Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Ishq Mera (Episode 22)

Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan

عناٸشہ ان کی ایک تصویر ہی کھینچ پاٸی تھی۔

وہ بہت بڑے باکسز کےپیچھے چھپی ہوٸی تھی۔

ان کی نظروں سے بچ کے وہ وہاں بیٹھی تھی۔ انہوں نےکسی شخص کو کڈنیلپ کیا ہوا تھا۔ اور سکی آنکھوں پے پٹی باندھی ہوٸی تھی۔اور ہاتھ بھی۔

کچھ ہی دیر میں وہاں مدیحہ بھی پہنچ گٸ۔

یہ۔۔۔مدیحہ۔۔۔یہاں۔۔۔؟؟ اسکا اس عورت سےکیا تعلق ہو سکتاہے..؟لل

عناٸشہ سوچ للللللللللمیں پڑگٸ۔

اس عورت نے فون پے کسکی سے بات کی۔ اور اس شخص کولے کے ل سےل نکلی۔

اوہ گاڈ۔۔۔۔! یہ تو اسی طرف آرہے ہیں۔۔ اب کیا کروں۔۔۔؟؟ل

عناٸشہ مزید چھپ گٸ۔ وہ تعداد میں تین تھے۔

ایک وہی عورت جس کا پیچھاکرتی وہ یہاں پہنچی تھی۔

اور مدیحہ۔۔۔ جسے یہاں دیکھ عناٸشہ کے تو تنبدن میں آگ لگ گٸ تھی۔

اس کے علاوہ ایک اور آدمی تھا۔ جس کےپاس گن تھی۔

اور اس نے ایک شخص کو پکڑ رکھا تھا۔

وہ سب اب باہر کی طرف نکل۔رہے تھے۔

عناٸشہ کے موباٸیل ی بیٹری بھی دھوکا دینے والی تھی۔

اوہ۔۔ میرے اللہ۔۔۔کسے۔۔ فون کروں۔۔؟کسے بلاٶں مدد کے لیے۔۔۔؟؟ حٕازق۔۔۔؟؟ لیکن۔۔ وہ کیوں۔۔ مد کرے گا۔۔۔؟؟ اسے تو یقین بھینہیں میرے پے۔۔۔۔!!

لیکن۔۔ اگر۔۔ میری آواز میں ڈراور لہجہ نم ہوا تو۔۔ وہ۔۔ لازمی کرے گا مدد۔۔۔ یہ صحیح ہے۔۔۔

عناٸشہ نے جلدی سے حازق کو کال ملاٸی جو پہلی رنگ پے ہی اٹھا لی گٸ۔۔

عناٸشہ نے اسے پست آواز میں ساری سچویشن بتاٸی۔ اور ہیلپ کے لیے بلایا۔

اتنے میں وہ لوگ قریب پہنچ چکے تھے۔

کوٸی حال نہیں۔۔۔ ہمیں۔۔ بس۔۔ پاگل کیا ہوا ہے اس نے۔۔۔! اب اسے لے کے وہاں اڈے پے جاٶ۔۔۔ خود یہاں نہیں آسکتی۔۔۔

مدیحہ کو غصہ تھا۔

شیییی۔۔۔۔۔ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔۔۔ اب جو کہا ہے۔۔۔ کرنا تو پڑے گا۔۔۔ناں۔۔۔ ہاتھ ملایا ہے۔۔ اسکی ہاں میں ہاں۔ ملانی ہی پڑے گی۔

وہ عورت دھیرے سے مدیحہ سے بولی۔

اتنے میں وہ نکا آدمی اس قید یے شخص کو لےآیا۔

اس عورت نے اسے اشارہ کیا کہ اسے لے باہر گاڑی کی طرف چلے۔

اب گاڑی میں چپ بیٹھنا۔۔ ورنہ اسے پتہ چل جاٸے گا۔۔کہ ہم کون ہیں۔۔۔!

اس عورت نے مدیحہ کو سمجھایا۔تو مدیحہ نے برا سا منہ بنایا۔ اور دونوں باہر نکلیں۔

گاڑی میں بیٹھتیں وہ گاڑی چل چکی تھی۔ عناٸشہ باہر نکلی۔

اوہ گاڈ۔۔ یہ تو ۔۔ جا رہے ہیں۔۔ میں۔۔ ان کو کیسے بچاٶں۔۔ ؟

میڈم! ۔۔یہاں آٸیں جلدی۔۔؟؟

جلیل نے عناٸشہ کے پاس گاڑی کو روکا۔

عناٸشہ بنا دیر کیے اسکی طرف بڑھی۔

تم۔۔۔ ؟؟؟ عناٸشہ ایک دو بار اسے حازق کے ساتھ دیکھ چکی تھی۔

میڈم جلدی کریں وہ گاڑی نکل جاٸے گی۔

جلیل جلدی سے بولا۔

عناٸشہ بھی فوراً گاڑی میں بیٹھی۔ اور گاڑیآگے بڑھ گٸ۔

جلیل حازق کو انفارم کر چکا تھا کہ عناٸشہ اس کے ساتھ ہے ۔ اور وہ اس گاڑی کا پیچھا کر رہے ہیں۔ جس میں مدیحہ ہے۔ اور لوکیشن بھی سینڈ کر دی۔

حازق نے یامین کو اطلاع دی۔ وہ ہر حال میں مدیحہتک پہنچنا چاہتے تھے۔

وہ کیوں یہ سب کر رہی تھی۔۔؟ یہ جاننا ان کےلیےبہت ضروری ہو گیا تھا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

دادا جی ۔۔! پرشان نہ ہوں۔۔ بڑے بابا کا پتہ چل جاٸے گا۔۔۔ مجھے یقین ہے۔۔۔ آپ کے پوتے۔۔ صاحب انہیں ۔۔ ڈھونڈ نکالیں گے۔

کشش نے دادا جی کو تسلی دی۔

بیٹا

۔۔! یامین ۔۔ کر لے گا کچھ نہ کچھ۔۔۔جانتا ہوں۔۔لیکن۔۔ پریشان ہوں۔۔ کہ۔۔ یہ سب ہو کیا رہا ہے۔۔۔؟؟ پہلے۔۔ مجھ پے حملہ۔۔۔۔پھر۔ تمہیں۔۔کڈنیپ کیا۔۔ اب حیات کو۔۔۔؟؟ آخر کون۔۔کر رہا ہے۔۔یہ سب۔۔۔؟؟ سوچ سوچ کے دماغ ۔۔۔ سن ہو گیا ہے۔۔۔

دادا جی کا ہاتھ ماتھے پے گیا۔ ان کے سر میں درد شروع ہو گیا تھا۔

پلی دادا جی۔۔۔! ٹینشن نہ لیں۔۔ ایک نہ ایک دن سب سامنے آجاٸے گا۔

جو بھی کوٸی ہے۔۔ اللہ نے اکا بہت برا انجام کرنا ہے۔۔ آپ اللہ پے بھروسہ کریں۔۔

کشش کو دادا جی اداس اور پریشان دیکھکر بالکل اچھا نہ لگا۔

تو یامین کو کال ملاٸی۔

یامین کار ڈراٸیو کر رہاتھا۔ اور حازق کی بتاٸی ہوٸی جگہ پے جلد از جلد پہنچنا چاہتا تھا۔

ایسے میں کشش کی کال آتی دیکھ وہ کاٹ گیا۔

دوسری طرف ضدی۔۔ کشش اس نےبھی دانت پیستے پھر سے کال کی۔

ناچار۔۔ یامین کو کال اٹھانا پڑی۔

کشش۔۔۔! میں اس وقت کار ڈراٸیو کر رہا ہوں۔۔

کان پے بلیو ٹوتھ لگاٸے وہ بولا۔

منہ سے کر رہے ہیں۔۔؟

آواز میں غصے کی ہلکی جھلک سی محسوس ہوٸی۔

کیوں کال کی۔۔۔؟ اسکی بات نظر انداز کرتے پوچھا۔

دادا جی بہت پریشان ہیں۔۔

کشش میں بعد میں کال کرتا ہوں۔۔

مطلوبہ جگہ پے گاڑی روکتاوہ کال بند کر گیا۔

کشش غصے سے موباٸیل کو دیکھتی رہ گٸ۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

تم۔۔۔۔ یہاں کیاکررہے تھے۔۔۔؟؟ عناٸشہ کو جلیل کو وہاں دیکھ کچھ اچھنبا سا ہوا۔

مدیحہ میڈم پے نظر رکھنے کو بولا تھا۔ سر نے۔۔۔۔!

جلیل نے سامنے گاڑی کو دیکھتے جواب دیا۔

ہمممممم۔۔۔۔ منہ بناتے کہتی وہ بھی سامنے دیکھنے لگی۔

کچھ ہی دیر بعد ان کی گاڑی رک گٸ۔

ان٠ سے فاصلہ رکھتے جلیل نے بھی گاڑی روکی۔

اور حازق کو کال ملاٸی۔

اور اسے لوکیشن بتاٸی۔

اوکے سر۔۔! حازق نے اسے وہیں رکنے کو کہا۔

جی سر ۔۔! میم ساتھ ہی ہیں۔

عناٸشہ نے ایک نظر جلیل کو دیکھا۔ حازق یقیناً اسی کا پوچھ رہا تھا۔

میم ! آپ یہیں رکیں ۔ گاڑی میں۔۔ جلیل نے اترتےہوٸے کہا۔

نو۔۔۔میں بھی چلوں گی۔اندر۔۔۔

عناٸشہ نے فوراً کہا۔

میم سر نے منع کیا ہے۔۔ پلیز۔۔۔۔؟؟ جلیل پریشان ہوا۔

سر۔۔۔ وہ آپ کے ہوں۔۔ گے۔۔ آپ فالو کریں انکو۔ میں پابند نہیں ان کی۔

کہتے وہ نیچے اتر گٸ۔

جلیل بھی فوراً اس کے پیچھے اترا ۔

میم اسطرف آٸیں۔

وہ دونوں آگے پیچھے اس اندھیر نگری میں داخل ہوٸے۔

وہاں کوٸی زی روح نہ تھی۔

ان کے داخل ہوتے ہی یامین وہاں پہنچا۔

وہ بھی گاڑی سے اترا۔ اور ارد گرد دیکھتا اندر کی جانب بڑھا ۔

دور سے وہ دوربین لگاٸے یہی سب دیکھ رہی تھی۔

فوراً کال ملاٸی۔

ابھی او اسی وقت وہاں سے نکلو۔۔۔۔! آرڈر لگایا۔

انہیں وہیں چھوڑ دو۔۔ خود کو بچاٶ اور نکلو ۔۔فوراً ۔۔۔

ایک بار پھر سے کہا۔

اور فون بند کر دیا۔

بہت۔۔۔۔ تیز ہو۔۔۔ میر یامین سکندر۔۔۔! لیکن۔۔۔ مجھ تک پہنچنا۔۔۔ اتنا آسان نہیں ۔۔۔ اب وقت آگیاہے۔۔۔ کہ پلان بی پے عمل کیا جاٸے۔

وہ شاطرانہ

انداز میں مسکراٸی۔

اب یہ ماں بیٹی وہاں سے نکل آٸیں۔ ورنہ خود تو پھسیں گیں۔مجھے بھی پھساٸیں گیں۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

یہاں تو کوٸی نہیں ہے۔۔۔۔۔!

عناٸشہ نے ادھر ادھر دیکھا۔

May b

وہ یہاں سے بھی نکل گٸے ہیں۔

جلیل نے پسٹل پے ہاتھ مضبوط کرتے کہا۔

اتنی جلدی۔۔۔۔؟؟ عناٸشہ حیران ہوٸی۔

چھلاوے ہیں وہ۔۔۔ لیکن۔۔ ایک نہ ایک دن ہاتھ آجاٸیں گے۔

جلیل کے لہجے میں ایک عزم تھا۔ چپکے چپکے وہ بھی آگے بڑھے۔

جلیل کافی آگے نکل گیا۔ لیکن عناٸشہ وہیں کھڑی تھی۔ اسے کسی کی آواز آہی تھی۔ جیسے کوٸی غوں غوں کر رہا ہوں۔۔

اس آواز کو سنتی وہ اسطرف نکلی۔

لیکن کسی کے کھینچ کے دیوار کے ساتھ پن کرنے پے وہ اک پل کو سہم گٸ۔

لیکن سامنے حازق کو لال انگارہ آنکھیں دیکھ وہ چپ کھڑی اسے دیکھے گٸ۔

ایک بار کی کہی ہوٸی بات۔۔۔ سمجھ نہیں آتی ۔۔ منع کیا تھا گاڑی سے نہ اترنا۔ لیکن۔۔۔ ؟؟

حازق نے لب بھینچے۔

آپ۔۔ ناں۔۔ ؟؟

ابھی وہ مزید کچھ کہتی کہ آواز ایک بار پھر سے آٸی۔

وہ چپ ہوگٸ۔

آپ کو آواز آٸی۔۔۔۔؟؟ عناٸشہ نے حازق کے کان میں کہا۔

نہیں۔۔۔! حازق نے بھی توجہ سے سننا چاہا۔

سنیں سنیں۔۔۔! کوٸی بول ہا ہے کچھ۔۔۔ !

سرگوشی میں کہا۔

اسکے لبوں نے حازق کی کان کی لو کو چھوا ۔

اسکا دھیان آواز پے تھا۔ جبکہ حازق کا سارا دھیان اسکی قربت پے۔

وہ آج بھی اس کے دل کی راجدھانی سنبھالے ہوٸے تھی۔

اور اسکا یوں قریب ہونا حازق کو سٹل کر گیا۔

سنا۔۔۔۔آٸی ناں آواز۔۔۔؟؟ عناٸشہ نے بھنوٸیں اچکاٸیں۔

حازق اسکے لبوں کا ہلنا ہی دیکھ رہا تھا۔

وہ بہت قریب تھی۔

حازق نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کے اپنےاور قریب کیا۔

عناٸشہ کا دل دھک سے رہ گیا۔

حازق کی آنکھوں میں محبت کا سمندر دیکھ اسکا دل پتےکی مانند لرزا۔

میرے اتنے قریب مت آیا کرو۔۔۔ عناٸشہ۔۔۔! بہت گھمبیر آواز میں کہتا وہ اسے بد حواس سا کر گیا۔

اپنی اور اسکی پوزیشن کا احساس کرتےپیچھے ہٹی لیکن۔۔ حازق کی گرفت مضبوط تھی۔

میرا امتحان مت لیاکرو۔

گھمبیر آواز میں کہتا وہ پیچھے ہٹا۔ آواز اسے بھی آٸی تو وہ بھی اس طرف متوجہ ہوا۔

کیا ہوا۔۔۔؟ کہاں ہیں۔۔وہ۔۔؟؟ یامین ک انٹری پے وہ دونوں اس کی طرف مڑے۔

سر۔۔۔! اسطرف آٸیں۔

جلیل کی آواز پے وہ ایک دوسرے کو دیکھتے اس طرف بڑھے۔

سامنے ہی زمین پے ہاتھ پاٶں اورمنہ بندھے حیات صاحب گرے پڑے تھے۔

بابا! یامین بے اختیار آگے بڑھا۔

بابا۔۔۔۔؟؟ عناٸشہ نے حیرانی سے دیکھا۔

یامیننے فوراً ان کے منہ ہاتھ کھولے۔

بابا ۔۔ !آپ ٹھیک ہیں ناں۔۔۔؟؟ یامین نے تڑپ کے باپ کو پکارا۔

ان کی آنکھیں بھیگ گٸیں تھیں۔

یامین نے انہیں گلے سے لگایا۔

اور اپنے ساتھ لگاٸے باہر لایا۔

وہ لڑکی پھر غاٸب ہو گٸ۔۔۔!

یامین نے غصہ ضبط کرتے پوچھا۔

حازق کو دکھ ہوا۔ آج تو وہ پکڑی جانی تھی۔لیکن پھر ڈاچ دے گٸ۔

سر۔۔۔! میں نے ۔۔ گاڑی کی تصویر کھینچی تھی۔لیکن۔۔۔بیٹری ختم ہو گٸ ہے۔۔۔۔ اس وجہ سے۔۔۔۔دکھا نہیں سکتی۔۔۔ ! آپ۔۔۔ گاڑی کے نمبر سے اس تک پہنچ سکتے ہیں۔

عناٸشہ نے فوراً سے کہا۔

یامین نے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں سراہا۔

اور حازق اسے دیکھے گیا۔

گڈ۔۔۔! مباٸیل چارج کرتے ہی تصویر ینڈ کر دیں۔۔۔

اور۔۔۔جلیل اس نمبر کی گاڑی کا مکمل ڈیٹا نکلواٶ۔۔ جلیل سے کہتا وہ حیات صاحب کو لیے گاڑی کے طرف بڑھا۔

جبکہ حازق عناٸشہ کو لیے اپنی گاڑی کی جانب۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

بابا۔۔۔۔! آپ ٹھیک ہیں۔۔ ناں۔۔۔؟؟ راستے میں حیات صاحب کی خاموشی یامین کو بہت چبھ رہی تھی۔

بیٹا۔۔۔! آج پہلی بار خود کو بے بس پایا۔۔۔

نجانے کون ہیں وہ۔۔۔؟؟ جو یوں۔۔۔ پیچھے۔۔۔ پڑ گٸے ہیں۔۔۔؟؟

حیات صاحب بہت زیادہ پریشان لگے۔

پریشان نہ ہوں۔۔۔ ڈھونڈ نکالوں گا۔۔۔ اس انسان کو۔۔ جس نے سجینا حرام کیا ہوا ہے۔۔۔!

یامین نے انہیں تسلی دی۔

جانتا تو وہ تھا۔ لیکن بنا ثبوت کے اس پے ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

راستے میں نہ ہی حازق نے عناٸشہ سے کوٸی بات کی نہ عناٸشہ نے۔۔دونوں ہی خاموش تھے۔

حازق ڈراٸیو کر رہا تھا۔ کہ جمیلہ بیگم کی کال آٸی او کال پک کی۔

جی۔۔۔مما۔۔۔؟؟

حازق نے ایک نظر عناٸشہ پے ڈالی۔

جی۔۔ میرے ساتھ ہے۔۔۔! ایک منٹ۔۔۔!

حازق نے فون عناٸہ کی جانب بڑھایا۔

فون کان سے لگایا۔ تو جمیلہ بیگم کی آواز کانوں سے ٹکراٸی۔

آپ کہاں ہیں۔۔؟؟ عناٸشہ۔۔۔؟؟ آپ کا فون کیوں بند ہے۔۔؟؟

لہجہ تھوڑا سخت تھا۔

مما۔۔۔۔ وہ۔۔ موباٸیل کی بیٹری لو ہو گٸ تھی۔۔۔

منمناٸی۔

آپ جانتی ہیں ناں۔۔ عادل کے گھر والوں نے آج آنا تھا آپ سے ملنے۔۔ وہ آچکے ہیں۔۔ اور آپ کو ویٹ ہے۔۔!

ان کا لہجہ آج کچھ سرد سا لگا۔

جی۔۔ بس۔۔پہنچنے والی ہوں۔۔

دھیرے سے کہتی وہ کال بند کر گٸ۔

اور موباٸیل حازق کی طرف بڑھایا۔

کیا کہہ رہی تھیں مما۔۔۔؟؟

حازق نے بے چینی دے پوچھا۔

ویٹ کر رہی ہیں۔۔۔! دھیرے سے باہر دیکھتی بولی۔

ہاتھ پیر ٹھنڈے ہونے لگے تھے۔

حازق کے علاوہ کسی اور کے ساتھ ندگی جوڑنے کا تصور بھی سوہان روح تھا۔

عناٸہ ! لاسٹ ٹاٸم کہہ رہا ہوں۔۔ مما سے اس شادی کے لیے انکار کردو۔۔۔!حاق کا انداز بہت جارحانہ تھا۔

اورمیں آپ کو ایک ہزار ایک بار کہہ چکی ہوں۔ مما سے انکار نہیں کروں گی۔۔ !

کہجہ نم لیکن مضبوط تھا۔

تمہیں پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی ناں۔۔؟؟

حازق نے دانت پیسے۔

ہونہہ۔۔۔۔! اب آپ زبردستی کریں گے۔۔۔؟؟ بدلہ لینے کے لیے۔۔ آپ کس حد تک جا سکتے ہیں۔۔؟؟ آپ بتا ہی دیں۔۔؟؟

عناٸشہ کو بھی غصہ آگیا۔

تو تمنہیں مانو گی۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ اب جو بھی انجام ہو گا اسکی زمہ دار تم خود ہوگی۔۔۔

گاڑی کو گھر کے سامنے جھٹکے سے روکا۔ عناٸشہ نے ایک نظر اسے دیکھا۔ جس کا غصہ ساتویں آسمان پے تھا اور خاموشی سے گاڑی سے اتر گٸ۔

حاشق نے زور سے مکا اسٹیرنگ پے مارا۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

حیات صاحب کو اپنے سامنے صحیح دلامت دیکھ سویرا بیگم جیسے دوبارہ جی اٹھیں۔

سبھی گھر والےخوش تھے۔

حیات صاحب کودادا جینے گلے سے لگایا۔

انکی آنکھیں بھی اشک بار تھیں۔

بابا۔۔۔۔! تڑپ کےباپ کوپکارا۔

سب ٹھیک ہے پتر۔۔۔! بھول۔جا۔۔۔! دادا جی نے تسلی دی۔

بابا کا خیال۔رکھیں۔۔انہوں نے بہت سٹتیس لے لیا ہے۔۔۔

یامین نے آج کتنے عرصے بعد سویرا بیگم۔کو پکارا۔

وہتو خوشی سے نہال۔ہی ہوگٸیں۔

اثباتمیں سر ہلاتیں حیات صاحب کو لیے روم کی جانب بڑھیں۔

چلیں دادا جی۔۔! آپ بھی آرام کریں۔۔!

یامین انہیں لیے ان کے روم کی طرف بڑھا۔۔کشش بھی ساتھ ہولی۔

دادا جی کو روممثس چھوڑ وہ واپس پلٹا تو راستہ روکے وہ کھڑی تھی۔

کیا ہوا۔۔۔؟؟

ایک آٸی برو اٹھاتے پوچھا۔

آپ نے آج میری کال کاٹی۔۔۔ نروٹھے پن سے کہا۔

تو۔۔۔؟؟ اب کی بار گھوری سے نوازتے اپنے روم کی طرف بڑھا۔

بہت غلط بات ہے۔۔۔! وہ بھی پیچھے ہی گٸ۔

کشش۔۔! ابھی جاٶ۔۔ صبح بات کریں گے۔

وہ اسکے روم میں انٹر ہوٸی۔ لیکن یامین نے وہیں اسے ٹوکا۔

آپ۔۔۔ اب Misbehave کر رہے ہیں۔۔

وہ ناراض ہوٸی۔

کشش۔۔۔! ابی تھکا ہوا ہوں۔۔ صبح بات کروں گا۔۔ پلیز۔۔۔؟ اس نے تھکے ہوٸے اندا میں کہا۔

مجھے نا۔۔۔ آپ سے اب بات ہی نہیں کرنی۔۔۔! غصے ے کہتی وہ وہاں سے جانے لگی۔کہ یامین نے ادے بازو سے پذ کر اپن طرف کھینچا۔

کیا چاہتی ہو۔۔۔؟ کیوں۔۔ ہر وقت۔۔ آزماتی ہو۔۔میرے صبر کو۔۔۔؟ اگر۔۔۔با نہ آٸی ناں۔۔۔ تو ابھی رخصتی کرو لینی ہے۔۔۔ پھر بیٹھ کے بناتی رہنا ٹیڑھے میڑھے منہ۔۔۔

یاین نے اسے بہت پیار بھرے لہجے میں کہا۔ تو وہ پھر سے بلش کرنے لگی۔

آپ۔۔۔ ناں۔۔ بہت۔۔ بہت۔۔ شیاہ والے۔۔ فلرٹی۔۔۔ہو گٸے ہیں۔۔۔

کشش اسے دھکا دیتی وہاں سے بھاگی۔

جبکہ یامین کے چہرے پے ایک خوبصورت مسکراہٹ چھوڑ گٸ۔

میسج کی نگ ٹون پے وہ چونکا۔

اور مسج چیک کرنے لگا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

عادل اور اسکی فیملی سے مل کے شہریار اور جمیلہ ونوں ہی مطمیٸن تھے۔

شہریار تو انہیں پہلے سے جانتے تھے۔عادل کے والد ان کے دوست تھے۔البتہ عادل سے آج انکی تفصیلی ملاقات ہوٸی تھی۔

اور انہیں عادل کا رشتہ ہر لحاظ سے مناسب لگا۔

او انہوں نے ہاں کر دی۔

اور آج پہلی با۔۔ شہریار نے عناٸشہ کے سر پے شفقت بھرا ہاتھ رکھا۔

عناٸشہ تو حیران رہ گٸ۔ سامنے سے حازق کو اندر آتا دیکھ عناٸشہ دکھی دل کے ساتھ وہاں سے اٹھ آٸی۔

تو۔۔مسٹر حازق۔۔۔ہماری محبت کا یہ سفر یہیں ختم ہوا۔۔۔ سب کچھ۔۔ آج دی اینڈ ہو گیا۔۔۔

دو آنسو اسکی آنکھوں سے گالوں پے بہہ نکلے۔

اب کوٸی صفاٸی نہیں۔۔

اب ماں باپ کی محبت پے۔۔۔ سب کچھ قربان۔۔۔ !

درد سے اسکا دل پھٹا جا رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *