Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Ishq Mera (Episode 19)

Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan

گاڑی بہت تیز رفتاری سے آگے سے آٸی ۔ تو وہ دونوں رک گٸیں۔

گاڑی انہی کڈنیپرز کی تھی۔ وہ قہر ک نظر ان پے ڈالتے باہر نکلے۔

گٸے کام سے۔۔۔۔۔!

آگے کڈنیپرز پیچھے ویٹر۔۔ دونوں طرف سے وہ گھر گٸیں تھیں۔

بہت بھا گ لیا ۔۔۔ اب بھاگ کے دکھاٶ۔۔۔

کڈنیپر جلیل نے غصے سے کہا۔

چیلنج۔۔۔۔؟؟ کشش زیرِ لب بڑ بڑاٸی۔

عناٸشہ نے اسے دہل کے دیکھا۔

کشش۔۔ ٹانگوں میں جان نہیں۔۔ کیسے بھاگیں گے۔۔۔؟؟

عناٸشہ منمناٸی۔

کشش نے اسے گھور کے دیکھا۔

اور پیچھے مڑتے دوڑ لگا دی۔

عناٸشہ نے کڈنیپرز کو ایک نظر دیکھ کشش کے پیچھے دوڑ لگا دی کڈنیپرز منہ دیکھتےرہ گٸے۔

جلدی سے گاڑی میں بیٹھو۔ اور ان کا پیچھا کرو۔

جلیل نے بولا۔ تو اسد اور حسن فوراً واپس گاڑی میں بیٹھے۔

اور گاڑی ان کے پیچھے لگا دی۔

دونوں سڑک پے اندھا دھند بھاگ رہی تھیں۔

سامنے ہی ایک ویٹر جو ان کا پیچھا کر رہا تھا۔ ان کو اپنی طرف بھاگتا دیکھ۔وہیں تھما۔

اسے کچھ سمجھ نہ آیا۔ کہ وہ اسکی طرف کیوں بھاگی آرہی ہیں۔۔

سڑک سنسنان اور رات کا وقت۔۔ وہ گھبرا گیا۔

بھوت۔۔۔۔۔ بھوت۔۔۔ بچاٶ۔۔۔۔!

کشش نے چلانا شروع کر دیا۔

عناٸشہ نے بھاگتے ہوٸے اس افلاطون کو دیکھا۔

ویٹر کے سننے کی دیر تھی۔ اس نے بھی الٹی طرف دوڑ لگا دی۔

وہ بیچارا ڈرپوک سا ۔۔۔ پیسوں کے لیے جان کو خطرے میں ڈالنا اسے صحیح نہ لگا۔

کہاں۔۔۔ ہے۔۔بھوت۔۔۔۔؟؟ وہ بھاگتا ہوا بولا۔

وہ۔۔۔گاڑی میں۔۔۔ ہیں۔۔۔ تین بھوت ہیں۔۔۔۔ انسان کے روپ میں۔۔۔ انسانوں کو کھاتے ہیں۔۔ بھاگ لو۔۔۔۔ اگر جان پیاری ہے۔۔۔

کشش نے بھاگتے ہوٸے اسے مزید ڈرایا۔ اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا۔

تو واقعی گاڑی ان کے پیچھے تھی۔ وہ دونوں لڑکیاں بھاگتی اس سے آگے نکل گٸیں تھیں۔ اس نے بھی سپیڈ پکڑی۔ اور ان کو بھی کراس کر گیا۔

ار وہ دونوں دیکھتی رہ گٸیں۔

گاڑی ان کے قریب پہنچنے والی تھی۔ اور اب ان کی ٹانگوں میں جان بھی باقی نہیں بچی تھی۔ وہ کڈنیپرز بھی ان کو جان بوجھ کے بھاگا رہے تھے۔ تا کہ تھک کے خود ہی ہار مان جاٸیں۔

وہ انکی حالت کو انجواٸے کر رہے تھے۔

عناٸشہ نے مڑ کے انکو مسکراتے دیکھا۔ وہ ان کا مزاق اڑا رہے تھے۔

کچھ زیادہ ہی نہیں ہو گیا یہ۔۔۔؟؟

عناٸشہ نے دانت پیستے کہا۔

کیا خیالہے۔۔۔؟؟ مزہ چکھاٸیں پھران کو۔۔۔؟؟

کشش نے آنکھ ونک کرتے کہا۔ جبکہ بھاگنا نہیں روکا۔

ڈن۔۔ پارٹنر۔۔۔۔! عناٸشہ بھی کشش کے رنگ میں رنگ گٸ۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

پورا پارک چھان مارا۔ لیکن وہ کہیں نہ ملیں۔۔

وہ دونوں بہت پریشان تھے۔

کہاں چلی گٸ۔۔۔؟؟ یامین نے ماتھا مسلا۔

حازق نے گہرا سانس خارج کیا۔

پارک تقریباً خالی ہو چکا تھا۔

اور ان کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔

دادا جی کی کال آرہی ہے بار بار۔۔ کیا کروں۔۔؟؟ کیا جواب دوں گا انہیں۔۔۔؟؟

یامین نے موباٸیل حازق کے سامنے کرتے کہا۔

جس پے کال آرہی تھی۔

اتنے میں ایک شخص بھاگتا ہوا ان کے پاس سے گزرا۔ بھوت۔۔۔۔ بھوت۔۔۔۔! بچاٶ۔۔۔۔!

ان دونوں نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ اور اس کے پیچھے بھاگے۔

وہایک ریسٹورنٹ میں گھس گیا۔

کیا بول رہا ہے۔۔۔۔؟؟ کونسا بھوت۔۔۔؟؟

مینجر نے اس شخص سے غصے سے پوچھا۔

وہ۔۔۔۔ہ۔۔ تین۔۔بھوت ۔۔۔وہاں۔۔۔! وہ ہکلاتے بولا۔

تمہیں۔۔۔ بھیجا۔۔۔ کہ ان لڑکیوں سے۔۔ بل لو۔۔۔ اور تم۔۔ واپس آکے اب۔۔ یہ۔۔ڈرامہ کر رہے ہو۔۔۔۔! تا کہ۔۔۔ میں بل معاف کردوں۔۔۔۔ لیکن یاد رکھنا بل تمہاری تنخواہ میں سے کٹے گا۔

مینجر نے اسے اچھا خاصا لتاڑ کے رکھ دیا۔

لیکن وہ ڈر کے مارے چپ ہی رہا۔ مینجر اندر کی جانب بڑھ گیا۔

حازق اور یامین اس ویٹر کی طرف بڑھے۔

ایک منٹ۔۔۔۔! کیا۔۔۔ وہ یہ۔۔۔ لڑکی۔۔۔ تھی۔۔۔؟؟

یامین نے کشش کی تصویر موباٸیل پے اسے دکھاٸی۔

اس نے آنھیں پھاڑے پہلے تصویر کو دیکھا۔ پھر یامین کو۔

ججججی۔۔۔جی۔۔۔ یہی تھی۔۔۔ کھانا کھا کے بل دیٸے بنا ہی بھاگ گٸ۔۔ یہ۔۔۔ اور اس کے۔۔۔ ساتھ۔۔ ایک۔۔اور بھی تھی۔۔۔۔

ویٹر فوراً بولا۔

کہاں۔۔۔ کہاں۔۔ گٸ ہیں۔۔۔ وہ۔۔۔؟؟ حازق نےبنا دیر کیے اس سے پوچھا۔

وہ۔۔۔ اس طرف۔۔ وہاں۔۔ بھوت۔۔ہے۔۔۔!

وہ پھر گھبرا کے بولا۔

تھینک یو۔۔۔۔۔! دونوں اس طرف نکلے۔۔ لیکن یامین واپس مڑا۔

یہ۔۔آپ کا بل۔۔۔ !

پانچ پانچ ہزار کے ڈھیر سارے نوٹ اپنی والٹ سے نکال اس ویٹر کے ہاتھ پے رکھ دیے۔

وہ حیران رہ گیا۔

سر۔۔۔۔۔! بہت۔۔۔ زیادہ ہیں۔۔۔ وہ منمنایا۔

باقی۔۔۔ ٹپ رکھ لو۔۔۔

حازق نے جاتے ہوٸے مڑ کے کہا۔

اور دونوں گاڑی کی جانب بڑھے۔اور گاڑی اس کے بتاٸے ہوٸے راستے پے ڈال دی۔

کشش یو۔۔ آر۔۔۔ امپاسبل۔۔۔۔! یامین دل ہی دل مں اس سے مخاطب ہوا۔ اس کے چہرے پے دھیمی مسکان کی آنچ تھی۔

جیسے سلگتی زمین پے بارش کی چھوٹھ چھوٹی بوندیں برستی ہیں۔۔وہ ا پنے اندر کے چھپے اس احساس کو باہر آنے سے مزید روک نہیں پا رہا تھا۔

دل اس کے لیے ایک الگ ہی ترنگ میں دھڑک رہا تھا۔

حازق بھی اس کے چہرے کی ایک الگ ہی مسکراہٹ کو دیکھ اس کے لیے دل سے خوش ہوا تھا۔ او دعا کی تھی کہ وہ دونوں ٹھیک ہوں۔

☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀

ایسی بھی کیا بیماری۔۔۔ کہ ابھی تک ہاسپٹل میں ہے۔۔۔ اور گھر ہی نہیں۔۔ آٸی۔۔۔!

سویرا بیگم وال کلاک پے ٹاٸم دیکھتے بولیں۔

دادا جی کو بھی بے انتہا غصہ تھا۔

جس کی وجہ یامین تھا۔ ان کا فون نہیں اٹھا رہا تھا۔

حیات صاحب نے بھی کافی دفعہ کال کی۔ لیکن اس نے نہیں اٹھاٸی۔

اب تو سارے گھر والے واقعی پریشان ہوگٸے تھے۔

کسی کو سمجھ نہیں آرہی تھی۔ کہ کیا ہو رہا ہے۔۔؟؟

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

کیا ہوا۔۔۔؟؟ آپ کسے اس وقت بار بار فون کر رہی ہیں۔۔؟؟

شہریار نے گھڑی ساٸیڈ دراز پے رکھتے سرسری سا پوچھا۔

عناٸشہ کو۔۔۔۔! اتنی دیر ہوگٸ۔۔ ہے۔۔۔ ابھی تک ۔۔آٸی نہیں۔۔۔

کال کرتے وہ پریشانی سے بولیں۔

شہعیار صاحب ک کان بھی کھڑے ہوٸے۔

کہاں۔۔ گٸ تھی وہ۔۔؟؟ انہوں نے مڑ کے بیوی سے پوچھا۔

جاب کرتی ہے۔۔ وہ۔۔۔! لہجے میں شکوہ تھا۔

شہریار صاحب نے لب بھینچے۔

ایسی کونسی جاب ہے۔۔۔؟؟ کہ رات کے دس بج گٸے ہیں۔۔ اور گھر نہیں آٸیں۔۔؟؟

اب زرا برہمی سے پوچھا گیا۔

معلوم نہیں۔۔ نہ انہوں نے بتایا نہ میں نے پوچھا۔۔

صاف الفاظ میں کہتیں وہ اپنی میڈیسن لینے لگیں۔

اپین پریشانی انہوں نے بہت آرام سے شہریار کے کاندھوں پے ڈال دی تھی۔ وہ جانتی تھیں ۔ بھلے وہ اسے ایکسپٹ نہیں کر پاٸے ۔۔ لیکن۔۔ ایک باپ کی تڑپ ان کے اندر بھی ہے۔

اپنی میڈیسن لے کے وہ آنکھیں موند کے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا گٸیں۔

جبکہ شہریار صاحب اٹھے موباٸیل اٹھایا۔ اور باہر نکلے۔

وہ جانتی تھیں۔ اب وہ عناٸشہ کو پا لیں گے۔

ایک پیاری سی مسکراہٹ نے ان کے لبوں کو چھوا۔

☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀
☀

کشش نے اردگرد نظریں دوڑاٸیں تو اسے ایک ساٸیڈ پے کافی زیادہ پتھر نظر آٸے۔ لیکن وہ بہت بڑے بڑے تھے۔

کشش نے عناٸشہ کو اشارہ کیا۔

اور وہ دونوں اس طرف بھاگتے پہنچیں۔

زیادہ سارے پتھر ہاتھ میں اٹھاٸے۔ اور عناٸشہ کو دیکھا۔

فاٸر۔۔۔۔۔۔۔! کشش زور سے چلاٸی ۔ اور دونوں اندھا دھند گاڑی پے پتھر مارنے لگیں۔

وہ جو انکی بے بسی کو انجواٸے کر رہے تھے۔ اچانک پتھوں کی بارش سے وہ گھبرا گٸے۔

گاڑی روکو۔۔۔! انکو تو میں چھوڑوں گا نہیں۔۔

اسد غصے سے حسن سے بولا۔

کشش نے ایک بڑے پتھر کا نشانہ تاک کے ٹاٸر پے مارا۔

جس سے گاڑی ان بیلنس ہوٸی۔

حسن نیا نیا تھا اس کام میں۔۔ اس لیے وہ سنبھال نہ سکا۔

کیاکر رہا ہے۔ پاگل۔۔۔؟؟ گاڑی سنبھال۔۔

جلیل بہت اونچی آواز میں چلایا۔

گاڑی ان کے پاس پہنچی تو۔ وہ دونوں پھر بھاگنے کی تیاری باندھتے نکلت نکلتے جلیل کے سر پے زور سے پتھر مار چکی تھی۔ کیونکہ وہ گاڑی آہیستہ ہونےپے باہر نکلا تھا۔

اور یہی وہ غلطی کر گیا۔

اوہ۔۔میرا۔۔سر۔۔۔۔۔! اسکا ہاتھ سر پے گیا۔ جہاں سے خون نکلا۔

کشش کے نشانہ بازی کی پرکٹس آج خوب کام آٸی۔

Run…

کشش نے عناٸشہ نے کو کہا۔ اور دوڑ لگا دی۔ عناٸشہ سارے پتھر ہاتھ سے نیچے گراۓ اور کشش کے پیچھے بھاگی۔

دونوں نے اپنی سپیڈ بڑھاٸی۔ لیکن وہ اب زیادہ تیز نہیں بھاگ سکتی تھیں۔ بہت دیر سے بھاگ بھاگ کے اب انکی ٹانگیں جواب دے گٸی تھیں۔

سانس پھو ل چکا تھا۔۔۔

ایک جگہ رک سانس بحال۔کیا۔

مجھے ناں۔۔۔ بددعا لگی ہے۔۔ کہ ۔۔بس ساری زندگی بھاگتی رہوں۔۔۔

کشش نے پھولے سانس سے کہا۔

میری بھی اب۔۔۔ بس ہو گٸ ہے۔۔۔۔!

وہ آرہے ہی۔۔ پیچھے۔۔۔۔!عناٸشہ نے کہتے مڑ کے دیکھا۔ اور کشش سے کہا۔

بہت ہی کوٸی ڈھیٹ کڈنیپرز ہیں۔۔۔

کشش نے دانت پیستے کہا۔

اور ایک وہ لینڈ لارڈ ہیں۔۔ ان کا پتہ ہی نہیں۔۔ وہ کہاں ہیں۔۔۔!کشش برا منہ بناتے بولی۔ اور دونوں ہی دکھتی ٹانگوں سے ایک بار وہ بھاگنے لگیں۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

ویٹ ویٹ۔۔۔۔! حازق ۔۔گاڑی روکو۔۔۔۔۔یامین کی نظر سامنے سے بھاگتی ہوٸی اپنی طرف بڑھتی کشش پے جا ٹہری۔

حازق نے گاڑی کو فوراً بریکس لگاٸے۔ دونوں پلک جھپکتے باہر نکلے۔

کشش کے پیچھے ہی عناٸشہ پے بھی حازق کی نظر پڑی۔

تو اس کے دل نے شکر کا کلمہ ادا کیا۔

کشش بھاگتی ہوٸی یامین کے قریب پہنچی۔ یامین نے اسے اپنی پناہوں میں لیا۔ اور کشش کو ایسا لگا جیسے وہ کسی کے مضبوط حصار میں آگٸ ہو۔

لمبے اور گہرے سناس لیتی وہ یامین کے سینے سے لگی۔ آنھیں موندے اس کی مخصوص پرفیوم کی خوشبو سے اسے محسوس کرتی خود کو پرسکون کر رہی تھی۔

یامین نے اسے کسی بچے کی طرح اپنی آغوش میں لیا ہوا تھا۔

اور آنکھیں موندے وہ بھی دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا۔

عناٸشہ حازق کو دیکھ وہیں اس کے قدم تھمے ۔

دوسری طرف حازق بھی جو بھاگا آرہا تھا اسکی طرف وہ بھی رکا۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ ایک پل کے لیے دوونوں نے ہی ایک دوسرے کو دیکھ اللہ شکر ادا کیا۔

عناٸشہ کی پلکیں بھیگنے لگیں۔

نظریں پھیر لیں۔

رخ بدلہ۔ آنسو پونچھے۔

آنکھیں بند کرتے گہرا سانس خارج کیا۔

جیسے بہت تھک ہو۔۔

حازق بھی دھیرے دھیرے چلتا اس کے قریب آیا۔

تم۔۔۔۔ ٹھیک ہو ناں۔۔۔؟؟ حازق نے بنا کچھ سوچے سمجھے دل کی بات مانتے اس سے بہت نرمی سے پوچھا۔

عناٸشہ نے ناک پونچھا۔ اور ہاتھوں کی پشت سے آنسو صاف کرتے أثبات میں سر ہلایا۔

جبکہاس کے ماتھے پے خون کے جمے قطروں کو وہ بہت آسوانی سے دیکھ گیا۔

اسے چوٹ لگی تھی۔

حازق کا دل بے چین ہوا۔

گاڑی واپس موڑ۔۔۔۔

دور سے ہی جلیل یامین کو پہچان گیاتھا۔ حسن سے کہتے وہ گاڑی واپس موڑ گٸے۔

لیکن۔۔سر۔۔۔! وہ لڑکیاں سامنے ہی ہیں۔۔۔

حسن ہاتھ آیا شکار چھوڑنے پے تیار نہ تھا۔

تجھے جو کہا وہ کر۔۔۔ اگر جان پیاری ہے تو۔۔۔ نکلو۔۔۔ فوراً۔۔ اس بندے کے ہاتھ لگے ناں۔۔ تو سیدھا اوپر پہنچیں گے۔

نکلو۔۔۔ اب۔۔۔! جلیل نے افرا تفری میں یامین کی طرف اشارہ کرتے کہا۔ اور گاڑی کو واپس موڑ لیا۔

اتنی دیر کر دی آنے میں۔۔۔؟

سر اٹھا کے وہ یامین سے شکوہ کرتی یامین کے دل کی دنیا کو ہلا گٸ۔

دلہن کا بکھرا بکھرا روپ ۔۔۔۔

اور خمار آلود آنکھیں ۔۔۔۔۔

اورشربتی لب۔۔۔

اور ایک استحاق ۔۔۔

یامین کا دل تو اپنے اختیارمیں رہا ہی نہیں۔۔۔

بے اختیار ہی دہکتے لبوں کو اسکے ماتھے پے رکھا۔ دونوں ہی آنکھیں بند کیےاس لمحے ایک دوسرے کا ہونا محسوس کر رہے تھے

وہ یامین کے سہارے ہی کھڑی تھی۔

اسکے اندر جیسے جان ختم ہو گٸ تھی۔

کشش ۔۔! ٹھیک ہو۔۔۔؟؟

یامین کو اسکا وجود بے جان سا محسوس ہوا۔

نیم وا آنکھیں کیں۔ اور چہرے پے ایک دلفریب مسکان آگٸ۔

یامین اسکی حالت کے پٕشِ نظر مزید کچھ نہ بولا۔ اور اسے اپنی بانہوں میں اٹھاٸے گاڑی کی جانب بڑھا۔

آج ایک الگ ہی احساس نے گھیرا تھا اسے۔۔۔

وہ پل جو وہ دور تھی۔۔

اور وہ پل جب وہ اسے واپس ملی۔۔۔

اس آگاہی کے تھے۔۔ جو محبتوں کا وجود دلوں میں ڈال دیتی ہیں۔۔۔

وہ اسے اچھی لگتی تھی۔۔

نکاح سے پہلے۔۔۔

یا بعد۔۔۔

وہ تعین نہ کر سکا۔۔۔

لیکن۔۔۔ اس کا ہونا۔۔یامین کی سانسوں کے ہونے کے لیے ضروری تھا۔

اس بات کا علم اسے ہو گیا تھا۔

حازق ٕیامین اور کشش کو میر ولا ڈراپ کرتا عناٸشہ کو لیے ہاسپٹل آگیا۔

اسکی چوٹ اسے بے چین کر رہی تھی۔

عناٸشہ نے خاموشی سے اپنا چیک اپ کروایا۔

ڈونٹ وری زیادہ گہرا زخم نہیں۔۔ بینڈیج کر دی۔۔

اور یہ۔۔میڈیسن لے لیں۔

ڈاکٹر نے پیشہ ورانہ انداز میں کہا۔

حازق شکریہ ادا کرتا عناٸشہ کو لیے گاڑی کی جانب بڑھا۔

ساے راستے خاموشی چھاٸی رہی۔

حازق نے ایک دو بار اسے دیکھا لیکن وہ باہر ہی دیکھتی رہی۔

یہی بات اسے زیادہ تکلیف دے رہی تھی۔

عناٸشہ ! تم۔۔۔۔ ٹھیک ہو ناں۔۔۔؟؟

حازق کو سمجھ نہ آیا کہ کیا بات کرے۔۔۔؟

پھر بھی بات شروع کی۔ لیکن عناٸشہ نے اگنور کر دیا۔

حازق نے لب بھینچے ۔ اور گاڑی کی سپیڈ بڑھاٸی۔

عناٸشہ کو اسکے غصے کا اندازہ ہوا۔ جب گاڑی کیسپیڈ مزید بڑھی۔

حازق۔۔۔۔! سپیڈ۔۔۔ آہیستہ کریں۔۔

وہ گھبرا کے بولی۔

اب کی بار حازق نے اگنور کیا۔

او مزید سپیڈ بڑھاٸی۔

عناٸشہ اتنی تیز سپیڈ پے بہت سخت گھبرا گٸ۔

پہلے سے ہی اسکو اپنی طبعیت صحیح نہیں محسوس ہو رہی تھی۔

آنکھیں بند کیے وہ سر نیچے کر گٸ۔

حازق۔۔۔! پلیز۔۔۔ گاڑی۔۔۔ سلو۔۔۔۔! مزید وہ نہ بول پاٸی۔ اسکی آنکھ سے ایک آنسو گرا۔

حازق نے ایک نظر اسے دیکھا اور جھٹکے سے بریک لگاٸی۔ کہ اسکا سر ڈیش بورڈ سے جا ٹکرایا۔

اور اسے لگا پوری دنیا ہی گھوم گٸ ہے۔

ایک پل میں اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔

سر پے ہاتھ رکھے وہ تڑپ گٸ۔

اترو گاڑی سے۔۔۔ !

حازق نے بنا اسکی حالت کی پرواہ کیے اسے حکم نامہ جاری کیا۔

عناٸشہ نے دکھی نظروں سے اسے دیکھا۔

اور خاموشی سے چادر اپنے اردگرد لپیٹتی دروازہ کھول نیچے اتری۔

گھر آچکا تھا۔ اسے اندازہ نہ تھا۔

پلٹ کے دیکھا۔ وہ زخمی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

عناٸشہ خاموشی سے اندر کی جانب بڑھ گٸ۔

جبکہ حازق نے زور سے اسٹیرنگ پے مکا مارا۔

وہ عناٸشہ کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔ لیکن پھر۔۔ بھی دے گیا۔۔۔!

گاڑی اپرک کرتا وہ بھی اندر کی جانب بڑھا۔

جہاں عناٸشہ کی پیشی شہریار کی عدالت میں تھی۔

شہریار غصے سے بھرے کھڑے تھے۔ جبکہ عناٸشہ سر جھکاٸے کھڑی تھی۔

یہ وقت ہی گھر آنے کا۔۔۔؟؟ شیرف گھر کی بچیاں۔۔ اتنی رات گٸے گھر سے باہر رہتی ہیں کیا۔۔؟؟

اسکے سر کی چوٹ کو بھی نظر انداز کرتے شہریار صاحب کا انداز بہت روکھا تھا۔

عناٸشہ کا سر نہ اٹھا۔ وہ خاموش ہی رہی۔

جمیلہ بیگم بھی سیڑھیوں پے کھڑیں دیکھ رہی تھیں۔انکا بس نہیں چل رہاتھا کہ عناٸشہ کواپنے آنچل میں چھپا لیں۔

بابا۔۔۔! حازق آگے بڑھا۔

حازق۔۔ ! آپ بیچ میں نہیں بولیں گے۔۔ اس معاملے سے آ کا کوٸی تعلق نہیں۔۔

شہریار صاحب دھیمے لیکن سخت لہجے میں بولے۔

اور آپ۔۔۔! ایسی کون سی جاب ہے۔۔ ؟ جہاں۔۔ آپ کو رات بھر رہنا پڑے۔۔۔؟؟

سینے پےہاتھ باندھے وہ آج عناٸشہ کو بخشنے کے موڈ میں نہ تھے۔

عناٸشہ آنکھیں بند کیے انکی باز پرس سن رہی تھی۔ کتنااس کا دل تھا کہ یہ بندہ اسے مخاطب کرے۔

اس پے باپ ہونے کا حق جتاٸے۔

عناٸشہ کا انجانے میں ہی آج دل کا ارمان پورا ہوگیا۔

وہ بہت مطمیٸن کھڑی تھی۔ انکی ڈانٹ اسے پھولوں کی طرح محسوس ہو رہی تھی۔

سر تو جھکا تھا۔ لیکن ۔۔ دل میں فخر تھا کہ یہ شخص اس کا باپ ہے۔۔۔ اس کا ساٸبان۔۔۔

میں آپ سے بات کررہا ہوں۔۔۔! شہریار کو اسکی خاموشی بری لگی۔

بابا۔۔۔! حادثہ ہو گیا تھا۔۔ چھوٹا سا۔۔۔ اس لیے۔۔۔ دیر ہوگٸ۔

حازق سے رہا نہ گیا۔ اس لیے بول پڑا۔

شہریار نے گہرا سانس خارج کیا۔

آٸندہ ایسا نہ ہو۔۔۔! جو بھی ہے۔۔۔

کوٸی بھی مسٸلہ ہے۔۔ گھر میں انفارم کریں۔

جااٸیں اپنے روم میں۔۔۔! لہجہ دھیما ہوا۔ لیکن الفاظ میں نرمی نہ تھی۔

عناٸشہ بنا دیکھے اثبات میں سر ہلاتی اندر کی جانب بڑھ گٸ۔

حازق بھی خاموشی سے اپنے روم کیجانب بڑھا۔

شہریار ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ ۔۔۔ کچھ اور ہی سوچنے لگے تھے۔

جبکہ جمیلہ بیگم عناٸشہ کے روم کی جانب اس کے پیچھے ہی بڑھیں۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

مر ولاکےگیٹ کےاندر یامین نےقدم رکھا۔

کشش ابھی بھیاسکی بانہوں میں تھی۔

ایک پھول جتنا بھی یامین کو اسکا ویٹ نہ لگا۔

جبکہ کھانا ۔۔۔ بے حساب۔۔۔

اسکے چہرے پے تھکن کے آثار دیکھتا وہ زیرِ لب مسکرایا۔

اوروہ آنکھیں موندے یامین کے سہنے پے سر رکھے آنکھیں بند کیے سکون محسوس کر رہی تھی۔

یہ جانے بنا کہ اندر دونوں کے لیے ایک طوفان کھڑا ہو چکا ہے۔

جسکا ان دونوں نے مل کے سامنا کرنا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *