Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ziddi Ishq Mera (Episode 02)

Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan

یہ آج ۔۔۔کھانا کس نے بنایا ہے۔۔۔؟؟

رات کو کھانے کی ٹیبل پے بیٹھا یامین ایک نوالہ لیتا بھڑک اٹھا۔

حلق تک۔کڑوا ہوگیا تھا۔

جی۔۔۔جی۔۔۔ بڑی۔۔۔ بی بی صاحبہ نے۔۔۔۔!!ببر نے پاس کھڑے ہوتے موٶب لیکن ڈرے ہوٸے انداز میں کہا۔

مما۔۔۔ نے۔۔۔؟؟ اور اس میں ۔۔یہ ڈھیر سارا نمک بھی۔۔مما نے ہی الٹا ہوگا۔۔۔؟؟

غصہ ضبط کرتے وہ اپنی پلیٹ کو کھسکا چکا تھا۔

جییی جی۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔ !! ببر کو سمجھ نہیں آٸی۔ کیا جواب دے۔۔۔؟

آج وہ سارا دن بزی رہا تھا۔

اور کافی لیٹ گھر آیا تھا۔۔

سبھی کھانا کھا چکے تھے۔

ببر کی زمہ داری تھی۔کہ وہ یامین کے کھانے پینے کا اچھے سے خیال۔رکھے۔

ایک طرح سے گھر کے اندروہ اس کا سیکرٹری تھا۔

کوٸی بھی ملازمہ اسکے نزدیک نہیں پھڑکتی تھی۔

وہ بہت سخت مزاج ہر چیز کو پرفیکٹ کرنے والا ۔۔۔ لڑکی زات سے خار کھا تا تھا۔

بھاٸی۔۔۔ کچھ اور بنا دیتے ہیں آپ کو۔۔۔!!

ببر نے اسے بنا کھانا کھاٸے اٹھتے دیکھا۔

تو منمناتے ہوٸے بولا۔

نہیں۔۔۔ رہنے دو۔۔۔ بھوک مرگٸ ہے۔۔۔!!

دانت پیستا وہ کہتاوہاں سے اپنے روم کیجانب بڑھا۔

وہ۔جانتا تھا۔۔ کہ یہ کس کی شرارت ہے۔۔۔

یہ۔۔۔۔ کچھ زیادہ نہیں ہو گیا۔۔۔؟؟

سمیر نے کشش سے کہا۔

جو چپ سی دیکھ رہی تھی۔

سمیر کرن اور کشش کی ملی بھگت سے وہ یامین کو تنگ کرنے میں کامیاب تو ہوگٸے تھے۔لیکن۔۔اسکا بنا کھانا کھاٸے اٹھ کے جانا۔۔ ان تینوں کو ہی گہری سوچ میں ڈالتے شرمندہ کر گیا تھا۔

منہ بناتے ببر کھانا سمیٹنے لگا۔

کہ وہ جو چھپ کے بیٹھے تھے۔ سامنے وارد ہوٸے۔

ہمممم۔۔ ببر ۔۔۔!! تم۔۔جاٶ۔۔۔ ہم ۔۔۔سمیٹ لیں گے یہ۔۔۔ کھانا۔۔۔!!

کشش کی زبان چلی۔تو ببر نے خاموش رہنا زیادہ۔مناسب سمجھا۔۔

اسکی حرکتوں اور شرارتوں کی ذد میں تو پورا میر ولا ہی آیا ہوا تھا۔وہ کیا چیز تھا۔

تم۔۔نے سنا نہیں۔۔۔ کیا کہا میں نے۔۔۔؟

ببر کو خاموشی سے اپنا کام جاری رکھتے دیکھ کشش دانت پیستی گھوری ڈال کے بولی۔

بی بی۔۔۔ !! ہم۔۔۔ سمیٹ لیں۔۔ گے۔۔۔!!

دھیرے سے کہتا وہ نظریں جھکاٸے بولا تھا۔

ہم۔۔۔ تو ایسے کہہ رہے ہو۔۔ جیسے۔۔ پیچھے کوٸی پوری فوج کھڑی کی ہوٸی ہے۔۔۔!!

کشش نے فوراً بات اچکی۔

دیکھو۔۔۔ اگر اپنی شامت نہں بلانا چاہتے۔۔۔تو چپ چاپ یہاں سے نکلو۔۔۔

سمیر نے ببر کے کان کے پاس جاتے اسے سمجھایا۔

تو وہ منہ بناتا وہاں سے نکل گیا۔

وہ ان سے پنگا کیے لے سکتا تھا۔۔۔۔؟

جو میر ولا کے غنڈے بنے ہوٸے تھے۔۔۔

یس۔۔ باس۔۔۔ آگے کی کیا لاننگ ہے۔۔۔؟

کرن نے آگے ہوتے کشش سے پوچھا۔

اس کے دماغ میں کس وقت کیا چلتا ۔۔کوٸی نہیں جان سکتا تھا۔

ہممممممم۔۔۔ ہم کھانا لے کے۔۔۔ اس شیر کی کھچار میں جاٸیں گے۔۔۔ جو بھی۔۔۔ ہے۔۔۔ کوٸی ہماری وجہ سے بھوکا سوٸے۔۔۔ قطعی نامنظور۔۔۔۔ اللہ ناراض ہوجاٸے گے۔ اور۔۔ میں تو اپنے اللہ کو کبھی نہ ناراض کروں۔۔

کشش کا اگلا پلان سن کے سمیر اور کرن نے ایک دوسرے کو دیکھتے باٸیکاٹ کرنے کا ارادہ کیا۔

کیوں۔۔۔ خود بھی مرنا چاہتی ہو۔۔۔ اور ہمیں۔۔۔بھی مارنے کا ارادہ ہے۔۔۔؟؟

جانتی ہوناں۔۔ ان کے غصے کو۔۔۔۔؟؟

سمیر نے ڈرایا۔

ہاہاہاہا۔۔۔۔ غنڈہ۔۔ پارٹی۔۔۔ سے آج تک کوٸی بچ پایا ہے۔۔۔ جو یہ بچیں گے۔۔۔؟؟ ڈرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ میں ہوں ناں ساتھ۔۔۔!! کم اینڈ فالو می۔۔۔۔۔!!

کھانے کی ٹرے سیٹ کر کے وہ آگے آگے چلی۔ ان دونوں کو پیچھے آنے کا کہتی ۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کا۔منہ تکتے

جال تو جلال تو آٸی بلا کو ٹال تو

کا ورد کرتے ساتھ ہولیے۔

دروازے پے ناک کرتی وہ بہت کانفیڈنس سے کھانے کی ٹرے لیے کھڑی تھی۔

وہ جو غصہ ضبط کرتا سگریٹ نکال کے اسے سلگا چکا تھا۔ اور اب دھویں کے مرغولے ہوا کے سپرد کیے وہ گیلری کا رخ کر چکا تھا۔ دروازے پے ہوتی دستک نے اسے چونکایا۔

سگریٹ وہیں گراتا مسلتا وہ دروازہ کھولنے کی غرض سے آگے بڑھا۔

جیسے ہی دروازہ کھولا۔

ساانے افلاطون پارٹی کو دیکھ ماتھے پے تیوری چڑھی۔

سمیر اور کرن پیچھے سے چپکے چپکے واک آٶٹ کر گٸے۔

اور یہ بات کشش اچھے سے جانتی تھی۔ کہ وہ انتہاٸی ڈرپوک ہیں۔

ٹن ٹنا ٹن۔۔۔ سرپراٸز۔۔۔۔۔!!

منہ پے سماٸیل سجاتی وہ کھانے کی ٹرے کو آگے کرتی اس وقت یامین کو انتہاٸی بری لگ رہی تھی۔

کیا ۔۔۔مسٸلہ ہے۔۔۔؟؟ انتہاٸی روکھے انداز میں پوچھا۔

ارے۔۔۔۔!! آپ کے لیے کھانا لاٸی ہوں۔۔۔۔!!

ایک ساٸیڈ سے ہو کے اندر کی طرف آتی وہ زرا بھی نہ جھجھکی۔

کھانا ٹیبل کے ایک طرف رکھتے وہ مسکراتی یامین کی طرف مڑی۔

ایک چھوٹی سی شرارت ہی کی تھی آپ کے ساتھ۔۔۔!!

اس یں اتنا غصہ کرنے کی کیا بات تھی۔۔۔؟؟

بہت بزرگانہ انداز میں سمجھایا۔

تم۔۔اپنی۔۔۔ بکوا۔۔۔۔۔۔

ارے۔۔۔۔!! یقین مانیں۔۔ صرف ایک پلیٹ میں نمک تھا۔۔۔باقی کا سارا کھانا مزے دار تھا۔

آپ نے چیک نہیں کیا۔۔۔ ورنہ آپ یوں نہ اٹھ کے آتے۔۔۔۔!!

اٹھاٶ۔۔۔ کھانا ۔۔۔اور نکلو یہاں سے۔۔۔۔!

اپنے آپ کو کنٹرول کرتا وہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھتا بولا۔

ارے۔۔۔۔یہ پینٹنگ ۔۔۔کتنی خوبصورت ہے۔۔۔۔!!

مسکراتی وہ اسکی بات کو اگنور کرتی سامنے دیووا پے لگی پینٹگ کو دیکھنے لگی۔۔۔

پھر ادھر ادھر نظریں دوڑاٸیں۔

ہاں۔۔۔ یہ پینٹنگ ناں۔۔۔ آپ۔۔وہاں۔۔ لگاٸیں۔۔۔ سامنے دیوار پے۔۔۔۔ وہاں۔۔ بہت جچے

گی۔۔۔ سچ میں۔۔۔!!

آنکھیں جھپکاتی اس وقت وہ یامین کے صبر کو آزما رہی تھی۔

خود یہاں سے جاٶگی۔۔ یا دھکے سے جانا پسند کرو گی۔۔۔۔؟؟

دانت پیستا وہ اتنا ہی بول پایا۔

ارے۔۔۔ جارہی ہوں۔۔۔۔!! اتنا غصہ نہ کیا کریں۔۔۔ رنگ دیکھیں۔۔ ! جل کڑھ کے سنولا گیا ہے۔۔۔!! خوش خوش رہا کریں۔۔۔۔ صحت کےلیے اچھا ہوتا ہے۔۔

دروازے کی جانب بڑھتے کہتی گٸ۔

کہ اچانک مڑی۔اور پیچھے سے آتے تیز رفتار یامین سے ٹکرا گٸ۔

ہاۓ اللہ۔۔۔۔۔ میراسر۔۔۔!

اس کا سر چکرا کے رہ گیا۔ اور وہ جو دروازہ بند کرنے آرہا تھا۔ اس کو دیکھنے لگا۔

ہو گیا ڈرامہ۔۔۔۔اب نکلو۔

آنکھ ے اشارے سے باہر کا راستہ دکھایا۔

میرا سر کس دیوار سے ٹکرایا تھا۔

اسکی میسینی آواز پے یامین نےاسے سخت گھوری سسے نوازا۔

اچھا اچھا گھوریں نہ۔۔۔ آنکھیں ۔۔ خراب ہو جاٸیں گیں۔

اور ہاں۔۔ کھانا کھا لیجیے گا۔۔۔ رات کو بھوکا نہیں سوتے۔۔۔ اللہ ناراض ہوجاتے ہیں۔۔۔

مسکرا کے کہتی وہ جا چکی تھی۔ یامین نے آگے بڑھ کے دروازہ لاک کیا۔

اور واپس آکے راکنگ چیٸر پے بیٹھا۔

وہ یامین سکندر تھا۔

اسکاپورا نام بن یامین تھا۔

بن یامین سے وہ یامین سکندر ببن گیا ۔۔۔

ہاں۔۔۔ ایک حادثہ۔۔۔

وہ ایک حادثہ اسے۔۔۔ کیاسے کیا بنا گیا۔۔۔

وہ صفر تھا۔۔۔

لیکن اس ایک حادثے نے آج اسے چھ ہوٹلز کا مالک بنا دیاتھا۔

اور صرف بات یہیں تک نہ تھی۔ اسکے ہوٹلز کی برانچیں اب دوسرے شہروں میں بھی پھیلنے لگیں تھیں۔

اور اس سب۔۔میں صرف تین سال لگے تھے۔۔

تین سال پہلے۔۔۔ جب۔۔۔ تاج سکندر کا ہوٹل۔۔۔ التاج ایک ڈوبتی کشتی تھی۔

تین بیٹے تھے ان کے۔۔ جن میں سے ایک فوت ہوگیاتھا۔ ار دو حیات تھے۔ اور ان دونں نے ہی باپ کے بزنس کو آگے بڑھانے کی بجاٸے اپنے اپنے بزنس کو فوقیت دی تھی۔

نتیجہ۔۔۔ التاج ہوٹل پسماندگی کا شکار ہوگیا۔ اور اسے بیچنے کی نوبت آگٸ۔

ان لمحات میں بن یامین کے ساتھ ہوٸے حادثے نے اسے کچھ کر گزرنے پے اکسایا۔

اور جس دن دادا جی نے وہ بیچنا چاہا۔اسی دن وہ کھڑا ہوا۔ اور التاج ہوٹل کو دادا جی سے لے لیا۔

سب گھر والوں نے منع کیا۔

باپ نے بھی منع کیا۔۔

لیکن وہ نہ مانا۔ اور خود کا آزمانے کے لیے اس نے اس ڈوبتے جہاز کو کنارے لگایا۔

اور نہ صرف کنارے لگایا بلکہ انتہا محنت اور لگن سے اسکی اور برانچیں قاٸم کیں۔

“کیوں۔۔۔؟؟ کیوں۔۔ رخصت ہوں۔۔۔۔میں اس شخص کے ساتھ۔۔۔؟؟ جس کے پاس اپنا کچھ بھی نہیں۔۔۔؟؟

جو شروع سے خالی ہاتھ ہے۔۔۔ وہ مجھے کیا دے گا۔۔۔؟؟ نہیں ۔۔چاہیے ایک ہارا ہوا۔۔ مرد مجھے۔۔۔!! “

یہ وہ الفاظ تھے جو ہتھوڑے کی طرح آج بھی بن یامین کے دماغ پے برستے تھے۔

اور اسے سر درد شروع ہو جاتا تھا۔

اور اب بھی اسے پھر سے وہی ہوا۔۔

جتنا وہ اس بازگشت سے دور بھاگنا چاہتا تھا۔ ناچاہتے ہوٸے بھی یہ الفاظ اسے لفظ با لفظ یاد تھے۔

اٹھ کے اپنی میڈیسن لینی چاہی۔ لیکن۔۔ بنا کچھ کھاٸے وہ نہیں لے سکتا تھا۔

مجبوراً کشش کا لایا کھانا۔۔ اسکے چند ایک نوالے لیتا وہ میڈیسن لے کے سونے کے لیے لیٹ گیا۔

اسکا سر درد بہت برا ہوتا تھا۔

جس کا آج تک اس نے کسی سے زکر نہ کیا تھا۔

وہ کسی کی بھی ہمدردیاں نہیں بٹورنا چاہتا تھا۔

اور نہ ہی اسے یہ گوارا تھا۔کہ کسی کی آنکھ میں اسکے لیے رحم ہو۔

وہ اپنے ماغ کو بالکل خالی کرتا سونے کی طرف توجہ دینے لگا۔

اتنا غصہ نہ کیا کریں۔۔۔ رنگ دیکھیں۔۔ ! جل کڑھ کے سنولا گیا ہے۔۔۔!! خوش خوش رہا کریں۔۔۔۔ صحت کےلیے اچھا ہوتا ہے۔۔

کشش کے الفاظ کی بازگشت ہوٸی تو۔۔ لب خود بخود ہی مسکراہٹ میں ڈھل گٸے۔

اس بات سے انجان وہ نیند کی وایوں میں کھو گیا۔

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

عناٸشہ ماں کو ہاسپٹل سے گھر لے آٸی تھی۔

جن کی حالت رات کو اچانک ہی بگڑ گٸ تھی۔

اور اب دواٸیوں کے زیرِ اثر سو رہی تھیں۔

عناٸشہ باپ کی وفات کے بعد گھر کی اکلوتی بیٹی ہونے کے ناطے وقت سے پہلے ہی بڑی اور سمجھدار ہوگٸی تھی۔

نہ باپ کے کسی بہن بھاٸی نے ساتھ دیا نہ ہی ماں کے۔۔

غریبوں کے تو ساٸے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔۔ یہ تو تھےہی وقت کے فرعون۔۔۔

جن کی امیری نے غریب رشتہ داروں سے قطع تعلق کر لیا۔

دادا جب تک تھے تو ہر ماہ میں کچھ نہ کچھ عناٸشہ کی ماں کو دے جاتے۔۔

لیکن۔۔۔ انکی وفات کے بعد وہ بھی ختم ہوگیا۔

اس سب کے ساتھ عناٸشہ کو اپنی تعلیم جاری رکھنا محال لگ رہا تھا۔

ایسے میں انکی ایک پڑوسن تھیں۔

زبیدہ آنٹی۔۔ بہت محبت کرنے والی اورملنسار خاتون تھیں وہ۔۔

مشکل وقت میں جہاں اپنوں نے ساتھ چھوڑا۔زبیدہ آنٹی نے ہرقدم پے ہی ان کا ساتھ دیا۔

ابھی وہ اپنی غریبی پے بیٹھی مزید اللہ سے شکوہ کناں ہوتی۔ کہ دروازے کی بیل پے چونکی۔

اٹھ کے دروازہ کھولا۔سامنے بیدہ آنٹی کو دیکھ چہرے پے مسکان آٸی۔

گندمی رنگت تیکھے نین نقش اور مقناطیسی آنکھیں اسے سب سے الگ بنا تی تھیں۔

اور جب وہ ہنستی تھی۔ اسکی آنکھیں بھی ہنستی تھیں۔

ارے بیٹا۔۔۔! تھوڑی دیر ہوگٸ آنے میں۔۔۔!! اب کیسی ہے عابدہ۔۔۔؟؟

سلام دعا کے بعد سلسلہ کلام جوڑا۔

اب بہتر ہیں ۔۔آنٹی۔۔۔!! سو رہی ہیں۔۔۔!!

دھیرے سے کہتی ان کے پاس ہی بیٹھ گٸ۔

اللہ صحت دے شفا دے۔۔ آمین۔۔۔۔

دعا دیتیں وہ افسردہ سی ہوگٸیں۔

اللہ کروٹ کروٹ جنت دے فردوس بھاٸی کو۔۔۔

ان کے ہوتے آج تک ۔۔کبھی۔۔ عابدہ کو ہلکا سا بخار بھی نہیں ہوا تھا۔ بہت محبت اور جان چھڑکنے والا بندہ تھا۔۔۔ اپنی بیوی پے۔۔۔

بس۔۔ ایک نہ ایک فن۔۔بھی نے چلے جانے ہے۔۔۔

عابدہ بھی تو۔۔ بہت۔۔محبت کرتی تھی۔۔۔ اپنے شوہر سے۔۔۔ جداٸی نے اسے ۔۔ایسا کر دیا۔۔۔

بہت دکھی لہجے میں بولیں۔

عناٸشہکی آنکھیں بھی نم ہونے لگیں۔

بہت پرانی بات تو نہ تھی۔وہ کالج میں داخل ہوٸی تھی۔ باپ کی خواہش پے ۔۔۔ وہ اسے ڈاکٹر بنانا چاہتےتھے۔

لیکن ۔۔۔ سب نصیبوں کےکھیل ہیں۔ ایک دن اسے ہی کالج سے لینے جا رہے تھے۔ اور روڈ ایکسیڈینٹ میں انکی جان چلی گٸی۔

ایک قیامت بن کے ٹوٹی تھی فردوس صاحب کی حادثاتی موت۔

کاش یہ۔۔امیر لوگ۔۔۔ گاڑی سے کسی غریب کو مارنے سے پہلے اس کے گھر بار اور بچو ں کا سوچ لیں کہ ان کا کیا ہوگا؟

امیری کے نشے میں وہ تو اللہ کو بھی بھلا بیٹھے ہیں۔۔

آنٹی۔۔۔!! آپ کے لیے چاٸے لاٶں۔۔؟؟

باتیں جو تکلیف دیں۔۔ انہیں چھوڑ دیا کرتے ہیں۔۔

ارے نہیں بیٹا۔۔

یہ تھوڑا سامان لاٸی تھی۔

کچھ فروٹس ہیں اور کھانے پینے کا سامان ہے۔۔۔

اب انکار نہیں کرنا۔۔ جانتی ہوں بہت خود درا ہو باپ کی طرح۔۔۔۔

کہتے ہی ساتھ عناٸشہ کے چہرے کے تاثرات دیکھ وہ ٹوک بھی بیٹھیں۔

عناٸشہ کوسر جھک گیا۔

فکر نہ کرو۔۔۔ بیٹا۔۔۔ اللہ بہت کار ساز ہے۔۔۔ وہ ضرور کوٸی نہ کوٸی حل نکال لے گا۔۔

لے میں تو بتانا ہی بھول گٸ۔

ماتھےپےہاتھ مارا۔

فاٸق سے بات ہوٸی تھی میری۔۔

جہاں وہ کام کرتا ہے۔۔۔ وہاں۔۔ پے تمہاری نوکری کا کہا تھا اسے میں نے۔۔۔

اچھا آنٹی۔۔۔۔!! کیا کہا فاٸق بھاٸی نے۔۔۔؟؟

عاٸشہ پرجوش ہوٸی۔

کہہ رہا تھا۔ آج شام میں بتاٸے گا۔

تو تم شام کو چکر لگا لینا گھر کا۔۔

اللہ بہتری لاٸے گا۔

انشاللہ۔۔۔۔ عناٸشہ نے دل سے کہا۔

اچھا میں چلتی ہوں۔

پھر آٶں گی۔۔۔ اپنا اور ماں کا خیال رکھنا کسیچیز کی ضرورت ہو تو بے جھجھک کہہ دینا بیٹا۔

پیار سے اسے کہتیں وہ چلی گٸیں۔

عناٸہ دروازہ بند کرتی اندر آگٸ۔

سامان کو اٹھا کے کچن میں رکھا۔

اور بے اختیار نظریں آسمان پے چلی گٸیں۔

وہ کتنا بڑا کار ساز ہے۔۔۔

ابی وہ اللہ سے گلے شکوے کر رہی تھی۔۔۔

لیکن نہیں جانتی تھی۔۔ کہ وہ اس کے لیےکیاسوچ کے بیٹھا ہے۔۔

واقعی۔۔۔ امی صحیح کہتی ہیں۔۔

جو نصیبوں میں ہوتا ہے۔۔۔ سات بل ڈال کے اللہ ہم تک پہنچاتا ہے۔۔۔بس فرق یہ ہوتا ہے۔۔کہ جس سے امید ہوتی ہے۔۔ وہاں سے نہیں۔۔ وہ اوپر والا کہیں اور سے ہی بندوبست کرتا ہے۔۔کیونکہ۔۔ نیکی کرنا بھی اللہ جس کے نصیب میں لکھتا ہے۔۔ وہی کرتا ہے۔۔اللہ سب کے نصیبوں میں نیکی کرنے کا جزبہ پیدا کے ۔ آمین

✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨
✨

صبح میڈم کشش کا موڈ بہت خراب تھا۔

کرن اور سمیر کو ایک نظر بھی دیکھ رہی تھی۔

رات کو جو انہوں نے غداری کی اسکی اچھی خاصی سزا دینے والی تھی وہ انکو۔۔۔

لیکن ابھی اسے کالج جانا تھا۔ اسکا لاسٹ سمسٹر تھا۔

ماس کمینیکشن میں بی اےکر رہی تھی۔

آگے اسکا ارادہ جنرلسٹ بننے کا تھا۔

اور دادا جی کی پوری سپورٹ تھی اسے۔

انکی دعاٸیں لیتی سب سے اللہ حافظ کرتی۔

ان سے منہ بناتی وہ باہر آٸی۔

میڈم۔۔۔ گاڑی۔۔ میں مسٸلہ ہے۔۔ کوٸی۔۔آپ۔۔۔ کسی اورکی گاڑی میں چلی جاٸے۔۔۔۔۔!!

ڈراٸیور نے ڈرتے ڈرتے فوارً سے بات کی۔

کیا مطلب۔۔ آج کالج جانا ہے میں۔۔ نے۔۔ اور گاڑی۔۔ میں کیا مسٸلہ ہے۔۔۔؟؟

ارے۔۔۔ کشش۔۔

its ok…

ہمارے ساتھ آجاٶ۔۔ تمہیں کالج چھوڑ دیں گے۔۔۔

سمیر نے کشش کو آفر کی۔

کرن اور وہ دونوں یونی جاتےتھے۔

کشش کاکالج راستے میں ہی آتاتھا۔

روز وہ ان کے ساتھ جاتی۔ جس دن ناراضگی ہوتی اس دن وہ اپنی الگ گاڑی میں جاتی۔

نو ۔۔تھینکس۔۔۔ چھوڑنا تو ۔۔۔ تم لوگوں کی فطرت ہے۔۔۔

مجھے۔۔۔ کوۓی ضرورت نہیں۔۔ بیچ راہ میں ساتھ چھوڑ جانے والں کی۔۔۔!!

بہت سنجیدگی سے کہتے وہ ان دونں کو چپ کرا گٸی۔

اتنے میں یامین باہر آتا اپنی گاڑی کی طرف جاتا دکھاٸی دیا۔

ان کو یکسر نظر انداز کرتا وہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔ ڈراٸیور نے فوراً دروازہ کھولا۔ وہ اندر بیٹھا۔ کہ ساتھ ہی میڈم کشش بھی گھس گٸیں۔

گٸ کام سے۔۔۔۔!! سمیر نے لب بھینچے۔

چلو۔۔۔ ہم چلیں۔۔ دیر ہوجاٸے گی۔۔ پہلا پریڈ مس ہوجاٸے گا۔میرا۔

کرن نے اسےکہا۔ اور دونں ہی گاڑی میں بیٹھے نکل گٸے۔

یہ۔۔ کیا حرکت ہے۔۔۔؟؟ یامین کے ماتھے پےتیوری چڑھی۔

کیا۔۔۔ہوا۔۔۔؟؟ لفٹ لی ہے۔۔۔۔ !!

بہت آرام سے بیٹھتے وہ مسکرا کے بولی۔

واہ۔۔ آپ کی گاڑی تو بہت مزے کی ہے۔۔ کتنی نرم ملاٸم سیٹیں ہیں اسکی۔۔۔ !!

وہ بچوں کی طرح خوش ہوتی تعریف کرنے لگی

اترو نیچے۔۔۔۔!!

یامین نے سختی سے کہا۔

کیوں۔۔۔؟؟ کشش کے ماتھےبپےتیوری چڑھی۔

پھر مقابل کا غصہ سے بھرا چہرہ دیکھ فوراً سے پینترا بدلا

پلیز ۔۔۔۔مجھے کالج چھوڑ دیں۔۔ میری گاڑی خراب ہوگٸی ہے۔۔۔۔!!

بہت معصوم سی شکل بناتے کہا۔

کیااور کی گاڑی میں چلی جاٶ۔۔۔ اترو۔۔ فوراً۔

بنا کسی لحاظ یامین نے اسے باہر کا راستہ دکھایا۔

دیکھیں۔۔ آپ۔۔۔ ایسا نہیں۔۔ کر سکتے۔۔۔ میں۔۔ آپ کی کزن ہوں۔۔ ناں۔۔ چھوٹی سی پیاری سی۔۔۔۔ معصوم سی۔۔۔۔ !! کر دیں ناں۔۔ ہیلپ۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔!!

آنکھیں چمکاتی وہ یامین پے اپناسحر پھونکنےلگی۔

اور یہی تو یامین نہیں چاہتاتھا۔

خود اترو گی یاہاتھ پکڑ کے نیچے اتاروں۔۔؟؟

اب کی بار انتہاٸی سرد لہجے میں کہا

تو کشش کو بھی غصہ آگیا۔

نہیں۔۔ اترتی۔۔۔ جو کرنا ہے کر لیں۔۔۔

منہ بناتیوہ مزید گاڑی میں دبک کےبیٹھ گٸ۔

یامین لب بھینچتا رہ گیا۔

وہ انتہا کی ضدی تھی۔ یہ تو وہ بھی جانتا تھا۔

او اس وقت وہ کافی لیٹ ہوچکا تھا۔ ڈراٸیور کو چلنےکا اشارہ کرتے کشش کو اگنور کیا۔

گاڑی اسٹارٹ ہوتےہی ایک خوشی کی لہر دوڑ گٸ تھی اسکے چہرے پے۔

اور وہ خوشی یامین نے کن اکھیوں سے دیکھی۔

اور نفی میں سر ہلاتا اپنا لیب ٹاپ آن کیا۔

آپ پے۔۔ ناں۔۔واقعی۔۔۔ غرور کرنا۔۔ بنتا ہے۔۔۔!!

کشش کی زبان پھر سے چلی۔

یامین نے دھیان نہ دیا۔ اور بلو ٹوتھ کان میں لگاٸے وہ حازق سے بات کر رہاتھا۔

جبکہ نظریں سامنے لیپ ٹاپ پے تھیں۔

جب۔۔ اللہ بندے کو بے حسابہ دے دیتا ہے۔۔ تو غرور آہی جاتا ہے۔۔۔۔

اسکےالفاظ یامین کو ہنٹر کی طرح لگے۔

بلو ٹوتھ کانوں سے ہٹاٸی اور اسکی جانب ناگواری سے دیکھا۔

اپنا منہ بند رکھو۔۔۔ ورنہ چلتی گاڑی سے نیچے اتارتے مجھےایک لمحہ نہیں لگنا۔۔۔

جب غرور آتا ہے۔۔۔۔ناں۔۔ تو۔۔ غصہ تو۔۔ بے تحاشا۔۔۔ ہی آتا ہے۔۔۔۔ خیر۔۔۔۔ سانو کی۔۔۔۔!!

اگلی بات کرتے ساتھ ہی منہ پھیر لیا۔

یامین مٹھیاں بھینچتا رہ گیا۔وہ بہت ڈھیٹ واقعہ ہوٸی تھی۔ااور یہ یامین جانتا تھا۔

تھوڑی دیر گزری ہوگی۔ کہ پھر سے کشش کی زبان چلی۔

یہ۔۔۔ جو سامنے ٹی وی لگایا ہے۔۔ یہ چلتا بھی ہے۔۔یا بس ۔۔ ایویں۔۔ شو شا کے لیے لگایا ہے۔۔۔۔!!

اسکی گاڑی کو اچھی طرح سے جانچ کر لینے کے بعد اب اگلا سوال داغا تھا۔

لیکن یامین نے اب کی بار بولنا ضروری نہ سمجھا۔

ارے بس بس۔۔۔۔۔ میرا کالج آگیا۔۔۔۔!!

کشش چلاٸی۔

یامین کو لگا کان کے پردے پھاڑ دیۓ۔

اترو اب۔۔۔۔!! خود پے ضبط کرتا وہ اسے دیکھتے بولا۔

اپنے ڈراٸیور سے کہیں ناں۔۔ دروازہ کھول دے۔۔ جیسے آپ کے لیے کھولتا ہے۔۔۔۔!!

بہت منت والے انداز میں یامین کے قریب ہوتے وہ ریکوسٹ کر رہی تھی۔

اور یامین لب بھینچے اس افلاطون کو دیکھ رہا تھا۔

حکم ملتےہی ڈراٸیور نے کشش کی ساٸیڈ والا دروازہ کھولا۔ اور وہ بڑی شان سے قدم باہر نکالتی کھڑی ہوٸی۔ ایک بہت خوبصورت سماٸیل سے ارد گرد دیکھا۔

جہاں کافی لڑکیا ں اس کو اتنی بڑی گاڑٕی سے اترتا دیکھ چکی تھیں۔

پلٹ کے شکریہ ادا کرنا چاہا ۔ لیکن گاڑی کا دروازہ بندہو چکا تھا۔

اور ڈراٸیور گاڑی آگے بڑھا چکا تھا۔

منہ تو بنایا۔ لیکن ۔۔ گھر جا کےشکریہ کرنے کا ارادہ کرتی وہ کالج کے اندر بڑھ گٸ۔

ارے۔۔واہ کشش یہ کس کی گاڑی میں آٸی ہو آج۔۔۔؟؟

مریم سےرہا نہ گیاتو پوچھ بیٹھی۔

ارے ۔۔۔ اپنی ہی سمجھو۔۔۔

کشش نے فرضی کالر جھاڑے۔

کافی لڑکیاں جو اس سے چھپتی چھپاتی پھیرتی تھیں۔ اسکی شرارتوں کی وجہ سے وہ بھی آج بہت مرعوب نظر آرہی تھیں۔

تمہیں پتہ بھی۔۔ہے۔۔۔ جس گاڑی میں تم۔۔۔ بیٹھ کے آٸٕی ہو۔۔۔ اسکی مالیت کتنی ہے۔۔۔؟؟

مریم کی حیرانی ابھی بھی کم نہ ہورہی تھی۔

ہاں۔۔ جانتی ہوں۔۔ کافی۔۔مہنگی۔۔ہے۔۔۔!!

اب اصل پراٸس تو پتہ نہیں تھی۔اسلیے ٹالتے بولی۔ اور آگے بڑھی۔

مریم بھی اسکے پیچھے ہی تھی۔

ایک کروڑ سے اوپر کی گاڑی ہے یہ۔۔!!

تم تو ۔۔کافی۔۔ امیر ہو بھٸ۔۔۔۔۔!! کبھی۔۔۔بتایا نہیں۔۔۔!!۔چھپی رستم۔۔۔۔!!!

مریم اس کے مزید قریب ہوٸی۔

تم۔۔۔تمہیں۔۔۔کیسے پتہ ۔۔۔وہ ایک کروڑ۔۔۔ سے اوپر کی ہے۔۔۔؟؟

کشش کا اعتماد پہلی بار تھوڑا ڈگمگایا۔

یار نیٹ پے دیکھاتھا۔

بہت کلاس کی گاڑی ہے۔۔۔

پر تم تو اس پے بیٹھ کے آٸی ہو۔۔۔ مزہ۔۔ آیا ہوگا۔۔۔!!!

مریم کچھ زیادہ ہی ایکساٸٹڈ تھی۔

کشش منہ بناتی آگے بڑھ گٸ۔

ایک اسکی گاڑی تھی۔ جو شاید۔۔۔ آٹھ یا نو لاکھ کی تھی۔ لیکن کافی اچھی گاڑی تھی۔ اسی کے لیے دادا جی نے لے دی تھی۔ جو اسےکالج لانے اور لےجانے کے لیے تھی۔

سمیر اور کرن بھی بہت مہنگی گاڑی میں جاتےتھے۔

داور کی گاڑی بھی کمال کی تھی۔

اور دوسری طرف اسکا اپنا کزن تھا۔ کروڑوں کی گاڑی میں گھومتا تھا۔۔۔

اسکے دل میں دکھ سا گھرنے لگا۔

سب سے کم اور ہلکی قیمت والی گاڑی اس کے حصے میں کیوں آٸی۔۔؟ جو آٸے روز خراب ہوتی تھی۔

باقی کا دن برے دل سے گزار وہ اپنی گاڑی میں گھر واپس لوٹی۔

اپنی گاڑی کو دیکھ سارا راستہ وہ منہ بناتی آٸی۔

وہ لالچی نہیں تھی۔

نہ ہی اسکی فطرت میں لالچ پن تھا۔ لیکن وہ اس فرق کو سمجھ نہ پاٸی۔۔ جو اس کے اور باقی کزنز کے درمیان تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *