Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan NovelR50517 Ziddi Ishq Mera (Episode 17)
Rate this Novel
Ziddi Ishq Mera (Episode 17)
Ziddi Ishq Mera by Muntaha Chohan
مدیحہ بہت زیادہ رو رہی تھی۔
حازق نے سیکیورٹی گارڈ کے ساتھ مدیحہ کو ہاسپٹل بھیجا۔
اور خود یامین کی طرف آیا۔ جو پریشان کھڑا تھا۔
کچھ سمجھ نہیں آ رہا کیا ہو رہا ہے۔۔؟؟
عناٸشہ۔۔۔۔؟؟ وہ ۔۔ ایسا۔۔۔ نہیں۔۔۔ کر سکتی۔۔۔۔!! میرا۔۔ دل۔نہیں مان رہا ۔۔
حازق نے ٹوٹے لہجے میں کہا۔
یامین نے ایک قہر کی نظر حازق پے ڈالی۔
حازق ۔۔۔! جو بھی اس سب کا زمہ دار ہے۔۔ وہ بچ نہیس پاٸے گا۔۔
سرد لہجے میں کہتا وہ وہاں سے باہر نکلا۔
حازق سخت پریشان ہو گیا۔
لیکن اسکا دل نہیں مان رہا تھا۔ عناٸشہ کچھ ایسا کر سکتی ہے۔
لیکن سب کچھ اس کے خلاف جا رہا تھا۔
ندیم۔۔۔! ہاسپٹل جاٶ اور مدیحہ پے کڑی نظر رکھو۔
مجھے وہ کچھ گڑ بڑ لگ رہی ہے۔۔۔
حازق نے اپنے اعتباری شخص کو ہاسپٹل روانہ کیا۔
اور خود اندر یامین کے پاس گیا۔














یہ اتنی دیر ہو گٸ ہے۔۔۔ ابھی تک یامین کی دلہن نہیں آٸی۔۔۔؟؟
عمارہ نے سویرا بیگمکے کان میں گھس کر کہا۔
دونوں بہنیں سب سے الگ تھلگ سر جوڑے بیٹھیں تھیں۔
کیا پتہ۔۔۔ اب۔۔ سسر صاحب کومسا دھماکہ کرنے والے ہیں۔۔؟
اپنی ہی اولاد کی خوشیوں میں ایک تماشاٸی کی طرح شامل ہوٸے ہیں۔۔۔
سویرا بیگمکو رہ رہ کے داور اور کرن کے اچانک نکاح پے غصہ آرہا تھا۔
ہمممممم۔۔۔ باجی۔۔۔ یہ۔۔۔ تمہارے ۔۔۔ سسر بھی بہت پہنچی ہوٸی چیز ہیں۔۔۔
ابھی بندہ کچھ پلان کرتا ہے۔۔ یہ پہلے ہی پانی پھیر دیتے ہیں۔۔
عمارہ کو اپنی بیٹی طوبی کی شادی یامین سے نہ ہو پانے کا دکھ تھا۔
اسٹیج پے داور اور کرن بیٹھے سب کی نظروں کا مرکز تھے۔
کیمرہ مین بہت مہارت سے ہر ایک لمحے کو کیپچر کر رہا تھا۔
یامین ہال میں انٹر ہوتے ہی دادا جی پے نظریں اٹھیں۔
اسے سمجھ نہآیا کہ دادا جی کو کیا جواب دے۔۔۔۔؟
کشش کی کڈنیپنگ کا سن کے وہ کیا ری ایکٹ کرہں گے۔۔۔؟؟ اگر انہیں کچھ ہو گیا تو۔۔۔؟؟
یہ سوچ آتے ہی۔۔ اس نے اپنے خیال کی نفی کی۔
مجھے۔۔ دادا جی سے سچ چھپانا ہوگا۔
کیا ہوا پتر۔۔۔؟م کیوں پریشان ہے۔۔۔؟؟دادا جی اس کے چہرے پے پریشانی بھانپ گٸے تھے۔
وہ۔۔۔ دادا جی۔۔۔ کشش ۔۔۔۔؟؟
یامین ے بات نہ بن پڑی۔
کیا۔۔ہوا کشش کو۔۔۔؟ وہ ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ صبح بھی کہہ رہی تھی۔۔۔ کہ میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔۔۔؟؟
دادا جی پریشانی سے بولے۔
جی۔۔۔ کچھ۔۔نہیں ہوا۔۔ اسے۔۔ اسکی طبعیت۔۔ خراب تھی۔۔۔ تو اسے ہاسپٹل بھیجا۔۔۔ اس کا بی پی لو تھا۔۔ ابھی ۔۔۔ ہاسپٹل میں ہی ہے۔۔۔
یامین نے فوراً ہی بات کو سنبھالا۔
کہا۔ں۔۔۔؟۔ کون سے ہاسپٹل میں ۔۔۔؟؟
دادا جی تڑپے۔
آپ فکر نہ کریں ۔۔دادا جی۔۔ ابھی وہ ٹھیک ہے۔۔۔
لیکن۔۔۔ فی الحال اس رخصتی کو یہیں روک دیں۔
اور ۔۔ بعد میں گھر جا کے۔۔ ؟؟
یامین کہتے ہوٸے نجانے کیوں شرمدہ ہو رہا تھا۔۔۔؟؟
ٹھیک ہے۔۔۔بیٹا۔۔۔ کشش کی طبعیت زہادہ اہم ہے۔۔۔
فنکشن کو یہیں ختم۔کرتے ہیں۔۔۔
نہیں دادا جی۔۔۔! ابھی مہمانوں نے کھانا بھی نہیں کھایا۔۔۔ فنکشن کو جاری رہنے دیں۔۔ پھر فضول میں باتیں بنیں گیں۔
آپ ۔۔۔ یہیں۔۔ رہیں۔۔ میں کشش کے پاس جا رہا ہوں۔۔ آپ اسکی فکر۔نہ کریں۔۔۔!
یامین نے انہیں مطمیٸن کر نا چاہا۔وہ مطمٸین ہو ٸے تو نہ۔۔۔ لیکن۔۔ پھر بھی بات مان گٸے۔












کیا ہوا۔۔۔؟؟ کچھ پتہ چلا۔۔۔؟؟
یامین نے حازق سے عجلت میں پوچھا۔
نہیں۔۔۔ سب جگہ دیکھ لیا۔۔۔۔ کوٸی سراغ ہاتھ نہیں آرہا۔
حازق یامین سے زیادہ پریشان تھا۔
کیمراز چیک کرو سارے۔۔۔ فوراً۔۔۔۔
یامین نے کال۔ملاتے حازق سے کہا۔ تو وہ فوراً آفس سے باہر نکلا۔
یس۔۔۔! مجھے۔۔ اس کی ابھی کی رپوٹ دو۔۔ وہ کہاں۔۔ ہے۔۔۔؟؟
آواز میں غصہ تھا۔
دومنٹ سے زیادہ کا وقت نہیں دو ں گا۔
فوراً رپورٹ کرو۔
کالب کرتا موباٸیل ٹیبل پے پٹخا ۔
i swear… ! if you are responsible for this… will kill you….
وہ لب بھینچے خیالوںمیں کسی سے مخاطب تھا۔
او ویٹ کر رہا تھا۔۔۔














ان کے ہاتھ باندھو۔۔۔۔
ایک لڑکے نے دوسرے سے کہا۔
ارے بے ہوش ہیں۔۔ دونوں۔۔۔ کیا کر لیں گیں۔۔؟؟
رہنے دو۔۔۔دوسرے نے کہا۔
لیکن۔۔۔میڈم نے کہا کہ ان کے ہاتھ پیر باندھ کے رکھنا ہے۔۔۔
وہ لڑکا گھبرایا۔
یار حسن۔۔۔! تو نیا آیا ہے۔۔۔ میں بہت پہلے سے میڈم کے ساتھ اس کام میں شامل۔ہوں۔۔ یہ ۔۔لڑکیاں۔۔۔ کچھ بھی نہیں کر سکتیں۔۔۔ اور ویسے بھی انہیں ۔۔ اس کمرے میں بند کرنا ہے۔۔۔ تو یہ کیا کرلیں گیں۔۔؟
چل آ۔۔۔۔ بھوک لگی ہے۔۔۔۔ کچھ کھا آتے ہیں۔۔
اسد نے اپنی برتری جتاٸی تو حسن چپ ہو گیا۔ اور دونوں دروازہ لاک کرتے باہرنکل گٸے۔
جبکہ وہ دونوں بے سدھ زمین پےپڑیں تھیں۔















دادا جی نے اناٶنس کیا کہ یامین کی شادی کو کسی وجہ سے فی الفور ملتوی کیا ہ۔ جس پے خاصی ہ مگوٸیاں ہوٸیں۔
لیکن۔ ۔۔ انہیں۔ کسی کی کیا پرواہ۔۔۔ ؟
ان کے لیے انکی اولاد سے بڑھ کھ کچھ بھی نہیں تھا۔
لو جی۔۔۔۔! ہوگٸ۔۔ شادی۔۔۔! ایک بار پھر سے۔۔۔ لگتا ہے۔۔۔
دلہن۔۔ بھاگ گٸ۔۔۔۔!عمارہ نے طنزیہ کہا۔
تو سویرا بیگم کو چھ اوت ہی گڑ بڑ لگی۔
انہیں لگا کہ دادا جی سب سے کچھ نہ کچھ چھپا رہے تھے۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھتیں حیات صاحب کی طرف بڑھیں۔
وہ جو کسی سے کچھ بات کرہے تھے۔
سویرا بیگم کے اشارہ پے ان کے پاس آٸے۔
آپ کے ابا حضور کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟؟ پہلے کہتے ہیں۔۔ شادی ہے یامین کی۔۔۔ لڑکی تک کا علم نہیں۔۔۔؟؟
ہم چپ کر گٸے۔۔ اب کہتے ہیں۔۔ شادی ملتوی ہوگٸ ہے۔
ادھر ادھر دیکھے راز داری سے کہا
کیا کر سکتا ہوں۔۔ میں۔۔۔؟؟ ان کے آگے کسی کی بولنے کی ہمت ہے کیا۔۔۔؟؟
حیات صاحب پہلے ہی بھرے بیٹھے تھے۔
لوگ تو اچھا خاصا مذاق اڑا رہے ہیں۔۔۔
مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔۔
اور۔۔ وہ کشش کہاں ہے۔۔۔؟؟ آج تو اس میڈم کی سلگرہ تھی ناں۔۔۔؟؟ کیک کاٹنا تھا۔۔۔ لیکن۔۔ جب سے ہم یہاں آٸے ہیں۔۔ وہ غاٸب ہے۔۔۔۔۔؟؟ یہ سب چل کیا رہا ہے۔۔۔؟؟
سویرا بیگم کے دماغ کے گھوڑے کچھ زادہ ہی تیز رفتار سے چل رہے تھے۔
حیات صحب نے بھی سچتے گہرا سانس خارج کیا۔
پھر بنا کچھ کہے اپنے ایک دوست کی جانب بڑھ گٸے۔
انہیں اس وقت کسی سے کوٸی غرض نہ تھی۔
انہیں بس ڈھیر ساری رقم چاہیے تھی اپنا بزنس بچانے کے لیے۔۔۔اور وہ اپنے ہی کسی دوست سے مدد طلب کر رہے تھے۔














سر پے چوٹ لگنے سے اسکا سر بہت بھاری ہو رہا تھا۔
سر پکڑے وہ اٹھی تو ا نادھیر کال کھوٹھری دیکھ وہ بہت سخت گھبراٸی۔
فوراً سے اسے سب یاد آگیا۔۔ اور دماغ میں کشش کا خیالاس کے دل کو بری طرح جھنجھوڑ گیا۔
کش۔۔کششش۔۔ کشش۔ کہاں۔۔ ہو۔۔۔؟؟
وہ جلدی سے اٹھی۔ بنا اپنی چوٹ کی پرواہ کیے۔
شیییییییی! شور نہ کرو۔۔۔ یہیں۔۔ ہوں۔۔۔!
ایک طرف اندھیرے میں وہ بیٹھی عناٸشہ کو غور کرنے پے نظر آہی گٸ۔
صد شکر۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کا شکر ادا کرتے وہ اسکی طرف بڑھی۔
اللہ کا شکر ہے۔۔۔ تم۔۔ ٹھیک ہو۔۔۔! لیکن۔۔۔ یہ۔۔۔یہ کیا۔۔ کر رہی ہو۔۔۔؟؟ وہ اسکے قریب بیٹھتے حیرت سے اسے ہاتھوں سے مٹی کھودتے ہوٸے دیکھ رہی تھی۔
گم کھیل رہی ہوں۔۔۔۔! دھاٸی نہیں دیتا ۔۔۔ مٹی کھود رہی ہوں۔۔۔
کشش نے منہ بناتے کہا۔ لیکن اپنا کام جاری رکھا وہ جہاں سے مٹی کھود رہی تھی۔ وہ چی جگہ تھی۔ ار اچھی خاصی مٹی وہ جمع کر چکی تھی۔
لیکن۔۔۔؟؟ عناٸشہ کو کچھ سمجھ نہیں آٸی۔
دیکھو۔۔۔ ؟؟ کشش اسکا نام سوچتے ہوٸے اٹھی۔
عناٸشہ۔۔۔۔!
عناٸشہ نے فوراً اپنا نام بتایا۔
ہمممم۔۔ تو عناٸشہ! بات یہ ہے۔۔۔ کہ ہم۔۔کڈنیپ ہو چکے ہیں۔۔۔ اور اس۔۔ میں وہ تمہاری۔۔ دوست۔۔ جوتمہارے ساتھ۔۔ تھی۔۔۔ ۔
اسکا۔نام۔مدیحہ ہے۔۔۔! عناٸشہ نے اسکی بات کاٹی۔
ہاں ہاں۔ وہی مدیحہ چڑیل۔۔۔!
اسکو تو میں بعد میں ملوں گی۔
خیر۔۔۔ ہمیں۔۔ یہاں سے نکلنا ہے۔۔ کچھ بھی کر کے۔۔۔
کشش نے اسے اپنی بات اسکے گوش گزاری ۔
ہممممم۔۔۔ لیکن۔۔۔ اس مٹی کا کیا فاٸدہ۔۔۔؟
عناٸشہ نے حیرت سے اسے مٹی اٹھاتے دیکھ کے پوچھا۔
کچھ دیر میں پتہ چل جاٸے گا۔۔
خیر ایک بات بتاٶں۔۔ مجھے ناں۔۔۔ بچپن ہی سے۔۔ ایڈوینچرز کا بہت شوق تھا۔۔
اور کڈنیپ ہونے کا شوق۔۔۔۔ تو پوچھو ہی مت۔۔۔
اب ۔۔۔ یہ خواہش پوری ہو ہی گٸ۔۔۔ ہے۔۔۔تو فاٸدہ تو اٹھاٶں ناں۔۔۔؟؟
بہت مزے سے کہتی وہ عناٸشہ کو دنگ کر گٸ۔
کیا۔۔۔کیا۔۔مطلب۔۔۔؟؟ کشش ہم۔۔کڈنیپ ہو چکے ہیں۔۔ اور آپ۔۔۔کو۔۔۔ ایڈوینچر۔۔ کی پڑی ہے۔۔۔؟؟
عناٸشہ اس کے پاس آتے بولی۔جو دروازے کے پیچھے چھپ رہی تھی۔
شیییییی۔۔۔۔ اشارہ سے چپ کر وایا۔
اور دروازے کے ساتھ کان لگا کے سنا۔
عناٸشہ کو وہ کہیں سے بھی اس وقت ایک دلہن نہیں لگ رہی تھی۔
ہاں البتہ حشر سامانیاں اسکی دلہن والی تھیں۔
وہ باہر ہی ہیں۔۔۔ اور ۔۔۔ دو۔۔لوگ۔۔ ہیں۔۔۔
دھیرے سے دماغ لڑاتےکہا۔
لیکن۔۔۔ آپ کو کیسے پتہ۔۔۔؟؟ وہ۔۔۔ دو ہیں۔۔؟؟ وہ زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔
عناٸشہ کو اسکا اندازہ لگانا کچھ اچھا نہ لگا۔
دوسری بات۔۔۔ مجھے آپ نہیں تم کہو۔۔ بہت چھوٹی ہوں۔۔میں تم سے۔۔۔۔!
اسکے کہنے پے رناٸشہ نے بھنوٸیں اچکاتے اسے حیرت سے دیکھا۔۔
وہ تو اسے عزت سے آپ کہہ رہی تھی۔
ہمممم اور پہلی۔۔۔ بات۔۔۔؟؟ یاد آنےپے فوراً پوچھا۔
پہلی بات یہ کہ۔۔۔ تم بولتی بہت زیادہ ہو۔۔۔۔!
کہتے وہ وہاں سے واپس پیچھے گٸ۔ اور مزید مٹی اپنے ہاتھوں میں لی۔ او کچھ اپنے کامدار دوپٹے میں رکھ کے گرہ لگاٸی۔
اوہ۔۔۔خدایا۔۔۔! تم نے تو سارا دوپٹہ خراب کر دیا۔۔۔
عناٸشہ کو اسکی یہ حرکت شاک لگا گٸ۔
کشش نے اسکے چہرے کی طرف ایسے دیکھا جیسے کھا جاٸے گی۔
میرا دوپٹہ ہے ناں۔۔ تو تمہیں کیا مسٸلہ ہے۔۔۔؟؟
کہتے ہی منہ بنا کے وہ پھر سے دروازہ کی طرف بڑھی۔
Anaisha shocked ![]()
Kashsh rocked ![]()
وہ اندر کی طرف آرہے ہیں۔۔ دروازے کے پیچھے چھپ جاٶ۔۔
کشش نے اسے جلدی سے کہا۔
لیکن وہ اپنی جگہ ساکت ہی رہی۔
کشش نے اسے کھینچ کے دروازہ کے پیچھے کیا۔
اور تبھی دروازہ کھلا۔














ہاں۔۔۔ کام ہو گیا ہے۔۔۔! کسی کو مجھ پے شک نہیں۔۔!
اب آگے کا کام ۔۔۔ تمہارا ہے۔۔۔ کوٸی بھی کوتاہی نہ ہو۔۔۔
مدیحہ نے کہتے ہی کال بند کی۔۔
میر یامین ۔۔ ڈھونڈتے رہ جاٶ۔۔ گے۔۔۔۔!
تکیے پے سر ٹکاتے وہ آنکیں موندتے بہت سرور سے بولی۔
جبکہ یہ نہیں جانتی تھی کہ براٸی کا انجام۔برا ہی ہوتا ہے۔
اگر آج ہم کسی کے لیے گھڑا کھودیں گے۔۔ تو کل ہمارے ساتھ بھی وہی ہوگا۔۔ اور اسی گھڑے میں ہمخود گریں گے۔۔
لیکن لوگ براٸی کرتے وقت سب بھول جاتے ہیں۔
بس دنیا یاد رہ جاتی ہے۔ جو ایک دن ختم ہو جانی ہے۔ پھر بھی جانتے بوجھتے اپنے لیے براٸیاں اھٹی کرتے جاتے ہیں۔
اپنا دین بھی خراب کرتے ہیں اور اپنی آخرت بھی۔















سر۔۔۔! وہاس وقت پیراڈاٸز ہوٹل میں ہیں۔۔۔۔۔ کسی کے ساتھ۔۔۔۔!
آدھی بات رک رک کے ٹہر ٹہر کے ادا کی۔
اس پے کڑی نظر رکھو۔ اور اسکے فون کیڈیٹلز نکلوا کے فوراً مجھے میل کرو۔
ہری اپ۔۔۔!
یامین نے بات سنتے ہی اگلا آرڈر دیا۔
میں نے سوری ریکارڈنگ ۔۔ لہپ ٹاپ پے کنیکٹ کی ہے
حازق اسی لمحے اندر داخل ہوا۔ اور دونوں فوراً ریکارڈنگ دیکھنے لگے۔
گراٶنڈ فلور پے لگے براٸیڈل روم کے اندر لگے سپاٸے کیمرے کی ریکارڈنگ وہ دیکھ رہے تھے۔
یہ خاص کیمرے تھے۔ جن کو صرف آج کل کی سیکیورٹی اور دہشت گردی کی وجہ سے لگایا گیا تھا۔
اور اور کوٸی بھی اسے دیکھتا نہیں تھا۔
یہ کیا۔۔۔۔؟؟
یہ تو ابھی تینوں تھیں۔۔۔ اور اب۔۔یہ اکیلی۔۔۔؟؟
ریکارڈنگ دیکھتے یامین چونکا۔
بیچ میں کیا ہوا۔۔۔؟؟ ٹاٸمنگ چیک کرو۔
ٹاٸمنگ صحیح ہے۔۔۔۔۔! حازق بہت کینلی آٸیز سے چیک کر رہا تھا۔
تو پھر یہ۔۔۔ بلیک کیوں ہو گیا۔۔۔؟؟
یامین نے حیرت سے پوچھا۔
کسی نے۔۔۔ کیمرہ کو ڈھانپ دیا ہے۔۔ حازق سمجھ گیا ۔
یامین نے غور کیا تو اسے بھی سمجھ لگ گیا۔
یہ۔۔کون کر سکتا ہے۔۔۔؟؟
یامین سوچ میں پڑ گیا۔
look that…
کیمرہ۔۔۔ دوبارہ کلیٸر ہو چکا تھا۔ جس میں مدیحہ بے ہوش پڑی تھی۔
یہ سب کیا ہے۔۔۔؟؟
یامین نے حیرت سے پوچھا۔
یہ تو۔۔ اب مدیحہ ہی بتاٸے گی۔۔۔
حازق نے دانت پیسے۔
اور دونوں کا رخ اب ہاسپٹل کی طرف تھا۔
