Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Ishq Mera (Episode 21)

Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan

جی۔۔۔۔ وہ۔۔۔ ؟

کشش بہت زیادہ نروس ہوٸی۔

مما۔۔! آپ کوبابا بلا۔رپے ہیں۔

کرن نے آتے ہی کہا۔ اور عالیہ بیگم گہری سوچ کے ساتھ کشش کے پاس سے اٹھ گٸیں۔۔!

میں نے دودھ کا کہا ہے سلمہ کو وہ لاتی ہے تو پی کے سونا۔

اور ہاں۔۔ مما کی باتوں پے دھیان مت دو۔۔ سمجھی۔

رن نے اسے پیار سے کہا۔ اور وہ مسکراتے اثباتمیں سر ہلاتی بیڈ کراٶن کے ساتھ ٹیک لگا کے آنکھیں موندگٸ۔

کرن کے جانے کے بعد دروازہ دھیرے سے کھلا۔

کشش کچی نیند کی وادیوں میں کھو رہی تھی

کوٸی دھیمے قدموں سے اندر آیا۔

وہی مخصوص پرفیوم کی خوشبو۔۔۔

جسسے کشش کو عشق تھا۔

اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کوٸی اسکےبالوں میں انگلیاں چلا رہا ہے۔

بہت دھیرے دھیرے۔

اسے سکون سا محسوس ہوا۔

وہ آنکھیں کھول کے دیکھنا چا ہتی تھی۔۔ لیکن آنکھیں کھول نہیں پارہی تھی۔

اسی لمحے اسے ماتھے پے ہونٹوں کا نرم لمس محسوس ہوا۔

سانسوں کی تپش اس کے دل کی دھڑکن میں ارتعاش پیدا کر گٸ۔

اور پھر۔۔ وہ دور ہوتا چلا گیا۔۔۔

وہ جا چکا تھا۔

اپنی محبت کا پرحدت لمس چھوڑ کے۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

ناشتے کی ٹیبل پے سبھی خاموشی سے ناشتےکرنے میں مصروف تھے۔

دادا جی نے اک طاٸرانہنگاہ سب پے ڈالی۔

اور گلاکھنکار کے صاف کیا۔

مجھے آپ سب سے کچھ کہنا ہے۔۔۔

الحَمْدُ ِلله داور اور کرن کا نکاح بخیر و خوبی سر انجام ہو گیا۔ اب ۔۔۔ کشش کی ۔۔ رخصتی رہتی ہے۔۔۔! میں چاہتا ہوں۔ اس میں بھی دیری نہ ہو۔۔۔! جو فرض جتنی جلدی ادا ہو جاٸے اچھا ہے۔

گھمبیر لہجے میں بات مکمل کی۔

سیڑعھیاں اترتی کشش کا منہ پھر سے بنا۔

اسے لگا شاید رخصتی ٹل گٸ ہے۔ لیکنیہ اسکی خام خیالی ہی تھی۔

سر جھکاٸے وہ ٹیبل پے آٸی۔

یامین نے ایک گہری نظر اس پے ڈالی۔ اور واپس اپنی پلیٹ پے جھک گیا۔

ٹھیک ہے۔۔۔ دے دیں کوٸی بھی ڈیٹ۔۔۔؟؟ آجاٸیں گے۔۔۔!

اٹینڈ کر لیں گے۔۔۔

سویرا بیگم نے سنجیدگی سے کہا۔

کیوں۔۔ بھٸ۔۔۔ یامین۔۔۔؟؟ اس جمعہ کو پھر رخصتی کنفرم کر دیں۔ اللہ کانام لے کے۔۔۔؟؟

دادا جی نے یامین سے پوچھا۔

وہ پانی کا گلاس منہ کو لگا چکا تھا۔

پانی پیتا وہ ایک نظر کشش کے چہرے پے ڈالتا دادا جی کی طرف مڑا۔

جیسے آپ کو مناسب لگے دادا۔۔جی۔۔۔!

یامین کی فرمانبرداری ہی جہاں دادا جی کو بھاتی تھی۔

وہیں بہت سوں کو چبھتی تھی۔

حیات بیٹا۔۔۔! آپ کا کیا خیال ہے۔۔۔؟؟ خاموش بیٹھے بیٹے سے پوچھ لیا۔

جی۔۔با۔۔با۔۔۔ صحیح ہے۔۔۔!

حیات صاحب نے یامین کا کاندھے تھپکتےکہا۔

کشش نے بہت حیرت اور خوشی سے یہ منظر دیکھا۔

واہ۔۔۔ باپ ۔۔بیٹا۔۔ راضی۔۔۔!

ہممممممم۔۔۔۔ دل ہی دل میں وہ ہمکلام ہوٸی۔

بیٹا۔۔۔! آپ کی طبعیت کیسی ہے اب۔۔؟؟

آج کالج نہ جاتی۔۔۔!

داداجی نے کشش سے بہت پیار سے کہا۔

جی۔۔! وہ پہلے بھی اتنی چھٹیاں ہو گٸیں ہیں۔۔ اب۔۔ اور نہیں ۔ کر سکتی ناں۔۔۔!

بہت معصوم انداز تھا۔

یامین تو دل ہی دل میں اسکی اس معصومیت پے دنگ رہ گیا۔

پھر یک دم سے وہ دادا جی کے کان میں گھسی کچھ بولی جو صرف دادا جی ہی سن سکے۔

یامین آفس جانے کے لیے اٹھا۔

یامین۔۔۔! پتر۔۔۔! کشش کوکالج چھوڑتے جانا۔۔۔!

اسکی گاڑی خراب ہو گٸ ہے۔۔ نیو۔۔ لے کے فینی ہے اپنے بچے کو اب۔۔۔! تب تک۔۔یہ ڈیوٹی۔۔ آپ کی۔۔۔!

دادا جی نے بہت آرام سے یامین کو حیرت زدہ کیا۔

وہ جانتا تھا۔ کشش کو اسکی گاڑی بہت پسند تھی۔

اسلیے اسکی گاڑی میں بیٹھنے کے بہانے ڈھونڈتی تھی۔

بنا کچھ کہے اثبات میں سر ہلاتا وہ باہر نکلا۔

تھیینک یو دادا جی۔۔۔! دادا جی کے گلے میں بانہیں ڈالے وہ مسکراتی دھیرے سے کہتی یامین کے پیچھے نکلی۔

اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی۔

ڈراٸیور نے گاڑی کو روڈ پے ڈالا۔

گاڑی میں غیر معمولی خاموشی چھاٸی ہوٸی تھی۔

جو کشش کو تو بہت کھل رہی تھی۔

رات۔ ۔۔۔ کو ۔۔میرے روم میں آپ آٸے تھے ناں۔۔؟؟

بہت سہولت سے اس نے یامین کو کن اکھیوں سے دیکھتا پوچھا۔

کس نے کہا۔۔؟؟ یامین نے حیرت کا اظہار کیا۔

جھوٹ نہ بولیں۔۔ مجھے پتہ ہے۔۔ وہ آپ تھے۔۔۔! کشش اسکی جانب مڑی۔

ہممممم۔۔۔۔ تمہارا وہم ہو گا۔۔۔! یامین نے سنجیدگی سے باہر دیکھتے کہا۔

بالکل بھی نہیں۔۔! میں نے آپ کی پرفیوم کی خوشبو محسوس کی تھی۔

وہ آپ ہی تھے۔

انگلی اٹھا کے کہتے وہ پورے یقین سے بولی۔

تمہیں۔۔ میرے۔۔پرفیوم کی خوشبو کہاں۔۔ محسوس ہوٸی۔۔؟؟

یامین اسکی جانب مڑا۔ اور اسکی آنکھوں میں جھانکتے بولا۔

جب۔۔۔ آپ ۔۔رات کو۔۔۔ ؟؟ یامین کی تیز نظروں کا حصار وہ خود پے محسوس کرتی سٹپٹا گٸ۔

اور سامنے دیکھنے لگی۔

آپ ناں ۔۔۔ بہت۔۔ تیز ہو گٸےہیں۔۔!

دانت پیستے سامنے دیکھتی بولی۔

جمعہ کو بتاٶں گا۔۔۔ اپنے بارے میں۔۔ بہت۔۔ تفصیل کے ساتھ۔۔۔ ڈونٹ وری۔

یامین نے معنی خیزی سے کہتے لیپ ٹاپ آن کیا۔

کشش اسکی طرف غصے سے دیکھنے لگی۔ جبکہ گال بلش کر رہے تھے۔

آپ کو کیا لگتا ۔۔ہے۔۔۔؟ رخصتی کروا کے۔۔ آپ۔۔مجھ سے جیت جاٸیں گے۔۔۔؟

ہر گز ۔۔ نہیں۔۔ ایک بار ہونے دیں رخصتی۔۔۔ پچھتانا نہ پڑا آپ کو۔۔۔ تو پھر کہنا۔۔۔!

کشش نے چیلنج کیا۔

ڈیٸر۔۔۔ واٸفی۔۔۔! کر لو۔۔۔ جو پلان کرنا ہے۔۔۔ لیکن۔۔میری پلاننگ کے آگے تمہاری پلاننگ دھری کی دھری رہ جاٸے گی۔

یامین نے اسکی طرف مڑتے بڑے فرصت سے اسے نظروں کے رستے دل میں اتارتے کہا۔

بھول ہے آپ کی۔۔۔! کشش بھی آنکھیں چھوٹی کرتی اس کےپاس ہوتے بولی۔

یامین کچھ بھی۔۔۔ بھولتانہیں۔۔!

وہ بھی اسکے قریب ہوا۔

Just wait and watch.

وہ مزیداسکے قریب ہوٸی۔

دونوں کے چہرے ایک دوسرے کے بہت ہی قریب ہوگٸے۔

کچھ پل تو یونہی بیت گٸے۔

یامین کی آنکھیں ایک الگ ہی داستان سنا رہی تھیں۔

کشش کو اپنے دل کی دھڑکن میں ہلچل محسوںس ہوٸی۔

یامین کی نظروں کی معنی خیزی اسکی پلکوں کو بوجھل کرنے لگی۔

بہت فلرٹی ہو گٸے ہیں آپ۔۔۔!

ایک لمبا سانس لیتی کہتی وہ پہچھے ہوٸی۔

اپنے اوپر سےکچھ دیر پہلے کا احساس ختم کرنے کے لیے وہ گھوری ڈالتے بولی۔۔

بیوی سے فلرٹ نہیں ہوتا۔۔۔ پیار ہوتا ہے۔۔۔!

وہ کشش کو مزید زچ کر رہا تھا۔ اسکا بلش کرنا یامین کو بہت بھا رہا تھا۔

اسکی بات پے کشش نے گھور کے اسے دیکھا۔

گاڑی رک گٸ تھی۔کالج آچکا تھا۔

پیپرز کب ہیں۔۔ ؟

یامی نے سریس انداز میں پوچھا۔

آپ سے مطلب۔۔۔؟؟ دروازہ ڈراٸیور کھول۔چکا تھا۔وہ باہر نکلتے یامن کا سوال سن رک کے اسے تیکھے انداز میں جواب دیتی اتری۔

یامین زیرِلب مسکرایا۔

وہ جا چکی تھی۔

انس۔۔! یامین بہت سیریس انداز میں ڈراٸیور سے مخاطب ہوا۔

جی سر۔۔!

اب سے ڈیلی کشش کو کالج پک ااینڈ ڈراپ کرنا ہے آپ نے۔۔۔!

جی سر۔۔۔! اینڈ آپ کی میٹنگز۔۔۔؟؟

آفس کی دوسری گاڑی یوز کر لوں گا۔۔

لیکن کشش کے معاملے میں کوٸی کو تاہی نہیں ہو نی چاہیے۔

یامین کی سخت آواز پے انس نے اثبات میں سر ہلایا۔

ایک نظر وہاں موجود دو سیکیورٹی گارڈ پے ڈالی مطمیٸن ہوتا اور ڈراٸیور کو گاڑی آگے بڑھانےکا کہا۔

وہ اب کشش کے معاملےمیں لاپرواہی نہیں کر سکتاتھا

جبکہ وہ یہ بھی جانتا تھا .کہ دشمن کون ہے۔۔۔!

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

صبح نمازِ فجر کے بعد جمیلہ بیگم نے اس پے بم پھوڑا۔

جس کے لیے وہ تیار نہ تھی۔

لیکن ان کے آگے وہ کچھ نہ بولی۔ اور انکی ہاں میں ہاں ملا لی۔

پھراتنا زیادہ سٹریس لیا۔ کہ نیند کی ٹیبلٹ لے کے سو گٸ۔

اور اب مسلسل بجتے فون نے اسکا ماٶف دماغ جگا دیا تھا۔

ہیلو۔۔۔ بنا دیکھے ہی کال رسیو کی۔

عناٸشہ۔۔۔۔!تم۔۔۔۔ ابھی تک سو رہی ہو۔۔۔؟؟

مقابل کی آواز میں حیرت نمایاں تھی۔

عناٸشہ کی آنکھیں ابھی بھی نہیں کھل رہی تھیں۔

کون۔۔؟؟

عناٸشہ۔۔۔؟؟ حازق نے حیرت سے موباٸیل۔کو گھورا۔

یہ کونسا وقت ہے سونے کا۔۔۔؟؟

اب کی بار لہجہ میں غصہ نمایاں تھا۔

آپ۔۔کو کیا مٸسلہ ہے۔۔۔ میری نیند سے۔۔۔؟؟

وہ آواز پہچان گٸ تھی۔ اسلیے منہ بنا کے بولی۔

عناٸشہ۔۔۔۔! پندرہ منٹ۔۔۔ صرف پندرہ منٹ ہیں تمہارے پاس۔۔۔ فوراً آفس پہنچو۔۔۔! آگے سے حکم نامہ جاری ہوا۔

جس پے رناٸشہ کی پوری آنکھیں کھل گٸیں۔

آپ۔۔۔۔ کا۔۔ آپکا۔۔ دماغ درست ہے۔۔۔؟؟ میں کیوں آنے لگی آفس۔۔۔؟؟

عناٸشہ غصے سے اٹھ بیٹھی۔

اگر آپ کو یاد ہو تو۔۔۔ آپ رات کو مجھے جاب سے نکال چکے ہیں۔۔۔لہجہ میں طنز تھا۔

اب۔۔۔ میں ہی کہہ رہا ہوں۔۔ پندرہ منٹ میں آفس پہنچو۔

حازق نے اسکی بات اچک لی۔

ہرگز۔۔نہیں۔۔۔! آپ نے مجھے سمجھ کیا رکھا۔۔۔؟؟ جب جی چاہا جاب پے رکھ لیا جب جی چاہا۔۔۔ نکال دیا۔۔

میں۔۔ نہیں آرہی۔۔۔ سمجھے آپ۔۔۔!

عناٸشہ بھی اسی کے انداز میں اس سے مخاطب ہوٸی۔

تو ٹھیک ہے۔۔۔ میں خود آتا ہوں۔۔ تمہیں لینے۔۔۔ اور میرا انداز ۔۔۔ یقیناً تمہیں پسند بھی آٸے گا۔۔۔ !

M coming ..

حازق کی دھمکی پے عناٸشہ کو گھبراہٹ ہوٸی۔

ابھی رات والی بات ہی ہضم نہ ہوٸی تھی۔ کہ مزید کوٸی نٸ بات بناتی۔

ویٹ ویٹ۔۔۔ ! میں آرہی ہوں۔۔۔!ناچار عناٸشہ کو مانتے ہی بنی۔

فون بند کر کے وہ شاور لینے چلی گٸ۔

سارا وقت اسے حازق پے غصہ رہا۔

اور آفس پہنچ کے بھی بنا اجازت اسکے روم میں داخل ہوٸی۔

اور وہ جو صبح سے بھرا بیٹھا تھا۔ اور چکر ے چکر لگا رہا تھا۔ ادے آفس میں داخل ہوتا یکھ سخت گھوری سے نوازا۔

کیا مسٸلہ ہے آپ کا۔۔۔؟؟ کیوں نہیں۔۔ چین سے رہنے دیتے۔۔۔؟؟ وہ آتے ہی اس پے چڑھ دوڑی۔

تمہیں۔۔ کیا لگتا ہے۔۔۔؟؟ جو تم نے کیا۔۔اس کے بعد۔۔ تمہیں۔۔۔ چین سے رہنے کا حق ہے۔۔۔؟؟ وہ بھی اسی کے انداز میں بولتا اسکی طرف بڑھا۔

میں نے کچھ نہیں کیا۔ سمجھےآپ۔۔۔!

وہ دانت پیستے ہوٸے بولی۔

تم نے کیا کیا ہے۔۔۔ یہ تم مجھ سے بہتر جانتی ہو۔۔۔!

تمسخرانہ انداز میں کہا۔

میرے سات فضول بحث نہ کریں۔۔ اور یہ بتاٸیں کیوں بلایا ہے مجھے۔۔۔؟؟

عناٸشہ نے ٹاٸم دیکھتے کہا۔

بہت جلدی ہے۔۔۔ جانے کی۔۔۔؟ حازق نے طنز کیا۔

ہاں۔۔ ہے تو۔۔۔؟؟ عناٸشہ تڑخ کے بولی۔

تو میری بھی ایک بات کان کھول کے سن لو۔۔۔!

غصے سے اسکے بازو کو جکڑا

آج ہی ۔۔ مما سے بول دو۔ کہ تم۔۔ یہ شادی نہیں۔ کرو گی۔۔! حازق نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوٸے کہا۔

ایک پل کو عناٸشہ اسے بس دیکھے گٸ۔لیکن اگلے ہی لمحے اس نے خود کو اسکے حصار سے باہر نکال لیا۔

میں کیاکرتی ہوں۔۔ کیا نہیں۔۔ اس سے آل کو کوٸی مطلب نہیں ہونا چاہیے۔۔۔

نہ نہ۔۔۔ عناٸشہ فردوس۔۔۔ نہ۔۔۔! جو تم نے کیا۔۔۔اسکے لیے تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔؟ بہت آسانی سے تمہیں جانے دوں گا۔۔۔؟؟

حازق کا ارادہ ٹھیک نہ لگا۔

عناٸشہ کے پاس اسکے کسی سوال کا اب کوٸی جواب نہیں تھا۔

اسلیے دانت پیستی خاموش رہی۔

تم ۔۔ وہی کرو گی۔۔ جو میں تمہیں کرنے کے لیے کہوں گا۔۔ تم عادل سے رشستے سے انکار کرو گی۔

do you understand.

حازق بے انتہا غصے میں تھا۔ کہ عناٸشہ بھی سہم سی گٸ۔

میں۔۔۔ میں۔۔ مما کو۔۔ انکارنہیں کر سکتی۔۔۔۔ !

لہجہ روندھ گیا۔ لیکن مضبوط تھا۔

کرنا پڑے گا۔۔۔ ورنہ میں وہ کروں گا۔۔ جو تم۔۔سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔!

حازق نے غصے سے غراتے ہوٸے کہا۔

عناٸشہ نے زورلگا کے اپنی بازو چھڑاٸی۔

آپ کو جو کرنا ہے۔۔کر لو۔۔۔ میں مما کوناراض نہیںکر سکتی۔۔۔ اور۔۔ آپ ۔۔کس حق سے مجھے روک رہے ہیں۔۔؟؟ عناٸشہ نے آنسو روکتے پوچھا۔

شادی تو وہ بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔

دل سے چاہتی تھی۔اس شخص کو۔۔

لیکن محبت بھی تو امتحان لیتی ہے۔ وہ بھی دے رہی تھی۔

حق۔۔۔؟؟ تو۔۔ محترمہ کو حق چاہیے۔۔۔!

حازق نے طنزیہ مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔

تو۔۔ ٹھیک ہے۔۔ اب ۔۔تمہارے سارے جملہ حقوق اپنے نام کرو کےہی تم سے بات کروں گا۔۔۔

حازق نے اسے چیلنج کرتے کہا۔

اسکی بات پے عناٸشہ کا دل پرندہ ک طرح پھڑکا۔

مزید وہاں کھڑا رہنا اس کے لیے محال ہو گیا۔

پلٹی اور آفس سے باہر نکلتی چلی گٸ۔

کھلی فضا میں سانس لیتی وہ اپنا سانس بحال کرنے لگی۔

حازق۔۔۔ ! جتنے دکھ دینے ہیں۔۔ دے لیں۔۔ جتنی تکلیفیں دینی ہیں۔۔ دے دیں۔۔ جس دن آپ کو۔۔ حقیقت کا پتہ چلے گا۔۔ اس دن آپ۔۔ بہت پچھتاٸیں گے۔

آنسو پونچھتی وہ ہمکلامی میں بولی۔ اور وہاں سے کیب کروا کے گھر جانےکا ارادہ کیا۔

گاڑی جیسے ہی سگنل پے رکی۔ باہر دیکھتے اسکی نظر گاڑی میں اسی عورت کی طرف گٸ ۔ جو حازق کی ماں بن کے اس کے پاس آٸیں تھی۔

یہ۔۔۔یہ یہاں۔۔۔؟؟

سگنل کھلا۔

بھاٸی۔۔! یہ جو واٸیٹ کلر کی کار ہے۔ اسکے پیچھے لے لو۔۔۔!

عناٸشہ نے ڈراٸیور سے کہا۔

آج تو وہ اس عورت سے مل کے ساری سچاٸی جاننا چاہتی تھی۔کہ اس نے کیوں اس سے جھوٹ بولا۔۔۔؟؟

گاڑی کا مسلسل پیچھا کرتے وہ ایک بہت بڑی بلڈنگ میں داخل ہوٸیں۔

رناٸشہ نے کیب باہر ہی رکوا کے پیمنٹ کی۔ اور اندر کی جانب بڑھی۔

وہواٸیٹ گاڑی وہیں کھڑی تھی۔ لیکن وہ عورت وہاں نہیں تھی۔

عناٸشہ نے گاڑی کانمبر نوٹ کیا۔

اور بلڑنگ کی حد کے اندر داخل ہوٸی۔

✨
✨
🔥
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

آپ۔۔ ابھی دو دن ہی ہوٸے آٸے ہیں۔۔ پھر سے جا رہے ہیں۔۔۔؟؟

عالیہ بیگمنے افسردہ اور ناراض ہوتے کہا۔

مجبوری ہے۔۔ جانا پڑے گا۔۔۔نہ گیا تو۔۔۔ پرچہ کٹ جاٸے گا۔۔۔!

عزیز صاحب پریشان حال بولے۔

آخر آپ۔۔ کوکیوں پکڑ رہی ہے۔۔ پولیس۔۔؟؟ کیا کیا ہے آپ نے۔۔؟؟

میں نے۔۔ بس اپنے باپ کی بات نہیں مانی۔۔۔۔ وہ بوجھل دل سے وہیں بیٹھ گٸے۔

منع کیاتھا انہوں نے غفار کے ساتھ ۔۔ بزنس نہ کروں۔۔ لیکن۔۔ میں باز نہ آیا۔۔۔!

پورے تین کروڑ کا غبن کا کیس کیا ہے اس نے۔۔۔۔مجھ پے۔۔۔!

وہ انتہاٸی پریشانی سے بولے۔

تین کروڑ۔۔۔؟

عالیہبیگم سوچتی رہ گٸیں۔

اب خود بتاٶ۔۔۔؟؟ کیاکروں۔۔۔؟؟ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔

آپ۔۔حیات بھاٸی سے بات کریں۔۔ ہو سکتا ہے۔۔ وہآپ کی مددکریں۔۔۔

عالیہ بیگم۔بھی پریشان ہوگٸیں۔

وہ کیا مدد کریں گے۔۔؟اس وقت انکی اپنی کمپنی ڈوب رہی ہے۔۔ مارکیٹ سے ۔۔ اتنا قرضہ لے چکے ہیں۔۔ کہ اب۔۔ واپس کرنے کے لیے ان کے پاس پھوٹی کوڑی نہیں۔۔۔

عزیز صاحب نا امید سے ہوگٸے۔

آپ۔۔۔ یامین سے بات کریں۔۔۔ اس کے۔۔۔پاس۔۔ تو بہت سے پیسےہیں۔۔۔ وہ۔۔ مدد۔۔۔؟؟

وہ کیوں کرنےلگا۔۔۔ہماری مدد۔۔؟کل کو جب وہ۔۔۔ بالکل زیرو تھا۔۔ تب۔۔ کسی نے اسکی مدد نہیں کی۔۔۔اور آج۔۔ ہم اس سے۔کس منہ سے مدد مانگیں ۔۔؟؟

گہرا سانس خارج کرتے کہا۔

آپ۔۔۔ داور کی بجاٸے۔۔ یامین سے کرن کی شادی۔۔۔۔۔

عالیہ۔۔۔۔۔! تمہارا دماغ ٹھکانےپے ہے۔۔۔؟؟

عزیز صاحب کوبےتحاشا غصہ آیا۔

عالیہ بیگم کا سر جھک گیا۔

آج تو آپ نے ایسا کہہ دیا۔۔۔ آگےکبھی مت بولیۓ گا۔۔

یامین کی اپنی جگہ۔۔۔لیکن ۔۔ میرے لیے داور۔۔ سب سے بڑھ کے ہے۔۔ اور۔۔۔میری بیٹی۔۔ کی پسند بھی ہے۔۔۔!

آخری بات پے عالیہ بیگم۔نے حیرت سے دیکھا۔

ایسے نہ دیکھیں۔۔ اگر گھر نہیں ہوتا اسکا مطلب یہ نہیں کہ کچھ بھی نہیں جانتا اور اپنی اولاد سے بےخبر ہوں۔۔۔ !

بیگ تیار کرتے انہوں نے سرسری انداز اپنایا۔

آپ۔۔۔ کیا کریں گے اب۔۔۔؟

وہ پریشان ہوتی ان کے قریب آٸیں۔

اللہ مالک ہے۔۔ آپ دعا کرنا۔۔۔ الله حافظ

باہر نکلتے وہ کہتے جا چکے تھے۔

اور عالیہ بیگم۔انکے لیے دعا گو ہوٸیں۔

(شادی کے بعد۔۔ جب بھی آپ کے شوہر کام پے جاٸیں۔ پمیشہ اپنی دعاٶں میں رخصت کریں۔ بیوی کی دعا بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اور شوہر کے حق میں کی گٸ دعا اللہ ضرور سنتا ہے۔

جزاك اللهُ‎)

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

کالج سے فارغ ہوتی و باہر نکلی تو سامنے یامین کی گاڑی دیکھ اسکا دل دھڑکا۔

صبح کی کہی ہوٸی باتوں کی باز گشت ہوٸی۔

بیوی سے فلرٹ نہیں ہوتا۔۔۔ پیار ہوتا ہے۔۔۔!

تو۔۔۔ آخر پیار کی ابتداہو ہی گٸ۔۔ مسٹر بن یامین ہسبینڈ ۔۔۔۔!

لیکن ۔۔۔ ہماری تو ابتدا ہی عشق سے ہوٸی ہے۔۔۔

لبوں نے ایک دلفریب مسکراہٹ کو چھوا۔ اور وہ گاڑی میں بڑی شانِ بے نیازی سے براجمان ہوٸی

اور وہیں قریب ہی ایک گاڑی میں ۔۔۔ کوٸی حسد اور جلن سے جل۔بھن گیا۔

اور زور سے ہاتھ اسٹٸرنگ پے مارا۔

🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥
🔥

آج یامین اورحازق دونوں ہی سارا دن بزی رہے۔

یکے بعد دیگرے فنکشنز نے انکو تھکاڈالا۔

اوپر سے ریسٹورینٹ میں رش بھی بےحساب تھا۔

کیا ہوا۔۔۔؟؟ کس کافون تھا۔۔؟؟

یامین نے حازق سے پوچھا۔

جلیل کاتھا ۔۔۔۔مدیحہ کےپیچھا کر رہا ہے ۔۔۔ لاسٹ ٹاٸم ایک بلڈنگ میں جاتے دیکھا۔لیکن۔۔ پھر غاٸب ہوگٸ۔۔۔

خیر کب تک بھاگے گی۔۔۔۔پکڑے جاٸے گی۔۔۔

اور اس دن۔۔ اسکی زندگی کا آخری دن ہوگا۔۔

حازق نے طش سے کہا۔

یامین خاموش رہا۔ فون پے کشش کی ڈیٹلز لیں۔

وہ وقت پے گھر پہنچ چکی تھی ۔ اور اب وہ بھیگھر جانے کے لیے اٹھا۔

ٹھیک ہے حازق۔۔ میں چلتا ہوں۔۔ تم۔بھی کام۔ختم کر کے نکلو۔!

ہممم۔ دوسری برانچ سے ہوتا ہوا جاٶں گا۔۔ آج وہاں بھی کافی کام تھا۔

حازق نے دھیرے سے کہا۔تو یامین اثبات میں سر ہلاتا ہاں سے نکلا۔

تبھی موباٸیل پے کال آٸی۔

عناٸشہ کا نمبر دیکھ وہ تھوڑا حیران ہوا۔

کال پک کی۔

حازق۔۔ پلیز۔۔۔ ہیلپ می۔۔۔۔!

وہ بہت گھبراٸی ہوٸی تھی۔

حازق فوراً اپنی جگہ سے کھژا ہوا۔

کہاں ہو تم۔۔۔؟؟لہجےمیں پریشانی تھی۔

نہیں۔۔ پتہ۔۔۔ یہ۔۔ کوٸی بہت بڑی بلڈنگ ہے۔۔۔ میں۔۔ یہاں۔۔ چھپی ہوں۔۔ پلیز مدد کرو۔۔۔!

وہ دھیمی آواز میں بولی تھی۔ لیکن رو بھی رہی تھی۔

تم۔۔۔ گھبراٶ نہیں۔۔ میں آتا ہوں۔۔ بلڈنگ کہاں۔۔ ہے۔۔؟؟ کوٸی نام۔۔ ایڈریس۔۔۔؟؟ باہر گاصی کی طرف جاتا وہ ساتھ بولا۔

یہ۔۔۔ ۔بڑے ۔۔ پلازہ کے سامنے۔۔۔ ہے۔۔ انڈرکنسٹرکشن۔۔ ہے۔۔ مجھے۔۔ زیادہ۔۔نہیں۔۔ پتہ۔۔ پلیز۔۔ ہیلو۔۔۔ ہیلو۔۔۔۔؟؟

بیٹری اینڈ ہو گٸ تھی۔

عناٸشہ وہیں ایک طرف چھپ کے بیٹھی تھی۔

کہاں وہ اس عورت کا پیچھا کرتی یہاں تک آٸی تھی ۔

اور اب خود پھس گٸ تھی۔

جو اسے یہاں آکے پتہ چلا۔۔ وہ بہت زیادہ ڈری ہوٸی تھی۔

یہلوگ بہت خطرناک تھے۔

حازق راستےمیں تھا۔ وہ جان گیا تھا۔ وہ کونسی بلڈنگ کی بات کر رہی ہے۔ وہ ایک لمحہ بھی بنا ضاٸر کیے عناٸشہ تک پہنچنا چاہتا تھا۔

دوسری طرف یامین گھر پہنچ چکا تھا۔

اور گھر والے پریشان تھے۔ کیونکہ حیات صاحب غاٸب تھے کوٸینہیں جانتا تھا کہ وہ اچانک کہاں چلے گٸے۔ رابطہ بھی ختم ہو گیا تھا۔

یامین انہی قدموں پے میر ولا سے باہرنکلا۔

وہ جو کوٸی بھی تھا۔ان پے گھیرا تنگ کیا ہوا تھا۔

یامین کو اس سے ایک قدم آگے چلنا تھا۔ تبھی وہاس کو ہرا سکتا تھا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *