Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Ishq Mera (Episode 18)

Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan

دروازہ جیسے ہی کھلا۔ کشش اور عناٸشہ دروازے کے پیچھے چھپیں تھیں۔

دروازہ کھلنے سے کمرے میں روشنی پھیل گٸ۔اور ہر چیز واضح ہوگٸ۔

یہ۔۔۔ یہ۔۔لڑکیاں کہاں۔۔ چلی گٸیں۔۔؟؟

اسد نے حیرت سے کہا۔

اور حسن کی طرف مڑا ہی تھا۔ کہ کشش نے بنا ایک منٹ ضاٸع کیے مٹی ان دونں کی آنکھوں میں اچھالی۔

وہ اس اچناک افتاد کے لیے تیار نہ تھے۔

دونوں کے ہاتھ اپنی آنکھوں پے گٸے۔

کشش نے ان میں سے آگے والے کو پش کیا۔ تو وہ اپنے پیچھے کھڑے شخص پے جا گرا۔

کشش نے موقع کا فاٸدہ اٹھایا ۔

اور عناٸشہ کا اتھ پکڑے باہر نکلی۔

باہر نکلتے ہی سب سے پہلے روم کا دروازہ باہر سے لاک کیا۔

عناٸشہ تو اسکی ہمت پے دل ہی دل میں اسے داد دیتی رہی۔

دروازہ کھولو۔۔۔۔!! تمہیں چھوڑوں گا۔۔ نہیں۔۔۔ یو۔۔۔۔۔

ایک شخص کی آواز دروازے کے اندر سے سناٸی دی۔

اوہ۔۔۔ بھاٸی۔۔۔! پہلے پکڑ کے تو دکھاٶ۔۔۔

کشش نے مزے سے باہر کھڑے ہوتے ہاتھ جھاڑتے کہا۔

نکلو۔۔۔ یہاں سے۔۔۔۔

عناٸشہ نے کشش کو کھینچا اور دونوں باہر نکلیں۔

لیکن اندر آتے شخص کودیکھ کے ٹھٹھکیں۔

اب کیا کریں۔۔۔؟

عناٸشہ گھبرا گٸی۔

ڈونٹ وری۔۔ میں ہوں۔۔ ناں۔۔ زاٸچہ۔۔۔میں سنبھال لوں گی۔۔۔۔

کشش نے مسکرا کے کہا۔ جبکہ عناٸشہ اپنا نام بگاڑے جانے پے اسے گھورنے لگی۔

اتنے میں وہ شخص بھی سامنے آگیا۔

اور ان دونوں کو دیکھ کے وہ چوکنا ہوا۔

تم دونوں باہر کیسے۔۔۔ نکلیں۔۔؟ اسدے۔۔۔۔۔ اوہ۔۔۔ کدھر ہو۔۔۔؟

اس نے صدا لگاٸی۔

کشش اتنے میں دوپٹے میں ڈالی مٹی نکال چکی تھی۔ اور وہ مٹی بھی بہت مہارت سے اسکی آنکھوں میں اچھالی۔ اور اسے دھکا دیا۔

اسے لگا اسکی آنکھوں میں کسی نے مرچی ڈال دی ہو۔

بھاگو۔۔۔۔! کشش نے عناٸشہ کو لیا اور دوڑ لگا دی۔ وہ شخص بھی آنکھیں ملتا پیچھے ہو لیا۔

لیکن انکی سپیڈ کافی زیادہ تھی۔ آگے جا کے وہ واپس پلٹا۔

اور واپس اندر آتا وہ کمرے کا دروازہ کھول۔چکا تھا۔

وہ دونوں غصے سے باہر نکلے۔

کہاں گٸ وہ۔۔۔؟؟

اسد چلایا۔

الو۔۔۔ کے۔۔۔ وہ ۔بھاگ گٸیں ہیں۔۔۔۔ تم دونوں سے ایک کام بھی صحیح نہیں ہو سکا۔

میں نے کہا بھی تھا۔ اس کے ہاتھ باندھ دیں۔۔۔

حسن نے اپن منطق میں بتا دیا۔

علی نے گھور کے اسد کو دیکھا

تم نے انکے ہاتھ پیر نہیں باندھے تھے۔۔۔؟؟ کہا بھی تھا۔۔۔۔ !! اب بھگتنا میڈم کو۔۔۔۔

چھوڑے گی نہیں وہ ہمیں۔۔۔!

علی باہر نکلا۔

اب کیا کریں۔۔۔؟؟

گاڑی نکالو۔۔۔ وہ اسطرف گٸیں ہیں۔۔ زیاہ دور نہیں گٸیں ہوں گیں۔۔۔ جلدی کرو۔۔۔۔

علی نے کہا تو حسن نے فوراً گاڑی نکالی۔

اور تینوں گاڑی میں بیٹھے گاڑی روڈ پے ڈالی۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

کہاں ہے وہ۔۔۔؟؟

حازق اور یامین ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔

سر اس طرف۔۔۔ وارڈ میں۔۔

جلیل نے جواب دیا۔

وہ دونوں فوراً اسطرف بڑھے۔

روم۔کا دروازہ کھولا۔

لیکن بیڈ خالی تھا۔

یہ کہاں۔۔ گٸ۔۔۔؟ حازق کو اچھنبا ہوا۔

سر۔۔۔! ابھی یہیں۔۔ تھی۔۔۔ میں نے۔۔ خود دیکھا۔۔۔ بلکہ۔۔ پوری پوری نظر رکھی۔

جلیل نے گھبرا کے جواب دیا۔

ڈھونڈو۔۔ اسے۔۔۔! کہتے ہی حازق اور جلیل نے پورا کمرہ چھان مارا۔ لیکن وہ نہ ملی۔

لگتا ہے۔۔ فرار ہو گٸ۔۔۔

اگر اس کے کہنے کے مطابق وہ ابھی یہیں تھی۔۔۔ تو وہ پھر۔۔

زیادہ دور نہیں نکلی ہوگی۔ ہاسپٹل والوں کو الرٹ کرو۔ اور مین گیٹ بند کرواٶ۔

یامین نے فوراً کہا۔ تو حازق باہر نکلا۔

دیکھ لیں۔۔ !آپ ۔۔ میری بات نہیں نا۔۔۔ مان رہے۔۔۔۔ میں نے آپ سے بہت دور چلے جانا ہے۔۔۔!

کشش کی روندھی آواز یامین کے کانوں سے ٹکراٸی۔

آج صبح ہی تو وہ آٸی تھی۔ اس کے پاس ۔۔۔ کہ کسی طرح اس شادی کو روک دیں۔

لیکن یامین نے نہیں مانی اسکی بات۔ اور وہ ناراض ہو کے چلی گٸ۔

کشش۔۔۔۔۔! کہاں ہو تم۔۔۔۔۔؟ اتنی بڑی سزا۔۔۔؟؟ پلیز۔۔۔ واپس آجاٶ۔۔۔ ایک ایک لمحہ میرے لیے جان لیوا ہو رہا ہے۔۔۔

تم۔۔۔ ؟؟

یامین کی آنکھوں کے گوشے نم ہوٸے۔

سر جھک سا گیا۔

وہ ہارنا نہیں چاہتا تھا۔

بس اسے ایک ہی ڈر تھا۔ وہ صحیح سلامت ہو۔۔۔اس کے ساتھ کچھ برا نہ ہو۔۔۔

اس کے کشش تک پہنچنے تک وہ صحیح سلامت رہے۔

وہ اللہ سے یہی دعا کر رہا تھا۔

یامین۔۔۔! وہ گیٹ کراس کر کے نکل چکی ہے۔۔۔

میں نے اپنے بندوں کو اس کے پیچھے بھیجا ہے۔۔

وہ ان شاء اللہ بچے گی نہیں۔۔

حازق نے اسے تسلی دی۔

لیکن یامین خاموش رہا۔

حازق چلتا ہوا اسکے پاس آیا۔

اسکے کاندھے پے دباٶ ڈالا۔

یامین۔۔۔ میرے بھاٸی ۔۔فکر۔نہ کرو۔۔۔ بھابھی کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔!

حازق کا اپنا دل اندر سے عناٸشہ کو لے کے ڈرا ہوا تھا۔

لیکن پھر بھی وہ یامین کو تسلی دے رہا تھا۔

جانتا ہوں۔۔ کچھ نہیں ہوگا اسے۔۔۔ وہ اپنی حفاظت کرے گی۔۔اور۔۔۔۔ مجھے یقین ہے۔۔۔ اپنے اللہ پے۔۔ وہ۔۔ اس کی حفاظت خود کرے گا۔۔۔

یامین نے اوپر کی طرف سر اٹھاتے یقین سےکہا۔

حازق نے اثبات میں سر ہلایا۔

تبھی یامین کے موباٸیل پے کسی ان ناٶن نمبر سے کال آٸی

تو دونوں چونکے۔

کال ۔۔۔پک کرو۔۔۔!

حازق نے کہا۔

یامین نے دھڑکتے دل سے حازق کو دیکھا۔

شاید۔۔۔۔ کڈنیپرز کا ہو۔۔۔۔! حازق۔کو اپنی آواز کھاٸی سے آتی سناٸی دی۔

عناٸشہ کے لیے وہ دل سے دعاٸیں کررہا تھا۔

☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀

کیا ہوا۔۔۔؟؟ اتنی چپ کیوں۔۔ ہو۔۔؟؟

آج تو تمہاری خوشی کا دن ہے۔۔۔ تو ایسے خاموشی کیوں۔۔؟؟

سمیر نے کرن کو بہت چپ پایا تو اس کے پاس چلاآ یا۔

مہمان کافی حد تک جا چکے تھے۔

اور اب یہ سب بھی گھر جانے کا پلان کر رہے تھے۔

اسٹیج پے کرن کو چپ چاپ بیٹھا دیکھ اس کے پاس بیٹھتے پیار سے بولا۔

آج اسے لگا اس کی بنہ پراٸی ہو گٸ ہے۔

سمیر۔۔۔۔ کشش نہیں ہے یہاں۔۔۔؟؟ آج۔۔۔ یہ۔۔سب اسی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔۔۔ اور وہی۔۔میر خوی میں شامل نہیں۔۔۔؟؟

کرن نے دکھ سے کہا۔

ہمممم۔۔۔ حیران تو میں بھی ہوں۔۔۔

لیکن دادا جی نے بتا یا ہے کہ اسکی طبعیت اچانک خراب ہوگٸ ہے۔۔ تو اس لیے نہیں اٹینڈ کر سکی۔

آج اس کی برتھ ڈے بھی تھی۔۔۔۔!

کرن مزید افسردہ ہوٸی۔

کوٸی بات نہیں گھر جا کے ہم دھوم دھام سے سلیبریٹ کریں گے۔۔

سمیر نے اسکی ڈھارس بڑھاٸی۔

تو کرن دھیمے سے مسکراتی اثبات میں سر ہلانے لگی۔

کیا ہے۔۔ بھٸ۔۔؟ کیوں رلا رہے ہو۔۔۔ میری

Better half

کو۔۔؟

داور۔نے پاس آ کے بیٹھتے کرن کو میٹھی نگاہ کے حصار میں لیتے سمیر سے کہا۔

کرن اسکی نظروں کی تپش خود پے محسوس کرتی سر جھکا گٸ۔

یہی۔۔میں آپ سے پوچھنے والا تھا۔۔ آپ۔۔۔ کی

better half

اداس کیوں ہے۔۔۔؟؟

سمیر نے داور سے الٹا سوال کیا۔

کیا ہوا۔۔۔؟ کرن۔۔۔؟

Everything is ok….??

وہ پریشا ن ہوا۔

اسے لگا اسی مما نے کرن سے کچھ کہہ دیا ہو گا۔۔۔؟

نہیں۔۔۔ کچھ۔نہیں۔۔ سمیر۔۔ تو بس۔۔ ایسے ہی۔۔۔۔! کرن نے سمیر کو گھورا۔ جس پے سمیر مسکراتا ان دونوں کے بیچ سے اٹھ گیا۔

کرن ۔۔! مما نےتو کچھ کہا۔۔؟؟

داور کے چہرے پے پریشانی رقم تھی۔

ارے۔۔۔ نہیں۔۔۔کچھ نہیں کہا۔۔۔ آپ پریشان نہ ہوں۔۔ کشش کے لیے۔۔۔ اداس تھی۔۔۔

کرن نے شرماتے لجاتے دھیرے سے داور سے کہا۔

تو داور نے سکون کا سانس لیا۔

یہ تو۔۔ اب گھر جا ۔۔ کے اسکی خبر لیتے ہیں۔۔ کہ اتنے اہم موقعے پے وہ غاٸب ہوگٸ۔۔۔؟؟

اور۔۔ یامین۔۔ بھاٸی۔۔ کی بھی شادی تھی۔۔ آج ۔۔ دادا جی نے وہ بھی کینسل کر دی۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔ ہو کیا رہا ہے۔۔۔؟؟

داور نے بھی اپنی راٸے کا اظہار کیا۔

یامین بھاٸی تو۔۔ کافی دیر سے نظر بھی نہیں آٸے۔

کرن نے ہال میں نظریں دوڑاٸیں۔

مے بی۔۔۔ بزی ہوں گے۔۔۔

داور نے اسکو تسلی دی۔

چلیں گھر۔۔؟؟ باقی سب نکل گٸے ہیں۔۔

سمیر نے اسٹیج کے پاس آتےپوچھا۔

ہاں۔۔ چلتےہیں۔۔ داور کھڑا ہوا۔ تو کرن بھی اٹھ کھڑی ہوٸی۔

سمیر نے کرن کو چادر اوڑھاٸی۔

اسٹیج سے اترتے داور نے اسکا ہاتھ تھامے رکھا۔

سمیر نے بے اختیار انکی دل ہی دل میں نظر اتاری۔

اور ان کی جوڑی کی سلامتی کی دعا کی۔

دونوں کی ہمراہی میں وہ باہر گاڑ ی کی طرف آٸی۔

گاصی میں بیٹھتے اب ان کا رخ گھر کی طرف تھا۔

☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀

اف۔۔۔۔ تھک گٸ۔۔۔۔!وہ بھاگتے ہوٸے کافی دور نکل آٸیں تھیں۔ انہیں پیچھا کرتا کوٸی بھی نظر نہ آیا۔

تھوڑا کم کھایا کرو۔۔ زاٸیچہ۔۔! تا کہ بھاگنے میں آسانی ہو۔۔۔

کشش نے پھولے سانس کے ساتھ کمر پے ہاتھ رکھتے کہا۔

کششش۔۔۔! میرا نام۔۔۔عناٸشہ ہے۔۔۔ زاٸچہ۔۔۔نہیں ۔۔۔!

عناٸشہ کو اسکے دوبارہ نام غلط بولنے پے غصہ آیا۔

اچھھھا۔۔۔ اچھا۔۔۔۔ ! ادھر ادھر دیکھتے ناک سے مکھی اڑاٸی۔ وہ کسی پارک کے قریب۔۔کھڑی تھیں۔

تمہیں چوٹ آٸی ہے۔۔۔۔

کشش نے اسکے سر پے دیکھا۔ جہاں سے خون کی کچھ خشک بوندیں ابھی بھی نظر آرہی تھیں۔

عناٸشہ نے اپنا ماتھے پے ہاتھ رکھا۔

نہیں۔۔ ! ٹھیک ہوں میں۔۔۔!

عناٸشہ نے دھیمے انداز سے کہا۔

سچی ناں۔۔۔؟؟ کشش نے فکرمندی سے کہا۔

عناٸشہ اسکی فکرمندی پے مسکرا دی۔

چلو۔۔۔

اس سے پہلے کے وہ ہم تک پہنچیں۔۔ آٶ اندر پارک میں چلتے ہیں۔۔۔!

کشش نے عناٸشہ سے کہتے قدماندر کینجانب بڑھاۓ۔

تو وہ حیران ہوتی اسے دیکھنے لگی۔

کشش۔۔ ہمیں۔۔ یہاں سے جلد از جلدنکلنا ہوگا۔۔۔!

عناٸشہ نے اسکے ارادے دیکھ اسے ٹوکا۔

ویٹ۔۔۔۔ لڑکی۔۔۔! ایسے نہیں جا سکتے۔۔۔

کشش نے گیٹ سے اندر بڑھتے کہا۔ عناٸشہ بھی ادھر ادھر دیکھتی اسکے پیچھے آگے بڑھی۔

وہ سب جگہ دیکھتی ہوٸیں آگے بڑھتی جارہی تھیں۔

شام کے ساٸے گہرے ہو چکے تھے۔ پارک میں کوٸی اکا دکا لوگ ہی تھے۔

دور ہی کشش کو ایک خاتون نظر آگٸ۔ تو اس کے پاس بھاگی۔

ایکسکیوز می۔۔۔۔ ! بات سنیں۔۔ ! کشش نے شیریں انداز میں انداز میں کہا۔

جی۔۔۔۔؟؟ وہ مڑی اس کے ہاتھ میں فون تھا۔

مکھے آپ کافون چایے۔۔ پلیز۔۔۔ ؟؟ جسٹ فار ون منٹ۔۔۔

کشش نے آنکھیں مٹکاتے کہا۔

تو اس عورت نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔

اسکا۔دلہن کا لباس اور بھی بکھری حالت۔۔ اسے کچھ زیادہ ہی مشکوک بنا رہی تھی۔

وہ۔۔۔ ناں۔۔۔ ہماری گاڑی چوری ہوگٸ ہے۔۔۔ سب کچھ۔۔ وہ لے گٸے ہیں۔۔ ہم۔۔ بالکل خالی ہاتھ ہیں۔۔ پلیز۔۔ صرف ایک کال کرنی ہے۔ کشش نے اپنے حلیے کو دیکھتے صفاٸی پیش کی۔

ٹھیک ہے۔۔۔ زرا جلدی کریں۔۔ مجھے جانا ہے۔۔!

اس عورت نے اجازت دے دی۔

کشش نے شکریہ ادا کرتے فوراً یامین کوکال ملاٸی۔

اف۔۔۔ اٹھا بھی لیں۔۔۔! کشش کو غصہ آیا۔

ہیلو۔۔۔!

اگلے ہی پل کال پک ہوٸی۔

مجھے لگا۔۔ آپ۔۔مجھے ڈھونڈ رہے ہوں گے۔۔۔ لیکن۔۔ آپ نے تو شکرکیا ہوگا۔۔ جان چھٹی۔۔ مزے سے آفس میں بیٹھیں ہوں گے۔۔۔ اور کاگی پی رپے ہوں گے۔۔۔

کشش نے چھوٹتے ہی کہا۔

ایک لمحے کو یامین کو اپنے کانوں پے شک گزرا۔ موباٸیل کان سے ہٹا کے چیک کیا۔ دوبارہ پھر کان سے لگایا۔

کش۔۔۔شش۔۔۔۔۔؟؟

یقین کر نا چاہا۔

شکر ہے آواز پہچان گٸے۔۔۔۔! کشش نے بھرپوطنز کیا۔

کشش۔۔! کہاں۔۔ ہو تممم۔۔۔؟؟ ٹھیک ہو۔۔۔؟؟

یامین کی آواز کی بے چینی صاف نوٹ کی جاسکتی تھی۔

الحَمْدُ ِلله خیر خیریت سے ہوں۔۔ خوب انجواٸے کر رہی ہوں۔۔ پکنک پے جو آٸی ہوں۔۔۔ !

اب کی بار دانت پیستے کہا۔

یامین اسکی اس عادت سے آج تک خار کھاتا آیا تھا۔

لیکن آج بے اختیار چہرے کو مسکراہٹ نے چھوا۔

کہاں ہو۔۔۔؟؟ میں لینےآرہا ہوں۔۔۔!

دل کو تھوڑا سکون ہوا۔۔۔ تو اس پوچھتا حازق کا اشارہ کرتا اسے لیے باہر گاڑی کی جانب نکلا۔

ہم۔مممم۔۔۔۔ اب جا کے کوٸیکال می بات پوچھی ہے۔۔۔ اردگرد دیکھتے وہ جگہ کا تعین کرنی لگی۔

یہ۔۔۔ کوٸی۔۔۔پارک ہے۔۔۔۔!!

ایک منٹ۔۔۔۔!

باجی۔۔۔! یہ کونسا پارک ہے۔۔۔؟؟ جس سے فون لیا اسی سے پوچھا۔

مجھے۔۔۔ نہیں پتہ۔۔۔! فون بند کرو۔۔۔اور مجھے واپس کرو۔

اسے باجی کہنے پے بے تحاشا ہی کوٸی غصہ آیا۔

کشش نے حیرانی سے اسے دیکھا۔

عناٸشہ نے ماتھا مسلا۔

ارے۔۔۔باجی۔۔۔ غصہ کیوں ہو رہی ہو۔۔۔؟؟ صرف پارک کا نامہی تو پوچھا ہے۔۔۔!

کشش نے منہ بناتے کہا۔

کشش وہ باجی کہنے پے بھڑکی ہے۔۔۔

عناٸشہ نے اسکے کان میں گھس کے کہا۔

ہمممم۔۔۔۔۔ کشش نے اس بات پے کھنکارا بھرا۔ کہنظر سامنے پارک کے نام پے گٸ۔ غور کرنے پے نام مجھ میں آگیا۔

نیشنل پارک ہے یہ۔۔۔!

فوراً بتایا۔

کشش۔ وہیں رہنا۔۔۔ میں زیادہ دور نہیں۔۔۔ بس۔۔ تھوڑی دیر میں پہنچ جاٶں گا۔۔۔

میں انتظار کررہی ہوں۔۔۔!وہ اس بار دل سے بولی اسے یامین کے لہجے میں اپنے لیے فکر۔مندی محسوس ہوٸی۔

کش۔۔۔۔۔! دھیمے سے پکارا۔۔

وہ ہمہ تن گوش ہوٸی۔

اپنا۔۔۔ خیال رکھنا۔۔۔۔میں جلدی پہنچتا ہوں۔۔۔!

کشش کوٸی جواب دیتی کہ اس لڑکی نے فون جھپٹ لیا۔

اور کال کٹ کر دی۔

اس کے چہرے پے انتہا کا غصہ تھا۔

اف۔۔۔ ! کیا ہوا۔۔ باجی۔۔۔۔؟؟ بات تو کرنے دیتی پوری۔۔۔۔

کشش نے پھر سے اسے تپایا۔

میرا سار بیلنس خرچ کر دیا۔۔۔

وہ لڑکی منہ بنا کے بولی تو کشش نے بھی منہ بنایا۔

اوہ۔۔۔ ہیلو۔۔۔! کتنا خرچ ہوا ہے۔۔ تمہارا بیلنس۔۔۔۔؟؟

میرے ہسبینڈ کو آلینے دو۔۔۔ سپر کارڈ کروا دوں گی۔۔۔۔۔

کنجوس۔۔۔۔!

کشش نےبھی حساب بے باک کیا۔

ہاں۔۔ بہت لینڈ لارڈ ہو تو۔۔ اپنا موباٸیل بھی لےلینا ایک۔۔۔!

اس لڑکی نے بھی پورا پورا بدلہ لیا۔

ہاں۔۔۔ تو۔۔۔لے دے گا۔۔۔ پورے چھے ہوٹلز کامالک ہے۔۔وہ۔۔ کوٸی عام بندہ نہیں۔۔۔سمجھی۔۔۔ باجی۔۔۔!

کشش نے جارحانہ انداز میں آگے بڑھتے کہا۔

خبردار جو۔۔ مجھے اب باجی کہا تو۔۔۔۔؟؟

اس لڑکی کو اب واقعی غصہ آگیا۔

عناٸشہ نے کشش کو ھینچ کے دوسری طرف لے جانا چاہا۔

اوکے۔۔۔ باجی نہیں۔۔ آنٹی کہہ دیتی ہوں۔۔ اب ۔۔خوش۔۔۔؟؟

کشش پھر بھی باز نہ آٸی۔

جاتےجاتے بھی اس لڑکی کوپھر تپا گٸی ۔ اور وہ پیر پٹختی وہاں سے واک آٶٹ کر گٸ۔

ارے۔۔۔اوہ باجی۔۔۔ سپرکارڈ لیتی جانا۔۔۔۔! کشش کسی کا ادھار نہیں رکھتی۔

کشش نے اسے آواز لگاٸی۔

پلیز یار۔۔۔ ! چپ کر جاٶ۔۔ اگر وہ کڈنپرزہمیں ڈھونڈتے یہاں آگٸےتو۔۔ مسٸلہ ہو جاٸے گا۔

عناٸشہنے اسے سمجھایا۔

کشش کا موڈ آف ہو گیا۔

اب کیا ہوا۔۔۔؟؟

عناٸشہ کو وہ چھوٹی پٹاخہ بہت پیاری لگی تھی۔

بھاگ بھاگ کے بھوک لگ گٸ ہے۔۔۔

ایک بینچ پے بیٹھتے نروٹھے پن سے کہا۔

عناٸشہ بھی اس کے ساتھ ہی بینچ پے بیٹھ گٸ۔

مجھے بھی۔۔۔۔!!

عناٸشہ نے بھوک کا نام سنا تو اس کے پیٹ میں بھی چوہے دوڑنے لگے۔

ہمممممم۔۔۔۔۔۔ کشش کی آنکھیں ایکدم چمکنے لگیں۔

چلو۔۔۔ آجاٶ۔۔۔پھر پہلے پیٹ پوجا کرتے ہیں۔۔۔ پھر کم دوجا کریں گے۔

وہ مزے سے اٹھتی سامنے ہوٹل میں گھسی۔ اور قدرے کارنر کی ٹیبل پے وہ بیٹھ چکیں تھیں۔

کشش۔۔! بنا پیسوں کے۔۔ہم نے کیا کھانا۔۔؟ چلو۔۔ا ٹھو۔۔یہاں سے۔۔۔ چلیں۔۔۔!

عناٸشہ نے دھیمی آواز میں اسے ٹوکا۔

شییی۔۔۔۔! کشش نے اسے چپ کرایا۔

یس۔۔۔میم۔۔۔؟؟

Your order plz….??

ویٹر نے مینیو کارڈ شش کوتھمایا۔

تو کشش مزے سے آرڈر دینے لگی۔

چکن بریانی۔۔۔ سیخ کباب۔۔۔ رشین سیلڈ۔۔۔اینڈ۔۔۔۔۔

وہ کافی لمبا چوڑا آرڈر دینے کے بعد عناٸشہ کی طرف مڑی۔

تم۔کیا لو گی۔۔۔۔؟؟

بہت پرسکون انداز میں پوچھا۔

ایک گلاس۔۔پانی۔۔۔۔! گلا خشک کرتے وہ اتنا ہی کہہ پاٸی۔

شیورمیم۔۔۔۔! وہ آرڈرلے کے جا چکا تھا۔

یہ۔۔۔۔ جو اتنا سارا۔۔۔ آرڈر دیا۔۔۔۔یہ کون۔۔۔کھاۓ گا۔۔۔؟؟

عناٸشہ کو فکر ہوٸی۔

ہم۔۔۔۔مل کے کھاٸیں گے۔۔ اور کون کھاۓ گا۔۔۔؟؟

پرسکون داٸیں باٸیں سب جگہ دیکھتے وہ مطمیٸن ہوتی بولی۔

اور بل۔۔۔۔؟ایک آٸی برو اچکاتے پوچھا۔

اسکی تم ٹینشن نہ لو۔۔۔ لینڈلارڈ ۔۔۔ آتے ہوں گے۔۔۔ وہی دیں گے۔۔۔! تھوڑا ٹیبل پے جھک کے آگے ہوتے کہا۔

وہ۔کون۔۔۔ہے۔۔اب۔۔۔؟؟ عناٸشہ نے بھی سرگوشی میں پوچا۔

میرے ہسبینڈ اور کون۔۔۔؟؟

وہ باجی کہہ رہی تھی ناں۔۔ لینڈلارڈ۔۔۔ تو۔۔ مجھے۔۔ اچھا لگا نام۔۔۔ اب۔۔ اسی نامسے بلایا کروں گی۔

اپنی ہی بات کو وہ بہت انجواٸے کرتے بولی۔

عناٸشہ بس نفی میں سر ہلاتی رہ گٸ۔

ویٹر آرڈر پاس کر چکا تھا۔

اور اب وہ بہت سکون سے کھانے سے انصاف کررہی تھی۔ کھانا دیکھ عناٸشہ کی بھوک بھی چمک گٸ۔

اس نے بھی ساری سوچیں جھٹک کر کشش کا ساتھ دینا زیادہ ضروری سمجھا۔

☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀

اور کتنا ٹاٸم لگےگا۔۔۔؟؟

یامین نے بے چینی سے پوچھا۔

بس پہنچنے والے ہیں۔۔۔ حازق نے گاڑی کا موڑ کاٹا۔

اسی لمحے موباٸیل پے آتی کال پے وہ چونکا۔

ہاں۔۔ بولو۔۔۔؟

جلیل کی کال تھی۔

جلیل۔۔۔ مجھے۔۔۔ وہ ہر حال میں چاہیے۔۔ سمجھے۔۔۔!

حازق نے کچھ زیادہ ہی غصے سے کہا اور کال بند کردی۔

حازق۔۔۔۔ ! ^ایک بار۔۔۔ کشش مل جاٸے۔۔۔ پھر اس لڑکی کو بھی دیکھ لیں گے۔۔۔ ڈونٹ وری۔۔۔! بس۔۔ مں چاہتا ہوں۔۔۔ کہ سب کے گھر جانےسے پہلے کشش مل۔جاٸے۔۔۔ تا کہ کسی کو اسکی کڈنیپنگ کا پتہ نہ چلے۔۔۔

یامین نے موباٸیل ساٸلنٹ پے کیا۔

وہ بند کرنا چاہتا تھا۔ لیکن ۔۔۔ کشش کی جہ سے نہیں کر سکا۔۔۔

ان شاء اللہ وہ دونوں ٹھیک ہوں گیں۔

بے اختیار حازق کے لب سے ادا ہوا۔تو یامین نےاسے گردن موڑ کے دیکھا۔ جو سامنے دیکھتا گاڑی چلا رہا تھا۔

کشش کے ساتھ۔۔۔ جو لڑکی ہے۔۔۔ یہ۔۔وہی ہے۔۔ناں۔۔۔جسے۔۔تم۔۔۔ آٹھ ماہ سے تلاش کررہے تھے۔۔۔۔؟؟

یامین نے اسکی بات سے اندازہ لگایا۔

حازق نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اور پھر سامنے نڈ سکرین پے۔ لیکن اسکی خاموشی سے یامین جان گیا۔

جبکہ ۔۔۔ حازق کی اس لڑکی کے لیے محبت اور دیوانگی اور پھر۔۔ نفرت۔۔ سب دیکھ چکا تھا۔

لیکن یہ۔۔ وقت صحیح نہیں تھا۔۔ بات کرنے کے لیے۔ اس لیے یامین خاموش ہی رہا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

سب لوگ گھر آگٸے تھے۔

لیکن یامین اور کشش کا کہیں کچھ پتہ نہ تھا۔

دادا جی کال بھی کر چکےتھے۔

یامین کال نہیں اٹھا رہا تھا۔ اور کشش کا نمبر بند جا رہا تھا۔

وہ بہت زیادہ پریشان ہوگٸے۔

لیکن نہیں جانتےتھے۔۔کہ ان کے بچے کس مصیبت میں ہیں۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

وہ کھانا کھا کے سکون سے سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھیں۔

آہا۔۔۔۔۔مزہ آگیا۔۔۔

کشش نے بھرپور انداز میں کہا۔

ویٹر۔۔۔ بل۔لے کے آجاٸے گا ابھی۔۔۔کیا کرنا ہے۔۔۔؟ عناٸہ نے دھیرے سے پوچھا۔

ہممممممم۔۔۔۔

کھانا پیٹ بھر کے کھایا ہے۔۔۔ تو اب ۔۔ ۔۔ تھوڑا ہضم بھیکرتے ہیں۔۔۔

کشش نے مسکراتے آگے ہوتے سرگوشی کی۔

کیا مطلب۔۔۔؟؟ عناٸشہ کو گڑبڑ لگی۔

بھاگنا ہے۔۔۔!

آنکھ ونک کرتے کہا۔

نو۔۔۔ کششش۔۔۔۔! عناٸشہ نے نفی میں سر ہلایا۔

برتن دھو لو۔پھر۔۔۔! کیونکہ۔۔میں تو۔۔۔ چلی۔۔۔۔!

کہتے ہی کشش نے بھاگنے کی پوزیشن۔لی۔ اور ریسٹورینٹ سے باہر۔نکل گٸ۔

عناٸشہ نے ویٹر کی جانب دیکھا جو انہیں دیکھتا دنگ کھڑا تھا۔

عناٸشہ نےبھی بھاگنا بہتر سمجھا۔

اورکشش کے پیچھے ہی وہ بھی بھاگی۔

جبکہویٹر بھیہوش میں آتے ان کے پیچھے ہی لپکا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *