Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 06)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 06)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
ایک قدم بھی آگے بڑھایا۔ تو اپنے قدموں پے چل کے نہیں جا سکو گے۔۔۔
سرد آواز میں کہتا وہ عناٸشہ اور اس لڑکے کے بیچ میں جا کھڑا ہوا۔
عناٸشہ کی نظر اسکی چوڑی کمر پے پڑی۔
دھوپ میں ایک گھنی چھاٶں کا احساس سا جاگا۔۔
جانتے ہو۔۔۔ ایک شریف گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔۔ اور اس نے مجھے دھکا دیا۔
وہ بھڑکا تھا حازق کے بیچمیں دیواربن جانے سے۔
شریف ہون کے باوجود۔۔ میں ہرگز اجازت۔نہیں دوں گا۔۔ کہ میرے عملے کے ساتھ کوٸی بھی بد تمیزی کرے ۔۔۔ کمر پے ہاتھ باندھے پرسکون لیکن سخت لہجے میں کہا۔
سیکیورٹی۔۔۔۔!! حازق نےاونچی آواز میں کہا۔ تو ایک لمحے میں تین سیکیورٹی مین وہاں پہنچ گٸے۔
ان کو باعزت طریقے سے باہر چھوڑ کے آٶ۔
آواز میں رعب واضح تھا۔
دیکھ لوں گا۔۔۔۔
وہ لڑکا اپنے دوستوں کے ساتھ پھکارتا باہر نکلا۔
ان کے جانے کے بعد حازق عناٸشہ کی طرف پلٹا۔۔
دونوں کی نظریں ایک دوسرے پے اٹھیں۔
ایککی نظروں میں درد تھا۔
تو دوسرے کی نظروں میں ڈر تھا۔
گلفام۔۔۔۔!! فیمیل اٹاف کا حساب کتاب کلٸیر کے کے میرے آفس میں بھیجو۔
ایک کڑی نظر عناٸشہ پے ڈالتے وہ وہاں سے ہٹ گیا۔
کہیں بھولا بسرا ایک آنسو گالپے ڈھلک آیا۔
دیکھا۔۔۔منع کیاتھا۔۔۔ نہ کچھ کہو۔۔!!
سب کی نوکری چلی گٸ۔۔۔۔!!
ایک لڑکی نے ناگواری سے کہا۔
عناٸشہ کا سر جھکا۔
اور وہاں سے ہٹ گٸ۔
یونیفام چینج کرتے اس کے دماغ میں بس ایک ہی بات تھی۔ کہ کسی طرح وہ باقی سب کی جاب بحال۔کروادے۔ بھلے اسے نوکری سے نکال دیں۔
یہی سوچتی ہوٸی وہ باہر آٸی۔
مس عناٸشہ ۔۔! سر آپ کو آفس میں بلا رہے ہیں۔
عناٸچہ کے دل کی دھڑکن میں انتشار برپا ہوا۔
لیکن ہمت کرتی حازق کے آف میں انٹر ہوٸی۔
وہ سامنے چیٸر پے ٹانگ پے ٹانگ جماٸے بیٹھا۔ چہرے کو ہاتھوں کی مٹھی پے ٹکاٸے اسی کا ویٹ کر رہا تھا۔
دھیرے دھیرے چلتی وہ سر جھکاٸے اندر داخل ہوٸی۔
مس عناٸشہ۔۔۔۔!!
سر۔۔۔۔!! حازق کچھ کہتا کہ عناٸشہ بول دی۔
سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
اس سے پہلے۔۔کہ ۔۔۔ آپ۔۔ کچھ ۔۔۔کہیں۔۔ میں۔۔ اپنی غلطی۔۔۔۔ تسلیم کرتی ہوں۔۔۔!! ہونٹوں پے زبان پھیرتی نظریں اٹھاتی گراتی وہ حازق کو میمراٸز کر رہی تھی۔
لیکن۔۔۔ میں ۔۔چاہتی ہوں۔۔۔ کہ۔۔۔ سزا۔۔ بھی مجھے۔۔۔ ہی۔۔ملے۔۔۔ میری وجہ سے باقی اسٹاف ک جاب سے نہ نکا لا جاٸے۔۔۔۔!!
کہنے کے ساتھ ہی امید بھری نظروں سے حازق ک دیکھا۔
ہممممم۔۔۔۔ کیا سزا ملنی چاہیے آپ کو۔۔۔ آپ کی غلطی کی۔۔۔؟؟
حازق جو اسے اچھی خبر ہی سنانے والا تھا۔۔ اسکی اس بات پے اسے ایک نٸ بات مل گٸ۔
آپپپپپ۔۔۔۔ مجھے ۔۔ جاب ۔۔۔ سے نکال سکتےہیں۔۔۔۔۔!!
لہجہ مضبوط تھا ۔۔ لین آواز کی لغزش حازق باآسانی محسوس کر سکتا تھا۔
یہ وہ تو نہیں تھی۔۔۔
پر اعتماد سے عناٸشہ۔۔۔۔۔!!
یہ تو۔۔۔ کوٸی اور ہی تھی۔۔۔
ان آٹھ ماہ میں وہ کتنا بدل گٸ تھی۔۔۔۔!!
حازق سوچ کے ہی رہ گیا۔
گری سانس خارج کرتے وہ اٹھتا ہوا اسکے قریب آیا۔
بالکل سامنے کھڑا وہ عناٸشہ کی سانسوں کا ارتعاش محسوس کر سکتا تھا۔
دل تو چاہتا ہے۔۔۔ کہ تمہاری ۔۔ غلطی۔۔۔ کی تمہیں۔۔۔ ایسی سزا دوں۔۔ کہ دوبارہ۔۔۔ پھر سے وہ غلطی۔۔ نہ دہرا سکو۔۔۔۔!!
اس کے الفاظ عناٸشہ کی سماعت سے ٹکراٸے۔ تو اس نے پتھراٸی نظروں سے اسے دیکھا۔
اتنے نزدیک ہو کے بھی وہ بہت دور تھا۔۔۔
پاس وہ آنہیں سکتا تھا۔۔۔
قریب وہ جا نہیں سکتی تھی۔
آنکھوں کی نمی حازق کے پتھر دل کو کمزور کرنے لگی۔
اس سے پہلے کے وہ پھر سے اسکے سحر میں جکڑا جاتا۔ فوراً سے پیچھے ہٹا۔
مس عناٸشہ۔۔۔!! وہ کیا ہے۔۔ ناں۔۔۔ مجھے۔۔۔ لوگوں کو نہ ید رکھنے کی عادت ہے۔۔ نہ انکی غلطیوں کو۔۔۔۔!!
لاپرواہی سے کہتا وہ اپنی سیٹ کی جانب بڑھا۔
ویٹریس کی جاب کو ہم۔۔ اس ہوٹل سےختم کر رہے ہیں۔
اس لیے۔۔۔ جو بھی یہاں موجود تھیں۔۔۔ لڑکیاں۔۔ ان سب کو باقی برانچز میں ایڈجسٹ کر دیا جاٸے گا۔
اور رہی آپ ک بات۔۔۔ مس عناٸشہ۔۔۔!!
آپ کی آج سے جاب یہ ہوگی۔۔۔کہ آپ۔۔۔ میری پرسنل سیکرٹری کا کام سر انجام دیں گیں۔
حازق نے بہت سوچ سمجھ کے اسکے چہرے کو فوکس کرتے اپنی بات مکمل کی۔
عناٸشہ نے سر جھکا لیا۔
ہ نہیں سمجھ پا رہی تھی۔۔۔ کہ وہ خوش ہو۔۔۔ ویٹریس کی جاب سے جان چھٹنے پے۔۔۔؟ یا۔۔ حازق۔۔ کے اب ہر پل کے ساتھ۔۔۔۔ ہونے پے۔۔ اپنے حال پے رحم کھاٸے۔۔۔؟؟














دادا جی۔۔۔۔۔۔!! میں جیت گٸ۔۔۔۔!!
کشش کی خوشی سے بھرپور آواز پے وہ دادا جی مسکرا دیٸے۔
شطرنج کےی بازی وہ ہمیشہ ہی اس سے ہار جایا کرتے تھے۔
میرا بچہ خوش ہوگیا۔۔۔؟؟
بہت ۔۔۔۔۔۔ زیادہ۔۔۔۔!!
بانہیں پھیلا کے کہتی وہ دادا کو اپنی چڑیا لگی۔
دادا جی۔۔۔ آپ کو یاد ہے۔۔۔ آج۔۔ سے پندرہ دن بعد کیا ہے۔۔۔؟؟
پاس بیٹھتے لاڈ والے انداز میں پوچھا۔ تو وہ ہنس دیٸے۔
جی۔۔۔ بالکل۔۔۔ ہمیں بہت۔۔۔۔۔۔ اچھی طرح یاد ہے۔
دادا جی نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔
پھت۔۔ میرا گفٹ۔۔۔ میں اپنی مرضی سے لوں گی۔۔۔!!
بہت نخرے اور مان سے کہا۔
جی۔۔ میرا بچہ کہے گا۔۔۔ ملجاٸے گا۔۔۔!!
اور کچھ۔۔۔؟؟ دادا جی اسکے چہرے کی مسکراہٹ کو واپس آتے دیکھا۔
یاہو۔۔۔۔۔!! میرے سب سے اچھے دادا جی۔۔۔ آپ کو پتہ ہے۔۔۔ آپ ہوتے ہیں۔۔ تو۔۔مجھے۔۔ ایسا لگتا ہے۔۔ میں اکیلی نہیں۔۔ آپ۔۔ ہیں۔۔ میرا سب ۔۔کچھ۔۔!!
اسکی آنکھیں جھلملا گٸیں۔
میرا بچہ کبھی اداس نہیں ہونا۔۔۔ میں اپنے بچے کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ ہی جیتا ہوں۔۔۔!!
دادا جی نے اسکے ماتھے پے بوسہ دیا۔
دادا جی تھوڑا سا پیار ہمارے لیے بھی بچا لیں۔۔۔!!
سمیرا نے آتے مسکینی شکل بناتے کہا۔ تو کشش نے ابگوٹھا دکھایا۔
تم سب۔۔۔ میرے بچے ہو۔۔۔ میرے گھر کی رونق۔۔۔ !! تم۔۔سب کو دیکھ ہی تو جیتا ہوں۔۔۔ بلکہ۔۔۔ خو کو جوان محسوس کرتا ہوں۔۔۔
دادا جی کہتے ہوٸے سمیر کو پیار سے دیکھا۔ تو وہ بھی ہنس دیا۔














بھاٸی ! آپ کی ۔ہر بات صحیح ہے۔۔۔ لیکن۔۔۔ مما کو جانتےہیں ناں۔۔ آپ۔۔۔؟؟ وہ کبھی نہیں۔۔ہونے دیں گیں۔۔ یہ رشتہ۔۔۔!! بلکہ۔۔ الٹا فساد کھڑا کر دیں گیں ایک۔۔۔
داور اس وقت یامین کےآفس میں بیٹھا تھا۔
یامین نے اس سے ساری بات کرنے کے بعد اسے اسٹینڈ لینے کا کہا تھا۔
داور۔۔۔!! یہ تو کوٸی بات نہ ہوٸی۔۔۔ اگر۔۔ اتنی ہمت ہے نہیں۔۔ تو ۔۔ کسی کو محبت دے کے اسے آس نہیں دلانی چاہیے۔۔۔ کرن۔۔۔ میرے لیےمیری بہن ہے۔۔۔ اور میں ہرگز نہیں چاہوں گا۔۔ کہ اس کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی ہو۔۔۔۔!!
یامین نے بنا کسی لگی لپٹی کے داور سے بات کی۔
بھاٸی۔۔۔! کرن میرے لیے بھی۔۔ بہت اہم ہے۔۔۔! اور میں نہیں۔۔ چاہتا وہ۔۔مما کی کسی بات کا نشانہ بنے۔۔۔ آپ۔۔ بتاٸیں۔۔۔ میں کیا کروں۔۔۔؟؟
داور نے گہرا سانس خارج کرتے یامین سے مدد کرنے کا کہا۔
یامین سوچتے ہوٸے اسے دیکھنے لگا۔
بہت سارے آپشنز ہیں۔ لیکن۔۔میرا پہلا مشورہ یہی ہے۔۔ کہ گھر والوں سے بات کرو۔۔۔ اور اپنے فیصلے سے انہیں آگاہ کرو۔۔۔ اگر کوٸی مسلہ کری ایٹ ہوتا ہے۔۔ تو سیکنڈ آپشن بھی ہے۔۔۔
لیکن۔۔ میری ایک بات یاد رکھنا۔۔ اگر ایک بار یہ فیصلہ لےلیا کہ اپنی محبت کو اپنانا ہے تو پیچھے نہیں ہٹنا۔
باقی رب تمہارا ساتھ دے گا۔
یامین نے اسے حوصلہ دیا۔ تو وہ اثبات میں سر ہلاتا مسکرا دیا۔













عناٸشہ گھر آچکی تھی۔
بات بات پے اسکی آنکھوں میں آج پانی جمع ہوتا جا رہا تھا۔
کچن میں کام۔کرتے وہ دو بار چہرہ دھو چکی تھی۔
آٹھ ماہ بعد وہ آج یوں ٹکرا جاٸے گا۔ اسے کیا خبر تھی۔۔؟؟
دیکھو۔۔۔! بہتر ہوگا۔۔ تم حازق کی زندگی سے نکل جاٶ۔۔۔ اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو۔۔ دو گھر برباد ہوجاٸیں گے۔۔۔
اسکی بہن کا بھی۔۔اور اسکا اپنا بھی۔۔۔
تم جانتی ہوناں۔۔۔ جب وٹہ سٹہ ہو تو۔۔ ایک کے ساتھ دوسرے کا بھی گھر خراب ہوتا ہے۔۔۔
وہ بہت رسان سے عناٸشہ کو سمجھا رہی تھیں۔
اور عناٸشہ کا دل کسطرح ٹوٹ کے بکھر رہا تھا۔ یہ وہی جانتی تھی۔
آپ۔۔۔ بے فکر رہیں۔ آپ کے۔۔۔ بیٹے کی زندگی سے۔۔۔ میں نکل جاٶں گی۔۔۔ عناٸشہ نے کھڑے ہوتے مضبوط لیجے میں کہا۔
جبکہ وہ اندر سے کتنا ٹوٹ چکی تھی۔۔ وہ ظاہر نہیں کیا۔
بیٹا۔۔۔!! میں جانتی ہوں۔ تمہارے دل پے کیا بیت رہی ہوگی۔۔۔لیکن۔۔۔ میری مجبوری سمجھنا۔۔۔ مجھے اپنے دونوں بچے بہت عزیز ہیں۔ امید کرتی ہوں۔۔ حازق سے اس بات کا زکر نہیں نہیں کرو گی۔۔!!
آخر میں بھی انہوں نے اپنے ہی مطلب کی بات کر کے عناٸشہ کو چپ ہی کرا دیا۔ وہ جس ٹوٹے دل سے وہاں سے گھر پہنچی تی۔یہ وہی جانتی تھی۔
عناٸشہ !! بیٹا۔۔۔!! کیا ہو گیا ہے۔۔۔؟؟
عابدہ بیگم نے دودھ کو ابلتے چولہے پے گرتے دیکھا۔ تو چولہابند کرتے خیالوں کی دنیا میں کھوٸی عناٸشہ کو چونکایا۔
اوہ۔۔۔مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔!!
عناٸشہ شرمندہ ہوٸی۔
بیٹا۔۔۔!کوٸی بات پریشان کر رہی ہے کیا۔۔۔؟
عابدہ بیگم نے پیار سے دیکھا۔
نہیں۔۔۔ امی۔۔۔!! کچھ بھی نہیں۔۔۔!
آپ ! کیوں آگٸیں کچن میں۔۔ ؟ چلیں۔۔ میں چاٸے لے کے آتی ہوں۔
عناٸشہ خود کو سنبھال چکی تھی۔
اور عابدہ بیگمکو لیے باہر آٸی۔
بیٹا۔۔! خوش خوش رہا کرو۔۔۔!!
تم اداس ہوتی ہو تو۔۔۔ میرا دل بھی اداس ہو جاتا ہے۔۔۔
ارے۔۔ امی۔۔۔ آپ نہ اداس ہوں۔۔۔میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔آپ پریشان نہ ہوں۔
وہ ہنستی مسکراتی ماں کو باتوں میں لگا چکی تھی۔
جبکہ دل آج بھی اسی کے لیے ہمکتا تھا۔ جسے وہ پانہیں سکتی تھی۔













بس۔۔۔!! بہت ہوگیا۔۔۔!! ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے۔۔۔ اس دن کے لیے۔۔ تمہیں بڑا کیا۔ کہ تم۔۔ اپنی مرضیاں کرتے پھرو گے۔۔۔؟؟
حیات صاحب داور کی بات سن کے بھڑک ہی تو گٸے تھے۔
ساتھ میں بیٹھیں سویرا بیگم بھی سخت بھڑکیں تھیں۔
بابا۔۔۔! پلیز
try to uderstand …
داور بے بس سا ہوا۔
You need to understand me .
تمہارا رشتہ ہو گیا ہے۔۔۔ تمہاری خالہ کے گھر ۔
اور میں کسی قسم کا کوٸی اعتراض نہیں سنوں گا۔
ہاتھ اٹھا کے وارن کیا۔
بابا۔۔۔!! میں اپنی محبت سے دستبردار نہیں ہوں گا۔
داور بھی سخت لہجے میں بولا۔
تم۔۔۔ مجھ سے اب زبان لڑاٶ گے۔۔۔؟؟
حیات صاحب جارحانہانداز میں آگے بڑھے۔
نہیں۔۔ بابا۔۔۔!! سب کچھ کر سکتا ہوں۔۔ آپ کے خلاف کبھی نہیں جا سکتا۔
لیکن۔۔۔ یہ بھی سچ ہے۔۔۔ کرنسے دستبردار کسی صورت نہیں ہوں گا۔
داور کے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں چھپا باغی پن حیات صاحب اچھے سے محسوس کر سکتے تھے۔
داور اپنی کہہ کے جا چکا تھا۔
غلطی اسکی نہیں۔۔ آپ کی بھابھی صاحبہ کی ہے۔۔۔ جہنوں نے اپنی بیٹی کی پرورش ایسی کی کہ۔۔ گھر کے لڑکوں کو ہی پھنسا لو۔۔۔ لیکن۔۔ میں آپ کو بتا رہی ہوں۔۔۔ میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گی۔۔۔
میں اپنی بہن کے گھر ہی رشتہ جوڑوں گی۔
اچھا۔۔۔۔!! اور داور۔۔۔ اسکو۔۔ کیسے مناٶ گی۔۔؟
حیات صاحب غصہ ضبط کرتے بولے۔
ہممممم۔۔۔ اکا بھی میں نے سوچ لیا ہے۔۔۔ کیسے لاٸن پے لانا ہے۔۔۔
اپنے حرافاتی دماغ میں پلان ترتیب دیتیں وہ حیات صاحب کو بھی چونکا گٸیں۔













ہاٸے۔۔۔۔! کیسے ہیں آپ۔۔؟؟
یامین کے روم میں داخل ہوتے ہی وہ بھی پیچھے پیچھے آٸی۔
کیا۔۔۔ ہو گیا اب۔۔۔؟؟ یامین نے اسے آتے دیکھ گہرا سانس خارج کرتے پوچھا۔
آپ نے۔۔۔ میرا کام کیا؟
بہت مان سے پوچھا۔
میں نے کہاتھا۔۔ کہمیں تمہارا کام کروں گا۔۔۔؟؟
اسی انداز میں سوال کیا۔
آپ۔۔۔۔ آپ۔۔ایسا نہیں کرسکتے۔۔۔۔!!
نروٹھے پن سے کہا۔
کشش۔۔ ! میں آخری بار کہہ رہا ہوں۔ اس معاملے سے دور رہو۔۔۔!!
یامین نے اسے تنبیہہ کی۔۔
اور تھکے ہوٸے نداز میں صوفے پے براجمان ہوا۔
آپ۔۔۔ ناں۔۔ مشورہ۔۔ نہ دیں۔۔ میرا کام کریں۔۔ !!
اور ان کی مدد کریں۔۔!! اس کے پاس صوفے پے ٹکتے اپنی بات پے زور دیا۔
اس کےیوں قریب بیٹھنے پے وہ اسے دیکھے گیا۔
کیا چیز تھی یہ لڑکی۔۔۔! دھیرے دھیرے ہی اس کے حواسوں پے چھاٸی جا رہی تھی۔۔
جتنا وہ اس سے دور ہوتا۔۔ وہ اتنا ہی قریب آتی تھی۔
ابھی جاٶ۔۔۔!! مجھے آرام کرنا ہے۔۔۔!!
رخ موڑتے وہ صوفے سے ٹیک لگاتے آنکھیں موند گیا۔
جی نہیں۔۔۔ !آپ میری مدد کریں گے لازمی۔۔۔!!
اسکو بازو سے پکڑ کے اپنی طرف موڑا۔
اور یہیایک لمحہ یامین کو بے بس کر گیا۔
کشش۔۔۔ ابھی جاٶ۔۔ بعد میں بات کرتا ہوں۔۔ ابھی سر میں درد ہے۔
اس کے معصوم اور حسین سراپے سے بمشکل نظریں ہٹاتے وہ آنکگیں پھر سے موندتے سر واپس ٹکا گیا۔
کہ ای اثنا یں اسے اپنے سر پے اسکے مخملی ہاتھوں کی نرماہٹ کو محسوس کرتا فوراً سے آنکھیں کھول گیا۔
یہ۔۔ کیا کر رہی ہو۔۔۔؟؟ فوراً سے پیچھے ہوا۔
آپ کے سر میں درد ہے۔۔ وہی دبا رہی ہوں۔۔
مزے سے کہتی وہ معصومیت کی انتہا پےتھی۔
نن۔۔نہیں۔۔ ! تم جاٶ۔۔ میں آرام کروں گا ۔۔ تو خود ہی ٹھیک ہو جاٸے گا۔
اپنے دل کی ہوتی بے ترتیب دھڑکنوں کو سنبھالتے وہ نظریں چراتا وہاں سے اٹھا۔
پھر وعدہ۔۔۔۔ آپ۔۔۔ کریں گے۔۔ ناں۔۔ مدد۔۔۔؟؟
وہ بھی سامنے اس کا صبر آزماتی پھر سے امتحان بنی کھڑی تھی۔
ہمممم۔سوچوں گا۔۔۔۔!!
بنا اس کی طرف دیکھے ہامی بھری۔
Thank you so much…
وہ خوشی سے چہکی۔
مجھے پتہ تھا۔ آپ۔۔۔ مجھے انکار کر ہی نہیں سکتے۔۔۔!! وہ یامین کا ہاتھ بولی۔
اسکا یہ قریب آنا۔۔۔
ہاتھ پکڑنا۔
یامین کو جزبوں کو ہوا دے رہا تھا۔
وہ کب کی اپنی کہہ کی جا چکی تھی۔
جبکہ یامین اپنے ہاتھاور ماتھےکو چھوتا ابھی تک اسکے لمس کو محسوس کر رہا تھا۔
جاری ہے۔
