Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 11)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 11)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
آج کا دن۔ٹینشن فری وہ گزار کے گھر آٸی تھی۔
لیکن آگے ایک بہت بڑی ٹینشن بیٹھی دیکھ وہ ٹھٹھکی۔
عناٸشہ۔۔۔۔!! میری بچی۔۔۔؟؟
کیسی ہو تم۔۔۔؟؟
اس عورت نے بڑھ کے عناٸشہ کو گلے لگایا۔۔
آپ کون۔۔۔۔؟؟ عناٸشہ نے حیرت سے پوچھا۔
میں۔۔۔ میں۔۔تمہاری۔۔ بد نصیب ماں۔۔۔!!
وہ روتے ہوٸے پھر سے عناٸشہ کو گلے لگا گٸیں۔
عناٸشہ نے بے یقینی سے عابدہ بیگم کو دیکھا۔
جن کی نظریں جھک گٸیں تھیں۔












حیات صاحب بہت بڑی غلطی کر دی آپ نے۔۔۔جو التاج ہوٹل کو اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا۔۔۔ آج وہی ہوٹل۔۔۔ ہے۔۔ اور کہاں سے کہاں ۔۔پہنچ گیا۔۔۔ صرف یامین کی ملکیت میں ہے وہ۔۔ اور صرف وہی نہیں۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ پانچ ہوٹل اور بن۔گٸے۔۔۔ اور وہ شادی ہال بھی۔۔۔۔؟؟ اتنی ترقی۔۔۔؟؟ میں کہتی ہوں۔۔ کیوں۔۔ آپ نے۔۔۔ التاج ہوٹل پے قبضہ نہ کیا۔۔۔؟؟
کیاکرتا قبضہ کر کے۔۔۔؟؟ تیکھے ستونوں سے بیوی سے ہمکلام ہوٸے۔
ڈوب رہی تھی وہ کشتی۔۔۔ اچھا خاصا بیچ رہے تھے بابا ۔۔۔ لیکن۔۔عین وقت پے اس یامین۔۔ نے۔۔۔ ؟؟لب بھینچے۔
خیر ۔۔۔ ہے تو وہ بھی میرا ہی بیٹا۔۔۔!! وہ امیر ہے ۔۔اس کے پاس۔۔پیسہ ہے۔۔تو ۔۔۔ میرا بھی حق ہے اس پے۔۔۔۔!! لیکن۔۔ تمہیں آج۔۔۔ یہ سب کچھ کیوں کھٹک رہا ہے۔۔؟؟
ایک آٸی برو چڑھاتے بیوی کو دیکھتے انہوں نے پوچھا۔
کیونکہ۔۔ میری بہن نے۔۔۔ طوبیٰ کا رشتہ ۔۔ داور سے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔۔ ۔۔
لیکن۔۔وہ کیوں۔۔۔؟؟ تم۔نےاسے سمجھایا نہیں۔۔؟؟
حیات صاحب کو بھی شاک لگا۔
کیونکہ وہ۔۔ چاہتی ہے۔۔۔ کہ طوبی ٰ کا رشتہ یامین سے ہو جاٸے۔۔ اس کے پسوں کی وجہ سے ۔۔۔۔!!
سن لیا آپ نے۔۔۔؟؟ سویرا بیگم اچھا خاصا بھڑکی ہوٸیں تھیں۔
حیات صاحب کو تو چپ ہی لگ گٸ۔











1lac75 thousand bill.
یہ۔۔کیا ہے۔۔۔؟؟
یامین نے حیرت سے اکاوٶنٹ چیک کرتے بل دیکھ رمیز سے پوچھا۔
سر۔۔۔ یہ۔۔اسلام آبادمیں شادی ہال کا بل ہے سر۔۔۔شاہ صاحب کے بیٹے کی شادی تھی کل۔۔۔۔ اسی کا۔۔۔!
لیکن اس کا بل ۔۔۔میرے اکاٶنٹ میں کیوں ڈالا جا رہا ہے۔۔۔؟م وجہ جان سکتا ہوں۔۔۔؟؟
سر۔۔۔ وہ۔۔۔ میم۔۔۔ نے بولا۔۔ہے۔۔۔کہ 175000 کا۔بلآپ کے اکاٶنٹ میں ڈال د یا جاٸے۔ سر جھکاٸٕے وہ بولا۔
اچھااا۔۔۔ اور یہ میم کون ہیں۔۔؟؟
آٸ برو اچکاتے ہوٸے پوچھا۔
جی۔۔۔میم۔۔۔کشش۔۔۔۔!!
زمیر۔کی بات پے یامین نفی میں سر ہلانے لگا۔
اس لڑکی کا کچھ نہیں ہو سکتا ۔
اس نے 175000 کا کیا کیا۔۔۔؟م
یامین حیران۔ہوا۔
جی۔۔وہ ۔۔ بوتلز۔منگواٸیں۔۔۔سب بچوں کے لیے۔۔۔ اور کہا گیا کہ ایک ایک بچہ کو ڈھونڈ کے اس دی جاٸے۔ اور کوٸی زیادہ ڈیمانڈ کرے تو اس کے گھر میں بھی پورے کریٹ پہنچاٸیں جاٸیں۔
زمیر نے پوری سٹوری سنا دی۔
یامین نے آنکھیں بند کرتے گہرا سانس لیتے اپنا غصہ کنٹرول۔کیا۔
یہ لڑکی اس کی سمجھ سے بالاتر تھی۔
سر۔۔۔۔! بڑے میر صاحب نے بھی کہا تھا۔کہ بل۔آ کے اکاٶنٹ میں ہی ڈالا جاٸے۔
زمر نے مزید وضاحت دی۔
ہمممممم۔۔۔ اگر دادا جی نے کہا ہے۔۔ تو۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔!! کہتے ساتھ ہی وہ لیب ٹاپ کی طرف متوجہ ہوا۔
جسکا مطلب تھا کہ زمیر اب تم جا سکتے ہو۔۔
اور وہ خاموشی سے نکل گیا۔
یامین گھڑی پے ٹاٸم دیکھتا دادا جی کو کال۔ملاٸی۔ آج انہوں نے واپس آنا تھا۔
اور وہ کراچی اٸیر پورٹ پے لینڈ کر چکے تھے۔
یامین نے دادا جی کے نمبر پے کال۔ملاٸی۔
کہاں۔۔۔ پہنچے ہیں دادا جی۔۔۔؟؟
سلامدعا کے بعد فوراً پوچھا۔
بس پتر جی۔۔۔! اٸیرپورٹ سے نکل آٸے ہیں۔
دادا جی نے ساتھ بیٹھی شرارتیں کرتی کشش کو ایک پیار بھری نظر سے دیکھا۔
دادا جی۔۔۔! لوکیشن آن کر دیں۔ آپ کو پتہ ہے ناں۔۔۔دوست کم اور دشمن زیادہ ہیں۔۔۔ فکر رہتی ہے
یامین نے ہمیشہ کی طرح لوکیشن آن کرنے کا کہا۔وہ دادا جی کی ہمیشہ یونہی کٸیر کیا کرتا تھا۔بناکسی کو بتاٸے بنا کسی پے احسان جتاٸے۔
ایک بار ان پے قاتلانہ حملہ بھی ہو چکا تھا۔اس لیے یامین انکی زیادہ کٸیر کرتا تھا۔
لیکن اس بات کو بھی بہت عرصہ بیت گیا تھا۔۔ دادا جی تو پرواہ نہ کرتے البتہ یامین رسک نہیں لیتا تھا۔ اور دو گارڈز کوہمیشہ دادا جی کے ساتھ رکھتا تھا۔
ہاں پتر کر دی ہے۔۔۔ تمہارے کہنے سے پہلے ہی کر دی تھی۔
پ
بس تھوڑی دیر میں گھر پے ہوں گے۔۔
دادا جی۔۔۔!میری بات کرواٸیں۔
ساتھ بیٹھی کشش نے دادا ھجی سے فون لیا۔اور اپنے کان سے لگا لیا۔
کیسے ہیں۔مسٹر سویٹ اینڈ کڑوے کزن ۔۔۔۔!
دادا جی کو آنکھ ونک کرتی وہ یامین سے بولی۔
بہت زبان چلنے لگی ہے۔۔ واپس آٶ۔۔تمہارا بندوبست کتا ہوں۔
یامین نے اسے ڈرانا چاہا۔
ہاہاہاہ۔۔۔۔ میں ڈر گٸ۔۔۔۔!
اسی کے انداز میں کہا۔
بل پہچ گیا تھا ناں۔۔؟ خیر خیریت سے۔۔؟
زبان دانتوں تلے دباتی وہ پوچھ بیٹھی۔
اس بل۔کو سود سمیت واپس لوں گا۔۔۔کشش افضال سکندر۔۔۔۔!
یامین نے بھی دانت پیستے کہا۔
توبہ توبہ ۔۔آپ کو پتہ ہونا چاہیے۔۔ سود کھانا حرام ہے۔۔۔ آپ ۔۔اتنے بڑے ہوگٸے آپ کو پتہ ہی نہیں۔۔۔ چار جماعتیں پڑھ لیتے تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔
وہ یامین کو دور بیٹھے بھی اچھا خاصا تپا چکی تھی۔
کشش افضال سکندر۔۔!ایک بار میرے ہاتھ لگو۔۔ پھر بتاٶں گا۔۔۔ مجھے کیا کیا حلال ہے۔۔۔ ؟
معنی خیزی سے کہتا وہ پہلی بار کشش کا دل دھڑکا گیا۔
کشش نے موباٸیل کو اچھے سے گھورا۔ اور کان کے ساتھ لگایا۔ کہ تبھی گاڑی ایک جھٹکے سے رکی۔
ارے۔۔۔ ڈراٸیور کیا ہوا۔۔۔؟؟ کشش بھی اس طرف متوجہ ہوٸی۔
میر صاحب۔۔۔! لگتا ہے ٹاٸر پنکچر ہو گیا۔
میں دیکھتا ہوں۔۔
ڈراٸیور گاڑی کا بونٹ اٹھاتا چیک کرنے لگا۔
دو گارڈز جن کی گاڑی ساتھ اس وقت وہ بھی گاڑی سمیت غاٸب تھے۔
ہیلو۔۔۔۔ہیلو۔۔۔ آواز نہیں آرہی۔۔۔۔! کشش نے شرارت کی اور گاڑی سے نیچے اتری۔
بیٹا ۔۔!کہاں جا رہی ہو۔۔؟؟
دادا جی نے روکا۔
دادا جی سگنل۔نہیں آرہے۔۔ ایک منٹ ابھی آٸی۔
کشش ہنستی ہوٸے سڑک کے ایک طرف لگے درختوں کی طرف چلی گٸ۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ کشش۔۔؟؟ داداجیکیا کہہ رہے تھے۔۔؟؟
یامین کو کچھ صحیح نہیں لگا۔
آپ۔۔بہت بڑے فلرٹی سے ہوگٸے ہیں۔۔۔ پتہ ہے آپ کو۔۔۔۔!
یامین کی بات اگنور کرتی وہ اپنی بات جاری رکھے ہوٸے تھی۔ وہ یہ بات دادا جی کے سامنے نہیں کر سکتی تھی۔اس لیے بہانہ بنا کے نیچے اتری تھی۔
ابھی یامین اسکی بات کا جواب دیتا کہ پیچھے سے اسے بہت شور سناٸی دیا۔
جیسے دھماکا ہوا ہو۔
جھٹ سے پلٹ کے دیکھا۔
گاڑی کا ایک ٹریلا ٹکر مارتا اچھا ل کے لے جا ہا تھا۔
اور گاڑی نے آگے جا کے تین چار قلبازیاں کھاٸیں۔
اور الٹ گٸ۔
ڈراٸیور بھی گاڑیی کی زد میں آگیا۔
دادا جی بھی گاڑی میں تھے۔ اور انکا سوچتے کشش کا دل بری طرح کانپا۔
موباٸیل ہاتھ سے چھوٹا۔
دادا۔۔۔جی۔۔۔۔! ایک چینخ بلند ہوٸی۔
وقت جیسے وہیں تھم۔گیا ہو۔۔
سانس بھی رک گٸی ہو۔۔
ہوا نے اپنا رخ بدل۔لیا ہو۔۔
کشش گاڑی کی طرف بھاگی۔
دوسری طرف یامین کو بھی اس کے چہینے پے کچھ غلط کا احساس ہوا۔ وہ کشش کو پکارتا رہ گیا۔ لوکیشن موباٸیل پے دیکھتا وہ باہر نکلا۔۔
بس ایک ہی دعا تھی وہ ٹھیک ہو۔
دادا جی ٹھیک ہوں۔
دونوں گارڈز کی گاڑی بھی اسی وقت وہاں پہنچی۔۔
ٹریلا مار کے جا چکا تھا۔
گارڈز فوراً آگے بڑھے۔
ایکنے ڈراٸیور کو اٹھایا۔ تو دوسرے نے دادا جی کو گاڑی سے نکالنے کی کوشش کی۔ گاڑی لٹنے کی وجہ سے دادا جیکا سر گاڑی سے ٹکرایا تھا۔ خون بہت زیادہ بہہ گیا تھا۔ اور وہ بے ہوش ہوگٸے تھے۔
دادا۔۔۔جی۔۔۔۔!!
help….
Plz…. help.
میرے دادا جی۔۔۔۔!
کشش کے آنسو نکلے جا رہے تھے۔ گارڈ کوکہتی وہ خود بھی گاڑی کو سیدھا کرنے کی ناکام کوشش کیے جارہی تھی۔
گارڈ نے بمشکل انکو گھسیٹ کے باہر نکالا۔
ان کے کپڑے خون آلود ہوچکے تھے۔
کش نے ان کا سر اپنی گود میں رکھا۔
ان کے گال۔کو پیار سے تھپکا۔
آنسو کی روانی مزید بڑھ گٸ۔
دا۔۔۔دا۔۔۔ججججییی
آنکھ۔۔۔۔یں۔۔۔ کھووولیں۔۔
وہ آنسو ضبط کرتے بمشکل بولی۔
لیکن دادا جی کی آنکھیں بند تھیں۔
گارڈر بھاگتے آٸے۔ اور انہیں اٹھا کے اپنی گاڑ ی میں ڈالا۔
یامین کی گارڈ کے نمبر پے کال آنے پے اس نے ساری بات بتا دی۔ اور یامین کے بتاٸے گٸے ہاسپٹل کا رخ کیا۔
میم۔۔۔ پلیز۔۔ چلیں۔۔۔۔ گارڈز جو دونں ہی چوکنا تھے۔ ہوش و حواص کھوٸے ہوٸے کشش کو بولا۔ تو وہ چونکی اور بھاگتی دادا جی کے پاس گاڑی میں بیٹھی۔
دادا۔۔جی۔۔!! اس کی درد بھری آواز سناٸی دی۔












آپ کیا۔۔کہہ رہی ہیں۔۔؟؟ امی۔۔۔؟؟ یہ کون ہیں۔۔؟؟
عناٸشہ نے انہیں خود سے دور کیا۔
بیٹا۔۔میں جمیلہ۔۔۔ تمہار۔ی۔۔۔ ماں۔۔۔ !! کتنے عرصے سے ڈھونڈ رہے ہیں۔۔ تمہیں۔۔۔ ! آج ملی ہو۔۔۔!!
ان کے آنسو عناٸشہ کو سچے لگے۔
لیکن اسکا دل نہیں مانا۔
اپنی ماں کے قدموں میں جا بیٹھی۔
آنکھوں کے گوشے بھیگے۔
امی۔۔۔ بتاٸیں۔۔؟؟ یہ کون ہیں۔۔۔؟؟ جھھھوٹ۔۔ بول رہی ہیں۔۔ ناں۔۔۔؟؟
بہت ہی امید سے پوچھا۔
عباہ بیگم کی آنکھیں چھلک گٸیں۔
یہ ۔۔۔سسچچ ہے۔۔۔ عناٸشہ۔۔۔۔!!
عناٸشہ کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔
ہاتھ کانپنے لگے۔
امی۔۔۔! یہ۔۔جھوٹ۔۔۔ ہے۔۔۔!!
اس نے جیسے خود کو یقین دلانا چاہا۔
نہیں بیٹا۔۔۔۔!!
یہی سچ ہے۔۔۔ ہاں۔۔ کڑوا ہے۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ اب۔۔اور نہیں اس راز کے بوجھ کے تلے جی سکتی۔۔۔
جمیلہ۔۔۔ ! بہن ہے۔۔میری۔۔۔!
عابدہ بی بی نے ساری سچاٸی بتانے کا فیصلہ کیا۔
ہم۔۔دونوں کی ایک ساتھ۔۔۔ اولاد ہوٸی تھی۔۔۔ ہاسپٹل میں۔۔۔! دونوں کی بیٹی ہوٸی۔۔۔ لیکن۔۔۔۔میری بیٹی۔۔۔ فوت ہوٸی تھی۔۔۔
دوسری طرف جمیلہ کی بیٹی ہوٸی جو تم تھی۔۔
تمہارے بابا ۔۔۔۔ آنسو صاف کیے۔
بہت روٸے۔۔۔ اور جب ڈاکٹر نے یہ کہا۔ کہ میں ۔۔دوبادرہ ماں۔۔ نہیں بن سکتی۔۔۔ تو۔۔ تمہارے بابا کے دل۔۔میں۔۔ شیطان آگیا۔۔۔ انہوں نے۔۔ وہاں کی نرس کو پیسے دیٸے۔ اور تمہیں ۔۔ اپنی بیٹی سے بدل دیا۔۔۔ ۔
جمیلہ کو بتایا کہ اسکی بیٹی ۔۔ مری ہوٸی پیدا ہوٸی ہے۔۔۔
اس کے بعد تمہارے بابا ۔۔۔ ہمیں لے کے شہر بدل لیا۔
انہیں ڈر تھا۔ کہ کہیں۔۔ راز کھل نہ جاٸے۔۔
لیکن۔۔۔ جو ۔۔۔رب کومنظور ہوتا ہے۔۔ وہ ہو کے رہتا ہے۔۔۔
آخر مثس آواز دھیمی ہوگٸ۔
عناٸشہ کے خاموش آنسو بہے چلے جا رہے تھے۔
میں جانتی تھی۔۔ میری بیٹی۔۔۔ زندہ پیدا ہوٸی ہے۔۔۔ میں نے۔۔۔ رونے کی آواز سنی تھی۔۔۔
لیکن۔۔ کسی نے میرا یقین نہیں کیا۔۔۔ سب نے مجھے وہمی قرار دے دیا۔میرا علاج کروانا شروع کر دیا۔
کوٸی بھی میرا یقین نہیں کرتا تھا۔
یہاں تک کے۔۔۔ حسین بھی۔۔۔ میرے شوہر۔۔۔ انہیں بھی لگتا۔۔۔ میں پاگل ہوگٸ ہوں۔۔
جمیلہ بیگم نے روتے ہوٸے اپنے پے بیتی کہانی سناٸی۔
لیکن۔۔ پھر ایک دن مجھے۔۔وہ نرس ملی۔۔۔ جس نے یہ کام کیا۔۔!! نہیں بتا سکتی کتنے واسطے دے کے۔۔کتنی مشکل سےمیں نے۔۔۔ اس سے سچ نکلوایا۔۔۔
اور جب ۔۔مجھے یہ پتہ چلا کہ۔۔ میری اپنی بہن ہی۔۔ میری کوکھ کی دشمن ہے۔۔ تو میرا۔۔ نروس بریک ڈاٶن ہوگیا۔
کتنے عرصہ مجھے لگا واپس ٹھیک ہونے میں۔۔
انکے لہجے کا دکھ ان کے اندر کے درد کو بیان کر رہا تھا۔ عابدہ بیگم سر جھکاٸے مجرموں کی طرح بیٹھی تھیں۔
اور پھر۔۔۔ میں نے ڈھونڈا ۔۔بہت ڈھونڈا۔۔ اور مجھے۔۔ آخر پتہ چل ہی گیا۔۔۔ کہ۔۔ میری بیٹی۔۔۔ کہاں۔۔ ہے۔۔۔۔!!
انہوں نے عناٸشہ کو پیار سے دیکھا۔
جس نے سختی سے آنکھیں موند کے دو گرم سیال مادے آنسوٶں کی صورت میں گالوں پے گرا دیۓ۔
بیٹا۔۔۔ مجھے۔۔۔ معاف کردو۔۔۔!
عابدہ بیگم نے ہاتھ جوڑے۔
اور۔۔۔اپنے۔۔ بابا کو بھی معاف کردو۔۔ بیٹا۔۔۔!
اولاد کی محبت میں۔۔ وہ۔۔ گناہ کر بیٹھے۔۔۔۔۔
روتےہوٸے وہ زمین پے بیٹھتی چلیں گٸیں۔
عناٸشہ کا بس نہیں چل رہا تھا ۔ وہ کہیں غاٸب کر لےخود کو۔
وہ وہاں سے منہ پھیر کے اندر جانے لگی۔
کہ عبادہ بیگم نے ایک ہچکی لی۔
عابدہ۔۔۔۔۔۔۔۔!!
جمیلہ بیگم فوراً چلاتی ہوٸیں بہن کی طرف لپکیں۔
عناٸشہ نے بھی پلٹ کر دیکھا۔
عابدہ بیگم کا سانس رک رہا تھا۔
اور ایک ٹکٹکی باندھے وہ عناٸشہ کو حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
عناٸشہ کے دل کو جیسے ہاتھ پڑ۔ا وہ فوراً بھاگی ماں کے پاس آٸی۔
امی۔۔۔ امی۔۔۔! پلیز۔۔۔ نہیں۔۔ میں۔۔ صرف آپ کی بیٹی ہوں۔۔۔ امی۔۔۔۔!!
عناٸشہ چلاتےہوٸے بولی۔
عابد بیگم کے چہرے پے ایک سکون کی لہر دوڑ گٸ۔
انہوں نے ہاتھ بڑھا کے اسکے گال پے ہاتھ پھیرا۔
امید بھری نظروں سے بہن کو دیکھا۔
وہ بھی بے تحاشا رو رہی تھیں۔
ان کی زبان سے کچھ ادا نہ ہو پایا۔
امی۔۔۔ اٹھیں۔۔ ہاسپٹل۔۔۔۔۔!!
عناٸشہ چلاٸی۔
لیکن۔۔ ایک آخری ہچکی لیتے وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔
جمیلہ بیگم نے روتے ہوٸے انکی آنکھیں بند کیں۔
امی۔۔۔۔۔۔!عناٸشہ کی چینخ پورے گھر میں گونجی۔۔۔
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
بھانت بھانت کی آوازیں۔۔
ہاسپٹل میں لوگ ادھر سے ادھر بھاگتے۔۔
وہ بس سب کو گھوم۔گھوم کے دیکھے جا ری تھی۔
میر تاج صاحب کو آٸی سی یو میں لے گٸے تھے۔
کشش کے ہاتھ خون سے لت پت تھے۔ کبھی اپنے ہاتھوں کو یکھتی۔ کبھی خالی نظروں سے ادھر ادھر گھوم کے دیکھتی۔
دادا جی کےبنا ۔۔۔ کیاتھی وہ۔۔۔۔؟؟
کچھ بھی تو نہیں۔۔۔
وہ اکیلی تھی۔۔۔
اس بھیڑ میں اکیلی تھی۔۔۔
اس کا تو کوٸی بھی نہیں تھا اس فنیا میں سواۓ دادا جی کے۔۔۔۔!!
کوٸی ایسا نہیں۔۔۔ جسے اپنا کہہ سکے۔۔۔
اسکی آنکھیں دھندلاگٸیں۔
آنسو ٶں سے بھری آنکھوں سے ہر منظر دھندلاگیا۔
وہ کچھ بھی صحیح سے نہیں دیکھ پا رہی تھی۔
ہاں۔۔ وہ دور سے آتے یامین کو دیکھ گٸ۔۔
ہاں۔۔ وہ آرہا تھا۔۔۔
اسکی طرف بڑھ رہا تھا۔
ایک پل۔۔۔
وہ ایک لمحہ
اسے یوں لگا۔۔ کوٸی ہے اپنااسکا ۔۔۔۔
بے اختیار ہی قدم آگے کی طرف بڑھے۔ سامنے سے آتے یامین کے چہرے کی فکرمندی صاف واضح تھی۔
اسے دور سے ہی کشش نظر آگٸ تھی۔
اسے صحیح سلامت دیکھ اس نے شکر کا گہرا سانس خارج کیا۔ اور اسکی جانب بڑھا۔
کشش دیوانہ وار اسکی طرف بڑھی۔ اور اسکے سینے سے جا لگی۔
اس کے ساتھ لگے وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔
کسی اپنے کو بھیڑ میں دیکھ جو احساس ہوتا ہے اسکو آج کشش نے دل سے محسوس کیا تھا۔
کشش۔! کچھ نہیں ہوا۔ سب ٹھیک ہے۔۔۔!
یامین نے اسے سر پے ہاتھ پھیرتے پیار سے کہا۔
وہ۔۔۔دادا جی۔۔۔۔! وہ۔۔۔ خون۔۔۔۔۔۔ وہ اس کی شرٹ کومٹھی میں دبوچے گھٹی گھٹی آواز میں بولی۔
گارڈ بھی یامین کو دیکھ اس کے پاس فوراً بھگتاہوا آیا۔
دادا جی۔۔کہاں ہیں۔۔۔؟؟
فوراً سے پوچھا۔
جی وہ آٸی سی یو میں ہیں۔ ۔۔۔ اس طرف۔۔
اشارہ کرتے کہا
یامین کشش کووہیں ایک ساٸیڈ بینچ پے بٹھاتا خود آٸی سی یو کی جانب بڑھا۔
دروازے کے باہر سے اندر کی طرف نگاہ اٹھی۔
جہاں داداجی کو آکسیجن ماسک لگا تھا۔
ایک آنسو چپکے سے گال پے گرا۔
سر۔۔۔۔!!
گارڈ کچھ کہتا کہ ڈاکٹر باہر آتا دکھاٸی دیا۔
انکل۔۔۔۔ دادا جی۔۔۔؟؟
یامین نے امی بھرے لہجے میں پوچھا۔
یامین۔۔۔!!
میر صاحب کی کنڈیشن بہت کرٹیکل ہے۔۔۔ ان کے سر سےبہت سارا خون بہہ چکا ہے۔۔۔
ہم۔۔اپنی پوری۔۔۔ کوشش کر رہے ہیں۔۔ آپ۔۔ دعا کریں۔۔
ڈاکٹر عرفان کہتے یامین کو تھپکی دیتے واپس اندر کی جانب بڑھے۔
یامین لب بھینچے گارڈ کی جانب مڑا۔
کیسے ہوا یہ۔۔۔سب۔۔؟؟
گارڈ کا رنگ پھیکا پڑا۔
سر۔۔۔ ہماری۔۔ گاڑی میر صاحب کی گاڑی کے ساتھ ساتھ ہی تھی۔
لین ۔۔ اچانک ان کی گاڑی آگے نکل گٸ۔ ہماری گاڑی کا ٹاٸر پنکچر ہوگیا۔
اور جتنی دیر میں ہم۔۔ ان تک پہنچے۔ ان کے ساتھ۔۔۔ یہ حادثہ ہو ۔۔چکا تھا۔۔۔
سر جھکاٸے دکھ سے کہا۔
یامین کشش کی طرف بڑھا۔ جو ابھی تک روٸے جا رہی تھی۔
یامین۔۔۔۔! آپ کے دادا جی کو ہوش آگیا ہے۔ وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔ ڈاکٹر عرفان نے فوراً باہر آتےکہا۔
یامین انہی قدموں پے اندر کی جانب بڑھا۔
یامین۔۔۔۔! ان کےپاس وقت بہت کم ہے۔۔۔ !!
ڈاکٹر عرفان نے یامین کو روکتے نم لہجے میں کہا۔
یامین نے بے یقینی سے انہیں دیکھا اور فوراً اندر کی طرف بڑھا۔
آکسیجن ماسک میں بھی یامین محسوس کر سکتا تھا۔ وہ اسے ہی پکار رہے تھے۔
دادا جی۔۔۔!
یامین نے بے اختیار آگے بڑھ کے ان کا ہاتھ تھامتے انہیں پکارا۔
دادا جینے اپنا آکسیجن ماسک ہٹایا۔
کش۔۔۔۔شش۔۔۔۔
اور ادھ کھلی آنکھوں سے لمبا سانس لیتے ان کے لبوں سے ادا ہوا۔
وہ ۔۔ٹھیک ہے۔۔دادا جی۔۔۔! یامین نے ان کے ہاتھوں کو لبوں سے لگایا۔
آنسو تھے کہ گرتے چلے جا رہے تھے۔
انہوں نے اشارے سے یامین کو اپنے پاس بلایا۔ یامین ان کے قریب ہوا۔
انہوں نے جو اسے کہا۔ اس پے اسکی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گٸیں۔
دادا جی۔۔۔! آپ کوکچھ۔۔۔نہیں۔۔ ہوگا۔۔۔میں۔۔ کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔
یامین نے یقین دلاتے کہا۔
پتتت۔۔۔ر!!کششش۔۔۔۔ اکیلی۔۔ ۔۔وہ۔۔۔۔ ؟؟
انہیں بس کشش کی فکر کھاٸے جا رہی تھی۔
آپ فکر۔نہ کریں۔۔ کچھ نہیں ہوگا۔۔۔میں ہوں ناں۔۔۔ مجھ پے بھروسہ رکھیں۔
ڈاکٹر۔۔۔۔۔! یامین نے پکارا۔
تو دادا جی اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف کھینچا۔
ان کے کھینچنے میں کوٸی طاقت نہ تھی۔
آنکھوں کے آنسو گر کے تکیےمیں جذب ہوٸے۔
ان کی آنکھوں کی تحریر پڑھتے یامین نے سر جھکا لیا اسکی اپنی آنکھوں کے آنسو اب نہیں رک رہے تھے۔
کشششش۔ کککوو۔۔۔ بلاااٶ۔۔۔۔!
یامین کو حامی بھرتے دیکھ انہوں نے نخیف آواز میں کہا۔ ان کا سانس اکھڑا۔
تو یامین نے آکسیجن ماسک انہیں واپس لگایا۔
ڈاکٹر کے آنے سے پہلے دروازہ زور سے کھولتی بھاگتی کشش دادا جی کے پاس پہنچی۔
دادا جی۔۔۔!! آپ ۔۔۔ٹھیک ہیں۔۔ ناں۔۔۔!! آپ۔۔۔ آپپپ کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ آپ۔۔میرے ۔۔دادا جی۔۔ہیں۔۔۔ناں۔۔۔ میرے۔۔۔ ساتھ۔۔۔ رہیں گے۔۔۔!!
روتے ہوٸے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کیے۔
اپنے دادا ۔۔۔۔ سے پیار ۔۔کرتی ۔۔۔۔ ہو۔۔۔ناں۔۔؟؟
دادا جی نے آکسیجن ماسک ہٹاتے بہت مان سے پوچھا۔
بہت۔۔۔۔زیادہ۔۔۔۔ سب سے زیادہ۔۔۔۔۔ آپ۔۔میرا سب۔۔کچھ ہیں۔۔۔ پتہ ہے ناں۔۔ آپ کو۔۔۔!! دادا جی کے ہاتھ تھامتے کہا۔
پھر۔۔۔ دادا کی بات مانو گی ناں۔۔۔؟؟
اب کی بار پھر بہت مان سے پوچھا۔
میری زندگی ۔۔۔آپ پے قربان۔۔ دادا جی۔۔۔ آپ کے لیے اپنی جان بھی دے دوں۔۔ آپ۔۔ بس ٹھیک ہو جاٸیں۔
وہ روتے ہوٸے بچوں کی طرح بولے جا رہی تھی۔
دادا جی نے یامین کو آنکھوں سے اشارہ کیا۔۔تو وہ دل پے پتھر رکھتا باہر نکلا۔
باہر آتے وہ آنسو صاف کرتے ڈاکٹر عرفان سے بات کرنے لگا۔
جہنوں نے یہی کہا۔ کہ وہ جانبر ہو سکیں کوٸی معجزہہی ہو سکتا ہے۔ خون بہت بہہ چکا تھا۔ اور ابھی بھی اللہ کی ہی رضا تھی جو انکی سانسیں چل رہی تھیں۔
ڈاکٹر عرفان میر تاج اور یامین کو بہت اچھے سے جانتے تھے۔
اسی لیے یامین نے گارڈ کو دادا جی کو ڈاکٹر عرفان کے ہاسپٹل لانے کا کہا۔
یامین نے دادا جی کی کہی ساری بات ان کے گوش گزار دی۔
یامین۔۔۔ ! سوچتے ہوٸے بولے۔
انکی آخری خواہش پوری کر دو۔۔۔!
وہ چشمہ اتارے آنکھوں کے نم گوشے صاف کرتے دھیمے لہجے میں بولے۔
یامین کو لگا۔۔ جیسے اس کے سر کا سایہ اٹھنے جا رہا ہے۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
