Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Ishq Mera (Episode 05)

Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan

یامین ابھی تک اسکے سحر میں جکڑا ہوا تھا۔

جبکہ وہ منہ پھیرے بیٹھی گاڑی سے باہر دیکھ رہی تھی۔

پندرہ دن بعد کیا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا۔

کشش کی اٹھارویں سالگرہ۔۔۔ تھی۔ اور جسے وہ بہت دھوم دھام سے منایا کرتی تھی۔

سب سے ناز نخروں سے وہ گفٹس بھی لیتی تھی۔

اور اس بار تو یامین پے اچھی خاصی دھونس جما رہی تھی۔

گاڑی گھر کے پورچ میں داخل ہوٸی۔

دیکھیں۔۔۔!! مجھے پتہ ہے۔۔ آپ مجھ سے غصہ ہیں۔ بہت۔ ۔۔۔

لیکن پلیز۔۔۔ دو پیار کرنے والوں کوملوا دیں۔ وہ دعاٸیں دیں گے۔ اور اللہ بھی تو خوش ہوتا ہے۔۔۔ پیار کرنے والوں کو آپس میں ملوانے سے ۔۔

تو ۔۔آپ ہی ہیں ۔۔ جو مدد کرسکتے ہیں۔۔۔

آنکھیں چمکاتی وہ وہ بالکل باربی ڈول لگ رہی تھی۔

یامین خاموش رہا ۔ تو وہ بھی خاموشی سے اتر گٸ۔

اندر کی جانب بڑھی تو سامنے ٹیبل پے سب ڈنر میں بزی تھے۔

یہ وقت ہے گھر آنے کا۔۔۔؟ سویرا بیگم نے وہیں روکا۔

تو سب کی نظریں اس پے اٹھیں۔

کس کے ساتھ آٸی ہو۔۔۔؟؟

حیات صاحب کو بھی اسکا اس وقت آنا کھٹکا۔

سمیر اور کرن نے دھل کرایک دوسرے کو دیکھا۔

یہ میرے ساتھ آٸی ہے۔۔۔۔!! اندر آتے یامین نے فوراً تیکھے چتونوں سے جواب دیا۔

وہیں سویرا بیگم نے ماتھے پے تیوری چڑھاٸی۔ اور کھا جانے والی نظروں سے کشش کو دیکھا۔

یہ۔۔۔آپ کے ساتھ کیا کر رہی ہے۔۔۔؟؟

حیات صاحب کے ماتھےپے بھی شکنیں نمودار ہوٸیں۔

آپ کو اس کے۔۔۔۔۔ میرے ساتھ ہونے پے کو ٸی اعتراض ہے کیا۔۔۔؟؟

آگے یامین تھا۔ اس نے بھی سخت ناگواری سے دیکھتے کہا۔

ایسی بات نہیں ۔۔یامین۔۔۔ آپ جانتے ہیں۔۔!! کیا وقت ہو گیا ہے۔۔؟؟ اس لیے کہا۔۔۔ خیر چھوڑیں۔ آپ۔۔ آجاٸیں کھانا کھا لیں۔

حیات صاحب نے بات ختم کرتے یامین کو کھانے کی ٹیبل پے بلایا۔

میں ۔۔۔کھانا کھا چکا ہوں۔۔۔ البتہ۔۔۔ کشش نے نہیں کھایا۔۔ !!

ایکسکیوز می۔۔۔۔!

وہ دھیرے سے چلتا۔کشش کے پاس آیا۔

کھانا کھا لو۔۔۔!!

ساتھ ہی آگے بڑھ گیا۔

اس کے لہجے میں جو اپناٸیت تھی۔ کشش سے چھپی نہ رہ سکی۔ بے اختیار دل بھر آیا۔

اور خاموشی سے ٹیبل پے جا بیٹھی۔ خاموشی سے کھانا کھایا۔

او اٹھ کے اپنے روم میں چلی گٸ۔

تھوڑا دل پھر سے دکھی ہوگیا۔

کسی نے احساس نہیں کیا اسکی بھوک کا۔۔۔

دادا جی نہیں تھے ناں۔۔

لیکن۔۔۔ آج۔۔کسطرح یامین نے اسکا خیال کیا۔ وہ اسکی خاطر بول پڑا۔

بے اختیار اسکے لب مسکراٸے وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔

ناں۔۔۔ یہ سب کیا تھا۔۔۔؟؟ کیوں جھوٹ بولا۔۔۔؟؟ سمیر نے آتےہی دھاوا بول دیا۔

کیا جھوٹ بولا۔۔۔؟؟ کشش حیران ہوٸی۔

یامین بھاٸی سے اچھی خاصی ڈانٹ کھا کے آیا ہوں۔ اور انہوں نے سختی سے منع کیا ہے۔۔ کہ آٸیندہ تمہیں لےکے کہیں نہ جاٶں۔

وہ ناراضگی سے وہیں منہ پھولا کے بیٹھ گیا۔

کشش کے بے اختیار گال پھولے۔ اور مسکراہٹ میں ڈھلے۔

اسکی نیلی کانچ سی آنکھیں بھی مسکراٸیں۔

دیکھو۔ .! میں بتانے والی تھی۔ ان کو۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ پھر سوچا ۔۔ نیکی کے کام میں ۔۔تمہارا بھی حصہ ہونا چاہیے۔۔۔۔!!

اتنے میں کرن اندر داخل ہوٸی۔

کیا مطلب۔۔۔؟؟

کون سا نیکی کا کام ۔۔۔؟؟

ارے۔۔ بھٸ۔۔۔ ! جب پیر کرنے الوں کو آپس میں ملوایا جاٸے تو وہ نیکی کا کام کہلاتا ہے۔۔!!

کشش نے اسکی کم عقل پے ماتم کیا۔

ایکسکیوز می۔۔۔۔!! کون پیار کرنے والے۔۔۔۔؟؟

سمیر نے اسی انداز میں پوچھا تو۔ کشش کو بریک لگی۔

اچھنبے سے کر ن کو دیکھا۔ جسکی گھریاب سخت گھوری میں بدل چکی تھی۔

فوراً سے نظریں پھیریں۔

دیکھو۔۔۔۔!! میں نے سوچا۔۔۔ شہیدوں کی فہرست میں تمہارا نام بھی ہونا چاہیے۔۔۔۔!! آخر بھاٸی جو ہو۔۔ تم۔۔۔!! تمہارا ھی کوٸی نہ کوٸی کردار ہونا چاہیے ناں۔۔۔!!

کشش نے بنا کرن کو دیکھے اپنی بات جاری رکھی۔

پہلیلیاں مت بجھواٶ۔۔۔ پیار والی بات بتاٶ۔

سمیر کہاں ٹلنے والا تھا۔؟

ایک نظر کرن کو دیکھا۔ جس نے نفی میں سر ہلایا

کشش نے کندھے اچکا کے بے چارگی سے اسے دیکھا۔

کرن اور ۔۔۔ داور کی خاموش محبت۔۔۔۔!!

آنکھیں بن کیے فوراً سے بول دیا۔

اللہ جی۔۔۔ !! کیسی دشمن کزن ملی ہے۔۔۔!!

کرن نے دہاٸی دی۔ سمر کی نظر کرن پے اٹھی۔ تو کرن کی نظریں جھک گٸیں۔

لیکن۔۔۔ مجھے۔۔۔ تو کبھی۔۔۔ ایسا کچھ فیل نہیں ہوا۔۔۔۔

سمیر سوچتے ہوٸے بولا۔

جانی۔۔۔۔۔۔ خاموش۔۔۔محبتاں نیں۔۔۔۔!!

ڈراٸی فروٹ سے لطف اندوز ہوتی اب کشش فل فارم میں تھی۔ اور مزے سے ساری بات اسے بتانے لگی۔

کبھی وہ سوچ میں بپڑ جاتا توکبھی کرن کو گھوری سے نوازتا۔

سویرا مما کبھی۔۔۔ ان کو ایک نہیں ہونے دیں گیں۔

سمیر کو دکھ ہوا۔

we know that..

اسی لیے تو یامین سکندر کا سہارا لیا۔

کشش نے فخر سے اپنی کار کردگی بتاٸی۔

اوہ۔۔ گاڈ۔۔۔!! یامین بھاٸی۔۔۔ کیا کر لیں گے۔۔۔؟؟

آگے وہ چڑے بیٹھے ہیں ان سے۔۔۔!! بلکہ ڈسے ہوٸے ہیں ان کے۔۔۔!!

سمیر کویامین کے لیے الگ دکھ تھا۔

اور اسی لیے۔۔۔ وہ داورکی مدد ضرور کریں گے۔۔

آٸی نو ہم۔۔۔!! بادام منہ میں ڈالتے وہ جوش سے بولی۔

کرن منہ بناٸے انہیں دیکھتی رہی۔

ہمممم۔۔۔۔۔ چلو دیکھتے ہیں۔۔۔!!

سمیر نے اٹھتے ہوٸے کہا۔ اور ہلکی سی ایک چپت بہن کو لگاتے وہاں سے چلا گیا۔

کرن کی جھکی نظروں نے اسے کچھ بھی کہنے سے باز رکھا۔

کشش ! سمیر سے تو نہ کہتی۔۔!! دھیمے لہجے میں منمناٸی۔

یار ۔۔!! بھاٸی ہے وہ تمہارا۔۔۔ اور دیکھو۔۔۔وہ بھی خوش ہے۔۔۔ مطلب۔۔۔ اسکا ووٹ بھی تمہارے حق میں ہے۔۔۔!!

لیکن ۔۔۔ جس کا ہونا چاہیے ان کا نہیں ہے۔۔۔!!ا

فکر نہ کرو۔ اللہ سب اچھا کرے گا۔ وہ ہر چیز پے قادر ہے۔!

کشش نے اسے بہت پیار سے سمجھایا۔ تو وہ لب بھینچے اثبات میں سر ہلا کے رہ گٸ۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

اتنا سب ہو رہا ہے۔۔۔ اور مجھے پتہ ہی نہیں۔۔ !!

آفس میں بیٹھا یامین کشش کی باتیں ہی سوچ رہا تھا

کل جو اس نے کہا۔ اس پے وہ ہزار بار غور کر چکا تھا۔

لیکن دل تھا کہ وہ ہمنوا تھا۔۔۔

جبکہ دماغ ایک ہی بات کہتا تھا۔

سویرا مما کبھی یہ نہیں ہونے دیں گیں۔

مجھے۔۔۔ داور سے بات کرنی ہوگی۔

اگر وہ کرن کے بارے میں سیریس ہے تو۔۔۔ اسے کوٸی مثبت اسٹیپ لینا پڑے گا۔

ایک فیصلہ لیتے وہ مطمیٸن ہوا۔

اتے میں حازق اندر آیا۔

دونوں ایک دوسرے کے بغل گیر ہوٸے۔

ہممم۔۔ یہ رہیں۔۔ التاج ہوٹل برانچ فور کی ڈیٹیلز۔۔۔

ایک فاٸل یامین کو تھماٸی۔

اور وہ چیکنگ میں بزی ہو گیا۔

حازق۔۔۔۔!! میرا خیال ہے۔۔۔ جیسے باقی برانچیز میں فی میل ویٹریس نہیں ہیں۔ اسی طرح یہاں بھی ختم کر دیں۔

تم کیا کہتے۔۔۔؟؟ راٸے لی۔

تقریباً چھ لڑکیاں ہیں۔ حال ہی میں ایک لڑکی چھوڑ کے گٸ۔ اور ۔۔ اسکی جگہ نیو ویٹریس اپاٸنٹ ہوٸی۔

اسکی ڈیٹل اس میں ہیں۔

لیکن۔۔۔ اگر ۔۔۔ انکی جاب ختم کر نی ہے تو انکی جگہ میلکو اپاٸنٹ کرنا پڑے گا پھر۔۔۔۔۔!!

ہمممم۔۔۔ لیکن۔۔ ان کو بھینکال نہیں سکتے۔۔۔ جو بھی ہے۔۔۔ ہر کوٸی گھ سے رزقِ حلال کمانے نکلا ہوتا ہے۔۔۔ اور یہ۔۔۔ لڑکیاں بھی کسی نہ کسی مجبوری کے تحت یہجاب کر رہی ہوں گیں۔۔۔۔

ایک کام کرو۔۔۔ کچھ سوچتے ہوٸے آگے ہو کے بیٹھتے حل پیش کیا۔

ان سب لڑکیوں کی ڈیٹلز انکی سی وی کے ساتھ چیک کرو۔اور ان کی کوالیفیکیشن کے حساب سے انہیں کہیں اور ایڈ جسٹ کردو۔ کم ا کم ایک ایسہ پیشہ۔۔۔ جو لڑکیوں کے معیار کے مطابق ہو۔۔۔ جس میں انکی سیلف ریسپیکٹ کو ٹھیس نہ پہنچے۔

یامین کے دل کی بات جان کے حازق اسے دیکھے چلا گیا۔

اس کے دل میں یامین کے لیے مزید عزت بڑھ گٸ۔

جو حکم میرے باس۔۔۔۔! حازق مسکراتے ہوٸے اے دیکھتے بولا۔

جتنا یامین خود خوبصورت تھا۔ اسکا دل اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت تھا۔ اور یہ بات ایک دوست ہونے کے ناطے حازق بہت اچھے سے جانتا تھا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

آج کا دن بہت بور گزرا۔

آج مسز جہانگیر آٸی نہیں تھیں تو کشش جلدی فری ہو کے گھر آگٸ۔

اور آتےہی سویرا مما سے ٹاکرا ہوگیا۔

وہ کچھ کہتیں کہ دادا جی کی آواز سنتی وہ اندر کیجانب بھاگی۔

اور سامنے دادا جی کو دیکھ پھولے نہ سماٸی۔

بھاگ کے انکے سینے سے لگی۔

میرا پتر آگیا۔۔۔ بڑھ کے اسے اپنے گلے سے لگاتے انہیں بھی قرار آگیا۔

یہ کیا ۔۔۔۔؟؟ میرا۔۔۔ پتر رو رہا ہے۔۔۔؟؟

انہوں نے کشش کی بھیگی پلکیں یکھیں تو تڑپ ہی گٸے۔

آپ ۔۔۔ بہت بے ووفا ہیں۔۔۔ بھلا اتنے دن لگاتا ہے کوٸی۔۔۔؟؟ اپنی جان کو چھوڑ کے۔۔۔؟ کتنا مس کیا میں نے آپ کو۔۔۔۔!!

کشش نے آنکھیں پونچھتے شکوہ کیا۔

اوہ۔۔میرا بچہ۔۔۔۔!! دادا جی نے پھر سے اسے ساتھ لگایا۔

اب ۔۔جاٶں گا ناں۔۔ تو اپنے بچے کو بھی ساتھ لے جاٶں گا۔۔۔!! دادا جی اسے خوش کرنے کو کہا۔ تو وہ واقعی خوش ہوگٸ۔

سچی دادا جی۔۔۔۔!

You are the best dada g in thw world.

Love you so much.

دادا جی کو ہگ کرتے وہ بالکل۔بچوں کی طرح ان سے لاڈ اٹھواتی تھی ہمیشہ سے۔

میں بس ابھی فریش ہو کے آٸی۔ پھر آپ سے ڈھیروں باتیں کروں گی۔

اٹھتےہوٸے وہ ہشاش بشاشش سی چہکی۔ تو دادا جی اسکویوں ہنستا مسکراتا دیکھ جی اٹھے ۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

حازق نے تمامفاٸیلز نکلواٸیں تھیں۔ وہ یامین کا کہا کام آج ہی نمٹا نا چا ہتا تھا۔

ان فاٸلز میں وہ سب کی ڈیٹل پڑھ رہا تھا۔ کہ ایک فاٸل پے نظر رک سی گٸ۔

ہاں ۔۔۔ وہ کوٸی اور نہیں۔۔ عناٸشہ ہی تھی۔

اس کی آنکھیں دھوکہ نہیں کھا سکتی تھیں۔

اس نے بار بار دیکھا۔

الآ پلٹ کے دیکھا۔

لیکن ہر بار وہی عناٸشہ۔۔۔۔

اسکی ۔۔۔ عناٸشہ۔۔۔۔

جو اسے ۔۔۔ بیچ راستے چھوڑ گٸ تھی۔۔۔

ہاں۔۔۔ وہ۔۔۔اچانک اسکی زندگی میں آٸی۔۔۔ اور اچانک ہی کہاں۔۔ چلی گٸ۔۔۔ وہ نہیں تھا جانتا۔

بہت ڈھونڈا اس نے لیکن وہ نہیں ملی۔۔

ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم ہی تھا۔ کہ باہر سے کچھ شور کی آوا آٸی۔

وہ آج کافی دنوں بعد اس برانچ میں آیا تھا۔

اور گراٶنڈ فلور آفس میں بیٹھنے کا اتفاق آج ہی ہوا تھا۔ پردہ ہٹایا۔ تو سامنے کسی کسٹمر کے ساتھ وہ بھی نظر آگٸ۔

حازق کے دل کی ایک بیٹ مس ہوٸی۔

بہت سے حساب اس سے باقی تھے۔

لین محبت اب بھی اپنی جگہ پے تھی۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

کیا ہوا۔۔۔؟؟ عفرا۔۔۔

رو کیوں رہی ہو۔۔؟؟

عناٸشہ ایک ویٹریس کو روتا واپس آتا دیکھ اس کے پاس آٸی۔

وہ۔۔۔ سامنے ٹیبل پے۔۔۔ وہ جو ۔۔لڑکے ہیں۔۔۔ بہت۔۔۔۔ بف تمیزی کر رہے ہیں۔۔۔ !!

کیا کہا انہوں نے۔۔۔؟؟ عناٸشہ نے انکی طرف دیکھتے غصے سے پوچھا۔

مجھے۔۔۔۔ ٹچ۔۔۔۔ کیا۔۔۔!! وہ باقاعدہ رو دی۔

عناٸشہ نے غصے سے لب بھینچے

وہلڑکے ابھی بھی شور و غل۔میں مصروف تھے۔

اے ویٹرس۔۔۔۔!! کم ہیٸر۔۔۔۔۔!!

اسی بدتمیز لڑکے نے پھر جواب دیا۔

عفا جاتے ہوٸے ڈر رہی تھی۔

stop…

میں جاتی ہوں۔ عناٸشہ نے دانت پیسے۔

لیکن۔۔۔۔ وہ بد تمیزی کریں گے۔۔۔ عناٸشہ۔۔۔!! تم نے کچھ کہا۔۔ تو نوکری چلی جاٸے گی۔۔۔!!

ایک اور لڑکی نے ڈرتے ہوٸے روکا۔

عناٸشہ نے اسے گھورا۔

کیوں۔۔۔ ؟ ہم غریب لڑکیاں ہیں۔۔ تو ہماری کوٸی عزت نہیں۔۔۔؟؟ خود کو پلیٹ میں سجا کے پیش ر دیں ان لفنگوں کو۔۔۔؟؟ غصے سے عناٸشہ کا چہرہ لال ہو رہا تھا۔

لیکن۔۔۔۔۔؟؟ عفرا نے بھی روکنا چاہا۔

ویٹ۔۔۔۔!!

انہیں وہ کھڑا کیے ووہ ان لڑکوں تک آٸی۔ جو تعداد میں چار تھے۔

Yes sir…!! may i help u?

بہت احترام سے کہا۔ لیکن لہجہ کی سختی پے ابو نہ رکھ پاٸی۔۔

ہممم۔۔۔۔ ہاں۔۔۔ تم۔۔۔بھی آسکتی۔۔۔ ہو۔۔۔!! تم۔۔ بھی کم۔۔خوبصورت نہیں۔۔۔

کہتے اس نے قہقہہ لگایا۔ ساتھ میں عناٸہ کے کاندھے کو ٹچ کیا۔

وہیں عناٸشہ کا صبر ٹوٹا۔ اور پاس پڑی ٹیبل پے جوس کا گلاس اٹھایا۔ اور سارا جوس ا سکے منہ پے اچھالا۔

ایک پل کو وہاں خاموشی چھا گٸ۔

تیری اتنی جرات۔۔۔۔۔؟؟

وہ لڑکا غصے سے اٹھا۔

عناٸشہ نے اسے کوٸی موقع دیٸے بغیر زور سے پیچھے دھکا دیا۔

وہ الٹتا ہوا چیٸر پے جا گرا۔ اس کے باقی کے دوست بھی اٹھ کھڑے ہوٸے۔

شدتِ جزبات کی وجہ سے عناٸشہ کچھ بول نہ پا رہی تھی۔

تقریباً سبھی عملہ اکھٹا ہوگیا۔

تو جانتی ہے۔۔ تو نے کسے دھکا دیا۔۔۔؟؟ تیری تو۔۔۔۔!!

خبردار ! جو ایک قدم بھی آگے بڑھایا۔۔۔۔!! ورنہاپنی ٹانگوں پے واپس نہیں جا سکو گے۔۔۔۔!!

حازق کی غصے سے بھری آواز سنتے سبھی وہیں تھمے۔

جبکہ عناٸشہ تو اگلا سانس لینا ہی بھول گٸ تھی۔ پلٹنا تو دور کی بات ۔۔۔۔وہ وہیں سکتے میں آگٸ تھی۔

وہ یہ آواز تو لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *