Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Ishq Mera (Episode 03)

Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan

آج سارا دن وہ کمرے سے باہر نہ نکلی ایک عجیب سی بے کلی چھاٸی تھی۔

دادا جی اپنی زمینوں پے گٸے تھے۔

اور سمیر اور کرن سے بھی ناراضگی تھی۔

اتنے بے مروت ہوگٸےتھے کہ اسے منانے بھی نہیں آٸے تھے۔

سارا دن سو کے گزارا۔ شام ہوٸی تو بھوک نے ستایا۔

تو اٹھ کے باہر آگٸ۔

کچن کا رخ کیا۔

اور وہاں ببر کو مستعدی سے ہاتھ چلاتے دیکھ اسکی آنکھیں پوری کی پوری کھل گٸیں۔

کیا بنا رہے ہو ببر۔۔۔۔؟؟

گاجر کو منہ میں ڈالتے بہت مسکا کے پوچھا۔

جی۔۔۔ وہ۔۔۔ یامین بھاٸی کے لیے ۔۔۔ چکن جلفریزی۔۔۔۔

بنا دیکھے صرف جواب دینے پے ہی اکتفا کیا۔

چکن جلفریزی کے نام پے تو مانو کشش کی آنکھیں چمک گٸیں۔

بلکہ بھوک نے اور زوروں سے شور مچانا شروع کر دیا۔

بن گیا۔۔۔کیا۔۔۔؟؟

فوراً اٹھ کے اسکے پاس آکے چھوٹے بچوں کی طرح خوش ہوتے پوچھا۔

آپ۔۔۔کے لیے۔۔۔نہییں۔۔۔ یامین بھاٸی کے لیے ۔۔بنا رہے ہیں۔۔۔!!

اس نے سپاٹ لہجے میں پلیٹ سرو کرتے کہا۔

ارے۔۔ہٹو۔۔۔ بھی۔۔۔ تم بھی ناں۔۔۔ اپنے یامین بھاٸی کی طرح ہر وقت کوے کا مغز کھا کے گھومتے ہو کیا۔۔۔؟؟

ایک پلیٹ سے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔

مزے سے ایک پلیٹ بھر کے لیتی وہ ساتھ میں چکھتی مزے بھی لے رہی تھی۔

آپ۔۔کیوں۔۔۔ ہمیں۔۔ نوکری سے نکلوانا چاہتی ہیں۔۔؟؟

ان کے مہمان بھی آٸے ہیں۔۔ ان کے لیے بھی بنایا ہے۔۔۔ اب ۔۔۔ یہ ۔۔۔ اتنا کم کیسے لے کے جاٸیں ہم۔۔۔؟؟

ببر بہت پریشان ہو گیا۔

جبکہ کشش کے کان پے تو جوں بھی نہ رینگی۔

ببر اور کتنا وقت لگے گا۔۔۔؟؟

اتنے میں یامین کا کچن میں آنا ببر کو مزید کنفیوز کر گیا۔

جبکہ کشش مزے سے پلیٹ ختم کرنے والی تھی۔

یامین۔۔ بھاٸی۔۔۔ بن تو گیا۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔

اشارہ سامنے کشش کیجانب کیا۔

یامین اسکی پلیٹ دیکھتے سمجھ گیا۔

سختی سے آنکھیں موند کے کھولیں

اپنا شدید غصہ کنٹرول کیا۔

آج وہ اسپیشل حازق کر گھر لایا تھا۔

گھر کا بنا چکن جلفریزی کھلانے۔۔۔ لیکن ۔۔یہاں۔۔ معاملہ ہی سنگین صورت اختیار کر گیا تھا۔

حد ہوتی ہے۔۔۔۔ بد تمیزی کی۔۔۔ !!

گھر میں ۔۔۔ اور بھی بہت کچھ بنا ہوا ہے۔۔۔

لیکن۔۔۔نہیں۔۔ تمہیں۔۔ تو بس مزا آتا ہے۔۔ ناں۔۔ دوسروں کو تنگ کرنے میں۔۔۔؟؟

سویرا بیگم کے اچانک آجانے سے سبھی چونکے۔

انہوں نے آتے ہی کشش کو ڈانٹنا شروع کر دیا۔

بڑی۔۔ امی۔۔۔۔ !! یہ۔۔مجھے۔۔ پسند ہے۔۔ اسلیے۔۔۔!!

وہ منہ بناتی منمناٸی۔

پسند ہے تو ۔۔ خود بنا لیتی اپنے لیے۔۔۔ ہمیشہ دوسروں کے کھانے پے نظر رکھی ہوتی ہے۔۔۔

سویرا بی بی آج کچھ زیادہ ہی غصے میں تھی۔

ایک پلیٹ پے آپ ۔۔۔مجھے۔۔ اتنا سنا رہی ہیں۔

کشش نے پلیٹ ساٸیڈ پے رکھتے ماتھے پے تیوری چڑھا لی۔

اب۔۔ تم۔۔۔مجھ سے زبان لڑاٶ گی۔۔۔؟؟ بدتمیزی کرو گی۔۔۔؟

سویرا بی بی جارحانہ انداز میں آگے بڑھیں۔

اپنے حق کے لیے بولنا بد تمیزی نہیں ہوتا بڑی امی۔۔۔ کسی کو نیچا دیکھانا بدتمیزی ہے۔۔۔ میں بھی اس گھر کی بیٹی ہوں۔۔۔ ! اور یہ بات آپ کو بھی پتہ ہے۔۔۔۔!!

سخت سنجیدگی سے کہتے وہ کہیں سے بھی سترہ سال کی نہیں لگ رہی تھی۔ وہ اپنی عمر سے کافی بڑی نظر آٸی ابھی۔

سمیرا بی بی کو لاجواب کرتی وہ خاموش کھڑے یامین کیطرف آٸی۔

اور۔۔۔ آپ۔۔۔ اتننننننے۔۔۔۔ بڑے ہوٹل کے مالک ہیں۔۔ وہاں۔۔ ببر سے بھی زیادہ اچھے کک ہوں گے۔۔۔۔!!

ببر کی طرف اشارہ کرتے کہا۔ تووہ سٹپٹایا۔

تو اپنےدوست کے ساتھ وہاں بیٹھ کے چکن جلفریزی کو انجواٸے کرتے۔۔۔

یہاں۔۔۔ کچن۔۔میں۔۔ آپ نے ضرور چکن بنوانا تھا۔۔۔؟؟

وہ مزے سے کہتی ہاتھ باندھے یامین کو حیرت میں ڈال گٸی۔ وہ ہمیشہ بہت پرسکون رہ کے اگلے کا سکون غارت کر دیا کرتی تھی

ایک مفت مشورہ ہے۔۔۔۔!!

پیچھے مڑ کے سویرا بی بی کو دیکھتی وہ یامین کے کان کے قریب ہوٸی۔

اسکی سانسوں کی مہک یامین کو بہت قریب محسوس ہوٸی۔

اپنے دوست کو پکڑیں ۔۔ اور ۔۔ یہاں سے نکل لیں۔۔۔ اپنے ہوٹل میں جاٸیں۔۔ اور موج اڑاٸیں۔۔۔!!

ایک ایک لفظ کو بہت میٹھے انداز میں کہتی وہ پھر سے یامین پے سحر پھونکنے لگی۔

باٸے۔۔۔۔!!

پیچھےہوتی مسکراتی ہاتھ سے باٸے کا اشارہ کرتی وہ جا چکی تھی۔

اور حازق نے یہ سین بہت فرصت سے دیکھا تھا۔ اور اس کے چہرے پے ایک دلفریب مسکراہٹ آن سماٸی تھی۔

کیا۔۔۔۔؟؟

یامین کی نظر اس پے پڑی تو وہ ہوش میں واپس آتا اس پے بھڑکا۔

ہوٹل چلتے ہیں۔۔۔۔!!

اپنی مسکراہٹ ضبط کرتا وہ یامین کو لیے وہاں سے نکلا۔

اس لڑکی نے بہت تنگ کر رکھا ہے۔۔۔

ناک میں دم کیا ہوا ہے۔۔

نہ خود سکون سے رہتی ہے۔۔۔ نہ کسی اور کو رہنے دیتی ہے۔

اپنی بھڑاس نکال سویرا بی بی بھی ہاں سے نکل لیں۔

اور ببر اپنا سا منہ لے کے رہ گیا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

روم میں آتے اس نے سب سے پہلے روم۔لاکڈ کیا تھا۔

دراز میں سے بابا اور مما کی تصویر نکالی۔

اور دیکھتےہی دیکھتےسب دھندلا گیا۔

آنکھیں بھیگنے لگیں تھیں۔

وہ جو ہر پل مسکراتی تھی ۔۔۔

ہرلمحے کو جیتی تھی۔۔۔

کوٸی د یکھتا اس پل۔۔۔

وہ کتنی اکیلی تھی۔۔۔۔۔

تصویر کو سینےسے لگاٸے وہ اندر ہی اندر ٹوٹ کے بکھر رہی تھی۔

آٸی مس یو۔۔۔ مما۔۔بابا۔۔۔۔

وہ رو ددی تھی۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

تاج سکندر کی تین اولادیں تھیں۔

بڑے بیٹے حیات سکندر

چھوٹے افضال سکندر

اور سب سے چھوٹے بیٹے عزیز سکندر۔

بڑے بیٹے کی شادی خاندان میں ہوٸی۔

بیوی کا نام منزہ تھا۔

اور یامین سکندر کی ماں ۔۔۔

لیکن یامین کی پیداٸش کے بعد کینسر جیسے موزی مرض کا شکار ہوگٸیں۔

اور خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔

انکی وفات کے کچھ عرصے بعد ہی اپنی دوست سویرا کو وہ بیاہ کے گھر لے آٸے۔

انہوں نے یامین کو ماں کا پیار تو دیا۔ لیکن۔۔ اپنے بیٹے داور کی پیداٸش کے بعد وہ یامین کو نظر انداز کرتی آٸیں۔

لیکن دادا ۔۔۔۔تاج سکندر۔۔

جنکے لیے یامین سے بڑھ کے کوٸی نہ تھا۔

داور یامین سے تین سال چھوٹا تھا۔

دوسرے نمبر پے تھے افضال سکندر جن کی شادی شماٸلہ سے ہوٸی تھی۔

دونوں ہی خوش تھے اپنی زندگی میں لیکن بس اولاد کی نعمت سے محروم تھے۔

لیکن اللہ نے انکی سن لی اور شادی کے دس سال بعد انہیں ایک ننھی سی کلی سے نوازا ۔ جس کے گال روٸی کی طرح نرم اور آنکھیں بالکل کانچ کی طرح نیلی تھیں۔ چھوٹی سی وہ ہر ایک کو اٹریکٹ کرتی۔۔ نام بھی اسکا دادا جی نے کشش ہی رکھا۔

وہ سب کو بہت لبھاٸی تھی۔

اور وہ دادا کی جان بنتی چلی گٸی۔

چار سال کی ننھی جان کو وہ سویرا کےپاس چھوڑ عمرہ کے لیے روانہ ہوٸے۔ لے کے تو کشش کو بھی جانا چاہتے تھے۔

لیکن ان دنوں وہ بیمار ہوگٸی تو دادا جی نے نہ بھیجا۔

واپسی پے ان کا پلین کریش ہو گیا۔ اور وہ واپس نہ لوٹ سکے

چار سال کی ننھی جان کتنے دن یونہی دروازے کو تکتے گزارتی رہی ۔۔ کہ دادا جان تڑپ جاتے۔۔۔

یامین دس سال کاتھا۔

اسے بھی کشش کا یوں اداس ہونا اچھا نہ لگتا تھا۔ وہ اسکی بہت دلجوٸی کرتا۔

اسکے لیے چاکلیٹس لاتا۔ اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتا۔

اور وہ یامین کے ساتھ اٹیچ ہونے لگی۔

یہ بات سویرا بی بی کو ایک اکھ نہ بہاٸی۔

اور ان کے بیچ میں دوریاں بنانا شروع کر دیں۔

تیسرے نمبر پے تھے عزیز سکندر۔۔۔

انکی شادی بھی خاندان میں ہوٸی۔

انکی بیوی کا نام عالیہ تھا۔

انکی تین اولادیں تھیں۔

سب سے بڑی جویریہ

اس سےچھوٹا سمیر

اور سب سے چھوٹی کرن تھی۔

کرن کشش سےدو سال بڑی تھی۔

غرض گھر کا ہر بڑا چھوٹا فیصلہ دادا جی ہی کرتے تھے

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

عناٸشہ یونی سے واپسی پے فاٸق کی بتاٸی ہوٸی جگہ پر پہنچ گٸ تھی۔

وہ بہت بڑا ہوٹل تھا۔

ریسپشنسٹ سے فاٸق کاپوچھ کے وہ اس تک پہچ بھی گٸ تھی۔

اس نے کافی دیرا نتظار کروایا۔ وہ بہت مصروف تھا۔

لیکن نوکری لگ گٸ تھی وہ اسیمیں خوش تھی

کل سے جواٸن کرنا تھا۔ پارٹ ٹاٸم تھا۔

اور ایکسٹرا ٹاٸم لگانے سے کمیشن الگ ملنا تھا۔

وہ بہت خوش تھی اور سیلری پیکج بھی بہت اچھا تھا۔

اور ہوٹل بھی کافی بڑا تھا۔

وہ بہت خوشی سے گھر پہنچی اور عابدہ بیگم کو یہ خوش خبری سناٸی۔

انہوں نے رب کا شکر ادا کیا۔

کھانا کھا کے وہ بھینماز پڑھ کے جلدی فارغ ہوگٸ۔ اور ماں کو لے کے باہر آٶٹنگ پے چلی گٸ۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

اب ناراضگی ختم بھی کر دو۔۔۔۔یار۔۔۔!!

سمیر نے کوٸی دسویں بار ہاتھ جوڑے تھے۔

لیکن کشش کے تو مزاج ہی نہیں مل رہے تھے۔

آج تین دن بعد یاد آٸی منانے کی۔۔

اور ضرور کوٸی کام ہوگا اسی لیے آٸے ہو۔۔۔۔!!

کشش نے پارپ کارن کھاتے ساتھ مووی دیکھتے بڑے لاپرواہ انداز میں کہا۔

سمیر تھوڑا سٹپٹا گیا۔

یار۔۔۔!! اس بار تمکچھ زیادہ ہی غصے میں تھی۔۔ تو سوچا تھوڑا غصہ اتر جاٸے ۔۔پھر ہم۔۔جاٸیں اپنی بوس کا منانے۔۔۔۔!!

کرن نے بھی مسکا لگایا۔

بس بس رہنے دو۔۔۔ اور جلدی سے کام بولو کیا۔۔کام ہے۔۔۔۔؟؟ بہت بزی ہوں۔۔میں۔!!

ہاتھ جھاڑتے چینل چینج کرتے لٹھ مارنے والے انداز میں کہا۔

اف۔۔۔ ناراضگی ختم کرو۔۔۔ پہلے۔۔۔!!

سمیر نے شرط رکھی۔

ہمممممم !! کشش سوچ مں پڑگٸ۔

آٸسکریم کھلاٶ گے پھر۔۔۔؟؟

کشش نے اپنی شرط رکھی۔

ڈن۔۔۔۔!! سمیر یہی تو چاہتا تھا کہ وہ واپس پہلے کی طرح ہی ہنسے مسکراٸے۔

وہ ہنستی تی مسکراتی تھی رو پورا گھر ہی ہنستا تھا۔

وہ اداس ہوتی تو پورا گھر ویران ہو جاتا۔

اور تم میڈم۔۔۔ آج۔۔۔ چکن بریانی کھلاٶ گی اپنے ہاتھوں سے بنا کے مجھے۔۔۔۔!

فوراً سے خوش ہوتی کرن کو بھی لگے ہاتھوں پکڑا۔

ہمممم اوکے۔۔ ڈن۔۔۔۔!!کرن بھی مان گٸ۔

چلو۔۔ پھر۔۔۔!!

کشش نے اٹھتے ہوٸے کہا۔

کدھر۔۔۔؟؟کرن نے حیرانی س پوچھا۔

پہلے آٸسکریم کھا آتے ہیں۔۔۔!!

پروگرامترتیب دیا۔ اور فریش ہونے باتھ کا رخ کیا۔

اسکی تیزی دیکھ کرم اور سمیر زیرِلب مسکراٸے۔

تینوں تیار ہوتے اجازت لیتے اب گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔

ارے بھٸ۔۔۔ یہ آفت کا ٹولہ کہاں جا رہا ہے۔۔۔؟؟

داور نے انٹر ہوتے ٹوکا۔

جبکہ کرن پے ایک بھرپور نظر ڈلانا نہ بھولا۔اور اسکی نظروں کا جھکنا کشش نے بخوبی محسوس کیا تھا۔

آجاٸیں۔۔ آٸسکریم کھانے جارہے ہیں۔۔۔آپ کی کمی ہے۔۔۔۔!! سیٹ بھی خالی ہے۔۔۔

پھر نہ کہنا خبر نہیں ہوٸی۔۔۔۔!!

سمیر کے ساتھ فرنٹ سیٹ پے بیٹھے وہ چہکتے ہوٸے بولی۔

اور کرن جو پیچھے بیٹھی تھی۔ کشش کے یوں کھلم کھلا دعوت دینے پے بری طرح سٹپٹاٸی۔

داور نے کرن کا جھجھکنا نوٹ کر لیا تھا۔

ارے نہیں۔۔۔ تم۔۔لوگ جاٶ۔۔۔ میں پھر کبھی۔۔۔ جواٸن کروں گا۔

داور کرن کا گریز دیکھ وہاں سے مسکراتے اوک آٶٹ کر گیا تھا۔ اور سمیر نے گاڑی رن وے پے ڈالی۔

جبکہ کرن دل ہی دل میں داور کے نہ آنے پے شکر کا کلمہ پڑھتی رہی۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

مما۔۔۔۔ تین سال ہوگٸےہیں۔۔۔ !! ابھی تک۔۔ اس بات کو آپ لوگوں نے ختم نہیں کیا۔۔۔۔!! کیا یہیں ۔۔ زندگی تھم ١قگٸ ہے۔۔۔کیا۔۔؟؟ کیا۔۔۔ یامین۔۔ آگے نہیں بڑھے گا۔۔۔؟؟

جویریہ ماں کے پاس بیٹھی یامین کی حالت پے کڑھ رہی تھی۔

اسکی شادی کو دو سال ہوگٸےتھے۔ اور ایک بیٹے کی ماں تھی۔

کیا کہوں میں جویریہ۔۔۔۔!! سب سویرا بھابھی کے ہاتھ میں ہے۔۔۔!!

عالیہ بیگم بھی افسردہ ہوٸیں۔

پھر بھی مما۔۔۔!! اب یامین کو سب بھلا۔کے آگے بڑھنا چاہیے ۔۔۔!!

اور سویرا مما تو کبھی نہیں چاہیں گیں کہ یامین آگے بڑھے۔ آخر انکی بھتیجی تھی وہ۔۔ بھاٸی کی بیٹی۔۔۔!!

وہ۔کہاں چاہیں گیں۔۔ کہ وہ ۔۔ اسے بھلا کے آگے بڑھیں۔؟

تو ۔۔اسے یاد رکھنے کافاٸدہ بھی۔۔۔؟؟

جو لڑکی شادی کے روز گھر سے بھاگ جاٸے ۔۔ اسے کون دوبارہاپنے گھر کی عزت بناتا ہے۔۔۔؟

عالیہ نے سخت غصے سے کہا۔

انہیں ویسے بھی سویرا بھابھی سے منافقت کی بو آتی تھی۔ اسی لیے کبھی ان سے نہیں بنی انکی۔

بھاگ گٸ وہ۔۔۔!! ایک تو زبردستی کی ۔۔ یامین کے ساتھ۔۔۔ اس وقت وہ پڑھاٸی ہی مکمل کر پا یا تھا کہ۔۔۔۔ نکاح کر دیا۔۔۔ اور رخصتی والے۔۔ دن۔۔۔۔!!

کیا کہہ رہی ہو۔۔۔۔؟ کس کے ساتھ کی زبردستی۔۔۔؟؟

سویرا کے اچانک آکے ٹوکنے پے دونوں ما ں بیٹی نے اک دوسرے کو دیکھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

آٸسکریم کھاتے وہ ادھر ادھر سے مکمل لاپرواہ آٸسکریم سے بھرپور انصاف کر رہی تھی۔

تمہارے منہ پے کیوں بارہ بجے ہیں۔۔؟؟

کرن کو ٹوک ہی دیا کشش نے۔۔۔

نہیں۔۔ یونہی۔۔۔!!

کرن نے ٹالا۔

میں ایک ضروری کال کر کے آیا۔

سمیر کے موباٸیل پے کال آرہی تھی وہ ایکسکیوز کرتا وہاں سے اٹھا۔

اب بتاٶ کیا بات ہے۔۔۔؟؟

کشش اسکی طرف متوجہ ہوٸی۔

لگتا ہے معاملہ دل کا ہے۔۔۔۔!! اب یہ بتاٶ۔۔ یکطرفہ ہے یا دوطرفہ۔۔؟؟

کشش ہمہ تن گوش ہوٸی۔

وہ بھی۔۔۔۔!!

کرن دھیمے سے منمناٸی۔

تبھی کشش کی نظر سامنے سے آتے یامین پے پڑی جس کے ساتھ ایک لڑکی بھی تھی۔

اور وہ دونوں ہی ایک ٹیبل پے براجمان ہوٸے۔

اب تو کشش کا سارا دھیان اسی طرف تھا۔

دانتوں کو کچکچاتی۔۔ اور آنکھیں چھوٹیکرتی وہ انکو بہت اچھی طرح سے واچ کر رہی تھی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *