Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 04)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 04)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
اب۔۔۔تم ہی بتاٶ۔۔۔ کیا کروں۔۔۔؟؟
سویرا چچی کا توتمہیں پتہ ہے ناں۔۔۔؟ وہ کبھی بھی ہمارا رشتہ نہیں ہونے دیں گیں۔
٠٠مجھ سے زیادہ ان کا اور کیسے پتہ ہوگا۔۔۔؟؟
گال کے نیچے ہاتھ رکھے مسلسل سامنے دیکھتی وہ آہستگی سے بولی۔
اور داور۔۔۔۔ وہ اپنی۔۔۔مما کے خلاف جا کے۔۔۔ یہ۔۔۔ رشتہ۔۔کبھی نہیں کریں گے۔۔۔!!
کرن افسردہ ہوٸی۔
کشش نے ایک نظر اسکے اداس چہرے پے ڈالی۔
یہ عشق نہیں۔۔ آساں۔۔۔
بس اتنا سمجھ لیجیے۔۔۔
اک آگ کا دریا ہے۔۔۔۔
اور ڈوب کے جانا ہے۔۔۔
بہت ادا سے اس نے شعر پڑھا۔
کرن نے نروٹھے پن سے اس دٕکھا۔
ارے یار ۔۔۔۔ جب پیار کیا ہے۔۔۔ تو چھوٹی موٹی آزماٸشوں کے لے بندہ تیار رہتا ہے۔۔۔
اب۔۔۔ پیار کوٸی پلیٹ میں سجا کے تو آپ کو ۔۔پیش نہیں کرے گا۔۔۔ناں۔۔؟
اس نے بہت پیار سے سمجھایا۔
تھوڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔۔
تھوڑی قربانی ینی پڑتی ہے۔۔
تھوڑی۔۔۔۔ کان کے قریب ہوٸی۔۔
سازشیں کرنی پڑتی ہیں۔۔۔۔
کرن نے آنکھیں پھیلا کے اسے دیکھا۔
اب ایسے مت دیکھو۔۔۔ جسطرح کی تمہاری یہ ہونےوالی ساس ہے ناں۔۔۔ انہوں نے ازشوں میں پی ایچ ڈی کی ہوٸی ہے۔۔۔
اب ان سے ٹکر لینی ہے تو۔۔ کچھ نہ کچھ تبوڑی بہت سازشی دماغ بنانا پڑے گا ناں۔۔۔۔!!
کشش کی نظریں سامنے ٹیبل پے بیٹھی اس لڑکی کی طرف ہی تھیں۔
یامین لیپ ٹاپ پے بزی تھا۔ اور وہ لڑکی یامین کو تاڑنے۔۔۔
ایسا کشش کو لگا۔
کشش پلیز ۔۔ یار۔۔۔!! کوٸی حل بتاٶ۔۔۔
کرن نے زچ ہوتے کہا۔
ارے یار۔۔۔۔!! ٹینشن کیوں لے رہی ہو۔۔۔ ؟ تم نے ناں۔۔۔ بہت پرفیکٹ بندی سے انا راز شیٸر کیا ہے۔۔۔ اب بالکل بے فکر ہو جاٶ۔۔۔۔ تماہری شادی تو داور سے ہی ہوگی۔۔۔
میرا موباٸیل دو۔۔۔!!
اسے تسلی دیتے اپنا موباٸیل لیتی یامین کو فون ملانے لگی۔
کیاکر رہی ہو ؟ کسے کال کر رہی ہو؟
کرن کو ایک دم اس کے کالکرنے پے اچھنبا ہوا۔
وہ سامنے۔۔۔ دیکھو۔۔۔ انہی کو۔۔۔!!
سامنے یامین کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
کرن کی نظر پڑی تو پوری آنکھیں کھل گٸیں۔
تم۔۔۔تم۔۔۔ پاگل ہو گٸ ہو۔۔۔کیا۔۔۔؟؟
وہ کوٸی۔۔۔ ضروری کام سے آٸے ہوں گے۔۔۔ اور۔۔۔ تم۔۔۔ انہیں۔۔۔؟؟
پہلے فیملی۔۔۔ باقی ۔۔۔ دنیا بعد میں۔۔!
ابھی ہمیں ان کی ضرورت ہے۔۔۔
کہتے ہی کال ملاٸی۔
ایک کال۔۔۔
دوسری کال۔۔۔
تیسری کال۔۔۔
کشش کو غصہ آگیا۔
وہ کال نہیں اٹھا رہا تھا۔
اللہ جی ۔۔یہ لڑکی۔۔۔ خود بھی پٹے گی۔۔ ہمیں بھی پٹواۓ گی۔
کرن ڈر رہی تھی
جبکہ کشش دیکھ سکتی تھی۔ موباٸیل اس کے سامنے ٹیبل پے تھا۔ اور وہ لیپ ٹاپ پے لگا تھا۔











ایکسکیوز می سر۔۔۔۔!! آپ کی کال آرہی ہے۔۔۔!!
سیکرٹری نے یامین کوکال کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
یامین نے ایک نظر موباٸیل پے ڈالی اور اگنور کر دیا۔
ابھی اسکے کلاٸنڈز نے پہنچنا تھا۔ اقر اسکی میٹنگ اسٹارٹ ہونی تھی ان کے ساتھ۔ وہ پواٸنٹس نوٹ کر رہا تھا۔
کال دوبارہ ہوٸی۔
بار بار ہوٸی۔
سفینہ سیکرٹری وہ بھی ایریٹیٹ ہونے لگی۔
ناچار یامین جانتا تھا وہ ڈھیٹ ہے۔
کال پک کر ہی لی۔
کیا مٸسلہ ہے۔۔۔؟؟ دھیمی آواز میں وہ غرایا۔
بندہ کال۔پک کر لیتا ہے کوٸی مسٸلہ بھی ہو جاتا ہے۔۔
آگے سے کشش بھی تھوڑا بھڑکی۔
کیاہوا۔۔۔؟؟ اسکی بات پے وہ تھوڑا چوکنا ہوا۔
وہ۔۔ناں۔۔ تھوڑا مسٸلہ ہو گیا ہے۔۔۔۔
ساتھ میں کرن کو آنکھ ونک کی۔ وہ سر پکڑ کر رہ گٸ۔
وہ ناں۔۔ آٸسکریم پارلر ہے۔۔ ناں۔۔۔
آٸسکریم پارلر کا نام۔لیتے ساتھ میں آوازمیں بھی مسکینی سی آگٸ۔
ہم۔۔ناں۔۔ وہاں ۔۔ آٸسکریم کھانے آۓ تھے۔۔لیکن۔۔۔ اب ۔۔ وہ پتہ نہیں کہاں ہیں۔۔۔؟؟ کھو گۓ ہیں۔۔۔!!
کون۔۔کس کے ساتھ آٸی تھی۔۔۔؟
یامین کے لہجے میں ایکدم سے پریشانی کا۔عنص نمایاں ہوا۔
وہ۔۔۔ سمیر اور کرن۔۔۔!! مزے سے بتایا۔
بس گٸے کام سے۔۔۔اب۔۔۔!! کرن نے سر ٹیبل پے پٹخا۔
کہاں ہیں۔۔ وہ۔۔؟؟ اور۔۔۔ سمیر۔۔ اتنی لاپرواہی کیسے ک سکتا ہے۔۔۔؟؟
یامین کو غصہ کنٹرول کرنا مشکل لگ رہاتھا۔
آپ۔۔ انہیں۔۔ چھوڑیں۔۔ پلیز۔۔ مجھے پک کر لیں۔۔ ناں۔۔۔!!
اب تو۔۔ اندھیرا بھی ہونے والا ہے۔۔۔!!
کشش نے مزید ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے کہا۔
سمیر کو فون کیا۔۔؟؟ وہ اٹھتے ہوٸے بولا۔
کیاتھا۔۔۔ بزی ہے اسکافون۔۔۔!!
آپ۔۔پلیز ۔۔۔ فون مت بند کرنا۔۔۔ اور مجھے پک کریں۔۔۔!!
جلد بازی میں کہا۔ اور آرڈر لگایا۔
ٹھیک ہے۔۔ اپنی لوکشن بتاٶ۔ میں ۔۔پک کرتا ہوں۔۔!!
ناچار۔۔ یامین کو وہاں سے اٹھ کے کشش کی بتاٸی ہوٸی جگہ پے پہنچنا پڑا۔
میں چلی۔۔۔۔!! تم بھی سمیر کے ساتھ چلی جانا۔۔۔ اور ہاں۔۔۔ تمہارا کام ہو جاٸے گا۔۔ فکر نہ کرنا۔۔۔!!
موباٸیل ساٸیڈ پے کرتی وہ کرن کے کان میں گھستی کہہ کے باہر نکلی۔ اور مین گیٹ کے پاس پہنچی جسکی لوکیشن یامین کو دی تھی۔
یامین نے اسے گیٹ پے دیکھا۔ تو گہری سانس خارج کی۔
اور اسکی طرف بڑھا۔
حدہوتی ہے لاپرواہی کی۔۔!! کہاں ہیں وہ دونوں۔۔؟؟
پاس آتےہی غصے سے پوچھا۔
وہ آپ۔گھر جا کے پوچھ لینا۔۔۔ ناں۔۔۔!! ابھی آپ۔۔۔ مجھے۔۔ گھر لے چلیں۔۔!!
مزے سے منہ بناتی وہ یامین کو زچ کررہی تھی۔
ابھی۔۔۔ میری میٹنگ ہے۔۔۔۔!!
وہ اٹینڈ کرنی ہے۔۔۔!! ٹاٸم دیکھتا وہ متفکر ہوا۔
پھر۔۔میں آپ کی گاڑٕی میں بیٹھ جاتی ہوں۔۔ !! ویٹ کر رلیتی ہوں۔۔۔!!
فوراً سے حل پیش کیا۔
بالکل نہیں۔۔۔ یہ۔۔ سیو نہیں ہے۔۔۔میرے ساتھ چلو۔۔۔!!
کچھ سوچتےہوٸے وہ کشش کو لیے اندر کی جانب بڑھ گیا۔
یہ آج آپ۔۔ تیکھی مرچی ک ساتھ ٹاٸم سپیڈ کرہے ہیں۔۔؟؟
کشش نے چھوٹتے ہی فوراً سے کہا۔
جبکہ سفینہ اسکا منہ دیکھنے لگی۔ یہ کیا کہہ رہی ہے۔۔؟؟
مطلب۔۔۔؟؟
یامین کو اسکی بات سمجھ نہ آٸی۔
مطلب سمجھانے کا وقت کہاں ہے۔۔میرے پاس۔۔۔؟؟ اب دیکھیں۔۔ ناں۔۔ کتنی دیر سے وہ آپ کو گھورے جارہی ہے۔۔۔ !
بے دھڑک کہتی وہ سفینہ کے ساتھ یامین کو بھی شرمندہ کر گٸ۔
کشش یہاں بیٹھو۔۔۔ آرام سے۔۔۔!
یامین نے نظروں سے اسے چپ رہنے کی تنبیہہ کی۔
تو منہ بناتی وہ بیٹھ گٸ۔
مجھےایک بات سمجھ نہیں آتی۔۔۔ آپ کو اپنے ہوٹل والوں پے اعتبار نہیں۔۔ جو۔۔ ہوٹل سے باہر آکے میٹنگ اٹینڈ کرتے ہیں۔ ۔۔۔؟؟
تھوڈی پے ہاتھ جماٸے وہ بہت معصوم انداز میں کہتی یامین کو اپنے دل کے بہت قریب لگی۔
جبکہ سفینہ آج پہلی بار کسی کویامین کے ساتھ ایسے بے دھڑک بات کرتے دیکھ ششدر رہ گٸ تھی۔
اور اس پے مزید حیرانگی
یامین بھی خاموشی سے سنے جا رہا تھا۔
آپ ۔۔۔ ناں جلدی سے میٹنگ ختم کریں۔۔ مجھے۔۔ ناں۔۔ آپ سے۔۔ بہت۔۔۔ ضروری بات کرنی ہے۔۔۔!!
بہت ناز سے کہتی وہ یامین کو بچی ہی لگی۔
تھوڑی دیر میں وہاں ایک اور شخص آیا۔ اور یامین سے مصافحہ کرتا وہیں براجمان ہو گیا۔
میٹنگ اسٹارٹ ہو چکی تھی۔
اور یامین اب مکمل اس شخص کے ساتھ بزی تھا۔
اس تمام دوران کشش کی نظریں یامین پےہی ٹکیں تھیں۔ گاہے بگاہے ایک گھوری سے وہ سفینہ کبھی نواز دیتی تھی۔ جس پے وہ پہلو بدل کے رہ جاتی۔
وہکیا اسے بولتی جسے یامین نےکچھ نہ کہا۔
وہ کچھ کہہ کےاپنی شامت نہیں بلوانا چاہتی تھی۔
اوکے مسٹر کیف۔۔۔!! سی یو ٹومارو۔۔۔!!
اٹھتے ہوۓ یامین نے مسکراتے ہوٸے ہاتھ ملایا۔
واٸے ناٹ۔۔۔!! وہ بھی مسکرایا۔
اینڈ یو۔۔۔۔
beautiful Girl…
you r very sweet…
Like barbiee
وہ شخص جو میٹنگ کے دوران کافی دفعہ کشش کو نوٹ کر چکا تھا۔
رہا نہیں گیا تو اٹھتے ہوٸے اسے مخاطب کیا۔
Nice to meet you..
اس نے ہاتھ آگے بڑھایا۔
کشش کے ماتھ پے تیوری چڑھی۔
گردن ٹیڑھی کر کے یامین کو دیکھا۔ جو ایک ٹک اسے ہی دیکھے جا رہا تھا۔
منہ بناتی وہ اٹھی اور یامین کے پاس پہنچی۔اور اسے بازو سے پکڑ کے اٹھایا۔
اب چلیں بھی۔۔۔ مجھے۔۔ بہت زوروں کی بھوک لگی ہے۔۔۔!!
بہت مان اور لاڈ سے کہتے وہ حق جتاتے ہوۓ یامین سے بولی۔
وہ شخص لب بھینچ کے رہ گیا۔
جبکہ یامین کو اپنے اندر ایک سرور سا اترتا محسوس ہوا۔
اور فوراً سے پیشتر اٹھا
وہ شخص مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ جا چکا تھا۔
مس سفینہ آپ کو آفس کی طرف سے گاڑی آگٸ ہے لینے آپ جا سکتی ہیں۔۔ اور کل کی میٹنگ کا شیڈیولمجھے فاروڈ کر دیجیے گا۔
وہ سنجیدہ انداز میں کہتا کشش کا لیے لفٹ کی جانب بڑھا۔
کشش کا اس پے سب کے سامنے استحاق جتانا نجانے کیوں یامین کو بہت سکون دے رہا تھا۔
کچھ ہی دیر میں وہ گاڑی میں تھے۔۔
اور کشش تو بے انتہا خوش تھی۔
ایک اور بار موقع مل گیا ۔۔
ارے ہاں۔۔۔ یاد آیا۔۔۔ آپ سے ناں۔۔ بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔!! کشش فوراً یامین کیجانب مڑی۔
بولو۔۔۔!! بنا اسکی طرف دیکھے سیریس انداز میں کہا۔
آپ داور سے کتنا پیار کرتے ہیں۔۔؟؟
اس اچانک سوال پے یامین نے اسے الجھی نظروں سے دیکھا۔
کیا۔۔ مطلب۔۔۔؟؟ اس بات کا۔۔۔؟؟ ماتھے پے بل پڑے۔
دیکھیں ناں۔۔۔ وہ کسی سے پیار کرتےہیں۔۔ بلکہ۔۔۔ خاومش محبت کرتےہیں۔۔۔ لیکن۔۔۔ اپنی مما کی وجہ سے خاموش ہی محبت کیے جا رہے ہیں۔۔ تو ۔۔کیا آپ کا فرض نہیں بنتا کہ۔۔ ایک بھاٸی ہونے کے ناطے ان کی۔مدد کریں۔۔ ان کے پیار کو پانے میں۔۔؟؟
بہت تمہید کے ساتھ بات کو آگے بڑھایا۔
اور۔۔۔ وہ۔۔۔ خاموش۔۔ محبت ۔۔۔ کون ہے۔۔۔؟؟
دل میں ڈر سا بیٹھا۔۔۔
آف کورس۔۔۔۔ اپنی۔۔۔کزن ۔۔۔ کرن۔۔۔!! اور کون۔۔۔؟؟
جھٹ سے بولا۔
یامین نے گہرا سانس لیتے رخ دوسری جانب موڑ لیا۔
یہ۔۔ ان کا آپس کا معاملہ ہے۔۔ میں یا کر سکتا ہوں۔۔؟
یامین کے لہجے میں لاپرواہی اور کچھ حد ےتک اکتاہٹ بھی تھی۔جسے کشش نے صاف محسوس کیا۔
آپ۔۔ایسے نہیں ہٹ سکتے پیچھے۔۔۔ وہ آپ کے بھاٸی ہیں۔۔۔!!
کشش نے زور دیا۔
کشش۔۔!! تم۔۔۔ ان سب سے دور رہو۔۔۔!! یہ ان کی آپس کی بات ہے۔۔ وہ خود سالوکر لیں گے۔۔۔! سمجھی۔
یامین نے اب کیبار ڈانٹ دیا۔ تو وہ منہ بنا کے اے دکھن لگی۔
اور دیکھے چلی گٸ۔
اب کیا ہے۔۔۔؟؟ اسکے یوں دیکھنے سے وہ ایری ٹیٹ ہوا۔
صاف صاف کہیں ناں۔۔۔ سمیرا۔مما سے ڈرتے ہیں۔۔اس لیے۔۔۔۔!!
شٹ اپ کشش!! ہر وقت فضولمت بولا کرو۔۔!!
یامین نے لب بھینچے اسے ڈانٹ دیا۔ تووہ منہ پھیر گٸ۔
سچ کڑوا ہی ہوتا ہے۔۔۔۔!!
دھیرے سے پھر بھی زبان ہلانا نہ بھولی۔
یامین نے اسکا رخ اپنی طرف کیا۔ اور اسکی آنکھوں۔میں اپنی سیاہ رنگ آنکھیں ٹکاٸیں۔
ان میں اتنا غصہ تھا کہ ایک لمحے کو کشش بھی سہم گٸ۔









نوکری کیسی جا رہی ہے بیٹا۔۔۔؟؟
عابدہ بیگم نے اسے آج یوں خاموش سا دیکھا تو پوچھ بیٹھیں۔
ٹھیک۔۔۔۔ بہلکہ۔۔ بہت۔۔ اچھی۔۔۔!!
وہ چونکی۔۔ اور مسکرا کے بولی۔
آج ۔۔میری بیٹی۔۔۔ بہت چپ سی ہے۔۔۔سب ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟
عابدہ بییگم کو وہ کچھ صحیح نہ لگی۔
جی مما۔۔۔۔!! سب ٹھیک ہے۔۔ آپ۔۔ خواہ مخواہ پریشان نہ ہوں۔۔۔!!
اب وہ کیا بتاتی انہیں کہ۔۔ وہ کیا جاب کرتی ہے۔۔ ہوٹل میں۔۔۔
یوں تو وہاں کسی کی جرات نہیں کوٸی بدتمیی کرے لیکن۔۔۔ ایک ویٹریس کی جاب سے وہ اندر ہی اندر اپنا سارا اعتماد کھوتی جا رہی تھی۔
اس نے کبھی سوچا نہ تھا کہ ایک دن وہ یوں لوگوں کے سامنے کھانا پیش کرے گی۔ اور تب بھی بہت مشکل۔ہوتا ہے۔۔ جب اندر سے انسان ٹوٹا ہو۔ اور چہرے پے مسکراہٹ ہو۔۔۔
لیکن وہ پھر بھی اللہ سے ناامید نہیں ہوٸی تھی۔












کچھ نہیں بھابھی۔۔۔۔!!
وہ یونہی۔۔۔۔!!
عالیہ بیگم نے ٹالا۔ ساتھ میں جویریہ کو چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
کیا یونہی۔۔۔؟؟ دیکھو۔۔۔ عالیہ۔۔۔ یامین کی میں بھی ماں ۔۔ ہوں۔۔ مجھے بھی دکھ ہوتا ہے۔۔ اس کے لیے۔۔۔!! میں تو کہتی ہوں۔۔ کل کرتا ہے۔۔ وہ آج شادی کرے۔۔ مجھے۔۔ تو خوشی ہوگی ناں۔۔۔!!
سویرا بیگم نے آنکھوں میں دکھ کے آنسو لاتے کہا۔
علایہ بیگم کچھ نہ بولیں۔
ان دیکھیں ناں۔۔ یامین کا ہوگا تو ہی۔۔۔ داور کا بھی ہو گا ناں۔۔؟؟ اور میری بہن۔۔۔ کتنا میرے پیچھے پڑی ہے۔۔۔!! کہ آٶ آٶ۔۔۔ بات ہی پکی کر جاٶ۔۔۔ اب۔۔ داور جیسا۔۔ پڑھا لکھا۔۔۔ انہیں کہاں ملنا۔۔۔؟؟
جی جی بجا فرمایا آپ نے۔۔۔ اور جس دن داور کی بارات جاٸے گی۔۔۔ پتہ چلے گا۔۔ آپ کی بھانجی بھی آپ کی بھتیجی کی طرح بھا۔۔۔۔
جویریہ۔۔۔۔!! عالیہ بیگم نے ٹوکا۔
سویرا بی بی کا موڈ انتہاٸی خراب ہوا تھا۔
جاٶ دیکھو۔۔ حسن رو رہا ہوگا۔۔۔!!
عاالیہ بیگم۔نے اسے وہاں سے ہٹایا۔
تو وہ منہ بناتی اٹھ گٸی۔
آج کل بچوں کی زبانیں بہت کھل گٸیں ہیں۔۔۔
سویرا بی بی نے دانت کچکچاتے کہا۔
آپ۔۔آٸیں ناں۔۔ کھڑی کیوں ہیں۔۔؟؟ بات کو ٹالنا چاہا۔
مانا کہ۔۔ علیزہ کا یوں شادی والے روز ۔۔ گھر چھوڑ جانا ۔۔صحیح نہیں تھا۔۔۔ لیکن۔۔۔ اس سب ۔میں۔۔ میرے بھاٸی کا کیا قصور۔۔۔؟؟ وہ تو یامین سے بہت پیار کرتے تھے۔۔ اس لیے اپنی بیٹی دی۔۔۔ اب۔۔ وہ کہاں چلی گٸ۔۔۔؟ کوٸی نہیں جانتا۔۔۔
آنکھیں نم۔تھیں۔
تین سال ہونے کو آٸے۔۔ نہ کوٸی بھولتا ہے۔۔۔ اور نہ کوٸی بھولنے دیتا ہے۔۔۔۔
سخت انداز میں کہتیں وہ عالیہ بیگم کو گھورتی چلی گٸیں۔
عالیہ بیگم گہری سانس خارج کرتی رہ گٸیں۔
واقعی کوٸی نہیں جانتا تھا۔ ایک دن پہلے مہندی کی رات نکاح ہوا۔ اور اگلے دن بارات اور رخصتی تھی۔ کہ اچانک خبر ملی کہ۔۔۔ علیزہ گھر چھوڑ کے کہیں چلیگٸ ہے۔۔۔ بارات وہیں رہ گٸ۔ سب کچھ وہیں رہ گیا۔
اور یامین۔۔آج بھی ۔ وہیں کھڑا تھا۔ جہاں تین سال پہلے کھڑا تھا۔
نہ وہ زندگی میں آگے بڑھا نہ پلٹ کے دیکھا۔
نہ شکوہ کیا
نہ کوٸی شکایت کی۔۔
بس ایک چپ کا خول تھا جو خود پے لپیٹ لیا۔
اس کے اندر کتنے راز دفن تھے۔۔ یہ صرف وہی جانتا تھا۔۔ اور اسکا اللہ جانتا تھا۔












یامین سکندر نہ ہی کسی سے ڈرتا ہے۔۔ اور نہ ہی کبھی کسی سے ڈرے گا۔۔۔ اس لیے۔۔۔ میرے ساتھ زبان چلانے سے پہلے سوچ سمجھ لیا کرو۔۔!!
گہری کالی آنکھوں کو نیلی کانچ سی آنکھوں میں ڈالے وہ ڈرا بھی رہا تھا اور دھمکا بھی۔
جھٹکے سے ہاتھ چھوڑتا وہ رخ پھیر گیا تھا۔
کچھ پل خاموشی چھاٸی رہی۔ کہ یامین کو اپنے کانوں کے پاس اس کی سانسوں کی مہک محسوس ہوٸی۔یامین نے سختی سے آنکھیں موند لیا۔
اگر۔۔ آپ نے مجھے دوبارہ۔۔ ڈانٹا۔۔ تو۔۔۔ پنفرہ دن۔۔ بعد۔۔میں نے آپ سے کوٸی گفٹ نہیں لینا۔۔ اور پکا۔۔۔ والا ناراض ہو جانا ہے۔۔۔!!
دھیمے دھیمے کہتی اس کے لب یامین کی کان کی لو کو چھو رہے تھے۔
اور یامین کے دل کی دنیا کو ہلا کے رکھ دیا تھا۔
اب وہ خاموشی سے پیچھے ہٹ گٸ تھی۔ لیکن اپنا سحر وہ یامین کےکانوں میں پھونک گٸ تھی۔
جس سے نکلنا یامین کے بس کی بات نہیں تھی۔
