Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Ishq Mera (Episode 16)

Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan

حازق اسکی بات پے سن ہو گیا۔ لیکن چہرے پے کرختگی نے جگہ لے لی۔

عناٸشہ فردوس۔۔ ! اپنی ان باتوں کا جادو کسی اور پے چلانا۔ جو تمہیں جانتا نہ ہو۔۔۔!

تھوڑا سا اس کےچہرے کی طرف جھکتا وہ اسکی بھوری آنکھوں کو نم کر گیا۔

آنھکیں دل کا آٸینہ ہوتی ہیں۔۔ ! حازق۔۔۔ سر۔۔۔!

وہ بھی اسکی آنکھوں میں جھانکتی دھیمے لہجے میں بولی۔

ہمممم۔۔۔ جن کے دل ہی داغ دار ہوں۔۔ انکی آنکھیں بھی دھوکہ باز ہوتی ہیں۔۔۔

طنزیہ انداز میں کہتا وہ پیچھے ہٹا۔

اگر آپ کسی کو پہچان نہ سکیں۔۔ تو ۔۔۔ اس میں سامنے والے کاکیا قصور۔۔۔؟؟

عناٸشہ نے اپنے حق میں بولنا چاہا۔۔

پہچان میں ہی تو چوک گیاتھا۔۔

لیکن ۔اب نہیں۔۔ !! اب بہت اچھی طرح جان بھی گیا ہوں۔ اور سمجھ بھی۔

کام ختم کر کے مدیحہ سے کل کی ڈیٹلز چیک کر لو۔۔۔

کل شادی ہال میں ہونے والے فنکشن میں دلہن کی ساری زمہ داری تم دونوں کی ہے۔اور میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا۔۔۔

اپنی سیٹ پے بیٹھتے روکھے انداز میں کہتا وہ لیپ ٹاپ کھول چکا تھا۔

عناٸشہ منہ بناتی باہر آٸی۔

میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا۔۔۔

اسکی نقل اتارتی وہ باہر آگٸ۔

اور سر اٹھا کے وہ بہت فخر سے اپنے کیبن کی جانب بڑھی۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

عروسی لباس میں وہ ایک شہزادی لگ ہی تھی۔

اس پے روپ ہی کچھ الگ آیا تھا۔

کتنی دیر تو وہ خو ک آٸینے میں دیکھتی رہ گٸ۔

دادا جی نے اسےشادی ہال میں پہلے ہی بجھوا دیا تھا۔ گھر میں کوٸی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے۔۔ نہ ہی کسی کوٸی خاص توجہ بھینہ دی تھی۔ ساری توجہ کے حامل آج کرن اور داور تھے۔ اور انکی ہی خصوصی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں۔

کشش کے ساتھ مدیحہ اور عناٸشہ موجود تھے۔

حازق نے اسپیشل انہی کی ڈیوٹی لگاٸی تھی۔

کل جو اچھی خاصی عزت افزاٸی وہ کروا چکی تھی اس لیے آج وہ کسی بھی شکایت کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔

یامین ! یار ٹینشن نہ لو۔۔۔سب بیسٹ ہو گا۔

حازق نے اسے پریشان سب مہمانوں کو اٹینڈ کرتے دیکھا۔

یامین دھیرے سے مسکرا دیا۔

ویسے باٸی دا وے۔۔۔ ! ہماری بھابھی کہاں ہیں۔۔؟؟

حازق نے اسکادھیان بٹایا۔

یامین نے اسے پیار والی گھوری سے نوازا۔

ایسے نہ دیکھو۔۔۔ مجھے۔۔ ڈر۔۔ لگ رہا ہے۔۔۔

حازق نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی۔

یامین نے دادا جی کو آتے دیکھا تو انکی طرف بڑھا ۔

او ان کا ہاتھ تھام لیا۔

کیسی تیاریاں ہیں۔۔۔؟؟

دادا جی سب کچھ بہت چاٶ سے دیکھتے یامین سے بہت محبت سے پوچھا

آپ دیکھ کے بتاٸیں ۔۔۔ کیسا لگ رہا ہے سب۔۔؟؟

یامین نے انہی سے پوچھ لیا۔

میرےیامین پتر نے کیا ہے سب۔۔ تو کمال ہی ہو گا۔۔

دادا جی مسکراٸے۔

ویسے پتر۔۔۔ اماں ابا کہاں ہے۔ آپ کے۔۔۔؟ آنا ہے۔ یاباٸیکٹ کرکے بیٹھے ہیں۔؟؟

دادا جی نے مزاقاً کہا ۔

تو یامین ن مسکرتے نفی میں سر ہلایا۔

نہیں جانتا ۔۔کیاارادہ ہے انکا ۔۔۔ رات کو آٸےتھےمیرے پاس۔۔۔! پریشان سے تھے۔۔۔کچھ۔۔ کہنا چاہ رہے تھے۔۔ لیکن۔۔ کہہ نہیں پاٸے۔۔

یامین بھی تھوڑا افسردہ ہوا۔

بیٹا۔۔! جو بھی ہے۔۔۔! ہے تو آپ کے والد صاحب۔۔۔! ان سے ملو۔۔۔ اورانکی پریشانی جانو۔ اور ایک اچھی اولاد ہونے ک ناطے اپنی زمہ داری اور فرض اچھ سے ادا کرو۔ اور بدلے کی امید اللہ سے رکھو۔۔۔

انہوں نے رسان سےسمجھایا۔

جو بھی تھا وہ اپنی ساری اولاد سے بہت محبت کرتے تھے۔

جی۔۔۔۔۔! یامین نے دل سے اس بات پے عمل کرنے کی یقین دہانی کراٸی۔

اور میری شہزادی نظر نہیں آرہی۔۔۔؟؟

دادا جی نے کشش کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا۔

آپ کی شہزادی بھی آجاٸے گی۔ فکرنہ کریں۔۔ لیکن یہ سوچیں جو دھماکہ آپ کرنے جارہے ہیں۔۔ اسکا کیا اثر ہونے والا ہے۔۔۔!

دادا جیسے ہنس کےکہتا وہ وہاں سے اٹھا اور حازق کے پاس آیا۔ جو کسی ویٹر کو کوٸی ضروری ہدایات دے رہا تھا۔

حازق سیکیورٹی کے کیا انتظامات ہیں۔۔۔؟؟

ڈونٹ وری سخت سیکیورٹی ہے۔۔۔ بنا اجازت کے پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔۔۔

حازق نے یقین دلایا۔

یامین سر اثبات میں ہلاتا اندر کیجانب بڑھ گیا۔

لیکن وہ یہ نہیں جانتاتھا۔ کہ جب اپنے ہی دشمن نکل آٸیں تو غیروں سے کا ڈرنا۔۔۔۔؟؟

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔

جالی دار گھونگھٹ اوڑھاتے عناٸشہ نے اسکی تعریف کی۔

تو وہ صرف مسکرا کے ہی رہ گٸ۔

کیا ہوا۔۔۔؟؟ اتی چپ کیوں ہیں۔۔۔؟ عناٸشہنےٹاٸم پاس کرنے کے لیے کشش سے یونہی سوال کیا۔

جبکہ مدیحہ کسی سے ضروری کال کرنے باہر نکلی تھی۔

چپ نہ ہوں تو کیا ہوں۔۔؟؟ ناچوں۔۔۔؟؟ بھنگڑا ڈالوں۔۔؟

ایک تو۔۔۔انہوں نے میری بات نہیں مانی۔۔۔ رخصتی کروا کے دم لیا۔ اوپر سے۔۔ نواب صاحب کے نخرے بھی ساتویں آسمان پے ہیں۔۔۔!

کشش شروع ہو چکی تھی۔ جبکہ عناٸشہ اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھتی رہ گٸ۔ اسے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا۔ کہ وہ اسطرح کھلم کھلا اظہار کردے گی۔

آپ۔۔۔ کی مرضی شامل نہیں ہے۔۔۔؟؟

عناٸشہ کو یہی سمجھ لگی۔

مرضی۔۔۔؟ مجھے تو سب بچہ سمجھتےہیں۔۔۔ میری تو کوٸی کسی بات کو سیریس ہی نہیں لیتا ۔۔۔۔! کشش نے دکھ سے کہا۔

آپ کو ۔۔۔اپنےلیےاسٹنڈ لینا چاہیے۔۔۔ آج کل تو ہر جگہ ہی۔۔ یہی حال ہے۔۔ لڑکی کی چھوٹی عمر میں شادی کر دو۔۔۔ اور پھر وہی ظلم۔وستم۔۔۔!

عناٸشہ کو اسکی باتوں سے دکھ ہوا۔

ہیں۔۔۔ ناں۔۔۔! میں بہت چھوٹی ہوں ناں۔۔۔!

جانتی ہو۔۔ وہمجھ سے کتنا بڑے ہیں۔۔۔۔؟؟

کشش نے بڑے پے خاص زور دیا۔

کتنا۔۔۔؟؟ رناٸشہ نے بھنوٸیں اچکاٸیں۔

پورے سات سال۔۔۔۔ انگلیوں پے بتایا۔

عناٸشہ کا رکا سانس بحال ہوا۔

یہتو کوٸی خاص فرق نہیں۔۔۔ !

عناٸشہ نے سوچتےکہا۔

ملی نہیں ناں۔۔ ان کھڑوس سے۔۔۔! بس ہر وقت کافی کافی۔۔ کافی۔۔۔۔! کوٸی بتاٸے۔۔۔ بھلا۔۔۔ اچھی بھلی چاٸے بنا کے پیٸے بندہ۔۔۔۔!

اوپر سے۔۔۔ چھ ہوٹلز کا مالک۔۔۔۔!

ساتھ ساتھ خوبیاں بھی گنوانے لگی۔

عناٸشہ کو اسکی آخری بات پے بے اختیار کھانسی آٸی۔

اسے آٸیڈیا نہیں تھا۔۔ کہ وہ اس ہوٹل کے مالک کی بات کررہی ہے۔۔ لیکن اب اسے صحیح میں انداز ہ ہو گیاتھا۔۔

آپ۔۔۔ میر یامین ۔۔۔ سکندر کی واٸف ہیں۔۔؟؟

جھجکتےہوٸے پوچھا۔

جی یس۔۔۔۔! بڑے فخر سے بتایا۔

اور اپنی ہی چوڑیوں سے کھیلنے لگی۔

ااسکے جواب کے بعد عناٸشہ نے کچھ بھی پھر نہ پوچھا۔

لیکن یامن کے حق میں دعا کرنا نہ بھولی۔

وہ حازق کا ویٹ کر رہی تھی۔

اس نے کہاتھا کہ وہ خود آٸے گا۔ انہیں لینے۔۔

یہ براٸیڈل روم تھا ۔ اور گراٶنڈ فلور پے تھا۔ اور کوٸی نہیں جانتاتھا۔ کشش یہیں تیار ہوٸی ہے۔

جبکہ فنکشن تھرڈ فلور پے تھا۔

چلو۔۔ بھٸ آجاٶ۔۔۔ !

مدیحہ نےآتےہی عجلت سےکہا۔

سر حازق آ گٸے۔۔۔؟؟

ناٸشہ نے فوراً پوچھا۔ جبکہ کشش جانے کے لیے ریڈی تھی۔

نہیں۔۔ انہوں نے کسی کو بھیجا ہے۔۔ باقی سوال بعد میں ۔۔ اب چلو۔۔۔۔!مدیحہنے عجلت میں کہا۔

نننہیں۔۔۔۔! سر حازق نے کہا تھا۔۔ کہ وہ خود آٸیں گے لینے۔۔۔!

عناٸشہ کو کچھ غلط لگا۔

اف۔۔۔ تم۔ناں۔۔ بس انسلٹ کرواٶ گی۔۔۔ مدیح ہ کو غصہ آیا۔

ایک منٹ۔۔۔! میں سر سے پوچھ لوں۔

عناٸشہ ناے حازق کوکال ملاٸی۔

لیکن فون واٸبریشن پے ہونے کی وجہ سے وہ کال۔اٹینڈ نہ کرسکا۔

ایک کام کرو۔۔ تم۔یہیں۔۔ بیٹھ کے ویٹ کرو۔۔ میں دلہن کو لے کے چلی۔

مدیحہ نے عناٸشہ کو طنز کیا۔اور کشش کولیے باہر نکلی۔ وہ تو کب سے انتظار کررہی تھی۔ کہ وہ یہاں سے باہر نکلے۔

چادر اوڑھ کے اسے مدیحہ باہر لاٸی۔

عناٸشہ بھی اسکے پیچھے بھاگی۔

وہ دونوں ایک گاڑی کی جانب بڑھیں۔

عناٸشہ بھی ساتھ ہولی۔

یہ۔۔کہاں۔۔۔ جارہی ہو۔۔۔؟؟ ہمیں تو اسطرف جانا ہے۔۔۔؟

عناٸشہ نے روکا۔ چادر کے ہالے سے کشش نےبھی سر باہر نکال کے دیکھا۔ کہ اسی لمحے کسی نے کلوروفارم۔سنگھایا۔ اور وہ ہوش و حواس سے بے گانہ ہوٸٕی۔

عناٸشہ یہ دیکھتےحیران رہ گٸ۔

عناٸشہ نے کی نظروں نےسیکیورٹی کو ڈھونڈنا چاہا۔۔لکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ سیکیورٹی کو بھی چکما دے کے آٸے تھے۔

وہ کچھ کر پاتی کہ کسی نے اسکے سر پے بہت زور سے وار کیا۔ اور وہ سر پکڑتی نیچے گری۔

مدیحہ نے نفرت سے اسے دیکھا۔

اب اسکا کیا کرنا ہے۔۔۔؟؟ کشش کو ان میں سے ایک وہ وہاں سے لے جا چکا تھا۔

اور عناٸشہ کا پوچھ رہا تھا۔

کرنا کیاہے۔۔۔۔؟؟ لے جاٶ۔۔ا سے بھی۔۔۔ اسی۔۔۔ کے تو۔۔ نام کرنی ہے۔۔۔ یہ واردات۔۔۔۔!

مدیحہ شاطرانہ ہنسی ہنسی۔

تو اس نے عناٸشہ کو اٹھا کےبھی گاڑی میں ڈالا۔

ان کے جانے کے بعد وہ واپس اندر کی جانب بڑھی۔ کسی کا دھیان اسکی طرف نہ تھا۔ ایک ہتھوڑا اٹھایا۔ اور زور سے اپنے سر پے وار کیا۔

خون کی ایک لہر اسکے ماتھے سے ہوتی۔۔۔ اسکے گال پے بہنے لگی۔

اب ۔۔ صرف بربادی ہوگی۔۔۔ التاج ہوٹل کی بھی اور اسکے مالکوں کی بھی۔۔۔

اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔

اور وہ زمین بوس ہوٸی۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

کرن عزیز۔۔۔! ولد۔۔ میر عزیز سکندر۔۔! آپ کا نکاح میر داور سکندر سے بعوض حق مہر بیں لاکھ طے کیا جار ہا ہے۔۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔؟؟

جی۔۔۔۔ قبول ہے۔۔۔۔

دلہن بنی وہ شرماٸی سی لجاٸی سی گھونگھٹ نکالے بیٹھی کپکپاتی آواز میں بولی۔

کرن سے قبول و ایجاب کے بعد انہوں سنے داور سے بھی وی الفاظ دہراٸے۔ اسکے قبول کنے کے بعد مبارک کا شور اٹھا۔

اور اسی لمحے عزیز صاحب کی اینٹری ہو ٸی۔

آتےہی وہ دادا جان سے ملے۔

اور پھر اپنی بیٹی۔۔سے۔ وہ خوش بھی تھے اور آنکھیں نم بھی تھیں۔

اچھا ہوا۔۔ پہنچ گٸے۔۔ ورنہ ۔۔ ساری زندگی۔۔ پچھتاوے میں گھرے رہ جاتے۔۔

دادا جی نے خود سے لگاتے کہا۔

آپ کیسے ہیں۔۔؟؟ مجھے نہیں بتایا۔۔۔ اس وقت۔۔۔ بعد میں پتہ چلا۔۔۔ لیکن۔۔۔ بہت برا پھس گیا تھا۔۔۔

وہ اپنی مجبوری ناچاہتے ہوٸے اپنے لہجے سے عیاں کر گٸے۔ لیکن وہ یہ نہ کہہ سکے کہ وہ جہاں تھے واں سے وہ اپنی مرضی سے نکل بھی نہیں پا رہے تھے۔

کوٸی نہیں جانتا تھا۔۔ کہ ایسا کون تھا ۔۔۔جو الگ الگ کرنے ان پے وار کر رہا تھا۔۔۔ اور انکو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دے رہا تھا۔۔

اور انکی سب سے بڑ ی ہار یہی تھی۔ کہ یہایک دوسرے سے چھپا رہے تھے۔

دادا جی نے یامین کو اشارہ کیا کہ وہ کشش کو بلواٸے ۔

یامین نے حازق کی طرف دیکھا۔۔وہ سر اثبات میں ہلاتا

موباٸیل پے کال کرنے کے ارادے سے لفٹ کی جانب بڑھا۔

موباٸیل پے عناٸشہکی کال دیکھ حازق نے اسے کال بیک کی۔

لیکن نمبر بند تھا۔

وہ لفٹ رکتے ہی باہر آیا۔

سیکیورٹی اسکی طرف بھاگی۔

اور اسے کور کیا۔

میم۔۔کہاں۔۔ ہیں۔۔۔؟؟

حازق نے فوراً سوال کیا۔

جی سر۔۔۔ ! وہ اندر ہی ہیں۔۔

اہک نے جواب دیا۔

حازق اندر بڑھا۔لیکن وہاں مدیحہ کو بے ہوش پڑا دیکھ ٹھٹکا۔

اور فوراً سے اسکی جانب بڑھا۔

اس کے ماتھے پے چوٹ آٸی تھی۔

حازق نے اسے اٹھانے کی کوشش کی۔

لیکن وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔

حازق نے فوراً یامین کو کال ملاٸی اور اسے انفارم کیا۔

پانی لے کے آٶ۔ پاس کھڑے ایک سیکیورٹی گارڈ کو کہا۔

جیسے ہی وہ پانی لایا۔ حازق نے اس پے پانی کے چھینٹے مارے و وہ نیم بے ہوش سی ہوتی جاگی۔

مدیحہ۔۔۔؟ عناٸشہ اور ۔۔ دلہن کہاں ہے۔۔۔؟؟

حازق نے فوراً پوچھا۔

سر۔۔۔!! وہ۔۔۔ عناٸشہ لے کے۔۔۔ چلی گٸ۔۔۔

اس کے ساتھ۔۔۔ دو۔۔ لوگ اور تھے۔۔۔ انہوں نے مجھ پے حملہ کیا۔

مدیحہ نے روتے ہوٸے کہا۔

جبکہ دروازے میں کھڑے یامین نے دہلتے دل۔سے اسکی ساری بات سنی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *