Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Ishq Mera (Episode 14)

Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan

اندر آٶ بیٹا۔۔۔! رک کیوں گٸ۔؟

جمیلہ بیگم نے ہاتھ تھامے عناٸشہ کو اندر کی طرف لے جاتے محبت سے کہا۔

عناٸشہ میکانکی انداز میں ساتھ ہی چلتی گٸ۔

اندر داخل ہوٸے ۔ ملازموں کی ایک فوج تھی گھر کے اندر۔

گل ۔۔۔! انہوں نے کسی کو پکارا۔ اور وہ فوراً بھاگتی آٸی۔

جی بڑی بی بی۔۔۔!

سب کو بلا کے لاٶ۔۔ گھر کی بیٹی واپس آٸی ہے۔

انہوں نے عناٸشہ کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے گل سے کہا۔

چھوٹی بی بی ! ماشاءاللہ۔۔ کتنی پیاری ہیں۔۔۔!

گل نے بہت اشتیاق سے عناٸشہ کو دیکھتے کہا۔

عناٸشہ نے دھیمی سی مسکان دی۔

آٶ ۔۔ عناٸشہ۔۔۔!

وہ اسے لیے بڑے سے ڈاٸننگ ہال۔میں آگٸیں۔

عناٸشہ۔۔۔! آج۔۔ آپ اپنے سگھے بہن بھاٸیوں اور رشتہ داروں سے ملیں گیں۔ اور یقیناً آپ کو بہت اچھا لگے گا۔

وہ دھیمے لہجے کی خاتون تھیں۔

جیسے۔۔ آپ کے شوہر سے مل کے اچھا لگا۔۔۔

دل ہی دل میں وہ بڑ بڑاٸی۔

لیکن زبان خاموش رہی۔

کچھ ہی دیر میں وہاں ایک لڑکا اور لڑکی آتے فکھاٸی دیٸے۔

لڑکی کی عمر کوٸی 16 یا 17 سال تھی شاید۔۔

اور لڑکا بھی اسی کی ایج کا تھا۔

ااَلسَلامُ عَلَيْكُم. آتےہی انہوں نے یک زبان سلام کیا۔

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیسے ہو بیٹا۔۔۔؟

ان سے پوچھتے وہ عناٸشہ کی جانب مڑیں۔

یہ دانیال ہیں۔۔ اور یہ۔۔ ہماری گڑیا۔۔ ہانیہ۔۔

اور بچو! یہ ہیں۔۔۔عناٸشہ۔۔! عناٸشہ شہریار۔۔ آپ کی بہن ۔۔ ہماری بیٹی۔

بہت فخر سے بتایا۔

ان دونں نے کوٸی خاص رسپانس نہیں دیا۔

ہاٸے۔۔۔! ہانیہ نے آگے بڑھ کے عناٸشہ سے ہاتھ ملایا۔

دانیال نے بھی دور سے سلام کیا۔

مما۔۔۔! آپ ۔۔۔!!

No seriously….

بھلا۔۔ کیا بات ہوٸی یہ بھی۔۔۔؟؟

ایک شخص نے آتے ہوٸے کافی اونچی میں جمیلہ بیگم کو پکارا وہ پلٹیں ان کے چہرے پے ایک جاندارمسکان تھی۔

اوہ۔۔۔ میرا۔۔ بیٹا۔۔جمیلہ بیگم نے اپنی بانہیں وا کیں۔

اور وہ ان کے گلے لگا ان کاماتھا چوم گیا۔

پتہ ہے آپ کو کتنا مس کیا۔۔۔

اس نے جمیلہ بیگم کو بہت لاڈ سے کہا۔

جبکہ عناٸشہ بس دیکھتی رہ گٸ۔

وہ شخص۔۔۔ ہاں۔۔و ہ ۔۔شخص کوٸی۔۔۔ اورنہیں۔ ۔۔

حازق شمریز تھا۔۔

اسکا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا۔

ان سے ملو۔۔۔ میری بیٹی۔۔۔ عناٸشہ۔۔۔۔!

انہوں نے عناٸشہ کی طرف اشارہ کیا۔

اور اس نے پلٹ کے صرف ایک نظر ہی دیکھا۔

اور گنگ رہ گیا۔

زبان تالو کے ساتھ چپک گٸ۔

جیسے وقت تھم سا گیا۔

عناٸشہ۔۔۔۔۔! زیرِ لب کہا

آپ جانتے ہو ایک دوسرےکو۔۔؟؟

جمیلہ بیگم نے دونں کی طرف باری باری دیکھتے کہا۔

جبکہ دانیال اور ہانیہ اب صوفہ سنبھال کے مزے سے حازق اور جمیلہ بیگم کے پیار کو انجواٸے کر رہے تھے۔

جی۔۔! شاید۔۔۔ ایک بھرم تھا۔۔۔جو ٹوٹ گیا۔۔۔

حزق کے لہجے میں درد تھا۔

عناٸشہ تو کچھ کہہ ہی نہ سکی۔ وہ چلتا ہوا ھیرے دھیرے اس کے پاس آیا۔

آنٹی کی ڈیتھ کا افسوس ہوا۔۔۔ بہت۔۔۔۔!

کہتے وہ پھر سے جمیلہ بیگم کی طرف مڑا۔

مجھےنہیں تھا اندازہ۔۔۔ یہ آپ کی گم شدہ بیٹی ہیں۔۔۔۔ ورنہ۔۔۔ کب سے آپ سے ملوا دیتا۔۔۔۔!

اب کی بار لہجہ میں اجنبی پن تھا۔ عناٸشہ کو اس کا انداز دل پے لگا۔

آنکھیں نم ہوٸیں لیکن وہ چھپا گٸ۔

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

دادا جی۔۔۔ آپ نے تو اچھا خاصا ڈرا دیا تھا۔

دادا جی کو میڈیس دیتے وہ بولی۔

بیٹا۔۔! اللہ کی آزماٸش تھی۔۔

اللہ سب کو اپنی امان میں رکھے۔

پانی کا گلاس کشش کو تھماتے ہوٸے وہ بہت دھیمے لہجے میں بولے۔

ابھی بھی وہ ریسٹ پے تھے۔

آمین ۔۔

کشش نے دل سے کہا۔

کیا ہوا۔۔۔ ؟ کیا سوچنے لگے دادا جی؟

ان کے پاس بیٹھتے ان کی ٹانگیں دباتے وہ انہیں چپ دیکھ بولی۔

بشیر کے لیے بہت دکھ ہوا۔۔۔ وہ بیچارہ اس حادثے کی نظر ہو گیا۔

ڈراٸیور کے بارے میں دکھ سے کہتے وہ افسردہ ہوٸے.

واقعی دادا جی۔۔۔ ! ان کا بہت دکھ ہوا۔۔ وہ بہت اچھے انسان تھے ۔۔۔

کشش بھی افسردہ ہوگٸ۔

بس ۔۔۔! اللہ کی رضا ہے سب۔۔ اللہ اسے جنت میں جگہ عطا کرٕے۔ آمین۔۔۔

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیسے ہیں اب۔۔۔آپ۔۔۔؟؟

یامین گھر آتے سیدھا پہلے ادھر ہی آیا تھا۔

اللہ کا کرم ہے بیٹا۔۔ پہلے سے بہت۔ بہتر ہوں۔۔

اور جہاں تم سب جیسے اللہ نے بچے دیٸے ہوں۔ وہاںکے بڑوں کو کبھی کچھ ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟ نیک اولاد بھی۔اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔۔۔ اور۔۔میں اللہ پاک کا شکر ادا کرتا ہوں۔۔ جس نے مجھے اسے نعمت سے نوازا۔

دادا جی بہت خوشی سے بولے۔

آپ کو پتہ ہے۔۔ ڈاکٹر نےآپ کو زیادہ بولنے سے منع کیا ہے۔۔۔

اک نظر کشش پے ڈالتا وہ دادا جی سے بہت پیار اور نرم۔لہجےمیں بوا۔

ارے بیٹا۔۔۔ میں ٹھیک ہوں اب۔۔۔! فکر نہ کرو۔۔۔ اور یہ۔۔۔ ہے ناں۔ جند جان۔۔۔ جو صبح شام میرے سرہانے بیٹھی ہوتی ہے۔۔۔میرا خیال رکھنے کے لیے۔۔

لہجے میں ڈھیر سارا پیار بھرا تھا۔

اسی لیےبتو زیادہ فکر ہو رہی ہے۔۔۔۔!

یامین نے بظہر سنجیدگی سے کہا۔ لیکن اسکی آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔

کیا۔۔۔۔۔کیا مطلب ہے۔۔ اس بات کا۔۔۔؟؟ آپ۔۔مجھے۔۔ ان ڈاٸریکٹلی کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔۔۔؟؟

کشش نے مڑ کے اس خوبصورت بندے کو دیکھا۔

جسے اب دیکھنے سے بھی وہ گریز کرنے لگی تھی۔

کشش کو اسے دیکھ دلمیں عجیب سی گدگدی ہوتی تھی۔

جسے سمجھنے سے وہ ابھی تک قاصر تھی۔

کچھ غلط کہا کیا میں نے۔۔۔؟؟

یامین نے انجان بنتے کہا۔

دادا جی۔۔! دیکھ لیں۔۔ کیا کہہ رہے ہیں۔۔ یہ۔۔۔؟؟

نروٹھے پن سے کہا۔

یامین ! میری بچی کو تنگ نہیں کرو۔۔اور اب تو ویسے بھی تم دونںوں کا زندگی بھر کا ساتھ ہے۔۔۔۔

دادا جی نے برجستہ کہا۔

تو ایک پل کے لیے دونوں کی نظریں ملیں۔

لیکن کشش نے فوراً ہی ہٹا لیں۔

جس بات سے وہ زیادہ بچ رہی تھی۔ دادا جی نے وہی بات یامین کے سامنے چھیڑ دی۔

اسکا دل عجیب ہی لے پے دھڑکا۔

کشش بیٹا۔۔۔! آج دادا جی کے لیے گرین ٹی نہیں لاٸی۔۔۔؟؟

دادا جی نے ایک دم سے ٹاپک بدلا۔

جی۔۔۔ ! ابھی لے کے آٸی ۔ بس پانچ منٹ میں۔۔۔!

کشش نے وہاں سے فوراً نکلنے پے شکر ادا کیا۔

وہ یامین کی نظروں کی تپش محسوس کر سکتی تھی۔ وہ اس نٸے جزبے سے پہلی بار آشکار ہ رہی تھی۔ اور نہیں جانتی تھی۔ یہی جذبے بہت جلد جنون میں بدلنے والا ہے۔

یامین پتر۔۔۔! جن حالامیں بھی نکاح ہوا ہے۔۔ ۔۔ بے شک وہ وقت۔۔۔ مناسب نہیں تھا۔

دادا جی نے یامین سے بات شروع کی۔

لیکن۔۔ تم نے ۔۔ اور کشش نے۔۔ دونوں نے میرا مان رکھا۔

وہ لمحہ مجھے۔۔۔ کشش کے آگے بے بس کر گیا۔

میں۔۔ صرف ۔۔اسے محفوظ کرنا چاہتا تھا۔۔

بخدا۔۔۔ نہ تمہارے ساتھ کوٸی زیادتیکرنا چاہتا تھا۔ نہ ہی کشش کے ساتھ۔

دادا جی۔۔! کیسی باتیں کر رہے ہیں۔۔ آپ۔۔؟؟

کیسی زیادتی۔۔۔؟ یامین نے انہیں ٹوکا۔

آپ ہمارے بڑے ہیں۔ آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پے۔۔۔!

داداجیبکے ہاتھ تھامے وہ ایک جذب کے عالم میں بولا۔

پتر۔۔۔! تم دونونں نے ہی ہمیشہ میرا مان بڑھایا ہے۔ اور مجھے یقین ہے۔۔مجھےآگے بھی کبھی شکایت کا موقع نہیں دو گے۔

دادا جی نے اپنی بات جاری رکھی۔

ان شاء اللہ داداجی۔۔۔!

یامین نے یقین بھرے لہجے میں کہا۔

تو ٹھیک ہے۔۔ پرسوں۔۔ کشش کی اٹھارویں سالگرہ ہے۔

تو میں چاہتا ہوں۔۔ کہ اسکی سالگرہ کے دن کو ہی یاد گار بنا دیں۔

مطلب۔۔۔؟؟ یامین سمجھا نہیں۔

مطلب۔۔۔ اسکی سالگرہ کے دن ہی۔۔ داور اور کرن کے نکاح کے ساتھ ۔۔ کشش کی رخصتی کر دی جاٸے۔۔۔

دادا جی نے تو آرام سے کہہ دیا۔ لیکن یامین تو سُن ہی ہو گیا۔

لیکن۔۔۔ دادا جی۔۔۔ ! کشش تو ابھی پڑھ رہی ہے۔۔۔ اسکی تعلم ابھی ادھوری ہے۔۔!

یامین کے اس جواب پے جہاں دادا جی کے چہرے پے مسکراہٹ ابھری۔

وہیں باہر دروازے کے ساتھ کان لگاٸے کھڑی کشش بھی چونکی۔

اور دل ہی دل میں یامین کی بات سے بہت خوش ہوٸی۔

پتر جی۔۔! کیا آپ۔۔۔ کشش کی پڑھاٸی کے خلاف ہیں۔؟

نہیں دادا جی۔۔۔! یامین فوراً بولا۔

پھر ۔۔ شادی کے بعد مکمل کر لے گی۔

پرسکون ہوکے تکیے سے ٹیک لگا تے کہا۔

لیکن۔۔۔دادا جی۔۔ ! وہ۔۔ ابھی بہت۔۔ چھوٹی ہے۔۔۔!

یامین ان کو اپنی بات سمجھا نہیں پا رہا تھا۔

مجھے اپنے پتر پے پورا یقین ہے۔۔ وہ میری شہزادی کو سنبھال لے گا۔۔۔ اور خود سے زادہ اس کا خیال رکھے گا۔

دادا جی یہ اعتراض بھی ختم کر دیا۔

یامین سر جھکاٸے لب بھینچے الفاظ سوچنے لگا۔

وہ کشش کی مرضی کے بنا اتنا بڑا فیصلہ نہیں لے سکتا تھا۔

وہ جانتا تھا۔ وہ چپ ہے۔۔ تو اسکے پیچھے بھیکوٸی وجہ ہے۔۔

وہ ھوٹے پیکٹ میں بڑا پٹأخہ تھا۔ اس بات سے وہ بخوبی واقف تھا۔

دادا جی۔۔! گھر میں ابھی کسی کو نہیں پتہ۔۔ اور یوں۔۔ اچانک سے یہ۔۔ سب۔۔۔!!

ایک اور اعتراض گڑا۔

گھر والوں کی فکر نہ کر پتر۔۔۔! سب کو میں دیکھ لوں گا۔۔۔ تم شادی کی تیاری کرو۔۔۔ اورہاں۔۔ یاف رکھنا میری کشش کی شادی ہے۔۔۔ کسی چیز کی کوٸی کمی نہیں ہونی چاہیے۔۔

دادا جی۔۔۔۔۔!! یامین منمنایا۔

کیاہوا۔۔ اب۔۔؟ ابھی کوٸی اور اعتراض بھی باقی ہے۔۔۔؟؟

دادا جی نے بھنٸیں اچکاٸیں۔

عجیب بندہ ہے۔۔ کوٸی بھی اعتراض صحیح سے نہیں رکھ سکا۔۔۔

کشش منہ بناتی کچن میں چلی گٸ۔

اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا۔

میں کشش افضال ۔۔۔ اتنیآسانی سے کسی کے ہاتھ آجاٶں۔۔ سوچ ہے انکی۔۔۔!

گرین ٹی تیارکرتے وہ اونچی آواز میں بڑٰڑاٸی۔

مجھ سے مخاطب ہو۔۔؟؟

اچانک یامین کے پیچھے سے آکے بولنے پ وہ بری طرح اچھلی۔

کوٸی حال نہیں آپ کا۔۔۔! ایسے کرتا ہے کوٸی۔۔؟؟

منہ بناتی وہ غصہ کررنے لگی۔

لو میں نےکیا کیا۔۔۔؟؟ یامین نے حیرت سے پوچھا۔

یوں پیچھے سےآکے۔۔ ڈرانا کی کیا تک بنتی ہے۔۔؟؟

کمر پے ہاتھ ٹکاٸے وہ صحیح معنوں میں یامن کو ایک لڑاکا طیارہ ہی لگی۔

تیرا۔۔ کیا ہو گا۔۔یامین سکندر۔۔۔! اس آفت کو پوری زندگی جھیلنا پڑے گا۔۔۔!

یامین اتنی اونچی آواز میں بڑ بڑایا۔ کہ کشش باآسانی سن لے۔

آپ۔۔۔ آپ۔۔نے مجھے۔۔۔ آفت کہا۔۔۔؟؟

وہ لڑنے مرنے کو تیار ہو گٸ۔

آفت کو آفت ہی کہتے ہیں۔۔ اور ویسے۔۔ تم نے آفت پے دھیان دیا۔۔ باقی بات۔۔ کو اگنور کر دیا۔۔؟؟ وہ نہیں سنی۔۔؟؟

سینے پے ہاتھ باندھے وہ اب کشش کو تپا رہا تھا۔۔

جاگتے میں دیکھیں خواب۔۔۔ کوٸی پابندی نہیں ہے۔۔۔

گرین ٹی وہ کپ میں انڈیلتے بولی۔

کشش۔۔ افضال سکندر نام ہے میرا۔۔ مجھے تسخیر کرنا۔۔ اتنا آسان نہیں۔۔ میر یامین سکندر۔۔۔۔!

مزے سے کہتی وہ یامین کے ہوش ٹھکانے لگا گٸ۔

وہ جو اسے چھوٹا سمجھ کے ٹریٹ کر رہا تھا۔ اس سے اتنی بڑی بڑی باتیں ایکسپکٹ نہیں کر رہا تھا۔

ہمممممم۔۔۔ تو اتنا میں بھی بتا دوں۔۔ میں بھی میر یامین سکندر ہوں۔ آسان کام میں بھی نہیں کرتا۔۔۔

اور کون کس کو تسخیر کرتا ہے۔۔۔ اب یہ پرسوں ہی پتہ چلے گا۔۔۔!

بہت سنجیدہ انداز میں جواب دیا۔

آپ۔۔ دادا جی سے کہہ دیں۔۔ کہ ۔۔ کشش راضی نہیں۔۔۔!

وہ جو کہتا جانے لگا تھا اس کی اس بات نے اس کےپاٶں میں زنجیر ڈال دی۔

انہی قدموں پےپلٹا۔

وہ جو مزے سے ٹرے لے کے پاس سے گزرنے والی تھی

یامین نے ٹرے سے مگ اچک لیا۔

اور اسے ٹیسٹ کیا۔

ہمممم۔۔۔۔ گرین ٹی تو اچھی بنا لیتی ہو۔۔۔اب کافی بنانا بھی سیکھ لو۔۔۔ مجھے روز رات کو کافی پی کے سونے کی عادت ہے۔۔

شادی کے بعد ببر کی چھٹی اور تمہاری ڈیوٹی شروع۔۔۔

اسکی بات کونظر انداز کرتا وہ گرین ٹی انجواٸے کرتا بولا۔

یہ۔۔ دادا جی کے لیے تھی۔۔۔!

کشش کی مرنے والی حالت ہوگٸ تھی۔ یہ سوچ کے ۔۔ اسے دوبارہ بنانا پڑے گی اب۔

دوبارہ بنا لو۔۔۔ باٸی دا وے۔۔۔ گرین ٹی تھی بہت مزے کی۔۔

ایک مسکراہٹ اچھالتا وہ آنکھوں میں شرارت لیے وہاں سے اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔

کشش نے ٹرے شیلف پے غصہ سے رکھا۔

پتہ نہیں۔۔ کیا سمجھتےہیں۔۔ خود کو۔۔! بدلہ تو میں ضرور لوں گی۔۔۔ چھوڑوں گی نہیں۔۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

آپ کا حازق سے کیا رشتہ ہے۔۔۔؟

جمیلہ بیگم اسے لیے ایک بہت بڑے روم میں آٸیں۔ ۔جہاں اسکی ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔

کبرڈ میں ہر طرح کے ڈریسز شوز۔۔۔ الغرض ہر چیز وہاں موجود تھی۔

دل میں آیا سوال پوچھ ہی لیا۔

حازق۔۔۔ شہریار کے بڑے بھاٸی کی اولاد ہیں۔۔

ان کے فادر شمریز کی ڈیتھ حازق کی پیداٸش سے پہلے ہوگٸ تھی

ان کی ڈیتھ کے دو ماہ بعد حازق اس دنیا میں آٸے۔

اور میرب۔۔ حازق کی مما کی بھی ڈیتھ ہوگٸ۔

حازق کو میں نے اور شہریار نے ماں باپ بن کے ہی پالا ہے۔۔۔ اسی لیے وہ مجھے مما اور شہریا ر کو بابا کہتے ہیں۔

ہمیں وہ اپنی اولاد سے بھی بڑھ کے ہے۔ اور۔ وہ بھی۔۔ ہمیں بہت مان دیتا ہے۔۔۔

جمیلہبیگم کےلہجے میں بے تحاشا پیار تھا۔

عناٸشہ کے تو چودہ طبق روشن ہو گٸے۔۔

اگر۔۔ حازق کے والدین کی ڈیتھ ہوگٸی تھی۔۔ تو وہ خاتون کون تھیں جو مجھ سے ملیں تھیں۔۔۔؟؟

عناٸشہ کا ماغ چکرا کے رہ گیا۔

بیٹا۔۔! آپ فریش ہو جاٶ۔۔ پھر مل کے کھانا کھاتے ہیں۔

جمیلہ بیگم اسے پیار کرتے کہتیں باہر نکل گٸیں۔

عناٸشہ اپنی ہی سوچوں کے بھنور میں پھستی چلی گٸ۔

اسکا مطلب۔۔۔؟؟ وہ کوٸی۔۔ بہروپیہ تھی ۔۔۔ جس نے ۔۔ مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔وہ سب۔۔۔؟؟

اوہ۔۔میرے خدا۔۔۔!یہ مجھ سے کیا ہوگیا۔۔؟؟

میں جھوٹ و فریب میں آگٸ۔۔۔

وہ۔۔سازش تھی۔۔مجھے اور حازق کو الگ کرنے کی۔۔۔؟؟

منہ پے ہاتھ رکھے وہ اپنے دل کو سنبھال رہی تھی۔

میں۔۔۔ میں۔۔ کیا کروں۔۔ میرے اللہ۔۔۔؟؟حازق۔۔۔ مجھے۔۔ غلط ۔۔سمجھتا ہے۔۔۔

میں۔۔ میں حازق کو۔۔سب کچھ۔۔۔ سچ سچ بتا دوںگی۔۔۔ایک عزم سے وہ اٹھی تھی۔

کہ تبھی حازق درواہ کھولے اندر داخل ہوا۔

اس کے چہرے پے بے انتہا غصہ تھا۔

تم۔۔۔!سمجھتی کیا ہو خود کو ہاں۔۔؟؟

بازو سے پکڑے جھنجھوڑا۔

حازق۔۔۔۔۔!!

وہ ہکلاتے بولی۔

چپ۔۔اک دم چپ۔۔۔۔! کوٸی جھوٹ نہیں سننا تم سے۔۔۔!

حازق نفرت سے بولا۔

حازق۔۔۔ ایک بار۔۔۔؟؟

عناٸشہ نے پھر بھی بولنا چاہا۔

تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔؟؟ تم۔اپنے مکر وفریب سے مما کو بھی میری طرح دھوکا دے دو گی۔

اور انکا دل بھی دکھاٶ گی۔۔۔

اور میں۔۔ ایسا ہونے دوں گا۔۔۔؟

حازق کی باتیں عناٸشہ کے دل پے ٹھیس پہچا گٸیں۔

کیا۔۔ مطلب۔۔۔؟؟ میں کیوں انہیں۔۔ دھوکا دینے لگی۔۔؟؟

دھوکا۔۔ دینا تو تمہاری فطرت ہے۔۔۔ عناٸشہ۔۔ فردوس۔۔

تم۔۔۔ مما کی بیٹی نہیں ہو۔۔۔ ! جھوٹ بول کے تم ان کے ساتھ آٸی ہو۔۔ سب جانتا ہوں۔۔ تمہاری دھوکے باز فطرت کو۔۔۔!

اتنے بڑے الزام پے عناٸشہ گنگ رہ گٸی۔

أیسا۔۔۔ ککچیھ۔۔۔ نہٕں۔۔۔۔!

اپنی صفاٸی دینی چاہی۔

منہ بند۔۔۔ تم جیسی۔۔ دھوکے باز کو۔۔ میں۔ اس گھر میں رہنے نہیں دوں گا۔ اور بہت جلد۔۔ تمہارا اصل چہرہ سب کے سامنے لاٶں گا۔۔

اس دن۔مما خود تمہیں اس گھر سے دھکے دے کے نکالیں گیں۔

حازق پھنکارتا اسکابازو جھٹکے سے چھوڑتا دور ہوا۔

عناٸشہ نےاپنی بے اختکار اپن نازو کو پکڑا۔ اور اس پے دوسرے ہاتھ کا دباٶ ڈالا۔

حازق اسے یوں تکلیف پہنچاٸےگا۔ا س نے کبھی سوچا نہ تھا۔

وہ جا چکا تھا۔

عناٸشہ کو آنسو دے کر۔۔۔

وہوہیں زمین پے بیٹھتی چلی گٸ۔

وہ اتنا زیادہ ناراض ہو جاٸے گا۔ اسے خبر کہاں تھی۔۔۔۔؟؟

اک چھوٹی سی غلطی پر وہ مجھے چھوڑ گیا

جیسے صدیوں سے۔میری غلطی کی تلاش میں تھا

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ایک منٹ رکیں۔۔ میری بات سنیں۔۔۔!

کشش نے یامین کو گاڑی میں بیٹتے دیکھ فوراً سے روکا۔

کیا ہوا۔۔۔؟؟

یامین نے پلٹ کےاسے دیکھا۔

جو کالج جانے کے لیے تیار کھڑی تھی۔

مجھے آپ کے ساتھ ایک ڈیل کرنی ہے۔۔

سوچتے ہوٸے ادھر ادھر دیکھتے رازداری سے بولی۔

امین اسکی اس حرکت پے چونکا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *