Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Ishq Mera (Episode 23)

Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan

دماغ سے ساری باتیں جھٹک وہ موباٸیل۔چارج کرنے لگی۔

اور خود شاور لینے چلی گٸ۔

واپس روم میں آٸی تو سامنے صوفے پے براجمان حازق کو دیکھ کے گہرا سناس خارج کرتی آٸینے کے سامنے کھڑی بالوں کو کنگھی کرنے لگی۔

حازق نے اسکا نظر انداز کرنا دل سے محسوس کیا۔

اور اٹھ کے اس کے پیچھے بہت قریب جا کھڑا ہوا۔

عناٸشہ کا دل ایک لمحے کو رکا۔

نظریں اس ظالم پے جا ٹہریں۔

تو۔۔۔ تم۔نے شادی کے لیے ہامی بھر لی۔۔۔۔!

اس کے گیلے بالوں کو مٹھی میں لیتے اپنے اندر کے غبار کو دبانے کی کوشش کی۔

حاز۔۔۔۔۔ق۔۔۔! وہ اپنی محبت کے آگے کمزور پڑنے لگی۔

وہ اے سب بتا دینا چاہتی تھی۔ ہر حقیقت۔۔ لیکن۔۔۔جمیلہبیگم کے الفاظ اسے کچھ بھی کہنے سے روک رہے تھے۔

عناٸشہ۔۔۔! آج۔۔ پہلی بار شہریار کو میں نے آپ کے لیے خوش ہوتے دیکھا ہے۔۔۔ ان کی خوشی چھیننا مت۔۔۔ ! او۔۔ مجھے یقین ہے۔۔ آپ ہمیں۔۔ کبھی مایو نہیں کریں گیں۔

شیییییی۔۔۔۔۔۔ ! اب اور نہیں۔۔!

اس۔۔۔ دل کے۔۔۔ اپنے دل کے مقام کی طرف اشارہ کیا۔

ہزاروں ٹکڑے کر دیٸے تم نے۔۔۔۔! میرے اندر کی محبت۔۔کو ۔۔۔ تم۔نے۔۔۔ تباہ کر دیا۔ عنا۔۔۔۔۔!

آج کتنے عرصے بعد اس نے اسے پہلے ک طرح پکارا۔

عناٸشہ تو اپنے دل کو اسی کی محبت سے معمور کر رہی تھی۔

اب اور نہیں۔۔۔! جھٹکے سے اسے چھوڑا۔ اور پیچھے ہوا۔

بہت برباد کر لیا۔۔۔ تمہارے پیچھے بہت خوارکر لیا۔۔۔خود کو۔۔۔! آج۔۔ تمہیں۔۔اپنی محبت سے آزاد کیا۔

اسکا ٹوٹا لہجہ عناٸشہ کے دل کو چکنا چور کر گیا۔

جاٶ۔۔۔۔! چھوڑ دیا تمہیں۔۔۔ تمہاری بے وفاٸی پے۔۔ ختم کر دیا آج سب۔۔۔! حازق کا لہجہ نم ، آنکھوں میں نمی۔۔

وہ آج بکھر گیا تھا۔

اور عناٸشہ اسے بکھرتا نہیں یکھ پا رہی تھی۔

حازق۔۔۔۔۔؟؟ وہ تڑپ کے آگے بڑھی۔

نہیں۔۔۔! ہاتھ کے اشارے سے روکا۔

قریب مت آنا۔۔۔! اب۔۔۔ قریب مت آنا۔۔۔ ! وہ اپنے حواس میں نہ لگا۔

عناٸشہ کو اسکی حالت صحیح نہ لگی۔

آج کے بعد تم۔۔ حازق کا چہرہ بھی نہیں دیکھو گی۔۔

محبت کی ۔۔۔لیکن۔۔ اپنا دل توڑ کے بہت بڑی قیمت چکاٸی ہے۔۔

عنا۔۔۔۔۔! آج کے بعد کوٸی محبت نہیں کرے گا۔۔۔۔ کوٸی محبت پے یقین نہیں کرے گا۔۔۔

وہ ضبط کے باوجود رو دیا۔

اسے اسکی بے لوث محبت نے رلا دیا۔

کون کہتا ہے۔۔؟؟ مرد ٹوٹ کے محبت نہیں کرتا۔۔۔؟؟

مرد عشق نہیں کرتا۔۔؟

عورت جب محبت کرتی ہے عشق کرتی ہے۔تو ٹوٹ کے کرتی ہے۔۔

لیک مردکی محبت اسکا عشق ۔۔۔ اسے توڑ دیتا ہے۔۔

وہ ٹوٹ رہا تھا۔

عشق لاحاصل ہو تو وہ ٹوٹ جاتا ہے۔

وہ پلٹا۔۔ تھما۔۔

آج کے بعد یہ۔۔ مت کہنا۔۔ تم بے وفا نہیں تھی۔۔۔!

کہتے وہ باہر نکل گیا۔

میرا دل جس دل پے فدا ہے۔۔

وہ بے وفا ہے۔ اک بے وفا ہے۔

ہاں محبت کی یہ سزا ہے۔۔

وہ بے وفا ہے۔۔ وہ بے وفا ہے۔۔۔۔💔💔💔💔💔

عناٸشہ نے آج صحیح معنوں میں اپنی محبت کھو دی تھی۔

اپنے حقیقی ماں باپ کے لیے اس نے اپنی محبت کو قربان کر دیا۔

آج وہ پھوٹ پھوٹ کے دو دی۔

خود سے زیاہ اسے حازق کے درد نے تکلیف دی تھی۔

وہ اسے یوں ٹوٹتا بکھرتا دیکھ کے بہت درد محسوس کر رہی تھی۔

لیکن بے بس تھی۔۔ چاہ کے بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی۔

عناٸشہ آنسو پونچھے۔

جس نے یہ ب کیا مجھے حازق سے دور کیا۔۔ اس عورت۔۔ کا پتہ ضرور لگاٶں گی۔ چھوڑوں گی میں بھی نہیں۔

موباٸیل چیک کیا۔ تو وہ چارج تھا۔فوراً گاڑی کی پک اور اور ان لوگوں کی پک حازق کے نمبر پے سینڈ۔کی۔

یامین کا نمبر نہیں جانتی تھی۔ ورنہ اسے ہی سینڈکرتی۔

جانتی ہوں۔۔ شاید میرے نصیب میں تمہارا پیار لکھا ہی نہیں۔۔

ایک تلخ ہنسی ہنسی تھی۔وہ۔۔

محبت میں برباد ہو جانے والوں میں ۔۔ میرا نام۔۔ سر فہرست ہوگا۔۔

ہاٸے یہ۔۔ عشق۔۔۔ !!!!

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

یامین کے نمبر پے حازق نے دونوں پس سینڈ کر دیں تھیں۔

وہ اس وقت شہر کی خال چھان رہا تھا۔

گاڑی میں بیٹھا وہ کہاں سے کہاں نکل آیا۔ اسے کچھ انداز ہ نہیں تھا۔ لیکن خود کو سنبھالنا بھی تو تھا۔

ایسے میں عناٸشہ کے نمبر سے موصول ہونے والی تصاویت کو یامین کو بھیج کے موباٸل آف کر دیا۔

وہ اکیلا رہنا چاہتا تھا۔ سب سے الگ۔۔

دنیا سے کٹ کے۔۔۔ !

محبت کا غم ہے۔۔۔ ملے جتنا کم ہے۔

یہ تو زمانہ نہیں جان پاٸے گا۔۔۔

میرا جو صنم ہے۔۔ زرا بے رحم ہے۔۔

دے کے مجھے وہ درد مسکراٸے گا۔۔۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

جلیل مجھے کل ہر حال میں اس گاڑی کی ساری انفارمیشن چاہیے۔۔ ہر حال میں ۔۔ مطلب ہر حال میں۔۔

یامین نے کہتے ہی دوسری تصویر دیکھی۔

یہ عورت۔۔۔ دیکھی دیکھی۔۔ کیوں لگ رہی ہے۔۔۔؟؟

کہاں دیکھا ہے۔۔۔ا سے۔۔۔؟؟ یامین سوچ میں پڑ گیا۔

لیکن۔۔ اسے بہت زیاہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہ ہوٸی۔ پندرہ سال پہلے۔۔۔ وہ اس عورت کو دیکھ چکا تھا۔۔۔ اپنے باپ کے ساتھ۔۔۔۔! ہاں۔۔ اس عورت کا۔۔ کوٸی نہ کوٸی تعلق۔۔۔ حیات صاحب سے تھا۔

اور یہ وہ ان سے جاننے کا پورا ارادہ رکھتا تھا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

آخر تم۔۔۔کرنا چاہتی ہو۔۔۔؟؟

پہلے کہتی ہو انہیں کڈنیپ کرو۔۔

پھ کہتی ہو انہیں چھوڑ دو۔ تم۔۔نےہمیں کیا سمجھا ہوا ہے۔۔۔؟؟

مدیحہ غصے سے بولی۔

لیکن وہ بہت اطمینان سے بیٹھی تھی۔

اب کچھ بولو گی بھی۔۔۔؟؟

مدیحہ نے دانت پیسے۔

ایک منٹ کے لیے اپنی زبان کو قابو میں کر لو۔۔۔

تم دونوں کی بے وقوفی کی وجہ سے آج ہم پھس جاتے۔۔

میں نےیہ کہا تھا کڈنیپ کرو۔۔ یہ نہیں کیا تھا ان کو اپنے پیچھے لگا لو۔۔۔ یامین اور حازق بھی پیچھے ہٕ آھے تم دونوں کے۔۔

اپنی جگہ سے وہ اٹھی ۔ اور غصے سے بولی۔

ان دونوں ماں بیٹی نے ایک دوسرے کا منہ دیکھا۔

اگت میں نہ کہتی تو خود پھس گٸی تھیں۔۔ مجھے بھی پھسا دیتی تم دونوں۔۔۔!

اس نے احسان کر نے والے انداز میں کہا۔

اب آگے کیا کرنا ہے۔۔۔؟؟ مدیحہ نے پوچھا۔

اب پلان بی۔۔۔ کا وقت آگیا ہے۔۔

ہمارا مقصد ایک ہے۔۔ میر خاندان کی تباہی۔

اور اس مقصد نے ہمیں آپس میں ملوایا۔

میں یامین کو برباد کرنا چاہتی ہوں۔۔ اور تم۔۔۔ یامین کے باپ کو۔۔۔!

اور یہ ہم۔۔ آپس میں مل کے ہی کر سکتےہیں۔۔

خیر۔۔ گاڑی ان کی نظر میں آچکی ہے۔۔ اور یہہمارے لیے مسٸلہ بن سکتی ہے۔۔

کس کےنام ہے گاڑی۔۔۔؟؟ کہتے ہوٸے اس نے پو چھا۔

فیاض کے۔۔۔۔! مدیحہ کی مما کا لہجہ دھیما پڑا۔

اسے جلا دو۔ اور پولیس میں دس دن پرانی رپورٹ درج کروا دو۔ گاڑی کی گمشدگی کی۔

تاکہ۔۔ نہ تم پھسو اور نہ وہ فیاض۔۔۔

باٸی دا وے۔۔۔ یہ فیاض ہے کون۔۔؟؟ سگریٹ نکال کے سلگایا۔

جو کوٸی بھی ہیں۔۔ تمہیں اس سے مطلب نہیں ہونا چاہیے۔۔

ہم نے صرف میر خاندان کو برباد کرنے کے لیے ہاتھ ملایا۔ ایک دوسرے کے پرسنل میں دخل اندازی کرنے کے لیے نہیں۔

وہ تھوڑا بھڑکیں۔

ہمممممم۔۔۔۔ دھواں ہوا میں اچھالتے وہ انہیں دیکھنے لگی۔

ٹھیک ہے اسے غاٸب کر دو۔۔۔ کچھ دن کے لیے۔۔۔! یاین کے ہاتھ نہ لگے۔ باقی میں سنبھال لوں گی۔ سگریٹ کو ایش ٹرے میں مسلا۔

اور پرس اٹھاتی وہ باہرنکلی۔

جبکہ وہ دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے کا منہ دیکھتی رہ گٸیں۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

اور پھر وہی ہوا۔ گاڑی کا تو پتہ چل گیا۔

نہ مالک کا پتہ چلا ناں۔۔ نہ ہی کوٸی ثبوت ہاتھ آیا۔

یامین کا دماغ ہی گھوم گیا۔

اوپر سے حازق بھی آٶٹ آف سٹی دوسری برانچ میں چلا گیا۔

حیات صاحب سے بھی وہ ملاقات نہ کر سکا۔ وہ بھی اچانک کہیں بزنس کے سلسے میں شہر سے باہر نکل گٸے۔ کوٸی نہیة جانتا تھا کہ وہ کہاں گٸے ہیں۔

لیکن وہ جانتے تھے انہیں کہاں جانا ہے۔۔

ماضی کی کچھ پرچھاٸیاں ان کا پیچھا کرتی ان تک پہنچ چکی تھیں۔ انہی کا پتہ لگانے وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ نکلے تھے۔

دوسری طرف دادا جی بھی بہت پریشان تھے۔

وہ اس انجان دشمن سے سخت گھبراٸے ہوٸے تھے۔

وہ اپنے بچوں کو کسی حال میں بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔

اور اپنے ہی کمرے میں گوشہ نشین ہوگٸے تھے۔ انکی سوچیں بہت بڑھ گٸیں تھیں۔ وہ جو کوٸی بھی تھا۔یامین اور کشش کے لیے خطرہ تھا۔

وہ انکو ایک ہونے سے روک رہا تھا۔

اور دادا جی اپنی کشش کے لیے کچھ بھی غلط ہوتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔

اس لیے انہوں نے ایک فیصلہ لیا۔ جو بہت اچانک تھا۔

تاکہ دشمن جو بھی ہو اسے کوٸی موقع نہ ملے۔ مزی کچھ برا کرنے کا۔

آج شام ہی یامین کے آنے پے انہوں نے کشش کی رخصتی کا فیصلہ لیا۔ اور وہ بھی بہت سادگی سے۔

کیونکہ دھوم دھام سے کرنا۔۔ ان کے خیالمیں رسک تھا بہت۔۔ اور اب وہ مزید رسک نہیں لے سکتے تھے۔

حیات صاحب کی غیر موجودگی میں اتنا بڑا فیصلہ سویرا بیگم کو پھر سے برا لگا۔

لیکن کوٸی بھی دادا جی کے خلاف نہیں جا سکتا تھا۔

یامین اپنی ہی پریشانی میں گھرا ہوا تھا۔ کہ دادا جی کے اس اچانک اعلان پے وہ تھوڑا بوکھلا گیا۔

دادا جی۔۔۔! دو دن کی بات تھی۔۔۔ ہو جاتی رخصتی ۔۔۔۔ یوں اچانک۔۔۔؟؟

بیٹا۔۔۔ جی۔۔۔! جو میں سمجھتا ہوں۔۔ وہ آپ نہیں۔۔ اسلیے۔۔ جو ہو تہا ہے اسے ہونے دیں۔

بہت پیارے طریقے سے سمجھایا۔ کہ یامین خاموش ہی ہو گیا۔

اب کی بار عالیہ بیگم سے مخاطب ہوٸے۔کہ وہ خاندانی چادر کشش کے سر پے ڈالٕیں۔ اوراسے رخصت کریں۔

کشش تو ہونق بنی یہ سب دیکھ رہی تھی۔

سویرا بیگم کو بھی مجبوراً ہی سہی آگے بڑھ کے کچھ نہ کچھ رسموں کو ادا کرنا ہی پڑا۔

سمیرنے تو موباٸیل سے ہی فوٹو گرافی شروع کر دی۔ کرن اور داور بھی خوشی سے اس اچانک رخصتی میں دل سے شامل بھی ہوٸے۔اور کشش کی حالت ک انجواٸے بھی کیا۔

بہت ہی پیار سے عالیہ اور کرن نے اسے یامین کے روم میں پہنچا دیا۔

کشش کو جو پیاری سی واٸیٹ فراک پہنے جو۔۔ اسپیل اس کے لیے کرن نے برتھ گفٹ کے لیے لی تھی۔ وہی پہنی تھی۔

اس میں سلور کام ہوا تھا۔ لاٸیٹ سے میک اپ میں بھی وہ اپنی چھب کھا رہی تھی۔

معصومیت نے اسکی خوبصورتی کو مزید رونق بخشی تھی۔

کرن۔۔۔! آج۔۔۔ تو کشش کی کہیں وہ رکھ کے بھول ہی گٸ ہے۔۔۔؟؟ ہیں ناں۔۔۔؟؟ سمیر نے مزاق بنایا تو کشش نے برا سا منہ بنایا۔

سمیر۔۔۔ ! تنگ نہیں کرو۔۔ میری چھوٹی سی پیاری سی بھابھی کو۔۔۔! کرن نے بھی شرارت سے کہا۔

تم دونوں باز آٶ گے یا۔۔ مار کھاٶ گے۔۔۔؟؟

کشش کے منہ پے بارہ بجے ہوٸے تھے۔

اف۔۔۔۔! اب تو۔۔ مجھے بھی اس چڑیل۔کو بھوبھی کہنا پڑے گا۔۔۔؟؟ سمیر نے مصنوعی پتیشانی سے سر پے ہاتھ مارا۔ تو کشش نے غصسے سے بستر سے تکیہ اٹھا کے اسے مارا۔ وہ مزے سے نیچے ہوا۔تو دروازہ کھول کے اندر آتے یامین کے منہ پے لگا۔

تینوں کا منہ حیرت سے کھلا۔

جبکہ یامین کی تیز گھوی پے سمیر اور کرن نے خاموشی سے باہر کی راہ لی۔

کشش منہ بناتی سر جھکا گٸ۔

یامین نے تکیہ اٹھایا۔ اور بستر پے رکھا۔

ایک نظر اس پری پیک چہرہ کو دیکھا۔ جو آج اس کے لیے بن سنور کے بیٹھی تھی۔

چہرے پے خود بخود مسکراہٹ سج گٸ۔

لیکن اسے نظر انداز کرتا وہ وارڈ روب کی جانب بڑھا۔ کشش اسکی ہر حرکت کو ملاحظہ فرما رہی تھی۔

کپڑے لیے وہ شاورلینے چلا گیا۔

تو کشش نے گہرا سانس خارج کیا۔ آج دل بھی بے ایمان ہو رہا تھا۔ اور الگ ہی لے پے دھڑک رہا تھا۔

لیکن وہ بھی کشش تھی۔

شرمانا تو سیکھا نہیں تھا۔ اس لیے مزے سے بستر کی چادر کو الٹا۔ اور اس کے نیچے سے اپنی ڈیری ملک کٹ کیٹ اور ڈھیر ساری چاکلیٹس نکالیں اور ایک چاکلیٹ کا ریپر کھول کے وہ مزے سے کھانے لگی۔

اچانک رخصتی کی یہی تو شرط رکھی تھی۔ کہ اسے ڈھیر ساری چاکلیٹس چاہییں۔ او سمیر نے اسے اسکی پسن کی ساری چاکلیٹس لا کے دیں تھیں جسے کرن کے ذریعے اسنے پورے بستر پے بکھیر دیا تھا۔ اور چاکلیٹس میں بیٹھی وہ خو بھی ایک چاکلیٹ لگ رہی تھی۔

یامین کے واپس باہر نکلنے تک وہ کافی چاکلیٹس کھا چکی تھی۔

یامین حیرت کی مورت بنا اسے دیکھ رہا تھا۔ جبکہ وہ مزے سے بیڈ کراٶن کے ساتھ ٹیک لگاٸے آنکھیں موندے چاکلیٹس کھانے میں مصروف تھی۔

یہ۔۔۔یہ۔۔سب کیا ہے۔۔۔؟؟ شاک ہی لگ گیا۔۔۔

کشش نے آنکھیں کھول کے اسے دیکھا۔

اور چاکلیٹ کے باٸیٹ کو گلے سے نیچے اتارا۔ اور گلا صاف کیا۔

چاکلیٹںسسسس۔۔۔۔!

معصومانہ انداز۔۔۔ یامین تو رشک سے اسے دیکھنے لگا۔

ٕہ اتنی ڈھیر ساری چاکلیٹس بستر پے کہاں سے آٸیں۔۔۔؟؟ وہ سر پے آکے دبے لہجےمیں چلایا۔

آہیستہ۔۔۔۔! کان پھاڑنے ہیں۔۔۔؟؟ کشش نے ایک کان پے ہاتھ رکھا۔

اٹھاٶ۔۔یہ سب یہاں سے۔۔۔۔! سخت لہجے میں کہا۔

کیوں۔۔۔؟؟؟ گھوری سے یامین کو نوازا۔

کیا مطلب کیوں۔۔۔؟؟بستر ہے یہ۔۔۔ ! یہاں کون کھاتا ہے۔۔ایسے۔۔۔؟ یامین نے برا سامنہ بنایا۔

میں کھاتی ہوں۔۔ناں۔۔۔! بہت شوق سے۔۔۔! ایک باٸٹ لیتی وہ اسکی انفو میں اضافہ کرنے لگی۔

یامین نے دانت پیستے اسکی ساری چاکلیٹس اسکی طرف دھکیلیں۔ اور اپنے بیٹھنے کی جگہ بناٸی۔

آرام سے۔۔۔۔!ٹوٹ جاٸیں گیں۔۔۔!

کشش نے ساری چاکلیٹس کو بہت پیار اور آرام سے اپنی گود میں رکھا۔

یامین نے اسے نظر انداز کیا۔ اور سونے کے لیے لیٹا۔۔

کشش نے بنا پرواہ کیے اپنا کھانا جاری رکھا۔

اگلی چاکلیٹ کھول کے کھانے کے لیےا سکے ریپر کو پھاڑا تو کچھ زیادہ ہی زور سے کھلی۔ اور اڑتی ہوٸی یامین کے منہ پے جا لگی۔ وہ ہڑبڑ ا کے اٹھا ۔ اور منہ پے لگی چاکلیٹ کو اٹھا کے دیکھا۔ سخت گھوری سے کشش کو نوازا۔

اگر چاکلیٹس کھانی ہیں تو روم سے باہر جاٶ۔۔ کھا کے واپس آجانا۔۔ ۔۔! سنجیدگی سے کہتا وہ کشششکو آگ لگا گیا۔

کیوں۔۔۔۔۔؟؟ کیوں جاٶں میں۔۔؟؟ اب سے یہ کمرہ میرا بھی ہے۔۔۔! بقلم خوف آپ نے نکاح نامے پے ساٸن کیے ہیں ۔۔۔او مجھے قبول ہے قبول ہے قبول ہے۔۔کہا تھا۔۔۔

اب اسکمرے پے میرا بی اتنا حق ہے۔۔ جتنا آپ کا۔۔۔

سمجھے آپ۔۔۔۔!

اپنی طرف سے اس نے یامین کو اچھا خاصا جاب فیا تھا۔لیکن نہیں جانتی تھی۔ کہ سامنے یامین ہے۔۔ اگر کشش کو باتوں سے باتیں نکالنی آتی تھیں۔ تو اسے باتوں سے اپنے مطلب کو نکالنے کا ہنر آتا تھا۔

ہممممممم۔۔۔۔ چاکلیٹس۔۔ کو ساٸیڈ پے کرتا وہ کشش کے قریب ہوا۔

ےیہ تو۔۔ میں بھول ہی گیا۔۔اچھا ہوا یاد کروا دیا۔۔۔ مزید قریب ہوا۔

کشش پیچھے ہوتی گٸی۔

اسے یامین کے ارادے نیک نہ لگے۔

اب بات حقوق کی آہی گٸ ہے تو۔۔ کچھ حقوق شوہر کے بھی ادا کردو۔۔۔۔! وہ اس پے مکمل حاوی ہونے لگا۔

اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کرتا وہ اسے لرزا گیا۔

اس کے ہاتھ سے چاکلیٹ گود میں جا گری۔

چاکلیٹ کا کچھ حصہ اس کے لبوں پے لگا رہ گیا۔

جس پے یامین کی نظر کا حصار گہرا ہوتا جارہا تھا۔

بے اختیار آگے ہوتا وہ اس کے لبوں سے اس چاکلیٹ کو اپنے لبوں سے چن گیا۔ کشش کی تو بولتی ہی بند ہوگٸ۔

آنکھیں بھی بند کیے وہ سانس روکے دل کی دھڑکن کے ارتعاش سے گھبراتی یامین کے لمس پے نروس ہوگٸ۔

ہممممم۔ اچھا ٹیسٹ تھا۔ آج پہلی بار چیک کیا۔۔ یامین پیچھے ہوتا مزے سے تعریف کرنے لگا۔ جبکہ آنکھوں میں ڈھیروں شرارت تھی۔

کشش نے منہ پھیر لیا اور اپنی خفت مٹانے لگی۔

آپ ناں۔۔ باز آجاٸیں۔۔۔ ! کوٸی بات نہ بن پاٸی تو سر جھکاٸے یہی بول پاٸی۔

کشش اگر دومنٹ میں یہ بستر صاف نہ ہوا۔ اور تم مجھے سوتی ہوٸی نہ دکھی۔۔۔تو

i swear….

جو میں کروں گا۔۔۔ وہ تم سے بالکل سہن نہیں ہوگا۔۔۔

گھمبیر لہجے میں کہتا وہ کشش کو کرنٹ لگا گیا۔ فوراً سے اپنی جگہ سے اٹھی۔ ساری چاکلیٹس اٹھا کے ساٸیڈ درازوں میں گھساٸیں ۔ اور فٹ سے لیٹ گٸ۔

اور آنکھیں موند لیں۔

یامین نے لاٸیٹس آف کیں تو کشش کی آنکھ کھل گٸ۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *