Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 33)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 33)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
چھوڑ دو انہیں۔۔۔ جانے دو۔۔۔ ! عادل کی اچانک آواز پے وہ سبھی اسے حیرت سے دیکھنے لگے۔ خاص طور پے اسکے اپنے آدمی۔
جاٶ۔۔ میر یامین سکندر۔۔۔! آج یہ لڑاٸ یہیں ختم کر تا ہوں۔۔۔ میںنہیں جانتا تھا کہ۔۔ محبت کیا ہے۔۔۔؟؟شاید۔ اسی لیے۔۔۔آج تک۔۔۔۔محبت ملی بھی نہیں۔۔ ایک حسرت بھری نظر کشش پے ڈالی۔ اور سر جھٹکا۔
تم۔۔ دونوں جاٶ۔۔۔! کشش اوریامین نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ کشش کے چہرے پے مسکراہٹ تھی۔
اس نے یامین کا ہاتھ اور مضبوطی سے تھاما۔
میری دعا ہے۔۔۔ آپ کو ۔۔بھی جلد ہی کسی سے محبت ہوجاٸے۔ اور ۔۔اگر کبھی۔۔۔ میری ضرورت پڑی۔۔۔ تو مجھے ضرور بتانا۔
بنا عادل کے دل کی حالت کو سمجھے کشش نے اپنی پیشکش کی۔ اس بات پے یامین نے ایک گھوری سے کشش کو نوازا۔ تو اسکی مسکراہٹ کو بریک لگی۔
کچھ۔۔۔۔ غلط۔۔کہہ دیا کیا۔۔میرو۔۔۔؟؟؟ کان میں گھستی وہ یامین کو پھر سے اپنی محبت کے حصار میں باندھنے لگی۔
کہ اتنے میں اسفند اسکی جانب بڑھا۔
سر۔۔۔! جلیل کا فون ہے۔۔۔ ایمرجنسی ہے۔۔۔! فوراً سے کہا۔ جبکہ یامین نے ایک لمحہ ھی ضاٸع کیے بنا فون کان سے لگایا۔
سر۔۔! دادا جی۔۔۔ مل گٸے ہیں۔۔ لیکن۔۔۔ انکی کنڈیشن صحیح نہیں۔۔۔ ان پے۔۔۔ تشدد کیا گیا ہے۔۔ ہم۔۔۔ انہیں ہاسپٹل لے کے جا رہے ہیں۔ آپ بھی وہیں۔۔۔
کون سے ہاسپٹل میں۔۔؟ یامین نے بات کاٹی۔
کشش بھی اسی کی طرف متوجہ ہوٸ۔
دادا۔۔۔ جی۔۔ ٹھیک ۔۔۔؟؟ اسے اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا۔
ہمیں جانا ہو گا۔۔۔ کشش۔! چلو۔۔۔! یامین نے اسکا ہاتھ تھاما اور گاڑی کی جانب بڑھا۔ جبکہ دور عادل ان کو جاتا فہکھ رہا تھا۔
یہ کیا کیا آپ نے سر۔۔۔؟؟ انہیں چھوڑ دیا۔۔۔؟؟ عادل کےایک خاص آدمی نے پاس آتے بے بسی سے کہا۔
ہاں۔۔ جانے دیا۔۔۔ یار۔۔۔! میں کون ہوتا ہوں۔۔ دومحبت کرنے والوں کو دور کرنے والا۔۔۔؟؟ وہ تو ازل سے ابد تک ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے۔۔ اللہ نے۔۔۔ ان کا جوڑ بنایا ہے۔۔۔ اورمیں۔۔۔ ؟ گناہ گار کیسے بنوں۔۔۔؟؟ عال کا دل بدل گیا تھا۔۔۔
اور وہ ایک لمحہ
ہاں آگاہی کا ایک لمحہ ۔۔ اسکی زندگی میں آیا۔۔ جہاں اسے احساس جاگا کہ وہ غلط کر رہا ہے۔۔۔ اللہ نے اسے ہدایت دے دی۔ اور اسکا دل گمراہی سے ہٹ گیا۔
وہ ایک لمحہ بے شک کشش کی صورت میں ہی سامنے آیا۔۔۔ لیکن گاڑی میں بیٹھا۔ وہ مسکرایا تھا۔۔ آج دل سے۔۔۔! ہاں اس نے دو۔محبت کرنے والوں کوالگ نہیں کیا تھا۔۔ انہیں درد نہیں دیا تھا۔۔ آج پہلی بار وہ بھی محبت سے آشنا ہوا تھا۔ اور اس نے سوچ لیا تھا۔ اب ۔۔ گھر والوں کوکیسے منانا ہے۔۔ ہاں۔۔ محبت ہی ایک ایسا تالا ہے۔۔ جو زنگ لگے۔۔ دل کے ہر دروازے کو کھول دیتا ہے۔۔ آج تک ہر چیز پے اپنی برتر ی اور حکمرانی جتاٸ ۔۔اور دل پے ہمیشہ بوجھ پایا۔۔۔لیکن آج پہلی بار۔۔ اپنا آپ۔۔۔ ہلکا محسوس ہو رہا تھا۔ لب خود بخود مسکرا رہے تھے۔۔
ہاں۔۔ اب یہ بوجھ سرک جاٸے گا۔۔۔
ہر اندھیرے کے بعد ایک سویرا آتا ہے۔۔
اور شکر ہے خدا کا وہ سویرا ۔۔میری زندگی۔۔ میں بھی آگیا۔۔۔
عاد ل نے مطمین ہوتے مسکراتے سیٹ کی پشت کے ساتھ ٹیک لگا کے آنکھیں موندیں۔
میری دعا ہے۔۔۔ آپ کو ۔۔بھی جلد ہی کسی سے محبت ہوجاٸے۔ اور ۔۔اگر کبھی۔۔۔ میری ضرورت پڑی۔۔۔ تو مجھے ضرور بتانا۔
کشش کے الفاظ نے ایک دلفریب مسکراہٹ نے عادل کے چہرے پے احاطہ کیا۔ اور ونڈو سے باہر دیکھنے لگا۔














وہ دونوں جلیل کے بتاٸے گٸے ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔
سر۔۔! آٸ سی یو میں ہیں۔۔۔! جلیل نے بنا کسی تاخیرکے یامین کے بے چین حالت کے پیشِ نظر فوراً بتایا۔
کیسے۔۔۔؟؟ جب ۔۔ وہاں۔۔ پہنچے۔۔؟ تو۔۔ دادا۔۔۔جی۔۔۔؟؟ یامین نے بمشکل دل مضبوط کرتے پوچھا۔
تو جلیل نے یامین کو ساری بات بتا دی۔ ان کڈنیپرز کو تو وہ جہنم واصل کر آیا تھا۔لیک ایک بھاگ گیا تھا۔ جس نے جاتے جاتے دادا جی کے سر پے وارکیا تھا۔ اور وہ زخمی ہوتے بے ہوش ہوگٸے ۔۔۔
یامین نے لب بھینچے۔
اورآٸ سی یو کینجانب بڑھا۔ جہاں دادا جی کو آکسیجن ماسک لگا تھا۔
ایک بار پھر وہ دادا جی کو کھونے سے ڈر رہا تھا۔ کشش بھی وہیں باہر کھڑی روٸے جا رہی تھی۔
سر۔۔۔ آپ کو تو چوٹیں آٸیں۔۔ ہیں۔۔؟؟ جلیل نے اسکے چہرے پے خراشیں دیکھتے کہا۔ اسکے منہ اور ناک سے خون بہتا اب خشک ہو چکا تھا۔
ٹھیک ہوں۔۔میں۔۔۔! یامین نے نظرانداز کیا۔
سر۔۔۔ کہیں۔۔ یہ سب عادل۔۔۔؟؟ جلیل کو غصہ آیا۔
ہمممممم۔۔۔۔ یامین بس اتنا ہی کہہ پایا۔
سر۔۔!میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔۔ جلیل کو سخت غصہ آیا۔
نہیں جلیل۔۔۔! لڑاٸ اب ختم ہو گٸ ہے۔۔۔ اور اب مزید۔۔ اسے نہیں بڑھانا چاہتا۔۔ وہ۔۔ برا انسان نہیں ہے۔۔۔ !
ایکسکیوز می۔۔۔! پیشنٹ کے ساتھ۔۔؟؟ ڈاکٹر نے پکارا تو وہ فوراً آگے بڑھے۔
جی۔۔۔ میرے دادا جی ہیں۔۔ !
اوہ۔۔۔ ڈونٹ وری۔۔۔ مسٹر۔۔یامین۔۔ ! ہی از اوکے ناٶ۔ بٹ۔۔۔؟؟ وہ رکے۔
کیا۔۔۔۔؟ یامین کادل ڈوبا۔
ان کے سر کے بیظک ساٸیڈ پے چوٹ آٸ ہے۔۔ صبح تک انہیں ہوش آجاٸے گا۔ تو ہیپتہ چل سکے گا۔۔۔ بحر حال ان کےلے دعا کریں۔۔۔! کاندھا تھپتھپا کے وہ چلے گٸے۔
یامین اور کشش دادا جی کے پاس اندر آگٸے۔ دونوں ہی خاموش تھے۔ کشش کے آنسو بہے رہے تھے۔ اپنے دادا جی کی ایسی حالت دیکھ وہ بری طرح ٹوٹ گٸ تھی۔
ان کے پاس ہی انکا ہاتھ تھام کےبیٹھ گٸ۔
اس تمام دوران داور اور سمیر کی کافی کالز آچکی تھی۔س جسے یامین نے فی الحال اٹینڈ کرنا ضروری نہ سمجھاتھا۔
وہ موباٸل۔لیے باہرنکلا۔٠
ایکسکیز می۔۔! آپ کو۔۔ چوٹ آٸ ہے۔۔۔ آٸ تھنک آپ کو بینڈیج کروانی چاہیے۔ آواز پے وہ پلٹا ۔ ایک خوبصورت لڑکی کو ڈاکٹر کےلباس میں دیکھا تو اسکی بات پے چونکا۔ لیکن اگلے ہی لمحے سرجھٹکتا آگے بڑھا۔
اف اتنا ایٹی ٹیوڈ۔۔۔؟؟ وہ لڑکی سامنے آگٸ۔ تو یامین
کو رکنا پڑا۔ جبکہ ماتھےکے بل بھی نمایا ں ہوٸے۔
ایسے غصے سے نہ دیکھیں ۔۔ بہت قابل ڈاکٹر ہوں میں۔۔ ! یقین کیجے۔۔ بینڈیج بہت اچھے سے کرلیتی ہوں۔ مسکراہٹ چہرے پے سجاٸے وہ یامین کے قریب ہوٸ۔
یامین ایک قدم پیچھےہٹا۔
آپ کو سمجھ نہیں آتی ایک بات۔۔۔؟؟اب کے تھوڑا روڈ ہوا۔
کروالیں بینڈیج۔۔۔! بہن اتنے پیار سے کہہ رہی ہے۔۔۔ تو نہ نہیں کرتے۔۔۔ مان جاتے ہیں۔۔۔ کشش کیاچانک آمد پے وہ بری طرح چونکے۔
مجھے۔ ضرورت نہیں۔۔ جب ہوٸ تو۔۔۔۔
یامین منہ بناتا آگے بڑھا۔
لاحولا وقوتہ۔۔۔۔۔۔! بہن کیوں ہونے لگی۔۔۔؟؟ وہ بھی اتنے ہینڈسم کی۔۔۔؟وہ ڈاکٹر مسکراتی یامین کےبپاس ہوٸ۔
اور کشش کی برداشت بس یہیں تک تھی۔
آگے ہوتے یامین کا ہاتھ تھاما۔ اور ایک سخت گھوری سے اس لڑکی کو نوازا۔
اور بنا کچھ کہے وہ یمین کولیے باہرکی جانب بڑھی۔
ایک منٹ۔۔۔! کہاں لے کے جارہی ہو۔۔۔۔؟؟ اس ڈاکٹر نے بھی راستہ روکا۔
کیوں اپنی شامت بلوانا چاہتی ہو۔۔۔؟ جاٶ۔۔۔ کام کرواپنا۔۔۔! ۔ کشش نے اسے وہاں سے بھگا نا چاہا۔۔
فی الحال تو۔تم۔۔نکلو۔۔۔ اور ساٸیڈپے ہو۔
ترکی با ترکی جواب آیا۔
بکواس بند کرو۔۔۔! شوہر ہیں یہ میرے۔۔ ! خبردار جو میلی اکھ سے فیکھنے کی بھی ناکام کوشش کی ہوتو۔۔۔! کشش نے اچھا خاصا لتاڑ کے رکھ دیا۔ یامین کو اسکا یوں حق جتانا بہت بھایاجبکہ اس ڈاکٹر کا تو منہ ہی کھلا کاکھلا رہ گیا۔
چلیں۔۔۔؟؟؟ کشش نے مڑکے بہت پیار سے یامین سے پوچھا۔ تو اس نے اثبات میں سرہلایا وہ بھلا اسے نا ں کر سکتا تھا۔
کشش کا ہاتھ تھامے وہ وارڈ بواٸے کے پاس پہنچی۔اور اسے یامین کی بینڈیج کرنے کا بولا۔ اور خود وہیں پاس بیٹھ گٸ۔
کشش۔۔ڈونٹ لک لاٸیک می ڈیٹ۔۔۔! امین نے اسےکے مسلسل دیکھنےپےاورڈ بواٸے کے اٹھ کے جانے پے فوراً اسے ٹوکا۔
آپ ناں۔۔ آرام سے بیٹھیں جاٸیں اب۔۔اور ۔۔۔ کہیں بھی جانے کی ضرورت نہیں۔۔۔! کشش نے فیصلہ سنایا۔
جبتک دادا جی کو ہوش نہیں آجاتا۔۔۔ تب تک ۔۔ کہیں نہیں جا سکتا میں۔
یامین نے یقین سے کہا۔
اور۔۔ اس۔۔چپکو۔۔ لڑکی سے بھی دوررہیں۔۔ نظریں ادھر ادھر پھیرتی وہ یامین کو بہت اپنی سی لگی۔
Are you jeallus…????
یامین نے برجستہ کہا۔
میں۔۔ا ور جیلس۔۔۔۔ اپنی طرف اشارہ کیا۔ کہیں ہو ہی نہ جاٶں۔۔۔۔
کہتی وہ باہرنکلی۔
یامین بھی اسی کے پیچھے باہر تک آیا۔
وہ رات دونوں نے دادا جی کے پاس ہی بسر کی۔
صبح تک دادا جی کو ہوش آگیا تھا۔ دونوں نے شکر کا کلمہ پڑھا۔
دادا جی نے آنکھیں کھولتے ہی انکو انجان نظروں سے
دیکھا۔
کون۔۔۔ ہو تم۔لوگ۔۔۔؟؟ دادا جی کے چہرے پے پرشانی تھی۔
دادا۔۔۔۔ جی۔۔۔۔۔! میں آپ کی کشش۔۔۔! کشش دادا جی کے الفاظ سن مرنے والی حالت ہوگٸ تھی۔دادا جی کی نظروں میں اجنبی پن تھا۔ڈاکٹر کی آمد پے ان دونوں کو آٸ سی یو سے ناہر۔نکالا۔
دادا۔۔۔۔! کشش کے آنسو پھر بہنے لگے۔
وہ ٹھیک ہیں کشش ڈونٹ وری۔ یامین نے اسے حوصلہ دیا تو پلٹتی اسکے کشادہ سینے سے جالگی۔
یامین نے بھی اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لیا۔
جبکہ دور کھڑی وہ ڈاکٹر اپنی آنکھ سے ایک آنسو گرتا محسوس کر چکی تھی ۔













آپی ۔۔! بھاٸی کو فون کریں ابھی تک نہیں آٸے۔۔؟؟ کب آٸیں گے۔۔۔۔؟؟
دانی کوکوفت ہوٸ انتظار کرتے کرتے۔
آجاٸیں گے۔۔ بزی ہوں گے۔۔! عناٸشہ نے ٹالنا چاہا۔
بندہ فون کر ہی لے۔۔۔۔! دانی نے منہ بنایا۔
عناٸشہ نے مسکراتے حازق کوکال کی۔ لیکن کال۔کٹ گٸ۔ دل کو جیسے کسی نے چیر دیا ہو۔
کیاہوا۔۔۔؟؟ ہانیننے پاس آتے پوچھا۔
شاید بزی ہوں گے۔۔۔۔! دھیمےلہجےمیں کہا۔
تبھی میسج ٹون بجی۔ حازق کا میسج تھا۔
کیا لکھا ہے۔۔ جو اتنی پیاری سماٸل آگٸ۔۔۔؟؟
ہانی نے چھیڑا۔
کہہ رہےہیں کہ نہیں آسکتے۔۔تو ہم۔۔اپنا پروگرام پوسٹ پون نہ کریں۔۔۔ وہپھر کبھی جواٸن کر لیں گے۔۔۔
عناٸشہ نے تفصیل دی۔
پھر کیا خیال ہے۔۔۔؟؟ کہاں چلیں؟
ہانی نے دانی کو دیکھتے پوچھا۔
جواۓ لینڈ چلتے ہیں۔۔۔ واپسی پے۔۔۔ التاج ہوٹل۔۔۔۔ حازق بھاٸ کو سرپراٸز دیں گے۔۔۔ کیا خیال ہے۔۔؟ دانی نے مشورہ دیا۔
گڈ آٸیڈیا۔۔۔۔! ہانی نے بھی اتفاق کیا۔ تو عناٸشہ نے مسکراتے ہوٸے ان کا ساتھ دیا۔















اس وقت دادا جی مسکرا رہے تھے۔ جبکہ کشش منہ بسورے بیٹھی انکو سوپ پلا رہی تھی۔
یامین ڈاکٹر کے پاس تھا۔ دادا جی کو ڈسچارج کر کے گھر لے کے جانا تھا۔
میری شہزادی کیوں منہ بنا کے بیٹھی ہے۔۔۔؟
دادا جی نے اسے چھیڑا۔
دادا جی ایک لمحے کےلیے تو آپ نے ڈرا ہی دیا تھا۔۔۔ جب آپ نے کہا آپ پہچانتےہی نہیں؟
کشش نے منہ بنایا۔
میں نے سوچا چھوٹی سی شرارت ہی کی جاٸے۔۔۔ دادا جی نے مسکراتے کہا۔
میرا دل ۔۔۔ کتنا ڈر گیا تھا۔۔ پتہ ہے آپ کو۔۔۔؟؟؟
کیسے ہیں اب آپ۔۔۔؟ یامین نےاندر آتے پھر سے وہی سوال دہرایا جو وہ صبح سے بس بولے جا رہا تھا۔
ارے بییٹا۔۔ ٹھیک ہوں۔۔ اتنی جلدی نہیں پیچھا چھوڑنے والا جب تک اپنے پڑپوتے نہیں دیکھ لیتا۔۔۔۔۔
ہنستے ہوٸے کہا۔
کشش کا تو دل ہی دھڑکنا شروع ہوگیا۔ پلٹ کے دادا جیکو دیکھا۔
اللہ آپ کو میری عمر بھی لگا دےدادا جی۔۔۔ ایسا نہ کہیں۔۔ یامین پاس بیٹھتے رنجیدہ ہوا۔
اللہ میرے بچوں کو ہمیشہ خوش و سلامت رکھے۔۔ انہوں نے بہت پیار سے ان دونوں کو دیکھتے کہا۔
آپ بہت بہادر ہیں ۔۔دادا جی ۔۔۔! کشش بھی دوسری طرف بیٹھتے بولی۔
میرے بچے بھی بہادر ہیں۔۔۔ ناں۔۔۔
دادا جی نے اسے بھی پیار سے کہا۔
اب ۔۔گھر جانا ہے۔۔ ڈسچارج مل۔گیا ہے۔۔
یاہو۔۔۔۔! کشش خوشی سے دادا جی کے ساتھ گلے لگی۔














کیا ہوا۔۔۔؟؟ یامین بھاٸ نے فون اٹھایا۔۔۔۔؟؟ داور پریشانی سے بولا۔
ہاں۔۔ ہو گٸ ہے بات۔۔۔۔! وہ آرہے ہیں۔۔ اینڈ۔۔ دادا جی۔۔۔ محفوظ ہیں۔۔۔ حازق نے خوشی سے کہا۔ تو ان سب نے شکر کاکلمہ پڑھا۔
یہ سب۔۔۔ میری وجہ سے ہو رہا ہے۔۔۔ وہ۔۔۔ فریدہ۔۔۔ میرے ہی وجہ سے۔۔یاں۔۔ آٸ۔۔ اور یہ علیزہ۔۔۔ اسے بھی۔۔ میں نے۔۔۔ ہی۔۔یامین کی زندگی میں شامل کیا۔۔سب میری۔۔ غلطی ہے۔۔۔ حیات صاحب افسردہ ہوتے بولے۔
بڑے بابا۔۔۔! جو ہونا تھا ہوگیا۔۔۔اب آپ پلیز۔۔۔ ٹینشن نہ لیں۔۔۔ فریدہ اور اسکی بیٹی اپنے انجامکو پہنچ گٸ ہیں۔۔ اب۔۔ علیزہ۔۔ کوبھی جہنمواصلکرنے والا آرہا ہے۔۔۔ سمیرنے حیات صاحب کا ہاتھ تھامتےکہا۔ انہوں نے ایک نظر سب کودیکھا یہ انکی فیملی تھی۔۔۔ جو انکو سپورٹ کررہی تھی۔ وہ آج خود کو خوش قسمت تصورکر رہہے تھے۔
پکیز۔۔ اندر آجاٶ۔۔۔ کوٸ۔۔ اس چڑیل نے دماغ کھا لیا ہے۔۔میرا۔۔۔! کرن نے باہر آتے سرپکڑتےکہا۔
سمیر مسکراتا ہوا اسکے ساتھ اس روم کیجانب بڑھا جہاں علیزہ کوبند کیا ہوا تھا۔
چھوڑوں گی نہیں میں کسی۔۔۔ کو۔۔! تم سب کو۔۔ مارڈالوں گی۔۔۔ بہت پچھتاٶ گے تم سب۔۔۔! علیزہ ہیزیانی انداز میں چلاٸ۔
منہ پے ٹیپ لگاتے ہیں۔۔ تبھی چپ ہو گی۔۔! سمیر نے اسکا منہ ٹیپ سے بند کر دیا وہ بہت جھٹپٹا رہی تھی۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ داور اندر آیا۔
اب۔۔۔ سب۔۔ انڈر۔کنٹرول ہے۔۔۔! سمیر نے ہاتھ جھاڑتےکہا۔
یہ۔۔یہ کیا کیا ہے۔۔۔؟؟ اسکا۔منہ ناک دونوں بند کر دیٸے۔۔۔؟؟وہ ۔۔۔مر جاٸے گی۔۔۔! داور علیزہ کو جھٹپٹاتا یکھ پریشان ہوا۔
ہس کم جہاں پاک۔۔۔ ! سمہیر مطمین سا بولا۔
دوار نے آگے بڑھ کے اسکی ناک سے ٹیپ ہٹاٸ۔
پاگل ہو گٸے ہو۔۔ مر گٸ تو پولیس کیس بن جاٸے گا۔۔۔ یہ۔۔ قانون ی مجرم ے
ہے۔۔۔ سارے ثبوت۔۔ہیں اس کے خلاف۔۔۔ اور کڑی سے کڑی سزا بھی ملے گی۔۔ لیکن۔۔ تم کیوں اپنا ہاتھ گندے کرتے ہو۔۔۔؟؟ داور نے سمجھایا۔
یہ۔۔ پھر۔۔ سے آزاد ہو جاٸے گی۔۔ اورسازشیں کرے گی۔اور۔۔ پھر سے ہمیں۔۔ تکلیف پہنچانے آٸے گی۔ سمیر نے غصے سے کہا۔
داوت بھی اسکی بات پے چپ ہو گیا۔ کیونکہ وہ صحیح کہہ رہا تھا۔
ڈونٹ وری۔۔ اسکا مستقل علاج کریں گے۔۔۔ بھاٸیو۔۔۔!
یامین کی آواز پے وہ تینوں چونکے۔۔ اور مڑے۔
بھاٸی۔۔۔؟ دونوں بھاگتے یامین کے گلے لگے۔
آپ۔۔ ٹھیک ہیں۔۔ ناں۔۔ بھاٸ؟ اور دادا جی۔۔۔؟؟ داورنے چھوٹتے ہی پوچھا۔
ہمممم۔۔۔ یامین کہتا علیزہ کی جانب بڑھا۔ کشش بھی یامین کی پیچھے اندر آٸ۔ کرن نے بڑھ کے اسے گلے سے لگایا۔
یامین نے ایک چیٸر کھینچی اور علیزہ کے سامنے بیٹھا۔
صرف ایک رات۔۔۔ ایک رات تمہیں۔۔ میر ولا میں بھاری پڑ گٸ۔۔۔ اور تم۔۔پوری۔۔ زندگی۔۔ یہ رہنے کے خواب دکھتی آٸ۔۔۔۔؟؟
یامین نے دھیمےلیکن سخت لہجے میں کہا۔ علیزہ کی نظروں میں نفرت تھی۔
منع کیا تھا۔۔۔کہ میری فیملی سے دور رہنا۔۔۔لیکن۔۔ تمہیں۔۔ سمجھ نہیں آیا۔۔۔ ؟؟
آپ ۔۔ سب سے پہلے اسے طلاق دیں۔۔ کشش نے دانت پیستے کہا۔
یامین نے ایک نظر کشش کو دیکھا اور حقرت سے علیزہ کو دیکھا۔
تین سال پہلے ہی دے چکا ہوں۔۔۔۔ بیوی نہیں ہے یہ میری۔۔۔! یامین نے ان سب پے بم پھوڑا۔ جبکہ کشش کے من میں تو لڈو پھوٹے۔۔
مطلب۔۔میر یامین سکندر۔۔ میرا ہے۔۔۔ پورے کا پورا ۔۔میرا ہے۔۔۔۔! وہ خوشی میں کیا بولی اسے خود بھی اندازہ نہ ہوا جبکہ سب کی نظریں اسی کی جانب اٹھیں۔۔ تو وہ سٹپٹا گٸ۔۔
اور نظریں پھیر لیں۔
یامین نے سمیر کو اشارہ کیا کہ وہ علیزہ کے منہ سے ٹیپ ہٹا دے۔
