Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Ishq Mera (Episode 09)

Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
 

سمیر اور کشش دونوں نیوزپیپر کے ایڈیٹرسے مل کے اسے ایڈ دے کے باہرنکلے تھے۔

کشش ابھی بھی وقت ہے۔ ایڈ واپپس لے لو۔۔۔

یامین بھاٸی کو پتہ چلا تو۔۔۔ ہمیں چھوڑیں گیں نہیں۔

سمیر نے گاڑی کی طرف جاتے کہا۔

ارے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ دعاٸیں دیں گے دعاٸیں۔ کسی کا گھر بسانے سے اللہ بہت خوش ہوتا ہے۔

ایک منٹ۔۔۔! تم یہیں رکو۔ ابھی آٸی۔

بنا سمیر کی طرف دیکھے وہ دوسری طرف بڑھ گٸ۔ سمیر کی نظر بھی اسکی طرف اٹھی۔

ہاٸے سمرین۔۔۔؟؟ کیسی ہو۔۔۔؟؟

what a pleasent surprize…

ارے۔۔کشش۔۔!! تم۔کیسی ہو۔۔۔؟؟

سمرین کشش کی اسکول فرینڈ تھی۔ آج اتنے عرصے بعد بھی وہ پہچان گٸ۔

دونوں ایک دوسرے سے گلے ملیں۔

دنیا کتنی گول ہے۔۔۔ ہے ناں۔۔۔!! ہم پھر مل ہی گٸے۔۔۔

کشش مسکراٸی۔

واقعی۔۔۔۔!! تم۔۔ یہاں کیا کررہی ہو۔۔۔؟؟

یار۔۔۔ کچھ کام تھا ایڈیٹر صاحب سے۔۔۔اسی سلسلے میں آۓ تھے۔

کشش نے سرسری انداز میں بتایا۔

اچھا۔۔۔۔ اور وہ ایڈیٹر صاحب۔۔۔میرے پاپا ہیں۔۔

سمرین نے انکشاف کیا تو کشش کے چہرے کی سماٸیل پھیکی پڑی۔

مطلب۔۔۔ اسکے پاپا ۔۔۔ تو گٸے کام سے۔۔۔۔!! منہ ہی منہ میں بیڑبڑاٸی۔

اچھا۔۔۔ میں چلتی ہوں۔۔ پھر ملاقات ہوگی۔۔

کشش نے وہاں سے فوراً نکلنا چاہا۔

ارے یار۔۔۔ اپنا فون نمبر تو دے دو۔۔۔!!

سمرین نے روکا۔ ناچار کشش کو۔اپنا نمبر دینا پڑا۔

وہ۔۔ لڑکا۔۔۔ تمہارا کزن ہے۔۔۔؟؟

سمرین نے سمیر کی طرف اشارہ کرتے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔ جو انہی کی طرف دیکھے جا رہا تھا۔

وہ۔۔۔ہاں۔۔۔ وہ۔۔۔ کزن ہی ہے۔۔۔! کشش نے نمبر دیتے انداز سرسر ی سا اپنایا۔

ملواٶ گی نہیں۔۔۔؟؟ سمرین تھوڑ ی ایڈوانس قسم کی لڑکی تھی۔ اور کشش یہ بات بہت اچھے سے جانتی تھی۔

کشش نے مڑکے سمیر کو ایک نظر دیکھا۔

اس نے ایک مسکراہٹ کشش کی طرف اچھالی۔

ہممممم۔۔۔ملوا تو دوں۔۔ لیکن۔۔ کیا فاٸدہ۔۔۔؟؟ شادی شدہ ہے۔۔۔ اور دو ۔۔بچے بھی ہیں۔۔۔

کشش نے منہ بناتے بظاہر مسکرا کے کہا۔

رٸیلی۔۔۔۔؟؟ سمرین نے پھر سے مڑ کے دیکھا۔

لیکن ہینڈسم ہے بہت۔۔۔۔!!

سمرین نے ستاٸشی نظروں سے دیکھتے کہا۔

ہاں۔۔ وہی تو۔۔۔۔اسی لیے کم عمر۔میں ہی شادی کروادی۔۔کہ لڑکیوں سے دور رہے۔۔ ورنہ ہردوسری لڑکی اسکی گرل فرینڈ ہوتی۔۔۔

کشش نے بات سے بات نکالی۔

اچھا۔۔۔ میں چلتی ہوں۔۔ سمرین نے وہاں سے نکلنے میں ہی عافیت جانی۔

وہ سمیر کے پاس سے گزرتی اپنی گاڑی کی طرف بڑھی۔

ہاٸے۔۔۔۔!! سمیر نے ہاتھ کے اشارے سے سمرین کو کہا۔

باٸے۔۔۔۔۔!! سمرین بھی فوراً سے جواب دیتی گاڑی میں بیٹھ جا چکی تھی۔

جبکہ سمیر اس ری ایکشن پے شاکڈ رہ گیا تھا۔

یہ۔۔۔کون تھی۔۔۔؟

سمیر نے منہ بناتے پوچھا۔

تھی کوٸی۔۔۔ چھوڑو۔۔ چلو۔۔۔!!

کشش نے ٹالا۔۔

لیکن۔۔ بہت ایٹیٹیوڈ والی تھی۔۔۔ میری طرف دیکھا تک نہیں۔

سمیر کودکھ ہوا۔

ہمممم۔۔۔۔ کشش نے ٹالا۔

اور گاڑی میں بیٹھے سمیر نے گاڑی گھر کی طرف موڑدی۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

دو دن ریسٹ لینے سے عناٸشہ کی طبعیت کافی بہتر ہوگٸ تھی۔

اور آج وہ کام پے جانے کا سوچ رہی تھی۔کہ حازق کا فون آگیا۔

اسکا نمبر بدل چکا تھا۔اور وہ پہچان نہ پاٸی۔

بدل تو اس نے بھی لیا تھا۔

لیکن سی وی میں موجود تھا۔جہاں سے حازق نے لیا تھا۔

فون کان سے لگاٸے کتنی دیر وہ خاموشی سنتی رہی مقابل کی سانسوں کو محسوس کرتی رہی۔

وہ پہچان گٸ تھی۔ کہ وہی ہے۔۔۔دل کی دھڑکنوں نے اچانک سے سپیڈ پکڑی۔

کیسی ہو۔۔؟ کان میں آواز پڑی تو بے اختیار آنکھیں موند لیں۔

ٹھیک ہوں۔۔۔! مختصر جواب آیا۔

آفس کیوں نہیں آٸی۔۔۔؟؟

اگلاسوال داغا۔

آ۔۔۔آج۔۔آٶں گی۔۔۔!!

دھڑکنوں کو قابو کرتی وہ جھٹ سے بولی۔

اوکے۔۔۔ میں ویٹ کر رہا ہوں۔۔ !! میٹنگ کے لیے جانا ہے۔

اور تم نےبھی ساتھ جانا ہے۔

الله حافظ

فون بندہو چکا تھا۔

عناٸشہ کو وہ پل جو ساتھ گزرے تھے۔ پھر سے یاد آنے لگے۔

انکی مما نے تو کہا تھا۔۔۔۔ کہ انکی شادی۔۔۔؟؟ تو کیا۔۔۔؟؟ حازق کی شادی نہیں ہوٸی۔۔۔؟

خود ہی تانےبانے بنتی وہ تیار ہونے چلی گٸ۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

گاڑی گھر کے پورچ میں داخل ہوٸی۔ سمیر کو کشش کی خاموشی کھٹک رہی تھی اس سے زیادہ اس لڑکی کا اسے اگنور کرنا۔۔

ویسے حیرت ہے۔۔۔ اس لڑکی میں ایٹیٹیوڈ بہت تھا۔

پھر سے زبان چلی۔

کششنے اترت ہوٸے اسکی طرف مڑ کے دیکھا۔

یہ کوٸی تم۔۔تیسری بار کہہ رہے ہو۔۔۔!!

تو۔۔۔

for Your kind information.

شادی شدہ اور دو بچوں کے باپ کو وہ اگنور ہی کرے گی۔۔ناں۔۔۔۔!!

مزے سے کہتی وہ نیچے اتر گٸ۔

جبکہ سمیر پے حیرتوں کے پہاڑ توڑ گٸ۔

کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟

دلِ امید توڑا ہے۔۔۔۔کسی نے۔۔۔۔۔!!

سمیر نے سر اسٹیٸرنگ پے رکھا۔

اسے کشش سے یہ امید نہ تھی۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

دادا جی !! کدھر جا رہے ہیں۔۔۔؟؟

کشش نے دادا جی کو باہر نکلتے دیکھا تو روک لیا۔

بیٹا دوست کی طرف جا رہے ہیں۔ کچھ دیر میں آتےہیں۔۔

دادا جی نے اسےپیار کیا۔

آپ کے ساتھ ٹاٸم سپینڈ کرنا ہے۔۔۔ پلیز جلدی آنا۔۔۔

لاڈ والے اندازمیں کہتی وہ دادا کو مسکرانے پے مجبور کر گٸ۔

تبھی دروازے سے اندرآتے نظر یامین پے پڑی۔

فوراً سے منہ پھیرا۔ زبان دانتوں تلےدباتی وہ وہاں سے غاٸب ہوٸی

پھر۔۔۔کیا سوچا۔۔۔ پتر۔۔۔؟؟ یامین کے سلام کرنے پے داداجی نے پھر سے وہی ٹاپک چھیڑا۔

داداجی! میرا جواب آپ کوپتہ ہے۔

ادب سےکہتا وہ بھی دادا جی کے ساتھ باہر گارڈن میں آگیا۔

پتر ! زندگی کے تلخ واقعات سےزندگی روکتی نہیں۔ ہمیں تو ان واقعات سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اور آگے بڑھنا چاہیے۔

سمجھانےکاانداز بہت پیاراتھا۔

دادا جی! کبھی کبھار۔۔انسان کےاختیار میں کچھ نہیں ہوتا۔ میں چاہ کےبھی بے بس ہوں۔۔۔

یامین کا لہجہ نم ہوا۔

کوٸی نہیں پتر۔۔۔! حوصلہ رکھ۔۔۔ اللہ نے ضرور بہت اچھابَر سوچا ہوگا تیرے لیے۔

فکر نہ کر۔۔۔۔!! اسے تھپکی دیتے وہ باہرنکل گٸے۔

اور وہ انہیں جاتا دیکھ اپنے روم میں آگیا۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

🌹اللہ نے ضرور بہت اچھابَر سوچا ہوگا تیرے لیے۔

شاور لے کے نکلاتو بے اختیار دادا جی کی بات یاد آگٸ۔

تو آنکھیں موند کے وہیں صوفے پے بانہیں پھیلاٸے بیٹھ گیا۔

اچانک سےہنستی مسکراتی وہ اسکی آنکھوں کے سامنے آگٸ۔

یامین نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں۔

یہ۔۔۔مجھےکیا ہوا۔ہے۔۔؟؟ میں کیوں۔۔ اسے سوچ رہا ہوں۔۔۔ وہ تو۔۔۔ بہت چھوٹی ہے۔۔ بہت معصوم۔۔۔۔

تو ۔۔یہ دل کیوں۔۔ بے اختیار ہونے لگا ہے۔۔۔؟؟

جانے دل تُو۔۔۔۔

کس طرف ہے لے چلا۔۔۔۔

ہم۔تم بھٹکے۔۔۔

مل رہانہ راستہ۔۔۔۔

وہ اپنے دل سے گھبراتا اٹھ کےباہر نکل آیا۔

ببر بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوا۔

بھاٸی۔۔۔۔! کچھ کھاٸیں گے۔۔ بنا لاٶں۔۔ آپ کے لیے۔؟

فوراً سے سلام کرتے وہ بولا۔

نہیں۔۔ موڈ نہیں۔۔۔ !

نظریں ادھر ادھر دوڑاٸیں۔ لیکن وہ کہیں نظر نہ آٸی۔

کسی کو ۔۔ڈھونڈ رہے ہیں؟

ببر یامین کی ہر حرکت ہر اشارہ سمجھتاتھا۔

نہیں۔۔۔! ایک کپ کافی بنادو۔۔

کہتےوہ پلٹا ہی تھا۔ کہ ناک کی سیدھ میں وہ کھڑی نظر آٸی۔

لبوں نے مسکراہٹ کوچھوا۔

لیکن یامین مسکراہٹ چھپانےکا فن جانتا تھا۔

کیسے ہیں؟

کشش کے برجستہ سوال پے وہ اسے دیکھے گیا۔

ببر جا چکا تھا۔

سنا ہے۔۔۔۔ آپ۔۔شادی کر رہے ہیں۔۔۔۔!!

اچانک کشش کے یوں بولنے پے یامین کے کان کھڑے ہوٸے

کیا۔۔۔ مطلب۔۔۔؟؟ ماتھےپے تیوری چڑھی۔

نہیں ۔۔۔ وہ مجھے۔۔ایسا ۔۔سننے کو ملا۔۔۔۔!

کشش نے زبان کو قابو میں رکھنےکی بہت کوشش کی لیکن۔۔۔ اسکی زبان رک جاٸے۔۔۔ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔

کشش۔۔۔۔!!

i am telling you..

اگر کوٸی بھی شرارت کی۔۔۔ اس بار۔۔ بہت برا پیش آٶں گا۔

انگلی اٹھاتے وارن کیا

کیا۔۔۔۔۔ میر یامین سکندر۔۔۔۔!! آپ۔۔کبھی تو۔۔۔ مجھ سے اچھےکی امید کرلیاکریں۔۔۔

منہ بناتےکہا۔

یامین سر نفی میں ہلاتا اپنے روم کی جانب بڑھا۔

کہ اس نے راستہ روکا۔

کیا ہو جاٸے گا۔۔۔ اگر۔۔آپ شادی کر لیں گے تو۔۔۔۔ داور اور کرن کا گھر بس جاٸے گا۔۔۔

بہت پیار سے سمجھایا۔

یامین نے دانت پیستے اسے دیکھا۔

ہٹو۔۔ آگے سے۔۔۔۔!!

آپ۔۔پھر سےمجھے ڈانٹ رہے ہیں۔۔۔

منہ بنایا۔

تمہارے کام بھی ایسےہی ہیں۔۔۔ بنا ڈانٹ کھاٸے تمہارا کھاناہضم نہیں ہوتا۔

یامین اسے آٸینہ دکھاتا اندر کیجانب بڑھا۔

آپکو۔۔شادی سے مٸسلہ کیا ہے۔۔۔؟ آخر۔۔۔؟؟

تھک ہار کے وہ سوال پوچھ بیٹھی جو شاید نہیں پوچھنا چاہیےتھا۔

غصے سے اسے دیکھا۔

اس وقت سب سے بڑا مٸسلہ تم ہو۔ کشش افضال سکندر۔۔۔! اور اگر ایک منٹ سے پہلے تم یہاں سے غاٸب نہ ہوٸی تو ۔۔

I swear…

قتل ہو جاٶ گی میرے ہاتھوں۔

یامین کا غصہ ساتویں آسمان کو چھونے لگا۔

ایک ہی بات تھی جو اسے تکلیف دیتی تھی۔ ماضی یاد کرواتی تھی۔

وہ زبردستی یادکرواتی تھی۔۔

ہاں۔۔ زور زبردستی ہی تو کی تھی۔ حیات سکندر نے اس کے ساتھ اپنی بیوی کی باتوں میں آکے۔۔۔ اور انہوں نے بنا سوچے سمجھےبیٹے کو قربان کر دیا۔

آپ۔۔۔ نے آج لنچ نہیں کیا۔۔۔ جو ۔۔مجھے۔۔۔ قتل کر کےکھانا چاہتےہیں۔۔؟؟

کشش نے منہ بناتے مسکینی آواز میں کہا۔

بہت ڈھیٹ واقع ہوٸی تھی۔

یامین نے مزید بات کرنا مناسب نہ سمجھا۔

ایک دم سے سر درد شروع ہو گیا۔ دراز سے ٹیبلٹ نکالی۔ اور خالی پیٹ ہی لینےلگا۔

یہ کونسی دواٸی لے رہے ہیں آپ۔۔۔؟؟ کوٸی۔۔۔ بیماری۔۔۔ ہے آپ کو۔۔۔ کیا۔۔۔۔؟؟

قریب بیٹھتے بہت فکر اور راز داری سے پوچھا۔

ببر نے دروازے پے ناک کی۔ اور کافی لیے اندر آیا۔

ساٸیڈ ٹیبل پی کافی رکھتا وہ خاموشی سے جا چکا تھا۔

چھی۔۔۔۔۔ یہ بھی کوٸی پینے کی چیز ہے۔۔؟؟ کڑوی۔ ۔کافی پی پی کے خود بھی کڑوے ہو گٸے ہیں۔

منہ کے الٹے سیدھے اینگل بناتی وہ یامین کو بچی ہی لگی۔

بنا اس کی بات کا جواب دیٸے کافی پینےلگا۔

آپ۔۔۔مجھے اگنور کر رہے ہیں۔۔۔ میر یامین سکندر۔۔۔۔!!

اب کی بار گلہ کیا۔

وہ جب جب اسکا پورا نام لیتی تھی۔ یامین کے دل کے تار چھیڑ دیتی تھی۔

یامین کو اسکے لبوں سے اداہوا اپنا نام بہت حسین لگنے لگتا تھا۔

ایک بات بتاٶ۔۔۔ کشش افضال سکندر۔۔۔۔!! ااتنا بولنےکے کوٸی پیسے چارج کرتی ہو۔۔۔؟؟ یا مفت میں ہی سب کو اپنی عقل و راست سے نوازتی رہتی ہو۔۔۔؟؟

اب کی بار یامین نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔

جس پے وہ منہ بناتی اٹھی۔

آپ سے تو بندہ بات بھی نہ کرے۔۔۔ !

ناراض سی ہوتی وہ وہاں سے جانے لگی۔

یامین کے لبوں پے مسکراہٹ رینگ گٸ۔

کہ وہ پلٹی۔ اور یامین کی مسکراہٹ دیکھتی رہ گٸ۔

واٶ۔۔۔۔۔۔

Amazing smile…..

پھر سے مسکرانا۔۔۔۔!!

پاس آتی وہ فرماٸش کرنے لگی۔

یامین نے لب بھینچے۔

میں کب مسکریا۔۔۔؟؟

انجان بنا۔

جھوٹ نہ بولیں۔۔۔ میں نے ابھی آپ کو مسکراتے دیکھا۔

کشش نے انگلی اٹھاتے کہا۔

اور اپنی انگلی اس کے گال پے رکھی۔

یہاں۔۔۔ یہاں۔۔گھڑا بنا تھا۔۔۔۔

وہ یامین کو میمراٸز کرنے لگی۔

اسکی انگلی کالمس اسے گال کی بجاٸے دل پے محسوس ہوا۔

فوراً سے کافی کا مگ ساٸیڈ پے رکھتا وہ کھڑا ہوا۔

کشش۔۔۔ !! اپنے روم میں جاٶ۔

اپنے دل کی دھڑکنوں کے شور کو۔کم کرتا وہ بہت روڈ لی بولا تھا۔

آپ۔۔۔ مسکراتے بہت۔۔۔ پیارے لگتے ہیں۔۔۔ مسکراتے رہا کریں۔۔ مسکرانا صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے۔۔۔۔

بہت میٹھی اور دھیمی آواز میں کہتی وہ جا چکی تھی۔

کسی بھی ریا سے پاک وہ وجود دھیرے دھیرے یامین کو اپنے سحر میں جکڑ رہا تھا۔

اور یہی وہ نہیں چاہتا تھا۔

وہ اندر سے کتنا دکھی تھا۔ یہ وہ کسی پے ظاہر نہیں کر سکتا تھا۔ اور۔۔ کشش اسے بھی عزیز تھی۔ ایک دوست کی طرح ایک کزن کی طرح۔۔۔ یا شاید۔۔۔ بہت بڑھ کے تھی۔۔ وہ اپنے اس جزبے سے ابھی انجان تھا یا جان بوجھ کے انجان بن رہا تھا۔ وہ نہیں سمجھ پا رہا تھا۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

میٹنگ کے لیے وہ دونوں نکل چکےتھے۔

میٹنگ کے لیے حازق اسے لیے فرقان کے آفس میں آیا تھا۔

میٹنگ شروع ہوتے ہی عناٸشہ کو بے چینی سی ہوٸی۔

وہ وہاں سے ایکسکیوز کرتی اٹھ گٸ۔

اور باہر تازہ ہوا میں آگٸ۔

وہ ویو بہت پیارا تھا۔ سامنے ہی پانی کی لہریں شور مچا رہی تھیں۔

کراچی کا یہ منظر بہت سے لوگوں کو وہاں اپنی طرف کشش کرتا تھا۔

اور اس سی ساٸیڈ کا منظر وہ پہلے بھی حازق کے ساتھ انجواٸے کر چکی تھی۔

حازق۔۔۔۔! بس کریں۔۔۔ اور آگے نہیں جانا۔۔۔

عناٸشہ نے روکا۔

کیوں کیا ہوا۔۔۔؟ ڈر گٸ۔۔؟؟ حازق شمریز کے ساتھ ہوتے تم ڈر گٸ۔۔۔؟؟

حازق نے اسے خود سے قریب کیا۔

تو عناٸشہ کی دل کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا ہوا۔

دیر۔۔۔ ہو رہی ہے۔۔۔ چلیں۔۔۔؟؟

نظریں جھکاتی وہ حازق کو بہت دل کے قریب لگی

ہمممم۔۔۔چلتےہیں۔

کچھ۔۔یادیں۔۔۔ بس تکلیف دینے کے لیےآتی ہیں۔

وہ پل عناٸشہ کی زندگی کے یاد گار پل تھے۔

جن کے سہارے وہ پوری زندگی گزار سکتی تھی۔

آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے۔

بیتا سکھ بھی دکھ لگتا ہے۔۔

جب یادیں آتی ہیں۔

بھولی بسری اپنی ساری باتیں دہراتی ہیں۔۔۔

ایک بے وفا کی یاد میں ان کاشور کچھ زیادہ ہوگیا ہے۔۔۔ ہے ناں۔۔۔۔!!

اچانک پیچھے سے آکے کہتے وہ عناشہ کو چونکا گیا۔

مطلب۔۔ووہ بھی نہیں بھولا تھا۔

وقت ۔۔۔بہت بڑا مرہمہے۔۔۔۔!! دھیرے سے کہتی وہ حازق کو تپتے صحرا میں کھڑا کر گٸ۔

جانے لگی کہ کھینچ کے اپنے قریب کیا۔

وقت۔۔۔ بہت بے رحم ہے۔۔۔ عناٸشہ فردوس۔۔۔۔!! اور بہت جلد ۔۔ تمہیں اس بات کا پتہ چلے گا۔۔۔۔

کہ کسی کو بیچ راستے چھوڑنا۔۔۔ کیا ہوتا ہے۔۔۔۔؟؟

جھٹکے سے چھوڑتا وہ پیچھے ہٹا۔

نم آنکھوں کے گوشوں سے وہ اسے دیکھے گٸی۔

جہاں اس کے لیے کبھی محبت نظر آتی تھی۔۔۔ وہاں۔۔ آج۔۔صرف نفرت نظر آرہی تھی۔

حازق۔۔۔۔۔۔!

بے اختیار ہی اسے پکارا۔

چپ۔۔۔۔!! ایکدم چپ۔۔۔۔!! کسی بھی خوشفہمی میں۔نہ رہنا۔۔۔ اگر تمہیں بچایا تو صرف اسلیے ۔۔۔کہ تمہیں۔۔سزا۔دینےکاحق صرف میرا ہے۔۔۔

زہر۔میں بجھا ہرتیر عناٸشہ کے دل۔کے پار ہوا۔

تمہیں ڈاکٹر کے پاس لےکے گیا۔۔ اسلیے نہیں کہ۔۔ تمہاری پرواہ ہے۔۔۔ اسلیے۔۔۔ کہ۔۔ جو زخم تمنے یٸے اب سود سمیت واپس لوٹانے کا وقت ہے۔۔۔

اتنی شدت۔۔۔ تو محبت میں بھی نہیں۔۔۔ تھی۔۔۔ جتنی شدت اب تم۔۔۔ میری نفرت میں دیکھو گی۔۔۔

نفرت بھرا لہجہ۔۔۔

عناٸشہ اندر سے کٹ کے ہی تو رہ گٸ۔

جو دل۔میں بھرا ہے تو نے

دیکھے گی اس زہر کو۔۔۔

بھگتے گی میرے غم کو۔۔۔

میری آنکھ کے زہر کو

اپنی خود غرضی کا

اب انجام دیکھے گی۔۔

ٹھکرا کے میرا پیار۔۔۔

میرا انتقام دیکھے گی۔

چاہت کا صلہ ظالم۔۔۔

مطلب ہی دیا تُو نے۔۔

مجبور نہ تھی۔۔۔پھر بھی۔۔۔

دھوکا کیا تُو نے۔۔۔

نفرت کومیری تُو صبح شام دیکھے گی

ٹھکرا کے میرا پیار ۔۔۔

میرا انتقام دیکھے گی۔

just wait and watch….

سخت انداز میں کہتا وہ جا چکا تھا۔

عناٸشہ وہیں بیٹھتی چلی گٸ۔

🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟
🌟

آپ کا ایڈ پڑھا۔۔۔

اس سلسلے میں آپ سے ملنا ہے۔۔۔

ایک اور لڑکی کی کال آٸی۔ یامین زچ آگیا۔

کونسا ایڈ۔۔۔؟؟

آپ کی شادی کا۔۔۔۔!! دیکھیں۔۔۔ آپ کو جسطرح کی لڑکی چاہیے۔۔ وہ ساری کوالٹیزہیں مجھ میں۔۔۔

یامین نے فون آف کیا۔

اور سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔

کال پھر سے آرہی تھی۔

اب کوٸی اور نمبر تھا۔

ہیلو۔۔۔۔!! کال۔پک کی۔

یامین سکندر۔۔۔!! تمہارے خوابوں۔۔ کی ملکہ۔۔۔ میں ہوں۔۔ مجھے تم۔۔۔قبول۔ہو۔۔کہو۔۔۔ کہاں ملیں۔۔۔؟

جہنم۔میں۔۔۔۔

دانت پیس کے کہتا وہ موباٸیل کو ساٸیڈپے پھینک گیا۔

اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔؟؟

یامین۔۔۔ یار۔۔۔!! یہ کیا۔۔۔ہے۔۔۔؟؟ مجھ سے چھپ چھپا کے۔۔۔؟؟ شادی کی پلاننگ۔۔۔؟؟

نیوز۔پیپر۔ہاتھ میں اٹھاۓ حازق اندرداخل۔ہوا۔

دماغ سیٹ ہے۔۔۔؟؟ یامین بھڑکا۔

یہ۔میں۔نہیں۔۔۔ یہ۔خبر کہہ رہی ہے۔۔۔!

حازق۔نے فوراًاسے نیوزپیپر۔تھمایا

جس پے لکھی خبر پڑھ کے یامین نے غصے سے لب بھینچے۔

مجھے یہ نیوز پیپر کا ایڈیٹر دس منٹ میں یہاں چاہیے۔۔!!

اپنے اندر۔کاابال وہ نیوزپیپر کوٹیبل پے پھینک کے اتارنے لگا۔

اوکے باس۔۔۔ !!جسٹ ٹیک اٹ ایزی۔۔!!

حازق اسے پانی کاگلاس تھماتا باہرنکلا۔

اور نیوز پیپر کے ایڈیٹر کو یامین کے آفس میں بلوانے کابندوبست کیا۔

کچھ ہی دیر میں وہ ایڈیٹر یامین کے سامنے مجرموں کی طرح بیٹھا تھا۔

کس کے کہنےپے یہ خبر چھاپی۔۔۔؟؟

سرد لہجے میں کہتا وہ سامنے والے کو بہت سخت ڈرا گیا۔

جی۔۔۔۔ جی۔۔ وہ۔۔۔ آپ۔۔۔ کے ہی۔۔گھر۔۔۔ سے۔۔۔ آٸے تھے۔۔۔

منمناتے ہوٸے کہا۔

یامین سمجھ گیا۔ کہ یہ کس کی کارستانی ہے۔۔

کل ہی۔۔۔ اس نیوز کی تردید ہونی چاہیے۔۔ ورنہ۔۔۔ تمہارا۔کیا حشر کروں گا۔۔ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔

غصہ ضبط کرتا وہ نیوز پیپرلیے باہر آیا۔ گاڑی نکالی ۔ اور خود ڈراٸیو کرتا گھر پہنچا۔

اندر کیجانب قدم بڑھاۓ۔ سامنے ہی وہ نظر آگٸ۔

جال تو جلال تو آٸی بلا۔کو ٹال۔تو۔۔۔

کا ورد کرتی وہ وہاں سے بھاگنےلگی۔ جبکہ پاس بیٹھے سمیر کی پیٹھ تھی۔

ایک۔منٹ۔۔۔ رکو۔۔یہیں۔۔۔!!

سرد آوازمیں کہتا وہ کشش کے دل۔کودھڑکا گیا۔

ورد اورتیز ہوگیا۔

سمیر بھی پلٹتا فوراً کھڑا ہوا۔

یہ۔۔۔یہ۔۔۔ سب کیا۔۔ہے۔۔۔؟؟ داور یوں یامین کو غصے میں دیکھ باہر سے آتا وہیں ان کے پاس ٹہر گیا۔

پتہ تو ادے بھی چل گیا تھ۔ لیکن ۔۔و ہ اس سب میں شامل۔نہیں تھا۔

کککیا۔۔۔ ہو۔ا۔۔۔؟؟ کس بارے میں بات۔۔۔۔ کر رہے ہیں۔۔۔؟؟

کشش بمشکل بولی۔

زیادہ اوورسمارٹ بننے کی ضرورت نہیں۔۔۔ اور جو پوچھا وہ بتاٶ۔

جارحانہ تیور دیکھتے کشش کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوٸی۔

ضرورتِ رشتہ

ایک ہینڈسم پڑھے لکھے رٸیس زادے ۔جو کہ دیکھنے میں سالار سکندر ۔۔۔چلنے میں جہان سکندر۔۔۔ اٹھے تو فارس غازی ۔۔۔۔بیٹھے تو کارل۔۔۔۔۔!! دوڑے تو عمر جہانگیر۔۔۔۔!!

اخبار میں یہ سب پڑھتے یامین کا اتنا دماغ نہیں گھوما جتنا نیچے دیے گٸے نام اور فون نمبر اور ایڈریس پے غصہ آیا تھا۔

میر یامین سکندر۔۔۔۔۔جو ایک نہیں دو نہیں۔۔ بلکہ پورے چھ ہوٹلز کامالک۔۔۔

خواہش مند دوشیزٸیں فوری رابطہ کریں۔

لب بھینچے وہ ان تینوں کو قطار میں سامنے کھڑا کیے خشمگیں نگاہوں سے دیکھے جا رہا تھا۔

کس کی حرکت ہے یہ۔۔۔؟؟ سرد آواز۔۔۔

مانو ان تینوں کے کان میں جیسے کسی نے سیسہ پگھلا کے ڈال دیا ہو۔

تینوں خاموش رہے۔

میں نے پوچھا کس نے کی یہ حرکت۔۔۔؟؟ اب کی بار آواز اونچی تھی۔

ڈر کے مارے سمیر کی انگلی کشش کی جانب اٹھی۔ ساتھ کھڑے داور نے بھی سیدھی انگلی کشش کی طرف اٹھاٸی۔

جبکہ کشش اپنی ہرنی جیسی آنکھیں اب چھوٹی کیے سامنے کھڑے یامین کو ماتھے پے تیوری ڈالے گھور رہی تھی۔ اس بات سے انجان کے اسکے کراٸم پارٹنرز اسے دھوکادے گٸے تھے۔

شرم نام کی کوٸی چیز ہے۔۔۔ تم تینوں میں۔۔؟؟

یامین کا بس نہیں چل رہا تھا۔ اس چھٹانک بھر کی لڑکی کو قتل کردے۔

بھاٸی۔۔۔!! یہ سب ان دونوں کا سوچا اور مشترکہ پلان تھا۔۔مجھے تو ابھی ابھی آپ کے سامنے آنے سے پہلے پتہ چلا۔

داور نے صاف اپنا دامن بچایا۔

سمیر اور کشش نے گردن موڑ کے پہلے اسے دیکھا۔

اور آنکھوں ہی آنکھو ں میں کھا جانے کا ارادہ کیا۔ جبکہ دوسری نظر سامنے دھاڑتے شیر کو۔۔۔

حد ہوتی ہے۔۔۔ احمق پن کی۔۔۔ صبح سے کوٸی بیس کالز اٹینڈ کر چکا ہوں۔۔۔۔!!

یامین کی غصے بھری آواز پے وہ تینوں یکدم سیدھے ہوٸے۔

یہ خبر ایڈیٹر تک کس نے پہنچاٸی۔۔۔؟؟ وہ شیر کی طرح غراتے آگے بڑھا۔

ان تینوں کا سانس رکا۔

یقینا تم گٸے ہو گے۔۔۔؟؟ سمیر اپنے اوپر لگنے والے اس الزام پے دم بخود رہ گیا۔

جبکہ پاس کھڑی کشش نے فوراً دوسری طرف رخ موڑا۔

دیکھو ایڈیٹر صاحب۔۔۔!! اگر یہ خبر تمہارے نیوز پیپر میں چھپ گٸ ناں۔۔ تو سوچو۔۔۔ کیا ہی فیمس ہوجاٸے گا تمہارا نیوز پیپر۔۔ وارے نیارے ہو جاٸیں گے۔۔۔ تمہارے۔۔۔!!

کشش نے ایڈیٹر کو سبز باغ دکھاتے کہا۔

لیکن۔۔۔ اگر۔۔۔ یہ خبر جھوٹی ہوٸٕ۔۔۔ تو۔۔۔ میر صاحب مجھے قتل کردیں گے۔۔۔!!

کشش نے مڑ کے سمیر کو گھور کے دیکھا۔ جو کھسیانی ہنسی ہنسا۔

ارے ایسے تھوڑی نا قتل کریں گے۔۔۔؟ ہم۔ان کے گھر سے آۓ ہیں۔۔انکی اجازت سے۔۔۔

یہ دیکھیں۔۔۔ انہوں نے اپنا ایڈریس فون نمبر سب دیا ہے۔۔۔ ہم۔۔کیوں ۔۔ جھوٹ بولنے لگے بھلا۔۔۔؟؟ کیوں سمیر۔۔۔؟؟

وہ شرارتوں کی نانی معصوم شکل بنا کے سمیر سے تاٸید مانگ رہی تھی۔سمیر نے ہاں میں ہاں ملاٸی۔

میں۔۔ یہ۔۔۔ چھاپ دیتا ہوں۔۔۔ لیکن۔۔۔ انعام ملے گا ناں؟؟

وہ ایڈیٹر لالچ میں آگیا۔

بالکل۔۔۔ بہت عزت و احترام کے ساتھ نوازا جاٸے گا انعام سے۔۔۔۔

کشش نے خوش ہوتے ایڈیٹر کو مطمیٸن کیا۔

کچھ پوچھا ہے جواب دو۔۔۔؟

غصیلی آواز میں پوچھتے یامین نے سمیر کے رونگٹے کھڑے کر دیے۔

تھوک نگلتا اب کی بار بھی انگلی اٹھاتا جھٹ سے اشارہ کشش کی طرف کیا۔

اسے اپنی جان بہت پیاری تھی۔

کشش کی تو صدمے سے مر جانے والی حالت ہو گٸ تھی۔

اب توپوں کا رخ کشش کی طرف تھا۔

تمہیں۔۔ سکون نہیں۔۔ اپنی زندگی میں۔۔؟؟

پیدا ہوٸے جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوٸے اور رشتے والی ماسی بن گٸ ہو۔۔۔؟؟

یامین نے اچھاخاصا لتاڑ کے رکھ دیا تھا۔

ماسی کانام۔سن کے تو کشش کے پاٶں لگی سر بجھی۔

آپ۔۔۔ کے بھلے کے لیے۔۔۔۔۔!! منہ بناتی وہ منمناٸی۔

میرا بھلا۔۔۔۔؟؟ تم ہوتی کون ہو۔۔میرا بھلا کرنے والی۔۔۔؟؟

یامین کا پارہ ہاٸی ہوا۔ تو داور اور سمیر خاموشی سے وہاں سے ناک آٶٹ ہوگٸے۔

آپ۔۔۔مجھےیوں۔۔ نہیں ڈانٹ سکتے۔۔۔ میر یامین سکندر۔۔۔!! وہ بھی اب بنا ڈرے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولی۔

جب کہ آنکھوں کے چھوٹے چھوٹے موتی یامین کی زیرک نظر سے چھپے نہ رہ سکے۔

میں کیا کر سکتا ہوں۔۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی۔۔

بہت شوق ہے ناں۔۔ میری شادی کروانے کا تمہیں۔۔ تو ٹھیک ہے۔۔۔ اب ۔۔میری شادی۔۔ ہوگی۔۔۔ اور وہ بھی ۔۔تم سے۔۔۔!!

یامین کے منہ سے غصے میں جو آیا نکلتاچلا گیا۔

کیا۔۔۔۔۔۔؟؟ کشش کامنہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔

میں۔۔میں کیوں کرنے لگی آپ سے شادی۔۔۔ ؟؟ پتہ بھی ہے آپ کو۔۔۔ پورے۔۔۔ پورے۔۔۔ سات سال چھوٹی ہوں میں آپ سے۔۔۔!!

انگلیوں پے گنوایا۔ اور منہ بگاڑا۔

یہ تو اب وقت بتاٸے گا۔۔۔

میرا جینا حرام کیا ہوا ہے تم نے۔۔۔ اب۔۔ جینا کیسے حرام کرتے ہیں کسی کا۔۔۔ یہ اب میں تمہیں بتاٶں گا۔۔

میر یامین سکندر۔۔۔!!

اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے غصے سے غراتے وہ اسے صم بکم چھوڑ جا چکا تھا۔

اور وہ مٹھیاں بھینچتی وہیں منہ بناتی اگلا لاٸحہ عمل تیار کرنے لگی۔

ہار ماننا تو اس نے سیکھا ہی نہ تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *