Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 27)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 27)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
حازق۔۔۔! بیٹا ۔۔کہاں ہیں۔۔آپ۔۔؟؟ آپ جانتے ہیں۔ اس وقت آپ کو یہاں ہونا چاہیے تھا۔
شہریار صاحب کو حازق کا وہاں نہ ہونا سخت کھٹکا تھا۔
بابا۔۔۔! سیکنڈ برانچ میں ہوں۔۔ وہاں کام بہت زیادہ ہے۔۔۔
مین برانچ میں۔۔ وہاں۔۔ یامین ہے وہ سب دیکھ لے گا۔۔ آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔
ساحل۔سمندر بیٹھے وہ ان سے جھوٹ ہی بول رہا تھا۔
حازق۔۔! آپ میرے بیٹے ہیں۔۔ اور میں چاہتا ہوں۔ اس لمحے آپ میرے ساتھ ہوں۔انہوں نے بہت مان سے کہا۔
کچھ پل خاموشی کی نظرہوگٸے۔
بیٹا۔۔۔۔۔! باپ کو سب سے زیادہ بیٹے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔ امید کرتا ہوں۔۔۔ زیادہ انتظارنہیں کرنا پڑے گا۔
شہریار صاحب نے کال بند کر دی وہ اب بھی خاموش نظروں سے ان موجوں کو اٹھکیلیاں کرتے دیکھ رہا تھا۔ اسے لگا آج وہ حقیقتاً خود کو کھو دے گا۔ اسکا دل نے کیسے۔۔ ایک بے وفا لڑکی کو اپنے لیے چنا۔۔۔کیوں وہ پہچان نہ کر سکا۔ بس یہی دکھ اسے اندر ہی اندر کھاٸے جارہا تھا۔وہ وہاں نہیں جا سکتا تھا۔ اسکا وہاں جانا انہی کے حق میں برا تھا۔
اور وہ وہاں جا کے اپنا صبر کھو کے کوٸی تماشا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اس لیے شہریار صاحب کی ناراضگی کو ہی افورڈ کر سکتا تھا۔ وہیں بیٹھا گزرے لمحوں میں جی رہا تھا۔
یہ کیسی محبت تھی۔۔۔
جو مل بھی تو پھر سے کھونے کے لیے۔۔۔
کاش۔۔ وہ ملتی ہی نہ۔۔۔
وہ مل کے پھر سے کھو گٸ تھی۔
آنکھ سے ایک آنسو جھلکا۔ اور لبوں پے زخمی مسکراہٹ۔














وہ تو کہتا تھا۔ اسے بہت سی دعاٸیں آتی ہیں۔۔۔
کیا بچھڑ کر پھر سے ملنے کی دعا اسے یاد نہیں
آٸینے میں خود کو دلہن کے روپ میں دیکھتی اسکا دل بس حازق کو ہی پکارے جا رہا تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اسے یاد کرے۔ لیکن دل اسکی سن کب رہا تھا۔۔؟؟ وہ تو بے لگام اسی کے نال۔پے دھڑکا جا رہا تھا۔ اسی کے لیے تڑپا جا رہا تھا۔
اے اللہ کوٸی معجزہ کر دے۔۔
میرا دل بدل دے۔۔یا اسے میرا کردے۔۔۔
وہ بس اللہ سے دعاٸیں مانگ رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں اس کا عادل سے نکاح تھا۔
اور وہ خود کو بے بس پا رہی تھی۔
وہ رونا نہیں چاہتی تھی۔ لیکن آنسو بہے جا رہے تھے۔ جمیلہ بیگم بھی آج اس سے نظریں نہیں ملا پارہی تھیں۔ انہیں لگا کہیں ناں کہیں وہ اپنی بیٹی کے ساتھ غلط کر گٸ ہیں۔ شاید۔۔ اگر وہ اس سے اسکی پسند پوچھ لیتیں تو۔۔۔ آج وہ خوش ہوتی۔
میں اسکی ماں ہو کے۔۔ اس سے محبت کا دعوی کرنے کے باو جود میں اسے دکھ دے گٸ۔ جبکہ شہریار نے اتنی جلدی اس کے طچہرے کی بے رونقی دیکھ لی۔ میں کیوں نہ سمجھ پاٸی۔۔۔؟؟ اف میرے اللہ ۔۔۔میں کیسا امتحن لینے جا رہی ہوں۔۔ اپنی ہی اولاد سے۔۔۔؟؟جمیلہ بیگم اپنے ہی ضمیر کی عدالت میں آج کھڑیں خود کو قصور وار ٹھہرا رہی تھیں۔
عناٸشہ کے پاس وہ ڈھیلے قدموں سے گٸیں۔
کیاہوا مما۔۔۔؟؟ آپ اتنی چپ کیوں ہیں۔۔؟
اپنے دلکو ایک طرف کرتے اس نے اپنی ماں سے پوچھا۔
عناٸشہ۔۔۔! میری بچی۔۔۔! میں نے۔۔۔ آپ کے بھلے کے لیے سب کیا۔۔۔ لیکن۔۔ آپ کے۔۔چہرے پے۔۔ کوٸی خوشی کی رمق نہ دیکھتے۔۔مجھے۔۔ احساس ہو رہا ہے۔۔ کہ۔۔ میں جلد بازی۔۔۔! وہ رو دیں۔
نہیں۔۔ مما۔۔۔! پلیز۔۔ روٸیں مت۔۔۔! ایسا کچھ نہیں۔۔ میں۔۔ خوش ہوں۔۔ آپ کا ہر فیصلہ۔۔ میری سر آنکھوں پے۔۔۔! عناٸشہ نے ماں کوگلے لگایا۔
وہ اپنیایک ماں کو تو کھو چکی تھی۔ اب ان کو نہیں کھوناچاہتی تھی۔
آپ۔۔ پلیز کوٸی ٹینشن نہ لیں۔۔ عناٸشہ نے مسکراتے انہیں کہا ۔ اور انہیں مطمیٸن کیا۔ جبکہ ل زور زور سے ایک ہی دہاٸی دے رہا تھا۔ اپنے دل کے اس مکیں کا نام بتا دے۔۔ لیکن۔۔شاید۔۔ جمیلہ بیگمنے پوچھنےمیں دیر کر دی تھی۔ اور عناٸشہ اب چاہ کے بھی کچھ بول نہیں سکتی تھی۔
بارات آگٸ ہے۔۔۔۔! کچھ لڑکیوں نے اندر آکے کہا۔ تو عناٸشہ کولگا اسکادل کسی نے نکال باہر کیا ہو۔ اسکو سانس لینا دشوار ہو گیا تھا۔ لیکن اس نے کچھ ظاہر نہ ہونے دیا۔
جمیلہ بیگم اس کےہاتھ چومتیں باہر نکلیں۔ جہاں عادل کی مما سے ملتیں وہمہمانوں کو ویلکم کرے لگیں۔
یہ۔۔۔ عادل ابھی تک کیوں نہں پہنچا۔۔؟؟ عادل کی مما نے بھتیجے سے پوچھا۔
آنٹی۔۔ان کی گاڑی ٹریفک میں پھس گٸ تھی۔ کچھ دیر میں پہنچ جاٸیں گے۔
سعد نے مطمیٸن کیا۔ تو وہ سر ہلاتیں مہمانوں کی جانب بڑھ گٸیں۔













ان کی گاڑی کو سمیر اپنےکچھ دوستوں کےساتھ مل کے پلان بناتا سنسان علاقےمیں لے آیا۔ اب۔۔ انکی گاڑی کے رکتےہی انہوں نے انکی گاڑی کے ٹاٸرز کی ہوا نکال دی۔
یہ کیسے ہوگیا۔۔۔؟؟ عادل کے ساتھاس کے دو دوست اور تھے۔ اور ایک ڈراٸیور بھی۔
میں چیک کرتا ہوں۔۔۔! ڈراٸیور باہر نکلا۔ چیک کیا۔
سر۔۔ گاڑی کے ساے ٹاٸر پنکچر ہوگٸے ہیں۔۔۔ پریشانی سے بتایا۔
لو۔۔ا ب اس سنسان جگہ پے کیا کریں۔۔؟؟ عادل نے فون ملانا چاہا۔ کہ ایک گاڑی انکی جانب بڑھی۔
وہ سمیر کا کوٸی دوست تھا۔
ہیلو۔۔ س۔۔ اینی پرابلم۔۔۔؟؟ بہت مہزب انداز میں پوچھا۔ تو انہوں نے سارا مسلہ بتایا۔
اچھا۔۔ آپ۔۔ آجاٸیں۔۔ میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں۔۔ اس نے آفر کی تو وہ تینوں ساتھ ہولیے۔
ڈراٸیور وہیں گاڑی کے ساتھ رہ گیا۔
کچھ دور جا کے گاڑی بند پڑگٸ۔
اب اسے کیا ہوا۔۔؟؟ عادل زچ آگیا۔
وہگاڑی چلتے چلتے رک جاتی ہے۔۔ اکثر۔۔ ایسا ہو جاتا ہے۔۔ پھر گاڑی کو دھکا لگانا پڑتا ہے۔۔۔! آپ پلیز زرا دھکا لگا یں گے۔۔؟؟ اس شخص نے بہت محبت اور منت سےکہا۔ عادل نے ان دونوں کو اشارہ کیا کہ وہ جا کے دھکا لگاٸیں۔ جیسے ہی وہ دونوں نکلے ۔سمیر اور اسکا ایک اور دوست نقاب کیے گاڑی میں بیٹھے۔ اور گاڑی کو زن سے بھگا لےگٸے۔اتترنےوالے منہ دیکھتے رہ گٸۓ۔۔۔
یہ۔۔۔ یہ۔۔کیا تھا۔۔۔؟؟ قمر۔نے حیرت سے کہا۔
دلہا۔۔۔ کڈنیپ ہوگیا ۔۔ بلال نے منہ بنایا۔
لیکن۔۔۔ ایسے کیسے۔۔۔؟ اور کوٸی ہمارا یقین نہیں کرے گا۔۔ کیونکہ عادل ہمارے ساتھ تھا۔۔کسے کہیں۔۔۔؟
فون۔۔۔فون بھی نہیں ہے۔۔۔وہ بھی وہیں رہ گیا۔ گاڑی میں۔۔۔! قمر نے سر کو ہاتھ مارا۔
بس گٸے کام سے۔۔اب یہاں سے نکلیں گے کیسے۔۔؟؟ بلال کو الگ اپنی فکر ستاٸی۔











سرمد۔۔ ! سارے انتظامات اچھے سے ہونے چاہیٸں۔ کسیچیز کی کوٸی کمی نہ رہے۔۔ یہ۔۔ سمجھو۔۔ گھر کی شادی ہے۔۔۔! اس لیے۔۔ ہر چیز پرفیکٹ ہونی چاہیے۔
یامین نے ہدایات دیں۔ توسرمدنے اثبات میں سرہلاتا باہر۔نکالا۔
یامین کشش کو کال۔کرنے لگا۔ لیکن اس نے کالاٹینڈ نہ کی۔ ابھی مزید کال۔کرتا کہ اسکی میٹنگ اسٹارٹ ہو گٸ۔
گارڈز ہر وت چوکنا تھے۔ اس لیے وہ مطمیٸن مٹنگ اٹینڈ کرنے چلا گیا۔جبکہ یہ نہیں جانتا تھا۔ کہ وہ کشش ہے۔۔۔ گارڈز کو چکما دے کے نکلنا اس کے باٸیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ جو وہ کھیل چکی تھی۔













ہاں۔۔ کدھر ہے۔۔۔؟؟ وہ نمونہ۔۔۔؟ کشش نے سمیر سے پوچھا۔
وہ وہاں۔۔ ! کرسی کے ساتھ باندھے عادل کی طرف اشارہ کیا اس کی آنکھوں پے پٹی بندھی ہوٸی تھی۔ اور منہ پے ٹیپ۔۔!
چلو اب۔۔ اسکا حساب کرتے ہیں۔۔۔ کشش دو دو ہاتھ کرنے اسکی طرف بڑھی۔ وہ سنسان علاقےمیں کسی کچے گھر میں موجود تھے جہاں۔۔ کوٸیدور دور تک زی روح نہ تھی سواٸے ان کے۔
مسٹر۔۔ عادل۔۔۔! کیسا لگ رہا ہے۔۔۔؟؟ یہاں۔۔؟؟ سمیر نے کشش کے بتاٸےہوٸے الفاظ اونچی لیکن کرخت آواز میں بولے۔
یہ بول۔کیوں نہیں رہا۔۔۔؟ سمیر نے سوچنے والےانداز میں کہا۔
کشش نے اس کےسر پے ہیلے سے چپت رسید کی۔ منہ سے ٹیپاتارو گے تو وہ بولے گا ناں۔۔۔۔۔! کشش نے اس کے کان میں سرگوشی کے انداز میں کہا۔
سمیر نےاسکے منہ سے ٹیپ اتاری۔
کون ہو تم لوگ۔۔۔۔؟؟ اور کیوں۔۔ کڈنیپ کیا ہے مجھے۔۔؟؟ عادل نے منہ کھلتے ہی پوچھا۔
سمیر نے کشش کی طرف دیکھا۔
اس سے کہو۔۔ اگر جان پیاری ہے تو جیسا ہم کہیں ویسا کرنا پڑے گا۔۔ ورنہ۔۔ گولی اندر بھیجا باہر۔۔۔!
کشش نے اسکے کان میں کہا۔
مسٹر عادل۔۔۔ جیسا کہا جاٸے ویسا کرو۔۔ ورنہ۔۔ بھیجا اندر۔۔ گولی باہر۔۔۔۔! سمیرجلدی میں کچھ غلط کہہ گیا۔ کشش نے سر پے ہاتھ مارا۔
گولی اندر۔۔ اور تمہارا بھیجا۔۔ باہر۔۔۔! سمیر نے فوراً تصحیح کی۔
کیا چاہتے ہو۔۔۔؟ عادل نے فوراً پوچھا۔
کشش پھر سمیر کےکان میں کچھ بولی۔
تمہیں فون کرنا پڑے گا۔۔ اپنے۔۔ باپ کو۔۔ کہ تم۔۔یہ شادی نہیں کر سکتے۔ تم۔کسی اور سے پیار کرتےہو۔۔۔!
اس بار سمیرنے ہر لفظ صحیح ادا کیا۔
اور میں ایسا کیوں کروں گا۔۔۔۔؟؟ عادل نے تیکھے انداز میں پوچھا۔
اپنی جان کی سلامتی کے لیے۔۔ اور کس لیے۔۔۔؟؟ سمیر نے بھی اسی انداز میں کہا۔
کچھ پل یونہی خاموشی میں گزر گٸے۔
میں ایسا کچھ نہیں کرنے والا۔۔۔ تمہیں مارنا ہے۔۔تو مار دو۔۔۔! عادل۔نے انہیں اپنا فیصلہ سنایا۔
کشش نے ایک گوری سے اسے نوازا۔ اور سمیر کے کان میں پھر سے آرڈر دیا۔
جان۔۔ تمہاری نہیں۔۔ تمہارے باپ کی جاٸے گی۔۔! میرے شوٹر کے نشانے پے ہے۔۔ وقت نہیں۔۔۔ زیادہ۔۔ سوچو۔۔ اپنے آپ سے نہ سہی اپنے باپ سے تو پیار کرتے ہو ناں۔۔؟؟ عادل نے اسکے پاس ہوتے کہا۔ تیر اس بار نشانے پے لگا۔
نووے۔۔۔! خبردار جو میرے باپ کو کچھ بھی کہا تو۔۔۔ جان لےلوں گا۔۔ میں تمہاری۔۔۔۔! عادل جھٹپٹایا۔
کشش اور سمیرنے ایک دوسرے کو وکٹری کاساٸن دیا۔
باپ کی زندگی اور موت تمہارے ہاتھ میں ہے۔۔ اگر تم۔۔ فون نہیں کروگے۔۔ تو۔۔میرا فون جاٸے گا۔۔ اور تمہارے گھر میں صفِ ماتم بچھ جاٸے گا۔۔۔
سمیر نے اسے مکمل پھسا یا۔وہ سوچ میں پڑتا۔ کتنی بار اپنے ہاتھ کھولنے کی ناکام کوشش کر چکا تھا۔ لیکن۔۔اس کے پاس انکی بات ماننے کے علاوہ کوٸی چارہ نہ تھا۔
ٹھیک ہے۔۔۔میں تیار ہوں۔۔۔! عادل کوہارمانتے بنی۔
اگر زرا بھی ہوشیاری کی فون اسی وقت بند ہوگا۔۔ اور تمہارا باپ اللہ کو پیارا ہو جاٸے گا۔۔۔ یاد رکھنا۔
وادن کرتے سمیر نے اسی کے فون سے اس کے باپ کا نمبر ملایا۔جو پہلی کال پے ہی اٹھالیا گیا۔
عادل۔کہاں ہو بیٹا۔۔۔؟ نکاخ کا وقت ہو گیا ہے۔۔ آپ ابھی تک پہنچے نہیں۔۔۔ رفاقت صاحب پریشانی سے بولے۔
بابا۔۔۔ میری بات سنیں۔۔ میں یہ شادی نہیں کر سکتا۔۔ آپ پلیز۔۔ انہیں منع کردیں۔ عادل۔کا دل بری طرح ٹوٹا تھا۔
کیا۔۔۔کیا ۔کہہ رہے ہو۔۔عادل۔۔۔؟؟ بارات پہنچ چکی ہے۔۔اور تم۔۔۔؟؟ رفقت صاحب مارے پریشانی کے بول نہ پاٸے۔
بابا۔۔۔ میں کسی اور کوپسند کرتا ہوں۔۔ اور اسی سے شادی کروں گا۔۔ آپ۔۔ پلیز۔۔ بارات واپس لے جاٸیں۔
مزید کچھ اور کہتا یا سنتا۔۔ سمیر نے کال۔کاٹ دی۔
ہمارا کام۔ہو گیا۔ سمیر نے کشش کے کان میں دھیرے سے کہا۔
یس۔۔ پاٹنر۔۔۔! اب وہاں تھوڑا تماشا لگے گا۔۔ لیکن۔۔ حازق ہیرو بن کے عناٸشہ کو اپنا لے گا۔۔۔ ماٸنڈ بولٶنگ آف می۔۔۔!دونوں باہر آچکے تھے۔ اور خوشی سے باتیں کرنے لگے۔
اب اسے کب تک پکڑے رکھیں۔۔؟؟ سمیرکو واپسہانیہ سے ملنے کی خواہش جاگی۔
حازق کے نکاح تک۔۔ !! کشش نے کہتے کرن کو فون ملایا۔جو دو تین کالز کے بعد ہی اٹھا لیا گیا۔
کیا سچویشن ہے۔۔۔؟؟ فوراً پوچھا۔
یارا۔۔ بہت شور ہو رہا ہے۔۔۔ انکل اور آنٹی بہت پریشان ہیں۔ اور غصے میں بھی۔۔ دلہا آیا نہیں۔۔ اور کہا جا رہا ہےمکہ بارات واپس جاٸے گی۔۔
کرن نے ایک ساٸیڈ پے ہوتے انفارم کیا ۔
ہممممم۔۔ اور یہ حازق۔۔۔ وہ کدھر ہیں۔۔؟؟ کشش کے ماتھے پے تیور چڑھی۔
وہ۔۔وہ تو کہیں نظر نہیں آرہے۔۔۔۔؟؟ کرن نے پورے ہال۔میں نظر دوڑاٸی ۔
ٹھیک ہے۔۔جیسے ہی حازق پہنچے ۔مجھے انفارم۔کرو۔
کہتے ہی کشش۔نے فون کاٹا۔














شادی ہال۔میں چہ مگوٸیاں شروع ہو چکی تھیں۔ کسی نے لڑکے کو برا نہ کہا۔ سبھی نے لڑکی میں ہی عییب تلاش کیے۔
ضرور لڑکی ہی صحیح نہیں ہو گی۔ بروقت پتہ چلا ہوگا۔ لڑکا شادی سے انکارکر گیا۔۔ ورنہ کسی اور میں انٹرسٹڈ ہہوتا تو پہلے ہی ہامی نہ بھرتا۔
غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔
عناٸشہ تک بھی خبر پہنچ گٸ تھی۔ وہ تو سکتے میں تھی۔ ایسا نصیب تھا اسکا۔۔۔؟؟










مل۔گیا۔۔۔۔! کشش نے صبح ہی یامین کے موباٸیل سے حازق کانمبر نکال لیاتھا۔ او اب اسے کال کر رہی تھی۔
کافی دیر بعد حازق نے کال اٹھا لی۔ ان ناٶإ نمبر دیکھ وہ چونکا۔
ہیلو۔۔۔؟؟
کیا ہیلو۔۔۔؟؟ آپ کو کوٸی احساس ہے۔۔۔؟؟ وہاں۔ آپ کی محبت کو آپ کی ضرورت ہے۔۔ اور آپ نجانے کہاں چھپے بیٹھے ہیں۔۔؟کشش چھوٹتے ہی فوراً سے بولی۔
حازق نے حیرت سے موباٸیل کو دیکھا۔
کیا مطلب۔۔۔؟؟ کون۔۔۔؟؟ ماتھے پے تیوری پڑی۔
عناٸشہ کی بات کرہی ہوں۔۔۔! فوراً پہنچں اس وقت وہ بہت مشکل۔میں ہے۔۔ اور اپنی محبت کی آزماٸش دیں آج آپ۔۔۔جاٸیں فوراً۔ آرڈر لگاتی اس نے کال۔کاٹی۔
حد ہے بھٸ۔ وہاں اتنی ایمرجنسی ہو گٸ ہے اور یہ مجوں بنے پتہ نہیں کدھر چھپ کے بیٹھے ہیں۔۔ کشش نے اپنی راٸے کا اظہار کیا۔ اور وہیں سمیر کےپاس بیٹھی جو موباٸیل پے گیم کھیل رہا تھا۔ چلو۔۔۔ میں بگی کھیلوں گی۔ مجھے بھی ایڈ کرو۔
اسٹیک مین پارٹی ان کی فیورٹ گیم تھی۔ اور وہ ہر وقت کھیلنے کو تیار رہتے تھے۔ اور لڑاٸی الگ۔۔۔ بے ایمانی الگ کرتے تھے۔












کسے ڈھونڈ رہی ہو۔۔۔؟؟ داورکی اچانک آمد پے کرن سٹپٹاٸی۔ آپ یہاں۔۔۔؟؟
کیوں۔۔کیا ہوا۔۔۔؟؟ بھاٸی کا ہوٹل ہے۔۔ میں کبھی بھی یہاں آسکتا ہوں۔۔ دوار نے سینے پے ہاتھ باندھتے پیار بھری نظریں کرن پے ٹکاٸیں۔ کرن نے شرماتے سر جھکالیا۔
یہ دونوں۔۔ افلاطون کدھر ہیں۔۔؟ داور کو فوراً کشش اور سمیر کی کمی محسوس ہوٸی۔
وہ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔؟؟ کرن سے داور کے آگے جھوٹ نہ بولا گیا۔ داور نے اسے شک کی نظرسے دیکھا تو کرن نے اسے سب بتا دیا داور سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔
یہ کب سدھریں گے۔۔۔۔؟؟ داور کوانکی فکر ہوٸی۔
کرن خاموش ہی رہی۔
دوسری طرف بارات واپس جانے کی تیاری ہورہی تھی۔
اتنے میں کشش کا فون پھر سے آیا۔
ہاں۔۔ بولو۔۔ کیا سچویشن ہے۔۔۔؟؟ کشش نے بے صبری سے پوچھا۔
داور آگٸے ہیں۔۔ ! کرن نے دھیرے سے کہا۔ تو کشش نے دانت کچکچاٸے۔
تمہیں حازق کا پوچھا ہے۔۔ اسکا بتاٶ۔۔ داور۔۔ پے ہی نظریں ٹکاٸی رکھنا۔۔۔! کشش نے اسے جھڑکا۔
آگیے ہیں ۔۔حازق۔بھاٸی۔۔۔۔! کرن خوشی سے بولی۔
گڈ۔۔۔! اب نکاحہوجاٸے دونوں کا۔۔تو مجھے فوراً انفارم کرو۔ تاکہیہاں سے نکلیں ہم دونوں ۔۔۔!
کشش نے فون بند کیا۔ شکر اللہ کا۔۔ مجنوں پہنچ گیا۔۔ کشش نے سمیر سے کہا۔
یار۔۔ میں بہت بور ہو رہا ہوں۔۔۔! سمیر اکتا گیا۔ اس کےدو دوست۔۔ جہنوں نے اسکی مدد کی۔ وہ بھی باہر ہی بیٹھے تھے۔
آہا۔۔۔۔۔۔ ! نس نکاح ہوتےہی نکلتےہیں۔۔۔! کشش نے اسکی ڈھارس بڑھاٸی۔














یہ۔۔بارات کیوں واپس۔۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔بابا۔۔۔؟؟ حازق کوکچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا۔
آج۔۔ احساس ہو رہا ہے۔۔ کہ میں ایک بیٹی کا باپ ہوں۔۔۔ حازق۔۔ ! عادلنے شادی سے انکارکر دیا ہے۔۔ شہریار صاحب ٹوٹنا نہیں چاہتے تھے۔ لیکن حازق کے سامنے ٹوٹنے لگے۔
حازق کے تو جیسے پیروں تلے سے کسی نے زمین کھینچ لی ہو۔۔
ایسا کیسے ہوسکتا۔۔۔ ہے۔۔۔؟؟وہ۔۔ایسا۔۔۔ کیوں۔۔؟؟ حازق کو۔کچھ سمجھ نہ آیا۔۔؟
حازق بارات واپس جا چکی ہے۔۔ اور اب۔۔میری بیٹی۔۔۔؟ کیا ہوگا اسکا۔۔۔؟؟ لوگ تو۔۔ اسے ہی باتیں کریں گے۔۔۔۔! کن کن کا منہ بند کریں گے ہمم۔۔۔؟؟ منع کیا تھا۔۔ جمیلہ کو۔۔ اتنی جلدی مت کریں۔۔ لیکن۔۔ انہوں۔نے میری بات نہیں مانی۔۔۔۔! وہ حازق سے دل کا بوجھ ہلکا کر رہے تھے۔
بابا۔۔۔۔! اگر۔۔ آپ اجازت دیں تو۔۔ میں۔۔ عناٸشہ سے۔۔ نکاح۔۔؟؟؟ حازقنے دھڑکتے دل سے کہا۔ تو شہریار کی آنکھیں نم ہوگٸیں۔ وہ بھی تو شروع سے یہی چاہتے تھے آگے بڑھ کے حازق کو گلے لگایا۔ اور کچھ ہی دیر میں نکاح کی رسم ادا کر دی گٸ۔
افسردہ ماحول ایکبار پھر سے خوشیوں سے بھر گیا۔ رونقیں ایک بار پھر سے دوالا ہوگٸیں۔ چپرے پھر سے کھل اٹھے۔ جمیلہ بیگم دل سے ان دونوں کے لیے خوش ہوٸیں۔
واقعی یہ ان دونوں کے سچے جذبے تھے۔ جو اللہ کوپسند آگٸے تھے۔ اور اللہ نے انکے دل کی سن لی تھی۔
ان کی قربانی کے اس انداز کو اللہ نے پسند کرلیاتھا۔ اور ان دونوں کیو انکی۔محبت سے نواز دیا تھا۔
دوسری طرف عناٸشہ بت بنی بیٹھی تھی اسے تو ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا۔۔ اسے یہ سب۔۔ حازق کی سازش لگ رہی تھی۔ لیکن فی الحال وہ ماں باپ کی وجہ سے خاموش تھی۔
رخصتی کا وقت آن پہنچا تھا۔
کرن نے کشش کوفون پے نکاح کی خوشخبری سناٸی تو اس نے شکر کا کلمہ پڑھا۔
اب ہم بھی نکلتے ہیں۔۔ گھر کی طرف۔۔ تم داور کےساتھ نکلو۔۔ بس یاد رکھنا کسی کو کچھ بھی پتہ نہ چلے خاص کر میرے۔۔ ان کو۔۔۔! کشش بولتے ہوٸے اٹھی اور سمیر کو چلنے کا اشارہ کیا۔
سمیر اپنے دونں دوستوں کی طر ف گیا انہییں ہدایات دیتا وہ عادل کے پاس آیا۔
شکریہ دوست۔۔۔۔! دو پیار کرنے والوں کو۔ملونے میں تمہارا اہم کردار تھا۔ جو ہم۔۔ہمیشہ یاد رکھیں گے۔۔۔! سمیر نے مسکراتے ہوٸے اسے کہا۔ جبکہ عادل کے منہ پے ٹیپ تھی۔وہ دانت پیستا رہ گیا۔













یامین ابھی فری ہو کے باہر آیا تھا۔ باہر نکلتے ہی اسے کال پے ساری انفو مل گٸ تھی۔ وہ خاص آدمی اس نے اپنوں کی ہر رپورٹ حاصل کرنے کے لیے رکھا تھا۔
اور جو انفارمیشن اسے ملی تھی۔ اس پے یامین کا دماغ بہت سخت گھوما تھا۔ کشش پے بے انتہا غصہ آیا تھا۔ وہ عادل کو جانتا تھا۔ وہ جس قماش کا انسان تھا۔ اپنے دشمن کو وہ چھوڑتا نہیں تھا۔ اور کشش نے اس سے پنگا لے لیا تھا۔
یامین نے کشش کو کال کی۔ اس وقت ان کی گاڑی گھر کی طرف گامزن تھی۔
دوسری طرف داور اور کرن بھی ہال سے نکل آٸے تھے۔
یہ۔۔۔ کیوں فون کر رے ہیں۔۔۔؟ کشش نے دھیرے سے کہا۔
اٹھا لو۔۔۔ ونہ پریشان ہوں گے۔۔ سمیر نے گاڑی ڈراٸیو کرتے مشورہ دیا۔
نہیں۔۔۔ گھر پہنچ کے بات کروں گی۔۔۔ ورنہ وہی پوچھ تاچھ شروع ہو جاٸے گی۔
گاڑی سگنل پے رکی تھی۔ اور دونوں ہی کو گھر پہینچنے کی جلدی تھی۔













یامین کو کشش پے بے انتہا غصہ آیا۔ وہ اسکی کال اٹھا نہیں رہی تھی۔ دانت پیستا وہ سیدھا گھر کی طرف جانے کے لیے باہرنکلا۔ سارا کام مینیجر کے حوالے کرتا وہ کشش کی کلاس لینے کا آج پورا ارادہ رکھتا تھا۔
جبکہ حازق کو وہ مکمل اپنے دماغ سے نکال گیا تھا۔ کہ آج اسکا نکاح ہو گیا تھا۔ اسکی من چاہی لڑکی کے ساتھ۔











عناٸشہ کو حازق کے روممثس پہنچا دیا گیا۔ جمیلہ بیگم اس کے لیے بہت خوش تھیں۔ کہ بالآخر اللہ نے انکی بیٹی کا مان رکھ لیا تھا۔
عناٸشہ ! بیٹا۔۔۔! میں آپ کے لیے بہت خوش ہوں۔۔ حازق ۔۔ بہت اچھا بچہ ہے۔۔۔ یقیناً وہ آپ کو بہت خوش رکھیں گے۔۔۔! بہت پیار سے کہا۔
یہ تو وقت بتاٸے گا۔۔۔ کون کس کو کتنا خوش رکھتا ہے۔۔۔؟؟ عناٸشہ نے دل میں ہی جواب دیا جبکہ لب خاموش تھے۔
آپ۔۔ ریسٹ کرو۔۔۔! میں حازق کو بھیجتی ہوں۔۔ ضرورت کی ہر چیز رھوا دی ہے بیٹا۔۔۔ لیکن ۔۔۔ پھر بھی۔۔کسی بھی چیز کی ضرورت ہوٸی تو لازمی بتانا۔۔۔! اپنا خیال رکھنا۔۔ وہ عناٸشہ کا ہاتھ چومتی جا چکیں تھیں۔ عناٸشہ نے آنکھیں بند کیے گہرا سانس خارج کیا۔ اور اپنی جگہ سے اٹھی۔ اور دروازہ کو لاک لگا دیا۔
مسٹر حازق۔۔۔! اچھے بننے کا یہ ڈرامہ آپ کو بہت مہنگا پڑنے والا ہے۔۔۔! دل ہی دل میں وہ اس سے مخاطب ہوٸی۔
جبکہ دوسری طرف وہ گھر پہنچ چکے تھے۔ لیکن داور اور کرن ابھی نہیں پہنچے تھے۔ رات کافی ہوگٸ تھی۔ سبھی سونے کے لیے اپنے روم میں جا چکے تھے۔ دونوں دبے پاٶں اندر داخل ہوٸے۔
شکر ہے اللہ کا بچ بچا کے نکل آٸے۔ اور نکاح بھی ہوگیا۔۔۔! کشش نے دھیرے سے کہا۔
لیکن اگر کسی کوبھی پتہ چلا تو۔۔ ہم۔۔گٸے کام سے۔۔۔! سمیرنے ڈرتے ہوٸے کہا۔
کون بتاٸے گا۔۔۔؟؟ تم۔۔میں۔۔ یا۔۔ کوٸی اور۔۔۔؟؟ کشش نے چہرہ ہشاش بشاش کرتے پوچھا۔
اتنے میں سمیر کی نظر کشش کے پیچھے کھڑے غصیلی نظروں سے دیکھتےیامین پے پڑی۔
گٸے کام سے۔۔۔۔! سمیر زیرِ لب بولا۔
کچھ نہیں ہوتا۔۔ اب تو ۔۔اللہ بھی ہم سے خوش ہوگا۔۔ دو پیار کرنے والوں کو ملوایا ہے آخر۔۔ کتنا رسکیکام کیا ہے۔۔ ہم نے۔۔۔! سیدھا ہواٸی جہاز میں بیٹھ کے جنت میں جاٸیں گے۔۔۔! کشش نے ہاتھ سے ہواٸی جہاز کا اشارہ کرتے مسکراتے کہا۔
ابھی تو جو میزاٸل گرنا ہے۔۔۔اس سے تو بچو۔۔۔۔! سمیر کے حلقسے الفاظ ہی نہیں نکل رپے تھے۔
کیا ہوا۔۔۔؟ تمہیں کیوں چپ لگ گٸ۔۔۔؟؟ کش شنے فکر سے پوچھا۔
پیچھے۔۔ دیکھو۔۔۔ پیچھے۔۔۔۔۔! دبے دبےانداز میں کہا۔
کیا ہی پیچھے۔۔۔؟؟ کچھ بھی تو نہیں۔۔۔؟؟ کشش نے سمیر کے پیچھے دیکھتے حیرت سے پوچھا۔تو سمیر نے سر پے ہاتھ مارا۔
ارے میرے پیچھے نہیں۔۔ یارا۔۔۔ اپنے پیچھے دیکھو۔۔۔! سمیر زچ آتا بولا۔
ہاں۔۔ تو میرے پیچے کونسا بھوت دیکھ لیا تم نے۔۔۔؟؟ ہاں۔۔۔؟؟ کہتے ساتھ ہی وہ مڑی۔۔ لیکن باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گٸے۔ یامین کے چہرے پے غصہ باآسانی سے دیکھا جا سکتا تھا۔
لو جی۔۔ ہو گٸ۔۔۔ نیکی۔۔۔ ! نیکی کر دریا میں ڈال۔۔۔! کشش دھیرے سے بولی۔
ہم۔۔نے گلے میں ڈال لی ہے۔۔۔۔! سمیر نے لقمہ دیا۔ اتنے میں داور اور کعن بھی اندر داخل ہوٸے۔ اندر کی سچویشن دیکھ وہ بھی انہی قدموں پے رکے۔
لگتا ۔۔۔ ہے۔۔ ہم۔۔ غلط وقت پے پہنچے ہیں۔۔ داور نے یامین کا چہرہ دیکھتے دل تھام کے کہا۔
سمیر ااور کشش نے گرندن گھما کے اسے ایسے دیکھا جیسے کوٸی الگ ہی مخلوق ہو۔۔۔
یامین نے ان چاروں کو بڑے ہال میں ایک ساتھ آنے کو کہا۔ اسکا غصہ ضبط کرنے سے چہرہ لال ہو گیا تھا۔ ان چاروں نے اسے سخت مایوس کیا تھا۔۔
کشش دماغ ہی دماغ میں کہانی ترتیب دینےلگی۔
کچھ بھی ہو۔۔ سب میری ہاں میں ہاں۔۔ ملانا۔۔ سمجھے۔ وہاں سے ہال میں آتے وہ ان تینوں کو جلدی سے بولی۔
جاری ہے۔
