Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Ishq Mera (Episode 20)

Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan

یامین جیسے ہی میر ولا میں داخل ہوا۔

سب کوسامنے براجمان دیکھ حیران ہوا۔

وہ سب ابھی تک جاگ رہے تھے۔ اسے لگا تھا۔ کہ وہ سو گٸے ہوں گے۔

لیکن۔۔۔۔۔۔

یامین نے کشش کو نیچے اتارا۔ ہ بھی سب کو سامنے دیکھ تھوڑی کنفیوز ہو گٸ تھی۔

لڑکھڑا کے گرنے والی تھی۔کہ یامین نے ایک ہاتھ اسکی کمر کے گرد باندھ کے اسے اپنے حصار میں لیا۔

اسکی ٹانگوں میں جان کہاں تھی۔ کہ اپنے پیروں پے کھڑی ہو سکتی۔

کشش نے سامنے دیکھا۔جہاں

سب کی نظروں میں سوال تھے ان گنت۔

اور کچھ کی نظروں اور چہرے پے غصہ ۔۔۔!

کشش کی نظروں نے اپنے دادا جی کا طواف کیا۔

انکے چہرے ے بھی سنجیدگی تھی۔

اور وہ بھی کچھ ناراض سے لگے۔

کشش نے گردن موڑ کے یامین کو دیکھا۔ جو بہت مطمیٸن کھڑا تھا۔

اس سے پہلے کے کوٸی کچھ کہتا دادا جی کی آواز نے سبیکو خاموش کرادیا۔

یامین۔۔۔! یہ سب کیا ہے۔۔۔؟؟

دادا جی نے کرخت لہجے میں دریافت کیا۔

انہیں کشش کی حالت دیکھ کے بہت عجیب لگا تھا۔

دیکھو تو۔۔۔ کیسے چپک کے کھڑی ہے۔۔۔۔

عمارہ بیگم کو بھی کشش کے یامین کے سینے سے لگ کے کھڑے ہونے پے غصہ سا آگیا۔

کوٸی شرم ہوتی ہے۔۔۔ کوٸی حیا ہوتی ہے۔۔۔!

سویرا بیگم کی زبان بھی چلی۔

دادا جی نے ان دونوں پے ایک قہر کی نظر ڈالی۔

حق ہے اس کا۔۔۔۔!

یامین کے ؟مضبوط لہجے نے سب کو چونکا دیا۔

اور اپنا حصار مزید کشش کے گرد مضبوط کیا۔

کہ وہ تو یامین کو دیکھے گٸ۔

کیا مطلب۔۔۔۔؟؟ کیسا حق۔۔۔؟؟

سویرا بیگم کو کچھ گڑ بڑ لگی۔

نکاح میں ہے میرے۔۔۔۔۔!

مضبوط لہجہ۔

اور سرد آواز۔۔

سب کو سکتا طاری کر گٸ۔۔۔

ایک پل کو تو سب کی زبان تالو سے جا چپکی۔

کیا۔۔۔ کہہ رہے ہو۔۔۔؟؟ تم۔۔۔ کشش سے نکاح کر آۓ ہو۔۔۔؟؟

حیات صاحب کو بھی اب ہوش آہی گیا۔

دیکھا۔۔۔ چھپ کے نکاح کر آٸے۔۔۔!

سویرا بیگم نے دانت پیستےکہا۔

چھپ کے نہیں کیا۔۔۔ میں نے خود کر وایا ہے۔۔۔

دادا جی نے ان سب کی بولتی بند کر دی۔

اب تو جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا۔

آپ۔۔۔ نے۔۔۔ میرے۔۔۔ بیٹے کا۔۔نکاح۔۔۔ میرے۔۔۔ بغیر۔۔۔ہی۔۔۔؟؟ حیات صاحب دکھ سے بولے۔

نکاح کےلیے۔۔ لڑکا۔۔۔ لڑکی۔۔ قاضی اور لڑکی کے وکیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور نکاح ہو جاتا ہے۔

کشش کا سرپرست اور اس کے نکاح کا وکیل میں۔۔ ہوں۔۔۔تو ۔۔اس نکاح کو کون روک سکتا تھا۔۔۔؟؟

دادا جی نے سخت لہجے میں کہا۔

سبھی ایک دوسرے کو تکتے رہ گٸے۔

آپ۔۔۔ نے تو سب۔۔پے ایٹم بم ہی گرا دیا ہے۔۔

دھیرے سے یامین کو کہتی وہ سامنے سب کے چہروں کو دیکھتی یامین کو بہت پیاری لگی تھی۔

تم بھی تو۔۔۔ ہر وقت پٹاخے پھوڑتی رہتی ہو۔۔۔ ! یامین نے زیرِ لب سرگوشی کی۔۔ کہ بس وہی سن سکی۔

گردن موڑ کے اس نے اپنے مجازی خدا کو دیکھا۔

جو سب سے الگ اور سب سے جدا تھا۔

لیکن۔۔۔ اس کا تھا۔۔۔

اسی کا تھا۔۔

اسی کا تھا۔۔ وہ عشق۔۔۔

جو بن رہا تھا۔۔۔

اب ضدی عشق۔

کشش کی آنکھوں کی چمک یامین کی نظروں س چھپی نہ رہ سکی۔

یہ سب۔۔۔کب ہوا۔۔۔؟؟ سویرا بیگم کو اپنی آواز پاتال میں سے آتی محسوس ہوٸی۔

کشش کو بہو کے روپ میں وہ کیسے ایکسپٹ کرتیں۔۔۔؟؟

یامین۔۔۔! اتنی دیر کیوں کی آنے میں۔۔؟ جانتے ہیں سب کتنے پریشان تھے۔۔۔

اور۔۔۔ کشش کیحالت۔۔۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔تھا۔۔۔؟؟

دادا جی نےسویرا بیگم کی بات کو نظر انداز کرتے یامین سے سنجیدگی سے پوچھا۔

دادا جی۔۔۔۔کیا ہم ۔۔بیٹھ کے بات کرسکتے ہیں۔۔۔؟

یامین کو کشش کی حالت ٹھیک نہ لگی۔ وہ یامین کے سہارے ہی کھڑی تھی۔

کشش۔۔۔! ڈاکٹر پے چلیں۔۔۔؟

یامین نے سب باتوں کو نظر انداز کرتے کشش سے فکر مندی سے پوچھا۔

تو اس نے نفی میں گردن ہلاٸی۔

کیا مطلب۔۔۔؟؟ ابھی تو ڈاکٹر کی طرف سے ہی آرہے ہو۔۔۔؟؟ پھر سے ڈاکٹر۔۔۔۔؟؟

دادا جی کو چھ صحیح نہ لگا۔

یامین نے قریب صوفے پے کشش کو بٹھایا۔

اور سب کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے تیار ہوا۔

وہ شید کبھی بھی صفاٸی نہ دیتا۔ اگر سامنے دادا جی نہ ہوتے۔

دادا جی۔۔۔ تحمل سے سنیے گا۔۔۔

کشش کڈنیپ ہو گٸ تھی۔

یامین کی بات پے سبھی نے دہل کے کشش کو دیکھا۔

جو اب اپنی ٹانگیں سیدھی کرتی آرام سے صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کے آنکھیں موند گٸ تھی۔

جیسے اس کے بارے میں تو بات ہی نہیں ہو رہی۔۔

یامین نے سب کو مختصراً ساری بات بتا دی۔

کشش۔۔۔! میرا بچہ۔۔۔! کڈنیپرز۔۔ نے۔۔ کچھ کہا تو۔۔ نہیں۔؟؟

دادا جی تڑپ کے کشش کے پاس بیٹھے۔

کشش نے شکوہ کناں نظروں سے اپنے دادا جی کو دیکھا۔

کتنا مان تھا اسے اپنے دادا جی پے۔۔

کہ کوٸی اور سمجھے نہ سمجھے لیکن اس کے دادا جی اسے ضرور سمجھیں گے۔۔

میں ٹھیک ہوں۔۔ دادا جی۔۔۔! آواز میں نا چاہتے ہوٸے بھی نمی گھل گٸ۔

میرا بچہ۔۔۔! دادا جی نے اسے سینے سے لگایا۔

اسکی نم آواز پے ہی وہ تڑپ کے رہ گٸے۔

ان کے سینے سے لگتے وہ بھی رو دی۔ اپنے دادا کی آغوش میں ہی تو اسے سکون ملتا تھا۔

پنے پیروں اور ٹانگوں پے کسی کے ہاتھ کا دباٶ محسوس ہوا۔ تو کشش نے نظریں پھیر کے دیکھا۔

٠کرن اسکے پیروں اور ٹنگوں کو دبا رہی تھی۔ اور آنسو اسکی آنکھوں میں بھی تھے۔

کیا۔۔۔کیا۔۔ کر رہی۔۔۔ ہو۔۔۔؟؟ ہاتھ ہٹاٶ۔۔!

کشش کو شرمندگی ہوٸی۔

چپ رہو۔۔۔! دیکھو تو۔۔۔ کیا حالت بنا لی۔۔۔ ہے۔۔۔! ایسی تو نہ تھی ہماری کشش۔۔۔!

کرن نے بہت محبت سے کہا۔

بیٹا۔۔۔! کشش کو روم میں لے جاٶ۔۔۔

عالیہ بیگم نے کہا تو وہ کرن کے سہارے اٹھی۔کہ پھر سے لڑکھڑا گٸ۔

پاس کھڑے یامین نے ہاتھ بڑھا کر اسے گرنے سے پہلے ہی تھام لیا۔

کچھ۔۔زیادہ ہی محبتیں جاگ رہی ہیں۔۔۔!

سمیر نے کھسیانا ہو کے داور کے کان میں کہا۔ تو اس نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔

دادا جی۔۔۔میں۔۔ لے جاتا ہوں۔۔ ویسے بھی آج۔۔رخصتی تھی۔۔۔۔

یامین کی بات پے جہاں سب چونکے وہیں۔ دادا جی نے ایک گھوری سے یامین کو نوازا۔

رخصتی تھی۔۔۔ لیکن ۔۔۔کینسل ہو گٸ۔۔۔!

لہذا۔۔ آپ ۔۔۔اپنے روم میں جاٸیں۔۔ اور کشش اپنے۔۔۔

دادا جی بہت پیار بھراطنز کیا۔

تو جہاں یامین کا منہ اترا۔

وہیں۔۔کشش کے چہرے پے مسکراہٹ آگٸ۔

جیو ۔۔۔دادا جی۔۔۔!

وہ دل ہی دل میں دادا جی سے مخاطب ہوتی کرن کے ساتھ روم کی جانب بڑھی۔ لیکن یامین کو منہ چڑانا نہ بھولی۔ یامین اسکی اس حرکت پے زیرِلب مسکراتا رخ پھیر گیا۔

میرا خیال ہے۔۔ اب تماشا ختم ہو گیا ہے۔۔۔ ! تو۔۔ سب جا سکتے ہیں۔

ایک سخت نظر سویرا اور انکی بہن پے ڈالتے وہ مخاطب ہو ٸے۔

رات کافی ہو گٸ ہے۔۔۔ ہمیں چلنا چاہیے۔۔

عمارہ گڑ بڑ گٸیں۔

اور اپنے شوہر کے ہمراہ وہاں سے نکلیں۔ جبکہ ان کی اولاد فنکشن کے ختم۔ہونےپے ہی گھر جا چکی تھی وہ دونوں میاں بیوی بس سن گن لینے یہاں پہنچے تھے۔

ہال خالی ہو گیا تھا۔

سبھی ایک ایک کر کے جا چکے تھے۔

سواٸے حیات صاحب دادا جی اور یامین کے۔

حیات صاحب ابھی بھی اپنے باپ اور بیٹے کو ے یقینی سے دیکھ رہے تھے۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

روم میں آتے ہی عناٸشہ نے جوتے اتارے اور بستر پے ایک چت سیدھی ہو کے لیٹ گٸ۔

ٹانگیں اسکی شل ہو گٸیں تھیں۔

شہریار صاحب کے رویے کو سوچتی دماغ آج کے واقعے کی جانب چلاگیا۔

آج کا دن وہ کبھی نہیں بھولنے والی تھی۔

اور کشش کو تو ہ کبھی بھول سکتی بھی نہیں تھی۔

کشش کا سوچتے اسکے لوبں سے مسکراٹٹ کو چھوا۔

وہ واقعی بہت بہادر ہے۔۔اس کا سٹیمنا بھی کمال کا ہے۔۔ آج اگر وہ واپس آسکی تو۔۔صرف اسی کی وجہ سے۔۔۔!

عناٸشہ۔۔۔!

میری بیٹی۔۔۔؟؟

جمیلہ بیگم نے اندر آتےہی اسے پکارا۔

آواز میں فکر نمایاں تھی۔

عناٸشہ سیدھی ہو بیٹھی۔

تم ٹھیک ہو۔۔ بیٹا۔۔۔؟؟ اوریہ۔۔۔ چوٹ کیسے لگی۔۔؟؟

انہوں نے اسکا۔ماتھا چھوتے ہوٸے پیار سے پوچھا۔

میں۔۔ ٹھیک ہوں۔۔۔! آپ۔۔فکر نہ کریں۔۔۔ عناٸشہ نے انکی تسلی کرانی چاہی۔

لیکن۔۔۔ بیٹا۔۔۔؟؟ یہ۔۔چوٹ۔۔کیسے آٸی۔۔۔؟؟

جمیلہبیگمکی پریشانی ابھی بھی کم۔نہ ہو رہی تھی۔

عناٸشہ کا دل کیا سب کچھ بتا دے انکو۔ لیکن۔۔ پھر خاموش رہی۔

اور کچھ لمحے توقف کے بعد جمیلہ بیگم کو دیکھتے بولی۔

ایک چھوٹا سا ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا۔

اوہ۔۔گاڈ۔۔۔! ے اختیار منہ کی طرف ہاتھ گیا۔

اور۔۔۔حازق۔۔۔؟؟ وہ آپ کوکہاں ملے۔۔۔؟؟

اگلا سوال کیا تو حازق کے نام پے عناٸشہ کی دھڑکن بے ترتیب ہوٸی۔

جی۔۔ وہ۔۔۔وہیں۔۔۔ انہوں نے ہی ہیلپ کی۔۔۔ !

عناٸشہ نے سر جھکاتے کہا۔

عناٸشہ۔۔۔! آپ۔۔جاب کہاں۔۔ کرتی ہیں۔۔۔؟؟

جمیلہ بیگم کے اچانکپوچھنے پے وہ انہیں دیکھے گٸ۔

ایک۔۔۔ریسٹورینٹ میں۔۔۔ اپنی آواز کا۔دھیما پن۔ وہ خود بھی محسوس کر سکتی تھی۔

حازق کے ریسٹورینٹ میں۔۔۔؟؟

انہوں نے کڑی سے کڑی ملا لی۔

جی۔۔۔۔۔۔۔! عناٸشہ نےہاں کہنے میں ہی عافیت سمجھی۔

ہممممم۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔ آپ آرام کریں۔ صبح بات ہوگی۔

ہ تھوڑا سنجیدگی سے کہتیں اٹھ گٸیں۔

کھانا کھایا تھا۔۔؟؟ اٹھتے ہوٸے ماں کی ممتا سے مجبور ہو کے پوچھ لیا۔

بے اختیار ہی نظروں میں کشش کے ساتھ بتاٸے لمحے گھوم گٸے۔

جی۔۔۔کھا لیا تھا۔

ہممممم۔۔۔۔۔! وہ اسکا بستر سیٹ کرتیں گڈ ناٸیٹ کہتی چلیں گٸیں۔

اوہ۔۔۔کشش۔۔۔!یو آر۔۔۔ سو سپیشل۔۔۔۔

خیالوں میں ہی وہ اس سے مخاطب ہوٸی۔

کہ دروازے پے ناک کرتا حازق اندر آیا۔

عناٸشہ فوراً سے اٹھ بیٹھی۔ وہ آڑی ترچھی لیٹی تھی۔

یوں۔۔ حازق کے اندر آنے پے اسے تپ تو بہت چڑھی۔ لیکن۔۔ پھر بھی خاموشی سے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

یہ۔۔تمہاری۔۔میڈیسن۔۔۔!

بنا اسکی طرف دیکھے میڈیسن دراز کے اوپر رکھیں۔

اور جانے کے لیے پلٹا۔کہ عناٸشہ کی طنز بھری آواز سماعت سے ٹکراٸی۔۔

تھینکس۔۔۔! آپ۔۔۔ کسی ملازم کے ہاتھ بھی بھیج سکتے تھے۔

پلٹ کے ایک سخت نظر سے اسے دیکھا۔ جو بنا پلک جھپکے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

کل سے ریسٹورینٹ آنے کی ضرورت نہیں۔۔

کہہ کے وہ جانے لگا۔

کیوں۔۔۔؟ تڑخ کے پوچھتی وہ بمشکل کھڑی ہوتی اس کے پاس آٸی۔

کیونکہ۔۔۔ میں کہہ رہا ہوں۔۔۔ میں پے زیادہ زور دیا۔

آپ۔۔۔ کے کہنے سے کیا ہوتا ہے۔۔۔؟؟ کانٹریکٹ ہوا ہے۔۔۔! شاید آپ بھول رہے ہیں۔۔۔

عناٸشہ نے غصے سے اسکی طرف بڑھتے ہوٸے کہا۔

کانٹریکٹ میں نے کیا۔۔۔ میں ہی ختم کر رہا ہوں۔۔

حازق بھی سرد آواز میں بولا۔

آپ۔۔۔۔ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔ بنا کسی وجہ کے۔۔۔ آپ۔۔مجھے جاب سے نہیں نکال سکتے۔

عناٸشہ نے دانت پیستے اسکے مد مقابل آتے کہا۔

میں ۔۔۔۔ کچھ بھی کر سکتا ہوں۔۔۔ سمجھی تم!

حازق نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔

کچھ پل خاموشی چھا گٸ۔

دونوں ہی ایک دوسرے کو سخت نظروں سے گھور رہے تھے۔

بس۔۔۔یہی تو کرنا آتا ہے۔۔ آپ کو۔۔۔۔! فیصلہ سنانا۔۔۔ اگلے بندے کی تو کوٸی سیلف رسپکٹ ہی نہیں ناں۔۔

کہتے ہوٸے وہ منہ پھیرتی پیچھے ہٹی۔

لیکن۔۔ میں بھی آپ کو بتادوں۔۔ میں۔۔ یہ جاب نہیں چھوڑوں گی۔۔۔! ساری غلطی۔۔۔ اس۔۔۔ مدیحہ کی تھی۔۔جس پے آپ کو بہت۔۔۔ بھروسہ تھا۔۔۔

اسے بولتے اندازہ نہ ہوا۔ کہ وہ کیا بولے جا رہی ہے۔

بھروسہ تو۔۔ کبھی تم پے بھی کیا تھا۔۔۔ تم نے بھی تو توڑتے ۔۔ ایک پل نہیں لگایا۔

لہجہ زخمی تھا۔

عناٸشہ نے نظریں پھیریں۔

نہیں ۔۔ توڑا۔۔۔ میں نے آپ کا بھروسہ۔۔۔!

کہتے وہ آنسو روک کے بولی۔

اور پلٹ کے اسےدیکھا۔ جس کی نظروں میں صرف بے یقینی تھی۔

عناٸشہ نے نفی میں سر ہلایا۔

you… know…

میں چاہے کچھ بھی کر لوں۔۔ کچھ بھی کہہ لوں۔۔ آپ نے میرا یقین کرنا ہی نہیں۔۔ اور جہاں۔۔ آپ پے یقین نہ کیا جاٸے۔۔ وہاں۔۔ کچھ بھی کہنا سننا بے کار ہے۔۔

اس کے پاس آتی وہ دھیمے لہجے میں بولی۔

جبکہ آنسو اب اپنی جگہ بنا چکے تھے۔ اور بہہ کے گالوں کے راستے گردن کا سفر کر رہے تھے۔

ہمارے۔۔۔ بیچ ۔۔اب ایسا کچھ نہیں۔۔ کہ۔۔ میں تم سے۔۔ کچھ کہوں۔۔ یا سنوں۔۔۔ بہتر ہو گا۔۔ اپنی حدمیں رہو۔۔ اور اس گھر میں بھی تمہیں۔۔ میں صرف مما کی وجہ سے برداشت کر رہا ہوں۔۔

ورنہ ایک سیکنڈ میں تمہیں۔۔ اس گھر سے باہر نکال کروں۔

چٹکی بجاتا وہ عناٸشہ کو مزید سلگا گیا۔

اچھا۔۔۔۔ ہمت ہے تو۔۔۔ نکال کے دکھاٶ۔۔۔ دیکھتی ہوں۔۔ کیسے نکالتے ہو۔۔۔؟

عناٸشہ جارحانہانداز مثس اسکی طرف بڑھی۔

حازق اس کے تیور دیکھتا رہ گیا۔

بہت غرور ہے۔۔ ناں۔۔ اپنی امیری پے۔۔۔۔ تو۔۔ اپنی امیری اپنے پاس رکھو۔۔ حازق شمریز۔۔۔! کسی اور پے۔۔ اپنی امیری کا دھونس جمانا۔۔ مجھ پے نہیں۔۔ اور۔۔یہ گھر۔۔ جتنا ۔۔ تمہارا ہے ناں۔۔ اتنا ہی میرا بھی حق ہے۔۔ اس گھر پے۔۔۔!

غصے میں اسکا بی پی شوٹ کر گیا۔ آنکھثس اسکی سرخ ہوگٸیں۔ گال لال انگارہ سے ہوگٸے۔

اسکاسانس پھولنے لگا۔

حازق کو یاد تھا ایک بار پہلے بھی اسکے ساتھ ایسی کوٸی سچویشن ہوٸی تھی۔ تو وہ آپے سے باہر ہوگٸ تھی۔ کالج میں کسی سے اسکی بحث ہوگٸ تھی۔

اس وقت بھی بہت مشکل سے حازق نے اسے کام ڈاٶن کیا تھا۔

عناٸشہ۔۔۔۔! حازق نے اسے بازو سے تھامنا چاہا۔

ہاتھ مت لگانا۔۔۔۔! انگلی اٹھا کے وارن کیا۔ آنکھیں غصے کی وجہ سے پوری پھیلی ہوٸیں تھیں۔ اور کاجل پھیل کے اسکی آنکھوں و مزید بڑا بنا گیا تھا۔

حازق نے اسے پکڑ کے اپنے گلے سے لگایا۔

وہ غصے سے مزید بپھر گٸ ۔ پورا زور لگا کے اس نے خود کو حازق سے الگ کرنا چاہا ۔ لیکن حازق کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ وہ اسکا حصار نہ تو ڑ سکی۔

تو اپنے ناخن اسکی کمر پے چبھو ڈالے۔

حازق وہ بھی برداشت کر گیا۔ لیکن وہ اسے ریلیکس کیے بنا نہیں جا سکتا تھا۔ اس کی حالت مزید خراب ہوجانی تھی۔

کچھ ہی دیر میں س نے مزاحمت بند کر دی۔

حازق نے اس کے بالوں میں نرمی سے انگلیاں چلاٸیں۔

وہ اب نارمل ہو گٸ تھی۔

حازق نے اسے اپنے سامنے کیا۔ وہ اب رو رہی تھی۔

حازق کو اسکی حالت پے دکھ ہوا۔

آج وہ اتنے بڑے خطرے سے نکل کے آٸی۔ بجاٸے اسکی دلجوٸی کرنے کے۔۔ مزید اسے دکھ دے گیا۔

سختی سے آنکھیں بھینچیں۔ اسکے چہرے سے بال پیچے کیے۔

عناٸشہ نے اسے نہ دیکھا۔ گردن جھکاٸے رکھی۔

ابھی بھی بہت غصہ آتا ہے۔۔ تمہیں۔۔۔؟؟

آواز دھیمی تھی۔

لیکن لہجہ نرم تھا۔

عناٸشہ نے شکوہ کناں نظر اس پے ڈالی۔

اور پھر فوراً ہی نظریں پھیر گٸ۔

میڈیسن لے لینا۔۔۔

آرام کرو۔۔۔! اسکو دھیرے سے کہتا وہ باہر نکل گیا۔

جبکہ وہ وہیں اس پل پل بدلتے شخص کو جاتا دیکھتی رہ گٸ۔

جو نہ تو محبت۔۔ پوری کر پا رہا تھا۔۔ نہ نفرت۔۔۔!!

عناٸشہ کے روم سے اسکا نکلنا۔۔۔ جمیلہ بیگم کی نظروں سے مخفی نہ رہ سکا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

کیا ہوا۔۔۔؟؟ پتر۔۔۔۔؟؟ کیوں پریشان ہے۔۔۔؟؟

دادا جی نے حیات صاحب سے پوچھا جو سب کے جانے کے بعد ابھی بھی وہیں تھے۔

بابا۔۔۔ ! کیا میں اتنا برا ہو گیا ہوں۔۔؟؟ کہ بیٹے اور باپ دونوں نے ہی۔۔۔ چھوڑ دیا ہے۔۔۔؟؟

دھیمے لہجے میں شکوہ کیا۔

چھوڑ تو آپ نے دیا۔۔۔ بہت پہلے۔۔۔۔! بھول ہی گٸے۔۔۔۔ کہ کوٸی آپ کا بیٹا۔۔ بھی ہے۔۔۔!

یامین ناچاہتے بھی گلہ کر گیا۔

دادا جی نے آنکھوں کے اشارہ سے چپ رہنے کو کہا۔

شاید۔۔۔ صحیح ہی کہہ رہے ہو۔۔۔!

وہ افسردہ ہو کے جانے لگے۔

ٹھہرو۔۔۔ حیات پتر۔۔۔! دادا جی نے انہیں اپنے پاس بلایا۔

یہناح اس وقت ہوا۔۔ جب میرا ایکسیڈینٹ ہوا۔۔۔ اور مجھے۔۔۔لگا۔۔ میں ۔۔ شاید۔۔۔ بچ نہ سکوں۔۔۔ مجھے۔۔۔ بس۔۔کشش کی فکر تھی۔۔ اس لیے۔۔۔ میرے دونوں بچوں نے میری خواہش پے۔۔۔ یہ نکاح کیا۔۔۔! انہیں الزام۔نہ دو بیٹا۔۔۔!

دادا جی بیٹے کو افسردہ نہ دیکھ سکے۔

حات صاحب نے ایک نظر دور کھڑے یامین پے ڈالی۔

یہ۔۔ آپ کا بیٹا۔۔ ہے۔۔۔ بابا۔۔۔! مجھ سے زیادہ۔۔ اس پے۔۔ آپ کا حق ہے۔۔۔!

اب کی بار لہجہ نمی لیے ہوٸے تھا۔ لیکن وہ ناراض نہ لگے۔

لیکن۔۔ میں نے ہمیشہ۔۔ آپ کی عزت کی ہے۔۔۔ اور۔۔ آپ سے پیار کیا ہے۔۔۔!

یامین فوراً سے بولا۔

ہممممم۔۔۔ تبھی۔۔۔باپ کہنا ۔۔ چھوڑ دیا۔۔۔

وہ اٹھ کے اس کے قریب آٸے۔

یامین کو وہآج۔۔ بہت بوڑھے سے لگے۔۔۔

ہارے سے۔۔۔

اور یامین سے یہ کہاں برداشت ہونا تھا۔

آگے بڑھ کے باپ کو زور سے بھینچ کے گلے سے لگایا۔

اسکی اپنی آنکھیں بھی نم ہو گٸیں۔

بابا۔۔۔۔!

دھیرے سے کہتا وہ حیات صاحب کو بھی رلا گیا۔

دادا جی باپ بیٹے کے اس ملن پے بہت خوش ہوٸے۔

جبکہ دروازے میں کھڑی سویرا بیگمکو ان باپ بیٹے کے گلے لگنے سے آگ لگ گٸ۔ اور پاٶں پٹختی وہ وہاں سے اپنے روم میں آگٸیں۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

ہاٸے۔۔۔۔ ظالم۔۔۔ آرام سے۔۔۔۔ موٸے۔۔۔ کڈنیپر۔۔۔ اللہ پوچھے۔۔ انہیں۔۔ بھگا بھگا کےمیری ٹانگوں کا کچومر نکال دیا۔

کرن کشش کی ٹانگوں پے مالش کر رہی تھی۔

بہت درد ہو رہا ہے۔۔۔؟؟

کرن نے دھیمے دھیمے مالش کی۔

نہیں۔۔ مزہ آرہا ہے۔۔۔ !

منہ بناتےکہا۔

یہ۔۔۔برتھ ڈے ۔۔۔مجھے ساری زندگی یاد رہے گی۔۔۔!

آنکھیں موندے وہ اپنی راٸے کا اظہار بھی وقتاً فوقتاً کر رہی تھی۔

ویسے۔۔۔ ایک بات تو ماننی پڑے گی۔

you are a brave girl

مطلب۔۔۔؟؟ کیسے۔۔۔ چکما دیا۔۔۔ ان کڈینپرز کو۔۔۔!

یہ تو۔۔ ہماری کشش ہی کر سکتی تھی۔۔۔

کرن نے اسکی تعریف کی۔

فخر سے کشش نے ایک آنکھ کھول کے دیکھا پھر بند کر لی۔

بددعا۔۔ ملی ہے۔۔۔ بھاگتے رہو۔۔۔ بھگاتے۔۔۔ رہو۔۔۔

ہاٸے۔۔۔ میری ٹانگیں۔۔۔۔۔ ! کشش نے پھر دہاٸی دی۔

ویسے ت بڑی چھپی رستم نکلی۔۔۔ یامین بھاٸی سے نکاح بھی کر لیا اور بھنک بھی نہ پڑنے دی۔۔۔

پین کلراسے تھماتے کرن نے اسکی کلاس لی۔

نہ پوچھ۔۔۔۔ وہ بھی ایک۔۔۔ الگ ہی کہانی ہے۔۔۔۔!

درد سے دہری ہوتی وہ بس اتنا ہی بول پاٸی۔

کچھ کھاٶ گی۔۔۔؟؟ لے آٶں۔۔؟؟

کھا پی کے آٸی ہوں۔۔۔ بس سونا ہے۔۔۔۔!

کشش نے منہ بناتے کہا۔

کرن دودھ کا گلاس لے کے آٶ۔۔۔ عالیہ بیگم نے اندر آتے انکی بات سنتے فوراً کہا۔

نو۔۔۔نو۔۔۔ دودھ نہیں۔۔۔

کشش منہ بناتے منت کی

تم۔لے کے آٶ۔۔۔ میں خود پلاتی ہوں۔۔ !

عالیہ بیگمنے کرن کو بھیجا۔ اور وہ خود کشش کے پاس بیٹھیں۔

یامین سے نکاح کب ہوا۔۔۔؟؟

ان کے لہجے میں تھوڑا غصہ تھا۔

کشش حیرت سے انکے انداز کو دیکھے گٸ۔

لیکن کچھ بول نہ پاٸی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *