Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 13)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 13)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
تیز تیز قدم اٹھاتے وہ سامنے آرہے تھے۔ ڈاکٹر کے لباس میں وہ ایک با رعب شخصیت کے حامل انسان لگ رہے تھے۔
آنکھوں پے نظر کا چمشہ تھا۔ ماتھے پے دو بل۔
کانوں کے پاس کنپٹی پے چند ایک سفید بال۔۔
دیکھنے والے کو مرعوب کرتی انکی پرسنیلٹی عناٸشہ بھی انہیں دیکھتی دنگ رہ گٸ۔
عناٸشہ کے دل کی دھڑکن یکدم تیز ہوٸی۔
ایک انوکھا سا احساس جاگا۔
وہ سب کو نظر انداز کرتے آٸی سی یو میں داخل ہوٸے ۔
پاس کھڑا ڈراٸیور سخت گھبرایا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
عناٸشہ اسے دیکھتی پھر سے آٸی سی یو کے دروازے پے نظریں ٹکاٸیں جہاں جمیلہ بیگم کا چیک اپ کیا جا رہا تھا۔
کچھ ہی دیر میں وہی شخص باہر آیا۔
کیا ہوا تھا۔۔؟؟
ماتھےکےبلوں میں اضافہ ہوا۔
سر۔۔۔!میڈم ۔۔بے ہوش۔۔ ہو گٸیں تھیں۔
ہکلاتے ہوٸے جواب دیا۔ہ
کیسے۔۔۔؟؟ کیاہوا تھا۔۔۔؟؟
آپ کوکس لیے ان کے ساتھ بھیجا تھا۔۔؟؟ آپ نے کیوں لاپرواہی کی۔۔؟
اس شخص نے دبے لیکن سخت لہجے میں بات کی عناٸشہ تو بس دیکھتی رہ گٸ۔ کہ اس شخص کا کیا رشتہ ہو سکتا ہے۔۔۔ اسکی ماں سے۔۔؟؟
سر۔۔۔۔! وہ ان کے ساتھ ہی ۔ ۔باہر۔۔۔!
گردن موڑ کے عناٸشہ کو ایک نظر دیکھا۔
ماتھےکے بل مزید بڑھے۔
منع بھی کیا تھا۔۔لیکن۔۔ نہیں مانی میری بات۔۔!
گردن نفی میں ہلاتے وہ پھر سے آٸی سی یو کی جانب بڑھے۔
ناٸشہ نے جھر جھری لی۔
یہ کون ہیں؟
ڈراٸیور سے ہی پوچھ لیا۔
یہ ۔۔ بڑ ے صاحب ہیں۔ شہریار آفریدی۔۔ میڈم کے شوہر۔۔۔!
دھیمٕے لہجے میں کہتا وہ ناٸشہ کو چپ ہی کرا گیا۔
فوراً رخ بدلا۔











دادا جی کو ہوش کیوں نہیں آرہا۔۔۔؟؟
کشش جویامین کے ساتھ آٸی سی یو کے دوازے پے کھڑی اندر دادا جی کو دیکھ رہی تھی۔
لہجے میں یاسیت لیےپوچھا۔
یامین نے بہت میٹھی نظروں سے اسے دیکھا۔
آجاٸے گا ہوش۔۔۔! تمہاری دعاٸیں انہیں واپس لے آٸی ہیں۔ اللہ انہیں واپس ہمیں لوٹا دے گا۔۔
کشش نے ایک نظر اس مہرباں کو دیکھا۔
آپ کوپتہ ہے۔۔۔ آج۔۔میرا۔۔ اللہ پے یقین اور زیادہمضبوط ہو گیا ہے۔۔ اللہ نے میری دعاٸیں سنیں۔۔۔
مجھے۔۔۔ میرے دادا جی سب سے عزیز ہیں۔۔ اور اللہ نے مجھے ان کو واپس لوٹا دیا۔۔۔
واقعی۔۔۔۔ اللہ سنتا ہے۔۔۔ وہ بہت مہرباں ہے۔۔ رحیم ہے۔۔
لہجہ نم ہوا۔ تو آنکھوں کے گوشے بھیب بھیگ گٸے۔
میرا اللہ بہت پیارا ہے۔۔۔ میرے ماں۔ باپ ۔۔نہیں۔۔ لیکن۔۔ وہ اللہ ہے ناں۔۔ جو ستر ماٶں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے۔۔ وہ میرا ربّ کریم ہے۔۔۔۔۔ میرا اللہ بہت پیارا ہے۔۔
دل سے کہتی وہ یامین کو اپنی عمر سے زیادہ بڑی لگی آج۔
کشش! اللہ ربّ العزت بھی تم سے بہت پیار کرتا ہے۔۔۔!
جانتی ہو۔۔۔ جس کو کوٸی بھی تکلیف نہ پہنچے۔۔۔ اللہ اس سے لاپرواہ ہو جاتا ہے۔۔۔
اللہ سے آزماٸش مانگو۔۔۔
اس پے صبر کرو۔۔
نیک گماں رکھو۔۔
جو الہ کے نزدیک ہوتا ہے۔۔۔
آزماٸش بھی اسی کے لیے ہوتی ہے۔۔
یہ بھیبایک آزماٸش تھی۔۔ بہت بڑی۔۔
لیکن۔۔اللہ سے نیک گمان اور صبر کا دامن ہمیشہ تھامے رکھو۔
وہ کبھی بھی اپنے بندے کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔۔
کشش ایکٹکٹکی باندھے اسے سنے جا رہی تھی۔ وہ بولتا بہت پیارا لگ رہا تھا۔
یہ۔۔ دنیا آزماٸش کی جگہ ہے۔۔۔ کشش۔۔۔
اگر دنیا میں سب پا لیا تو آخرت کے لیے کیا بچایا۔۔۔؟؟
دنیا میں آزماٸش دیں گے تو اللہ آخرت میں اپنے کرم سے نوازے گا ناں۔۔ وہی تو زندگی لافانی ہے۔۔۔
اس کی جانب دیکھا جو بناپلک جھپکے اسے سنے جا رہی تھی۔
اس فانی دنیا کی محبتاور حرص انسان کوختم کر دیتی ہے۔۔۔ اس لیےاللہ سے ہمیشہ دعا کرو۔۔وہ ہمیں اس دنیا کی طلب سے بچاٸے۔
آمین ۔۔۔ کشش نے دل سےکہا۔
یامین بھاٸی۔۔۔!!
داور کی آواز پے وہ دونوں پلٹے۔
داور کے ساتھ سمیر بھی تھا۔
کیسے۔۔۔ہوا ۔یہ سب۔۔؟؟
دادا جی ٹھیک ہیں ناں۔۔؟؟
دونوں کے چہرے پے پریشانی رقم تھی۔
یامین نے ہی داور کو فون کر کے اطلاع دی تھی۔ اور ہاسپٹل پہنچنے کو کہا تھا۔
ہاں۔۔ الحَمْدُ ِلله اب ٹھیک ہیں۔ آپریٹ ہو گیا ہے۔۔۔ ہوش میں آٸیں گے تو پتہ چلے گا۔۔ لیکن اللہ سے بہتری کی امید رکھو۔۔۔
یامین نے انہیں تسلی دی۔
یامین ۔۔۔! ڈاکٹر عرفان کی آواز پے وہ سبھی ان کی طرف متوجہ ہوٸے۔
ڈراٸیور کی ڈیتھ ہوگٸ ہے۔۔ بہت کوشش کے باوجود بھی ہم۔۔۔ اسے نہیں بچا پاٸے۔
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
یامین کے لبوں سے دکھ سے ادا ہوا۔
کشش نے بے اختیار منہ پے ہاتھ رکھتے اپنےآنسوٶں کا گلا گھونٹا۔
راستے میں وہ کتنا اسے تنگ کرتی آٸی۔
اور وہ بھی ہنستا مسکراتا رہا۔
اسکی اپنی بیٹی بھی کشش کی ہم عمر ہی تھی۔ اتنا اس نے بی بتایا تھا۔
اور دو چھوٹے بیٹے بھی تھے۔
اب ان کاکیاہوگا۔۔۔؟
یامین داور کے ساتھ جا چکا تھا سمیر وہیں تھا۔ کشش کےپاس۔
وہ۔وہ۔۔مر۔۔۔ گٸے۔؟؟ ان کے ۔۔ بچوں کا کیا ۔۔ہو۔۔گا۔۔سمیر۔۔۔؟؟ وہ تو۔۔یتیم ہو گٸے۔۔۔؟؟
کشش ہچکیوں سے رو دی۔
سمیر نے اسے حوصلہ دیا۔
خود کو سنبھالو۔۔۔
میں ۔۔۔نے۔۔ ان کے لیے۔۔دعا نہیں ۔۔کی سمیر۔۔۔!
اگر کرتی۔۔ تو اللہ نے وہ بھی سن لینی تھی ناں۔۔۔ میں ۔۔۔ خود غرض ہوگٸ۔۔۔
کشش کو رہ رہ کے خود پے غصہ آرہا تھا۔











اکرم کی ڈیڈ باڈی کو ان کے گھ پہنچانا تھا۔
یہ کام یامیج نے داور کے سپرد کیا۔
داور۔۔ سب انتظام کرنا ہے۔۔ تم نے خود۔۔۔ اور ان کے گھر والوں کو کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔۔ سب سنبھالنا ہے۔۔۔!
یامین نے ہدایت دیتےکہا۔
جی بھاٸی۔۔! میں سب سنبھال لوں گا۔۔
کاش۔۔۔ میں ۔۔۔ اس وقت وہاں ہوتا۔۔۔ !
یامین نے دل کا درد چھپاتے کہا۔
داور نے اسے تسلی بھری تھپکی دی۔
بھاٸیحادثات زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔۔ کب کہاں ۔۔ کس وقت موت آجاٸے۔۔۔ یہصرف اللہ جانتا ہے۔۔۔
انسان۔۔ ۔۔ بے بس ہے۔۔۔!!
یامین نےایک نظر داور کو دیکھا۔
اور اثبات میں سر ہلاتا گارڈز کیجانب بڑھا۔
جہنیں اس وقت ساتھ ہو نا چاہیے تھا۔
لیکن وہ نہیں تھے۔












جمیلہ بیگمکو ہوش آگیا تھا۔
عناٸشہ باہر ہی بیٹھی تھی۔
نہ شہریار نے اسے بلایا نہ وہ اندر گٸ۔
لیکن۔۔ وہ وہاں سے جا بھی نہ سکی۔جو بھی تھا۔ وہ اسکی ماں تھی۔۔۔ سگھی ماں۔۔اور۔۔ اس حالمیں پہچانے والی بھی وہ خود تھی۔
لیکن۔۔کیا۔ووہ شخص۔۔ میرا۔۔ باپ ہے۔۔۔؟؟
خود سے سوال کیا۔۔۔
ایک عجیب سا احساس جاگا۔
لیکن۔۔۔ انہوں نے مجھے۔۔اگنور کیا۔۔۔
مجھ سے۔۔۔ بات نہیں کی۔۔۔
بلکہ۔۔۔ انکی نظروں میں مجھے۔۔ اپنے لیے وہ چاہت نظر نہیں آٸی۔۔۔!
دلمیں ایک کسک سی جاگی۔
ایکسکیوز می !آپ کا نام عناٸشہ ہے۔۔۔؟؟
نرس نے اسے مخاطب کیا تو وہ چونکی۔
جی۔۔۔۔! کہتے وہ اٹھی۔
آپ کو اندر میم جمیلہ بلا رہی ہیں۔۔
کہتےہی وہ واپس پلٹ گٸ۔
عناٸشہ مرے قدموں سے دروازہ دکھیلتی اندر کی جانب بڑھی۔
سامنے ہی تکیے کے ساتھ ٹیک لگاٸے جمیلہ بیگم پے نظریں اٹھیں۔ جو اسی کی راہ دیکھ رہی تھیں۔
یہاں آٶ۔۔۔ عناٸشہ۔۔۔ میرے پاس۔۔۔!
ان کا لہجہ بہت شیریں تھا۔
عناٸشہ نے ایک نظر پاس کھڑے شہریار صاحب پے ڈالی۔
جو بظاہر تو فاٸلچیک کر رہے تھے۔ لیکن ھیان سارا ان کی طرف ہی تھا۔
عناٸشہ ان کے پاس جا کھڑی ہوٸی۔
بیٹا۔۔۔! جمیلہ بیگم نے اس کے ہاتھ تھامے۔
اپنی ماں سے ناراض ہو کیا۔۔؟؟ ان کے ہر ہر لفظ میں عناٸشہ کے لیے چاہت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔
عناٸشہ نے نفی میں سر ہلایا۔
پھر۔۔۔اپنی ماں۔۔ کے ساتھ چلو گی ناں۔۔؟؟
بہت امید سے پوچھا۔
یہاں عناٸشہ کی بس ہوگٸ۔
اس کے پاس کوٸی جواب نہ تھا۔
وہانکار کر کے انہیں مزید تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی۔ جبکہ ایک بار ان کا نروس بریک ڈاٶن بھی ہو چکا تھا۔
آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
لیکن وہ نہ ناں کر سکی۔ اور اثبات میں سر ہلایا۔
جمیلہ بیگم نے بانہیں وا کیں۔ اور عناٸشہ کو گلے سے لگایا۔
ان کی آنکھوں میں تشکر۔کے آنسو تھے۔
آج اتنے عرصے بعد ان کی ممتا کو سکون آیا تھا۔
شہریار آفریدی ایک نظر ان پے ڈالتے وہاں سے واک آٶٹ کر گٸے۔
جبکہ عناٸشہ اس سب کی وجہ نہ سمجھ پاٸی۔













گارڈز کو حازق کے حوالے کرتا وہ واپس اندر آچکا تھا۔
اسے گارڈز بی کہیں نہ کہیں۔۔ اس سارے معاملے میں قصور وار نظر آرہے تھے۔
جو بھی تھا۔۔ یہ اتفاقیہ حادثہ نہیں تھا۔
ااتنا تو وہ بھی سمجھ گیا تھا۔
دادا جی کو ہوش آگیا تھا۔
وہ سیدھا ا کے پاس ہی گیا تھا۔
سمیر اور کشش انہی کے پاس تھے۔














میں کیسے کروں بات۔۔۔؟؟ میں نے داو کے بابا سےبات کی تھی۔۔۔ لیکن وہ و چپ ہہی کر گٸے۔۔۔
یامین سے کون بات کرے۔۔۔؟
عمارہ سے فون پے بات کرتیں وہ تھوڑا غصے میں لگیں۔
باجی۔۔۔! میں ناں۔۔ طوبیٰ کو ناں۔۔ آپ کی طرف بھیجتی ہوں۔ جیسے ہی وہ اپنی پھوپھو کے گھر سے آتی ہے۔۔۔ آپ۔۔ دیکھنا ! کیسے۔۔ میری طوبیٰ کا بھولاپن اور معصومیت دیکھ یامین خود فدا ہوجاٸے گا اس پے۔۔ اور خود کہے گا کہ اسے طوبیٰ سے شادی کرنی ہے۔
عمارہ نے پلاننگ بتاٸی۔
سویرا بی بی نے فون کو گھورا۔
آج انہیں احساس ہوا انکی بہن ان سے بھی زیادہ چال باز ہے۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔! یہ بھی کر کے دیکھ لو۔۔۔!
سویرا بی بینے ہامی بھرتے کہا اور کال۔کاٹ کر دی۔
موباٸیل ساٸیڈ پے رکھتیں برا سا منہ بناتیں باہر آٸیں۔
جہاں انہوں نے عالیہ کو پریشان حال دیکھا۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ تم کیوں اتنی پریشان ہو۔۔؟؟
عالیہ نے انہیں دادا جی کے ایکسیڈینٹ کے بارے میں بتایا۔۔
اللہ خیر۔۔! اب کیسے ہیں وہ۔۔۔؟؟ سویرا بی بی کا دل لرز اٹھا۔
سمیر کا کافی دیر پہلے فون آیا تھا۔کہہ رہا تھا کہ دعا کریں۔۔ انہیں ہوش آجاٸے۔۔
دوبارہ کال کی۔ لگ ہی نہیں رہا۔
یہ لیں امی۔۔۔! کال مل گٸ ہے۔۔!
کرن نے جھٹ سے ماں کو فون تھمایا۔
ہاں بیٹا۔۔۔ کیسے۔۔ ہیں ۔۔ اب تمہارے دادا جی۔۔؟
چھوٹتے ہی پوچھا۔
چلو۔۔۔شکر ہے۔۔۔!
دادا جی کو گھر لانا ہے۔۔۔؟؟ یا۔۔ہم آجاٸیں۔۔؟؟
سویرا بی بی کی طرف دیکھتے پوچھا۔
مما۔۔! آپ لوگ نہ آٸیں۔۔
سب یہیں۔۔ ہیں۔۔ یامین بھاٸی ڈاکٹر سے بات کریں گے پھر ہی پتہ چلے گا۔۔
سمیر نے دھمے لہجے میں بات کی۔
مما۔۔۔ بابا نہیں آٸے ابھی تک۔۔۔؟؟ اور بڑے بابا؟
سمیر کے دل میں آٸی بات وہ پوچھ بیٹھا۔
بیٹا۔۔! وہ گھر نہیں آٸے۔۔۔
پتہ ہے ناں۔۔وو پنجاب گٸے ہیں اور پتہ نہیں کتنے دن لگ جاٸیں واپس آتے ۔۔۔۔لیکن۔۔
لیکن۔۔ انہیں اطلاع دی نہیں آپ لوگوں نے کیا۔۔؟؟
اعالیہ نے بھیالٹا اسی سے سوال کیا۔
مما۔۔ ! یامین بھاٸی بلا رہے ہیں۔۔ میں آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں
سمیر نے کال کاٹ دی۔
کیا مطلب۔۔؟؟ حیات صاحب کو نہیں بتایا انہوں نے۔۔؟؟ تھوڑا تیز لہجےمیں پوچھا۔
عالیہ بیگم۔نے نفی میں سر ہلایا۔
حد ہوتی ہے لاپرواہی کی۔۔
پاٶں پٹخ کے کہتیں وہ اندر کیجانب حیات صاحب کو کال۔کرنے چلیں گٸیں۔
کتنا غصہ بھرا ہے ان میں۔۔۔
کرن نے جھر جھری لی۔
برداشت کرنا سیکھو۔۔ اب ساری زندگی ہی سہنا پڑے گا۔۔۔
عالیہ بیگمنے حقیقت سے روشناس کرایا۔ تو وہ ماں کو دیکھتی رہ گٸ۔













عناٸشہ جمیلہ بیگم کے اصرار پے ان کے ساتھ ان کے گھر جانے کے لیے راضی ہو گٸ۔
وہ نہیں جانتی تھی وہاں کون کون رہتا ہے۔۔ اور ۔۔اسکا کوٸی اور بھی۔۔ بہن بھاٸی ہے۔۔؟؟
گاڑی میں خاموشی چھاٸی ہوٸی تھی۔
وہ اور جمیلہ بیگم ڈراٸیور کے ساتھ آفریدی منشن جا رہی تھی۔
سارے راستے جمیلہ بیگمنے اسکا ہاتھ تھامے رکھا۔
ایک الوہی سی خوشی نے احاطہ کیا ہوا تھا ان کے چہرے پے۔
لیکن عناٸشہ شہریار آفریدی کا رویہ ہی سوچتی رہی
وہ ایسے کیوں ہیں۔۔؟؟
جسطرح ایک ماں کو تڑپ تھی اپنی بیٹی سے ملنے کی۔۔
انہیں کیوں نہیں تھی۔۔۔؟
جسطرح مما نے مجھے گلے لگایا۔۔
انہوں نے کیوں نہیں لگایا۔۔۔؟؟
کیا۔۔وہ مجھ سے مل کے خوش نہیں۔۔؟
ٕیا۔۔۔ مجھ سے ملنے کی چاہت ہی نہیں تھی۔۔؟
آخر ۔۔کیا بات۔۔ ہے۔۔۔؟؟
وہ بس سوچتی جارہی تھی۔
الیکن کچھ بول نہ سکی۔
کہ گاڑی بڑے ے گیٹ کے اندر داخل ہوٸی۔
وہ بہت بڑا گھر تھا۔ ایک محل جیسا۔۔
عناٸشہ تو دیکھتی رہ گٸ۔
حیرت سے جمیلہ بیگم کو دیکھا۔انہوںنے مسکرا کے اس کا ہاتھ تھاما اور گاڑی کے روکتے ہی ڈراٸیور کے دروازہ کھولنے پے اسے لیے نیچے اتریں۔
عناٸشہ کی تاحد نگاہ وہ پورا منشن ہی تھا۔
اسکے دل کی حالت بہت عجیب ہوٸی۔














دو دن بعد ہی دادا جی کو گھر لے آٸے تھے۔
سب نے ان کو صحیح سلامت دیکھ شکر ادا کیا تھا۔
کشش تو بے انتہا خوش تھی۔ اور دن رات دادا جی خدمت میں لگی رہتی۔
اپنا نہ کھانے کا ہوش نہ پینے کا۔۔
حیات صاحب بھی باپ کے لیے پریشان ہوٸے لیکن ان کے اندر باپ کے لیے وہ تڑپ نہیں تھی۔ جو ان کے پوتوں میں تھی۔
یامین بھی اپنا فرض ادا کرنے میں کوٸی کوتا ہی نہ کرتا۔
دونوں گارڈز کو آزاد کر دیا گیا تھا۔
کیونکہ وہ اس حادثے کے زمہ دار تو نہ تھے۔ لیکن اب دونوں گارڈ کے عہدے سے بھی ہٹا دیٸے گٸے تھے۔
یامین نے جہاں نٸے سیکیورٹی گارڈز ہاٸر کیے تھے۔
وییں میر ولا کی سکیکیورٹی بھی ڈبل۔کر دی گٸ تھی۔
جو بھی تھا۔۔ اب وہ مزید کوٸی رسک نہیں لے سکتا تھا۔
اس کا اپنوں کو سیکیور کرنا ہی اس کا اولین مقصد تھا۔
