Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 32)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 32)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
گاڑی رکتےہی وہ کشش کی جانب مڑا۔
کشش کچھ بھی ہو جاٸے گاڑی سے باہر نہیں نکلنا۔۔۔ !
آپ۔۔۔ باہر۔۔۔مت جاٸیں۔۔ کشش کوکچھ برا ہونے کا احساس ہوا۔
یامین نے کشش کی بات نظر انداز کرتے ڈراٸیو کو ہدایت دیتا باہرنکلا۔ جبکہ گن بھی اس نے ساتھ رکھی تھی۔اسکے نکتے ہی گاڑی لاک ہوگٸ۔ کشش نے ڈور اوپن کرنے چاہے لیکن بے سود۔
عادل۔یامین کو یکھتا ہوا سامنے آیا۔
ایک طرف یامین اپن ساتھیوں سمیت کھژا تھا۔ تو دوسری طرف عادل۔ دونوں ہی ایک دوسرے کے مدمقابل تھے۔
میر یامین سکندر۔۔۔!میری تمہارے ساتھ کوٸی دشمنی نہیں۔۔ لیکن۔۔ جسے تم۔۔ پروٹیکٹ کر رہے ہو۔۔ مجھے وہ چاہیے۔۔۔ ! اسے میرے حوالے کردو۔۔ ! میں تمہیں جانے دوں گا۔ عادل نے اونچی آواز میں اپنا مطالبہ بیان کیا۔
یامین نے ر جھٹک کے سر نفی میں ہلایا۔ اور دھیمی ہنسی ہنسا۔
عادل ! تم۔جسے مانگ رہے ہو۔۔ وہ یامین سکندر کی سانسیں ہے۔۔ اور اپنی سانسوں کو کون کسی اور کو سونپتا ہے۔۔۔؟؟ یامین کا لہجہ مضبوطی لیے ہوٸے تھا۔
عادل منہ دیکھتا ر ہ گیا۔
اس نے جو ۔۔ میرے ساتھ کیا ۔۔۔ اسکی تو اسے سا ملے گی۔۔۔۔ بھلے وہ تمہار ی سانسیں ہوں۔۔۔! عادل نے بھی أٹل لہجے میں کہا۔
اس نے دو پیار کرنے والوں کو ملوایا۔ یامین نے کشش کا دفاع کیا۔
اس نے میری جگ ہنساٸی کی۔ دوبدو جواب آیا۔
مانا کہ اس کا طریقہ غلط تھا۔ لیکن۔۔ اسکی نیت صاف تھی۔
یامین نے دھیمے لہجے میں کہا۔
میریامین۔۔۔ نیتیں کون دیکھتا ہے۔۔۔؟؟ تم۔۔نہی۔۔ جانتے جب سے یہ سب ہوا۔۔ بنا کسی قصور کے آج تک میرے اپنے میرے خلاف ہیں۔۔ کہ میں نے ۔۔۔ جان بوجھ کے۔۔۔ عادل دکھی تھا۔
میں نے سب کو یقین دلانا چاہا لیکن کسی نے نہیں کیا۔۔۔ تب میں نے قسم کھاٸ جو بھی قصور وار ہے۔۔ جس نے مجھے کڈنیپ کرکے یہ ساری سازش کی۔ اسے موت کے گھاٹ اتاروں گا۔۔ اپنے ہاتھوں سے۔۔ عادل نے کے لہجے کی سختی یامین نے محسوس کی۔
ٹھیک ہے۔۔ اگر تم۔۔سزا دینا چاہتے ہو تو۔۔ مجھے دے دو۔۔ کیونکہ۔۔ میرے ہوتے تم اس تک تو کیا۔ اس کے بال تک نہیں پہنچ سکتے۔۔ اسکے کیے اس عمل کی سزا۔۔ میں لینے کو تیار ہوں۔۔۔! یامین نے فوراً فیصلہ لیا۔
اگر کشش کا قصور نہ ہوتا تو وہ عادل کو اسکی اوقات یاد۔دلا دیتا ۔۔ لیکن وہ جانتا تھا۔ کشش نے غلط کیا تھا۔ اس کے ساتھ۔
عادل قہقہہ مار کے ہنسا۔۔۔
اف یہ محبت۔۔۔۔۔! بندہ کی جان ہی لے لیتا ہے۔۔۔۔!
سوچ لو۔۔ میر یامین۔۔۔ جان بھی جا سکتی ہے۔۔۔!
عادل نے وارن کیا۔
یامن نے آنکھیں موندتے اپنے اندر ٹٹولہ تو صرفکشش ہی ملی۔ اور مسکرا دیا۔
ٹھیک ہے۔۔۔ مجھے منظور ہے۔۔۔! یامین نے گن نیچے گرا دی۔
اورپلٹ کر ایک نظر گاڑی میں بیٹھی حیرت کی مورت بنے کشش کو دیکھا۔ کشش کا دل بہت بری طرح دھڑکا۔
اسفند۔۔! کشش گاڑی سے باہرنہیں آنی چاہیے۔
اپنے ایک گارڈکو پاس بلاتے سرگوشی کے سے انداز میں کہا۔
سر۔۔۔! پلیز۔۔ وہ آپ کو مار۔۔۔؟؟ اسفند بے بسی سے بولا۔
پرواہ نہیں یار۔۔۔ لوگ۔۔ محبت میں جان لیتےہیں۔۔ میر یامین کی عشقمیں جان چلی جاٸے تو کیا غم۔۔۔۔؟؟ یامین کا نہ لہجہ ڈگمگایا نہ ہی اس کے قدم۔
تم سے جو کہا ہے۔۔ وہی کرنا۔۔۔ سمجھے۔ یامین کے لہجے میں ابکی بار سختی تھی۔۔ وہ لب بھینچے رہ گیا۔
سبھی گارڈز پیچھے ہٹ گٸے یہ۔ میر یامین سکندر کا حکم تھا۔
اسے اتنا مارو۔۔ کہ ۔۔۔۔یہ مر۔۔جاٸے۔۔۔۔! عادل کی اونچی اور کرخت آواز کانوں میں پڑی۔ اور عادل کے آدمی آگے بڑھے۔ اور ایک نے یامین کو منہ پے مکا مارا۔ اور وہوہیں کھڑا زرا سا اپنی جگہ سے ہلا۔ خون کی ایک بوند اس کے ہونٹوں سے بہی۔ جسے اس نے انگوٹھے صاف کیا۔
دوسری طرف گاڑی میں بیٹھی کشش تڑپ ہی تو گٸ۔
کیا ۔۔کیا ہو۔۔ رہا ہے۔۔۔ باہر۔۔۔؟؟ پلیز کھولو۔۔۔ دروازہ۔۔۔! کشش بری طرح مچلی تھی او ڈراٸیور سے دروازہ کھولنے کی ضد کی تھی۔
معاف کیجے میم ۔۔!سرکا حکم نہیں ۔
ڈراٸیور نے صاف منع کر دیا۔ جبکہسامنے اسکی نظروں کے یامین ان سے مار کھاٸے جا رہا تھا۔
تمم۔۔۔۔ تم۔۔ پاگل ہو گٸے ہو۔۔۔؟؟ وہ انہیں مار رہے ہیں۔۔ درواہ کھولو۔۔۔۔! کشش اونچی آواز میں چلاٸی۔ ساتھ میں بار بار درواشہ کھولنے کی ناکام کوشش بھی کر رہی تھی۔ جو لاکڈ تھا۔ آنسو بہے کے گالوں پے گرتے چلے جارہے تھے۔
دروازہ کھولو۔۔۔۔ اللہ کا واسطہ ہے۔۔۔کھول دو۔۔۔ ۔ وہ۔۔۔ دیکھو۔۔ ان کی حالت۔۔۔ پلیز کھول۔۔۔۔ دو۔۔۔۔!کشش منت پر اتر آٸ۔ لیکن ڈراٸیور بھی ضبط کیے بیٹھا رہا۔ اپنے مالک کا حکم ٹالنا ان کے لیے ممکن ہی نہ تھا۔
ایک اور وار ہوا۔ اور یامین زمین پے گرا۔ وہیں کشش کا سانس رکا۔ آنکھیں پوری کی پوری کھلتی چلیں گٸیں۔ یامین کی آنکھیں بند ہوتی دیکھ اسا جسم لرزا ۔
نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔ انہیں کچھ نہیں ہو سکتا۔
ادھر ادھر دیکھا۔ اور ڈراٸیور کے ساتھ والی فرنٹ سیٹ کی جانب بڑھی۔ اور سامنے سب چیک کرنے لگی۔ ڈراٸیور اسے یوں کرتا دیکھ حیرت زدو ہوا۔
میم۔۔۔ کیا کر رہی ہیں۔۔۔؟؟ اس نے روکنا چاہا لیکن کشش کو اپنی مطلوبہ چیز مل ہی گٸ۔ وہ گن تھی۔ ۔۔ جسے یأمین کو ایک بار کشش نے رکھتے دیکھا تھا۔
میم۔۔۔ ڈونٹ ڈو دس۔۔۔۔! آپ مجھے۔۔۔جان سے بھی مار ڈالیں تو بھی۔۔۔۔؟؟ ڈراٸیور نے فوراً سے کہا۔
تمہیں نہیں۔۔۔ خود کو۔۔۔۔! کشش نے کنپٹی پے پسٹل رکھی۔ اگر میرے تین گننے تک تم۔نے دروازہ نہ کھولا۔۔ تو۔۔ میری موت کے زمہ دار تم ہو گے۔۔
کشش کا لہجہ اتنا مضبوط تھا کہ ایک لمحے کو ڈراٸیور سوچ یں پڑ گیا۔
ایک۔۔۔۔۔ !
میم۔۔۔ ایسا نہیں کر سکتیں آپ۔۔۔۔!! گن مجھے دیں۔۔۔! ڈراٸیور نے گن لینی چاہی۔
نو۔۔۔۔۔! دو۔۔۔۔۔۔! کشش پیچھے ہٹی۔
تین۔۔۔۔! کشش نے گن کے ٹرگر پے انگلی سے دباٶ ڈالا۔ جبکہ نظروں میں صرف اور صرف یامین تھا۔
رکیں۔۔۔ میم۔۔۔! ڈراٸیور ہارمان گیا۔ اور دروازہ کھول دیا۔
کشش ایک منٹ کی بھی دیری کیے بنا گاڑی سے نیچے اتری اور یامین کی طرف بھاگی۔
اس کا سر اٹھا کے گود میں رکھا۔ رونے کی وجہ سے اسکی ہچکیاں بندھ گٸ تھیں۔
یامین۔۔۔۔! آپ۔۔۔ ٹھیک۔۔۔۔۔؟؟ وہ بول بھی نہیں پا رہی تھی۔ یامین جس کا دماغ ماٶف ہوتا جا رہا تھا۔ کشش کیآواز سماعت سے ٹکراٸی تو دماغ فوراً سے جاگا۔ اور دھیرے سے آنکھیں وا کیں۔
کشش۔۔۔۔ جاٶ۔۔۔! وہ درد ضبط کرتا بمشکل بولا۔ کشش نے روتے ہوٸے نفی میں سر ہلایا۔
کیوں کیوں۔۔۔؟؟ایسا۔۔کیوں۔۔؟؟
میم۔۔۔ چلیں یہاں سے۔۔۔! اسفند آگے بڑھا۔
خبردار ۔۔۔ جو۔۔۔ مجھے چھوا بھی تو۔۔۔۔! کشش نے روتی آنکھوں سے اسے ڈپٹ کے رکھ دیا۔
یامین نے اسفند کو اشارہ کیا کہ وہ کشش کو لے کے جاٸے۔
آپ نے۔۔۔۔ کیوں۔۔۔؟؟ کھاٸی مار۔۔۔؟؟ کشش نے یامین کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے بہت پیار اور پرواہ سے پوچھا۔
واہ۔۔۔ واہ۔۔۔ کیا بات ہے۔۔ محبت کی۔۔۔؟؟ ایک محبت میں مرنے کو تیار ہے۔۔۔ او دوسرا۔۔ اسکی تکلیف سے اپنے آپ ہی مر جاٸے گا۔۔۔۔! عادل نے مزاق اڑاتے ہوٸے تالیاں بجاٸیں۔
میم۔۔۔ پلیز ۔۔چلیں۔۔۔ ! اسفند نے بے بسی سے کہا۔
رکو۔۔۔۔! کوٸ بھی ہاتھ نہیں اٹھاٸے گا۔۔۔ ! عادل۔نے اپنے آدمیوں کو روکا۔
چلو۔۔۔۔ ایک ڈیل کرتےہیں۔۔۔ڈیل۔۔۔؟سمجھتے ہو۔۔۔۔؟؟ ڈیل۔۔۔؟؟ عادل نے یامین کو دیکھتے شاطرانہاداز میں کہا۔ جبکہ شش نے ایک سخت نظر اس پے ڈالی۔ اسکی نظر میں ایک تنبیہہ تی۔ جسے عادل نے نظر انداز کر دیا اور یہی وہ غلطی کر گیا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ سامنے کوٸ عام۔لڑکی نہیں کشش ہے۔۔۔ کشش یامین سکندر۔۔۔















صبح اسکی آنکھ کھلی تو اسے اپنا سر بھاری بھاری سا لگا۔ ہاتھ سر پے لے جانا چاہا۔ لیکن نہ لے جا پاٸی۔ ایک بار دو بار تین بار۔۔ لیکن اسکا ہاتھ سر تک نہیں جا پارہا تھا۔ دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ تو خود کو اندھیرے کمرے میں پایا۔ ہاتھوں کو بندھا ہوا پایا۔ علیزہ کے تو چودہ طبق روشن ہوگٸے۔
how could you do …. yamin….
دھیرے دھیرے وہ زیرِلب بڑبڑاٸ۔
اتنے میں کمرہ میں روشنی ہوٸ۔ سامنے ان تینوں کو دیکھ اسکے ماتھے پے بل آٸے۔ اور وہ تینوں کھڑے اسے اچھا خاصا گھور رہے تھے۔
تم۔۔۔تم لوگو۔۔۔نے مجھے۔۔ یہاں ۔۔باندھ رکھا ہے۔۔؟؟ کھولو۔۔مجھے۔۔۔! علیزہ چلاٸ۔
سمیر نے کان صاف کیا۔
آہیستہ بھابھی۔۔ صاحبہ۔۔۔! گلا بیٹھ جاٸے گا۔۔۔ مذاق اڑایا۔
سمیر۔۔۔ یہ۔۔ ہماری بھابھی نہیں ہے۔۔کرن نے سمیر کو ڈپٹا۔
ہممممم۔۔۔ واقعی یہ تو ۔۔کسی کی بھی کچھ نہیں و سکتی۔۔۔ بگوڑی۔۔۔۔! سمیر نے منہ بناتےکہا۔
بکواس بند کرو۔۔۔! علیزہ کو بگوڑی لفظ پے پھر سے غصہ آیا۔
ایک بات بتاٶ۔۔۔ علیزہ۔۔ چڑیل۔۔۔ جب تم۔۔ دفع ہوہی گٸ تھی۔۔ تو واپس کیوں آٸ۔۔۔؟؟ سمیر نے سوچتےہوٸے علیزہ کی بات نظر انداز کرتے پوچھا۔
اوہ۔۔۔ تمہیں نہیں پتہ لالچ۔۔۔ پیسے کا۔لالچ اسے واپس لے کے آیا۔۔۔داور نے بھی لقمہ دیا۔
بھوکی لالچی۔۔۔۔ چڑیل۔۔۔! سمیر نے چڑاتے ہوٸے کہا۔
سمیر۔۔! بری بات ۔۔۔ چڑیل نہیں کہتے۔ کرن نے مصنوعی انداز سے ٹوکا۔
میں۔۔ تم۔۔۔ لوگوں۔۔کا خون پی جاٶں گی۔۔ علیزہ جھٹپٹاٸ۔
دیکھا۔۔۔! سمیر نے علیزہ کی طرف اشارہ کر کے بتایا۔۔ خون پینے کی بات کر رہی ہے۔۔۔ اور خون کون پیتی ہے۔۔؟؟ چڑیل۔۔۔ تو۔۔ یہ چڑیل ہی تو ہے۔۔۔! سمیر نے انفارمیشن میں اضافہ کیا۔
ویسے اب اسکا کریں کیا۔۔۔؟؟ داورسچ میں پڑ گیا۔
پنکے سے الٹا لٹکا دیتے ہیں۔۔ خود کشیکا کیس ڈال دیں گے۔ سمیر نے مشورہ دیا۔
نہیں۔۔۔ اسطرح ہمپھس جاٸیں گے۔۔ اسے ناں۔ کسی ۔۔گہرے دریا میں پھینک آتےہیں۔۔ وہیں مر جاٸے۔۔ کرن نے نفرت سے کہا۔
لیکن وہاں کو ٸ جانور کھا گیا اسے تو۔۔۔؟ اور یہ بچ بچا گٸ تو۔۔۔؟؟ سمیر کو یہ آٸیڈیا بھی پسند نہ آیا۔
ایک کام کرتے ہیں۔۔ اس پے چوہے چھوڑ دیتے ہیں۔۔ اسے نوچ نوچ کے کھاٸیں گے۔۔ تو اسکے ساتھ ساتھ اسکا لالچ بھی مر جاٸے گا۔۔۔ داور نے آٸیڈیا دیا۔
ان سب کے آٸیڈیاز سن کے علیزہ ایسے ہی مرنے والی ہوگٸ۔
کیا۔۔۔ کیا ۔۔کہے جا رہے ہو۔۔۔؟ اس نے جھر جھرلی۔
بچنا چاہتی ہو۔۔۔؟؟ سمیر اور کرن کو مزید آٸیڈیاز شیر کرتا دکھ داور نے عمیزہ کے قریب آتے راز داری سے پوچھا۔
اس نے آنکھیں پھیلاٸیں۔
ایک ہی صورت ہے بچنے کی۔۔ دادا جی کا پتہ بتا دو۔۔ اور خود کوقانون کے حوالے کر دو۔
داور کی بات پے۔۔ علیزہ مسکراٸی۔
مجھے بے وقوف سمجھا ہوا۔۔۔؟؟ جب ک وہ بڈھا میرے قبضےمیں ہے۔۔ تم۔لوگ میراکچھ نہیں۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔ داور نے ایک زور کاطمانچہ اسے جڑ دیا۔ ایک لمحے کو سب ہی چپ ہوگٸے۔
خبر دارجو ۔۔میرے دادا جیکے بارے میں ایک لفظ بھی غلط بولا۔۔۔ہوتو۔۔۔ یہیں۔۔ جان لے لوں گا۔۔ تمہاری۔۔۔ داور بے انتہا غصے میں آگیا۔
کرن نے اسے بازو سے پکڑا۔ اور کچھ بھی مزید کرنے سےروکا۔
ڈونٹ وری برو۔۔۔ ! پولیس بس آتی ہو گی۔۔ باقی کا کام وہ خود کرلیں گے۔ سمیر نے بھی اپنا غصہ ضبط کرتے کہا۔
پولیس۔۔۔۔ ؟ علیزہ گھبراٸ۔
چھوڑو۔۔مجھے۔۔۔۔! وہ ایکبار پھر سے تڑپی۔
حازق بھاٸی کو فون کرو۔۔ کدھر رہ گۓ ہیں۔۔؟؟
کرن نے سمیر سے کہا۔ تو وہ فون کرنے لگا۔
اتنےمیں باہر شورہوا۔ و وہ تینوں چونکے ۔
لگتا ہے۔۔ اسکی باقی کی چلیاں آگٸیں۔۔۔ ! سمیر نے خوش ہوتے کہا۔
ٹھیک ہے۔۔ کرن ۔۔ تم۔یہیں رکو۔۔ ہم باقیوں کو بھی یہیں لے کے آتے ہیں۔۔داور کرن سے کہتا سمیر کے ساتھ باہر نکلا۔
مجھے۔۔۔ کھولو۔۔۔ لڑکی۔۔ ورنہ۔۔۔ تم سب پچھتاٶ گے۔۔۔! علیزہ نے کرن کو دھمکایا۔ لیکن اس نے بھی ناک پے سے مکھی اڑاٸ۔
کون۔۔ہو۔۔؟ اور کیسے اندر گھستی چلی آرہی ہو۔۔۔؟؟ سویرا بیگم۔کو یوں کسی عورت کو اندر آتا دیکھ سخت غصہ آیا۔
مالکن ہوں۔۔ اس گھر کی۔۔۔۔! حیات سکندر کی بیوی ہوں۔۔ اور یہ۔۔ حیات سکندر کی بیٹی۔۔۔! فریدہ نے۔اپنا تعارف کروایا۔ ساتھ ہی اپنی بیٹی مدیحہ کا۔
بکواس۔۔ بند کرو۔۔۔ ! جھوٹ بول رہی ہے یہ۔۔۔۔!
اچانک حیات صاحب کی آمد نے وہاں موجود سبھی لوگوں کو چونکا دیا۔
بڑے بابا۔۔۔۔؟؟ سمیرچلایا۔
بابا۔۔۔ ؟؟ داور بھی بھاگتا ہوا آیا۔
بابا۔۔۔ یہ سب کیسے۔۔۔؟ حیات صاحب کو زخمی حالت میں دیکھ داور تڑپ ہی تو گیا۔
میں ٹھیک ہوں۔۔ بیٹا۔۔! اس عورت کو پکڑو۔۔ یہ چالباز عورت ہے۔۔۔ ! انہوں نے فریدہ کی طرف اشارہ کرتے کہا
جبکہ فریدہ اور مدیحہ حیات صاحب کو دیکھ دنگ رہ گٸ تیں انہیں یقین نہ آرہا تھا۔ کہ ان کا پلان یوں فیل ہوجاٸے گا۔
بس۔۔ بہت ہو گیا۔۔۔ اب تو جھوٹ بولنا بند کر دو۔۔ اور بتا دو سب کو۔۔ کہ ممیں ہی تمہاری بیوی ہوں۔۔ ! فریدہ نے ایک اور چال چلی۔ اور اپنی بات پے قاٸم رہی۔ سویرا بیگم کی آنکھیں آنسوٶں سے بھر گٸیں۔
حیات صاحب نے ایک نظر سویرا کو دیکھا۔ اور پلٹ کے فریدہ کو۔۔۔
ہاں۔۔ کی تھی تم سے شادی۔۔۔ بھول تھی وہ میری۔۔زندگی کی سب سے بڑی۔۔ ایک بے عزت ک عزت دینی چاہی تھی میں نے۔۔ لیکن۔۔ عزت کہاں راس آتی ہے۔۔۔؟ ایک طواٸف کو۔۔۔؟؟ حیات صاحب کے سخت الفاظ وہاں موجود سبھی کو گنگ کر گٸے۔ اور اپنی اس بے عزتی پے فریدہ آپے سے باہر ہوگٸ۔
اپنی زبان کو لگام دو۔۔ حیات۔۔ ورنہ۔۔۔!
ورنہ کیا۔۔۔؟؟کیا کر لو گی۔۔۔تم۔۔۔۔۔؟ بولو۔۔۔؟؟ حیات صاحب غصہ سے آگے بڑھے۔
تم۔۔۔ میری بیوی تھی۔۔ طلاق ہو چکی ہے۔۔ہماری۔۔اور۔۔ حق مہر کی رقم سے کہیں زیادہمیں دے چکا ہوں۔۔ باقی رہ گٸ اس لڑکی کی بات۔۔۔ تو اسکا باپ کون ہے۔۔ یہ تم بھی جانتیہو اور میں بھی۔۔۔ ! حیات صاحب کو آج تک اتنا غصے میں کینے نہیں دیکھا تھا۔انکی بات پے فریدہ پیچ و تاب کھا کے رہ گٸ۔ مدد کےلیے نظریں ادھر ادھر دوڑاٸیں کہ شاید۔۔علیزہ نظر آجاٸے۔
مما۔۔۔! اس سے پہلے کہ یہاں ہم۔۔۔ دھر لیے جاٸیں۔ نکلیں یہاں سے۔۔۔ مدیحہنے سرگوشی کی۔
دونوں ماں بیٹی باہر کیجانب بھاگیں لیکن سامنے سے آتے حازق سے ٹکراٸیں۔ حازق کے ساتھ پولیس بھی تھی۔
ارے اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔ مما۔۔۔۔ جان۔۔۔ آپ کو لے جانے کے لیے شاہی سواری آگٸ ہے۔۔۔ ! لے جاٸیں انہیں۔۔۔ فریدہ کو پولیس کے حوالے کرتے اچھا خاصا طنز بھی کیا۔
بیٹا۔۔۔ اسے ینہی مت جانے دینا۔۔۔ اس نے علیزہ کے ساتھ مل کے۔۔ تمہارے داداجی کو کڈنیپ کیا ہے۔۔۔ پوچھو۔۔۔ اس سے کہاں ہیں۔۔ وہ۔۔۔؟؟
حیات صاحب نے روکا۔ تو حازق نے حیرانی سے فریدہ کو دیکھا۔
کتنا گر گٸیں ہیں۔۔ آپ۔۔۔! چھی۔۔۔۔ ! حازق کو جان کے دکھ ہوا۔
ڈونٹ وری بابا۔۔۔! دادا جی مل۔جاٸیں گے۔۔ یامین بھاٸ گٸے ہیں۔ انہیں لینے۔۔۔۔! داور نے انکی تسلی کرواٸ۔
کب۔۔کب۔۔گٸے۔وہ۔۔۔؟؟ حیات صاحب کادل دھڑکا۔
رات کو ہی پتہ چلی تھی انکیلوکیشن تو رات کو ہی نکل گٸے۔۔۔ تھے۔۔ سمیر نےبھی تسلی کروانا چاہی۔
اب تک تو واپس آجانا چاہیے تھا۔ کہیں۔۔ وہ خود۔۔ کی مشکل۔میں تو نہیں۔۔۔؟؟
حازق کو یامین کی ٹینشن ہوٸ۔
حازق نے یامین کو کال ملاٸ ۔
نمبر بند ہے۔۔۔! حازق پریشانی سے بولا۔۔
پولیس فریدہ اور مدیحہکوپکڑ لے کے جا چکی تھی۔ لیکن انسپکٹر علی شیر وہیں تھا۔
ڈونٹ وری۔۔ ہم انہیں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔انسپکٹر نے تسلی کرواٸ۔
حازق نے اسفند کو بھیکال۔ملاٸ لیکن بے سود۔ اسے یامین کو لےکے بہت پرشانی ہو رہی تھی۔













اب تھوڑا سا پیچھے جاٸیں رات کے اس پہر جہاں کشش یامین اور عادل کے بیچ دیواربن کےکھڑی تھی۔
ڈیل۔۔۔۔؟کیا ڈیل کرو گے تم ہاں۔۔۔؟؟ اب کی بار روتے غصے سے پوچھا۔ عادل ایک لمحے کو اس کی آنکھوں کے ڈوروں میں کھو ہی گیا۔
تم جیسےلوگ ڈیل ہی کرنا جانتے ہیں۔۔ محبت کرنا نہیں۔۔ کشش نے دانت پیستے کہا۔
عادل خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔
یو نو ڈیٹ۔۔۔۔! مجھے بھی کہیں نہ کہیں لگا۔۔ کہ میں نے تمہارے ساتھ اچھا نہیں کیا۔۔۔ جو بھی تھا۔۔تمہارا دل نہیں توڑنا چاہیے تھا۔ اسلیے سوچا تھا۔ تم سے مل کے تم سے معافی مانگو گی۔۔ لیکن ۔۔۔۔ میں غلط تھی۔ ۔۔ تم تو بات کرنے کے لاٸق بھی نہیں۔۔اور جو بھی ہوا۔۔تمہارے ساتھ بہت۔۔۔ اچھا ہوا۔۔
You deserve it.
کشش بنا کی لحاظ کے اسے اچھا خاصا لتاڑ کے رکھ چکی تھی۔ جبکہ اسکی آنکھوں کے لال ڈوروں میں عادل۔کو اپنا آپ ڈوبتا محسوس ہوا۔ یامین جو اپنے پاٶں پے کھڑا ہو چکا تھا۔ عادل کی آنکھوں کا مفہوم اس سے چھپا نہ رہ سکا۔ دھیرے دھیرے چلتا کشش کےبپاس آیا۔
عادل جو بے اختیار وتا ہاتھ بڑھا کے کشش کے گال پے بہتے آنسو کو چھونا چاہا۔ اس ہاتھ پے یامین کی مضبوط گرفت پے وہ سٹپٹایا۔ کشش نے بھی روٸ آنکھوں سے اپنے یامین کو دیکھا۔
جسکی غصیلی آنکھیں عادل پے ٹکیں تھیں
خبردار۔۔۔! یہ غلطی بھول کےبھی نہ کرنا۔ یامین شیر کی طرح غرایا۔
عادل نے لب بھینچے۔ اور اپنا ہاتھ جھٹکے سے چھڑایا۔
ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھتا وہ دل پے بوجھ سا محسوس کر رہا تھا۔
کشش نے یامین کا ہاتھ تھاما۔ ایک مان تھا۔ اس کے انداز میں عادل ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔اور یامین عادل کو بنا پلک جھپکے دیکھ رہ تھا۔ جبکہ کشش کی نظریں صرف اور صرف اپنے عشق کا طواف کر رہی تھیں۔
جاری ہے۔
