Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Ishq Mera (Episode 01)

Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan

میر ولا میں اسوقت ہو کا عالم تھا۔سبھی سو رہے تھے۔

بلکہ یہ کہنا زیاہ۔مناسب ہوگا۔ کہ اب کچی نیند میں ہی ہوں گے۔

لیکن سبھی اپنے اپنے روم میں تھے۔

اس سب میں ایک بندی ایسی بھی تھی جسے ایک لمحے کو سکون نہ تھا۔

اپنے کراٸم پارٹنرز کرن عزیز اورسمیر سکندر کے ساتھ فل پلاننگ کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوٸے تھی۔

ہاں۔۔ !! ہوگیا۔۔ یہ لاسٹ بھی۔۔۔!!

ہاتھ جھاڑتی کشش بڑے پراعتماد انداز میں کھڑی ہوٸی تھی۔

کرن اور سمیر نے ایک دوسرے کا منہ دیکھا۔

انہیں تو بخش دیتی آفت کی پرکالا۔۔۔۔۔!!

سمیر دبی دبی آواز میں چلایا۔

اپنی بڑی بڑی گول آنکھوں کو سمیر پے فٹ کیے اسنے بھنوٸیں بھینچیں۔

کس خوشی میں۔۔۔؟؟ انداز تیکھا تھا۔

میرے لیے گھر کا ہر فرد برابر ہے۔۔۔!! اور ۔۔۔ یہ بھی اسی گھر کا فرد ہیں۔

بند دروازےکے باہر کھڑے مزے سے دلیل دی۔

نکلو۔۔۔ یہاں سے۔۔۔ میری ماں۔۔۔!! انہوں نے ہماری کھس پھس سن لی ناں۔۔۔ تو ہمارا کچومر نکال دینا ہے۔

کرن نے اسکا ہاتھ تھاما اور تینوں گارڈن تک بھاگے تھے۔

چلو۔۔۔ جی۔۔ اب بس۔۔۔ 5 منٹ اور۔۔ پھر۔۔ ہوگا۔۔ بلاسٹ۔۔۔!!

کشش نے دونوں ہاتھوں سے خوشی سے تالیاں بجاتے کہا۔

بلاسٹ۔۔۔۔۔؟؟ سمیر نے منہ بنا کے پوچھا۔

yes partner.. blast….

کاندھا پے زور سے دھموکا جڑا۔

تھی وہ چھوٹی سی لیکن ۔۔اس کے اندر جان بڑی تھی۔

مجھے تو لگ رہا ہے۔۔ آج دہشت گردی کے چکر میں جیل کے اندر ہوں گے۔۔۔۔!!

سمیر نے بے چارگی سی صورت بناتے کہا۔

نہ۔نہ۔۔۔ اتنی جلدی نہیں۔۔۔ !! ابھی تو بہت کچھ کرنا باقی ہے۔۔۔!! بس۔۔۔ دو منٹ۔۔۔ رہتے ہیں۔۔۔!! تیار ہوجاٶ۔۔۔

کشش خوشی سے بولی۔

کرن کا دل لرزا۔۔!! اسے اس سب کے بعد کے حالات نظر آرہے تھے۔ اسے یقین تھا۔ گھر والے پھانسی پے چڑھانے میں منٹ بھی نہیں لگاٸیں گے آج۔۔۔

ایک منٹ۔۔۔۔!! کشش نے لاٸٹر جلایا۔

پٹاخوں کی ایک لمبی قطار کا سرا اسکے ہاتھ کے سامنے ہی تھا۔ جبکہ اسکے کہیں ایک سرے گھر کے سب افراد کے روم کے دروازوں کے باہر پوری شان سے براجمان تھے۔

ریڈی۔۔۔۔ اینڈ بلاسٹ۔۔۔۔۔۔!!

ساتھ ہی پٹاخے کی تار کو آگ لگا دی۔ جسکا رخ اندر کی طرف تھا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

وہ ابھی ابھی میٹنگ کی ویڈیو کانفرنس کال سے فری ہوا تھا۔ کافی لمبی میٹنگ تھی۔

فارن کنٹری سے بہت اہم شخصیات آرہی تھیں۔ جہنوں نے اسکے ہوٹل التاج سکندر میں قیام کرنا تھا۔

ان کے بارے میں ڈیٹیلز وغیرہ اپنے بزنس پارٹنر حازق شمریز کے ساتھ وہ ڈسکس کرنے کے بعد اب سکون کی نیند لینے کا سوچ رہا تھا۔

وہ یونہی بڑا بزنس مین نہیں بنا تھا۔ اس میں اسکی محنت اسکی شدت پسندی اور ان سب سے بڑھ کے اسکا فاتح کہلانے کا جنون۔۔۔شامل تھا۔

اور ۔۔ آج وہ ایک نہیں ۔بلکہ ۔۔شہر کے سب سے اعلی اور معیاری چھ ہوٹلز کامالک تھا۔

جواپنی شان اور اپنے طرز کے پورے شہر میں جانے مانے جاتے تھے۔

اور اس سب کو کامیاب کرنے میں اسکے دوست حازق کا سب سے بڑا ہاتھ تھا۔

یہ کوٸی اور نہیں ۔۔ میر ولا کے سب سے بڑے پوتے میر یامین سکندر ہیں۔

جو اپنے نام کے بھی ایک ہی ہیں۔

ابھی وہ نیند کی وادیوں میں کھونے ہی والا تھا۔ کہ ایک دم سے باہر سے زور زور کی آوازیں آنے لگیں۔

ایک پل کو تو وہ اپنے حواس بحال کرنے میں لگا گیا۔

شاید گولیاں۔۔۔ چل رہی ہیں۔۔؟؟ ہمارے گھر میں۔۔؟؟

یامین انہی قدموں سے اٹھا۔

اور بنا جوتے پہنے وہ باہر بھاگا۔

درواہ کھولا۔ کہ منہ کے سامنے چلتے پٹاخوں نے اس کا دماغ بھک سے اڑایا۔

یہی حال باقی سب کا بھی تھا۔

سبھی اپنے روم سے باہر نکلے تھے۔

سب کے چہروں پے ایک ڈرتھا۔

یا خدا۔۔۔۔!! یہ کیا ہے۔۔۔؟؟

منجھلی چچی نے ماتھے پے ہاتھ مارتے پوچھا۔

یہ سب۔۔۔ کس نے کیا۔۔۔؟؟

نہال سکندر نے غصہ ضبط کرتے پوچھا۔

جبکہ اس گھر اس بنگلے کے مالک تاج سکندر سب کے دادا جی بڑی فرصت سے لب پے مسکان سجاٸے یہ نظارہ کر رہے تھے۔

جن کا رخ اب گارڈن کی جانب تھا۔

باقی سب کا رخ بھی انہی کے پیچھے تھا۔

وہ سب گارڈن ایریا میں پہنچ گٸے تھے۔

آس پڑوس بھی شاید ڈرکے مارے جاگے ہوں گے۔

لیکن یہاں پرواہ کسے تھی۔۔۔۔۔؟؟

سرپراٸز۔۔۔۔۔

Happy new year….. dada g…..!!

کشش کی چہکتی آواز پے سب دم بخود رہ گٸے۔

جبکہ کشش کی سماٸیل جو انتہا کی خوبصورت تھی۔ دادا جی اسے ہی دیکھتے جا رہے تھے۔

بہت سے چہرے خوش تھے توبہت سوں کے چہروں پے ناگورای تھی ۔۔ بالخصوص یامین سکندر کا پارہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا۔

دادا جی نے اپنی بانہیں وا کیں اور کشش جو سب کو خاموش اور خراب موڈمی دیکھ تھوڑی رنجیدہ ہوٸی تھی۔

داداکے مسکرا کے بازو پھیلانے پے ان کے سینے سے جا لگی۔

پاس کھڑے سمیر اور کرن نے صد شکر ادا کیا۔

کہ جان بچ گٸ۔ ورنہ آج ۔۔ پکا جیل کی ہوا کھانی تھی۔

I love u you dada g….

کشش کی سریلی آواز جہاں دادا جی کے کانوں میں رس گھول رہی تھی۔ وہیں یامین کو اسکی آواز زہر لگی تھی۔

میری جان۔۔۔!! یہ کون سا طریقہ ہے۔۔۔

happy new year

کہنے کا۔۔۔؟؟

دادا جی نے اپنی لاڈلی پوتی کو دیکھا۔ جسکو دیکھ دیکھ کےہی تو وہ جیتے تھے۔ جان بستی تھی اس کے اندر دادا جی کی۔

its pure my idea….

سارا کریڈیٹ خود لیا ۔ سمیرا اور کرن کا منہ کھلا رہ گیا۔

ارے۔۔۔ صرف یہی نہیں۔۔۔ اسطرف آٸیں سب۔۔۔۔!! دادا جیکھینچتے وہ گارڈن کے دوسری طرف لے گٸ۔

جسے بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔

اور ایک چاکلیٹ کیک جس کی بہت ساری Layers تھیں۔

سامے بہت خوبصورت انداز میں رکھا گیا تھا۔

سب کی نظروں میں ستاٸش تھی۔

واہ بھٸ کمال کر دیا۔ بہت خوبصورت ہے یہ۔۔۔۔!!

سمیہ بیگم نے تعریف کی تو کشش کاسر مزید فخر سے بلند ہوا۔

آجاٸیں۔۔۔ سب۔۔۔ نیو اٸیر سلیبریشن کرتے ہیں۔۔ !! سب کا اکھٹا کیے وہ دادا جی کو کیک کاٹنے کا بولتی ان کے بالکل ساتھ کھڑی ہوگٸ۔

یامین۔۔۔ پتر۔۔۔۔!! آجا۔۔۔ یار۔۔۔ تیرے بغیر۔۔۔ کٹ سکتا ہےکیا بھلا۔۔۔؟؟

منہ بناتا یامین واک آٶٹ کرنے لگا تھا کہ دادا جی کی پکار پے رکا۔

ایک نظر منہ بناتی اس چمگادڑ کو دیکھا۔جو اسے چمگادڑ ہی لگتی تھی۔

اور دوسری طرف جان سے پیارے دادا جی۔۔ جن کی وہ کوٸی بھی بات بھلا کب ٹال سکتا تھا۔۔

چلتا ہوا ان کے داٸیں طرف آن کھڑا ہوا۔

پارٹنر۔۔۔ کیمرہ آن۔۔۔۔!

وہ چہکتی ہوٸی سمیر سے بولی۔

بے شمار تالیوں اور شورکی آواز پے کیک کاٹا گیا۔

آسمان پے آتش بازی کی گٸ۔ سب کی نظریں آسمان پے تھیں۔ ایک لمحے کوہر طرف خاموشی چھا گٸی

beautiful…..

کشش زیرِلب بڑبڑاٸی۔

یامین کی نظر آسمان سے ہٹ کر دادا جی کےباٸیں طرف کھڑی اس پٹاخہ پے گٸ۔

جو دم بخود آسمان پے دیکھے جا رہی تھی۔

اسکی آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی۔

سنہری چمک۔۔۔ جو اسے سب سے الگ بناتی تھی۔اور جو صرف بہت زیادہ خوشی کے لمحے ہیاسکیآنکھوں میں نظر آتی تھی۔

اگر کوٸی بھی ایک بار وہ چمک دیکھتا تو دیکھتا رہ جاتا۔

پلک جھپکنا بھول جاتا۔

ابھی یامین کا بھی یہی حال تھا۔ وہ بھی بنا پلک جھپکے اسکی آنکھوں میں دیکھے جا رہا تھا۔

وہ پلٹی۔ اور دادا جی کے ساتھ لگی۔ خوش ہورہی تھی۔ مسکراہٹ اسکے چہرے سے ہٹ ہی نہ رہی تھی۔

کٹ کیاہوا کیک دادا جی کے منہ میں ڈالا۔۔

باری باری سب کو کھلاتی جار ہی تھی۔ وہ۔

کھلاتے ہوٸے وہ یامین کی جانب بڑھی۔

اور ہاتھ اسکے منہ کےگے کیے وہ مسکراکے اسے کھانے کا اشارہ کر رہی تھی۔

کشش نے کیک اسکے منہکی طرف بڑھایا۔اسی لمحے یامین نے اسکی کلاٸی پکڑی ۔

کشش کی مسکراہٹ سمٹی۔

اوہ کھالے پتر۔۔۔۔!! بہت اچھا اور مزے کا ہے۔۔۔!!

دادا جی نے کیک کا ایک اور پیس اٹھاتے یامین کوپیار سےکہا۔

یامین نے اسکےہاتھ سےکیک لے کے ساٸیڈ پلیٹ میں رکھا۔ اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

کھڑوس۔۔۔۔!! کشش نے ہمیشہ والا لقب اسے پھر سے دے دیا۔

اور اگنور کرتی باقی سب کی جانب مڑی۔

سیلفی ٹاٸم۔۔۔۔!! سب کو اپنے ساتھ کھڑا کیے وہ سیلفیاں لیے جا رہی تھی۔

جبکہ دور اوپر ہی اپنے روم کی ونڈو سے یامین لب بھینچے یہ منظر بڑے ضبط سے دیکھ رہا تھا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

رات کو کافی لیٹ سونے سے سبھی کی آنکھ صبح لیٹ کھلی۔

لیکن یامین سکندر اپنے وقت پے اٹھے ۔ آج کا دن اس کے لیے بہت اہم تھا۔

ناشتے سے فارغ ہوتا۔۔ وہ اپنا والٹ اٹھاتا۔ گاڑی کی کیز لیے سوٹڈ بوٹڈ باہر کی جانب قدم بڑھاٸے۔ کہ ۔۔۔۔اسے ایسا لگا کوٸی بھونچال آگیا ہو۔

مڑ کے دیکھا۔

کشش کے ہاتھ میں پانی کا پاٸپ تھا۔ اور سامنے داور تھا۔ جسے وہ پورا کا پورا پانی میں ڈبو چکی تھی۔

اور وہ بھی چپ چاپ بھیگے جا رہا تھا۔

ایک بل بھی نہیں آیا تھا ماتھے پے۔

اب بتاٶ کہاں تھے رات کو۔۔۔۔؟؟ کہا تھا وقت پے آنا۔۔۔ مس کر دیا تم نے سب۔۔۔۔!!

داور کو۔اچھے سے بھگو کے وہ ہاتھ جھاڑتی اس سے دوبدو ہوٸی۔

یامین نفی میں سر ہلاتا وہاں سے باہر نکلا۔

یہ روز کامعمول تھا۔ اب تو سبھی عادی ہوگٸے تھے۔

لیکن گاڑی میں بیٹھتا یہ ان سب کا نہ کبھی حصہ بنا تھا۔ اور نہ کبھی بن سکتا تھا۔

وہ یامین سکندر تھا۔

ہرایک سے الگ۔۔۔ ہر ایک سے جدا۔۔ اپنی زندگی میں جینے والا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

حازق شمریز۔۔۔ کافی دیر سے یامین کا انتظار کررہا تھا۔

فارن کنٹر ی سے اہم شخصیات پہنچنے والی تھیں۔

انہیں ویلکم کا بھی بہت زبدست انتظام ہو چکا تھا۔

یامین کے پہنچتے ہی سب عمل الرٹ ہواتھا۔

وہ کسی ریاست کے شہزادے کی طرح التاج ہوٹل میں داخل ہوا۔

اور حازق سے ساری ڈیٹیلز لیتا وہ اپنے آفس کی جانب بڑھتا آج کے دن کا آغاز کر چکا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *