Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 24)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 24)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
یہ۔۔۔ لاٸیٹس کیوں آف کیں۔۔۔؟؟ کشش نے مڑ کے یامین سے پوچھا۔
سوتے وقت لاٸٹس آف ہی کرتے ہیں۔۔۔! آنکھوں پے بازو ٹکاٸے وہ بنا اسے دیکھے بولا۔
بٹ۔۔۔ مجھے لاٸٹس آف ہوں۔۔ تو نیند نہیں آتی۔۔
منہ بناتی وہ منمناٸی۔
کشش۔۔۔! تنگ مت کرو۔۔ اورسوجاٶ۔ دوسری طرف رخ پھیرتے وہ تھکے انداز میں بولا۔
کیسے سوٶں۔۔۔۔؟؟ اندھیرا میں ۔۔۔ نہیں سو سکتی میں۔۔۔!اب کی بار آواز تھوڑی اونچی تھی۔
اور لاٸٹس آن ہوں تو مجھے نہیں آتی نیند۔۔۔۔! سنجیدگی سے کہتے وہ آنکھیں موندے رہا۔
کشش نے غصے سے کمفرٹر کھینچا۔
یامین جو نیند کے جھروکوں میں کھو رہا تھا۔ ہڑبڑایا۔
کشش۔۔۔! سکون نہیں تمہیں۔۔۔؟؟ پلٹ کے اس سے غصے سے کہا۔ جو پورا کمفرٹر اپنے اوپر لیے منہ سر ڈھانپے لیٹی تھی۔
یامین نے کمفرٹر اپنی طرف کھینچا تو اس نے مزید زورلگا کے سارا اپنی طرف کر لیا۔
حد ہو گٸ۔۔۔۔! کیا مسٸلہ ہے تمہارا۔۔ یار۔۔۔۔؟؟
یامین جھنجلا کے اٹھ بیٹھا۔
لاٸٹس آن کر دیں۔۔ پھر کمفرٹر مل۔جاٸے گا۔۔۔
منہ تھوڑا سا باہر نکال کے اس نے یامین کو مزید تپایا۔
یامین دانت پیستا وہاں سے اٹھا۔ اور کبرڈ سے دوسرا کمفرٹر نکال لایا۔
کشش اسے آرام سکون سے لیٹتا دیکھ آگ بگولا ہو گٸ۔
اور اٹھ بیٹھی۔ کچھ یر گذری ہوگی۔
کہ اس نے یامین کو پکارا۔
لیکن وہ شاید سو چکا تھا۔ چپکے ے اندازہ کرتی جا کے لاٸیٹ آن کر دی۔ اور آکے بستر پے مزے سے لیٹ گٸ۔ لاٸیٹ کی روشنی سے یامین کی آنکھ کھل گٸ۔
لیکن بوجھل ہوتی آنکھوں سے وہ ساتھ لیٹی کشش کو بس گھور کے رہ گیا۔
یہ لذکی نہ خود سکون سے رہے گی۔ نہ مجھے رہنے دے گی۔
بڑبڑاتے اٹھا۔ اور لاٸیٹ آف کر دی۔ اور وہیں کھڑا رہا۔ کشش نے کمفرٹر منہ سے ہٹایا۔
اور پھر سے اٹھ کے لاٸیٹ آن کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ جانے بنا کی یامین اپنی جگہ پے نہیں۔
جیسے ہی اندازاً سوٸچ بورڈ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ یامین نے اسکا ہاتھ تھام اپنی طرف کھینچا۔
وہ سیدھی اسکے سینے سے جا لگی۔
مسز۔۔۔سکون نہٕں آپ کو۔۔۔ ؟؟ گھمبیر لہجے میں کہتا وہ کشش کا دل دھڑکا گیا۔
وہ۔۔۔ لاٸیٹ آپ کر دیں ناں۔۔ پلیز۔۔۔۔؟؟ میں آپ کی کتنی پیاری۔۔۔ اور۔۔ خوبصورت بیوی ہوں۔۔۔!
کشش نے شرمندہ کیا ہونا تھا۔ یامین کے ل کی دنیا کو ہلا کے رکھا ہوا تھا۔
کشش۔۔۔ تم ناں۔۔۔ چاہتی ہی نہیں۔۔ کہ میں سوٶں۔۔۔! لیکن سوچ لو۔۔۔ اگر۔میں نہ سویا۔۔۔تو۔۔۔۔سونے تمہیں بھی نہیں دینا۔۔۔
اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے وہ اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑا گیا۔
آپ۔۔۔۔ عادت ڈال لیں ناں۔۔۔ پلیز۔۔۔۔!! کشش نے ہر ممکن کوشش سے یامین کو منانے کی کوشش کی۔
اچھا یہ بتاٶ۔۔؟؟ لاٸیٹ آپ کرنے کی کوٸی خاص وہ؟
وہ اب تھوڑا سنجیدگی سے بولا۔
وہ۔۔۔ مجھے۔۔۔ ڈر لگتا ہے۔۔۔۔! نا چاہتے ہوٸے بھی کشش کو بتاتے ہی بنی۔
یامین کچھ پل خاموش رہا۔ پھر اسے گود میں اٹھاتا بستر کی جانب بڑھا۔
وہ لاٸیٹ۔۔۔۔؟؟ وہ بوکھلاٸی۔
میں ہوں۔۔ناں۔۔ تمہارے پاس۔۔۔! پھر ڈرکیسا۔۔۔؟؟
اسے بسترپے لیٹاتا وہ بہت اپناٸیت سے بولا۔
آپ۔۔۔ سورج ہیں۔۔؟جو اندھیرے میں روشنی کر دیں گے۔۔؟؟
کشش نے مزاق میں کہا۔
اپنی جگہ لیٹتے یامین نے کشش کو کھینچ کے اپنے سینے سے لگایا۔
اسکا سر اپنے کاندھے پے رکھا۔ وہ تو سانس روکے یامین کی اس حرکت پے سخت بوکھلاٸی۔
آپ۔۔۔۔ ؟؟ اس نے سر اٹھا کے اسے دیکھنا چاہا۔
کشش۔۔۔! اب آواز نہ آٸے۔ اور چپ کر کے سوجاٶ۔۔۔
یامین نے آنکیں موندے اسے کہا۔ تو وہ واپس اپنا سر اسکے کندھے پے ٹکا گٸ۔
اسکا ایک ہاتھ تھامے اپنے دل کے مقام پے رکھے اسے اپنی بانوں میں لیے وہ سونے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔
بیوی ہو۔۔ اورمن چاہی بھی ہو۔۔
دسترس میں بھی ہو۔۔
اور خود پے قابو رکھنا محال تھا۔
لیکن وہ کشش پے اپنے ازدواجی رشتے کو زبردستی تھوپنا نہیں چاہتا تھا۔
وہ اسے وقت دینا چاہتا تھا۔کہ وہ خود اسکی طرف پیش قدمی کرے۔
اور سب سے بڑھ کے وہ یہ چاہتا تھا۔کہ وہ اپنی پڑھاٸی مکمل کرے۔
سوگٸے۔۔۔؟؟ کشش کی دھیمی آواز کانوں سے ٹکراٸی۔
کشش۔۔۔! سو جاٶ۔۔۔! آواز میں تنبیہ تھی۔
کشش نے جھٹ سے آنکھیں موندیں۔ اور سونے کی کوشش کی۔
کچھ دیر میں وہ نیند کی وادیوں میں کھو گٸ۔
یامین نے اسکی بھاری ہوتی سانسو ں کو محسوس کیا تو دھیرے سے اسکا سر تکیہ پے رکھتا وہ اٹھا۔
اور واٸبریٹ ہوتا اپنا سیل اٹھاتا گیلری میں آیا۔
ہاں۔۔۔جلیل ! کیا ہوا۔۔۔؟؟ خیریت؟
سر۔۔۔۔! خیریت نہیں ہے۔۔۔ حازق سر کا۔۔ ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے۔۔۔!وہ اس وقت ہاسپٹل میں ہیں۔
جلیل بہت گھبراٸے ہوٸے بولا۔
کیا۔۔۔۔؟؟ کونسے۔۔۔ کونسے ہاسپٹل میں۔۔۔؟؟ یامین سے پریشانی کی وجہ سے بولانہ جا رہا تھا۔
جلیل سے ہاسپٹل کا ایڈریس لیتے وہ فوراً گاڑی کی چابی اٹھاٸے باہر نکلا۔
بنا کسی کو بتاٸے وہ جلد از جلد رش ڈراٸیونگ کرتا ہاسپٹل پہنچا۔
کہاں ہے۔۔۔حازق؟؟ سامنے جلیل کو دیکھتے وہ فوراً پوچھتا اسکے پاس آیا۔
آٸی سی یو میں۔۔۔! جلیل بہت دکھی تھا۔حازق کو وہ اپنا بھاٸی ہی سمجھتا تھا۔
یامین فوراً آٸی سی یو کی جانب بڑھا۔
پلیز سر۔۔۔! آپ باہر۔۔جاٸیں۔
ڈاکٹر نے فوراً سے یامین کو دیکھتے کہا۔
میرا۔۔۔ بھاٸی ہے۔۔۔ میرا۔۔۔! وہ۔۔کیسا ہے؟
ڈونٹ وری۔۔۔ زیادہ سیریس نہیں ہیں۔۔ تھوڑی سی انجیرز ہیں۔۔ آپ پلیز باہر ویٹ کریں۔
ڈاکٹر نے یامین کو باہر کرتے اپنا کام پھر سے شروع کیا۔ حازق بے ہوش تھا۔
کیسے۔۔۔ کیسے ہوا یہ سب۔۔۔؟؟
یامین جلیل کی طرف مڑا۔
میں تو گھر تھا سر۔۔۔! مجھے کال آٸی۔۔حازق سر کے نمبر سے۔ کسی اجنبی کی۔۔ اور اسی نے بتایا کہ انکا ایکسیڈینٹ ہوا ہے۔ اور وہ ہاسپٹل میں لے کے گٸے ہیں۔
جلیل نے ڈیٹیل دی۔تو یامین لب بھینچ کے رہ گیا۔












اَلسَلامُ عَلَيْكُم ،،،،،،.۔۔۔
دروازے پے دستک دتے ہی کھولنے والے نے سامنے کسی سوٹڈ بوٹڈ بندے کو دیکھا ۔
جی وَعَلَيْكُم السَّلَام،،،،..
وہ۔۔۔۔مجھے۔۔فریدہ سے ملنا ہے۔۔۔ حیات صاحب کو اپنی آواز ہی اجنبی لگ رہی تھی۔
جی۔۔کون فریدہ۔۔۔؟؟ یہاں کوٸی فریدہ نہیں رہتی۔
سامنے کھڑے شخص سے حیرانی سے دیکھتے کہا۔
لیکن۔۔۔ وہ یہیں۔۔ رہتی تھی۔۔۔۔ اور۔۔۔ اسکی ۔۔۔ایک۔۔ بیٹی بھی تھی۔۔۔؟؟
حیاتصاحب کا دل دھڑکا۔
جی۔۔۔ ہمنے یہ گھر تین سال پہلے ہی خریدا ہے۔۔
کسی فیاض صاحب سے۔۔۔ لیکن۔۔۔ فریدہ۔۔کون ہے۔۔۔؟ یہ ہم نہیں جانتے۔۔۔؟؟
اس شخص نے صاف لاعلمی کا اظہار کیا۔
اور دروازہ بند کر گیا۔
اگر۔۔۔ فریدہ یہاں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ تو وہ کہاں جا سکتی ہے۔۔۔؟؟
کہیں۔۔ مجھے کڈنیپ کرنے والی وہی تو نہیں۔۔۔؟؟
وہاں سے باہر نکلتے وہ بس بار بار مڑکے گھر کو ہی دیکھ رہے تھے۔
جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا ایک سال ضاٸع ہی کیا تھا۔
ہاں۔۔ وہ انکی بھول تھی ۔۔ ایک بہت بڑی بھول۔۔۔ جس کا خمیاہ وہ آج تک بھگت رہے تھے۔ اپنے ضمیر کی عدالت میں۔۔
لیکن۔۔ وہ یوں واپس پلٹے گی۔۔ انہوں نے کبھی سوچا نہ تھا۔
ہر وہ چیز جو اسنے چاہی۔ حیات صاحب نے اسے مہیا کی۔ لیکن۔۔وہجہاں سے اسے لے کے آٸے۔۔ وہ وہاں کی خصلت نہ اس میں چھڑا پاٸے۔
بہت دلبرداشتہ ہو کے وہ واپس گاڑی میں بیٹھے۔
فریدہ۔۔۔! اگر اس سب کے پیچھے تم ہوٸی۔۔اور تم نے میری فیملی کو زرا سی بھی آنچ پہنچاٸی تو۔۔ جان سے ماردوں گا۔۔تمہیں۔۔۔
دل ہی دل میں انہوں نے تہیہ کیا۔













صبح کشش کی آنکھ کھلی تو یامین کو غاٸب پایا۔
فوراً سے اٹھ کے پورا کمرہ چھان مارا۔ لیکن وہ کہیں نہ تھا۔
یہ۔۔۔ صاحب بہادرکہاں چلے گٸے۔۔۔؟؟ وہ بھی صبح صبح۔۔۔؟؟ وہ سوچ میں پڑ گٸ۔
خیر۔۔۔ جہاں بی جاٸیں۔۔ لوٹ کرمیرے پاس ہی آنا ہے۔۔۔
جو بی ہے۔۔۔ ہیں بہت سویٹ۔۔۔۔!
کشش یامین کو سوچتے مسکراتے بلش کرنے لگی۔
کہ اتنے میں دروازہ کھلا۔ اور یامین اندر داخل ہوا۔
اسکی آنکھیں رت جگے کا پتہ ے رہی تھیں او چہرے پے پریشانی اور تھکن الگ تھی۔
خیریت۔۔۔؟؟ آپ صبح صبح واک کرنے گٸے تھے۔۔؟؟
کشش نے میٹھا طنز کیا۔
یامین جو شاور لینے جا رہا تھا۔ اسکی بات پے پلٹا۔۔
ہاں۔۔۔ اور کل سے تمبھی ساتھ چلو گی۔۔۔ میٹھا کھا کھا کے۔۔ موٹی ہوتی جا رہی ہو۔۔ واک ضروری ہے۔۔ تھوڑی سمارٹ ہو جاٶ گی۔۔ ورنہ دیکھنے میں تو مجھ سے بھی بڑی لگتی ہو۔۔!
یامین نے اگلے پچھلے سارے ادھار آج ہی اتار لیے۔ اور پرسکون ہوتا شاور لینے چلا گیا۔
جبکہ کشش کا تو حیرت کے مارے منہ ہی کھلا رہ گیا۔
آٸینے کے سامنے کھڑی وہ اپنا آپ دیکھنے لگی۔ داٸیں باٸیں ہوتی ہر اینگل سے خود کو دیکھا۔
جھوٹ بولتے ہیں۔۔۔ بالکل بھی موٹی نہیں ہوٸی میں۔۔
کشش کو یامین کی شرارت سمجھ آگٸ۔
ٹاول سے بال خشک کرتا وہ باہر نکلا ۔ تو وہ کڑے تیور لیے اسے گھور رہی تھی۔
نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا۔۔؟ میٹھے انداز میں اسے کہتا آٸینے کسے سامنے کھڑا ہوا۔ دونں ہی آٸینے میں کھڑے ایک دوسرے کو۔مکمل کر رہے تھے۔
آپ۔۔۔ اب جھوٹ بھی بولنے لگے ہیں۔۔۔؟؟ ہاتھ باندھتی وہ یامین کو گھوری سے نوازتی بولی۔
نہیں۔۔ تو۔۔۔! کب بولا۔۔۔؟؟
آپ۔۔ اتنی صبح صبح تیار شیار ہق کے کہاں جا رہے ہیں۔۔؟؟ کیا میں جان سکتی ہوں۔۔؟
نہیں۔۔۔!
کشش کے کمر پے ہاتھ باندھتے روایتی بیویوں کی طرح پوچھنے پے یامین نے برجستہ جواب دیا۔
یار۔۔۔ وہ حازق۔۔ کا ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا۔۔ رات کو۔۔ تو اسے ہاسپٹل سے گھر لایا ہوں۔ گیسٹ روم میں ہے۔۔ تم فریش ہو کے آجاٶ۔۔ پھر ایک ساتھ باہر چلتے ہیں۔۔
یامین نے بہت پیار اور نرم لیجے میں کہا تو وہ بے ہوش ہوتے بچی۔ اتنی چاہت پے۔۔۔۔
حازق۔۔ بھاٸی۔۔۔؟؟ انہیں کیا ہوا۔۔۔؟؟ وہ ٹھیک ہیں ناں۔۔؟؟
ہممممم ۔! شکر ہے اللہ کا۔۔ بہتر ہے۔۔ اب۔۔ لیکن۔۔۔ اسکی اداسی بہت زیادہ ہے۔۔ خیر باقی سوال بعد میں کر لینا۔۔ جاٶ۔۔ اب۔۔۔! جلدی سے فریش ہو جاٶ۔
پرفیومکا سپرے کرتے وہ کشش کو بولا۔تو وہ منہ بناتی باتھ روم کی جانب بڑھی۔
لیکن کچھ ہی دیر بعد واپس پلٹی۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ منہ بناتے دیکھتا وہ اس سے پوچھا بیٹھا۔
میرے۔۔ کپڑے۔۔۔؟ وہ منمناٸی۔
یامین نے سر پے ہاتھ مارا۔
میں لے آتی ہوں۔۔ اپنے روم سے۔۔۔! کشش کہتے باہر نکلنے لگی۔ کہ یامین نے اسکا ہاتھ پکڑا واڈروب کیجانب کیا۔
اور ایک جھٹکے سے اسے کھولا۔ سامنے ڈھیر ڈریسز کے دیکھ کے وہ دنگ رہ گٸ۔
یہ۔۔۔ یہ کب۔۔۔لیے آپ نے۔۔۔؟؟ وہ خوشی سے بولی۔ ہر ڈریس یک سے بڑھ کے ایک تھا۔
جب۔۔ رخصتی ہونےوالی تھی۔۔ اور۔۔ نہیں ہوٸی تھی۔۔ دھیرے سے کہا۔
اوہ۔۔ رٸیلی۔۔۔ ! کتنے پیارے ہیں یہ سب۔۔۔! ان ڈریسز کو دیکھتے وہ معصومیت سے بولی۔
مممم۔۔۔۔ یہ والا پہنو۔
لیمن کلر کا لاٸیٹ نگ کے کام والا ڈریس اسکیجانب بڑھایا۔
بہت پیارا ہے۔۔یہ۔۔۔۔! میں ایویں آپ کو کھڑوس سمجھتی تھی۔۔۔لیکن آپ کی پسند تو لاجواب ہے۔۔۔
مزے سے کہتی وہ باتھ روم میں گھسی۔
پسند تو واقعی لاجواب ہے۔۔۔
ہمکلامی کرتے وہ مسکرایا۔













دانی۔۔! جلدی چلو۔۔۔ کہیں مما کو پتہلگا تو خیر نہیں۔۔!
دانیال اور ہانیہ باہر سے چپکے سے اندر داخل ہوٸے۔
کاریڈور سے گزرتے عناٸشہ کی نظر ان پے پڑی۔
دانی۔۔۔! رکو۔۔۔ یہ۔۔ ہاتھ پے کیا ہوا تمہیں۔۔؟؟ عناٸشہ گھبراٸیاس کے پاس آٸی۔
کچھ بھی نہیں۔۔۔! اپنے کام سے کام رکھیں۔
دانی روکھے انداز میں بولا۔
مجھے دکھاٶ۔۔؟ عناٸشہ نے اسکا ہاتھ تھامنا چاہا۔
ہاں۔ تاکہ۔۔۔ مما کو بتاٶ۔۔۔؟؟ ہانیہ نے منہ بناتے کہا۔
عناٸشہ نے اسکی بات کو نظر انداز کیا۔ اور زبردستی دانی کا ہاتھ تھاما۔
اوہ۔یہ تو۔۔۔ چوٹ آٸی ہے۔۔۔سوالیہ انداز میں انہیں دیکھا۔
جانتے ہیں۔۔ اگر انویسٹیگیشن ختم ہو گٸ ہو تو۔۔ ہم جاٸیں۔؟ دانی نے سنجیگی سے کہا۔
ہانیہ۔۔! فرسٹ ای باکس لے کے آٶ۔۔ فوراً۔
اب کی بار تھوڑا سختی سے کہا۔ تو وہ دانی کو ایک نظر دیکھتی منہ بناتی فرسٹ ایڈ باکس لینے چلی گٸ۔
باٸیک سے گرے ہو یا۔۔ لڑاٸی کی ہے۔؟؟
زخم دیکھتے سرسری انداز میں پوچھا۔
بتانا ضروری نہیں سمجھتا۔۔
دانی نے بھی سنجیدگی سے بنا دیکھے جواب دیا۔
ہانیہ فرسٹ ایڈ باس لے آٸی تو عناٸشہ نے بہت نرمی سے اسکا زخم صاف کیا۔ اور اس پے بینڈیج کر دی۔
اگر۔۔ اپنوں کو اپنا سمجھو تو ان پے اعتبار بی کرلینا چاہیے۔۔۔!
کیاثبوت ہے۔۔ کہ آپ ہماری اپنی ہیں۔۔؟؟ دانی نے اسکی طرف دیکھتے سر انداز میں پوچھا۔
عناٸشہ کی آنکھیں نم ہو گٸیں۔
ثبوت تو۔۔ تمہارےپاس بھی نہیں کہ میں تمہ لوگوں کی اپنی نہیں۔۔۔؟؟ اسی کے انداز میں کہا۔
تو وہ دونوں ایک دوسرے کامنہ دیکھنے لگے۔
رشتے ثبوتوں کے محتاج نہیں ہوا کرتے۔۔۔ دل سے دل مل جاٸیں تو وہ رشتے ہیں۔۔ ایک کو چوٹ لگے ۔۔ دوسرے کو تکلیف پہنچے۔۔ وہ رشتے ہیں۔۔
انکے قریب آتے وہ بہت پیار اور نرمی سے بولی۔
کہ وہ چپ ہوگٸے۔
بھلے۔۔ آپ دونوں۔۔ مجھے۔۔ اپنی بہن نہ سمجھو۔۔۔ لیکن۔۔ میرے لیے۔۔ آپ دونوں۔۔ سب سے اہم ہو۔۔ کیونکہ۔۔ میں آپ دونوں کو اپنا سمجھتی ہوں۔۔ اپنا مانتی ہوں۔۔۔! عناٸشہ کا نرم اور محبت بھرا لہجہ ان دونوں کو شرمندہ کر گیا۔
عناٸشہ خاموشی سے واہاں سے ہٹ گٸ۔
ہمنے انہیں ہرٹ کیا۔۔۔! دانی نے دھیرے سےکہا۔
شاید۔۔ وہ صحیح کہہ رہی ہیں۔۔ ہمیں اس طرح ان سے بدتمیزی سے بات نہیں کرنی چاہہیے تھی۔
ہانیہ کو بھی شرمندگی ہوٸی۔
کمرے میں آتے اس نے اپنے رکے آنسو صاف کیے۔ اب تو بات پے رونا آجاتا تھا۔
اتنے میں موباٸل پے کال نے اسکا دھیان اپنی طرف کھینچا۔
ہیلو۔۔۔! آنسو صاف کرتے نارمل۔لہجے میں بولی۔
بیٹا۔۔! کچھ دیر تک عادل آپ کو پک کرنے آرہے ہیں۔۔ شادی کی شاپنگ کے لیے۔۔ تو آپ تیار رہنا
جمیلہ بیگم نے چھوٹتےہی آرڈر لگایا۔
مما۔۔۔لیکن۔۔۔ اس سب کی کیا ضرورت۔۔۔؟؟
کھوکھلا احتجاج کرنا چاہا۔۔
بیٹا۔۔ عادل کی خواہش ہے۔۔ کہ سب آپ کی پسند کا ہونا چاہیے۔۔ اچھا۔۔ آپ چلی جانا۔۔۔۔میں بہت بزی ہوں۔۔ بعد میں بات کرتی ہوں۔۔
کال کٹ چکی تھی۔
سب میری پسند کا۔۔۔؟؟ لیکن۔۔۔ یہاں تو۔۔۔ ہمسفر ہی میری پسند کا نہیں۔۔۔؟؟
وہ بس سوچ کے رہ گٸ۔











ناشتے کی ٹیبل پے سبی موجود تھے سواٸے یامین کے۔ وہ حازق کے ساتھ گیسٹ روم میں ہی بریک فاسٹ کر رہا تھا۔ کشش ہنستی مسکراتی دادا جی کے آگے پیچھے ہوتی۔ ناشتہ کرنے میں مصروف تھی۔
دادا جی نے اکا اور یامین کا صدقہ اتارا۔ کرن تو اسکے رنگ ڈھنگ فیکھ ہی حیران ہو رہی تھی۔
تمپے تو۔۔ صحیح دلہن والا روپ آیا ہے۔۔۔! کیا جادو کیا۔۔ ہے۔۔یامین بھاٸی نے۔۔۔؟؟ کرن نے دھیرے سے پوچھا۔
تو وہ مسکراتی اسکے کان کے قریب ہوٸی۔
یہ عشق کا جادو ہے۔۔۔
سر چڑھ کے بولے گا۔۔۔
کہتی پیچھے ہوتی ایک آنکھ ونک کر گٸ۔
کرن نے آنکھیں پھاڑے اسکی بےباکی دیکھی۔ اور پلیٹ پے جھکی۔
اہ ہاں۔۔ یہ تو بتایا ہی نہیں۔۔؟؟ منہ دکھاٸی میں کیا ملا۔۔۔؟؟
کرن نے یاد آنے پے پوچھا۔
وہ۔۔۔ ؟؟ کشش نے سوچنے والے انداز میں اسکی طرف دیکھا۔
وہ تو۔۔ انہی کے پاس ہے۔۔۔ ویٹ۔۔۔میں ابھی لےکے آٸی۔
کہتے وہ اٹھی اور گیسٹ روم کی طرف بڑھی۔ جبکہ کرن اسے روکتی رہ گٸ۔ اور اسکے نہ رکنے پے ماتھےپے ہاتھ مارا۔ اس کا کچھ نہیں ہوسکتا۔











حازق۔۔۔! جو بیت گیا۔۔ اسے بھول جاٶ۔۔ایک لڑکی کے لیے تم خود کو برباد مت کرو۔۔۔! دماغ سے نکال پھینکو۔۔
یامین نے اسکی ساری بات سن کے اسے سمجھایا۔
رات کو بھی ہوش آنے پے اس نے گھر جانے سے انکار کر دیا تھا۔اور یامین اسے منا کے اپنے گھر لے آیا تھا۔
لیکن یہاں آکے بھی وہ خوش نہ تھا۔
دماغ سے تو نکال دوں۔۔لیکن۔۔ اس دلسے کیسے نکالوں۔۔؟؟
حازق بے بس نظر آیا۔۔
اللہ پے بھروسہ ہے ناں۔۔ پھر سب کچھ اللہ پے چھوڑ دو۔۔ وہ بہتر کرے گا۔۔
وہ کسی اور کی ہوجاٸے گی۔ صرف۔۔ ان چند دنوں میں۔۔ یہ احساس مجھے اندر ہی اندر کھاٸے جا رہا ہے۔۔یامین۔۔۔؟؟ وہ دل پے ضبط کرتے بولا۔
جس کا جوڑ جس کے ساتھ لکھا ہے۔ وہ اسی کو ملتا ہے۔۔ اور یہ میرا رب پے پورا یقین ہے۔۔۔ اورتم۔۔۔ اپنے یقین کو مت ڈگمگاٶ۔۔ اور فی الحال سب سوچیں دل و دماغ سے نکالو۔۔۔ اور ناشتہ کرو۔ میں بس ابھی آیا۔۔!
یامین کمرے کے باہر کشش کی ایک جھلک دیکھ چکا تھا۔ جو باہر کھڑی تھی۔ نجانے کب ے اور اب اس کے دیکھنے پے اسے اشارہ کرتے باہر بلایا۔
وہ اٹھتا باہر آیا۔
کیا مسلہ ہے۔۔؟ دھیرے سے پوچھا۔
مسلہ کیا ہونا۔۔۔؟ ؟میری۔۔۔منہ دکھاٸی نہیں دی آپ نے۔۔ فوراً سے دیں۔۔؟؟ ہتھیلی اس کے آگے پھیلاتی وہ یامی کو پھر سے ٹھٹھکا گٸ۔ اسکی یہی معصومانہ حرکتیں اسے بہت لبھاتی تھیں۔
کونسی منہ دکھاٸی۔۔۔؟ ہزار بار کا دیکھےمنہ۔۔ پے کون دیتا ہے منہ دکھاٸی۔۔؟؟ یامین نے سنجیدہ انداز میں اسے کہا لیکن آنکھوں میں شرارت تھی۔
دیکھیں شرافت سے مجھے۔۔ میری منہ دکھاٸی دے دیں۔ ورنہ۔۔۔؟؟ گھورتے وہ تھوڑی قریب ہوٸی۔
ورنہ کیا۔۔۔؟؟ وہ بھی گھمبیر لہجے میں بولتا اسکے اور زیادہ قریب ہوا۔
مجھے۔۔ خود بی لینی آتی ہے۔۔۔
منہ بنا کے کہتی وہ پلٹی۔۔کہ یامین نے ہاتھ سے پکڑ کے اپنی طرف موڑا۔
میں چاہتا ہوں کہ تم۔۔ خود لو۔۔۔! وہی گھمبیر لہجہ۔۔ کشش کا ننھا سا دل پھر سے دھڑکا گیا۔
آپ کے ۔۔۔ دوست کے پاس جاٸیں۔ انہیں۔۔ آپ کی ضرورت ہے۔۔۔ محبت کا غم۔۔ بڑاابرا ہوتا ہے۔۔ ار جان لیوا بھی۔۔ !
کشش نے اسکا دھیان اپنی طرف سے ہٹایا۔
ایک منٹ۔۔۔! تم ہماری باتیں سن رہی تھی۔۔؟؟ یامین کو شاک لگا۔
نہیں غلطی سے کان میں پڑگٸیں۔
ایک بات بولوں آپ کو۔۔ محبت کرنے والوں کو آپس میں ملواتے ہیں۔۔ الگ نہیں کرتے۔۔ اوراگر۔۔ کسی وجہ سے الگ ہو رہے ہوں۔۔ تو انکی مدد کرتے ہیں۔۔ انکا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔۔ انکوملوانے کے لیے زین آسمان ایک کرتے ہیں۔۔ نہ کہ۔۔ ان کا حوصلہ پست کرتے ہیں۔۔
وہ بہت زیادہ بول گٸ تھی۔ یامین تو بس اسے دیکھے گیا۔
آپ جانتے ہیں۔۔ اللہ بھی انہیں بہت پسند کرتا ہے جو پیار کرنے والوں کو آپس میں ملاتے ہیں۔۔
اور آ پ کو بھی اپنے دوست کے لیے۔۔ کچھ ایسا ہی کرنا چاہیے۔۔
وہ لیکچرشروع کر چکی تھی۔ اور یامین نفی میں سر ہلاتا۔ واپس اندر کی جانب بڑھ گیا۔ لیکن اس بار دروازہ بند کرنا نہ بھولا۔
لو۔۔۔ یہ بھی کوٸی بات ہوٸی۔۔
لگتا ہے۔۔ اللہ نے یہ نیکی بھی میرے نصیب میں لکھ دی ہٕیے۔۔ مجھے ہی۔۔ اب ان کو بھی ملوانا پڑے گا۔۔۔
وہ اوپر کی طرف دیکھتی ٹھنڈی آہ بھرتی رہ گٸ۔
