Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 30)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 30)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
میریامین سکندر۔۔۔! آپ بھی کسی بھول میں مت رہنا۔ یہ میرا کمرہ ہے۔ اور میرا ہی رہے گا۔ سمجھے آپ۔۔۔!کشش کہاں ہارماننے والی تھی۔۔
کشش چلو۔۔۔ یہاں سے۔۔۔! ایک سخت نظر علیزہ پے ڈالتے وہ کشش کا ہاتھ پکڑ کے باہر لے جانےلگا۔
چھوڑیں مجھے۔۔۔ !کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟ کشش بری طرح مچلی۔ لیکن یامین نے بنا اسکی طرف دیکھے اسے کمرے سے باہر لے گیا وہ حیرت کی مورتی بنی اسے خود کو کھنچتا لے کے جاتے دیکھتی رہ گٸ۔
یامین سکندر۔۔۔! وہ۔۔میرا کمرہ ہے۔۔ آپ بھول رہے ہیں۔۔!! کشش نے دہاٸ دی۔
کشش ۔۔! ضد مت کرو۔۔ اور جاٶ۔۔۔! یامین کادل بری طرح پسیج رہا تھا۔ اسکا یوں سب کہنا یامین کے دل درد دے رہا تھا۔
آپ نے تو ابھ یمیری ضد دیکھی ہی نہیں۔۔۔! کشش نے مضبوط لہجے میں کہا۔
یامین نے اسے اس کے اپنے پرانے روم میں لے جا کے چھوڑا۔ تو وہ بپھری۔
تم اب یہیں رہو گی۔۔ اور جب تک میں نہ کہوں۔۔ باہر نہیں آٶ گی۔ اوکے۔۔۔! یامین نے اسے ہدایت کیں۔
ہرگز نہیں۔۔ ! آپ کوکیا لگتا ہے۔۔؟؟ میں کوٸی مظلوم لڑکی ہوں۔۔؟؟ جو رو دھو کے بیٹھ جاٶں گی۔
کشش نے آگے بڑھتے جارحانہ انداز میں کہا۔
کشش۔۔! یامین اسےکچھ کہتے کہتے پھر سے چپ کر گیا۔
اسکی آنکھوں میں ایک داستاں تھی جسے وہ دیکھ ہارنےلگا تھا۔
گہرا سانس خارج کرتا وہ باہرنکلا۔ اور باہر سے لاک لگا دیا۔
میر یامین۔۔سکندر۔۔۔! دروازہ کھولیں آپ۔۔ غلط کر رہے ہیں۔۔
Open the door…
یامین نے آنکھیں بند کیے خود پے ضبط کیا۔ جانے لگا تو سامنے ان تینوں کوشکوہ کناں انداز میں کھڑے پایا۔
آپ۔۔! ایسا مت کریں کشش کے ساتھ۔۔پلیز۔۔ بھاٸی۔۔۔؟؟ کرن نے روندھے لہجے سے کہا۔
یامین نے نظریں پھیرلیں۔
آپ۔۔کی جو بھی وجہ ہے بھاٸ۔۔۔! لیکن۔۔ اسے۔۔مت رلاٸیں۔۔۔ سمیر بھی آگے بڑھا۔
تم بھی کچھ کہہ دو۔۔۔! میںہی غلط ہوں۔۔ باقی سب ٹھیک ہیں۔۔ ! خاموش کھڑے داور کو شکوے والے انداز میں کہتا وہ ان تینوں کو ٹوٹا ہوا لگا۔
بھاٸی۔۔! وہ۔۔۔!
بعد میں بات کرتا ہوں۔۔!لیکن۔۔ ایک بات یارکھنا۔۔ یہدروازہ نہیں کھلنا چاہیے۔۔۔ اگر تم۔تینوں مجھے کچھ بھی عزت دیتے ہو۔۔۔؟؟ تو میری بات کو۔مانو گے۔
یامین نے انہیں اچھی خاصی دھمکی دی۔ اور وہاں سے اپنے روم۔کی جانب بڑھا۔
تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ اور چپ چاپ وہاں سے چلے گٸے۔














نرم و ملاٸم بستر پے لیٹتے علیزہ نے فون کان سے لگایا۔
ہو گیا۔۔۔ میرا کام۔۔ا ب تمہاری باری ہے۔۔ مجھے تو انہوں نے ویلکم کیانہیں۔ لیکن ۔۔ آجاٶ۔۔ میں آپ کا وارم۔۔ ویلکم کروں گی۔ علیزہ نے بہت فخر سے کہا۔ اور قہقہہ مارکے ہنسی۔
فون بند کرتے وہ اٹھی۔ اور انٹرکامپے میڈ کو۔بلایا
جی میڈم۔۔۔؟؟ وہ مودبانہ انداز میں کھڑی ہوٸ۔
اورنج جوس لے کے آٶ۔میرے لیے۔۔ دماغ تھکا دیا میرا۔۔تھوڑا فریش ہوجاٶں۔۔۔۔!
جی۔۔۔۔۔! وہ واپس نکل۔گٸ۔
آہا۔۔۔۔ کیا مزےہیں۔۔ یامین کے۔۔۔؟؟ بہت ترقی کر لی ہے۔۔ بھٸ۔۔۔۔وہ پورے کمرے کا جاٸزہ لے رہی تھی۔
کہ اتنے میں یامین کمرے میں داخل ہوا ۔ اور سیدھا علیزہ کے سر پے جا پہنچا۔ اور اسکا گلاپکڑا۔
تم۔۔۔! کسی بھول میں نہ رہنا ۔۔۔ میری کشش سے دور رہنا۔۔ ورنہ ایسی سزا دوں گا۔ کہ موت بھی مانگو گی۔ تو وہ بھی نہیں دوں گا۔ سمجھی۔
جھٹکے سے اسے چھوڑا۔ وہ کھانستی ہوٸ پیچےہٹی۔
ابل کےاسکی آنکھیں باہر آچکی تھیں۔
اس روم۔میں رہو۔۔ اور سکون سے رہو۔ ۔۔ خبردار ۔۔ میرے گھر کے کسی فرد کو کوٸی بھی تکلیف پہنچانے کی کوشش کی۔
یامین۔۔۔! یہ مت بھولو۔۔۔ کہ تمہارے دادا میرے قبضے میں ہیں۔۔ اور۔۔ اگر۔۔ تم۔نے۔۔۔ مجھے کوٸی بھی چوٹ پہنچاٸی تو خمیازہ انہیں بھگتنا پڑے گا۔۔۔ علیزہ بھی سانس بحال۔کرتی اس کے مدمقابل ہوٸ۔
اسی وجہ سے تم یہاں پے ہو۔ اور میرے دادا جی کو کچھ بھی ہوا۔۔کچھ بھی۔۔۔ وہ دن تمہیں پچھتانےکے لیے بھی نہیں چھوڑوں گا۔
یامین نے غصے سے کہا۔ اور باہر۔نکلا۔ اس سے خو کاغصہ کنٹرول نہیں ہو رہا تھا۔ فون پے جلیل کوساری بات بتاتے اسے دادا جی کو ڈھونڈنے کا کہا۔ ساتھمیں انسپکٹرپرویز کو بھی شامل کرنے کا کہا۔
ایک بار۔۔ صرف ایک بار۔۔۔۔ مجھے دادا کا پتہ چل جاٸے۔ اس کے بعد علیزہ۔۔۔ تمہارا اللہ ہی حافظ ہے












کچی ڈیوریوں ڈوریوں سے مینو۔۔ تو باندھ لے ۔۔
پکی یاریوں یاریوں یاریوں میں باندھے نہ فاصلے۔۔۔
اے ناراضگی کاغذی اے ساری تیری
میرے سوہنے تو سن لے میری
دل دیاں گلاں۔۔۔ کراں گے نال نال بے کے۔۔۔
اکھ نال اکھ نو ملا کے۔۔۔
دل دیاں گلاں۔۔۔
کراں گے روز روز۔۔۔ بے کے۔۔۔
سچیاں محبتاں نبھا کے۔۔۔
ستاٸے مینو کیوں۔؟
دکھاٸے مینو کیوں۔۔؟
ایویں چوٹھی موٹھی رس کے رسا کے۔۔۔
دل۔دیاں گلاں۔۔۔
کراں گے نال۔نال۔۔ بے کے۔۔ اکھ نال اکھ نوں ملا کے۔۔۔
عناٸشہ شام کے منظر کوسوچتے اس کے چہرے پے مسکراہٹ سجا رہے تھے۔
ڈی جے کے سونگ پے کپل ڈانس پے حازق کہیں سے بھی سے ناراض نہ لگا۔ وہ من ہی منبہت خوش تھی۔
دروازہ کھلنے کی آواز پے وہ اندر داخل ہوا۔ عناٸشہ نے فوراً کھڑے ہوتے پلٹ کے اسے دیکھا اور ایک مسکراہٹ دے اس کا استقبال کیا۔
حازق ایک لمحہ ٹھٹھکا۔ لیکن اگلے ہی پل اسے نظر۔انداز کر گیا۔
حازق۔۔۔! عناٸشہ نے اسے بہت چاہت سے پکارا۔
حازق کا سپاٹ چہرہ دیکھتے بھی اسکی نظروں میں چاہت کے رنگ قوس قزاح میں ہی ڈھل رہے تھے۔
مجھے۔۔۔ آپ سے کچھ۔۔کہنا ہے۔۔؟ دھیرے دھیرے دھڑکتے دل کے ساتھ پلکیں اٹھا تی گراتی وہ حازق کو چونکا گٸ۔وہ اسی کی طرف پلٹ کے کھڑا سوالیہ نظریس اس پے گاڑیں۔
وہ۔۔۔؟؟ وہ۔۔۔ ؟؟ زبان ہونٹوں پے پھیرتے وہ حازق کو پھر سے بہکنے پے مجبور کر رہی تھی۔
کیا کہنا ہے۔۔۔؟ حازق نے نظریں پھیرتے کہا۔
آٸ لو۔۔۔۔ ؟؟ وہ کہنا بھی چاہ رہی تھی۔ اور کہہ بھی نہیں پا رہی تھی۔
بے وقوف بنانے کے لیے میں ہی ملتا ہوں بار بار۔۔؟؟ حازق نے اسکی بات کاٹی۔ تو وہ ایک دم سے چپ ہوتی اسے دیکھنے لگی۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔؟؟ کل تک۔۔ میں تمہارے لیے ولن تھا۔۔۔ سازشی تھا۔۔ اور آج۔۔۔ ہیرو بن گیا۔۔۔؟؟ الو سمجھا ہوا ہے۔۔مجھے۔۔؟؟ میٹھے طنز کے تیر چلاتے وہ ناٸشہ کے چہرے پے پھیلی مسکراہٹ کا قتل کر چکا تھا۔
حازق۔۔ پلیز۔۔۔ ایک بار مجھے۔۔ میری ساری بات کہنے کا موق دے دیں۔۔اس کے بعد بھی اگر آپ کو لگے۔۔ کہ میں غلط ہوں۔۔ تو جو چاہے سزا دے دینا ۔۔میں اف تک نہیں کہوں گی۔۔۔! عناٸشہ نے اتنے منت اور دل سے کہا کہ حازق سوچنے پے مجبور ہو گیا۔
ٹھیک ہے۔۔بولو۔۔۔؟؟ عناٸشہ نے لمبا سانس خارج کیا۔ او حازق کو ساری بات بتانے کا فیصلہ کیا۔ کسطرح وہ عورت حازق کی ما ں بن کے اس سے ملی۔
حازق۔۔! میں نے کبھی بھی نہیں چاہا۔۔۔کہ آپ سے ۔۔الگ ہوں۔۔! لیکن۔۔ صرف۔۔ ان کے کہنےپے۔۔ میں نے آپ سے۔۔ الگ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔ عناٸشہ کی ہر بات میں سچاٸی جھلک رہی تھی۔ لیکن حازق بس ایک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا۔ جیسے اسے ان سب باتوں سے کوٸی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا۔
بس ۔۔۔ یا کچھ او بھی کہنا ہے۔۔۔؟؟ حازق نے بنا پلک جھپکے بولا۔ تو عناٸہ اسے اسطرح بی ہیو کرتے دیکھ چپ سی ہوگٸ۔
مطلب۔۔ وہ اس پے پھر سے یقین نہیں کر رہا تھا۔
عناٸشہ تم جانتی بھی ہو۔۔ کہ محبت کیا ہے۔۔۔؟؟
اب کی بار اس نے سوال کیا۔ عناٸشہ نے سر اٹھا کے اسے دیکھا۔ کتنا درد تھا اسکی آنکھوں میں ۔
میں نے محبت کی۔۔۔ہاں۔۔ سوچا تھا۔۔ تمہاری بے وفاٸ پے تمہیں جان سے مار ڈالوں۔۔۔ ایک بار مل جاٶ۔۔۔تو۔۔ بدلہ لوں گا۔۔ اس درد اس تکلیف کا۔۔۔ جو تم۔نے بے وفاٸی کی صورت میں اس دل میں لگاٸی ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔ نہیں۔۔۔ کچھ بھی نہ کر۔سا میں۔۔۔ حازق جیسے بے بس ہوا۔
محبت کی تھی ناں۔۔۔ سہنا تو۔۔ تھا۔۔ ناں۔۔! آج تم مجھے ساری سچاٸ بتا رہی ہو۔۔ جب ۔۔۔کہ اگر۔۔ ہماری شادی نہ ہوٸ ہوتی۔۔ تو ۔۔ تم۔نے ۔۔ کبھی یہ سچ نہیں بتانا تھا۔۔۔؟؟ حازق نے اسے شرمندہ کر دیا۔ وہ سچ ہی تو کہہ رہا تھا۔
حازق۔۔۔؟؟ اس نے کچھ کہنا چاہا۔
شی۔۔۔۔ عناٸشہ اب سنو۔۔۔! میری محبت اتنی ارزاں نہیں۔۔کہ کسی کی دلیل کی محتاج ہو۔۔ یہی بات۔۔جب رات کو میں نے تم سے کہی تو تمنے میرا یقین نہ کیا۔۔۔اور جب۔۔یہی بات کشش نے تم سے کہی تو ۔۔تمہیں اپنی غلطیکا احساس جاگا۔۔۔؟؟ حازق نے دکھی انداز میں کہا۔ تو عناٸشہ کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔
معاف۔۔۔۔۔؟؟ روتے ہوٸے اس سے بولا بھی نہ جا رہا تھا۔
فکرنہ کرو۔۔۔ اس رشتے کی وجے سے تم۔۔۔ یہ سب کر رہی ہو۔۔۔ تو بے فکر رہو۔۔۔ میں بیچ راہ میں ساتھ چھوڑنے والوں میں سے نہیں۔۔ مانا کہ یہ شادی۔۔۔ بابا اور مما کی خاطر کی ہے۔۔۔ ان کا جھکا سر نہیں دیکھ سکا میں۔۔ لیکن۔۔ کہیں نہ کہیں۔۔۔یہ بھی سچ ہے۔۔۔ کہ تم سے محبت آج بھی ہے۔۔۔
آج بھی اس دلمیں وہ محبت باقی ہے۔۔۔! جو اپنی محبت کو رسوا ہوتا نہ دیکھ سکا۔۔۔
ہاں۔۔ مانتا ہوں۔۔ کرتا ہوں۔۔ تم سے محبت۔۔۔ لیکن۔۔۔ کروں تم پے اعتبار۔۔۔ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔۔۔!
اس لیے۔۔ مجھ سے کوٸ امیف نہ رکھنا۔۔۔۔! حازق کا لہجہ بھی روندھ گیا۔ اور ساتھمیں وہ عناٸشہ کے جذبوں کو بھی روندھ گیا۔
عناٸشہ تو بس اسے جاتے اسکی پیٹھ دیکھتی رہ گٸ۔۔
اس کے لیے یہ سچاٸی۔۔ کہ اسے جدا کرنے کی ایک سازش کی گٸ تھی۔ اس سے کہیں زیادہ اہم۔۔۔ عناٸشہ کی بے وفاٸی تھی۔اور محبت کا یہ داغ شاید ساری زندگی نہیں دھلے گا۔ اور یہی اسکی سب سے بڑی آزماٸش بھی تھی۔ اور سزا بھی۔














فون بندکرتا وہ واپس پلٹا تو ملازمہ کو جوس کا گلاس لے جاتے دیکھا۔
ایک منٹ۔۔۔یہ کس کے لیے۔۔۔؟؟ یامین نے روک کے پوچھا۔
بھاٸی۔۔وہ نٸ۔۔ میڈم جو آٸی ہیں۔۔ انہوں نے منگوایا ہے۔۔
جوس کا گلاس دیکھتے یامین کے ماغ میں ایک نیا پلان آیا
ٹھیک ہے۔۔۔یہ بعد میں لےجانا پہلے مجھے پانی پلادو۔ سرسری انداز اپنایا۔ تو سر اثبات میں ہلاتی جود ا گلاس ٹیبل پے رکھتی کچن کی جانب بڑھی۔
یامین نے فوراً ہی ڈراٸینگ روم کی کبرڈ کا ایک دراز کھولا۔ اور اس میں سے جو اس نے خو فرسٹ ایڈ باکس رکھا تھا۔ااس میں سے تین ٹیبلٹس نکالیں اور اس جوس۔میں مکس کر دیں۔ اتنے میں ملازمہ پانی لے آٸ ۔ یامین کو پانی کا گلاس تھماتے وہ علیزہ والے روم کی جانب بڑھی۔
اب۔۔ تمہیں کوٸ نہیں بچا سکتا ۔۔۔ علیزہ۔۔۔! اب تم۔۔ گٸ کام سے۔۔۔! پانی کا گلاس منہ کو لگاتے وہ مسکرایا تھا۔
اور اب اس کا رخ کشش کے روم کی طرف تھا۔
دروازہ کھولا۔ تو سامنے ہی گھٹنوں کے بل صوفے کےپاس بیٹھی نظر آگٸ۔ شاید روتے ہوٸے وہ وہیں بیٹھی سوگٸ۔۔ یا جاگ رہی تھی۔ یامین دھیرے سے دروازہ لاک کرتا اس کے پاس آیا۔ وہ یامین کا اپنے پاس آنا محسوس کر گٸ تھی۔
کشش۔۔۔۔! اس نے دھیرے لیکن محبتبھرےلہجےمیں پکارا۔ کشش نے دھیرے سے سر اٹھا۔یا آنکھیں اسکی روٸ ہوٸ تھیں اور کتنے ہی شکوے تھے اس کی نظروں میں۔
یوں نیچے کیوں بیٹھی۔۔؟؟
کیوں۔ آٸے ہیں۔۔؟اب۔۔؟؟ وہ دانت پیستی بولی۔
تمہارے پاس نہ آتا تو کہاں جاتا۔۔۔؟؟ اسی کے مقابل صوفے کے ساتھ ٹیک لگاکے بیٹھتے وہہلکے پھلکے انداز میں بولا۔۔
وہ ہے۔۔۔ ناں۔۔ علیشہ چڑیل۔۔ آپ کی بگوڑی بیوی۔۔۔؟؟ جسے آپ نے ہمارے روم میں رکھا ہے۔۔۔! جاٸیں وہیں۔۔۔! منہ پھیرا اس نے۔۔ تو یامین اسکی اس ناراضگیپے دل سے مسکرایا۔
کیسے جاٶں۔۔۔؟؟ اپنے ضدی عشق کو چھوڑ کے۔۔۔؟؟ یامن نے بہت گھمبیر لہجے میں کہا۔ تو کشش کی آنکھیں حیرت سے پھیل گٸیں۔ جھٹکے سے پلٹی۔
ایک تو۔۔ وہ عشق ہے۔۔
اور۔۔۔ میرا۔۔ہے۔۔
اوپر سے ضدی بھی۔۔
اور جنونی الگ۔۔۔
آپ۔۔وہیں۔۔۔ تھے۔۔۔؟؟ کشش نے آنکھیں پھیلا کے پوچھا۔
اب اپنے چھوٹے سےپیارے سے ضدی عشق کوچھوڑ کے کہیں اور جا سکتا ہوں کیا بھلا۔۔؟؟ یامین نے اسے اپنی طرف دھیرے سے کھینچا۔تو وہ اسکے سینے سے آلگی۔ اور پھر خود ہی پورے استحاق اور مان دے اپنا سر یامین کے سینے پے ٹکایا یامین نے اے اپنے حصار میں لیا۔
چھڑ کے جاٸیں تو سہی۔۔۔ جان نہ لے لوں۔۔۔؟؟ ھیرے سے کہتی وہ یامین کے چودہ طبق روشن کر گٸ۔
بہت۔۔۔ جنونی بیوی مل گٸ ہے۔۔ یار۔۔۔؟؟؟ اتنا ٹوٹ کے چاہو گی۔۔۔ کیا اندازہ تھا۔۔۔؟؟ یامین نے اسکو ریلیکس کرنا چاہا ۔
آپ۔۔ ناں۔۔ بہت برے ہیں۔۔۔! کشش منہ بنا کے بولی۔
یہ۔۔ میرے چھوٹے سے پیارے سے ضدی عشق کی آنکھوں پے اتنا ظلم کیوں۔۔؟ آنکھیں روٸ اور سوجھی ہوٸ دیکھ یامین نے اسکا چہرہ اوپر کی طرف کر کے آنکھوں میں دیکھتے بہت پیار سے پوچھا۔
یہ بھی ۔۔ آپ ہی کی دین ہے۔۔ میر یامین سکندر۔۔۔! کشش نے بھی ادھار نہ رکھا۔۔
یامین نے اے گورد میں اٹھایا۔ اور بستر پے لٹایا۔
چلو۔۔آنکھیں بند کرو اور سو جاٶ۔۔! یامین نے اکے بالوں میں انگلیاں چلاتے دھیر ے سے کہا۔
آپ نےمجھے روم سے نکالا۔۔۔ اور اس چڑیل کو روم میں جانے دیا۔ آنکھیں موندے وہ پھر سے بولی۔
کشش۔۔۔ سو جاٶ۔۔تھوڑی دیر۔۔۔! صبح بات کریں گے۔۔۔! یامین نے اسے بچوں کی طرح ٹریٹ کیا۔
ہاں۔۔ تا کہ۔۔ آپ دوبارہ واپس اسکے پاس چلے جاٸیں۔۔؟؟ منہ اٹھا کے کہتی وہ یامین کو۔مسکرانے پے مجبور کر گٸ۔
اتنا شک۔۔۔؟؟؟ ییامین نے بھنویں اچکاٸیں۔
شکی نہیں۔۔۔ یقین۔۔۔! اسے نیند کی وادی میں بھیج کے آپ ۔۔یقیناً ۔۔ اس کے پاس واپس جانے کا ارادہ ہی رکھتے ہیں ناں۔۔۔! کشش کے الفاظ نےیامین کے دماغ کی بتی جلا دی۔۔
کیا۔۔۔ کیا مطلب۔۔۔؟؟ یامین اٹھ بیٹھا۔
مجھے سب پتہ ہے۔۔۔ وہ اس وقت بے ہوش ہے۔۔۔! اور ۔۔ میرا نہیں خیال ہمیں یہاں بیٹھ کے ٹاٸم ضاٸع کرنا چاہیے۔۔۔ ! چلیں چل کے دیکھتے ہیں۔
کشش فوراً اٹھی۔ اور باہر نکلی۔ یامین بھی اسی کے پیچھے آیا ابھیمزید کچھ کہتا کہ باقی تین نمونوں کو بھی وہاں چوکنا کھڑا دیکھ وہ گنگ رہ گیا۔
مطلب۔۔۔؟ وہ چاروں ہی چوکنا تھے۔ اور یامین ان کو انڈ اسٹیمیٹ کر رہا تھا۔
یہی سوچتے وہ ان کے ساتگ علیزہ کے روم کی جانب بڑھا۔ جہاں۔ وہ مکمل نیند کی آغوش میں تھی۔
She is un conciuos…
داور نے اسے چیک کرتے کہا۔
ڈونٹ وری۔۔۔ تین گولیاں تھیں۔۔ صبح تک تو ہوش بھی نہیں آنا۔۔۔ اپنا کام جاری رکھو۔
سمیر نے فورا ً سے داورکو کہا۔ تو یامین نے چہرہ موڑ اس نمونے کو دیکھا۔ سمیر کی نظر بھی یامین کی نظروں سے ٹکراٸی۔
Not… seriously….
تم لوگ۔۔۔ میری مخبری کرتے ہو۔۔۔؟؟ کیسے جانتے ہو سب۔۔؟؟ یامین کے ماتھےپے تیوری چڑھی کشش نے لب بھینچ کے سمیر کو ایسے دکھا جیسے کھاجاۓ۔ گی۔
وہ۔۔۔ ایسے ہی۔۔آٸیڈیا لگایا۔۔۔۔!! کانوں پے کھجاتا وہ رخ پھیر گیا۔
یہ رہا موباٸل۔۔۔! کرن نے درا کے اوپر سےموباٸل اٹھایا۔
گڈ۔۔۔! دکھاٶ تو۔۔۔؟؟ کشش نے اس سے موباٸل لیا۔
بٹ اس پے تو پاس ورڈ لگا ہے۔۔۔! سمیر سوچتے ہوٸے بولا۔
تو کیا ہوا۔۔۔إإ داور کا لیپ ٹاپ ہے ناں۔۔ پاس ورڈ ہاٸیک کرنا تو اسکا بایٸں ہاتھ کا کام ہے۔۔۔ کشش نے بھی لقمہ دیا۔ اور وہ چاوں یامین سمیت داور کے رومکی جانب بڑھے۔
جہاں دوار نے علیزہ کا موباٸیل ڈیہا کبل سے لیپ ٹاپ کے ساتھ اٹیچ کیا۔ اور پاس ورڈ پے اپنا فیورٹ کام کرنے لگا۔
اب اس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے۔۔۔؟؟ کشش نے یامین کو آنکھیں پھاڑ کے دیکھتے دیکھا تو ٹوک دیا۔
How.. could you do that…. seriously….
میں اتنے پیسے دے کے باہر سے ٹیم ہاٸر کرتا ہوں۔ یہ سب کام کرنے کے لیے اور یہ تک نہیں جانتا کہ ایک قابل ٹیم میرے ہی گھر میں موجود ہے۔۔۔! یامین نے داد دی۔
گھر کی مرغی دال برابر۔۔ سمیر نے برجست کہا۔ تو داور نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔
اس سب میں کتنا وقت لگے گا۔۔۔؟؟ یامین نے کلاٸی پے بندھی گھڑ ی دیکھتے پوچھا۔
دس سے پندرہ منٹ۔ تیزتیز ہاتھ چلاتے داور نے سکرین پے دیکھتے جواب دیا۔
اتنے میں علیزہ کا فون بجا۔ تو وہ سبھی چوکنا ہوٸے۔
یہ۔۔اس وقت اسکے نمبر پے کال آرہی ہے۔۔۔ کیا کریں۔۔؟
سمیر نے ہی سوال کیا۔
پک۔۔۔ کرو۔۔! کشش کی طرف دیکھتے یامین بولا۔
کششنے پلکیں بار بار جھپکا کے محسوس کیا کہ اسی کو کہا گیا ہے۔ اور ساتھ ہی کال اٹھا لی۔
جاری ہے
