منہ تک لپیٹے سونے کی تیاری کرنے لگی۔ یامین وہیں کھڑا غصہ ضبط کرتا رہ گیا۔ کشش کے منہ ے کچھ بھی نکلوانا ۔۔ آسان نہ تھا۔ لیکن یامین نے بھی اسے قابو رکھنے کا سوچ لیا تھا۔ رات کافی ہوگٸ تھی۔وہ اس سے صبح بات کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ ابھی خود بھی تھکا تھا تو سونے کی ہی ترجیح دی۔

یامین کو بستر پے لیٹتے ہی سوچوں نے گھیرا ڈال لیام اور وہ نیند کی وادی میں کھونے لگا۔

کشش نے رخ اسکی جانب کیا۔ اور اسکا ہاتھ اٹھا کے اسکے سینے پے اپنا سر رکھا۔ اسے اب اسکے سینے پے سر رکھ کے سونے کی عادت سی ہونے لگی تھی۔ یامین نے اسکا اپنے قریب ہونا محسوس کیا تو اس کے گرد اپنی بانہوں کا حصار بناتا مزید قریب کر گیا۔ ایک مسکراہٹ نے کشش کے لبوں کا احاطہ کیا۔

میرو۔۔۔۔! دل سے اسے دھیمے لہجے میں کہتی وہ آنکھیں موندتی سونے کی کوشش کرنے لگی۔

کشش سو جاٶ۔۔۔! یامین کی آواز پے اسکی آنکھیں وا ہوٸیں۔۔ کیا۔۔۔ یہ۔۔۔ جاگ رہے ہیں۔۔؟ کشش کو اپنی جلد بازی پے غصہ آیا۔

اتنی بھی کیا جلدی تھی۔ سونے تو دیتی۔۔۔ کیا سوچتے ہوں گے میرے بارے میں۔۔۔؟؟ دل ہی دل میں وہ خود سے مخاطب ہوٸ۔

آپ۔۔جاگ رہے ہیں۔۔؟؟ دھیرے سے اسکے کان میں کہتی وہ اسے اکسا رہی تھی۔ یامین نے آنکھیں نم وا کیں۔ اور اسے گھورا۔

سوتی ہو۔۔۔یا۔۔؟؟ دھمکی دی۔ جو کارگر ثابت ہوٸ اور کشش نے فوراً آنکھیں بندکیں۔

کھڑوس۔ ! زبان پھر بھی اسکی چپ نہ ہوٸ۔

یامین نے اسے زور سے کھینچ کے اپنے ساتھ لگایا کہ اسکا سانس ہی رکنے لگا۔

گردن اٹھا کے اسے دیکھا۔

مارنے کا ارادہ ہے کیا۔۔۔؟؟ ناراضگی سے کہا۔

ارادے تو تم۔۔ میرے ۔۔ ابھی جانتی ہی نہیں۔۔ جب جان جاٶ گی۔۔۔ تو جان سے جاٶ۔ گی لہجے کا گھمبیر پن ۔ کان کی لو کو چھوتے اسکے لب کشش کی تو بولتی بند کرگٸے۔

اس نے اب کی بار خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا ۔ اور آنکھیں بند کرتی دل کو سنبھالتے سونے کی کوشش کرنے لگی۔ یامین نے مسکراتے ہوٸے۔ ۔۔ اسکے ماتھے پےپیار کی مہر ثبت کی اور مطمین ہوتے خود بھی آنکھیں موند لیں۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

حازق۔۔۔! ایک بات مجھے سمجھ نہیں آٸ۔۔۔ مدیحہ کی مما ۔۔ مجھ سے آپ کی مما کے روپ میں کیوں ملیں۔؟ کافی کا خالی مگ اٹھاتے وہ سوچتے ہوٸے بولی۔

پیسہ۔۔۔۔ ! سب پیسے کا کھیل۔ہے۔

وہ تمہیں مجھ سے دور کر کے مدیحہکے قریب کرنا چاہتی تھیں۔ تاکہ میں مدیحہ کواپنا لوں۔ اور تمہیں بھول۔جاٶں۔ حازق نے عناٸشہ کے چہرے پے نظریں گاڑتےہوٸےکہا۔

آپ کو۔۔تو ۔۔۔ اچھا خاصا سنبھال لیتی ناں۔۔؟؟ عناٸشہ نے منہ بنایا۔

ہاں۔۔ سنبھالنے والی تو بہت مل رہی تھیں۔ لیکن۔۔ اس دل کا کیاکرتا جو ۔۔تمہارے پیچھے ہی خوار ہوٸے جا رہا تھا۔۔۔؟ حازق نے اسکا ہاتھتھام۔اپنے دل کے مقام پے رکھا۔

کچھ زیادہ ہی نہیں رومینٹک ہو رہے آج۔۔۔؟؟ عناٸشہ نے میٹھی نگاہوں سے شوہر کودیکھا۔

آپ موقع دیں محترمہ۔۔ پھر آپ کو پتہ چلے گا۔۔ کہ رومینٹک ہونا کیا ہوتا ہے۔۔۔! عناٸشہ کو اپنے قریب کرتا وہ مسکرایا۔ جبکہ ناٸشہ کے چہرے پے بھیآسودہ مسکراہٹ تھی۔

وہ واقعی خوش نصیب تھی۔ مشکلات تو آٸیں تھیں۔ لیکن آزماٸش تو محبت کے لیے شرطِ لازم ہے۔

اور وہ دونو ں ہی اپنی اپنی آزماٸش میں پورا اترے تھے۔اور ایک دوسرے کو پا لیا تھا۔

بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور وہاں سے مدد بھیجتا ہے جہاں انسان تصور بھی نہیں کر پاتا۔ بس انسان کا اللہ پے توکل۔مضبوط ہونا چاہیے۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

وہ ہاتھ جوڑے کھڑی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

دادا جی کے چہرے پے پریشانی رقم تھی۔۔

آپ نے آج ۔۔ مجھ پے جو احسان کیا ہے۔۔ وہ میں۔۔۔؟

آپ پے نہیں۔۔ خود پے کیا ہے۔۔ عالیہ بہو۔۔۔ عزیز۔۔ میرا بیٹا ہے۔ کسینکا دھیان۔انکی طرف نہیں گیا۔ وہ مشکل۔میں ہے۔۔ اور میں یہ بھی جانتا ہوں۔۔ اس علیزہ نے ہی کوٸی نہ کوٸی چال چلی ہوگی۔ فکر۔نہ کریں۔۔ وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔۔ اور جلد ہی پتہ چل جاٸے گا۔۔ مں کل۔ہی یامین سے بات کرتا ہوں۔۔ آپ فی الحال۔کسی سے زکر نہ کرنا اس بات کا۔۔

عالیہ بیگم کو سمجھاتے وہ انہیں تو مطمین کر گٸے لیکن خود کی بے چین طبعیت کوسمجھ نہ پاٸے۔ دل اپنے بیٹے عزیز کے لیے بے انتہا پریشان ہوا۔

اور اللہ سے اسکی سلامتی کے لے دعا گو ہوٸے۔

عالیہ بیگم کے مرے سے نکلنے کے بعد وہاں کھڑے داور کے تو مانو قدمہی جم گٸے ۔ وہ جاسوسی کرنے آیا تھا۔ اور عزیز صاحب کے غاٸب ہونے کا سن کے وہ تو ایک دم ماٶف ہوگیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *