Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Ishq Mera (Episode 07)

Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
 

آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا ۔

اب سویرا مما۔۔ کتنا طوفان لاٸیں گیں دیکھنا آپ۔۔۔۔

کرن نے پریشانی سے داور سے کہا۔

دونوں اس وقت چھت پے بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔

کرن۔۔!! میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔۔۔۔!! اگر۔۔ مما یا بابا نے۔۔۔ میرے ساتھ زبردستی کی۔۔ تو۔۔ میں یہ گھر چھوڑ دوں گا۔۔ لیکن ۔۔مجھے۔۔تمہارا ساتھ چاہیے۔۔۔!!

داور نے پکا ارادہ کرلیا تھا۔

اسکی بات پے کرن کا دل بے اختیار دھڑکا۔

داور۔۔!! آپ۔۔جانتےہیں۔۔ بہت۔۔ چاہتی ہوں۔۔ میں آپ کو۔۔۔ لیکن۔۔ گھر والوں کے خلاف کبھی نہیں جاٶں گی۔

کرن نے ڈرتے ہوٸے مضبوط لہجے میں کہا۔

تو۔۔۔ کیا۔۔۔ الگ ہوجاٶ گی مجھ سے۔۔۔؟؟ داور کو دکھ ہوا۔

وہ رو دی۔۔۔!! اسکی آنکھوں کے آنسو داور کے دل پے گرے تھے۔

پاگل۔۔۔!! کچھ نہیں ہوگا۔۔ ایسا۔۔۔ سب ٹھیک ہوجاٸے گا۔

داور نے اسکا ہاتھ تھام کے اسکے آنسو صاف کرتے کہا۔

چھت پے۔۔۔کوٸی ۔۔۔ نہ آسکے۔۔۔

چھت سے۔۔۔ کوٸی نہ جا سکے۔۔۔

آتے ہی کشش گنگناٸی۔۔

سوچو۔۔ کبھی۔۔ایسا ہو تو کیا ہو۔۔؟

ہم۔۔تم۔۔۔۔ہم۔۔تم۔۔ایک چھت پے ہوں۔۔۔

اور شام ہو جاٸے۔۔۔۔۔!!

اسکے گاے کے طرز کو ان دونوں نے ہی خوب انجواۓ کیا۔

معافی چاہتی ہوں ۔۔! ڈسٹرب کرنا نہیں چاہتی تھی۔ لیکن نیچے آپ کو بلا رہے ہیں۔۔ چلیے۔۔۔۔!!

کشش نے سیڑھیوں کی طراف اشارہ کیا۔

داور نے کرن کو آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی دی۔

عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔۔ میری جان۔۔۔۔

ابھی سے ہمت ہار گٸے۔۔۔؟؟

کشش نے کرن کو کندھے پے ٹہوکا مارا۔

تو وہ سر جھکا کے مسکرا دی۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

نوٹ کر لیں ۔۔۔ ساری میٹنگز۔۔۔؟

کافی دیر سے حازق عناٸشہ کو سامنے بٹھاٸے آج کی میٹنگز کے بارے میں بریف کررہا تھا۔

جی سر۔۔۔!

سر جھکاٸے وہ سب نوٹ کیے جارہی تھی۔

اوکے۔۔۔ گو۔۔ اینڈ ٹیک آ کپ آف کافی۔۔۔!!

بیا آرڈر لگایا۔

رناٸشہ نے ایک لفظ بگی جواب میں نہ کہا اور کافی بنانے چلی گٸ۔

اور کچھ ہی دیر بعد لوٹ آٸی۔

کافی کا مگ ٹیبل پے رکھا۔ اور واپس سر جھکا کے بیٹھ گٸ۔

حازق نے اسے دیکھتے کافی کا مگ اٹھایا۔

لیکن پہلے گھونٹ پےہی چھوڑ دیا۔

کافی بالکل بھی صحیح نہیں بنی تھی۔

حازق کو غصہ آگیا۔

مس عناٸشہ فردوس۔۔۔۔!! کیا آپ نے فرسٹ ٹاٸم کافی بناٸیہے۔۔۔؟

طنزیا پوچھا۔

عناٸشہ نے سر اٹھایا۔

جی۔۔۔ جی۔۔آٸی مین۔۔۔ جی۔۔۔سر۔۔۔!! صحیح نہیں بنی۔۔؟؟ میں اور بنالاتی۔۔۔۔؟؟

کہتےوہ عجلت میں اٹھی۔

اسٹا پ اٹ۔۔۔!! حازق دبے دبے غصے سے چلایا۔

اب۔۔ آپ بار۔۔ بار کاف بناٸیں گیں ۔ اور کافی کے مگ میرے ٹیبل پے اکھٹے کرتی جاٸیں گیں۔۔؟

نو سر۔۔۔!! میں۔۔ آٸندہ۔۔۔ دھیان۔۔۔؟؟

وہ منمناٸی۔

پیٸیں اسے۔۔۔!!سخت لہجےمیں کہا۔ عناٸشہ کو لگا اسے سننے میں غلطی تو نہیں ہوٸی۔

سنا نہیں آپ نے مس عناٸشہ۔۔۔؟؟ حازق نے اب کے اونچی آواز میں کہا۔

تو عناٸشہ نے ہڑبڑاتے کافی کا مگ اٹھا لیا۔

پیٸں اسے۔۔۔۔! زور دیا۔

عناٸشہ کو کافی پسند نہیں تھی۔ نہ کبی اس نے پی۔ کہ اسکا ٹیسٹ پتہ ہو۔۔۔ لیکن ۔۔ وہ یہ جانتی تھی۔کہ کافی کڑوی ہوتی ہے۔۔۔۔ اور کڑوے لگ ہی اسے پیتےہیں۔

عناٸشہ نے مرتی کیا نہ کرتی۔۔۔۔ کافی کامگ لبو ں سے لگایا۔

لیکن۔۔۔ ایک گھونٹ ہی پی سکی۔ وہانتہاٸی کڑوی تھی۔

finish it.

اے رکتا دیکھ حازق نے اونچی آواز میں کہا تو وہ پھر سے کڑوی کافی کو لبوں سے لگا گٸ۔

لیکن۔۔ اس بار کافی نے اندر جانے سے ہی انکار کر دیا۔۔

مدد طلب نظروں سے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا۔ جس نے اس کے لیے اچھی سزا سوچی تھی۔

جلدی ختم کریں اسے۔۔۔!! اور بھی کام ہیں۔ کہنے کاانداز ایسا تھا۔ کہ جیسے کوٸی بہت بڑی بات نہ ہو۔

لیکن۔۔ عناٸشہ بھی اپنے نام کی ایک تھی۔

اس نے بھی کافی کومنہ میں ہی رکھا۔ اور واش روم کی جانب بھاگی۔

حاق نے ماتھے پے تیوری ڈالے اسکی جانب دیکھا۔

کچھ دیر بعد وہ باہر آٸی۔

جیس کوٸی بہت بڑا معرکہ سرانجام دیا ہو۔

مس عناٸشہ۔۔۔!! کافی ابھی وہیں موجود ہے۔

حازق نے دھیان ڈلوایا۔

سور ی سر۔۔۔!!

I cant….

وہ دانت پیستی بولی۔

What do you mean۔۔۔۔?

بانا آتا نہیں تھا۔تو کسی سے پوچھ لینا تھا۔

سب کچھ خراب کرنا ضروری تھا۔۔؟؟

حازق نے اٹھتے سخت لہجے میں اسے کہا۔

عناٸچہ گھبرا سی گٸ۔ حازق نے کافیکامگ اٹھایا اور اسکے قریب آیا۔

پیو اسے۔۔۔!! زبرداتی اسکے ہنٹوں سے لگایا۔

عناٸشہ نے ایک شکوہ۔کناں نظر اس پے ڈالی اور منہ کھول دیا۔ حازق نے اسکی آنکھوں کی نمی کی پرواہ کیےبنا ساریکافی اسکے منہمیں انڈیل دی۔

ایک زور کی ابکاٸی آٸی۔ اور وہ پھر سے واش رومکی طرف بھاگی۔

حازق نے دانت پیسے۔

اور کافیدیر گزرنے کے بعد بھی جب وہ واپس نہ آٸی۔ تو اسکے پیچھے گیا۔ وہ زمین پے گری ہوٸی تھی۔

حزق کا دل بری طرح دھڑکا۔

جھٹ سے آگے بڑھ کے اسے اٹھایا۔

عناٸشہ۔۔۔!! اٹھو۔۔۔!! آنکھیں کھولو۔۔۔!! وہ پریشان ہو گیا۔

اس کے گال تھپکے۔ لیکن وہ نہ اٹھی۔

اسی پریشانی میں اسے اٹھاٸے باہر آیا۔ اور آفس سے متعلقہ روممیں اسے لے جا کے بیڈ پے لٹایا۔

جو اسکاپنا پرسنل تھا۔

عناٸشہ۔۔۔!! آنکھیں کھولو۔۔۔!!

اس پے پانیکے چند قطرے ڈالے۔ تو وہ ہڑبڑاٸی اور دھیرے سے آنکھیں وا کیں۔

حازق نے لمبا سانس خارج کیا۔۔

آنکھیں کھولتےحازق کو اپنے اوپر جھکےپایا تو وہ بری طرح کرنٹ کھا کے پیچھے ہٹی۔

او اس بات نے حازق کو مزید غصہ دلایا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

تو آگٸ۔۔۔ تمہاری سازشی تربیت۔۔۔ سامنے۔۔۔۔۔!

سویرا بھابھی نے پھنکارتے ہوٸے کہا۔

کیا مطلب۔۔۔؟؟ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔آپ۔۔۔؟

عالیہ بی بی یوں سویرا بیگم کے کچن میں آ کے چلانے پے بری طرح چونکیں۔

زیادہ بنو مت۔۔۔!! ایک تو بیٹی کو میرے بیٹے کے پیچھے لگا دیا۔ اوپر سے انجان بننے کی ایکٹنگ ہو رہی ہے۔۔؟؟

واہ۔۔۔۔؟؟ کافی اونچی آواز میں انہوں نے اپنے اندر کی بھڑاس نکالی۔

وہیں اندر آتییں کرن او ر کشش بھی ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔

کیسی۔۔۔۔؟؟ باتیں کر رہی ہیں۔۔۔؟؟ میری بیٹیاں ایسی نہیں ہیں۔۔۔!!

عالیہ بیگم کا درزیدہ لہجہ میں کہا۔

ہاں۔۔۔ کیسی۔۔۔ ماں ہو تم۔۔۔؟؟ جو تمہیں ہی اپنی بیٹی کے کرتوتوں کا پنتہ ہی نہیں۔۔۔؟؟

ہاتھ لہرا کے بولتیں وہ کوٸی جاہل عورت ہی لگ رہی تھیں۔

کیا ہوگیا ہے۔۔؟ سویرا مما۔۔۔ !! اتنا چال کیوں رہی ہیں۔۔؟

کرن کے لاکھ روکنے کے باوجو بھی کشش اندر جاتے پانی کا گلاس بھرتے منہ سے لگاتی بولی پڑی۔

تم۔۔ تو اپنا منہ بند ہی رکھو۔۔ اور اس بات میں نہ پڑو۔۔ تو تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔

کشش کو کہتیں وہ پھر سے عالیہ بیگم کی طرف مڑیں۔

اور تم۔۔۔۔ ایک بات میری یاد رکھنا۔۔ داور میرا بیٹا ہے۔۔ اور جہاں میں چاہوں گی۔۔ اسکی شادی وہیں ہوگی۔۔ اسلیے۔۔ نہ ہی کوٸی خود خواب دیکھو۔ اور نہہی اپنی بیٹی کو دیکھاٶ۔۔۔!ورنہ بہت پچھتاٶ گے۔

غصے سے کہیتی وہ وہاں سے باہر نکل گٸیں۔

جبکہ دروازے میں کھڑی آنکھوں میں ڈھیروں آنسولیے کرن کو انہوں نے نفرت اور حقارت سے دیکھا۔۔

مما۔۔۔۔!! کرن مرے ہوٸے قدموں سے اندر داخل ہوٸی۔

آنسو بے اختیار بہتے جا رہے تھے۔

مما۔۔۔ ایسی۔۔ بات نہیں۔۔۔ سویرا۔۔۔ مما۔۔۔!! کرن سے بات ہی نہ بن پاٸی۔

عالیہ بیگم کرن کو بے یقینی سے دیکھے جا رہی تھیں۔

اور کشش کو رہ رہ کے سویرا بی بی پے غصہ آرہا تھا۔ جو محبت کے بیچ ظالم دیوار بن گٸ تھیں۔

عالیہ بیگم بنا کرن سے کچھ کہے ہاں ے نکل گٸیں۔

اور کرن پھوٹ پھوٹکے رو دی۔

dont be cry….

سب ٹھیک ہو جاٸے گا۔۔۔ !! کشش نے دکھی دل سے کرن کو تسلی دی۔

پتتتہہہ۔۔ نہیں۔۔۔ اب۔۔ مما کیا ۔۔۔ کریں۔۔گیں۔۔؟؟

کرن کو فکر ستاۓ جا رہی تھی۔

کچھ۔۔ بھی نہیں ہوتا۔۔۔ اللہ پے بھروسہ رکھو۔۔۔ اور یہ۔۔۔ سویرا۔۔مما۔۔ ان کا تو کچھ کرنا ہی پڑے ۔۔گا۔۔۔!!

اپنے ماغ میں ترکیب لڑاتے وہ بہت دھیمی آواز میں بولی۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

کیا مسلہ ہے۔۔ تمہارا۔۔۔؟؟ ایک تو تمہاری مدد کی۔۔ اوپر سے ایسے بی ہیو کر رہی ہو۔۔۔ جیسے۔۔۔ پتہ نہیں کیا کر دیا۔۔۔میں نے۔۔؟؟

حازق نے اسے خوب غصے میں سنا دیں۔

یہ۔۔سب۔۔۔ ہوا۔۔ بھی آپ کی وجہ سے۔۔ ہے۔۔۔!! آپ کو پتہ ہے۔۔۔کہ مجھے کافی نہیں پسند۔۔۔!! آپ نے جان بوجھ کے۔۔۔۔!!

عناٸیشہ کی آنکھیں جھلملا گٸیں۔ لیکن لہجہ سخت تھا۔

حازق نے ماتھےپے بل ڈال کے اسے دیکھا۔

کسی کی پسند نا پند یاد رکھنے کے لیے اسے بندے کو بھی یاد رکھنا ضروری ہوتا ہے۔۔۔!

حازق کے لہجے کی جلن عناٸشہ سے چھپی نہ رہ سکی۔

لب بھینچے وہ وہاں سے باہر نکلی۔ اور آفس کی جانب بڑھی۔

حازق بھی سر جھٹک کے آفس آیا۔

لیکن وہ وہاں نہیں تھی۔

حازق اگنور کرتا اپنے کام نمٹانے لگا

لیکن۔۔۔ اپنا دھیان ایک لمحے کے لیے بھی اس سے ہٹا نہ پایا۔

اور وہ اپنے ضبط کو آزماتی اپنی سیٹ پے بیٹھی حازق کے لفظوں پے غور کرتی رہ گٸ۔

واقعی صحیح ہی تو کہا ہے۔۔۔ میں اسے کونسا یاد ہوں گی۔۔؟ جو میری پسند نا پسند کو وہ یاد رکھے گا۔۔؟؟

آنسو بہہ کے گالوں پے آگٸے۔

غریب کو تو محبت کرنے کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔۔۔۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

رات کو سبھیکھانے کی ٹیبلپے ایک ساتھ بیٹھے تھے۔لیکن سبھی کی خاموشی غیر معمولی تھی۔

اس سب میں اک کشش تھی جسکی نظریں دادا جی پے ٹکیں تھیں۔ جو کام وہ کر چکی تھی۔ اب اسکے ایکشن کا انتظار کر رہی تھی۔

کھانے تقریباً سبھی کا اختتام پزیر ہو چکا تھا۔

اتنے میں یامین نے ٹیبل چھوڑا۔ کہ دادا جی کی آواز آٸی۔

ایک منٹ ۔۔۔!! مجھے سب سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔۔!!

دادا جی کے کہنے پے یامین دوبارہ بیٹھ گیا۔

جیسا کہ آپ سب ہی جانتے ہیں۔۔ کہ ماشاءاللہ سے اب سب بچے ہی بڑے ہو گٸے ہیں۔ تو۔۔ اب انکی شادی خانہ آبادی کر دی جاٸے۔

دادا جی کی بات پے کشش کے چہرے پے مسکراہٹ آٸی۔ وہیں سویرا بی بی کے کان کھڑے ہوٸے۔

اس لیے اس بارے میں ہمنے ایک فیصلہ لیا ہے۔

یامین اس گھر کا بڑا بیٹا ہے۔ اصولاً سب سے پہلے ۔۔۔ تو یامین کی شادی ہونی چاہیے۔۔ لیکن۔۔۔ ہماری ۔۔یامین سے بات ہوگٸ ہے۔۔۔ وہ بہت جلد اس بارے میں فیصلہ لے لے گا۔

دادا جی نے تمہید باندھی۔تو سبھی کی سانسیں اٹکیں۔

اسی طرح۔۔ دوسرے نمبر پے ہیں۔۔ داور بیٹا۔۔۔!! انکا رشتہ بھی ہو جانا چاہیے۔

داور اور یامین کی شادی ایک ساتھ کر دیں گے۔۔

دادا جی۔۔۔!! آپ کے منہ میں گھی شکر۔۔۔۔!!

کشش دل ہی دل میں دادا جی سے مخاطب ہوٸی۔

دوار بیٹا۔۔۔!! دادا جی نے اسے پکارا۔

جی دادا جی۔۔۔!! داور نے فوراً لبیک کہا۔

بیٹا۔۔۔!! اگر۔۔ کوٸی پسند ہے تو آپ بتا سکتےہیں۔۔ ہم۔۔کسی طرح کی زور زبردستی نہیں کرنا چاہتے۔۔ آپ سب سمجھدار ہیں۔۔ اور ہماری یہی مرضی ہے۔۔ کہ آپ سب کی زندگیوں کا فیصلہآپ سب کی راۓ کے مطابق ہونا چاہیے۔

دادا جی کے رعب و دبددبے والے لہجےمیں کی گٸ بات کے آگے کسی کی جرات نہ ہوٸی کہ کوٸی کچھ بول سکے۔البتہ سویرا بیگم پہلو بدل کے رہ گٸیں۔

داور نے ایک نظر کرن کو ڈھونڈنا چاہا۔ لیکن وہ کہیں نہیں تھی۔

نہیں۔۔ دادا جی۔۔۔ !! جو آپ کا فیصلہ ہے۔۔ مجھے۔۔ منظور ہے۔

داور نے سر تسلیمِ خم کیا۔

تو ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔!! ہم نے۔۔ سوچا ہے۔۔ اسی گھر کی بیٹی کے ساتھ آپ کا رشتہ کر دیا جاٸے۔

داور کا دل دھڑکا۔

سبھی کی سوالیہ نظریں دادا جی پے اٹھیں۔

جبکہ کشش مطمیٸن آنکھوں میں چمک لیے بیٹھی دادا جی کو دیکھ رہی تھی۔

عزیز بیٹا۔۔۔۔۔! پاس بیٹھے عزیز کو پکارا۔

جی۔۔۔ بابا۔۔؟؟ وہ بھی فوراً لبیک کہتے آگے ہوٸے۔

ہم آپ کی بیٹی ہماری پوتی کرن کا رشتہ دار سے طے کرتےہیں۔۔ کیا آپ کو کوٸی اعتراض تو نہیں۔۔؟

عزیز صاحب نے ایک نظر عالیہ کو دیکھا۔

جہنوں نے نفی میں سر ہلایا۔

نہیں بابا جی۔۔۔!! کرن مجھ سے زیادہ آپ کی بیٹی ہے۔۔ آپ اس کے لیے جو بھی فیصلہ کریں گے۔ درست ہوگا۔

دھیے دھیرے کہتے ہ اپنے باپ کا مان بڑھا گٸے۔

لیکن۔۔۔۔۔!! سویرا بی بی کچھ کہنے لگیں کہ حیات صاحب نے انہیں ٹوک دیا۔

کیا ہوا۔۔ بہو۔۔؟؟ کچھ کہنا چاہتی ہو۔۔؟؟

انہوں نے کچھ تیکھے انداز میں پوچھا۔

نن۔۔نہیں۔۔۔۔!! شوہر کا اشارہ سمجھتے وہ خاموش ہوگٸیں۔

اس گھر کا بڑا میں ہوں اور یقیناً ہر فیصلہ میری ہی من منشا سے ہوتا آیا ہے اب تک۔۔ سواٸے ایک فیصلے کے۔۔۔!! جس میں میری رضامنفی شامل نہیں تھی۔ وہی فیصلہ ۔۔ اس گھر ۔۔اور اس گھر کے بچے کے لیے اچھا ثابت نہ ہوا۔ اور وہ سب جانتے ہیں۔۔

بہت ٹہر ٹہر کے انہوں نے سویرا بی بی کو بہت کچھ باور کرا دیا۔ وہ منہ بناتی سر جھکا گٸیں۔

تو ٹھیک ہے۔۔۔ اس جمعہ کو دونوں کا باقاعدہ رشتہ طے کر لیا جاٸے۔ اور یامین کی شای کے ساتھانکی بھی شای کر دی جاٸے گی۔

مبارک ہو۔۔۔۔۔!! کشش کی چہکتی ہوٸی آواز آٸی۔

سویرا بیگم۔نے لب بھینچے۔

داورکی خوشی کا کوٸی ٹھکانہ نہیں تھا۔

اٹھ کے دادا جی کے گلے لگا۔ یامین نے بھی گلے لگا کے مبارک باد دی۔۔

کشش فوراً سے فریج سے کیک نکال لاٸی اور سب کا۔منہ میٹھا کرانے لگی۔

سویرا بی بی کشش کا ہاتھ پیچھے کر دیا۔

اور منہ بناتیں وہاں سے واک آٶٹ کر گٸیں۔

عالیہ جانتی تھیں۔ اب سویرا بی بینے نیا تما شا لگانا ہے۔ لیکن دادا جیکے آگے سبھی خاموش تھے۔

عزیز صاحب نے بھی داور کو گلے سے لگایا۔ عالیہ نے بھی پیار کیا۔

حیات صاحب کندھے پے تھپکتےاندر بڑھ گٸے۔

کچھ بھی کرلیتے باپ کے سامنےکھڑے نہیں ہو سکتے تھے۔

یامین !پتر ۔۔!! اب تُو بھی آگے بڑھ اپنی زندگی میں بیٹا۔۔۔!! مجھے آپ کی اور داور کی خوشی ایک ساتھ دیکھنی ہے۔۔

دادا جی نے بہت پیار سےاپنے پیارے پوتے سے کہا۔

جی۔۔۔!! یامین نے کن اکھیوں سے کشش کو دیکھا۔ جو داور کو بار بار چھیڑے جا رہی تھی۔ اور سمیر بھی اسکا خوب ساتھ دے رہا تھا۔

دادا جی کو یامین کچھ چپ سا لگا۔

اچھا۔۔! اب سب ۔۔ متوجہ ہوں۔ رشتہ تو طے ہو جاٸے گا۔۔ لیکن شادی۔۔ یامین اور داور کی ایک ساتھ ہی ہوگی۔ اس میں کوٸی ردوبدل نہیں ہوگا۔۔ اس لیے۔۔ اس بارے میں کوٸی بات کسی کی نہیں سنی جاٸے گی۔

دوسرے لفظوں میں آپ سب ملکے۔۔ میرے یامین پتر کے لیے لڑکی ڈھونڈیں۔۔۔!!

ہرا۔۔۔۔۔!!

دادا جی نے ہنسی مزاق میں بات کی۔ تو کشش نے نعرہ لگایا۔ یہ تو اسکا فیورٹ کام تھا۔

نہیں دادا جی۔۔۔!! میں فی الحال ایس اکچھ پلان کر کے نہیں بیٹھا ۔اس لیے اس ٹاپک کو نہ چھیڑیں۔

یامین نے سنجیدہ انداز میں کہا۔ تو کشش نےمنہ پھولایا۔

پترجی۔۔۔!! ایسے کب تک چلے گا۔۔؟؟

دادا جی اداس ہوٸے۔

دادا جی آپ فکر نہ کریں۔۔۔ ہم۔۔مل کے ڈھونڈیں گے۔۔ ان کے لیے بہت ہی اچھی اور پیاری لڑکی۔۔۔۔!!

Enogh… kashash…

یامن نے سختی سے ٹوکا۔

تو سبھی خاموشی سے اسکی سخت آواز پے اسے دیکھنے لگے۔

اس ٹاپک پے دوبارہ کوٸی بات نہیں ہوگی۔۔۔!!

اور ۔۔کوٸی بھی کچھ نہ سوچے۔۔۔ اس بارے میں۔۔۔!!

یامین انگلی اٹھاتا کشش کو وارن کرتا وہاں سے چلا گیا۔

دادا جی نے مسکرا کے کشش کو دیکھا تو وہ بھی مسکرا دی۔

اسے دادا جی کی پوری سپورٹ تھی۔ تو اسے فکر کاہے کی۔۔۔۔؟؟

بے فکر رہو۔۔۔۔!! تمہاری محبت میں میں کسی کو ظالم سناج نہیں بننے دوں گی۔۔۔ چاہے مجھے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے۔۔۔ پر۔۔۔ تم دونوں وعدہ کرو۔۔۔ میرا ساتھ دو گے۔۔۔۔!!

کشش نے انکی تسلی کراتے دھیرے سے سرگوشی کرتے کہا۔ تو ان دونوں نے یس باس کا اشارہ کرتے اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلایا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

سر۔۔۔!! میں کر لوں۔۔ گی۔۔۔!! آپ پلیز۔۔ جاٸیں۔

سر کاشف نے اسے کافی شیادہ کام دے دیا تھا۔ اکاٶنٹ کا جتنا کام پینڈنگ تھا۔ وہ سارا اسے دے دیا۔

لیکن ساتھ میں وہ اس ک ساتھ ٹاٸم بھی سپینڈ کرنا چاہا۔

اور کام کرتے لیپ ٹاپ پے اس کے ہاتھ پے اپنا ہاتھ رکھا۔

تو عناٸشہ بدک کے پیچھے ہٹی۔

ارے مس عناٸشہ اتنا گھبرا کیوں رہی ہیں۔۔؟؟

مل کے کریں گے تو جلدی ہو جاۓ گا کام۔۔۔!!

تھوڑا قریب ہوتے محبت بھرے انداز میں کہا۔

نہٕں۔۔۔!! آپ جاٸیں۔۔۔!! میں کر لوں گی۔

اب کی بار تھوڑا سختی سے کہا۔ تو وہ لب بھینچے باہر نکل گیا۔

عناٸشہ نے سکھ کا سانس لیا۔

اور واپس سیٹ پے بیٹھی۔ اور کام شروع کیا۔

اور اتنا بزی ہو گٸ۔ کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔

ٹاٸم دیکھا۔ تو احساس ہوا کہ آج تو افی لیٹ ہوگٸ۔ فوراً کام سمیٹا۔ اور باہر نکلی۔ تقریباً سبھی جا چکے تھے۔

پیون نے بھی دو دفعہ آکے اسے جانے کا کہا تھا۔ لیکن ای نے کام کی وجہ سے ٹال دیا۔ اب رات کے نو بج رہے تھے تو احساس ہوا کہ غلط کیا جو اتنی دیر رکی رہی۔آٹو کا ویٹ کرتی وہ سڑک پے کھڑی تھی۔ کہ ایک گاڑی آکے پاس رکی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *