Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 26)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 26)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟
صبح ناشتے کی ٹیبل پے جمیلہ بیگم کو عناٸشہکی حالت ٹھیک نہ لگی۔
جی۔۔۔۔! مختصر جواب دیا۔
کل ۔۔! آپ۔۔ عادل کے ساتھ گٸیں تھیں۔ اور پھر وہاں سے اٹھ آٸیں ۔ اچانک۔۔۔؟؟ کیا ہوا تھا۔؟ انہوں نے جانچنے والے انداز میں پوچھا۔ عناٸشہ نے حیرت سے انہیں دیکھا۔ عادل اسطرح انہیں شکایت لگاٸے گا۔ اسے اندازہ نہ تھا۔
ایسے مت دیکھیں۔ عادل آٸے تھے۔ سامان دینے۔۔ جو آپ وہیں چھوڑ آٸیں تھیں۔ تب ہمیں پتہ چلا۔
انہوں نے بات کلیٸر کی۔
عناٸشہ نے سر جھکا لیا۔
مما! آپی کو ہم نے فون کر کے بلایا تھا۔ ہمارا جواٸے لینڈ کا پروگرام بن گیا تھا۔ تو ہم نے آپی کو پک کیا۔
دانی فوراً عناٸشہ کے حق میں بولا۔ جبکہ ہانیہ نے بھیہاں میں ہاں ملاٸی۔ ناٸشہ تو انہیں دیکھتی رہ گٸ۔
اٹس اوکے۔۔۔ بٹ۔۔۔ آپ کو عادل کونافارم کنا چاہیے تھا۔ وہ بیچارا پریشان ہوگیا۔۔۔ اینی وے۔۔۔ مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔ آج آپ شام کو پارلر چلی جاٸیے گا۔ کچھ سروسز ہیں۔ ان سے بات کر لیجٸے گا۔
جمیلہ بیگم پیار سے کہتیں اٹھیں۔ اور شہریار صاحب کے ساتھ باہر نکلیں۔ دونوں ہی ڈاکٹر تھے۔ اور ایک ہی ہاسپٹل میں کام کرتے تھے۔ جبکہ اپنا ہادپٹل ابھی تکمیلکے مراحل میں تھا۔
آپ کو لگتا نہیں۔۔ ہم۔۔۔ کچھ زیاہ جلد بازی کر رہے ہیں۔۔؟؟ شہریار صاحب کو عناٸشہ کے چہرے پے خوشی کی کوٸی مق ڈھونڈنے سے بھی نہ ملی تھی۔
نہیں۔۔! جو نیک کام جتنی جلدی ہو جاٸے اچھا ہے۔۔! آپ کی حازق سے بات ہوٸی۔۔؟؟ دو دن سے وہ گھر نہیں آرہے۔۔ جمیلہ بیگم نے بات کو پلٹا۔
معلوم کیاتھا۔ کام کے سلسے میں شہر سے باہر ہیں۔
گاڑی رن وے پے ڈالی۔
حازق۔۔! اگر آپ نے میری بیٹی کو تکلیف پہنچاٸی تو۔۔ مجھ سے برا کوٸی نہیں ہوگا۔۔ آپ۔۔۔ میری بیٹی سے کیسی محبت کرتے ہیں۔۔ کہ وہ کسی اور سے ماں باپ کی خاطر شادی کے لیے تیار ہوگٸ۔ اور آپ۔۔ اس کے لیے اسٹینڈ نہیں لے پارہے۔۔ ؟؟ اورمیں اپنی بیٹی ایک ایسے انسان کو کیسے دے دوں۔۔؟ جو اتنا بے بس ہے۔۔۔؟ کل کوآپ۔۔ کیا ساتھ نبھاٶ گے۔۔۔؟؟
بجاٸے۔۔ اس کے کہ آپ اپنی محبت نبھاٶ۔۔ اس کے لیے کھڑے ہو۔۔ آپ منہ چھپا کے کہیں بیٹھ گٸے ہیں۔۔؟ اور میری بیٹی۔۔ اتنی تکلیف میں ہے۔۔ یہ صرف اسکی نہیں۔۔آپ کی بھی آزماٸش ہے۔۔۔!
چلیں۔۔۔؟؟ گاڑی ہاسپٹل کے سامنے روکتے شہریار صاحب نے جیملہ کوسوچوں سے باہرنکالا۔
جی۔۔۔۔! بیگ سنبھالے وہ نیچے اتریں۔ جبکہ دل انکا۔ عناٸشہ میں ہی اٹکا ہوا تھا۔













آپ۔۔ بہت۔۔۔ برے ہیں۔۔ یامین سکندر۔۔۔! کشش نے منہ بناتے اسے کہا۔ جو بہت مطیٸن موباٸیل۔یوز کر رہا تھا۔ اور گاڑی کشش کے کالج کے روڈ پے گامزن تھی۔
وہ کالج جانا نہیں چاہتی تھی۔ جبکہ یامین چاہتا تا وہاپنی پصھاٸی ہر حال میں مکمل کرے۔
شوہر۔۔ شادی کے بعد۔۔۔ اپنی بیویوں کو۔۔ہنی مون پے لے کے جاتے ہیں۔۔ اور ایک یہ میرے ہیں۔ کالج لے کے جارہے ہیں۔ منہ بناتے آہیستہ آواز میں بولی۔کہ کہیں ڈراٸیور سن نہ لے۔
یامین نے گردن وڑ کے ایک حیرت کی نظر اس پے ڈالی اور نفی میں سر ہلایا۔
کشش نے اپنی بات کا اثر نہ ہوتا دیکھ غصے سے رخ موڑ لیا۔
گاڑی کالج کے سامنے رکی۔ کشش منہ بناتے اترنے لگی۔
کشش۔۔! یامین نے بہت نرم۔لہجے میں پکارا۔ تو وہ پلٹی۔
واپس پے میں خود آٶں گا لینے۔ کسی کے ساتھ بھی نہیں جانا گھر۔ میں خود آٶں گا۔
یامین کے لہجے میں فکر تھی۔ کشش پھر بھیایک گھوری سے نوازتے نیچے اتر گٸ۔
اس کے اترتے ہی یامین نے گارڈز کو الرٹ کیا۔











گاڑی ایک جھٹکے سے رکی۔۔
گاڑی کے سامنے وہ کھڑی تھی۔ جسکو کتنے دنوں سے ڈھونڈ رہے تھے۔ بہت دھیرے انداز میں وہ گاصی سے اترے۔ سامنے وہآج بی ویسی ہی تھی۔ پہلے جتنی حسین لیکن۔۔ دل فریب۔۔۔!
میر۔۔حیات سکندر۔! تھک گٸ ہو گے مجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے۔۔ سوچا۔۔ اب خود ہی سامنے آجاٶں۔
فریدہ فاروقی بہت اترا کے بولیں
کیا ۔۔۔۔کیا چاہتی ہو۔۔؟؟ اب۔۔؟؟ اور ۔۔کیوں واپس آٸی ہو؟ سکندر صاحب کو اسکا انداز کھٹکا گیا۔
یو نو۔۔۔۔! ایک طواٸف زادی کسی سے کیا چاہے گی سواٸے پیسوں کے؟؟ ایک آٸی برو اٹھاتیوہ سکندر صاحب کو سخت زہر لگی۔
تمہیں۔۔ تمہارے پیسے دے دیٸے تھے میں نے۔۔جتنےکہے۔۔تھے اس سے کہیں زیادہ دیٸے تھے۔
۔حیات صاحب نے دانت کچکچاٸے۔
ہاہاہاہااہ۔۔۔! بہت معصوم ہو ناں۔۔ تم۔۔جو یہ تکنہیں جانتےکہ۔۔ایک طواٸف کامنہ کبھی بھی پیسوں سے نہیں بھرتا۔ تم نے جو دیٸے تھے وہ ختم ہوگٸے۔ مجھے اور پٕسوں کی ضرورت ہے۔ منہ ٹیڑھا کیے وہ اصل مدعے پےآٸیں۔
میرا پاس ایک پھوٹی کوڑی نہیں ۔۔۔سمجھی تم! غصے سےکہتے وہ واپس پلٹے۔
جانتی ہوں۔۔ اچھا خاصا لوس کر چکے ہو بزنس میں ۔۔۔لیکن تمہارا بیٹا۔۔۔وہ بہت امیر ہے۔۔ اور پیسوں میں کھیل رہا ہے۔۔۔ اس سے تو تم مانگ ہی سکتے ہو۔۔۔ حیات صاحب کے سامنے آتے وہ مکرو ہنسی ہنسی۔
حیات صاحب اسکا منہ دیکھتے رہ گٸے۔۔
ایسے نہ دیکھو۔۔جان۔۔۔! کہیں پھر سے پیار ہوگیا تو۔۔۔ دن میں تارے گنتےرہ جاٶ گے۔۔۔! مذاق اڑایا۔
صرف دو دن کا وقت دیتی ہوں۔۔ مجھے ایک کروڑ کی رقم چاہیے۔ سمجھے۔! دھمکیدینےوالےانداز۔میں کہا۔
ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔کچھ بھی نہیں ملے گا اب تمہیں۔ حیات صاحب کو اچھا خاصا غصہ آگیا۔
وہ پلٹیں۔ دانت چباٸے۔ اور گہرا سانس خارج کیا۔ اگر اپنی فیملی کا بھلا چاہتے ہو۔۔تو۔۔ضرور دو گے۔۔ ورنہ۔۔پیسوں کے لیے میں کس حد تک جا سکتی ہوں۔ وہ تو تم جانتے ہی ہو گے۔۔۔! بہت سخت الفاظ میں کہتی وہ حیات صاحب کو چپ کر گٸیں۔
اور ہاں اب مجھے ڈھونڈنے کی کوشش مت کرنا۔۔ دو دن بعد۔۔خود آٶں گی۔ تم سے رقم لینے۔ کہتے ساتھ ہی وہ گاڑی میں بیٹھی اور ایک زن سے گاڑی بھگا لے گٸ۔ حیات صاحب وہیں کھڑے رہ گٸے۔ انکا بزنس ڈوب چکا تھا۔اور اس وقت انکا بال بال قرضے میں ڈبا ہوا تھا۔ اوپرسے یہ عورت۔۔ ایک کروڑ۔۔۔۔؟؟؟ وہ کہاں سے لاٸیں گے۔۔۔؟ پریشانی میں وہ گاڑی پے بیٹھے۔
اگر۔۔۔ اسے۔۔۔ پیسےنہ دیٸے۔۔ تووہ۔۔ میرا۔۔گھر بکھیر دے گی۔۔۔۔۔۔! وہ سچاٸی جو اتنے عرصے سے چھپاٸی ہوٸی تھی۔ وہ سب کے سامنے آجاٸے گی۔۔۔














گاڑی سے نکلتے وہ جیسے گیٹ کے اندر داخل ہوٸی۔ حازق سے سامنا ہوگیا۔
اسکو چوٹ آٸی ہوٸی تھی۔ ماتھے پے بینڈیج تھی۔ لیکن آنکھوں میں اجنبیت۔۔۔
عناٸشہ کا دل بری طرح دھڑکا۔
لیکن خود کو۔کمپوز کرتی وہ آگے بڑھی۔
کیسے۔۔ہیں۔۔۔۔؟؟؟ وہ کافی فریش لگی حازق کو۔ اسکے چہرے پے اداسی تھی۔لیکن ایک الگ ہی چمک دیکھی حازق کو۔
کیسا ہونا چاہیے۔۔۔۔؟؟ حازق نے ٹوٹے ہوٸے لہجے میں الٹا اسی سے پوچھا۔
عناٸشہ کے پاس کہنے کوکچھ نہ بچا۔آنکھیں پھر سے نم۔ہوگٸیں۔کتنا سمجھایا اس دل کو۔۔۔ لیکن۔۔سمجھ نہ پایا۔بنا کچھ کہے وہ وہاں سے اندر کی جانب بڑھ گٸ۔ وہ اپنا حوصلہ نہیں ہارنا چاہتی تھی۔اور رو کے حازق کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
دکھ تب نہیں ہوتا جب لوگ نہیں سمجھتے۔۔۔
تکلیف تو تب ہوتی ہے جب اپنے نہیں سمجھتے۔۔
حازق سر جھٹکتا باہرنکلا۔














اب ۔۔۔ منہ ٹھیک کرو گی۔۔۔۔؟؟؟ یامین اسے کالج سے پک کرتا اپنے ہی ریسٹورنٹ میں لے آیا تھا۔ اور اب اسے آرڈر کرنے کا کہہ رہا تھا جبکہ وہ نخرہ کیے جا رہی تھی۔
آپ۔۔ناں۔۔ انتہاٸی کنجوس ہیں۔۔ کھانا کھلانے لاٸے بھی تو اپنے ہی ہوٹل میں۔۔ تاکہ۔۔۔ پیسے بچ جاٸیں۔۔۔
کشش ہر بات میں اپنے مطلب کی بات نکال لیتی تھی۔
کشش۔۔۔! میں پے کروں گا۔۔۔ یار۔۔! وہ زچ آگیا اسکی سوچ سے۔
پے کریں یا نہ کریں دونوں صورتوں میں پیسے تو آپ کی جیب میں ہی جاٸیں گے ناں۔۔۔! کشش کی منطق پے یامین کا دل کیا سر پیٹ لے اپنا۔
اچھا۔۔۔! بتاٶ۔۔۔ کیا چاہتی ہو۔۔۔؟؟ ہارمانتے بولا۔
ہنی مون پے جانا ہے۔۔۔۔!بنا شرماٸے جھٹ سے بول دیا۔
کشششش۔۔۔۔۔ ! یامین نےادھر ادھر دیکھا۔ کسی نے سنا تو نہیں۔۔۔۔
کشش ! ابھی آرڈر کرو۔ اس بارے میں گھر جا کے بات کریں گے۔۔۔! یامین نے دھیرے سے کہا۔
نہیں مجھے ابھی بتاٸیں۔۔۔ لےکے جاٸیں گے۔۔۔! کشش نے ضد کی۔
اچھا۔۔۔۔ کہاں جانا ہے۔۔۔؟؟ یامین نے چیٸر کے ساتھ ٹیک لگاتے سکون سے پوچھا۔
ہممممم۔۔۔۔ کاغان ناران۔۔ لے چلیں۔۔مری جاٸیں گے۔۔ مجھے ناں۔۔ لفٹ پے بیٹھنا ۔۔ ہے۔۔۔ اور پیراگلاٸینڈنگ بھی کرنی ہے۔۔ مجھے۔۔۔پہاڑ بھی سر کرنا ہے۔۔۔ مونجودڑو اور ہڑپا کے جنگلات میں بھی جانا ہے۔۔۔اور۔۔۔
بسسسسس۔۔۔! یامین نے ٹوکا۔ اسے لگا کشش اس کے صبر کا امتحان لے رہی ہے۔۔
کیا ۔۔ہوا۔۔؟؟؟ کشش نے حیرت سے پوچھا۔
ٹھیک ہے۔۔جہاں کہو گی۔۔ وہیں لے جاٶں گا۔۔ اب آرڈر کرو۔۔پلیز۔۔۔! یامین نے ہار مانتے کہا۔۔
کشش نے اب مزے سے آرڈر کیا۔ یامین اسکے چہرے پے معصوم مسکراہٹ دیکھ اندر تک پرسکون ہو رہا تھا۔














عناٸشہ کی مہندی کا فنکشن گھر پے ہی تھا۔ اور کشش سمیراور کرن کے ساتھیہاں پہنچی ہوٸی تھی۔ اور ساری انفارمیشن اکھٹی کر رہی تھی۔۔
حازق آج وہاں نہ تھا۔ وہ آج ہوٹل پے ہی رکا تھا۔ وہ جانتا تھا۔ کہ وہ گھر گیا تو سب کچھ بکھر جاٸے گا۔ ۔۔
اور وہ عناٸشہ کی چاہت کے بنا کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اسکی رضامندی کے بنا وہ بے بس تھا۔ وہ اسے چاہتا تھا۔ لیکن۔۔ شاید وہ۔۔۔ نہیں چاہتی تھی۔اسے۔۔ ونڈو سے باہر دیکھتا وہ رات کی تاریکی کو اپنے اندر بی اترتا محسوس کر رہاتھا۔
کاش۔۔ عناٸشہ۔۔۔!تم نے میری چاہت کے بدلے میں چاہت دے دی ہوتی تو۔۔ آج ۔۔ہم ایک ساتھ ہوتے۔۔۔۔!!
وہ دکھ سے آنکھیں موند گیا۔














اوکے ڈن۔۔۔۔! اب سے۔۔ پلان پے کام شروع۔۔۔!
کشش نے ٹی وی لاٶنج میں کھڑے سمیر اور کرن سے ساری انفارمیشن ڈسکس کی۔ اور آگے کی پلاننگ بھی بتاٸی۔
دیکھ لو۔۔۔ کشش۔۔۔! کہیں۔۔ کچھ گڑبڑ نہ ہوجاٸے۔۔۔! ہم پھس نہ جاٸیں۔۔
کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ اللہ ہے ناں ہمارے ساتھ۔۔۔ پھر گھبرانا کیسا۔۔۔؟؟ کشش نے کرن کو حوصلہ دیا۔۔
اوکے اب میں چلتی ہوں۔۔ یامین سکندر کہیں ادھر ہی نہ آجاٸیں۔۔۔ گڈ ناٸیٹ۔
لیکن۔۔ صبح وقت پے تیار رہنا تم دونوں۔۔۔!
باٸے۔ کشش وہاں سے انہیں ہکا بکا چھوڑ اپنے روم میں چلی گٸ۔ جہاں یامین لیپ ٹاپ کھولے آفس ورک میں بزی تھا۔ اسے اندر آتا دیکھ نظر انداز کیے اپنے کام میں بزی تھا۔
آپ ۔۔۔ کا اورکتنا کام ہے۔۔۔؟؟ پاس بیٹھتے سنجیدگیسے پوچھا۔
کیوں۔۔؟؟ بنا دیکھے مصروف انداز میں پوچھا۔
کچھ۔۔۔ کام ہےناں۔۔ مجھے آپ سے۔۔۔! وہ اپنی بات پے زور دیتےبولی۔
کیا کام ہے۔۔۔؟؟ ابھی بھی انداز مصروف تھا۔
جب۔۔ کام ختم کر لیں گے۔۔ پھر بتاٶں گی۔ بڑے لاڈ سے کہا۔
یامین نے اس میں کافی حد تک چینج دیکھا تھا۔ وہ اب یامین سے پہلے کی طرح لڑتی نہ تھی۔ بلکہ اپنے لاڈاٹھوانے لگی تھی۔ اس مان اور یقین کے ساتھ کہ وہ اسے جو بھی کہہے گی۔ وہ مانے گا۔
مسکرا کے اسے دیکھا۔ لیکن وہ کسی گہری سوچ میں ہی گم تھی۔ بیڈ کراٶن سے ٹیک لگاٸے آنکھیں موند گٸ۔یامین کاممیں اتنا بزی رہا کہ اسے احساس ہی نہ ہوا۔ کہ کشش نے اس سے بات کرنی تھی۔ کام ختم کر کے اسکی جانب مڑا تو اسے سوتا پایا۔
بے اختیار ہی اس پے ٹوٹ کے پیار آیا۔
لیپ ٹاپ ساٸیڈ پے رکھا۔ ہاتھ بڑھا کے اسکے سرکو تکیے پے رکھا۔
اس پے کمفرٹر ڈالا۔ لاٸیٹ آف کرتے وہ اسے اپنے پاس محسوس کرتا نیند کی وادیوں میں کھونے لگا۔














شادی کافنکشن التاج ہوٹل میں ہی تھا۔ نبہت بڑے پیمانے پے تھا فنکشن۔ سارے کام حازق کے دوست اور ہوٹل کے مینیجر نے اپنے انڈرمثس کرواٸے تھے۔ جبکہ حازق صبح سے غاٸب تھا۔
کشش کرن اور سمیر کی ہال۔میں انٹری ہوٸی۔۔ بہت ساری نظروں نے ان تینوں ہستیوں کو بہت رشک سے دیکھا۔ ایک سے بڑھ کے ایک تھا۔ اور چالڈھال ہی کچھ الگ تھے۔
سارے ہمیں کیسے۔۔ آنکھیں پھاڑ کے دیکھ رہے ہیں۔۔ جیسے ہم شادی اٹینڈ کرنےآٸےہیں۔۔ جبکہ۔۔ہم تو۔ ۔۔
شی۔۔۔۔۔! کشش نے کرن کو ٹوکا۔
دیواروں کے بھی کان ہوتےہیں۔۔ ایک ٹیبل پے وہ دونوں بیٹھیں۔ جبکہ سمیر وہاں سے جینٹس کی جانب چلا گیا۔
لیکن جاتے جاتے کسی سے بہت زور کی ٹکر لگی۔
اندھے ہو کیا۔۔۔؟ دیکھ کے نہیں چل سکتے۔۔۔؟؟ سمیرکا اپنا سر گھوم گیا۔ لیکن سامنے والی کی تیکھی زبان کا مزہ ضرور چکھا۔
ایکسکیوز می۔۔۔! آپ ٹکراٸیں ہیں مجھ سے۔۔۔! سمیر نے ادب کے داٸرے میں رہتے ہوٸے اس چھوٹی سی تیکھی مرچی کو دیکھا۔
اچھھھاااا۔۔ کوٸی ثبوت ہے۔کیا۔۔؟؟ہانیہ نے بہت پرسکون انداز میں پوچھا۔
سمیر کو لگا۔۔ کشش کی کاربن کاپی کھڑی ہو اس کے سامنے۔ دل نے اچانک سے ایک بیٹ مس کی۔
اور بے اختیار ہاتھ دل پے گیا۔
یو آر سو سویٹ۔۔۔۔! سمیر نے بے اختیار کہا۔ تو ہانیہ بلش کرنے لگی۔ پہلی بار اسطرح کسی نے اسکی تعریف کی۔ اور اس احساس سے تو بالکل۔نا آشنا تھی۔
پاگل۔۔۔۔۔! اک گھوری سے نوازتی وہ عہاں سے ہٹ گٸ۔ جبکہ سمیر کی نظریں ایک لحے کو بھی پھر اس پے سے نہ ہٹیں۔
کشش اور کرن عناٸشہ سے براٸیڈل روم میں مل کے واپس آٸیں۔ تو کشش کی نظر عسمیر پے پڑی جسکی نظروں کے فوکس پے کوٸی لڑکی تھی۔ دانت پیستی وہ اس تک گٸ۔
سمیر۔۔۔! ہم یہاں۔۔ شادی انجواٸے کرنے نہیں بلکہ شادی رکوانے آٸے ہیں۔ اور مہربانی کر کے۔۔۔ لڑکیوں کو تاڑنا بند کرو۔۔۔! کشش نے کمر پے ہاتھ رکھے سمیر کو سختی سے جھڑکا۔
اللہ کا خوف کرو۔۔۔ یار۔۔۔! میں نے کبی تاڑا۔ہے کسی کو۔۔۔۔ سمیر کا تو اچھا خاصا دماغ گھوما۔
وہ جو لڑکی ہے۔۔۔کیوں گھور رہے ہو اسے؟
کڑے تیوروں سے پوچھا۔
وہ۔۔ وہ۔۔مجھ سے ٹکراٸی تھی۔۔ خود۔۔ میں نہیں۔۔ سمیر نے صفاٸی دی۔
میں تو یہ دیکھ رہا ہوں۔ اس کے ساتھ جو لڑکا کھڑا ہے۔۔ وہ کون ہے۔۔۔؟؟سوچنے والے انداز میں بولا۔
بھاٸی ہے اسکا۔۔۔! کشش نے اسے مزے سے انفارم کیا۔
سچی۔۔؟؟ سمیر خوش ہوا۔
سمیر۔۔۔! باز آجاٶ۔۔ ایج دیکھو اسکی۔۔ پنرہ سولہ سال کی ہو گی وہ۔۔۔! کشش نے اسے شرمندہ کرنا چاہا۔
تو۔میں کونسا ابھی رشتہ لے کے جارہا ہوں۔؟ سمیر نے بھی دبے دبے انداز میں کہا۔
ایک بار یہ شادی والاکام ہوجاٸے پھر تمہارا بندوبست کرتی ہوں۔۔کشش نے دل ہی دل میں اس سے مخاطب ہوتے کہا۔
اپنی تو کروالی شادی۔۔ باقیوں کے ملن کا بھی اچھا خاصا بندوبست ک رہی ہو۔۔۔میں تمہیں نظرنہیں آتا۔۔؟؟سمیرنے گلہ کیا۔
اب کام کی بات کریں۔؟ کشش نے ایک آٸی برواچکاتے پوچھا۔سمیر نے گہرا سانس خارج کیا۔
دیکھو یار۔۔! شادی رکوانی ہے تو پلان بھی تو ہوگا ناں۔۔؟؟ وہ بتاٶ۔؟
سمیراسکی طرف مکمل گھوما۔ دل کو گونا سکون آگیا تھا۔ کہ جس پے اسکا دل آیا تھا۔ وہ سنگل ہے۔
کان ادھر کرو۔۔! دھیرے سے کہا۔
نہیں۔۔ ! کاٹو گی۔۔۔! سمیر نے دونوں کان چھپاٸے۔ کشش نے دانت پیسے۔
اور اسکا ہاتھ پکڑ کر ساٸیڈ پے لے گٸ۔ اور یہ سب ہانیہ کی نظروں نے بھی دیکھا۔ اور ایک جیلس پن کا احساس جاگا۔
ہاں۔۔ بولو۔۔؟؟ سمیر نے فوراً کہا۔
پلان ہے۔۔ دلہا کڈنیپ کرنا ہے۔۔! سرگوشی والے انداز میں کہا۔
کیا۔۔۔۔؟؟ سمیر دنگ رہ گیا۔ وہ کشش تھی۔۔ کچھ بھی سوچ سکتی تھی۔ کچھ بھی کر سکتی تھی۔
جو کہا ہے۔۔ وہی کرنا ہے۔۔ سمجھے۔ دلہا ابھی پہنچا نہیں۔ میںنے انفارمیشن لے لیں ہیں۔ وہ جس راستے سے آرہے ہیں۔ وہیں سے کڈنیپ کرنا ہے۔
کشش نے فوراً کہا۔
تم۔۔۔ تم۔خود بی پھسو گی۔ اور مجھے بھی پھساٶ گی۔ یامین بھاٸی کو پتہ چلا تو۔۔ دونوں کو جان سے مار ڈالیں گے۔
میں تو انکی جان ہوں۔۔ مجھے تو وہ کچھ بھی نہیں کہیں گے۔ البتہ تمہارا کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ کشش نے اسے مسکراتے ہوٸے ڈرایا۔
میں۔۔ نہیں جارہا۔ سمیر نے بھی ہری جھنڈی دکھاٸی۔
تم تو کیا۔۔ تمہارے اچھے بھی جاٸیں گے۔۔چلو۔۔۔! کھینچ کے ساتھ لیے وہ باہر آٸٸ۔
دونوں گاڑی میں بیٹھے۔
جہاں سمیر کا ڈر حاوی ہو رہا تھا۔ ہیں کشش کا اطمینان قابل دید تھا۔
واہ۔۔کششش! پہلے دلہن بنی خود کڈنیپ ہوٸی تھی۔ آج دلہا کڈنیپ کرنے جارہی ہوں۔۔ کیا قسمت پاٸی ہے۔۔ میری بھی پوری لاٸف ہی ایڈوینچر ہے۔۔۔
دل ہی دل میں سوچتی وہ زیرِ لب مسکراٸی۔
